بادشاہتی خبر نمبر ۳۶
نئی ہزاری—مستقبل آپ کیلئے کیا تھامے ہوئے ہے؟
ہزاری ایک نئے دَور کا آغاز؟
دسمبر ۳۱، ۱۹۹۹ کی آدھی رات کو ۲۰ ویں صدی اختتام کو پہنچی۔a یہ صدی انتہائی مصائب کا شکار رہی ہے۔ مگر اِسے نئی تکنیکوں کے آغاز، ڈرامائی طبّی ترقی، ذرائع ابلاغ میں حیرتانگیز وسعت اور تیزی سے بڑھتی ہوئی عالمگیر معیشت کا بھی تجربہ ہوا ہے۔ لہٰذا بہتیروں نے نئی ہزاری کا اُمید اور تبدیلی کی علامت کے طور پر استقبال کِیا ہے۔ تاہم کیا یہ جنگ، غربت، ماحولیاتی آلودگی اور بیماری کا خاتمہ دیکھے گی؟
بہتیرے اِسکی اُمید رکھتے ہیں۔ تاہم اس بات کا کیا امکان ہے کہ نئی ہزاری ایسی تبدیلیاں لائیگی جن سے آپ مستفید ہونگے اور جو آپ اور آپکے خاندان کیلئے زندگی کو بےخوفوخطر بنا دیں گی؟ ہمیں درپیش چند مسائل کے وسیع اثرات پر غور کریں۔
آلودگی
صنعتی ممالک ”عالمی پیمانے پر ماحولیاتی نقصان، دُور رس آلودگی اور نظامِقدرت میں خرابی کا باعث بن رہے ہیں۔“ اگر ایسے ہی ہوتا رہا تو ”قدرتی ماحول بڑی حد تک ختم ہو جائیگا۔“—”گلوبل انوائرمنٹ آؤٹلُک—۲۰۰۰،“ یونائیٹڈ نیشنز انوائرمنٹ پروگرام۔
بیماری
”ترقیپذیر ممالک کے اندر سن ۲۰۲۰ تک اِس بات کا امکان ہے کہ دس میں سے سات اموات غیرمتعدی امراض کے باعث ہونگی جبکہ آجکل یہ شرح صرف نصف ہے۔“—”دی گلوبل برڈن آف ڈیزیز،“ ہاورڈ یونیورسٹی پریس، ۱۹۹۶۔
بعض ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ”سن ۲۰۱۰ تک، ۲۳ ممالک میں تقریباً ۶۶ ملین لوگ [ایڈز] کی انتہائی خطرناک وبا سے لقمۂاجل ہو چکے ہونگے۔“—کانفرنٹنگ ایڈز: ایویڈنس فرام دی ڈیویلپنگ ورلڈ،“ یورپین کمیشن اور ورلڈ بینک کی رپورٹ۔
غربت
”تقریباً ۳.۱ بلین لوگ ایک ڈالر یومیہ سے بھی کم پر گزارا کرتے ہیں اور ۱ بلین کے لگبھگ لوگ اپنی بنیادی ضروریاتِزندگی حاصل کرنے سے بھی قاصر ہیں۔“—”ہیومن ڈیویلپمنٹ رپورٹ ۱۹۹۹،“ یونائیٹڈ نیشنز ڈیویلپمنٹ پروگرام۔
جنگ
”[مختلف ممالک] کے اندر تشدد میں بہت زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ آئندہ پچّیس سالوں میں. . . نسلیاتی، قبائلی اور مذہبی [اختلافات] . . . کی وجہ سے فروغ پانے والا تشدد ہر. . . سال لاکھوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتارنے والے عام فساد کی شکل اختیار کر لیگا۔“—”نیو ورلڈ کمنگ: امریکن سکیورٹی اِن دی ٹوینٹیفرسٹ سنچری،“ یو.ایس. کمیشن آن نیشنل سکیورٹی/ٹوینٹیفرسٹ سنچری۔
نئی ہزاری سے متعلق لافزنی اور جوشوخروش نے اس حقیقت پر پردہ ڈال دیا ہے کہ آلودگی، بیماری، غربت اور جنگ میں پہلے کی نسبت زیادہ اضافہ ہؤا ہے۔ اِن مسائل کی اصل وجہ لالچ، عدماعتمادی اور خودغرضی ہے—ایسے خصائل جنہیں سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی یا سیاسیات کے ذریعے ختم نہیں کِیا جا سکتا۔
ہزاری جو نوعِانسان کے لئے باعثِبرکت ہوگی
ایک قدیم مصنف نے ایک مرتبہ بیان کِیا: ”انسان کی راہ اُس کے اختیار میں نہیں۔ انسان اپنی روش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔“ (یرمیاہ ۱۰:۲۳) انسان میں نہ صرف زمین پر حکمرانی کرنے کی صلاحیت کی کمی ہے بلکہ اُسے اس کا اختیار بھی حاصل نہیں ہے۔ ہمارا صانع، یہوواہ خدا ہی نسلِانسانی کے مسائل کو حل کرنے کا حق اور علم رکھتا ہے۔—رومیوں ۱۱:۳۳-۳۶؛ مکاشفہ ۴:۱۱۔
مگر کب اور کیسے؟ اس بات کا واضح ثبوت موجود ہے کہ ہم ”اخیر زمانہ“ میں خاتمے کے بالکل قریب پہنچ گئے ہیں۔ مہربانی سے اپنی بائبل کھولیں اور ۲-تیمتھیس ۳:۱-۵ کو پڑھیں۔ اس میں ایسے شخصیاتی خصائل کو واضح طور پر بیان کِیا گیا ہے جو لوگ ”بُرے“ دنوں کے دوران ظاہر کریں گے۔ متی ۲۴:۳-۱۴ اور لوقا ۲۱:۱۰، ۱۱ بھی ”دُنیا کے آخر“ کی بابت بیان کرتی ہیں۔ یہاں عالمی پیمانے پر جنگ، وبا اور قحط جیسے طبعی واقعات پر توجہ دلائی گئی ہے جو ۱۹۱۴ سے وقوعپذیر ہو رہے ہیں۔
جلد ہی ”اخیر زمانہ“ اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔ دانیایل ۲:۴۴ بیان کرتی ہے: ”آسمان کا خدا ایک سلطنت برپا کرے گا جو تاابد نیست نہ ہوگی . . . بلکہ وہ اِن تمام [زمینی] مملکتوں کو ٹکڑےٹکڑے اور نیست کرے گی اور وہی ابد تک قائم رہے گی۔“ لہٰذا یہ پہلے ہی سے بتا دیا گیا تھا کہ خدا زمین پر حکمرانی کرنے کے لئے ایک بادشاہت یا حکومت قائم کرے گا۔ مکاشفہ ۲۰:۴ کے مطابق، یہ حکومت ایک ہزار سال—ایک ہزاری تک بادشاہی کرے گی! غور کریں کہ اس شاندار ہزاری کے دوران ہمارے رہنسہن کی حالتیں کیسے بہتر ہو جائیں گی:
معاشیات۔ ”وہ گھر بنائیں گے اور اُن میں بسیں گے۔ وہ تاکستان لگائینگے اور اُنکے میوے کھائینگے۔ نہ کہ وہ بنائیں اور دوسرا بسے۔ وہ لگائیں اور دوسرا کھائے۔“—یسعیاہ ۶۵:۲۱، ۲۲۔
صحت۔ ”اُس وقت اندھوں کی آنکھیں وا کی جائینگی اور بہروں کے کان کھولے جائینگے۔ تب لنگڑے ہرن کی مانند چوکڑیاں بھریں گے اور گونگے کی زبان گائے گی۔“ ”وہاں کے باشندوں میں بھی کوئی نہ کہیگا کہ مَیں بیمار ہوں۔“—یسعیاہ ۳۳:۲۴؛ ۳۵:۵، ۶۔
ماحول۔ خدا ”زمین کے تباہ کرنے والوں کو تباہ“ کرے گا۔—مکاشفہ ۱۱:۱۸۔
انسانی رشتے۔ ”وہ میرے تمام کوہِمُقدس پر نہ ضرر پہنچائیں گے نہ ہلاک کریں گے کیونکہ . . . زمین [یہوواہ] کے عرفان سے معمور ہوگی۔“—یسعیاہ ۱۱:۹۔
لاکھوں لوگ بائبل کے اِن وعدوں پر یقین رکھتے ہیں اور اس وجہ سے وہ مستقبل کی بابت رجائیتپسندانہ، مثبت نظریہ رکھتے ہیں۔ نتیجتاً، وہ بہتر طور پر زندگی کے دباؤ اور مسائل سے نپٹنے کے قابل ہیں۔ بائبل آپکی زندگی میں کیسے راہنما قوت بن سکتی ہے؟
علم جو زندگی کا باعث ہے!
سائنس اور ٹیکنالوجی بعضاوقات حواسباختہ کر دیتی ہیں! اس کے باوجود، انسانی علم نے بیشتر لوگوں کیلئے زندگی کو محفوظ اور خوشحال نہیں بنایا ہے۔ تاہم ایک علم ایسا کر سکتا ہے جسکا ذکر یوحنا ۱۷:۳ میں یوں کِیا گیا ہے: ”ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدایِواحد اور برحق کو اور یسوؔع مسیح کو جسے تُو نے بھیجا ہے جانیں۔“
ایسا علم بائبل میں پنہاں ہے۔ اگرچہ اس مُقدس کتاب کی بابت بہت سے لوگ انتہائی منفی رائے رکھتے ہیں تاہم بہت ہی کم لوگوں نے کبھی اس کی تحقیقوتفتیش کی ہے۔ آپ کی بابت کیا ہے؟ یہ سچ ہے کہ بائبل پڑھنے کے لئے خاطرخواہ کوشش درکار ہوتی ہے۔ تاہم یہ کوشش نہایت مفید ثابت ہوتی ہے۔ بائبل ہی وہ کتاب ہے جو ”خدا کے الہام سے ہے [اور] تعلیم اور الزام اور اصلاح اور راستبازی میں تربیت کرنے کے لئے فائدہ مند بھی ہے۔“—۲-تیمتھیس ۳:۱۶۔
پس، آپ بائبل سے براہِراست کیسے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں؟ یہوواہ کے گواہوں سے کیوں نہ مدد حاصل کریں؟ وہ لاکھوں لوگوں کو اُنکے گھروں پر جاکر مُفت تعلیم دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں، آپکی مدد کرنے کیلئے وہ بائبل پر مبنی مختلف مطبوعات استعمال کرتے ہیں جیسے کہ بروشر خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ یہ بروشر بائبل کے متعلق آپکے کئی سوالوں کا مختصر اور جامع جواب دیتا ہے، مثلاً: خدا کون ہے؟ زمین کیلئے خدا کا مقصد کیا ہے؟ خدا کی بادشاہت کیا ہے؟ بائبل آپکی خاندانی زندگی کو کیسے بہتر بنا سکتی ہے؟
اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ یہوواہ کے گواہوں میں سے کوئی آپ کے گھر آئے تو براہِمہربانی نیچے دئے گئے کوپن کو پُر کریں۔ وہ خدا کی بادشاہت کے شاندار عہدِہزارسالہ کی بابت آپکو مزید معلومات فراہم کر کے خوش ہونگے!
◻ مَیں بروشر ”خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟؟“ حاصل کرنا چاہتا ہوں۔
◻ براہِمہربانی مُفت گھریلو بائبل مطالعے کے سلسلے میں مجھ سے رابطہ کریں
[فٹنوٹ]
a ہم یہاں نئی ہزاری کی بابت مقبول مغربی نظریات کا ذکر کر رہے ہیں۔ تکنیکی اعتبار سے نئی ہزاری یکم جنوری، ۲۰۰۱ سے شروع ہوتی ہے۔