یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • خا باب 7 ص.‏ 76-‏89
  • کیا گھر میں کوئی باغی ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا گھر میں کوئی باغی ہے؟‏
  • خاندانی خوشی کا راز
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • کون باغی ہوتا ہے؟‏
  • بغاوت کے اسباب
  • روادار عیلیؔ اور سخت‌گیر رحبعاؔم
  • بنیادی ضروریات پورا کرنا بغاوت کو روک سکتا ہے
  • جب بچے مشکل میں پھنس جاتے ہیں
  • سخت باغی سے نپٹنا
  • اپنے جواں‌سال بچے کی نشوونما پانے میں مدد کریں
    خاندانی خوشی کا راز
  • اپنے بچے کی بچپن سے تربیت کریں
    خاندانی خوشی کا راز
  • اَے اولاد والو!‏ اپنے بچوں کی محبت سے تربیت کرو
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
  • اپنے بچوں کو یہوواہ سے محبت کرنا سکھائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
خاندانی خوشی کا راز
خا باب 7 ص.‏ 76-‏89

باب سات

کیا گھر میں کوئی باغی ہے؟‏

۱، ۲.‏ (‏ا)‏ یہودی مذہبی پیشواؤں کی بے‌وفائی کو واضح کرنے کے لئے یسوؔع نے کونسی تمثیل پیش کی تھی؟ (‏ب)‏ یسوؔع کی تمثیل سے ہم جواں‌سال بچوں کی بابت کیا بات سیکھ سکتے ہیں؟‏

اپنی موت سے چند روز پہلے، یسوؔع نے یہودی مذہبی پیشواؤں کے ایک گروہ سے سوچ کو اُبھارنے والا ایک سوال پوچھا۔ اُس نے کہا:‏ ”‏تم کیا سمجھتے ہو؟ ایک آدمی کے دو بیٹے تھے۔ اُس نے پہلے کے پاس جاکر کہا بیٹا جا آج تاکستان میں کام کر۔ اُس نے جواب میں کہا مَیں نہیں جاؤنگا مگر پیچھے پچھتا کر گیا۔ پھر دوسرے کے پاس جاکر اُس نے اِسی طرح کہا۔ اُس نے جواب دیا اچھا جناب۔ مگر گیا نہیں۔ اِن دونوں میں سے کون اپنے باپ کی مرضی بجا لایا؟“‏ یہودی پیشواؤں نے جواب میں کہا:‏ ”‏پہلا۔“‏–‏متی ۲۱:‏۲۸-‏۳۱‏۔‏

۲ یسوؔع یہاں یہودی پیشواؤں کی بے‌وفائی کو نمایاں کر رہا تھا۔ وہ دوسرے بیٹے کی مانند خدا کی مرضی بجا لانے کا وعدہ کرتے اور بعدازاں وعدہ خلافی کرتے تھے۔ لیکن بہت سے والدین یہ تسلیم کرینگے کہ یسوؔع کی تمثیل خاندانی زندگی کی اچھی سمجھ پر مبنی تھی۔ جیسے‌کہ اُس نے اچھی طرح ظاہر کِیا، اکثر یہ جاننا کہ نوجوان لوگ کیا سوچتے ہیں یا قبل‌ازوقت کچھ کہنا کہ وہ کیا کرینگے کافی مشکل ہوتا ہے۔ ایک جوان شخص اپنے عنفوانِ‌شباب کے دوران بہت سے مسائل کا موجب ہو سکتا ہے اور اِسکے بعد ایک ذمہ‌دار، اچھا باعزت بالغ بن جاتا ہے۔ جب ہم نوعمری میں بغاوت کے مسئلے پر بات‌چیت کرتے ہیں تو اِس بات کو ذہن میں رکھنا چاہئے۔‏

کون باغی ہوتا ہے؟‏

۳.‏ والدین کو جلدبازی سے اپنے بچے پر باغی ہونے کا لیبل کیوں نہیں لگانا چاہئے؟‏

۳ وقتاًفوقتاً، ممکن ہے آپ ایسے نوعمروں کی بابت سنیں جوکہ اپنے والدین کے خلاف یکسر بغاوت کرتے ہیں۔ شاید آپ ذاتی طور پر کسی خاندان کو جانتے بھی ہوں جسکے اندر ایک نوجوان کو کنٹرول کرنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ تاہم، یہ معلوم کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا کہ آیا ایک بچہ واقعی سرکش ہے۔ علاوہ‌ازیں، یہ سمجھنا مشکل ہو سکتا ہے کہ بعض بچے بغاوت کیوں کرتے ہیں جبکہ دوسرے–‏اُسی گھرانے سے–‏ایسا نہیں کرتے۔ اگر والدین کو گمان ہونے لگتا ہے کہ اُنکے بچوں میں سے ایک بالکل باغی ہوتا جا رہا ہے تو اُنہیں کیا کرنا چاہئے؟ اِسکا جواب دینے کیلئے، ہمیں پہلے اِس پر بات‌چیت کرنی ہوگی کہ باغی ہوتا کون ہے۔‏

۴-‏۶.‏ (‏ا)‏ ایک باغی کون ہوتا ہے؟ (‏ب)‏ والدین کو کس چیز کو ذہن میں رکھنا چاہئے اگر اُنکا جواں‌سال بچہ وقتاًفوقتاً نافرمانی کرتا ہے؟‏

۴ سادہ الفاظ میں، باغی وہ شخص ہوتا ہے جو قصداً ضد سے اور لگاتار نافرمانی یا مزاحمت کرتا ہے اور اعلیٰ اختیار کی اطاعت نہیں کرتا۔ بلا‌شُبہ، ’‏حماقت لڑکے کے دل سے وابستہ ہے۔‘‏ ‏(‏امثال ۲۲:‏۱۵‏)‏ لہٰذا تمام بچے کبھی نہ کبھی ماں‌باپ اور دیگر اختیار کی مزاحمت کرتے ہیں۔ یہ بات جسمانی اور جذباتی بالیدگی کے دوران بالخصوص سچ ہے جسے عنفوانِ‌شباب کہا جاتا ہے۔ کسی بھی شخص کی زندگی میں تبدیلی تناؤ پیدا کریگی، اور عنفوانِ‌شباب تو نام ہی تبدیلی کا ہے۔ آپکا جواں‌سال بیٹا یا بیٹی طفولیت سے بلوغت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اِسی وجہ سے، عنفوانِ‌شباب کے سالوں کے دوران، بعض والدین اور بچے ایک دوسرے کے ساتھ گزارہ کرنا مشکل پاتے ہیں۔ اکثر، والدین جبلّی طور پر تبدیلی کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ جواں‌سال اُسے تیز کرنا چاہتے ہیں۔‏

۵ ایک جواں‌سال جو باغی ہے وہ والدین کی اقدار سے روگردانی کرتا ہے۔ تاہم، یادرکھیں کہ نافرمانی کے چند ایک کام کسی کو باغی نہیں بناتے۔ اور جب روحانی معاملات کی بات آتی ہے تو ہو سکتا ہے کہ بعض بچے شروع میں بائبل سچائی میں تھوڑی یا بالکل دلچسپی ظاہر نہ کریں، لیکن شاید وہ باغی نہ ہوں۔ ماں یا باپ کے طور پر اپنے بچے پر لیبل لگانے میں جلدبازی نہ کریں۔‏

۶ کیا تمام نوجوان لوگوں کے عنفوانِ‌شباب کے سالوں کو والدین کے اختیار کے خلاف بغاوت سے منسوب کِیا گیا ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ بیشک، شہادت اِس بات کی نشاندہی کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے کہ جواں‌سال لوگوں کی محدود تعداد ہی سنگین عنفوانِ‌شباب کی بغاوت کا مظاہرہ کرتی ہے۔ تاہم، اُس بچے کی بابت کیا ہے جو ضد سے اور لگاتار بغاوت کرتا ہے؟ کیا چیز ایسی بغاوت کو بھڑکا سکتی ہے؟‏

بغاوت کے اسباب

۷.‏ شیطانی ماحول ایک بچے پر بغاوت کرنے کیلئے کیسے اثرانداز ہو سکتا ہے؟‏

۷ بغاوت کا بڑا سبب دُنیا کا شیطانی ماحول ہے۔ ”‏ساری دُنیا اُس شریر کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔“‏ (‏۱-‏یوحنا ۵:‏۱۹‏)‏ شیطان کے قبضہ میں پڑی ہوئی دُنیا نے ایک مُہلک ثقافت کو ترقی دی ہے جس کا مسیحیوں کو مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ (‏یوحنا ۱۷:‏۱۵‏)‏ اِس ثقافت کا زیادہ‌تر حصہ ماضی کی نسبت آجکل زیادہ گھٹیا، زیادہ خطرناک، اور زیادہ مُضر اثرات سے بھرا ہوا ہے۔ ‏(‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱-‏۵،‏ ۱۳‏)‏ اگر والدین اپنے بچوں کی تربیت نہیں کرتے، آگاہ نہیں کرتے، اور حفاظت نہیں کرتے تو نوجوان اشخاص بآسانی ”‏اُس رُوح“‏ سے متاثر ہو سکتے ہیں ”‏جو اب نافرمانی کے فرزندوں میں تاثیر کرتی ہے۔“‏ (‏افسیوں ۲:‏۲‏)‏ اِس میں ہمسروں کا دباؤ بھی شامل ہے۔ بائبل بیان کرتی ہے:‏ ”‏احمقوں کا ساتھی ہلاک کِیا جائیگا۔“‏ (‏امثال ۱۳:‏۲۰‏)‏ اِسی طرح سے، وہ جو ایسے لوگوں کیساتھ رفاقت رکھتا ہے جو اِس دُنیا کی روح کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں اُسکا اِس روح سے متاثر ہونے کا امکان ہے۔ اگر اُنہیں اِس بات کو سمجھنا ہے کہ خدائی اصولوں کی فرمانبرداری نہایت عمدہ طرزِزندگی کی بنیاد ہے تو نوجوان اشخاص کو لگاتار مدد کی ضرورت ہے۔–‏یسعیاہ ۴۸:‏۱۷، ۱۸‏۔‏

۸.‏ کونسے عوامل بچے کی طرف سے بغاوت کا سبب بن سکتے ہیں؟‏

۸ بغاوت کا ایک اَور سبب گھر کا ماحول ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر والدین میں سے ایک شراب‌خوار ہے، منشیات کا غلط استعمال کرتا ہے، یا والدین میں سے دوسرے پر تشدد کرتا ہے تو زندگی کی بابت جواں‌سال کا نقطۂ‌نظر گمراہ‌کُن ہو سکتا ہے۔ نسبتاً پُرسکون گھروں میں بھی اُس وقت بغاوت سر اُٹھا سکتی ہے جب کوئی بچہ محسوس کرتا ہے کہ اُسکے والدین اُس میں کوئی دلچسپی نہیں لیتے۔ شاید بغاوت پھوٹ پڑے۔ تاہم، عنفوانِ‌شباب کی بغاوت ہمیشہ بیرونی اثرات کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتی۔ بعض بچے ایسے والدین رکھنے کے باوجود والدین کی اقدار سے روگردانی کرتے ہیں جو خدائی اصولوں کا اطلاق کرتے ہیں اور جو اُنہیں اُنکے چوگرد دُنیا سے کافی حد تک تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ کیوں؟ شاید ہمارے مسائل کی ایک اَور وجہ سے–‏انسانی ناکاملیت۔ پولسؔ نے کہا:‏ ”‏جس طرح ایک آدمی [‏آؔدم]‏ کے سبب سے گناہ دُنیا میں آیا اور گناہ کے سبب سے موت آئی اور یوں موت سب آدمیوں میں پھیل گئی اِسلئے‌کہ سب نے گناہ کِیا۔“‏ (‏رومیوں ۵:‏۱۲‏)‏ آؔدم ایک خودغرض باغی تھا، اور اُس نے اپنی اَولاد کیلئے صرف گھٹیا میراث چھوڑی۔ بعض نوجوان بالکل ویسے ہی بغاوت کرنے کا انتخاب کرتے ہیں جیسے اُنکے جدِامجد نے کی تھی۔‏

روادار عیلیؔ اور سخت‌گیر رحبعاؔم

۹.‏ بچے کی پرورش کرنے میں کونسی انتہاپسندیاں بچے کو بغاوت کرنے کیلئے مشتعل کر سکتی ہیں؟‏

۹ ایک اَور چیز جو عنفوانِ‌شباب کی بغاوت کا سبب بنی ہے وہ والدین کی طرف سے بچے کی پرورش کے سلسلے میں غیرمتوازن نظریہ ہے۔ (‏کلسیوں ۳:‏۲۱‏)‏ بعض فرض‌شناس والدین اپنے بچوں کی سختی سے تادیب کرتے اور سخت‌گیری کرتے ہیں۔ دیگر رَواداری سے کام لیتے ہوئے، رہبراصول تک فراہم نہیں کرتے جو اُنکے ناتجربہ‌کار جواں‌سال بچوں کو بچائینگے۔ اِن دونوں انتہاپسندیوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ اور مختلف بچوں کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں۔ ایک کو دوسرے کی نسبت زیادہ نگہداشت کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ تاہم، بائبل کی دو مثالیں سخت‌گیری یا رَواداری میں سے کسی ایک میں انتہاپسند ہونے کے خطرات کو ظاہر کرنے کیلئے مدد دینگی۔‏

۱۰.‏ عیلیؔ، قابلِ‌یقین طور پر ایک وفادار سردار کاہن ہونے کے باوجود، ایک نااہل والد کیوں تھا؟‏

۱۰ قدیم اسرائیل کا سردار کاہن عیلیؔ صاحبِ‌اولاد تھا۔ بلا‌شُبہ خدا کی شریعت کا ماہر ہوتے ہوئے، اُس نے ۴۰ سال تک خدمت کی۔ غالباً عیلیؔ نے اپنے باقاعدہ کہانتی فرائض کو بڑی وفاداری کیساتھ پورا کِیا اور شاید اپنے بیٹوں، حُفنیؔ اور فینحاؔس کو خدا کی شریعت کی پوری طرح تعلیم بھی دی ہو۔ تاہم، عیلیؔ اپنے بیٹوں کیساتھ حد سے زیادہ مشفق تھا۔ حُفنیؔ اور فینحاؔس نے نائب کاہنوں کے طور پر خدمت انجام دی، لیکن وہ ”‏بہت شریر“‏ تھے جو صرف اپنی اشتہائیں اور غیراخلاقی خواہشات پوری کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ لہٰذا، جب اُنہوں نے پاک سرزمین پر شرمناک کام کئے تو عیلیؔ اُنہیں کہانتی عہدے سے برخاست کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا تھا۔ اُس نے محض اُنہیں معمولی سی سرزنش کی۔ اپنی رَواداری سے عیلیؔ نے اپنے بیٹوں کو خدا کی نسبت زیادہ عزت دی۔ انجام‌کار اُسکے بیٹوں نے یہوؔواہ کی پاک پرستش کے خلاف بغاوت کی اور عیلیؔ کے پورے گھرانے نے مصیبت اُٹھائی۔–‏۱-‏سموئیل ۲:‏۱۲-‏۱۷،‏ ۲۲-‏۲۵،‏ ۲۹؛‏ ۳:‏۱۳، ۱۴؛‏ ۴:‏۱۱-‏۲۲‏۔‏

۱۱.‏ والدین عیلیؔ کی غلط مثال سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

۱۱ جب یہ واقعات رونما ہوئے تو عیلیؔ کے بچے پہلے ہی بالغ تھے، لیکن یہ سرگزشت تادیب کو باز رکھنے کے خطرے کو واضح کرتی ہے۔ (‏مقابلہ کریں امثال ۲۹:‏۲۱‏۔)‏ بعض والدین واضح، مستحکم، اور معقول معیار قائم اور نافذ کرنے سے قاصر رہتے ہوئے، ہو سکتا ہے کہ محبت کو رَواداری سے خلط‌ملط کر دیں۔ جب خدائی اصولوں کی بے‌حرمتی کی جاتی ہے تو وہ پُرمحبت تادیب کو عمل میں لانے سے غفلت برتتے ہیں۔ اَیسی رَواداری کی وجہ سے، اُنکے بچے والدین یا کسی بھی دوسری قسم کے اختیار کو خاطر میں نہ لانے کی حد تک پہنچ سکتے ہیں۔–‏مقابلہ کریں واعظ ۸:‏۱۱‏۔‏

۱۲.‏ اختیار کو عمل میں لانے کے سلسلے میں رحبعاؔم نے کیا غلطی کی تھی؟‏

۱۲ رحبعاؔم اختیار کو عمل میں لانے کی انتہاپسندی کی دوسری مثال پیش کرتا ہے۔ اسرائیل کی متحدہ سلطنت کا وہ آخری بادشاہ تھا، لیکن وہ اچھا بادشاہ نہیں تھا۔ رحبعاؔم نے ایک ایسے ملک کو میراث میں حاصل کِیا تھا جہاں کے لوگ اُسکے باپ، سلیماؔن کی طرف سے اُن پر ڈالے گئے بوجھوں کی وجہ سے غیرمطمئن تھے۔ کیا رحبعاؔم نے سمجھداری سے کام لیا؟ ہرگز نہیں۔ جب ایک وفد نے اُس سے چند استبدادی معیاروں کو ختم کرنے کی درخواست کی تو وہ اپنے عمررسیدہ مشیروں کی پُختہ مشورت پر دھیان دینے سے قاصر رہا اور حکم دیا کہ لوگوں کے جؤئے کو اَور بھی بھاری کر دیا جائے۔ اُس کی خودپسندی دس شمالی قبائل کی طرف سے بغاوت کا سبب بنی، اور سلطنت دو حصوں میں منقسم ہو گئی۔–‏۱-‏سلاطین ۱۲:‏۱-‏۲۱؛‏۲-‏تواریخ ۱۰:‏۱۹‏۔‏

۱۳.‏ والدین رحبعاؔم کی طرح کی غلطی سے کیسے بچ سکتے ہیں؟‏

۱۳ والدین رحبعاؔم کی بابت بائبل سرگزشت سے کچھ اہم سبق سیکھ سکتے ہیں۔ اُنہیں دُعا میں ”‏خداوند .‏ .‏ .‏ کے طالب“‏ ہونے اور بچے کی پرورش کرنے کے اپنے طریقوں کا بائبل اصولوں کی روشنی میں جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ (‏زبور ۱۰۵:‏۴‏)‏ ”‏ظلم دانشور آدمی کو دیوانہ بنا دیتا ہے،“‏ واعظ ۷:‏۷ بیان کرتی ہے۔ خوب سوچ‌بچار کے بعد عائدکردہ حدبندیاں جواں‌سال بچوں کو نقصان سے بچاتے ہوئے اُنہیں پرورش پانے کی گنجائش فراہم کرتی ہیں۔ لیکن بچوں کو ایک ایسے ماحول میں نہیں رہنا چاہئے جو اتنا بے‌لوچ اور کھچاؤ پیدا کرنے والا ہو کہ اُنہیں معقول حد تک خوداعتمادی اور خوداعتباری پیدا کرنے سے روکتا ہو۔ جب والدین جائز آزادی اور مستحکم حدبندیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جن کی واضح طور پر نشاندہی کی گئی ہے تو بیشتر نوعمر بغاوت کرنے کی طرف مائل محسوس نہیں کرینگے۔‏

بنیادی ضروریات پورا کرنا بغاوت کو روک سکتا ہے

۱۴، ۱۵.‏ والدین کو اپنے بچے کی بالیدگی کو کیسا خیال کرنا چاہئے؟‏

۱۴ اگرچہ والدین اپنے نونہالوں کو جسمانی طور پر بچپن سے بلوغت کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھکر خوش ہوتے ہیں، تو بھی اُنہیں تشویش لاحق ہو سکتی ہے جب اُنکا جواں‌سال بچہ انحصار کرنے سے جائز خوداعتمادی کی طرف بڑھنا شروع کرتا ہے۔ اِس عبوری عرصہ کے دوران، اگر آپکا جواں‌سال بچہ کبھی‌کبھار کسی حد تک ضدی ہے یا تعاون نہیں کرتا تو حیران مت ہوں۔ یادرکھیں کہ مسیحی والدین کا نصب‌العین ایک پُختہ، مستحکم، اور ذمہ‌دار مسیحی کی پرورش کرنا ہونا چاہئے۔–‏مقابلہ کریں ۱-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۱۱؛‏افسیوں ۴:‏۱۳، ۱۴‏۔‏

۱۵ یہ مشکل تو ہو سکتا ہے لیکن والدین کو اپنے جواں‌سال بچوں کی طرف سے تھوڑی اَور خودمختاری کے لئے کسی بھی درخواست کا منفی جواب دینے کی عادت کو ترک کرنے کی ضرورت ہے۔ بچے کو ایک صحتمندانہ طریقے سے ایک فرد کے طور پر بڑھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بیشک، بعض نوعمر نسبتاً اوائل عمری ہی سے کافی بالغ‌نظر زاویۂ‌نگاہ ظاہر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر، بائبل نوعمر بادشاہ یوؔسیاہ کا ذکر کرتی ہے:‏ ”‏جب وہ لڑکا [‏تقریباً ۱۵ سال کا]‏ ہی تھا وہ اپنے باپ داؔؤد کے خدا کا طالب ہوا۔“‏ یہ ممتاز نوعمر واضح طور پر ایک ذمہ‌دار شخص تھا۔–‏۲-‏تواریخ ۳۴:‏۱-‏۳‏۔‏

۱۶.‏ جب بچوں کو اضافی ذمہ‌داری سونپی جاتی ہے تو اُنہیں کس بات کا احساس ہونا چاہئے؟‏

۱۶ تاہم، آزادی اپنے ساتھ ذمہ‌داری لاتی ہے۔ اِسلئے، اپنے نوبالغ کو اپنے بعض فیصلوں اور افعال کے نتائج کا تجربہ کرنے کی اجازت دیں۔ ”‏آدمی جو کچھ بوتا ہے وہی کاٹیگا“‏ کا اصول جواں‌سال بچوں اور بالغوں دونوں پر عائد ہوتا ہے۔ (‏گلتیوں ۶:‏۷‏)‏بچوں کو ہمیشہ نگرانی میں نہیں رکھا جا سکتا۔ تاہم، اُس وقت کیا ہو، جب آپکا بچہ کوئی ایسا کام کرنا چاہتا ہے جو مکمل طور پر، ناقابلِ‌قبول ہے؟ ذمہ‌دار ماں یا باپ کے طور پر آپکو ”‏نہیں“‏ کہنا پڑیگا۔ اور اگرچہ آپ وجوہات کی وضاحت کر سکتے ہیں لیکن کسی بھی چیز کو آپکے نہیں کو ہاں میں تبدیل نہیں کرنا چاہئے۔ (‏مقابلہ کریں متی ۵:‏۳۷‏۔)‏ تاہم، ایک پُرسکون اور معقول انداز میں ”‏نہیں“‏ کہنے کی کوشش کریں، اِسلئے‌کہ ”‏نرم جواب قہر کو دُور کر دیتا ہے۔“‏–‏امثال ۱۵:‏۱‏۔‏

۱۷.‏ جواں‌سال بچے کی بعض ضروریات کیا ہیں جنہیں ماں یا باپ کو پورا کرنا چاہئے؟‏

۱۷ نوجوانوں کو بااصول تنبیہ کے تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے اگرچہ وہ پابندیوں اور معیاروں سے ہمیشہ خوشی سے متفق نہ بھی ہوتے ہوں۔ اگر معیاروں کو اس بات کے پیشِ‌نظر اکثروبیشتر تبدیل کر دیا جاتا ہے کہ اس وقت باپ یا ماں کیسا محسوس کرتے ہیں تو یہ مایوس‌کُن بات ہے۔ علاوہ‌ازیں، اگر نوعمر بے‌حوصلگی، شرمیلے‌پن، یا خوداعتمادی کی کمی پر قابو پانے کیلئے حسبِ‌ضرورت، حوصلہ‌افزائی اور مدد حاصل کرتے ہیں، تو غالباً وہ زیادہ پُختہ بالغ بنیں گے۔ جواں‌سال اِس بات کی بھی قدر کرتے ہیں جب اُن پر بھروسہ کِیا جاتا ہے۔–‏مقابلہ کریں یسعیاہ ۳۵:‏۳، ۴؛‏لوقا ۱۶:‏۱۰؛‏۱۹:‏۱۷‏۔‏

۱۸.‏ جواں‌سال بچوں کی بابت بعض حوصلہ‌افزا سچائیاں کیا ہیں؟‏

۱۸ والدین یہ جانکر مطمئن ہو سکتے ہیں کہ جب گھرانے کے اندر امن، استقامت، اور محبت پائی جاتی ہے تو بچے بالعموم پھلتے‌پھولتے ہیں۔ (‏افسیوں ۴:‏۳۱، ۳۲؛‏ یعقوب ۳:‏۱۷، ۱۸‏)‏ حیرت کی بات ہے کہ شراب‌خواری، تشدد، یا کسی دوسرے مضر اثر کی شہرت رکھنے والے خاندانوں سے آنے کے باوجود بھی بہتیرے نوجوانوں نے ناقص گھریلو ماحول پر غلبہ پا لیا ہے اور بہت اچھے بالغ بن گئے ہیں۔ لہٰذا، اگر آپ ایک گھر فراہم کرتے ہیں جہاں پر آپ کے نوعمر بچے تحفظ محسوس کرتے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ اُنہیں محبت، شفقت، اور توجہ ملیگی–‏خواہ اِس حمایت کے ساتھ صحیفائی اصولوں کی مطابقت میں معقول پابندیاں اور تنبیہ شامل کی جاتی ہے–‏تو بہت اغلب ہے کہ وہ بڑے ہو کر ایسے بالغ بنیں گے جن پر آپ فخر کرینگے۔–‏مقابلہ کریں امثال ۲۷:‏۱۱‏۔‏

جب بچے مشکل میں پھنس جاتے ہیں

۱۹.‏ اگرچہ والدین کو لڑکے کی اُس راہ میں تربیت کرنی چاہئے جس میں اُسے جانا ہے، لیکن بچے پر کیا ذمہ‌داری عائد ہوتی ہے؟‏

۱۹ اچھی پرورش سے یقیناً فرق پڑتا ہے۔ امثال ۲۲:‏۶ بیان کرتی ہے:‏ ”‏لڑکے کی اُس راہ میں تربیت کر جس پر اُسے جانا ہے۔ وہ بوڑھا ہوکر بھی اُس سے نہیں مڑیگا۔“‏ پھربھی، اُن بچوں کی بابت کیا ہے جنہیں اچھے والدین میسر ہونے کے باوجود بھی سنگین مسائل کا سامنا ہے؟ کیا یہ ممکن ہے؟ جی‌ہاں۔ امثال کے الفاظ کو دیگر آیات کی روشنی میں سمجھنا چاہئے جو بچے کے ”‏کان لگانے“‏ اور والدین کی فرمانبرداری کرنے پر زور دیتی ہیں۔ (‏امثال ۱:‏۸‏)‏ خاندانی ہم‌آہنگی کی خاطر بچے اور دونوں والدین کو صحیفائی اصولوں کا اطلاق کرنے میں تعاون کرنا چاہئے۔ اگر والدین اور بچے ملکر کام نہیں کرتے تو مشکلات ضرور پیدا ہونگی۔‏

۲۰.‏ جب بچے بے‌سمجھی کی وجہ سے خطا کرتے ہیں تو والدین کی طرف سے دانشمندانہ رسائی کیا ہوگی؟‏

۲۰ جب کوئی جواں‌سال غلطی کرتا اور مشکل میں پھنس جاتا ہے تو والدین کو کیسا ردِعمل دکھانا چاہئے؟ ایسی صورتحال میں، خاص طور پر، جواں‌سال کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر والدین یاد رکھتے ہیں کہ اُنکا واسطہ ایک ناتجربہ‌کار نوجوان سے ہے تو وہ حد سے زیادہ ردِعمل ظاہر کرنے کے رجحان کی زیادہ اطمینان کیساتھ مزاحمت کرینگے۔ پولسؔ نے کلیسیا میں پُختہ اشخاص کو نصیحت کی:‏ ”‏اگر کوئی آدمی کسی قصور میں پکڑابھی جائے تو تم جو روحانی ہو اُس کو حلم‌مزاجی سے بحال کرو۔“‏ (‏گلتیوں ۶:‏۱‏)‏ والدین بھی بے سمجھی سے خطا کرنے والے کسی نوجوان شخص کے ساتھ اِسی طریقے سے برتاؤ کر سکتے ہیں۔ اِس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ کس وجہ سے اُسکا طرزِعمل بُرا تھا اور وہ کیسے اُسی غلطی کو دُہرانے سے بچ سکتا ہے، والدین کو یہ واضح کر دینا چاہئے کہ نوجوان نہیں بلکہ غلط چال‌چلن بُرا ہے۔–‏مقابلہ کریں یہوداہ ۲۲، ۲۳‏۔‏

۲۱.‏ مسیحی کلیسیا کے نمونے کی پیروی کرتے ہوئے، والدین کو کیسا ردِعمل دکھانا چاہئے اگر اُنکے بچے کسی سنگین گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں؟‏

۲۱ لیکن اُس وقت کیا ہو جب نوجوان کی خطا نہایت سنگین ہے؟ اِس معاملے میں بچے کو خاص مدد اور ماہرانہ راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب کلیسیا کا کوئی فرد کسی سنگین گناہ کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کی حوصلہ‌افزائی کی جاتی ہے کہ توبہ کرے اور مدد کے لئے بزرگوں سے رجوع کرے۔ (‏یعقوب ۵:‏۱۴-‏۱۶‏)‏ جب وہ توبہ کر لیتا ہے تو بزرگ اُسے روحانی طور پر بحال کرنے کے لئے اُس کے ساتھ ملکر کام کرتے ہیں۔ خاندان کے اندر قصوروار نوعمر کی مدد کرنے کی ذمہ‌داری والدین پر آتی ہے اگرچہ اُنہیں معاملے پر بزرگوں کے ساتھ بات‌چیت کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ یقینی طور پر اُنہیں اپنے بچوں میں سے کسی ایک کی طرف سے کئے گئے کسی بھی طرح کے سنگین گناہوں کو بزرگوں کی جماعت سے پوشیدہ رکھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔‏

۲۲.‏ یہوؔواہ کی نقل کرتے ہوئے، والدین کس رجحان کو قائم رکھنے کی کوشش کرینگے اگر اُنکا بچہ کسی سنگین غلطی کا مُرتکب ہوتا ہے؟‏

۲۲ کسی کے اپنے بچوں کا سنگین مسئلہ بہت صبرآزما ہوتا ہے۔ جذباتی طور پر بے قابو ہوتے ہوئے، شاید والدین باغی بچے کو غصے سے ڈرانادھمکانا چاہیں؛ لیکن یہ اُسے اَور زیادہ تلخ‌مزاج بنا سکتا ہے۔ یادرکھیں کہ اِس جوان شخص کے مستقبل کا انحصار اِس بات پر ہو سکتا ہے کہ اِس نازک وقت کے دوران اُس کیساتھ کیسا سلوک کِیا گیا ہے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ جب اُسکے لوگ راست روش سے منحرف ہو گئے تو یہوؔواہ اُس وقت بھی معاف کرنے کو تیار تھا–‏بشرطیکہ وہ توبہ کرتے۔ اُسکے پُرمحبت الفاظ پر دھیان دیں:‏ ”‏خداوند فرماتا ہے آؤ ہم باہم حجت کریں۔ اگرچہ تمہارے گناہ قرمزی ہوں وہ برف کی مانند سفید ہو جائینگے اور ہرچند وہ ارغوانی ہوں تو بھی اُون کی مانند اُجلے ہونگے۔“‏ (‏یسعیاہ ۱:‏۱۸‏)‏ والدین کیلئے کیا ہی عمدہ مثال!‏

۲۳.‏ اپنے بچوں میں سے کسی ایک کی طرف سے سنگین گناہ کی صورت میں، والدین کو کیسے عمل دکھانا چاہئے، اور اُنہیں کس چیز سے گریز کرنا چاہئے؟‏

۲۳ لہٰذا، سرکش بچے کی اپنی روش کو بدلنے کیلئے حوصلہ‌افزائی کرنے کی کوشش کریں۔ تجربہ‌کار والدین اور کلیسیائی بزرگوں سے پُختہ مشورت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ (‏امثال ۱۱:‏۱۴‏)‏ بِلاسوچے‌سمجھے عمل کرنے یا کچھ کہنے اور کرنے کی کوشش نہ کریں جو آپ کے بچے کیلئے آپکے پاس واپس لوٹنے کو مشکل بنا دیگا۔ بے‌قابو غصے اور تلخ‌مزاجی سے گریز کریں۔ (‏کلسیوں ۳:‏۸‏)‏ بے‌دل ہونے میں جلدبازی نہ کریں۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۴،‏ ۷‏)‏ بدی سے نفرت کرتے ہوئے، اپنے بچے کیساتھ سخت‌گیر اور تلخ‌مزاج ہونے سے گریز کریں۔ سب سے بڑھکر، والدین کو اچھا نمونہ قائم کرنے اور خدا پر اپنے ایمان کو مضبوط رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔‏

سخت باغی سے نپٹنا

۲۴.‏ بعض‌اوقات مسیحی خاندان کے اندر کونسی افسوسناک حالت پیدا ہو جاتی ہے، اور ایک ماں یا باپ کو کیسا جوابی‌عمل دکھانا چاہئے؟‏

۲۴ بعض معاملات میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ایک نوجوان نے بغاوت کرنے اور مسیحی اقدار کو یکسر رد کرنے کیلئے اٹل فیصلہ کر لیا ہے۔ ایسی صورتحال میں توجہ کا رُخ باقیماندہ کی خاندانی زندگی کو قائم رکھنے یا ازسرِنو تعمیر کرنے کی طرف موڑ دینا چاہئے۔ اِس بات سے محتاط رہیں کہ آپ دیگر بچوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی تمام‌تر صلاحیت کو باغی پر ہی مرتکز نہ کر دیں۔ مسئلے کو باقیماندہ خاندان سے پوشیدہ رکھنے کی بجائے، اُن کے ساتھ معاملے پر ایک معقول حد تک اور ایک ہمت‌افزا طریقے سے گفتگو کریں۔–‏مقابلہ کریں امثال ۲۰:‏۱۸‏۔‏

۲۵.‏ (‏ا)‏ اگر ایک بچہ مکمل طور پر باغی ہو جاتا ہے تو مسیحی کلیسیا کے نمونے پر چلتے ہوئے، والدین کیسے کارروائی کر سکتے ہیں؟ (‏ب)‏ والدین کو کس چیز کو ذہن میں رکھنا چاہئے اگر اُنکے بچوں میں سے ایک بغاوت کرتا ہے؟‏

۲۵ یوؔحنا رسول نے کلیسیا میں ناقابلِ‌اصلاح باغی بن جانے والے شخص کی بابت کہا:‏ ”‏نہ اُسے گھر میں آنے دو اور نہ سلام کرو۔“‏ (‏۲-‏یوحنا ۱۰‏)‏ والدین بھی اپنے بچے کے سلسلے میں شاید ایسا ہی مؤقف اختیار کرنا ضروری خیال کریں اگر وہ بالغ‌بالسن ہے اور سراسر باغی ہو جاتا ہے۔ ایسا مؤقف بڑا مشکل اور صدمہ‌خیز ہو سکتا ہے، لیکن بعض‌اوقات خاندانی تحفظ کی خاطر یہ ضروری ہوتا ہے۔ آپکے گھرانے کو آپکے تحفظ اور مسلسل نگہداشت کی ضرورت ہے۔ لہٰذا، چال‌چلن کی بابت واضح طور پر بیان‌کردہ، تاہم معقول حدبندیاں قائم رکھیں۔ دوسرے بچوں کیساتھ رابطہ قائم رکھیں۔ اِس بات میں دلچسپی لیں کہ وہ سکول میں اور کلیسیا میں کیسے چل رہے ہیں۔ نیز، اُنہیں بتائیں کہ اگرچہ آپ باغی بچے کے اعمال کو پسند نہیں کرتے، توبھی آپ اُس سے نفرت نہیں کرتے۔ بچے کی بجائے بُرے کام کی مذمت کریں۔ جب یعقوؔب کے دو بیٹے اپنی استبدادی کارروائی کی وجہ سے خاندانی برادری سے خارج کر دئیے جانے کا موجب بنے تو یعقوؔب نے بذاتِ‌خود بیٹوں کی نہیں بلکہ اُنکے تشددآمیز قہر کی ملامت کی تھی۔–‏پیدایش ۳۴:‏۱-‏۳۱؛‏ ۴۹:‏۵-‏۷‏۔‏

۲۶.‏ فرض‌شناس والدین کس چیز سے تسلی حاصل کر سکتے ہیں اگر اُنکے بچوں میں سے ایک بغاوت کرتا ہے؟‏

۲۶ جوکچھ آپ کے خاندان میں واقع ہوا ہے شاید آپ اُس کے لئے ذمہ‌دار محسوس کریں۔ لیکن اگر آپ نے اپنی صلاحیت کے مطابق یہوؔواہ کی مشورت پر عمل کرتے ہوئے، دُعائیہ طور پر وہ سب کچھ کِیا ہے جو آپ کر سکتے تھے تو خود کو غیرمعقول طور پر ذمہ‌دار ٹھہرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اِس حقیقت سے تسلی حاصل کریں کہ کوئی بھی ماں یا باپ کامل نہیں ہو سکتا، لیکن آپ نے فرض‌شناسی سے اچھا بننے کی کوشش کی۔ (‏مقابلہ کریں اعمال ۲۰:‏۲۶‏۔)‏ خاندان کے اندر ایک یکسر باغی کا ہونا دل کو پاش‌پاش کرنے والا معاملہ ہوتا ہے، لیکن اگر آپ کیساتھ ایسے واقع ہوتا بھی ہے تو یقین رکھیں کہ خدا سمجھتا ہے اور وہ اپنے عقیدتمند خادموں کو کبھی ترک نہیں کریگا۔ (‏زبور ۲۷:‏۱۰‏)‏ پس اپنے گھر کو باقی تمام بچوں کیلئے تحفظ، روحانی آرام کا گہوارہ بنائے رکھنے کیلئے ثابت‌قدم رہیں۔‏

۲۷.‏ مسرف بیٹے کی تمثیل کو یاد رکھتے ہوئے، ایک باغی بچے کے والدین کس چیز کی ہمیشہ اُمید رکھ سکتے ہیں؟‏

۲۷ علاوہ‌ازیں، آپکو اُمید کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہئے۔ درست تربیت کرنے میں آپ کی ابتدائی کوششیں شاید بھٹکنے والے بچے کے دل پر بالآخر اثرانداز ہوں اور اُسے راہِ‌راست پر لے آئیں۔ (‏واعظ ۱۱:‏۶‏)‏ بعض مسیحی خاندانوں کو آپ کی طرح کا تجربہ ہوا ہے، اور بعض نے اپنے خودسر بچوں کو لوٹتے دیکھا ہے، بالکل اُسی طرح جیسے یسوؔع کی مسرف بیٹے کی تمثیل میں باپ کے سلسلے میں واقع ہوا تھا۔ (‏لوقا ۱۵:‏۱۱-‏۳۲‏)‏آپ کے ساتھ بھی یہی کچھ واقع ہو سکتا ہے۔‏

یہ بائبل اصول .‏ .‏ .‏ گھرانے میں سنگین بغاوت کو روکنے کیلئے ایک ماں یا باپ کی کیسے مدد کر سکتے ہیں؟‏

مدد کے بغیر، ایک بچہ دُنیا کی روح سے بگڑ سکتا ہے۔ –‏امثال ۱۳:‏۲۰؛‏افسیوں ۲:‏۲‏۔‏

والدین کو سخت‌گیری اور رَواداری کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔–‏واعظ ۷:‏۷؛‏۸:‏۱۱‏۔‏

غلط چال‌چلن کو سدھارنا چاہئے، لیکن حلم‌مزاجی کے جذبے کیساتھ۔ –‏گلتیوں ۶:‏۱‏۔‏

جو سنگین گناہ کرتے ہیں اگر وہ توبہ کرتے اور مدد قبول کرتے ہیں تو وہ ”‏شفا پا“‏ سکتے ہیں۔–‏یعقوب ۵:‏۱۴-‏۱۶‏۔‏

‏[‏صفحہ ۸۲ پر بکس]‏

بات‌چیت کریں

جواں‌سال اضافی خودمختاری سے وابستہ تفکرات اور شکوک کا تجربہ کرینگے۔ وہ دُنیا سے بذاتِ‌خود نپٹنے کیلئے اپنی صلاحیت کی بابت کچھ غیریقینی محسوس کر سکتے ہیں۔ گویا یہ ایسے ہے کہ وہ ایک پھسلنے والی سٹرک پر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اَے نوجوانو!‏اپنے تجربہ میں آنے والے خدشات اور اندیشوں کی بابت اپنے والدین کو بتائیں۔ (‏امثال ۲۳:‏۲۲‏)‏ یا اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپکے والدین آپ پر بڑی سخت گرفت رکھے ہوئے ہیں تو زیادہ آزادی دئیے جانے کی اپنی ضرورت کی بابت اُن سے بات‌چیت کریں۔ اُن کے ساتھ ایسے وقت پر بات‌چیت کرنے کا منصوبہ بنائیں جب آپ کشیدہ‌خاطر نہیں ہیں اور وہ بھی مصروف نہیں ہیں۔ (‏امثال ۱۵:‏۲۳‏)‏درحقیقت ایک دوسرے کی سننے کیلئے وقت نکالیں۔‏

‏[‏صفحہ ۸۳ پر تصویر]‏

غالباً، بچے بڑے ہوکر زیادہ پُختہ بالغ بنیں گے اگر اُن کے والدین اُن کے عنفوانِ‌شباب کے مسائل سے نپٹنے کے لئے اُن کی مدد کرتے ہیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں