باب پانچ
اپنے بچے کی بچپن سے تربیت کریں
۱، ۲. اپنے بچوں کی پرورش کرنے کے سلسلے میں مدد کیلئے والدین کو کس سے رجوع کرنا چاہئے؟
”اولاد خداوند کی طرف سے میراث ہے،“ کوئی ۳،۰۰۰سال پہلے ایک قدردان والد نے پُرزور الفاظ میں کہا تھا۔ (زبور ۱۲۷:۳) بیشک، والدین ہونے کی خوشی خدا کی طرف سے ایک بیشقیمت اجر ہے، ایک ایسا اجر جو بیشتر شادیشُدہ لوگوں کو حاصل ہے۔ تاہم، وہ جنکے بچے ہیں، اُنہیں جلد احساس ہو جاتا ہے کہ والدین ہونا خوشی کیساتھ ساتھ ذمہداریاں بھی لاتا ہے۔
۲ بالخصوص آجکل، بچوں کی پرورش کرنا ایک مشکل کام ہے۔ تاہم، بہتیرے لوگوں نے اسے کامیابی کیساتھ انجام دیا ہے، اور مُلہَم زبورنویس یہ کہتے ہوئے طریقے کی نشاندہی کرتا ہے: ”اگر خداوند ہی گھر نہ بنائے تو بنانے والوں کی محنت عبث ہے۔“ (زبور ۱۲۷:۱) جتنا زیادہ آپ یہوؔواہ کی ہدایات پر چلینگے آپ اتنے ہی زیادہ بہتر باپ یا ماں بن جائینگے۔ بائبل بیان کرتی ہے: ”سارے دل سے خداوند پر توکل کر اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔“ (امثال ۳:۵) جب آپ بچے کی پرورش کرنے کے اپنے ۲۰سالہ پروجیکٹ کا آغاز کرتے ہیں تو کیا آپ یہوؔواہ کی مشورت سننے کیلئے تیار ہیں؟
بائبل کا نظریہ قبول کرنا
۳. بچوں کی پرورش کرنے کے سلسلے میں والدوں کی کیا ذمہداری ہے؟
۳ پوری دُنیا میں بہت سے گھروں کے اندر، مرد بچے کی تربیت کرنے کو خاص طور پر عورت کا کام خیال کرتے ہیں۔ سچ ہے کہ خدا کا کلام باپ کے کردار کی نشاندہی سب سے بڑھ کر ایک روزی کمانے والے کے طور پر کرتا ہے۔ تاہم، وہ یہ بھی بیان کرتا ہے کہ اُسکی گھر کے اندر بھی ذمہداریاں ہیں۔ بائبل بیان کرتی ہے: ”اپنا کام باہر تیار کر۔ اُسے اپنے کھیت میں درست کر لے اور اُسکے بعد اپنا گھر بنا۔“ (امثال ۲۴:۲۷) خدا کی نظر میں، باپ اور مائیں بچے کی تربیت کرنے میں ساتھی ہیں۔–امثال ۱:۸، ۹۔
۴. ہمیں لڑکوں کو لڑکیوں سے برتر خیال کیوں نہیں کرنا چاہئے؟
۴ آپ اپنے بچوں کو کیسا خیال کرتے ہیں؟ رپورٹیں بیان کرتی ہیں کہ ایشیا میں ”بچیوں کی پیدائش کا اکثر خوشدلی سے خیر مقدم نہیں کِیا جاتا۔“ رپورٹ کے مطابق لاطینی امریکہ میں ”کافی روشن ضمائر خاندانوں“ میں بھی ابھی تک لڑکیوں کے خلاف تعصب پایا جاتا ہے۔ تاہم، حقیقت تو یہ ہے کہ لڑکیاں دوسرے درجے کی مخلوق نہیں ہیں۔ قدیم وقتوں کے ایک قابلِذکر والد، یعقوؔب نے اپنے تمام بچوں کو، بشمول لڑکیوں کے جو اُس وقت تک پیدا ہوئے تھے، بطور ”وہ بچے“ بیان کِیا تھا ”جو خدا نے [مجھے] عنایت کئے ہیں۔“ (پیدایش ۳۳:۱-۵؛ ۳۷:۳۵) اِسی طرح، یسوؔع نے سب ”بچوں“ (لڑکوں اور لڑکیوں) کو برکت دی جو اُس کے پاس لائے گئے تھے۔ (متی ۱۹:۱۳-۱۵) ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ اُس نے یہوؔواہ کے نقطۂنظر کو منعکس کِیا۔–استثنا ۱۶:۱۴۔
۵. اپنے خاندان کے سائز کے سلسلے میں کن باتوں کو ایک جوڑے کے فیصلے پر اثرانداز ہونا چاہئے؟
۵ کیا آپکے علاقے میں ایک عورت سے ممکنہ طور پر زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی توقع کی جاتی ہے؟ سچ بات تو یہ ہے کہ ایک شادیشُدہ جوڑا کتنے بچے پیدا کرتا ہے یہ اُنکا ذاتی فیصلہ ہے۔ اگر والدین کے پاس بہت سے بچوں کو کھانا کھلانے، کپڑا پہنانے، اور تعلیم دلانے کے وسائل کی کمی ہے تو کیا ہو؟ یقینی طور پر، جوڑے کواپنے خاندان کے سائز کی بابت فیصلہ کرتے وقت اِس بات کا خیال رکھنا چاہئے۔ بعض جوڑے جو اپنے تمام بچوں کی کفالت نہیں کر سکتے اُن میں سے بعض کی پرورش کرنے کی ذمہداری رشتےداروں کو سونپ دیتے ہیں۔ کیا یہ طریقہ مناسب ہے؟ درحقیقت نہیں۔ اور نہ ہی یہ والدین کو اپنے بچوں کے سلسلے میں اُن کی ذمہداری سے آزاد کرتا ہے۔ بائبل بیان کرتی ہے: ”اگر کوئی اپنوں اور خاصکر اپنے گھرانے کی خبرگیری نہ کرے تو ایمان کا منکر اور بےایمان سے بدتر ہے۔“ (۱-تیمتھیس ۵:۸) ذمہدار جوڑے اپنے ”گھرانے“ کے سائز کی منصوبہسازی کرتے ہیں تاکہ وہ ’اُنکی جو اُنکے اپنے ہیں کفالت کر‘ سکیں۔ ایسا کرنے کیلئے کیا وہ خاندانی منصوبہبندی کر سکتے ہیں؟ یہ بھی ذاتی فیصلہ ہے، اور اگر شادیشُدہ جوڑے اِس سلسلے میں کوئی فیصلہ کرتے بھی ہیں، تو مانعحمل کا انتخاب بھی ایک ذاتی معاملہ ہے۔ ”کیونکہ ہر شخص اپنا ہی بوجھ اُٹھائیگا۔“ (گلتیوں ۶:۵) تاہم، خاندانی منصوبہبندی جس میں کسی بھی قسم کا اسقاطِحمل شامل ہے وہ بائبل اصولوں کے برعکس ہے۔ یہوؔواہ خدا ”زندگی کا سرچشمہ“ ہے۔ (زبور ۳۶:۹) اِسلئے، استقرارِحمل کے بعد زندگی کو ختم کرنا یہوؔواہ کیلئے انتہائی بےادبی ظاہر کریگا اور قتل کے مترادف ہے۔–خروج ۲۱:۲۲، ۲۳؛ زبور ۱۳۹:۱۶؛یرمیاہ ۱:۵۔
اپنے بچے کی ضروریات پورا کرنا
۶. بچے کی تربیت کا آغاز کب ہونا چاہئے؟
۶ امثال ۲۲:۶ بیان کرتی ہے: ”لڑکے کی اُس راہ میں تربیت کر جس پر اُسے جانا ہے۔“ بچوں کی تربیت کرنا والدین کی ایک اَور بڑی ذمہداری ہے۔ تاہم، اس تربیت کو کب شروع ہونا چاہئے؟ بہت جلدی۔ پولسؔ رسول نے بیان کِیا کہ تیمتھیسؔ کی ”بچپن سے“ تربیت کی گئی تھی۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱۵) یہاں پر مستعمل یونانی لفظ چھوٹے بچے یا نازائیدہ بچے کی طرف بھی اشارہ کر سکتا ہے۔ (لوقا ۱:۴۱، ۴۴؛ اعمال ۷:۱۸-۲۰) پس، تیمتھیسؔ نے موزوں طور پر–اُس وقت تربیت حاصل کی تھی جب وہ بہت چھوٹا تھا۔ بچے کی تربیت شروع کرنے کا بہترین وقت بچپن ہے۔ ایک چھوٹا بچہ بھی علم کی شدید خواہش رکھتا ہے۔
۷. (ا) یہ کیوں اہم ہے کہ ماں اور باپ دونوں بچے کیساتھ قریبی رشتہ پیدا کریں؟ (ب) یہوؔواہ اور اُسکے اکلوتے بیٹے کے درمیان کیا رشتہ موجود تھا؟
۷ ”جب مَیں نے اپنے بچے کو پہلی مرتبہ دیکھا،“ ایک ماں بیان کرتی ہے ”تو مجھے اُس سے پیار ہو گیا۔“ زیادہتر مائیں ایسا ہی کرتی ہیں۔ جب وہ پیدائش کے بعد اکٹھے وقت صرف کرتے ہیں تو ماں اور بچے کے درمیان یہ خوشگوار تعلق گہرا ہو جاتا ہے۔ دودھ پلانا اِس قربت میں اضافہ کرتا ہے۔ (مقابلہ کریں ۱-تھسلنیکیوں ۲:۷۔) بچے کی جذباتی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ماں کا اپنے بچے کو چمکارنا اور اُس سے باتیں کرنا اشد ضروری ہیں۔ (مقابلہ کریں یسعیاہ ۶۶:۱۲۔) لیکن باپ کی بابت کیا ہے؟ اُسے بھی اپنے نئے بچے کیساتھ قریبی تعلق اُستوار کرنا چاہئے۔ یہوؔواہ خود اِسکی ایک مثال ہے۔ امثال کی کتاب میں، ہم یہوؔواہ کے اپنے اکلوتے بیٹے کیساتھ رشتے کی بابت سیکھتے ہیں، جسے یہ کہتے ہوئے بیان کِیا گیا ہے: ”خداوند نے انتظامِعالم کے شروع میں . . . مجھے پیدا کِیا۔ اور مَیں ہر روز اُسکی خوشنودی تھی۔“ (امثال ۸:۲۲، ۳۰؛یوحنا ۱:۱۴) اِسی طرح، ایک اچھا باپ بچے کی زندگی کے آغاز ہی سے اپنے بچے کیساتھ ایک پُرتپاک، پُرمحبت رشتہ پیدا کرتا ہے۔ ”بہت زیادہ شفقت دکھائیں،“ ایک باپ بیان کرتا ہے۔ ”کوئی بچہ گلے لگانے اور چومنے سے کبھی نہیں مرا۔“
۸. والدین کو ممکنہ طور پر بچوں کو کونسی ذہنی تحریک جلد دینی چاہئے؟
۸ لیکن چھوٹے بچوں کو کچھ زیادہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ پیدائش کے وقت ہی سے، اُنکے دماغ معلومات حاصل کرنے اور ذخیرہ کرنے کیلئے تیار ہوتے ہیں، اور اِسکا بنیادی ماخذ والدین ہیں۔ مثال کے طور پر زبان کو لے لیں۔ محققین کہتے ہیں کہ بچہ کتنی اچھی طرح باتچیت کرنا اور پڑھنا سیکھتا ہے ”اسے اُسکے والدین کیساتھ بچے کے ابتدائی باہمیعمل کی نوعیت سے بہت زیادہ منسلک خیال کِیا جاتا ہے۔“ بچپن ہی سے اپنے بچے کیساتھ گفتگو کریں اور پڑھیں۔ بہت جلد وہ آپکی نقل کرنا چاہیگا اور جلد ہی آپ اُسے پڑھنا سکھا رہے ہونگے۔ غالباً، وہ سکول داخل ہونے سے پہلے ہی پڑھنے کے قابل ہوگا۔ یہ خاص طور پر اُس وقت مفید ہوگا اگر آپ کسی ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں اساتذہ کم اور کلاسروم خوب بھرے ہوتے ہیں۔
۹. نہایت اہم نصبالعین کیا ہے جسے والدین کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے؟
۹ مسیحی والدین کی اوّلین فکرمندی اپنے بچے کی روحانی ضروریات پوری کرنا ہے۔ (دیکھیں استثنا ۸:۳۔) کس نصبالعین کے ساتھ؟ اپنے بچے کی مسیح جیسی شخصیت پیدا کرنے میں مدد دینے کیلئے، عملاً، ”نئی انسانیت“ پہننے کیلئے۔ (افسیوں ۴:۲۴) ایسا کرنے کیلئے اُنہیں موزوں عمارتی سامان اور مناسب تعمیراتی طریقوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
سچائی کو اپنے بچے کے ذہننشین کریں
۱۰. بچوں کو کونسی صفات پیدا کرنے کی ضرورت ہے؟
۱۰ عمارت کی خوبی کا انحصار کافی حد تک عمارت میں استعمال ہونے والے سامان کی نوعیت پر ہے۔ پولسؔ رسول نے کہا کہ مسیحی شخصیات کے لئے بہترین تعمیراتی سامان ”سونا، چاندی، بیشقیمت پتھر“ ہیں۔ (۱-کرنتھیوں ۳:۱۰-۱۲) یہ چیزیں ایمان، حکمت، فہم، وفاداری، احترام، اور یہوؔواہ اور اُسکے آئین کیلئے پُرمحبت قدردانی جیسی صفات کی نمائندگی کرتی ہیں۔ (زبور ۱۹:۷-۱۱؛ امثال ۲:۱-۶؛ ۳:۱۳، ۱۴) اِن خوبیوں کو پیدا کرنے کے لئے والدین اپنے بچوں کی طفولیت کے اوائل ہی سے کیسے مدد کر سکتے ہیں؟ مدتوں سے وضعکردہ طریقۂکار کی پیروی کرنے سے۔
۱۱. اسرائیلی والدین نے اپنے بچوں کی خداپرستانہ شخصیات پیدا کرنے میں کیسے مدد کی؟
۱۱ بنی اسرائیل کے ملکِموعود میں داخل ہونے سے تھوڑا پہلے، یہوؔواہ نے اسرائیلی والدین کو حکم دیا: ”یہ باتیں جنکا حکم آج مَیں تجھے دیتا ہوں تیرے دل پر نقش رہیں۔ اور تُو اِنکواپنی اولاد کے ذہننشین کرنا اور گھر بیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اُٹھتے وقت اِن کا ذکر کِیا کرنا۔“ (استثنا ۶:۶، ۷) جیہاں، والدین کو نمونے، رفیق، رابطہ رکھنے والے، اور اُستاد ہونے کی ضرورت ہے۔
۱۲. یہ کیوں نہایت ضروری ہے کہ والدین اچھے نمونے ثابت ہوں؟
۱۲ نمونہ بنیں۔ سب سے پہلے یہوؔواہ نے کہا: ”یہ باتیں . . . تیرے دل پر نقش رہیں۔“ اِسکے بعد اُس نے اضافہ کِیا: ”تُو اِنکو اپنی اولاد کے ذہننشین کرنا۔“ پس خدائی خوبیاں پہلے باپ کے دل پر نقش ہونی چاہئیں۔ باپ کو سچائی سے محبت رکھنی اور اِسکے مطابق زندگی بسر کرنی چاہئے۔ تبھی وہ بچے کے دل تک پہنچ سکتا ہے۔ (امثال ۲۰:۷) کیوں؟ اِسلئے کہ بچے جوکچھ وہ سنتے ہیں اُسکی نسبت جوکچھ وہ دیکھتے ہیں اُس سے زیادہ اثرپذیر ہوتے ہیں۔–لوقا ۶:۴۰؛ ۱-کرنتھیوں ۱۱:۱۔
۱۳. مسیحی والدین اپنے بچوں پر توجہ دینے کے سلسلے میں، یسوؔع کے نمونے کی نقل کیسے کر سکتے ہیں؟
۱۳ رفیق بنیں۔ یہوؔواہ نے اسرائیل میں والدین کو حکم دیا: ’گھر بیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اُٹھتے وقت اِن کا اپنے بچوں سے ذکر کیا کرنا۔‘ یہ بچوں کیساتھ وقت صرف کرنے کا تقاضا کرتا ہے خواہ والدین کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں۔ یسوؔع نے بدیہی طور پر محسوس کِیا تھا کہ بچے اُسکے وقت کے مستحق تھے۔ اُسکی خدمتگزاری کے آخری ایّام میں، ”لوگ بچوں کو اُسکے پاس لانے لگے تاکہ وہ اُنکو چھوئے۔“ یسوؔع کا ردِعمل کیا تھا؟ ”اُس نے [بچوں کو] اپنی گود میں لیا اور اُن پر ہاتھ رکھ کر اُنکو برکت دی۔“ (مرقس ۱۰:۱۳، ۱۶) تصور کریں کہ یسوؔع کی زندگی کے آخری لمحات بڑی تیزی سے قریب آ رہے تھے۔ پھربھی، اُس نے اِن بچوں کو اپنا وقت اور توجہ دی۔ کیا ہی شاندار سبق!
۱۴. والدین کیلئے اپنے بچے کیساتھ وقت صرف کرنا کیوں مفید ہے؟
۱۴ رابطہ رکھنے والا بنیں۔ اپنے بچے کے ساتھ وقت صرف کرنا اُس کے ساتھ رابطہ رکھنے کیلئے آپکی مدد کریگا۔ آپ جتنا زیادہ رابطہ رکھینگے، اتنا ہی بہتر طور پر آپ سمجھیں گے کہ اُسکی شخصیت کیسی بن رہی ہے۔ تاہم، یاد رکھیں کہ رابطہ باتچیت کرنے سے زیادہ کچھ ہے۔ ”مجھے سننے کا فن پیدا کرنا پڑا تھا،“ براؔزیل سے ایک ماں نے بیان کِیا، ”اپنے دل سے سننا۔“ اُس کا تحمل پھل لایا جب اُس کے بیٹے نے اُس سے اپنے جذبات کا اظہار کرنا شروع کِیا۔
۱۵. جب تفریحطبع کی بات آتی ہے تو کس چیز کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے؟
۱۵ بچوں کو ”ہنسنے کا ایک وقت . . . اور ناچنے کا ایک وقت،“ یعنی تفریحطبع کے لئے ایک وقت درکار ہوتا ہے۔ (واعظ ۳:۱، ۴؛ زکریاہ ۸:۵) تفریحطبع بہت نتیجہخیز ہوتی ہے جب والدین اور بچے اکٹھے ملکر اِس سے لطفاندوز ہوتے ہیں۔ یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ بہت سے گھروں میں تفریحطبع کا مطلب ٹیلیوژن دیکھنا ہے۔ اگرچہ بعض ٹیلیوژن پروگرام تفریح فراہم کرنے والے ہو سکتے ہیں، بہت سے اچھی اقدار کو بگاڑتے ہیں، اور ٹیلیوژن دیکھنا خاندان میں رابطے کا گلا گھونٹنے کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اِسلئے، کیوں نہ اپنے بچوں کیساتھ کوئی تعمیری کام کریں؟ گانے گائیں، کھیلیں کودیں دوستوں کے ساتھ ملیں، پُرلطف مقامات کی سیر کریں۔ ایسی سرگرمیاں رابطے کی حوصلہافزائی کرتی ہیں۔
۱۶. والدین کو اپنے بچوں کو یہوؔواہ کی بابت کیا سکھانا چاہئے، اور اُنہیں یہ کام کیسے کرنا چاہئے؟
۱۶ استاد بنیں۔ ”تُو [اِن باتوں کو] اپنی اولاد کے ذہننشین کرنا،“ یہوؔواہ نے کہا۔ سیاقوسباق آپکو بتاتا ہے کہ کیا سکھائیں اور کیسے سکھائیں۔ پہلے ”تُو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے خداوند اپنے خدا سے محبت رکھ۔“ (استثنا ۶:۵) اسکے بعد، ”اِن باتوں کو . . . ذہننشین کرنا۔“ یہوؔواہ اور اُس کی شریعت کے لئے پورے دلوجان سے محبت پیدا کرنے کے مقصد کے ساتھ تعلیم دیں۔ (مقابلہ کریں عبرانیوں ۸:۱۰۔) لفظ ”ذہننشین“ کرنے کا مطلب دُہرانے کے عمل سے سکھانا ہے۔ پس، درحقیقت، یہوؔواہ آپ سے کہتا ہے کہ اپنے بچوں کو خداپرستانہ شخصیت پیدا کرنے میں مدد دینے کا بنیادی طریقہ مستقل بنیاد پر اُس کی بابت باتچیت کرنا ہے۔ اِس میں اُن کیساتھ باقاعدہ بائبل مطالعہ کرنا شامل ہے۔
۱۷. والدین کو اپنے بچوں کے اندر کیا چیز پیدا کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے؟ کیوں؟
۱۷ بیشتر والدین جانتے ہیں کہ بچے کے دل تک معلومات پہنچانا آسان نہیں ہے۔ پطرؔس رسول نے ساتھی مسیحیوں کو تاکید کی: ”نوزاد بچوں کی مانند خالص روحانی دودھ کے مشتاق رہو۔“ (۱-پطرس ۲:۲) اصطلاح ”مشتاق رہو“ اشارہ دیتی ہے کہ بہتیرے طبعی طور پر روحانی خوراک کے بھوکے نہیں ہوتے۔ ہو سکتا ہے کہ اپنے بچے میں اس شدید خواہش کو پیدا کرنے کیلئے والدین کو طریقے تلاش کرنے پڑیں۔
۱۸. یسوؔع کے تعلیم دینے کے بعض طریقے کونسے ہیں جن کی نقل کرنے کے لئے والدین کی حوصلہافزائی کی جاتی ہے؟
۱۸ یسوؔع نے تمثیلوں کا استعمال کرنے سے دلوں تک رسائی حاصل کی۔ (مرقس ۱۳:۳۴؛ لوقا ۱۰:۲۹-۳۷) تعلیم دینے کا یہ طریقہ بچوں کے سلسلے میں بالخصوص مؤثر ہے۔ رنگین، دلچسپ کہانیاں استعمال کرتے ہوئے بائبل اصول سکھائیں، شاید وہ جو مائے بُک آف بائبل سٹوریز کی کتاب میں موجود ہیں۔a بچوں کو شامل کریں۔ اُنہیں بائبل واقعات کی تصویرکشی کرنے میں اور تمثیلی شکل دینے میں اپنی تخلیقی صلاحیت کو استعمال کرنے دیں۔ یسوؔع نے سوالات کا بھی استعمال کِیا۔ (متی ۱۷:۲۴-۲۷) اپنے خاندانی مطالعے کے دوران اُسکے طریقے کی نقل کریں۔ محض خدا کا ایک حکم بیان کرنے کی بجائے، اِس طرح کے سوالات پوچھیں، یہوؔواہ نے ہمیں یہ حکم کیوں دیا؟ اگر ہم اِس پر عمل کرینگے تو کیا واقع ہوگا؟ اگر ہم اِس پر عمل نہیں کرینگے تو کیا واقع ہوگا؟ ایسے سوالات ایک بچے کی استدلال کرنے اور یہ سمجھنے کیلئے مدد کرتے ہیں کہ خدا کے احکام عملی اور مفید ہیں۔–استثنا ۱۰:۱۳۔
۱۹. اگر والدین اپنے بچوں کیساتھ برتاؤ میں بائبل اصولوں کی پیروی کرتے ہیں تو بچے کن عظیم فوائد سے لطفاندوز ہونگے؟
۱۹ ایک نمونہ، ایک رفیق، ایک رابطہ رکھنے والا، اور ایک استاد بننے سے، آپ اپنے بچے کی ابتدائی سالوں ہی میں یہوؔواہ خدا کیساتھ قریبی ذاتی رشتہ اُستوار کرنے کیلئے مدد کر سکتے ہیں۔ یہ رشتہ آپکے بچے کی ایک مسیحی کے طور پر خوش رہنے کیلئے حوصلہافزائی کریگا۔ وہ آزمائشوں اور ہمعصروں کے دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے بھی بااُصول زندگی بسر کرنے کیلئے سخت کوشش کریگا۔ اِس بیشقیمت رشتے کی قدر کرنے کیلئے ہمیشہ اُسکی مدد کریں۔–امثال ۲۷:۱۱۔
تنبیہ کی اہم ضرورت
۲۰. تنبیہ کیا ہے، اور اِسے کیسے عمل میں لایا جانا چاہئے؟
۲۰ تنبیہ وہ تربیت ہے جو دلودماغ کی اصلاح کرتی ہے۔ بچوں کو اِسکی اکثر ضرورت ہوتی ہے۔ پولسؔ والدوں کو مشورت دیتا ہے ”[اپنے بچوں کی] خداوند کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر . . . پرورش کرو۔“ (افسیوں ۶:۴) والدین کو محبت سے تنبیہ کرنی چاہئے بالکل اُسی طرح جیسے یہوؔواہ کرتا ہے۔ (عبرانیوں ۱۲:۴-۱۱) محبت پر مبنی تنبیہ کو استدلال کے ذریعے منتقل کِیا جا سکتا ہے۔ پس ہمیں بتایا گیا ہے کہ ”تربیت کی بات سنو۔“ (امثال ۸:۳۳) تنبیہ کیسے کی جانی چاہئے؟
۲۱. اپنے بچوں کو تنبیہ کرتے وقت والدین کو کن اصولوں کو ذہن میں رکھنا چاہئے؟
۲۱ بعض والدین سوچتے ہیں کہ اپنے بچوں کو تنبیہ کرنے میں محض اُن سے دھمکیآمیز انداز میں باتچیت کرنا، اُنہیں ڈانٹنا، یا اُنکی بےعزتی کرنا ہی شامل ہے۔ تاہم، اِسی موضوع پر پولسؔ آگاہ کرتا ہے: ”اَے اولاد والو! تم اپنے فرزندوں کو غصہ نہ دلاؤ۔“ (افسیوں ۶:۴) تمام مسیحیوں کو تلقین کی گئی ہے کہ ”سب کیساتھ نرمی [کریں] . . . مخالفوں کو حلیمی سے تادیب [کریں]۔“ (۲-تیمتھیس ۲:۲۴، ۲۵) مسیحی والدین مستقلمزاجی کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے اپنے بچوں کی تربیت کرتے وقت اِن الفاظ کو ذہن میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم، بعضاوقات، استدلال ناکافی ہوتا ہے، اور کسی طرح کی سزا کی ضرورت ہو سکتی ہے۔–امثال ۲۲:۱۵۔
۲۲. اگر ایک بچے کو سزا دینے کی ضرورت پڑتی ہے، تو اُسے کس بات کو سمجھنے میں مدد دی جانی چاہئے؟
۲۲ مختلف بچوں کو مختلف اقسام کی تنبیہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ بعض ”باتوں ہی سے نہیں سدھرتے۔“ اُن کیلئے، نافرمانی کرنے کی وجہ سے کبھیکبھار دی جانے والی سزا زندگیبخش ہو سکتی ہے۔ (امثال ۱۷:۱۰؛ ۲۳:۱۳، ۱۴؛ ۲۹:۱۹) تاہم، بچے کو سمجھنا چاہئے کہ اُسے سزا کیوں دی جا رہی ہے۔ ”چھڑی اور تنبیہ حکمت بخشتی ہیں۔“ (امثال ۲۹:۱۵؛ ایوب ۶:۲۴) علاوہازیں، سزا کی حدبندیاں ہوتی ہیں۔ یہوؔواہ نے اپنے لوگوں سے فرمایا: ”مَیں تجھے [مناسب] تنبیہ کرونگا۔“ (یرمیاہ ۴۶:۲۸ب) بائبل کسی بھی بات میں غصے سے سزا دینے کے لئے ڈنڈے لگانے یا سخت مارپیٹ کرنے کی حمایت نہیں کرتی، جو کہ ایک بچے کو زخمی کرتی اور ضرر بھی پہنچاتی ہے۔–امثال ۱۶:۳۲۔
۲۳. ایک بچے کو جب اُسے اُس کے والدین کی طرف سے سزا دی جاتی ہے تو اُسے کیا سمجھنے کے قابل ہونا چاہئے؟
۲۳ جب یہوؔواہ نے اپنے لوگوں کو آگاہ کِیا کہ وہ اُنہیں تنبیہ کرے گا تو اُس نے پہلے فرمایا: ”ہراسان نہ ہو . . . کیونکہ مَیں تیرے ساتھ ہوں۔“ (یرمیاہ ۴۶:۲۸الف) اِسی طرح، والدین کی طرف سے تنبیہ کو، خواہ کسی بھی مناسب شکل میں ہو، بچے کو احساسِاسترداد میں نہیں چھوڑنا چاہئے۔ (کلسیوں ۳:۲۱) اِس کی بجائے، بچے کو سمجھنا چاہئے کہ تنبیہ اِس لئے کی گئی ہے کہ باپ یا ماں اس کی حمایت میں ’اُس کے‘ ساتھ ہے۔
اپنے بچے کو نقصان پہنچنے سے بچائیں
۲۴، ۲۵. ایک خوفناک خطرہ کیا ہے جس سے بچوں کو آجکل تحفظ کی ضرورت ہے؟
۲۴ متعدد بالغ اپنے بچپن پر بطور ایک خوشکُن وقت کے غور کرتے ہیں۔ وہ تحفظ کے ایک پُرتپاک احساس کو یاد کرتے ہیں، ایک پُختہ یقین کہ خواہ کچھ بھی ہو اُن کے والدین اُن کی دیکھبھال کریں گے۔ والدین چاہتے ہیں کہ اُن کے بچے ایسے محسوس کریں لیکن آج کی بگڑی ہوئی دُنیا میں، بچوں کو محفوظ رکھنا پہلے کی نسبت زیادہ مشکل ہے۔
۲۵ ایک خوفناک خطرہ جو حالیہ برسوں میں پیدا ہو گیا ہے وہ بچوں کے ساتھ جنسی چھیڑچھاڑ ہے۔ ملائشیاؔ میں، ۱۰ سالوں کے عرصہ کے دوران بچوں سے چھیڑچھاڑ کی رپورٹیں چار گُنا ہو گئی ہیں۔ جرمنیؔ میں ہر سال کوئی ۳۰۰،۰۰۰بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی کی جاتی ہے، جبکہ جنوبی امریکہ کے ایک ملک میں، ایک رپورٹ کے مطابق، حواسباختہ کرنے والی سالانہ تعداد ۹،۰۰۰،۰۰۰ ہے! المیہ تو یہ ہے کہ اِن بچوں کی اکثریت کے ساتھ زیادتی اُن کے اپنے گھروں میں اُن لوگوں کی طرف سے ہوتی ہے جن پر وہ بھروسہ کرتے اور جانتے ہیں۔ لیکن بچوں کو اپنے والدین سے تحفظ حاصل ہونا چاہئے۔ والدین محفوظ رکھنے والے کیسے ہو سکتے ہیں؟
۲۶. بعض طریقے کیا ہیں جن کے ذریعے بچوں کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے، نیز علم بچے کو کیسے محفوظ رکھ سکتا ہے؟
۲۶ چونکہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ جو بچے جنس کی بابت کم علم رکھتے ہیں بالخصوص وہی بچوں سے زیادتی کرنے والوں کا نشانہ بنتے ہیں، ایک اہم احتیاطی قدم بچے کو تعلیم دینا ہے، حتیٰکہ جب وہ ابھی بہت چھوٹا ہی ہے۔ علم ”شریر کی راہ سے اور کجگو سے“ تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔ (امثال ۲:۱۰-۱۲) کونسا علم؟ بائبل کے اصولوں کا علم، کہ اخلاقی طور پر کیا غلط اور کیا درست ہے۔ یہ علم بھی کہ بعض بالغ بُرے کام کرتے ہیں اور یہ کہ جب لوگ نازیبا کام کرنے کا مشورہ دیتے ہیں تو چھوٹے بچے کو تعمیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ (مقابلہ کریں دانیایل ۱:۴، ۸؛ ۳:۱۶-۱۸۔) ایسی ہدایت کو صرف ایک موقع کی باتچیت تک محدود نہ رکھیں۔ بیشتر چھوٹے بچوں کو ایک سبق کو دُہرانے کی ضرورت پڑتی ہے پیشتر اس سے کہ وہ اسے اچھی طرح یاد کرلیں۔ جب بچے ذرا بڑے ہوتے ہیں تو ایک والد پُرمحبت طور پر اپنی بیٹی کے حقِاخفا کا احترام کریگا، اور ماں اپنے بیٹے کا–یوں بچے کے احساس کو تقویت ملتی ہے کہ کیا موزوں ہے۔ اور بِلاشُبہ، زیادتی کے خلاف ایک بہترین تحفظ بطور والدین آپکی طرف سے اچھی نگرانی ہے۔
الہٰی راہنمائی تلاش کریں
۲۷، ۲۸. جب اُنہیں بچے کی پرورش کرنے کے چیلنج کا سامنا ہوتا ہے تو والدین کے لئے مدد کا عظیمترین ماخذ کون ہے؟
۲۷ بچپن سے بچے کی تربیت کرنا واقعی ایک چیلنج ہے، لیکن ایماندار والدین کو تنہا چیلنج کا مقابلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ماضی میں قاضیوں کے زمانے میں، جب منوؔحہ نامی ایک شخص کو معلوم ہوا کہ وہ باپ بننے والا تھا تو اُس نے بچے کی پرورش کرنے کے سلسلے میں راہنمائی کیلئے یہوؔواہ سے درخواست کی۔ یہوؔواہ نے اُسکی دعاؤں کا جواب دیا۔–قضاۃ ۱۳:۸، ۱۲، ۲۴۔
۲۸ اِسی طرح سے آجکل، جب ایماندار والدین اپنے بچوں کی پرورش کرتے ہیں تو وہ بھی دُعا میں یہوؔواہ سے درخواست کر سکتے ہیں۔ ماں یا باپ ہونا ایک مشکل کام ہے، لیکن اسکے اجر عظیم ہیں۔ ہیوؔائی سے ایک جوڑا بیان کرتا ہے: ”آپ کے پاس نوعمری کے اُن تشویشناک سالوں سے پہلے اپنا کام مکمل کرنے کیلئے ۱۲ سال ہیں۔ لیکن اگر آپ نے بائبل اصولوں کا اطلاق کرنے کیلئے سخت محنت کی ہے، تو خوشی اور اطمینان حاصل کرنے کا یہی وقت ہے جب وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ دل سے یہوؔواہ کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔“ (امثال ۲۳:۱۵، ۱۶) جب آپکا بچہ یہ فیصلہ کرتا ہے تو آپ بھی پُرزور طور پر یہ کہنے کی تحریک پائینگے: ”اولاد خداوند کی طرف سے میراث ہے۔“
[فٹنوٹ]
a واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ۔
یہ بائبل اصول . . . والدین کی اپنے بچوں کی تربیت کرنے کیلئے کیسے مدد کر سکتے ہیں؟
یہوؔواہ پر توکل کریں۔–امثال ۳:۵۔
ذمہدار بنیں۔–۱-تیمتھیس ۵:۸۔
یہوؔواہ ایک شفیق باپ ہے۔–امثال ۸:۲۲، ۳۰۔
والدین اپنے بچوں کو تعلیموتربیت دینے کے ذمہدار ہیں۔ –استثنا ۶:۶، ۷۔
تنبیہ کی ضرورت ہے۔–افسیوں ۶:۴۔
[صفحہ ۶۱ پر بکس]
مؤثر تنبیہ
تنبیہ کی ایک پُرمطلب قسم بچے کے اندر غلط رویے کے ناخوشگوار نتائج کا احساس پیدا کرنا ہے۔ (گلتیوں ۶:۷؛ مقابلہ کریں خروج ۳۴:۶، ۷۔) مثال کے طور پر، اگر آپ کا بچہ گندگی پھیلاتا ہے، تو اُسی سے صفائی کرانا نہایت گہرا اثر چھوڑ سکتا ہے۔ کیا اُس نے کسی کے ساتھ بدسلوکی کی ہے؟ اُس سے معافی مانگنے کا تقاضا کرنا اِس غلط میلان کو درست کر سکتا ہے۔ ایک اَور طرح کی تنبیہ بچے کو ضروری سبق سکھانے کی خاطر کچھ وقت کیلئے استحقاقات سے محروم کر دینا ہے۔ اِس طریقے سے بچہ راست اصولوں کی پابندی کرنے کی حکمت کو سیکھتا ہے۔
[صفحہ ۵۷ پر تصویریں]
اولاد والو، نمونہ، رفیق، رابطہ رکھنے والے، اور استاد بنیں