کہانی نمبر ۵۶
بنیاسرائیل کا پہلا بادشاہ
تصویر میں سموئیل نبی اِس آدمی کے سر پر تیل کیوں ڈال رہے ہیں؟ اُس زمانے میں ایک آدمی کو بادشاہ بنانے کے لئے ایسا کرتے تھے۔ یہ خاص قسم کا تیل ہوتا تھا جس سے خوشبُو آتی تھی۔ یہوواہ خدا نے سموئیل سے کہا تھا کہ ”جاؤ، ساؤل کے سر پر تیل ڈالو۔“
لیکن ساؤل کو لگتا تھا کہ وہ بادشاہ بننے کے لائق نہیں ہیں۔ اُنہوں نے سموئیل سے کہا کہ ”مَیں تو بنیمین کے قبیلے سے ہوں جو بنیاسرائیل کا سب سے چھوٹا قبیلہ ہے۔ پھر آپ مجھے کیوں بادشاہ بنانا چاہتے ہیں؟“ یہوواہ خدا ساؤل کو پسند کرتا تھا کیونکہ وہ اپنے آپ کو بڑا نہیں سمجھتے تھے۔ اِسی لئے اُس نے ساؤل کو بادشاہ بنایا۔
یہ سچ تھا کہ ساؤل بنیاسرائیل کے سب سے چھوٹے قبیلے سے تھے لیکن وہ غریب نہیں تھے۔ اصل میں وہ بہت امیر تھے۔ وہ بہت خوبصورت اور لمبے چوڑے آدمی تھے۔ بنیاسرائیل میں کسی آدمی کا قد ساؤل جتنا لمبا نہیں تھا۔ ساؤل بہت تیز دوڑ سکتے تھے اور بہت طاقتور بھی تھے۔ لوگ خوش تھے کہ یہوواہ خدا نے ساؤل کو بادشاہ بنایا تھا۔ اِس لئے وہ یہ نعرہ لگانے لگے: ”ہمارا بادشاہ، زندہباد!“
بنیاسرائیل کے دُشمن بہت طاقتور تھے۔ وہ ابھی بھی اسرائیلیوں پر ظلم کرتے تھے۔ جب ساؤل، بادشاہ بنے تو اِس کے تھوڑے عرصے بعد عمونیوں نے بنیاسرائیل پر حملہ کر دیا۔ لیکن ساؤل نے ایک بہت بڑی فوج اِکٹھی کی اور عمونیوں کو ہرا دیا۔ بنیاسرائیل بہت خوش ہوئے کہ اُن کا بادشاہ اِتنا بہادر ہے۔
بہت سال گزر گئے۔ اِس دوران ساؤل نے بنیاسرائیل کے بہت سے دُشمنوں کو ہرا دیا۔ ساؤل کے ایک بیٹے کا نام یونتن تھا۔ وہ بھی بڑے بہادر تھے۔ اُنہوں نے بھی بہت سی جنگیں جیتیں۔ فلستی ابھی بھی بنیاسرائیل کے سب سے بڑے دُشمن تھے۔ ایک دن ہزاروں فلستی، اسرائیلیوں سے لڑنے آئے۔
سموئیل نبی نے بادشاہ ساؤل کے لئے یہ پیغام بھیجا: ”میرا انتظار کریں۔ ابھی فلستیوں سے جنگ شروع نہ کریں۔ پہلے مَیں آکر یہوواہ خدا کو خوش کرنے کے لئے قربانی چڑھاؤں گا۔ پھر فلستیوں سے لڑیں۔“ لیکن سموئیل کو آنے میں دیر ہو گئی۔ ساؤل کو ڈر تھا کہ فلستی حملہ کر دیں گے۔ اِس لئے اُنہوں نے خود ہی قربانی چڑھا دی۔ جب سموئیل وہاں پہنچے تو اُنہوں نے ساؤل سے کہا کہ ”آپ نے یہوواہ خدا کا کہنا نہیں مانا۔ اب وہ کسی اَور کو بنیاسرائیل کا بادشاہ بنائے گا۔“
بعد میں ساؤل نے پھر سے یہوواہ خدا کا حکم توڑا۔ اِس لئے سموئیل نے اُن سے کہا: ”آپ کو لگتا ہے کہ یہوواہ خدا اچھیاچھی قربانیوں سے خوش ہوتا ہے۔ لیکن اصل میں وہ اِس بات سے زیادہ خوش ہوتا ہے کہ ہم اُس کا کہنا مانیں۔ آپ نے یہوواہ خدا کا کہنا نہیں مانا۔ اِس لئے اب آپ بنیاسرائیل کے بادشاہ نہیں رہیں گے۔“
اِس کہانی سے ہم دو سبق سیکھ سکتے ہیں۔ ایک سبق یہ کہ ہمیں ہمیشہ یہوواہ خدا کا کہنا ماننا چاہئے۔ دوسرا سبق یہ کہ اچھے لوگ بھی کبھیکبھی بُرے بن جاتے ہیں۔ ساؤل شروع میں اچھے تھے لیکن بعد میں وہ بُرے بن گئے۔ ہم ساؤل کی طرح بُرے نہیں بننا چاہتے ہیں، ہےنا؟