ملفورڈ ساؤنڈ
رنگبرنگی دُنیا
نیو زیلینڈ کی سیر
کوئی 800 سال پہلے کی بات ہے کہ ماؤری قبیلے کے لوگ ہزاروں میل کا سمندری سفر کر کے نیو زیلینڈ پہنچے۔ اِن لوگوں کا تعلق پولینیشیا کے جزائر سے تھا جہاں کا موسم شدید گرم ہوتا تھا لیکن نیو زیلینڈ کی آبوہوا وہاں سے بالکل فرق تھی۔ یہ علاقہ پہاڑوں، برفانی تودوں، گرم چشموں اور برف سے بھرا ہوا تھا۔ پھر کوئی 500 سال بعد یورپ کے دُوردراز علاقوں سے بھی لوگ یہاں آ کر آباد ہوئے۔ آجکل نیو زیلینڈ کے زیادہتر لوگ یورپ کے قدیم باشندوں کی روایتوں کو بھی مانتے ہیں اور پولینیشیا کے لوگوں کی بھی۔ یہاں کی تقریباً 90 فیصد آبادی شہروں میں رہتی ہے۔ اِس کے دارالحکومت کا نام ویلنگٹن ہے جسے دُنیا کا سب سے جنوبی دارالحکومت ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
شمالی جزیرے پر کیچڑ کے اُبلتے چشمے
نیو زیلینڈ خوبصورت اور حسین نظاروں کی سرزمین ہے۔ اِس لیے یہ حیرانی کی بات نہیں کہ دُنیا سے الگ تھلگ ہونے کے باوجود بھی ہر سال یہاں تقریباً 30 لاکھ سیاح آتے ہیں۔
سلور فرن کا درخت 10 میٹر (30 فٹ) تک لمبا ہو سکتا ہے۔
سن 1948ء تک خیال کِیا جاتا تھا کہ تاکاہی نامی اِس پرندے کی نسل ختم ہو گئی ہے۔
نیو زیلینڈ میں فرق فرق قسم کے حیرانکُن جانور پائے جاتے ہیں۔ یہاں ایسے پرندوں کی سب سے زیادہ اقسام پائی جاتی ہیں جو اُڑ نہیں سکتے اور جو دُنیا میں کسی اَور جگہ نہیں پائے جاتے۔ اِس ملک میں ایک ایسا جانور بھی پایا جاتا ہے جو 100 سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔ یہ جانور چھپکلی کی طرح کا ہوتا ہے اور اِسے تواتارا کہا جاتا ہے۔ نیو زیلینڈ کے مقامی ممالیہ جانوروں میں صرف چمگادڑوں کی کچھ اقسام اور چند بڑے سمندری جانور جیسے کہ وھیل اور ڈولفن شامل ہیں۔
یہوواہ کے گواہ نیو زیلینڈ میں تقریباً 120 سال سے تبلیغ کر رہے ہیں۔ وہ لوگوں کو کم از کم 19 زبانوں میں پاک کلام کی تعلیم دے رہے ہیں۔ اِن زبانوں میں کچھ پولینیشیائی زبانیں بھی شامل ہیں جیسے کہ ٹونگان، راروٹونگن، ساموائی اور نیوئن۔
ماؤری لوگ روایتی لباس میں رقص کر رہے ہیں۔