یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو17 نمبر 2 ص.‏ 3-‏7
  • نوجوانوں میں ڈپریشن—‏وجوہات اور حل

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • نوجوانوں میں ڈپریشن—‏وجوہات اور حل
  • جاگو!‏—‏2017ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • نوجوانوں میں ڈپریشن کی چند وجوہات
  • اپنی صحت کا خیال رکھیں
  • ڈپریشن کی اصل وجوہات
    جاگو!‏—‏2001ء
  • آپ کیسے مدد کر سکتے ہیں
    جاگو!‏—‏2001ء
  • علامات کو پہچاننا
    جاگو!‏—‏2001ء
جاگو!‏—‏2017ء
جاگو17 نمبر 2 ص.‏ 3-‏7
ایک لڑکا اپنے بستر پر بیٹھا ہے اور کافی اُداس نظر آ رہا ہے۔‏

سرِورق کا موضوع

نوجوانوں میں ڈپریشن—‏وجوہات اور حل

ایناa نامی ایک لڑکی کہتی ہے:‏ ”‏جب مجھے ڈپریشن ہوتا ہے تو میرا کچھ بھی کرنے کو دل نہیں چاہتا، وہ کام بھی نہیں جو مجھے بہت پسند ہیں۔ اُس وقت میرا دل کرتا ہے کہ مَیں بس سوئی رہوں۔ ڈپریشن کی حالت میں اکثر مجھے لگتا ہے کہ مَیں کسی کے پیار کے قابل نہیں ہوں، کسی کام کی نہیں ہوں اور دوسروں پر بوجھ ہوں۔“‏

جولیا نامی ایک لڑکی کہتی ہے:‏ ”‏مَیں نے خودکُشی کرنے کے بارے میں سوچا۔ مَیں مرنا نہیں چاہتی تھی۔ مَیں بس ڈپریشن سے چھٹکارا پانا چاہتی تھی۔ ویسے تو مَیں سب کا بہت خیال رکھتی ہوں لیکن جب مَیں ڈپریشن میں ہوتی ہوں تو مَیں کسی کی پرواہ نہیں کرتی۔“‏

اینا اور جولیا 13، 14 سال کی تھیں جب وہ پہلی بار ڈپریشن کا شکار ہوئیں۔ کچھ نوجوان شاید کبھی کبھار افسردگی محسوس کریں لیکن اینا اور جولیا کئی ہفتوں یا مہینوں تک ڈپریشن میں رہتی تھیں۔ اینا کہتی ہیں:‏ ”‏ڈپریشن کی حالت میں ایسے لگتا ہے جیسے آپ کسی گہری کھائی میں ہیں جہاں چاروں طرف اندھیرا ہے اور نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے دماغ نے کام کرنا بند کر دیا ہے اور اب آپ پہلے جیسے نہیں رہے۔“‏

اینا اور جولیا جس صورتحال سے گزریں، وہ آج‌کل بہت عام ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ نوجوانوں میں ڈپریشن خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ عالمی اِدارۂ‌صحت کے مطابق ڈپریشن ”‏10 سے 19 سال کی عمر کے لڑکوں اور لڑکیوں میں بیماریوں اور معذوری کی ایک بڑی وجہ ہے۔“‏

ایک شخص میں ڈپریشن کی علامات اُس وقت ظاہر ہو سکتی ہیں جب وہ نوجوانی میں قدم رکھتا ہے۔ شاید وہ بہت زیادہ یا بہت کم سونے لگے اور شاید اُس کی بھوک یا وزن بہت بڑھ جائے یا کم ہو جائے۔ شاید وہ مایوس اور اُداس رہنے لگے اور خود کو بالکل بے‌کار خیال کرنے لگے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ دوسروں سے ملنا جلنا چھوڑ دے، کسی کام پر دھیان نہ دے پائے، چیزوں کو یاد نہ رکھ پائے اور خودکُشی کرنے کے بارے میں سوچنے لگے یا خودکُشی کرنے کی کوشش کرے۔ ڈپریشن کی کچھ علامات ایسی بھی ہو سکتی ہیں جن کے بارے میں ڈاکٹر نہیں بتا سکتے کہ یہ کیوں ظاہر ہو رہی ہیں۔ جب ایک ماہرِنفسیات کو لگتا ہے کہ ایک شخص ڈپریشن میں مبتلا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ اُس میں ڈپریشن کی کون سی علامات ہفتوں تک رہتی ہیں اور اُس کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی ہیں۔‏

نوجوانوں میں ڈپریشن کی چند وجوہات

عالمی اِدارۂ‌صحت کے مطابق ڈپریشن کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جیسے کہ دوسروں کا برتاؤ، ذہنی دباؤ یا جسم میں ہونے والی تبدیلیاں۔‏

جسم میں ہونے والی تبدیلیاں۔‏ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ اگر ماں باپ میں سے کسی کو ڈپریشن ہے تو بچے بھی ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں۔ اِس کی وجہ وہ جینز ہوتے ہیں جو ماں باپ سے بچوں میں منتقل ہوتے ہیں اور بچوں کے دماغ میں ہونے والے کیمیائی عمل کو متاثر کرتے ہیں۔ جولیا کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ اِس کے علاوہ دل کی بیماریاں، ہارمونز میں ہونے والی تبدیلیاں اور لمبے عرصے تک منشیات، شراب یا کچھ خاص دوائیوں کا اِستعمال بھی ایک شخص کو ڈپریشن میں مبتلا کر سکتا ہے یا اُس کے ڈپریشن کو مزید بڑھا سکتا ہے۔‏b

ذہنی دباؤ۔‏ تھوڑا بہت ذہنی دباؤ صحت کے لیے فائدہ‌مند ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر ایک شخص حد سے زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار رہتا ہے تو یہ اُس کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ چونکہ ایک نوجوان کے ہارمونز میں تبدیلیاں ہو رہی ہوتی ہیں اِس لیے حد سے زیادہ ذہنی دباؤ اُسے آسانی سے ڈپریشن میں مبتلا کر سکتا ہے۔ لیکن ڈپریشن کی اصل وجوہات ابھی تک اِتنی واضح نہیں ہیں اور بہت سی باتیں مل کر ڈپریشن کا سبب بن سکتی ہیں جیسے کہ پہلے بتایا گیا ہے۔‏

ذہنی دباؤ کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں جو ڈپریشن کا سبب بن سکتی ہیں، مثلاً ماں باپ میں طلاق یا علیٰحدگی، کسی عزیز کی موت، جسمانی یا جنسی بدسلوکی، کوئی سنگین حادثہ، بیماری یا سیکھنے کی صلاحیت کی کمی جس کی وجہ سے ایک بچہ خود کو دھتکارا ہوا محسوس کرتا ہے۔ بچوں میں ڈپریشن کی ایک وجہ ماں باپ کی بڑی بڑی توقعات بھی ہو سکتی ہیں جیسے کہ یہ توقع کرنا کہ بچے سکول میں بہترین کارکردگی دِکھائیں۔ اِس کے علاوہ بچے تب بھی ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں جب اُنہیں ڈرایا دھمکایا جاتا ہے، جب وہ مستقبل کے بارے میں پریشان رہتے ہیں، جب وہ یہ سمجھ نہیں پاتے کہ اُن کے ماں باپ کس بات پر کیسا ردِعمل دِکھائیں گے یا جب اُن کے ماں باپ میں سے کوئی ڈپریشن کا شکار ہونے کی وجہ سے اُنہیں پیارومحبت نہیں دے پاتا۔ لیکن اگر کوئی بچہ ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے تو وہ اِس سے کیسے نکل سکتا ہے؟‏

اپنی صحت کا خیال رکھیں

عموماً ڈپریشن کا علاج دوائیوں اور کسی ماہرِنفسیات کی مدد سے کِیا جاتا ہے۔‏c یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏صحت‌مند لوگوں کو حکیم کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ بیمار لوگوں کو۔“‏ (‏مرقس 2:‏17‏)‏ بیماری جسم کے کسی بھی حصے کو متاثر کر سکتی ہے جس میں دماغ بھی شامل ہے۔ چونکہ ہمارے جسم اور دماغ کا آپس میں گہرا تعلق ہے اِس لیے ایک شخص اپنے طرزِزندگی کو بدلنے سے بھی ڈپریشن سے نکل سکتا ہے۔‏

اگر آپ ڈپریشن میں مبتلا ہیں تو اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کا خیال رکھنے کے لیے ضروری اِقدام اُٹھائیں۔ مثال کے طور پر صحت‌بخش غذا کھائیں، نیند پوری کریں اور باقاعدگی سے ورزش کریں۔ ورزش سے آپ کے جسم میں ایسے کیمیکل خارج ہوں گے جو آپ کے مزاج کو خوش‌گوار بنائیں گے، آپ کی توانائی کو بڑھائیں گے اور جن کی وجہ سے آپ کو اچھی نیند آئے گی۔ اِس بات کا جائزہ لیں کہ کن باتوں کی وجہ سے آپ کو ڈپریشن ہوتا ہے اور اِن سے بچنے کی کوشش کریں۔ اِس کے ساتھ ساتھ اُن علامات کو بھی پہچاننے کی کوشش کریں جو ڈپریشن سے پہلے ظاہر ہوتی ہیں۔ پہلے سے سوچیں کہ جب ایسی علامات ظاہر ہوں گی تو آپ کیا کریں گے۔ کسی قابلِ‌بھروسا شخص سے بات کریں۔ آپ کے گھر والے اور دوست ڈپریشن پر قابو پانے میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں۔ شاید وہ آپ میں ڈپریشن سے پہلے کی علامات دیکھتے ہی کچھ ایسے اِقدام اُٹھائیں جن کے ذریعے آپ ڈپریشن میں مبتلا ہونے سے بچ جائیں۔ اپنے خیالات اور احساسات کو ایک ڈائری میں لکھیں۔ جولیا کو بھی ایسا کرنے سے کافی فائدہ ہوا۔ سب سے بڑھ کر خدا سے رہنمائی مانگیں۔ یوں آپ زندگی کے بارے میں مثبت سوچ رکھنے کے قابل ہوں گے۔ یسوع مسیح نے کہا:‏ ”‏وہ لوگ خوش رہتے ہیں جن کو احساس ہے کہ اُنہیں خدا کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔“‏—‏متی 5:‏3‏۔‏

ایک لڑکی اپنے ماں باپ کے ساتھ کھانا کھا رہی ہے، دوڑ رہی ہے اور سو رہی ہے۔‏

صحت‌بخش غذا کھائیں، باقاعدگی سے ورزش کریں اور نیند پوری کریں۔‏

ایک لڑکی بائبل پڑھ رہی ہے۔‏

خدا سے رہنمائی حاصل کرنے سے آپ کو بہت تسلی ملے گی۔‏

اینا اور جولیا نے یسوع مسیح کی اِس بات پر عمل کِیا جس سے اُنہیں بہت فائدہ ہوا۔ اینا کہتی ہیں:‏ ”‏مَیں ایسے کام کرتی ہوں جن سے مَیں خدا کی قربت میں رہ سکوں۔ اِس طرح مجھے یہ ترغیب ملتی ہے کہ مَیں اپنی مشکلوں کے بارے میں سوچتے رہنے کی بجائے دوسروں کے بارے میں سوچوں۔ یہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا لیکن اب مَیں پہلے سے کہیں زیادہ خوش ہوں۔“‏ جولیا کو دُعا کرنے اور پاک کلام کو پڑھنے سے بہت تسلی ملتی ہے۔ وہ کہتی ہیں:‏ ”‏خدا کو اپنے دل کا حال بتانے سے مجھے بہت سکون ملتا ہے۔“‏ اُنہوں نے یہ بھی کہا:‏ ”‏پاک کلام کو پڑھ کر مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ خدا میری بہت قدر کرتا ہے اور اُسے مجھ سے بہت پیار ہے۔ پاک کلام کو پڑھنے سے مجھے ایک اچھے مستقبل کی اُمید ملتی ہے۔“‏

ہمارا خالق یہوواہ خدا اِس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ ہماری سوچ اور احساسات پر اِن باتوں کا گہرا اثر ہوتا ہے کہ ہماری پرورش کیسے ہوئی ہے، ہماری زندگی میں کیا کچھ ہوا ہے اور ہمیں ماں باپ کی طرف سے کون سی خصوصیات ملی ہیں۔ اِس وجہ سے وہ ہمیں ضروری مدد اور تسلی دے سکتا ہے۔ شاید وہ اُن لوگوں کے ذریعے ہماری مدد کرے جو ہمارے ہمدرد ہیں اور ہماری صورتحال کو سمجھتے ہیں۔ اِس کے علاوہ پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ ایک ایسا وقت آئے گا جب خدا ہمیں ہر طرح کی بیماری سے شفا دے گا جس میں ڈپریشن بھی شامل ہے۔ پاک کلام میں لکھا ہے:‏ ”‏وہاں کے باشندوں میں بھی کوئی نہ کہے گا کہ مَیں بیمار ہوں۔“‏—‏یسعیاہ 33:‏24‏۔‏

خدا نے اپنے کلام میں وعدہ کِیا ہے کہ ”‏وہ [‏ہمارے]‏ سارے آنسو پونچھ دے گا اور نہ موت رہے گی، نہ ماتم، نہ رونا، نہ درد۔“‏ (‏مکاشفہ 21:‏4‏)‏ بے‌شک یہ الفاظ بہت تسلی‌بخش ہیں۔ اگر آپ اِنسانوں اور زمین کے سلسلے میں خدا کے مقصد کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں تو ہماری ویب‌سائٹ jw.org پر جائیں۔ اِس ویب‌سائٹ پر آپ کتابِ‌مُقدس کے ایک آسان ترجمے کو پڑھ سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ اِس پر مختلف موضوعات پر مضامین بھی دستیاب ہیں جن میں ڈپریشن بھی شامل ہے۔‏

a فرضی نام اِستعمال کیے گئے ہیں۔‏

b بہت سی بیماریاں، دوائیاں اور منشیات ایک شخص کے مزاج پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں یہ ضروری ہے کہ وہ کسی ڈاکٹر سے اپنا معائنہ کرائے۔‏

c ‏”‏جاگو!‏“‏ کے ناشرین کوئی خاص علاج کروانے کا مشورہ نہیں دیتے۔‏

والدین کے لیے کچھ مشورے

  • یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ اگر آپ کا بچہ ڈپریشن کا شکار ہے تو شاید اُسے اپنے احساسات کا اِظہار کرنا مشکل لگے یا شاید وہ یہ نہ سمجھ پائے کہ اُس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ڈپریشن کی علامات سے واقف نہ ہو۔‏

  • ڈپریشن کے دوران نوجوانوں کا ردِعمل بڑوں سے فرق ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کے بچے کا رویہ اور مزاج بدل جائے، وہ بہت زیادہ یا بہت کم کھانے لگے، بہت زیادہ یا بہت کم سونے لگے یا لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دے۔ اِن تبدیلیوں کو نظرانداز نہ کریں، خاص طور پر اگر یہ ہفتوں تک رہیں۔‏

  • اگر آپ کے بچے کی باتوں یا کاموں سے لگے کہ وہ خودکُشی کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے تو اِنہیں نظرانداز نہ کریں۔‏

  • اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا بچہ واقعی ڈپریشن کا شکار ہے تو ڈاکٹر سے رُجوع کریں۔‏

  • اپنے بچے کی مدد کریں کہ وہ ڈاکٹر کی بتائی ہوئی دوائیاں باقاعدگی سے لے اور اُس کی ہدایات پر عمل کرے۔ اگر آپ کو محسوس ہو کہ بچے کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آ رہی یا دوائیوں کی وجہ سے اُس کی صحت کو کوئی نقصان ہو رہا ہے تو اِس بارے میں ڈاکٹر کو بتائیں۔‏

  • گھر میں کھانا کھانے، ورزش کرنے اور سونے کا اچھا معمول بنائیں۔‏

  • اپنے بچے کے ساتھ کُھل کر بات‌چیت کریں اور ڈپریشن کی وجہ سے پیدا ہونے والے منفی احساسات پر قابو پانے میں اُس کی مدد کریں۔‏

  • ڈپریشن کی وجہ سے ایک شخص تنہائی یا شرمندگی محسوس کر سکتا ہے یا خود کو بے‌کار خیال کر سکتا ہے۔ لہٰذا اپنے بچے کو اپنی محبت کا یقین دِلاتے رہیں۔‏

منفی احساسات پر قابو پانے کے لیے تیاری کریں

منفی احساسات پر قابو پانے کے لیے کچھ چیزیں:‏ ایسی تصویریں، گانے، آیتیں، مضامین اور یادیں جن سے حوصلہ ملے۔‏

اگر آپ ڈپریشن کا شکار ہیں تو اپنے آس‌پاس کچھ ایسی چیزیں رکھیں جو اپنے خیالات اور احساسات پر قابو پانے میں آپ کی مدد کر سکتی ہیں۔ ایسی کچھ چیزوں کا ذکر اِس صفحے پر کِیا گیا ہے۔‏

  • ایسے لوگوں کے فون نمبر جن سے آپ اُس وقت بات کر سکیں جب آپ اُداس ہوں

  • ایسے گانے جن سے آپ کا حوصلہ بڑھے

  • ایسی کہاوتیں اور مضامین جن سے آپ کو ہمت ملے

  • ایسی آیتوں کی فہرست جن سے آپ کو تسلی اور حوصلہ ملے جیسے کہ زبور 34:‏18؛‏ 51:‏17؛‏ 94:‏19؛‏ فِلپّیوں 4:‏6، 7

  • ایسی چیزیں جو آپ کو اُن لوگوں کی یاد دِلائیں جو آپ سے پیار کرتے ہیں

  • ایک ڈائری جس میں آپ نے اپنے اچھے خیالات اور خوش‌گوار یادوں کے بارے میں لکھا ہو

لڑکیوں میں ڈپریشن

لڑکوں کی نسبت لڑکیاں ڈپریشن کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ اِس کی ایک وجہ وہ ذہنی دباؤ ہو سکتا ہے جو جسمانی، جذباتی یا جنسی بدسلوکی کی وجہ سے ہوتا ہے اور جس کا لڑکیوں کو اکثر سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پروفیسر شارون ہرش نے لکھا:‏ ”‏جب ایک شخص کو باہر کی خوف‌ناک دُنیا کے ساتھ ساتھ اپنے اندر کی دُنیا سے بھی لڑنا پڑتا ہے تو وہ سخت اُلجھن کا شکار ہو جاتا ہے اور ٹوٹ جاتا ہے۔“‏ اِس کے علاوہ لڑکیوں پر اِس بات کا بھی گہرا اثر ہو سکتا ہے کہ فلموں اور ڈراموں وغیرہ میں ایک خوب‌صورت اور پُرکشش جسم کو کس طرح پیش کِیا جاتا ہے‏۔ اُن لڑکیوں کے ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا اِمکان زیادہ ہوتا ہے جو یہ سمجھتی ہیں کہ وہ اِتنی خوب‌صورت نہیں ہیں یا جن کو اپنے دوستوں میں مقبول ہونے کی فکر لگی رہتی ہے۔‏d

d اِس سلسلے میں ‏”‏جاگو!‏“‏ نمبر 3 2016ء میں مضمون ”‏پاک صحیفوں کی روشنی میں—‏جسمانی خوب‌صورتی‏“‏ کو دیکھیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں