یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو15 اکتوبر ص.‏ 14-‏15
  • ملیریا—‏کیا بچاؤ ممکن ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ملیریا—‏کیا بچاؤ ممکن ہے؟‏
  • جاگو!‏—‏2015ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • 1 ملیریا کیا ہے؟‏
  • 2 ملیریا کیسے ہوتا ہے؟‏
  • 3 آپ ملیریا سے کیسے بچ سکتے ہیں؟‏
  • مزید حفاظتی تدابیر
  • نازک پروں پر موت
    جاگو!‏—‏1993ء
  • بیماری سے پاک دُنیا
    جاگو!‏—‏2004ء
  • شدت میں ازسرِنو اضافہ کیوں؟‏
    جاگو!‏—‏2003ء
  • حشرات سے لگنے والی بیماریاں—‏ایک بڑھتا ہوا مسئلہ
    جاگو!‏—‏2003ء
مزید
جاگو!‏—‏2015ء
جاگو15 اکتوبر ص.‏ 14-‏15

ملیریا—‏کیا بچاؤ ممکن ہے؟‏

عالمی اِدارۂ‌صحت کے مطابق 2013ء میں 19 کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو ملیریا ہوا اور اِن میں سے تقریباً 5 لاکھ 84 ہزار لوگ ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں سے 80 فیصد 5 سال سے کم عمر بچے تھے۔ دُنیا بھر میں تقریباً 100 ملکوں میں 3 ارب 20 کروڑ لوگ ملیریا میں مبتلا ہونے کے خطرے میں ہیں۔‏

1 ملیریا کیا ہے؟‏

ملیریا طفیلی جراثیم کی وجہ سے ہوتا ہے جو کسی جان‌دار کے جسم میں داخل ہو کر وہاں بسیرا کر لیتے ہیں۔ ملیریا کی کچھ علامات یہ ہیں:‏ بخار، کپکپی، بار بار پسینہ آنا، سردرد، جسم‌درد، متلی اور اُلٹیاں۔ کبھی کبھار یہ علامتیں 48 سے 72 گھنٹے کے بعد دوبارہ ظاہر ہوتی ہیں اور ایسا بار بار ہوتا ہے۔ لیکن اِس کا اِنحصار اِس بات پر ہے کہ مریض کو ملیریا کس طرح کے جراثیم سے ہوا ہے اور وہ کتنے عرصے سے اِس مرض میں مبتلا ہے۔‏

2 ملیریا کیسے ہوتا ہے؟‏

  1. ایک ڈائیگرام:‏ ملیریا کے جراثیم اِنسان کے جسم میں کیسے پھیلتے ہیں۔‏

    ملیریا کے جراثیم ایک خاص قسم کی مادہ مچھر کے کاٹنے سے خون میں داخل ہوتے ہیں۔‏

  2. جراثیم خون کے ذریعے جگر کے خلیوں میں داخل ہو جاتے ہیں جہاں اِن کی تعداد بڑھتی ہے۔‏

  3. جب جگر کے خلیے پھٹتے ہیں تو ملیریا کے جراثیم خون کے سُرخ خلیوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ یہاں اِن کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔‏

  4. جب ملیریا کے جراثیم خون کے سُرخ خلیوں میں داخل ہوتے ہیں تو یہ خلیے پھٹ جاتے ہیں۔‏

    جب خون کے سُرخ خلیے پھٹتے ہیں تو ملیریا کے جراثیم دوسرے سُرخ خلیوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔‏

  5. یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ عموماً جب بھی خون کے سُرخ خلیے پھٹتے ہیں، ملیریا کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔‏

3 آپ ملیریا سے کیسے بچ سکتے ہیں؟‏

اگر آپ ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں ملیریا عام ہے تو یہ کریں:‏

  • مچھردانی اِستعمال کریں۔ دھیان رکھیں کہ .‏ .‏ .‏

    • مچھردانی پر مچھرمار دوا لگی ہو۔‏

    • مچھردانی پھٹی اور سوراخ‌دار نہ ہو۔‏

    • مچھردانی کے سرے پوری طرح سے بستر یا گدے کے نیچے گھسے ہوں۔‏

  • اپنے گھر میں مچھرمار دوائی کا اسپرے کریں۔‏

  • ہو سکے تو دروازوں اور کھڑکیوں پر جالی لگائیں۔ اےسی یا پنکھے اِستعمال کریں تاکہ مچھر بھاگ جائیں۔‏

  • ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں جو پورے جسم کو ڈھانپے ہوں۔‏

  • ایسی جگہوں پر نہ جائیں جہاں جھاڑیاں اور کھڑا پانی ہو کیونکہ وہاں مچھر منڈلاتے اور انڈے دیتے ہیں۔‏

  • ملیریا ہونے کی صورت میں جلدازجلد اپنا علاج کروائیں۔‏

ایک ڈائیگرام:‏ ملیریا کے جراثیم مچھر سے اِنسان میں اور اِنسان سے مچھر میں کیسے منتقل ہوتے ہیں۔‏

اِنسانوں میں ملیریا اُن مچھروں سے منتقل ہوتا ہے جن میں ملیریا کے جراثیم ہوتے ہیں۔ اِسی طرح جب ایک مچھر کسی ایسے اِنسان کو کاٹتا ہے جس میں ملیریا کے جراثیم ہیں تو جراثیم اُس میں داخل ہو جاتے ہیں۔ پھر جب یہ مچھر کسی دوسرے اِنسان کو کاٹتا ہے تو اُس اِنسان میں ملیریا کے جراثیم داخل ہو جاتے ہیں۔ اور یوں یہ چکر جاری رہتا ہے۔‏

اگر آپ ایک ایسے ملک میں جانے والے ہیں جہاں ملیریا عام ہے تو یہ کریں:‏

  • یہ دیکھیں کہ اُس ملک میں ملیریا کے کون سے جراثیم پائے جاتے ہیں کیونکہ ملیریا کی دوائی اِس کے مطابق لینی پڑتی ہے۔ اپنے ڈاکٹر سے بھی مشورہ لیں کہ آپ کے لیے ملیریا کی کون سی دوائی ٹھیک رہے گی۔‏

  • اُس ملک میں رہتے وقت اِس مضمون میں دی گئی ہدایتوں پر عمل کریں۔‏

  • ملیریا ہونے کی صورت میں جلدازجلد اپنا علاج کروائیں۔‏ یاد رکھیں کہ ملیریا کی علامات مچھر کے کاٹنے کے ایک سے چار ہفتے بعد تک ظاہر ہو سکتی ہیں۔‏

مزید حفاظتی تدابیر

  1. حکومت صحت کے حوالے سے جو سہولیات فراہم کرتی ہے، اُن سے بھرپور فائدہ اُٹھائیں۔‏

  2. صرف معیاری دوائیاں اِستعمال کریں۔ (‏ناقص یا جعلی دوائیوں سے مرض طول پکڑ سکتا ہے اور جان‌لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔)‏

  3. گھر میں اور گھر کے اِردگِرد اُن جگہوں کو ختم کریں جہاں مچھر انڈے دے سکتے ہیں۔‏

اگر آپ ایک ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں ملیریا عام ہے یا آپ حال ہی میں وہاں سے آئے ہیں تو ملیریا کی اِن علامات کو نظرانداز نہ کریں:‏

  • تیز بخار

  • بار بار پسینہ آنا

  • کپکپی

  • سردرد

  • جسم‌درد

  • شدید تھکاوٹ

  • متلی

  • اُلٹیاں

  • دست

اگر ملیریا کا جلد علاج نہ کروایا جائے تو خون کی شدید کمی ہو سکتی ہے اور جان بھی جا سکتی ہے۔ اِس سے پہلے کہ مریض کی حالت مزید بگڑ جائے، اُس کا فوراً علاج کروائیں، خاص طور پر اگر وہ چھوٹا بچہ یا حاملہ عورت ہو۔‏a

a مزید معلومات کے لیے جاگو!‏ جنوری-‏مارچ 2012ء، صفحہ 26، 27 کو دیکھیں۔‏

کیا آپ جانتے ہیں؟‏

افریقہ کا نقشہ جس پر ایک گھڑی بنی ہوئی ہے۔‏

افریقہ میں ہر منٹ میں ایک بچہ ملیریا کی وجہ سے ہلاک ہوتا ہے۔‏

  • حاملہ عورتوں اور بچوں کے لیے ملیریا زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔‏

  • افریقہ میں ہر منٹ میں ایک بچہ ملیریا کی وجہ سے ہلاک ہوتا ہے۔‏

  • کچھ لوگوں کو خون لگوانے کی وجہ سے ملیریا ہوا ہے۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں