یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو14 جنوری ص.‏ 8-‏11
  • تین چیزیں جو خریدی نہیں جا سکتیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • تین چیزیں جو خریدی نہیں جا سکتیں
  • جاگو!‏—‏2014ء
  • ملتا جلتا مواد
  • کیا پیسہ ہی سب کچھ ہے؟‏
    جاگو!‏—‏2015ء
  • کیا پیسہ ہر طرح کی بُرائی کی جڑ ہے؟‏
    پاک کلام سے متعلق سوال و جواب
  • آپ پیسوں کو سمجھ‌داری سے کیسے اِستعمال کر سکتے ہیں؟‏
    اپنی گھریلو زندگی کو خوش‌گوار بنائیں
  • آپکو اپنی جان پیاری ہے یا پیسہ؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
مزید
جاگو!‏—‏2014ء
جاگو14 جنوری ص.‏ 8-‏11

سرِورق کا موضوع

تین چیزیں جو خریدی نہیں جا سکتیں

دُنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں پتہ ہوتا ہے کہ اُن کے ہاتھ سے نوکری جانے والی ہے، وہ بے‌گھر ہونے والے ہیں یا اُن کی پنشن رُکنے والی ہے لیکن پھر بھی اُن کے سر پر نت‌نئی چیزیں خریدنے کا جنون سوار رہتا ہے اور وہ ہر قیمت پر اُنہیں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‏

ایسے لوگ بڑی آسانی سے اُن اِشتہاربازوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں جو اُنہیں نیا گھر، نئی گاڑی اور کسی مشہور کمپنی کے کپڑے خریدنے پر اُکساتے ہیں۔ یہ اِشتہارباز لوگوں سے کہتے ہیں:‏ ”‏اگر آپ کے پاس کیش نہیں ہے تو کوئی مسئلہ نہیں، آپ کریڈٹ کارڈ کے ذریعے اپنی پسند کی چیزیں خرید سکتے ہیں۔“‏ بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ وہ بس امیر نظر آئیں، بھلے وہ قرضے میں ہی کیوں نہ ڈوبے ہوں۔‏

لیکن یہ لوگ زیادہ دیر تک حقیقت سے مُنہ نہیں پھیر سکتے۔ اِس سلسلے میں اِس بیان پر غور کریں:‏ ”‏امیر نظر آنے کے لئے کوئی مہنگی چیز اُدھار پر خریدنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے تسکین حاصل کرنے کے لئے کوکین کا نشہ کرنا۔ یہ دونوں چیزیں وقتی طور پر بہت سستی اور فائدہ‌مند لگتی ہیں لیکن آخرکار یہ ایک شخص کی جیب خالی کر دیتی ہیں اور اُسے پریشانی کے بھنور میں پھنسا دیتی ہیں۔“‏—‏کتاب نفس‌پرستی کی وبا (‏انگریزی میں دستیاب)‏۔‏

پاک کلام میں مال‌ودولت پر ”‏شیخی“‏ بگھارنے سے خبردار کِیا گیا ہے۔ (‏1-‏یوحنا 2:‏16‏)‏ دراصل مال‌ودولت کو حاصل کرنے کا جنون ایک شخص کی توجہ زندگی کی سب سے اہم چیزوں سے ہٹا دیتا ہے۔ یہ ایسی چیزیں ہیں جنہیں پیسے سے نہیں خریدا جا سکتا۔ یہ کون‌سی چیزیں ہیں؟ آئیں، اِن میں سے تین پر غور کریں۔‏

1.‏ گھر والوں کی قربت

امریکہ میں رہنے والی 17 سالہ کرسٹینa کو لگتا ہے کہ اُن کے والد پیسے اور اپنی ملازمت کو حد سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏ہمارے ابو نے ہمیں ضرورت کی ہر چیز دی ہے بلکہ ضرورت سے بھی زیادہ۔ لیکن وہ خود ہمارے ساتھ زیادہ وقت نہیں گزارتے کیونکہ وہ کام کی وجہ سے ہمیشہ گھر سے باہر رہتے ہیں۔ مانا کہ اُن کی ملازمت ہی ایسی ہے مگر اُن کے گھر والوں کو بھی اُن کی ضرورت ہے۔“‏

ذرا سوچیں:‏ کرسٹین کے والد مستقبل میں شاید کس بات پر پچھتائیں؟ مال‌ودولت کو حد سے زیادہ اہمیت دینے کی وجہ سے اُن کا اپنی بیٹی کے ساتھ رشتہ کیسے متاثر ہو رہا ہے؟ اُن کے گھر والوں کو پیسے سے بھی زیادہ کس چیز کی ضرورت ہے؟‏

پاک کلام کے اِن اصولوں پر غور کریں:‏

  • ”‏پیسوں کا لالچ ہر غلط کام کا سرچشمہ ہے۔ کئی لوگوں نے اِسی لالچ کے باعث .‏ .‏ .‏ اپنے آپ کو بہت اذیت پہنچائی ہے۔“‏—‏1-‏تیمتھیس 6:‏10‏، اُردو جیو ورشن۔‏

  • ”‏جہاں محبت ہے وہاں سبزی کا سالن بہت ہے، جہاں نفرت ہے وہاں موٹے‌تازے بچھڑے کی ضیافت بھی بے‌فائدہ ہے۔“‏—‏امثال 15:‏17‏، اُردو جیو ورشن۔‏

خلاصہ:‏ پیسوں سے گھر والوں کی قربت نہیں خریدی جا سکتی۔ اِسے صرف اُس صورت میں حاصل کِیا جا سکتا ہے جب ایک شخص اپنے گھر والوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے اور اُنہیں پیار اور توجہ دیتا ہے۔—‏کلسیوں 3:‏18-‏21‏۔‏

2.‏ حقیقی تحفظ

سترہ سالہ سارہ کہتی ہیں:‏ ”‏میری امی مجھ سے کہتی رہتی ہیں کہ کسی ایسے آدمی سے شادی کرو جس کے پاس بہت سارا پیسہ ہو۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ کوئی ایسا کام سیکھو جس سے تمہیں اچھی نوکری ملے تاکہ اگر شوہر کی طرف سے پیسے آنا بند ہو جائیں تو تُم خود بھی اچھے خاصے پیسے کما سکو۔ امی خود بھی ہر وقت بس یہی سوچتی رہتی ہیں کہ اُنہیں اَور پیسہ کہاں سے مل سکتا ہے۔“‏

ذرا سوچیں:‏ مستقبل کے حوالے سے آپ کو کن باتوں کے بارے میں ابھی سے فکر کرنی چاہئے؟ کن باتوں کے بارے میں ابھی سے فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟ آپ اِس بات کا اندازہ کیسے لگا سکتے ہیں کہ کن باتوں کے بارے میں فکر کرنا ابھی ضروری ہے؟ سارہ کی امی کو اپنی بیٹی کو مالی تحفظ کے سلسلے میں کیا مشورہ دینا چاہئے تھا؟‏

پاک کلام کے اِن اصولوں پر غور کریں:‏

  • ”‏اپنے واسطے زمین پر مال جمع نہ کرو جہاں کیڑا اور زنگ خراب کرتا ہے اور جہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں۔“‏—‏متی 6:‏19‏۔‏

  • ”‏تُم یہ .‏ .‏ .‏ نہیں جانتے کہ کل کیا ہوگا؟“‏—‏یعقوب 4:‏14‏، نیو اُردو بائبل ورشن۔‏

خلاصہ:‏ کوئی بھی شخص پیسوں کا انبار لگا کر اپنا مستقبل محفوظ نہیں کر سکتا۔ پیسہ تو چوری ہو سکتا ہے۔ یہ بیماریوں یا موت سے بھی نہیں بچا سکتا۔ (‏واعظ 7:‏12‏)‏ پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ ایک شخص خدا اور اُس کے وعدوں کے بارے میں جاننے سے ہی حقیقی تحفظ حاصل کر سکتا ہے۔—‏یوحنا 17:‏3‏۔‏

3.‏ ذہنی سکون

چوبیس سالہ تانیہ کہتی ہیں:‏ ”‏میرے والدین نے مجھے بچپن سے ہی سادہ زندگی گزارنا سکھایا۔ حالانکہ ہمارے پاس بس ضرورت کی چیزیں تھیں لیکن میرا اور میری جڑواں بہن کا بچپن بہت ہی ہنسی‌خوشی گزرا۔“‏

ذرا سوچیں:‏ صرف ضرورت کی چیزوں پر مطمئن رہنا مشکل کیوں ہو سکتا ہے؟ آپ پیسے کو اُس کی جگہ پر رکھنے کے سلسلے میں اپنے گھر والوں کے لئے کیسی مثال قائم کر رہے ہیں؟‏

پاک کلام کے اِن اصولوں پر غور کریں:‏

  • ”‏اگر ہمارے پاس کھانے پہننے کو ہے تو اُسی پر قناعت کریں۔“‏—‏1-‏تیمتھیس 6:‏8‏۔‏

  • ”‏اُن لوگوں کو خوشی حاصل ہے جن کو احساس ہے کہ اُنہیں خدا کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔“‏—‏متی 5:‏3‏، نیو ورلڈ ٹرانسلیشن۔‏

خلاصہ:‏ زندگی میں مال‌ودولت ہی سب کچھ نہیں ہے۔ اِسی لئے پاک کلام میں لکھا ہے کہ ”‏کسی کی زندگی اُس کے مال کی کثرت پر موقوف نہیں۔“‏ (‏لوقا 12:‏15‏)‏ اِنسان کو ذہنی سکون تب ہی حاصل ہو سکتا ہے جب اُسے اِس طرح کے اہم سوالوں کے جواب مل جاتے ہیں:‏

  • ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے؟‏

  • اِنسانوں کا مستقبل کیسا ہوگا؟‏

  • مَیں خدا کی قربت حاصل کرنے کے لئے کیا کر سکتا ہوں؟‏

اِس رسالے کو یہوواہ کے گواہوں نے شائع کِیا ہے۔ وہ آپ کو اِن سوالوں کے جواب دِکھانے کو تیار ہیں۔‏

a اِس مضمون میں فرضی نام اِستعمال کئے گئے ہیں۔‏

کیا پیسہ خوشی کا راز ہے؟‏

کتاب نفس‌پرستی کی وبا میں لکھا ہے:‏ ”‏دیکھنے میں آیا ہے کہ جو لوگ مال‌ودولت کے پیچھے بھاگتے ہیں، اُن میں سے بہت سے لوگوں کو خوشی تو کم لیکن پریشانی زیادہ ملتی ہے۔ یہاں تک کہ جو لوگ زیادہ پیسہ حاصل کرنے کی صرف خواہش رکھتے ہیں، وہ بھی نفسیاتی مسائل کا شکار رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو صحت کے مسائل کی بھی زیادہ شکایت رہتی ہے جیسے کہ خراب گلا، کمردرد اور سردرد۔ اکثر ایسے لوگ حد سے زیادہ شراب پیتے ہیں اور منشیات کا اِستعمال کرتے ہیں۔ لگتا ہے کہ زیادہ پیسہ حاصل کرنے کی چاہت لوگوں کی خوشی کو تباہ کر دیتی ہے۔“‏

بدلتا ہوا رُجحان

‏”‏سن 1960ء سے 1970ء کے لگ‌بھگ جب طالبِ‌علموں سے کالج میں تعلیم حاصل کرنے کی وجہ پوچھی گئی تو زیادہ‌تر نے کہا کہ وہ اِس لئے کالج میں پڑھ رہے ہیں کیونکہ وہ ایک پڑھا لکھا شخص بننا چاہتے ہیں یا زندگی گزارنے کے سلسلے میں اپنے لئے اصول قائم کرنا چاہتے ہیں۔ صرف چند طالبِ‌علموں نے کہا کہ وہ کالج میں اِس لئے پڑھ رہے ہیں تاکہ وہ زیادہ پیسہ کما سکیں۔ سن 1990ء سے زیادہ‌تر طالبِ‌علموں کا کہنا ہے کہ کالج میں پڑھنے کی سب سے بڑی وجہ زیادہ پیسہ کمانا ہے۔ .‏ .‏ .‏ دیکھا گیا ہے کہ جب سے طالبِ‌علموں کا کالج جانے کا مقصد بدلا ہے تب سے ایسے طالبِ‌علموں کی شرح بڑھ گئی ہے جو ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں یا خودکُشی کرتے ہیں۔“‏—‏ڈاکٹر میڈلین لوین کی کتاب، کامیابی کی قیمت (‏انگریزی میں دستیاب)‏۔‏

‏”‏خریداری بھی علاج کا ذریعہ بن گئی“‏

ڈاکٹر میڈلین لوین کے مطابق ”‏خریداری بھی علاج کا ذریعہ بن گئی ہے“‏ کیونکہ خریداری کرنے سے اُن لوگوں کو بڑا سکون ملتا ہے جنہیں اپنے گھر والوں، معاشرے اور مذہب کی طرف سے خوشی اور اِطمینان نہیں ملا۔ ڈاکٹر لوین نے اپنی کتاب کامیابی کی قیمت میں لکھا:‏ ”‏کچھ لوگوں کو خریداری کرنے سے اِس لئے خوشی ملتی ہے کیونکہ ایک چیز خریدنے یا نہ خریدنے کا فیصلہ وہ خود کر سکتے ہیں اور یوں اُنہیں لگتا ہے کہ سب کچھ اُن کی مٹھی میں ہے۔ لیکن یہ صرف اُن کا بھرم ہوتا ہے۔ .‏ .‏ .‏ دراصل خریدار اُن کمپنیوں اور اِشتہاربازوں کی مٹھی میں ہوتا ہے جو گاہکوں کو یہ دھوکا دیتے ہیں کہ اُن کی چیزیں خریدنے سے گاہک کو خوشی ملے گی اور اُس کا فائدہ ہوگا۔“‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں