یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو12 جنوری ص.‏ 28
  • پرندوں کے انڈے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • پرندوں کے انڈے
  • جاگو!‏—‏2012ء
  • ملتا جلتا مواد
  • انسانی زندگی کا آغاز کب ہوتا ہے؟‏
    جاگو!‏—‏2009ء
  • اِس شمارے میں
    جاگو!‏—‏2012ء
جاگو!‏—‏2012ء
جاگو12 جنوری ص.‏ 28

کیا یہ خالق کی کاریگری ہے؟‏

پرندوں کے انڈے

● پرندے کے انڈے کو ”‏سب سے حیران‌کُن پیکٹ“‏ کہا گیا ہے۔ اِس کی کیا وجہ ہے؟‏

غور کریں:‏ مُرغی کے انڈے کا چھلکا کیلشیم سے بنا ہوتا ہے۔ دیکھنے میں تو ایسا لگتا ہے کہ اِس کے اندر کچھ نہیں جا سکتا لیکن اِس کی سطح پر تقریباً ۸۰۰۰ چھوٹے‌چھوٹے سوراخ ہوتے ہیں۔ اِن سوراخوں کے ذریعے آکسیجن انڈے میں داخل ہوتی ہے اور کاربن ڈائی‌آکسائیڈ باہر نکلتی ہے۔ اِس طرح انڈے میں جنین یعنی چوزہ زندہ رہتا ہے۔ چھلکے کے نیچے کچھ جھلیاں ہوتی ہیں۔ چھلکے اور اِن جھلیوں کی وجہ سے جنین جراثیم سے محفوظ رہتا ہے۔ انڈے کی سفیدی میں البومین موجود ہوتا ہے۔ البومین جیلی کی طرح ہوتا ہے اور اِس لئے وہ جھٹکوں کو جذب کر لیتا ہے۔ یوں انڈا نقصان سے محفوظ رہتا ہے۔‏

سائنس‌دان انڈے کی بناوٹ کی نقل کرکے ایسے ڈبے تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن میں پھل جھٹکوں، جراثیم اور کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رہیں۔ لیکن ایک سائنس‌دان نے لکھا:‏ ”‏قدرت کی نقل کرنا اِتنا آسان کام نہیں ہے۔“‏ ابھی تک جو ڈبے تیار کئے گئے ہیں، اُس سائنس‌دان کے مطابق وہ ماحول کے لئے نقصان‌دہ ہیں۔—‏رسالہ ویوائی۔‏

آپ کا کیا خیال ہے؟‏ کیا چوزے کو محفوظ رکھنے والا یہ ”‏سب سے حیران‌کُن پیکٹ“‏ خودبخود وجود میں آیا ہے؟ یا پھر کیا یہ خالق کی کاریگری ہے؟‏

‏[‏صفحہ ۲۸ پر ڈائیگرام]‏

‏(‏تصویر کے لئے چھپے ہوئے صفحے کو دیکھیں)‏

انڈے کی بناوٹ

چھلکا

زردی

کلازہ (‏جو زردی کو اُس کی جگہ پر رکھتا ہے)‏

بیرونی جھلی

اندرونی جھلی

جنین کی ابتدا

پتلا البومین

گاڑھا البومین

ہوا کا خلیہ

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں