نوجوانوں کا سوال
مجھے اُن ویبسائٹس کے متعلق کیا جاننا چاہئے جن پر دوستوں سے رابطہ کِیا جاتا ہے؟ (دوسرا حصہ)
نیچے دی گئی باتوں پر اُن کی اہمیت کے مطابق نمبر لکھیں۔
․․․․․ ذاتی معلومات کی حفاظت
․․․․․ میرا وقت
․․․․․ نیکنامی
․․․․․ میری دوستیاں
آپ نے اِن میں سے کس بات پر نمبر ایک لکھا ہے؟ اِسی بات کو آپ سب سے اہم خیال کرتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں کہ سوشل نیٹ ورکنگ ویبسائٹس استعمال کرنے سے اِن چاروں باتوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔a
کیا آپ کو لوگوں سے رابطہ رکھنے کے لئے کسی سوشل نیٹ ورکنگ ویبسائٹ پر اکاؤنٹ بنانا چاہئے؟ اگر آپ نوجوان ہیں تو آپ کے والدین فیصلہ کریں گے کہ آیا وہ آپ کو اکاؤنٹ بنانے کی اجازت دیں گے یا نہیں۔b (امثال ۶:۲۰) دراصل جہاں اِن ویبسائٹس کو استعمال کرنے کے کچھ فائدے ہیں، وہاں کچھ نقصان بھی ہیں۔ لہٰذا اگر آپ کو اکاؤنٹ بنانے کی اجازت نہیں ملتی تو آپ کو والدین کا کہنا ماننا چاہئے۔—افسیوں ۶:۱۔
لیکن شاید آپ کے والدین نے آپ کو اکاؤنٹ بنانے کی اجازت دی ہے۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا، اِن ویبسائٹس کو استعمال کرنے کے کچھ نقصان بھی ہو سکتے ہیں۔ تو پھر آپ نقصان سے بچنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟ اکتوبر-دسمبر ۲۰۱۱ء کے جاگو! کے شمارے میں ہم نے مضمون ”نوجوانوں کا سوال“ میں سوشل نیٹ ورکنگ ویبسائٹس کو استعمال کرنے کے سلسلے میں اِن دو پہلوؤں پر غور کِیا تھا: (۱) ذاتی معلومات کی حفاظت اور (۲) وقت کی قدروقیمت۔ اِس مضمون میں ہم اِس بات پر غور کریں گے کہ سوشل نیٹ ورکنگ ویبسائٹس آپ کی نیکنامی اور دوستیوں پر کیا اثر ڈال سکتی ہیں۔
آپ کی نیکنامی
بِلاشُبہ آپ کو اپنی نیکنامی بڑی پیاری ہے۔ اِس لئے آپ کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیں گے جس سے آپ کی نیکنامی پر داغ لگے۔ فرض کریں کہ آپ کے پاس ایک نئی چمچماتی گاڑی ہے جس پر کوئی ڈینٹ یا نشان نہیں ہے۔ ظاہری بات ہے کہ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی گاڑی ہمیشہ اِسی حالت میں رہے۔ لیکن پھر آپ اِسے بےاحتیاطی سے چلاتے ہیں اور ایک حادثے میں گاڑی کا حشرنشر ہو جاتا ہے۔ یقیناً آپ خود کو بہت کوسیں گے۔
اگر آپ سوشل نیٹ ورکنگ ویبسائٹس استعمال کرتے ہیں تو کچھ ایسا ہی حادثہ آپ کی نیکنامی کے ساتھ بھی پیش آ سکتا ہے۔ کارا نامی ایک لڑکی کہتی ہیں: ”اگر ایک شخص بےاحتیاطی میں کسی ویب پیج پر کوئی ایسیویسی تصویر یا تبصرہ پوسٹ کرتا ہے تو اُس کی نیکنامی خاک میں مل سکتی ہے۔“ آئیں، دیکھیں کہ جو تصویریں اور تبصرے آپ پوسٹ کرتے ہیں، اِن سے آپ کی نیکنامی پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔
● آپ کی تصویریں۔ یسوع مسیح کے شاگرد پولس نے لکھا: ”وہی کرنے کی سوچا کرو جو سب کی نظر میں اچھا ہے۔“ (رومیوں ۱۲:۱۷، نیو اُردو بائبل ورشن) آپ نے لوگوں کے ویب پیج پر نظر ڈالتے وقت کس قسم کی تصویریں دیکھی ہیں؟
”کبھیکبھی ایسے لوگ جن کو مَیں اچھا خیال کرتی تھی، اپنے ویب پیج پر ایسی تصویریں پوسٹ کرتے ہیں جن میں وہ نشے میں لگتے ہیں۔“—اَنا، عمر ۱۹ سال۔
”کچھ لڑکیاں اپنی تصویروں میں ایسے پوز مارتی ہیں جن سے اُن کا جسم نمایاں ہو جاتا ہے۔ اگر اِنہی لڑکیوں کو آمنےسامنے دیکھو تو وہ بڑی شریف لگتی ہیں۔“—کارا، عمر ۱۹ سال۔
آپ اُس شخص کو کیسا خیال کریں گے جو اپنے ویب پیج پر ایسی تصویریں لگاتا ہے (۱) جن میں اُس نے ایسے کپڑے پہنے ہوں جن سے دوسروں میں گندی خواہشیں پیدا ہوں یا (۲) جن میں وہ نشے میں دُھت لگتا ہو؟
۱․․․․․
۲․․․․․
● آپ کے تبصرے۔ خدا کے کلام میں لکھا ہے کہ ”کوئی گندی بات تمہارے مُنہ سے نہ نکلے۔“ (افسیوں ۴:۲۹) اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ ویبسائٹس پر بلاگ کرتے وقت بازاری زبان استعمال کرتے ہیں، دوسروں کے بارے میں افواہیں پھیلاتے ہیں اور گندی باتیں لکھتے ہیں۔
”لوگ ویب پیج پر ایسیایسی باتیں لکھتے ہیں جنہیں وہ شاید ہی زبان پر لائیں۔ دراصل ایسی باتیں لکھتے وقت اِتنا بُرا نہیں لگتا جتنا کہ بولتے وقت لگتا ہے۔ ضروری نہیں کہ لوگوں کے تبصروں میں گالیاں لکھی ہوں، لیکن جو کچھ وہ لکھتے ہیں، شاید یہ کافی بازاری، شوخ، یہاں تک کہ بےہودہ ہو۔“ —ڈینیل، عمر ۱۹ سال۔
آپ کے خیال میں لوگ اپنے تبصروں میں ایسی باتیں کیوں ڈالتے ہیں جنہیں وہ شاید کسی کے روبرو نہ کہیں؟
․․․․․
کیا اِس سے کوئی فرق پڑتا ہے کہ آپ اپنے ویب پیج پر کس طرح کی تصویریں اور تبصرے پوسٹ کرتے ہیں؟ جیہاں۔ جین جن کی عمر ۱۹ سال ہے، کہتی ہیں: ”سکول میں ہمیں آگاہ کِیا گیا ہے کہ کمپنیوں میں مینیجر ایک شخص کو ملازمت پر رکھنے سے پہلے اُس کے ویب پیج کو دیکھتے ہیں تاکہ وہ اندازہ لگا سکیں کہ وہ کیسا شخص ہے۔“
ایک ماہرِنفسیات نے اپنی کتاب میں کہا کہ ”مَیں کسی کو ملازمت پر رکھنے سے پہلے اُس کے ویب پیج کو دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اگر مَیں اُس کے ویب پیج کو کھول سکتا ہوں اور اُس میں فضول سی باتیں ہوتی ہیں تو مجھے بہت بُرا لگتا ہے۔ مَیں ایسے شخص کو ملازمت پر نہیں رکھتا۔ مَیں صرف ایسے لوگوں کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہوں جو سمجھداری سے کام لینا جانتے ہیں۔“—کتاب فیسبُک—والدین کے سوال اور اِن کے جواب (انگریزی میں دستیاب)۔
اگر آپ خدا کو خوش کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آپ ویبسائٹ پر جو کچھ پوسٹ کرتے ہیں، اِس سے دوسروں پر کیسا اثر پڑے گا۔ یسوع مسیح کے شاگرد پولس نے لکھا: ’ہم کسی بات میں ٹھوکر کھانے کا کوئی موقع نہیں دینا چاہتے۔‘—۲-کرنتھیوں ۶:۳؛ ۱-پطرس ۳:۱۶۔
کچھ تدبیریں
اگر آپ کے والدین نے آپ کو کسی ویبسائٹ پر اکاؤنٹ بنانے کی اجازت دی ہے تو اُن تصویروں کو دیکھیں جو آپ نے پوسٹ کی ہیں۔ خود سے پوچھیں: ”لوگ اِن تصویروں کو دیکھ کر میرے بارے میں کیا سوچیں گے؟ کیا مَیں چاہتا ہوں کہ لوگ میرے بارے میں ایسی رائے قائم کریں؟ اگر میرے والدین، کلیسیا کے کسی بزرگ یا آئندہ کسی مینیجر نے اِن تصویروں کو دیکھا تو کیا مَیں شرمندہ ہو جاؤں گا؟“ اگر آپ اِس سوال کا جواب ہاں میں دیں گے تو اپنے ویب پیج پر کچھ تبدیلیاں کریں۔ اکیس سالہ کیٹ نے ایسا ہی کِیا۔ وہ کہتی ہیں: ”جب کلیسیا کے ایک بزرگ نے میرے ویب پیج پر میری تصویر دیکھی تو اُنہوں نے مجھ سے بات کی۔ مَیں اُن کی بہت شکرگزار ہوں۔ مَیں جانتی ہوں کہ وہ نہیں چاہتے کہ اِس تصویر کی وجہ سے میری بدنامی ہو۔“
اِس کے علاوہ اُن تبصروں کا جائزہ لیں جو آپ نے اور دوسروں نے آپ کے ویب پیج پر پوسٹ کئے ہیں۔ اپنے ویب پیج پر سے ہر طرح کی ”بےشرمی اور بےہودہگوئی“ کو ہٹا دیں۔ (افسیوں ۵:۳، ۴) جین اِس سلسلے میں کہتی ہیں: ”کبھیکبھار لوگ ایسے تبصرے پوسٹ کرتے ہیں جن میں بازاری اور گندی باتیں ہوتی ہیں۔ بھلے ہی یہ تبصرے کسی اَور نے پوسٹ کئے ہوں لیکن اگر یہ آپ کے ویب پیج پر ہیں تو آپ ہی کی بدنامی ہوگی۔“
جہاں تک اُن تصویروں اور تبصروں کا تعلق ہے جو آپ کسی ویب پیج پر پوسٹ کرتے ہیں، آپ کونسے اصول قائم کریں گے تاکہ آپ کی نیکنامی کو نقصان نہ پہنچے؟
․․․․․
آپ کی دوستیاں
فرض کریں کہ آپ نے نئی گاڑی لی ہے۔ کیا آپ ہر ایرےغیرے کو اِس میں بٹھائیں گے؟ ہرگز نہیں۔ اِسی طرح اگر آپ کے والدین نے آپ کو کسی سوشل نیٹ ورکنگ ویبسائٹ پر اکاؤنٹ بنانے کی اجازت دی ہے تو آپ کو محتاط رہنا چاہئے کہ آپ کسکس کو دوستوں کی فہرست میں شامل کریں گے۔
”کچھ لوگوں کو تو بس یہی پڑی ہوتی ہے کہ اُن کے زیادہ سے زیادہ دوست ہوں۔ وہ تو اُن لوگوں کو بھی اپنے دوستوں کی فہرست میں شامل کر لیتے ہیں جنہیں وہ جانتے تک نہیں۔“—نائیشا، عمر ۱۶ سال۔
”آپ اپنے ویب پیج کے ذریعے ایسے لوگوں سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں جن سے ایک زمانے میں آپ کا واسطہ تھا۔ لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن سے دوبارہ دوستی نہیں کرنی چاہئے۔“—ایلن، عمر ۲۵ سال۔
کچھ تدبیریں
مشورہ: جائزہ لیں اور تبدیلیاں لائیں۔ اپنے دوستوں کی فہرست کو دیکھیں اور اگر ضروری ہو تو چھانٹی کریں۔ فہرست میں شامل ہر شخص کے بارے میں خود سے پوچھیں:
۱. ”کیا مَیں جانتا ہوں کہ یہ شخص اصل میں کیسا ہے؟“
۲. ”یہ شخص کیسی تصویریں اور تبصرے پوسٹ کرتا ہے؟“
۳. ”کیا اِس شخص کی دوستی مجھ پر اچھا اثر ڈال رہی ہے؟“
”مَیں مہینے میں ایک دفعہ اپنے دوستوں کی فہرست کو دیکھتی ہوں۔ اگر اِن میں کوئی ایسا ہوتا ہے جسے مَیں اچھی طرح سے نہیں جانتی یا پھر جس کے بارے میں مجھے لگتا ہے کہ وہ مجھ پر اچھا اثر نہیں ڈال رہا تو مَیں اُس کا نام ہٹا دیتی ہوں۔“—اِیوانا، عمر ۱۷ سال۔
مشورہ: اصول قائم کریں۔ یقیناً آپ کا یہ اصول ہوگا کہ آپ ہر اُس شخص سے دوستی نہیں کریں گے جس سے آپ کی ملاقات ہوتی ہے۔ اِسی طرح انٹرنیٹ پر بھی ہر کسی کو دوستوں کی فہرست میں شامل نہ کریں۔ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۳۳) لیاین نامی لڑکی کہتی ہیں: ”میرا اصول ہے کہ اگر کوئی اجنبی مجھے اپنے دوستوں کی فہرست میں شامل کرنا چاہے گا تو مَیں اُس کی دعوت قبول نہیں کروں گی۔ اور اگر مَیں اپنے کسی دوست کے ویب پیج پر کوئی ایسیویسی بات دیکھوں گی تو مَیں اُس کو اپنے دوستوں کی فہرست سے ہٹا دوں گی اور اُسے دوبارہ شامل نہیں کروں گی۔“ لیاین کے علاوہ اَور بھی نوجوانوں نے کچھ اِسی طرح کے اصول قائم کر رکھے ہیں۔
”مَیں ہر کسی کو دوستوں کی فہرست میں شامل نہیں کرتی کیونکہ یہ تو بہت خطرناک ہوتا۔“—ایرن، عمر ۲۱ سال۔
”میرے پُرانے ہمجماعت مجھے یہ میسج بھیجتے رہتے ہیں کہ میرے دوستوں کی فہرست میں شامل ہو جاؤ۔ لیکن مَیں سکول کے زمانے میں اُن سے دُور رہتا تھا، بھلا اب مَیں اُن سے دوستی کیوں کروں؟“—ایلیکس، عمر ۲۱ سال۔
نیچے لکھیں کہ آنلائن دوستوں کے سلسلے میں آپ کے کیا اصول ہیں:
․․․․․
”نوجوانوں کا سوال“ کے سلسلے میں مزید مضامین ویبسائٹ www.watchtower.org/ype پر مل سکتے ہیں۔
[فٹنوٹ]
a سوشل نیٹ ورکنگ ویبسائٹس ایسی ویبسائٹس ہیں جن پر لوگ اکاؤنٹ بناتے ہیں، اِن کے ممبروں میں سے دوست چنتے ہیں اور اُن سے رابطہ رکھتے ہیں۔
b جاگو! کے ناشرین کسی بھی سوشل نیٹ ورکنگ ویبسائٹ کو نہ تو صحیح اور نہ ہی غلط قرار دیتے ہیں۔ جب مسیحی انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں تو اُنہیں محتاط رہنا چاہئے کہ وہ کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے پاک صحیفوں کے اصولوں کی خلافورزی ہو۔—۱-تیمتھیس ۱:۵، ۱۸، ۱۹۔
[صفحہ ۱۲ پر عبارت]
خدا کے کلام میں لکھا ہے: ”نیکنامی اور دولت، اگر تمہیں اِن دونوں میں سے ایک کو چننے کے لئے کہا جائے تو نیکنامی کو چنو۔“—امثال ۲۲:۱، ٹوڈیز انگلش ورشن۔
[صفحہ ۱۴ پر بکس]
اپنے والدین سے مشورہ لیں
جاگو! کے اِس شمارے میں اور اکتوبر-دسمبر ۲۰۱۱ء کے شمارے میں مضمون ”نوجوانوں کا سوال“ میں جو باتیں بتائی گئی ہیں، اِن پر اپنے امیابو کے ساتھ بات کریں۔ اُن سے پوچھیں کہ ”جس طرح سے مَیں انٹرنیٹ استعمال کرتا ہوں،آپ کے خیال میں اِس سے (۱) میری ذاتی معلومات پر؛ (۲) میرے وقت پر؛ (۳) میری نیکنامی پر اور (۴) میری دوستیوں پر کیا اثر پڑ رہا ہے؟“
[صفحہ ۱۵ پر بکس]
والدین کی توجہ کے لئے
ہو سکتا ہے کہ آپ کے بچے انٹرنیٹ کے سلسلے میں آپ سے زیادہ جانتے ہوں لیکن جہاں تک صحیح اور غلط میں تمیز کرنے کی بات آتی ہے تو آپ اُن سے زیادہ تجربہ رکھتے ہیں۔ (امثال ۱:۴؛ ۲:۱-۶) پری آفتاب نامی ایک وکیل جو انٹرنیٹ پر ہونے والے جرائم کے سلسلے میں تحقیق کرتی ہیں، وہ کہتی ہیں: ”نوجوان ٹیکنالوجی کا تجربہ رکھتے ہیں جبکہ والدین زندگی کا تجربہ رکھتے ہیں۔“
حال ہی میں ایسی ویبسائٹس بہت مقبول ہو گئی ہیں جن کے ذریعے دوسروں سے رابطہ کِیا جاتا ہے۔ اگر آپ اپنے بچے کو کسی ویبسائٹ پر اکاؤنٹ بنانے دیں گے تو کیا وہ اِسے استعمال کرنے میں سمجھداری سے کام لے گا؟ یاد رکھیں کہ جس طرح گاڑی چلانا، بینک میں اکاؤنٹ کھولنا اور کریڈٹ کارڈ استعمال کرنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا اِسی طرح کسی ویبسائٹ پر دوست بنانا بھی خطرے سے خالی نہیں۔ آئیں، دیکھیں کہ یہ کس لحاظ سے خطرناک ہو سکتا ہے۔
ذاتی معلومات۔ بہت سے نوجوان یہ نہیں سمجھتے کہ انٹرنیٹ پر ذاتی معلومات دینا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ اگر وہ انٹرنیٹ پر اِس بات کو عام کریں گے کہ وہ کہاں رہتے ہیں، کونسے سکول میں پڑھتے ہیں، کبکب گھر ہوتے ہیں یا گھر سے باہر ہوتے ہیں تو اُن کو اور باقی گھروالوں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
کچھ تدبیریں۔ جب آپ کے بچے چھوٹے تھے تو آپ نے اُنہیں سکھایا کہ سڑک پار کرتے وقت دونوں طرف دیکھو۔ اب جبکہ اُن میں تھوڑی بہت سمجھ آ گئی ہے تو اُنہیں سکھائیں کہ وہ انٹرنیٹ کو استعمال کرتے وقت احتیاط برتیں۔ جاگو! کے پچھلے شمارے میں مضمون ”نوجوانوں کا سوال“ میں ذاتی معلومات کی حفاظت کرنے کے لئے جو ہدایتیں دی گئی ہیں، اُن کو پڑھیں۔ اِس کے علاوہ اپریل-جون ۲۰۰۷ء کے جاگو! میں صفحہ ۴-۹ کو بھی دیکھیں۔ یقیناً آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچوں میں ”دانائی“ اور اچھے اور بُرے کی ”تمیز“ پیدا ہو تاکہ وہ انٹرنیٹ کے خطروں سے بچ سکیں۔ اِس سلسلے میں اُن کی مدد کریں۔—امثال ۳:۲۱۔
وقت کی قدروقیمت۔ انٹرنیٹ پر دوستوں سے رابطہ کرنا نشے کی طرح ہو سکتا ہے۔ تیئیس سالہ رِک کہتے ہیں کہ ”مجھے ویبسائٹ پر اکاؤنٹ بنائے ابھی کچھ ہی دن ہوئے تھے کہ مجھے اِسے دیکھنے کا جنون سا ہو گیا۔ مَیں گھنٹوں بیٹھ کر اِس پر لوگوں کی تصویریں اور تبصرے دیکھتا۔“
کچھ تدبیریں۔ اپنے بچے کے ساتھ مل کر جاگو! اپریل-جون ۲۰۱۱ء میں مضمون ”نوجوانوں کا سوال—کیا مَیں الیکٹرانک میڈیا کو حد سے زیادہ استعمال کرتا ہوں؟“ کو دیکھیں اور خاص طور پر صفحہ ۱۸ پر بکس ”مَیں سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کی عادی تھی“ پر غور کریں۔ اپنے بچے کی مدد کریں تاکہ وہ انٹرنیٹ پر اُتنا ہی وقت صرف کرے جتنا کہ آپ میں طے ہوا تھا۔ اُس کو سمجھائیں کہ زندگی میں کچھ ایسی باتیں ہوتی ہیں جو کسی ویبسائٹ پر دوستوں سے رابطہ رکھنے سے زیادہ اہم ہیں۔
نیکنامی۔ پاک صحیفوں میں یہ کہاوت پائی جاتی ہے: ”بچہ بھی اپنی حرکات سے پہچانا جاتا ہے کہ اُس کے کام نیکوراست ہیں کہ نہیں۔“ (امثال ۲۰:۱۱) بچے جو کچھ آنلائن کرتے ہیں، اِس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ اُن کے دل میں کیا ہے۔ یاد رکھیں کہ اِن ویبسائٹس پر جو معلومات ڈالی جاتی ہیں، اِنہیں بہت سے لوگ دیکھ سکتے ہیں۔ سو اگر آپ کے بچے اِن پر ایسیویسی تصویریں اور تبصرے پوسٹ کریں گے تو نہ صرف اُن کی بلکہ آپ کی بھی بدنامی ہو گی۔
کچھ تدبیریں۔ اپنے بچوں کو سمجھائیں کہ وہ انٹرنیٹ پر جو کچھ پوسٹ کرتے ہیں، اِس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کس طرح کے انسان ہیں۔ اُن کو یہ بھی بتائیں کہ انٹرنیٹ پر جو کچھ ڈالا جاتا ہے، اِسے کبھی مکمل طور پر ڈیلیٹ نہیں کِیا جا سکتا۔ اِس سلسلے میں ایک مصنفہ نے لکھا: ”بچوں کے لئے یہ سمجھنا آسان نہیں کہ جو کچھ انٹرنیٹ پر ڈالا جاتا ہے، یہ ہمیشہ کے لئے کہیں نہ کہیں محفوظ ہو جاتا ہے۔ اپنے بچوں کے ذہن میں ڈالیں کہ جو باتیں وہ کسی کے آمنےسامنے نہیں کہیں گے، اُنہیں وہ انٹرنیٹ پر بھی کسی کو نہ بتائیں۔“—کتاب بچوں کو انٹرنیٹ کے خطروں سے محفوظ رکھیں (انگریزی میں دستیاب)۔
دوستیاں۔ تیئیس سالہ تانیا کہتی ہیں: ”بہت سے نوجوانوں کو دوسروں میں مقبول ہونے کا بڑا شوق ہے۔ اِسی وجہ سے وہ اپنے دوستوں کی فہرست میں ایسے لوگوں کو بھی شامل کر لیتے ہیں جنہیں وہ جانتے تک نہیں یا جو اُن پر بُرا اثر ڈالتے ہیں۔“
کچھ تدبیریں۔ اپنے بچے سے کہیں کہ وہ آنلائن دوستوں کے سلسلے میں کچھ اصول بنائے اور اِن پر عمل کرے۔ اِس سلسلے میں اُس کی مدد کریں۔ بائیس سالہ الیسیا کہتی ہیں: ”اگر مَیں ایک شخص کو نہیں جانتی ہوں یا اُس سے نہیں ملی ہوں تو مَیں اُس کو اپنے دوستوں کی فہرست میں شامل نہیں کرتی، چاہے وہ میرے دوستوں کا دوست ہی کیوں نہ ہو۔“
جولیا اور ٹم نے بھی ایک ویبسائٹ پر اکاؤنٹ بنایا ہے تاکہ وہ اپنی بیٹی کے ویب پیج کو دیکھ سکیں۔ جولیا کہتی ہیں: ”ہم نے یہ شرط رکھی ہے کہ ہماری بیٹی ہمیں اپنے دوستوں کی فہرست میں شامل کرے۔ جب وہ انٹرنیٹ پر لوگوں سے رابطہ کرتی ہے تو یہ بالکل ایسے ہے جیسے یہ لوگ ہمارے گھر بیٹھے ہوں۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ یہ کس طرح کے لوگ ہیں۔“
[صفحہ ۱۳ پر تصویر]
اگر آپ بےاحتیاطی سے گاڑی چلائیں گے تو گاڑی تباہ ہو سکتی ہے۔ اِسی طرح اگر آپ اپنے ویب پیج پر ایسیویسی تصویریں اور تبصرے پوسٹ کریں گے تو آپ کی نیکنامی تباہ ہو سکتی ہے۔
[صفحہ ۱۴ پر تصویر]
کیا آپ کسی بھی ایرےغیرے کو اپنی گاڑی میں بٹھائیں گے؟ تو پھر آنلائن بھی کسی اجنبی کو اپنے دوستوں کی فہرست میں شامل نہ کریں۔