شہد کی چیونٹی—ریگستان کا میٹھا کیڑا
یومینیا وسطی آسٹریلیا میں رہتی ہیں۔ اُن کے باپدادا کئی صدیوں سے اِس ریگستانی علاقے میں رہتے آئے ہیں۔ یومینیا نے اپنے باپدادا سے اِس ویران علاقے میں خوراک تلاش کرنے کے مختلف طریقے سیکھے ہیں۔ جب یومینیا سے ہماری ملاقات ہوئی تو اُنہوں نے ہمیں خوراک تلاش کرنے کا ایک انوکھا طریقہ دکھایا۔ ہم اُن کے ساتھ ریگستان کی طرف چل پڑے۔ راستے میں وہ زمین کو بڑے دھیان سے دیکھتی ہوئی جا رہی تھیں۔ پھر ببول کے درختوں کے نیچے اُنہیں کچھ چیونٹیاں نظر آئیں۔ یومینیا نے بتایا کہ ہم اِن چیونٹیوں کے بِلوں سے لذیذ خوراک حاصل کریں گے۔ ہم یہ سُن کر حیران رہ گئے کہ یہ شہد کی چیونٹیاں ہیں۔
یومینیا نے اِن چیونٹیوں کی سُرنگوں کو تلاش کِیا اور پھر زمین کو کھودنا شروع کر دیا۔ جلد ہی اُنہوں نے ایک گڑھا کھود ڈالا جو تقریباً ایک میٹر (۳ فٹ) گہرا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ ”یوں تو آپ کسی بھی موسم میں شہد کی چیونٹیوں کو تلاش کرنے کے لئے آ سکتے ہیں لیکن سردی کا موسم بہتر ہے کیونکہ کھدائی کرتے وقت زیادہ گرمی نہیں لگتی۔“ وہ گڑھے کی دیوار میں چیونٹیوں کی سُرنگوں کو بڑے غور سے دیکھ رہی تھیں۔ وہ یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی تھیں کہ یہ سُرنگیں کس طرف جا رہی ہیں۔ پھر اُنہوں نے کہا کہ ”بِل تک جانے والی سُرنگ کو پہچاننا ہی اصل کمال ہے۔“
یومینیا نے جلد ہی ایک بِل ڈھونڈ نکالا۔ اِس بِل میں ۲۰ شہد کی چیونٹیاں تھیں جن کے پیٹ شہد سے اِتنے بھرے ہوئے تھے کہ وہ ہل نہیں سکتی تھیں۔ یہ چیونٹیاں انگور کے دانے جتنی بڑی تھیں اور بِل کی چھت سے لٹک رہی تھیں۔ کچھ دیر میں یومینیا نے بِل کے مختلف خانوں میں سے ایک سو سے زیادہ چیونٹیاں اکٹھی کر لیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ”یہاں چیونٹیوں کے شہد جتنا میٹھا کھانا اَور کوئی نہیں ہے۔“
شہد کے جیتے جاگتے مرتبان
چیونٹیوں کی۱۰ ہزار سے زیادہ اقسام ہوتی ہیں۔ اِن میں شہد کی چیونٹیاں سب سے انوکھی ہیں۔ شہد کی مکھیاں تو چھتوں میں شہد جمع کرتی ہیں لیکن شہد کی چیونٹیوں کی بستی میں کئی ایسی چیونٹیاں ہوتی ہیں جن کے جسم میں شہد ذخیرہ کِیا جاتا ہے۔ جب شہد کی چیونٹیوں کو باہر سے خوراک نہیں ملتی تو وہ اُن چیونٹیوں سے خوراک لیتی ہیں جن میں شہد بھرا ہوتا ہے۔
جب ایک چیونٹی ذخیرے میں شہد بھرنا یا اِس میں سے شہد نکالنا چاہتی ہے تو وہ کیا کرتی ہے؟ وہ اپنے انٹینا سے شہد ذخیرہ کرنے والی چیونٹی کے انٹینا کو ایک خاص انداز سے تھپتھپاتی ہے۔ اِس پر شہد ذخیرہ کرنے والی چیونٹی اپنا مُنہ کھول دیتی ہے۔ ایک خاص قسم کا والو شہد کے اندر جانے یا باہر نکلنے کو کنٹرول کرتا ہے۔ شہد کی چیونٹی کی زندگی کچھ مہینوں کی ہوتی ہے جس کے دوران اُس کے پیٹ میں شہد کا ذخیرہ کئی بار بھرا اور خالی کِیا جاتا ہے۔
شہد کو ذخیرہ کرنے والی چیونٹیاں عام طور پر بِل سے باہر نہیں آتیں۔ زمین کے نیچے وہ گرمی اور شکاری جانوروں سے محفوظ رہتی ہیں۔ لیکن اُنہیں اِس مرطوب ماحول میں بیکٹیریا اور پھپھوندی لگنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اِس لئے وہ ایک خاص غدود سے ایک جراثیمکش مادہ خارج کرتی ہیں اور اِسے اپنے جسم پر لگاتی ہیں۔
چیونٹیوں کا شہد کیسے پیدا ہوتا ہے؟ دراصل یہ درختوں اور پھولوں کا رس ہوتا ہے جسے چھوٹےچھوٹے کیڑے چوستے ہیں۔ پھر یہ کیڑے فضلے کے طور پر میٹھا رس خارج کرتے ہیں اور چیونٹیاں یہ رس چوس لیتی ہیں۔ اِس کے علاوہ چیونٹیاں پھولوں سے بھی براہِراست رس چوستی ہیں۔ آخرکار وہ اِس رس کو شہد ذخیرہ کرنے والی چیونٹیوں میں بھر دیتی ہیں۔ شہد ذخیرہ کرنے والی چیونٹیاں بہت کم رس ہضم کرتی ہیں اِس لئے زیادہتر رس اُن کے پیٹ میں جمع ہو جاتا ہے۔
درختوں کا رس چوسنے والے کیڑوں کو بھی چیونٹیوں کے ساتھ تعاون کرنے سے فائدہ ہوتا ہے کیونکہ چیونٹیاں اِنہیں دیگر شکاری کیڑے مکوڑوں سے بچاتی ہیں۔ لہٰذا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے سے دونوں کو فائدہ ہوتا ہے۔
خدا کے کلام میں لکھا ہے: ”چیونٹی کے پاس جا۔ اُس کی روشوں پر غور کر اور دانشمند بن جو باوجودیکہ اُس کا نہ کوئی سردار نہ ناظر نہ حاکم ہے گرمی کے موسم میں اپنی خوراک مہیا کرتی ہے اور فصل کٹنے کے وقت اپنی خورش جمع کرتی ہے۔“ (امثال ۶:۶-۸) یہ بات بالکل سچ ہے کیونکہ چیونٹیاں واقعی بہت محنتی اور منظم ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتی ہیں۔ یہ کتنی حیرت کی بات ہے کہ ایسے سخت ماحول میں بھی یہ چھوٹا سا جاندار اِتنی میٹھی اور لذیذ خوراک پیدا کرتا ہے۔
[صفحہ ۱۷ پر تصویر]
چیونٹی کا پیٹ شہد سے بھرا ہوا ہے۔
[صفحہ ۱۷ پر تصویروں کے حوالہجات]
;Pages 16, 17, top: M Gillam/photographersdirect.com
page 17: © Wayne Lynch/age fotostock