عالمی جنگ—انسانی نادانیوں کا سنگین نتیجہ
کیا سیاستدان تیسری عالمی جنگ غیرارادی طور پر شروع کر دیں گے؟ کیا اُن کے غلط فیصلے کروڑوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیں گے؟
اِن سوالوں کا جواب ہمیں معلوم نہیں ہے۔ لیکن ہم اتنا ضرور جانتے ہیں کہ ماضی میں ایسا ہو چکا ہے۔ تقریباً ایک سو سال پہلے یورپ کے سیاستدانوں نے اپنے لوگوں کو جنگ کی آگ میں جھونک دیا تھا۔ اُنہیں اِس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ اِس کا انجام کتنا خطرناک ہوگا۔ اِس جنگ کو پہلی جنگِعظیم یا پہلی عالمی جنگ کہا جاتا ہے۔ ڈیوڈ لوئڈ جارج جو ۱۹۱۶ سے لے کر ۱۹۲۲ تک برطانیہ کے وزیرِاعظم رہے، اُنہوں نے کہا کہ ”ہم نے یہ جنگ اندھادُھند شروع کر دی تھی۔“ اِس سلسلے میں آئیے چند ایسے اہم واقعات پر غور کریں جو اِس خوفناک قتلوغارت کا سبب بنے۔
ایک تاریخدان (ایلن ٹیلر) نے لکھا کہ ”سیاستدان اتنی بڑی جنگ نہیں لڑنا چاہتے تھے۔ وہ تو بس ایک دوسرے کو ڈرانادھمکانا اور اپنا رعب جمانا چاہتے تھے۔“ مثال کے طور پر روس کا شہنشاہ ہر حال میں امن قائم رکھنا چاہتا تھا۔ وہ اتنی بڑی خونریزی کا ذمہ اپنے سر نہیں لینا چاہتا تھا۔ لیکن پھر ۲۸ جون ۱۹۱۴ کو صبح سوا گیارہ بجے ایک آدمی نے دو گولیاں چلائیں اور دُنیا پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔
ایک سازش کا بھیانک انجام
یورپ کی بعض قوموں میں کافی عرصے سے دُشمنی تھی۔ اُنہوں نے خود کو مضبوط کرنے کے لئے اپنےاپنے حمایتیوں کے ساتھ اتحاد کر لیا۔ یوں ۱۹۱۴ تک یورپ میں دو بڑے اتحاد بن گئے تھے جو ایک دوسرے کی سخت مخالفت کرتے تھے۔ ایک اتحاد میں آسٹریا، اٹلی اور جرمنی شامل تھے اور دوسرے میں برطانیہ، فرانس اور روس۔ اِن ممالک نے اَور بھی ممالک کے ساتھ سیاسی اور معاشی تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ اِس طرح بلقانی ریاستیں بھی اِن دو اتحادوں کی تگودو سے متاثر ہو گئیں۔
اُس وقت بلقان کا زیادہتر علاقہ آسٹریا کے قبضے میں تھا۔ اِس علاقے کی ریاستیں آزادی حاصل کرنا چاہتی تھیں۔ غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لئے وہاں بہت سی خفیہ تنظیمیں کام کر رہی تھیں۔ لہٰذا، جب آسٹریا کے شہزادے فرانسس فرڈیننڈ نے ۲۸ جون ۱۹۱۴ کو بوسنیا کے دارالحکومت سرائیوو کا دورہ کِیا تو جوان لوگوں کے ایک گروہ نے اُسے قتل کرنے کی سازش کی۔a اِس موقع پر وہاں زیادہ پولیس موجود نہیں تھی جس کی وجہ سے اُن کا کام قدراً آسان ہو گیا۔ البتہ اُن جوانوں کو بہت کم جنگی تربیت دی گئی تھی۔ اِس لئے جب ایک جوان نے شہزادے پر بم پھینکا تو وہ نشانے سے چُوک گیا اور بعد میں اُس کے ساتھی بھی اپنے مقصد میں ناکام رہے۔ لیکن پھر اتفاق سے اِن جوانوں میں سے ایک یعنی گاوریلو پرینسیپ، کامیاب ہو گیا۔ وہ کیسے؟
پرینسیپ شہزادے کی گاڑی کی تاک میں کھڑا تھا۔ جب گاڑی وہاں سے گزری تو وہ جان گیا کہ اُس کے ساتھی، شہزادے کو قتل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ اُس نے گاڑی تک پہنچنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہا۔ مایوس ہو کر وہ ایک ہوٹل میں جا بیٹھا۔ اتنے میں شہزادے نے راستہ بدلنے کا فیصلہ کِیا کیونکہ اُسے اِس بات پر غصہ تھا کہ اُس پر بم پھینکا گیا ہے۔ لیکن گاڑی کا ڈرائیور غلطی سے گاڑی کو غلط سمت لے گیا۔ جس لمحے وہ گاڑی کو موڑ کر صحیح سمت پر لانے لگا پرینسیپ ہوٹل سے باہر آ رہا تھا۔ پرینسیپ نے دیکھا کہ اُس کے عین سامنے تین میٹر [دس فٹ] کے فاصلے پر شہزادہ اپنی گاڑی میں بیٹھا ہے۔ اُس نے یہ موقع ہاتھ سے نکلنے نہ دیا اور دو گولیاں چلا کر شہزادے اور اُس کی بیوی کو ہلاک کر دیا۔b پرینسیپ تو اپنی قوم سربیا کو آزادی دلانا چاہتا تھا۔ اُسے کیا معلوم تھا کہ اِن دو گولیوں کو چلانے سے وہ پوری دُنیا کو جنگ کی طرف دھکیل دے گا۔ البتہ پہلی عالمی جنگ میں ہونے والی خونریزیاں صرف پرینسیپ ہی کے کھاتے میں نہیں ڈالی جا سکتی ہیں۔
کھولتا ہوا آتشفشاں
سن ۱۹۱۴ سے پہلے یورپ میں یہ نظریہ عام تھا کہ جنگ میں بڑی شان ہوتی ہے اور اِس کے بڑے فائدے بھی ہوتے ہیں۔ یہ حیرانکُن بات ہے کیونکہ یورپ کے زیادہتر باشندے مسیحی ہونے کا دعویٰ کرتے تھے اور مسیحی مذہب امن کا درس دیتا ہے۔ کئی سیاستدانوں کا خیال تھا کہ جنگ لڑنے سے قوم کا اتحاد بڑھتا ہے اور عوام میں نیا ولولہ پیدا ہوتا ہے۔ اِس کے علاوہ بعض جرنیلوں کا خیال تھا کہ وہ جنگ کو جلد جیت جائیں گے۔ مثال کے طور پر جرمنی کے ایک جنرل نے بڑے پُراعتماد لہجے میں کہا: ”ہم دو ہفتوں کے اندر ہی اندر فرانس پر فتح حاصل کرلیں گے۔“ کسی کو اِس بات کا گمان نہیں تھا کہ اِس جنگ میں کروڑوں فوجی سالوں تک تنگ مورچوں میں لڑتے رہیں گے۔
اِس کے علاوہ جنگ سے پہلے کے زمانے میں ”قومپرستی کی لہر نے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ . . . اساتذہ، پروفیسر، صحافی اور سیاستدان سب کے سب اپنیاپنی قوم کی شانوشوکت کو بڑھاچڑھا کر بیان کرنے میں مصروف تھے۔“—کتاب بدنظمی میں تعاون، انگریزی میں دستیاب۔
کیا مذہبی رہنماؤں نے قومپرستی کی اِس تباہکُن لہر کو روکنے کی کوشش کی؟ جینہیں۔ تاریخدان پال جانسن نے لکھا: ”مذہب کے لحاظ سے جرمنی کی اکثریت پروٹسٹنٹ تھی، آسٹریا کی کیتھولک، بلغاریہ کی آرتھوڈکس اور تُرکی کی مسلمان۔ اسی طرح برطانیہ کی اکثریت بھی پروٹسٹنٹ تھی، فرانس اور اٹلی کی کیتھولک اور روس کی آرتھوڈکس تھی۔“ اِس کے باوجود یہ ممالک ایک دوسرے سے جنگ کرنے کے درپے تھے۔ اِس تاریخدان کے مطابق پادریوں نے ”یہ درس دیا کہ اپنے ملک کی حمایت کرنا ہر مسیحی کا فرض ہے۔ تمام مسیحی فرقوں کے پادریوں نے اپنےاپنے ملک کے فوجیوں کی حوصلہافزائی کی کہ وہ جا کر ایک دوسرے کو مسیح کے نام پر قتل کریں۔“ یہاں تک کہ بہتیرے پادری اور راہبائیں بھی بھرتی ہونے کے لئے تیار تھیں اور ہزاروں پادری لڑائی میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
یوں تو یورپی ممالک نے اپنےاپنے اتحادوں کو اِس لئے تشکیل دیا تھا تاکہ یورپ میں بڑے پیمانے پر جنگ نہ چھڑ جائے۔ لیکن دراصل یہی اتحاد پہلی عالمی جنگ کے شروع ہونے کا ایک سبب بنے۔ کتاب بدنظمی میں تعاون کے مطابق ”ہر ملک کا خیال تھا کہ اُس کا اپنا تحفظ اُس کے اتحادیوں کے تحفظ پر منحصر تھا۔ لہٰذا جب اُس کے کسی اتحادی پر حملہ ہوتا تو وہ اُس کے دفاع کو لپکتا، چاہے اُس کے اتحادی نے اپنی ہی حرکتوں سے جنگ کو دعوت کیوں نہ دی ہو۔“
یورپ پر جنگ کی کالی گھٹا ایک اَور وجہ سے بھی چھائی ہوئی تھی۔ دراصل جرمنی کے جنرل شلیفن نے ایک منصوبہ بنا رکھا تھا جسے شلیفن منصوبہ کا نام دیا گیا۔ اِس منصوبے کے مطابق جرمنی خود کو جنگ کے لئے تیار کر رہا تھا تاکہ وہ حملہ کرنے میں پہل کر سکے اور تیزی سے دُشمن کے علاقے پر قبضہ جما سکے۔ جرمنی کا اندیشہ تھا کہ اُسے ایک ہی وقت میں فرانس اور روس سے جنگ لڑنی پڑے گی۔ اِس لئے جنرل شلیفن نے یہ منصوبہ بنایا کہ وہ فرانس پر اچانک حملہ کرکے بڑی تیزی سے اِس پر قبضہ جما لے گا اور پھر روس پر حملہ کرے گا۔ اُس نے توقع کی کہ روس کو جنگ کی تیاری کرنے میں زیادہ وقت لگے گا۔ ایک انسائیکلوپیڈیا کے مطابق ”چونکہ یورپ مختلف اتحادوں میں بٹا ہوا تھا اِس لئے جب شلیفن منصوبے پر عمل کِیا گیا تو پورا یورپ جنگ کی لپیٹ میں آ گیا۔“—ورلڈ بُک انسائیکلوپیڈیا۔
جنگ ٹالنے کی ناکام کوششیں
جب شہزادہ فرڈیننڈ کے قتل پر تحقیق کی گئی تو اِس کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اِس قتل کے پیچھے سربیا کی حکومت کا ہاتھ تھا۔ لیکن آسٹریا اپنی سلطنت میں قومپرست سربوں کی تحریک کو ہمیشہ کے لئے کچلنا چاہتا تھا۔ تاریخدان جان رابرٹس کے مطابق آسٹریا ”سربیا کو سبق سکھانا چاہتا تھا۔“
آسٹریا اور سربیا کے درمیان جنگ کو ٹالنے کے لئے نکولس ہارٹوِگ نے دونوں ملکوں میں سمجھوتا کرانے کی کوشش کی۔ (نکولس ہارٹوِگ سربیا میں روس کے سفیر تھے۔) لیکن جب وہ آسٹریا کے نمائندوں سے ملاقات کر رہے تھے تو اُنہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ فوت ہو گئے۔ پھر ۲۳ جولائی کو آسٹریا نے سربیا کے سامنے اپنے مطالبات رکھے جو ایک طرح سے جنگ کی دھمکی کے برابر تھے۔ سربیا اِن مطالبات کو قبول نہیں کر سکتا تھا اس لئے آسٹریا نے اُس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر دئے۔ اِس نازک موڑ پر مذاکرات کے سارے راستے بند ہو گئے۔
اِس کے بعد بھی کچھ ممالک نے جنگ کو روکنے کی کوشش کی۔ مثال کے طور پر برطانیہ نے ایک بینالاقوامی کانفرنس منعقد کرنے کی تجویز پیش کی۔ اِس کے علاوہ جرمنی کے شہنشاہ نے روس کے شہنشاہ کو اِس بات پر راضی کرنے کی کوشش کی کہ وہ جنگ کی تیاری نہ کرے۔ لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ ایک کتاب میں بتایا گیا ہے: ”سیاستدان، جنرل، یہاں تک کہ پوری قومیں حالات کے ہاتھوں مجبور ہو چکی تھیں۔“—دی اینٹرپرائز آف وار۔
آسٹریا نے ۲۸ جولائی کو سربیا کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ جرمنی نے آسٹریا کی حمایت کرنے کا وعدہ کِیا جبکہ روس نے سربیا کی حمایت کی۔ روس نے آسٹریا کا ہاتھ روکنے کے لئے ۱۰ لاکھ فوجی آسٹریا کی سرحد پر بھیجنے کا اعلان کِیا۔ لیکن اِس صورت میں جرمنی کے ساتھ روس کی سرحد خالی ہو جاتی۔ اِس لئے روس کے شہنشاہ نے مجبوراً یہ حکم دیا کہ اُس کا پورا ملک جنگ کی تیاری کرے۔
روس کے شہنشاہ نے جرمنی کے شہنشاہ کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ اُس کے خلاف جنگ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ لیکن جب روس کے شہنشاہ نے اپنے ملک کو جنگ کی تیاری کرنے کا حکم دیا تو جرمنی نے جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کِیا۔ لہٰذا ۳۱ جولائی کو جرمنی نے شلیفن منصوبے پر عمل کرنا شروع کر دیا۔ اُس نے یکم اگست کو روس کے خلاف اور اِس کے دو دن بعد فرانس کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ جرمن فوج کو اپنے جنگی منصوبے کے مطابق بیلجیئم سے گزرنا تھا۔ برطانیہ چونکہ بیلجیئم کا حمایتی تھا اِس لئے اُس نے جرمنی کو خبردار کِیا کہ اگر اُس نے بیلجیئم کی سرزمین پر قدم رکھا تو برطانیہ، جرمنی کے خلاف جنگ کرے گا۔ لیکن جرمن فوج نے اِس آگاہی پر دھیان نہ دیا اور ۴ اگست کو بیلجیئم کی سرحد پار کر لی۔ اب جنگ ٹل نہیں سکتی تھی کیونکہ تیر کمان سے نکل چکا تھا۔
’جدید دَور کا سب سے بڑا سیاسی المیہ‘
تاریخدان نارمن ڈیوِس نے لکھا: ”برطانیہ کا اعلانِجنگ وہ آخری بات تھی جو جدید دَور کے سب سے بڑے سیاسی المیے کا باعث بنی۔“ ایک اَور تاریخدان (ایڈمنڈ ٹیلر) نے لکھا کہ ۲۸ جولائی ۱۹۱۴ کے بعد ”یورپ میں ہنگامہآرائی اِس حد تک بڑھ گئی کہ عالمی جنگ کی نوبت آ گئی۔ بہت سارے واقعات بڑی تیزی سے ہو رہے تھے۔ . . . خبروں کی اتنی بھرمار تھی کہ بڑےبڑے دانشور بھی اِن کی سنگینی کو نہیں سمجھ پا رہے تھے۔“
پہلی عالمی جنگ میں ایک کروڑ ۳۰ لاکھ لوگ موت کا لقمہ بن گئے۔ جنگ سے پہلے زیادہتر لوگ روشن مستقبل کی توقع رکھتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ انسان فطری طور پر اچھائی کی طرف مائل ہے۔ لیکن پہلی عالمی جنگ نے اِن نظریات کو غلط ثابت کر دیا۔ قوموں نے نیانیا اسلحہ ایجاد کِیا اور اِسے بڑے پیمانے پر استعمال کِیا۔ تعلیمیافتہ لوگوں نے ایک دوسرے کو وحشیانہ طریقے سے قتل کرنا شروع کر دیا۔ یوں دُنیا بھر میں خون کا بازار گرم ہو گیا اور دُنیا ہمیشہہمیشہ کے لئے بدل گئی۔—بکس ”کیا عالمی جنگیں پیشینگوئیوں کی تکمیل ہیں؟“ کو دیکھیں۔
[فٹنوٹ]
a سن ۱۹۱۴ میں جو علاقہ بوسنیا کہلاتا تھا وہ آجکل بوسنیا اور ہرزیگووینا نامی ملک کا حصہ ہے۔
b دراصل پرینسیپ شہزادے کی بیوی کو نہیں بلکہ بوسنیا کے گورنر (جنرل پوٹیورک) کو قتل کرنا چاہتا تھا جو اُسی گاڑی میں بیٹھا تھا۔ لیکن اُس کا نشانہ غلط ہو گیا۔
[صفحہ ۲۸ پر بکس/تصویر]
کیا عالمی جنگیں پیشینگوئیوں کی تکمیل ہیں؟
خدا کے کلام میں بتایا گیا ہے کہ اِس دُنیا کے آخری زمانے میں جگہ جگہ جنگیں ہوں گی۔ (متی ۲۴:۳، ۷؛ مکاشفہ ۶:۴) آجکل دُنیابھر میں پہلے سے کہیں زیادہ جنگیں ہو رہی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم آخری زمانے میں رہ رہے ہیں۔ پاک صحیفوں کی پیشینگوئیوں کے مطابق اِن آخری دنوں کے بعد خدا کی بادشاہت زمین کی حکمرانی سنبھالے گی۔—دانیایل ۲:۴۴؛ متی ۶:۹، ۱۰۔
اِس کے علاوہ خدا کی بادشاہت شیطان اور اُس کی حمایت کرنے والے بُرے فرشتوں کے اثر کو بھی ختم کر دے گی۔ دُنیا کے بگڑے ہوئے حالات کے پیچھے اِنہی کا ہاتھ ہے۔ شیطان کے بارے میں پاک صحیفوں میں لکھا ہے کہ ”ساری دُنیا اُس شریر کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔“ (۱-یوحنا ۵:۱۹) لہٰذا شیطان ہی دُنیا پر ہونے والی بہت سی مصیبتوں کا ذمہدار ہے۔ بِلاشُبہ اُس نے واقعات کو ایسا رُخ دیا کہ پہلی عالمی جنگ چھڑ گئی۔—مکاشفہ ۱۲:۹-۱۲۔ c
[فٹنوٹ]
c آخری زمانے اور شیطان کی حمایت کرنے والے بُرے فرشتوں کے بارے میں مزید معلومات کے لئے کتاب پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں کو دیکھیں۔ آپ یہ کتاب یہوواہ کے گواہوں سے حاصل کر سکتے ہیں۔
[تصویر کا حوالہ]
U.S. National Archives photo
[صفحہ ۲۷ پر تصویر]
شہزادہ فرڈیننڈ کا قتل
[تصویر کا حوالہ]
Mary Evans Picture Library ©