درحقیقت بائبل کیا ہے؟
بعض لوگ بائبل کو ایک تاریخی کتاب خیال کرتے ہیں کیونکہ یہ ہزارہا سال سے خدا کے انسانوں کے ساتھ برتاؤ کی بابت بیان کرتی ہے۔ دیگر اسرائیلی قوم کو دئے جانے والے ۶۰۰ سے زائد عدالتی، خاندانی، اخلاقی اور مذہبی احکام کا حوالہ دیتے ہوئے بائبل کو اخلاقی اُصولوں پر مبنی کتاب کہتے ہیں۔ اِس کے علاوہ، بعض لوگ بائبل کو ایک روحانی رہبر کتاب بھی خیال کرتے ہیں جو خدا کی سوچ اور احساسات کو منعکس کرتی ہے۔
درحقیقت اُوپر بیانکردہ تمام باتیں درست ہیں۔ کیونکہ بائبل خود اپنے بارے میں بیان کرتی ہے: ”ہر ایک صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے تعلیم اور الزام اور اصلاح اور راستبازی میں تربیت کرنے کے لئے فائدہمند بھی ہے۔ تاکہ مردِخدا کامل بنے اور ہر ایک نیک کام کے لئے بالکل تیار ہو جائے۔“ (۲-تیمتھیس ۳:۱۶، ۱۷) بِلاشُبہ، خدا کے کلام میں درج تاریخی سرگزشتیں، احکامات اور روحانی مشورت نہایت بیشقیمت ہے۔
تاہم، بائبل محض مفید معلومات کا مجموعہ نہیں ہے۔ بائبل درحقیقت خدا کا الہامی کلام ہے۔ اِس میں ہماری روزمرّہ زندگی کے لئے خدا کی طرف سے عملی مشورت فراہم کی گئی ہے۔ یہ زمین اور انسانوں کے لئے یہوواہ خدا کے مقصد کو بھی آشکارا کرتی ہے۔ اِس کے علاوہ، یہ بیان کرتی ہے کہ خدا انسانی تکالیف کی وجوہات کو کیسے ختم کرے گا۔ سب سے بڑھکر، بائبل میں لکھا ہے کہ شیطان نے جانبوجھ کر خدا کے بارے میں غلطبیانی کی تھی۔ لیکن اِس میں یہ بھی بیان کِیا گیا ہے کہ خدا شیطان کے تمام اعتراضات کا جواب کیسے دے گا۔
خدا کے خلاف اعتراضات
بائبل بیان کرتی ہے کہ خدا نے آدم اور حوا کو ہر لحاظ سے کامل خلق کِیا تھا۔ اُس نے اُنہیں ایک شاندار ماحول میں رکھا۔ اِس کے علاوہ، خدا نے اُنہیں زمین اور جانوروں پر اختیار بھی بخشا۔ (پیدایش ۱:۲۸) خدا کے بچوں کے طور پر، آدم اور حوا زمین پر ہمیشہ تک زندہ رہ سکتے تھے۔ لیکن اِس کے لئے اُنہیں اپنے آسمانی باپ کی فرمانبرداری کرنی تھی۔ یہوواہ خدا نے اُنہیں صرف ایک بات سے منع کِیا تھا: ”تُو باغ کے ہر درخت کا پھل بےروکٹوک کھا سکتا ہے۔ لیکن نیکوبد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا کیونکہ جس روز تُو نے اُس میں سے کھایا تُو مرا۔“—پیدایش ۲:۱۶، ۱۷۔
تاہم، ایک روحانی مخلوق جس کی شناخت بائبل میں شیطان کے طور پر کرائی گئی ہے، اُس نے حوا سے کہا: ”تُم ہرگز نہ مرو گے۔“ (پیدایش ۳:۱-۵) یوں اِس روحانی مخلوق نے خدا کی بات کو رد کرتے ہوئے اُس پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا۔ اِس کے علاوہ، اُس نے حوا سے کہا کہ خدا کا حکمرانی کرنے کا طریقہ بھی درست نہیں اِس لئے انسان خدا کے بغیر زیادہ بہتر طور پر کام کر سکتا ہے۔ مزید اُس نے حوا سے کہا کہ پھل کھانے کے بعد وہ ”خدا کی مانند“ بن جائے گی! اِس طرح شیطان نے حوا کو قائل کر لیا کہ خدا کی بات نہ ماننے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا بلکہ وہ آزاد ہو جائے گی اور خود اپنے لئے اچھے اور بُرے کا فیصلہ کرنے کے قابل ہوگی۔ اِس طرح شیطان یہوواہ خدا کے نام پر رسوائی لایا اور اُس کے مقصد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
حوا کے ساتھ شیطان کی اِس باتچیت کے بڑے تکلیفدہ نتائج نکلے۔ درحقیقت، بائبل کا بنیادی موضوع یہوواہ خدا کا اپنے نام پر لائی گئی رسوائی کو مٹانا ہے۔ اِسی کا خلاصہ یسوع کی نمونے کی دُعا میں پیش کِیا گیا ہے۔ یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں کو یہ دُعا سکھائی تھی: ”تیرا نام پاک مانا جائے۔ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔“—متی ۶:۹، ۱۰۔
خدا کا اِن اعتراضات کا جواب دینا
شیطان نے چند بنیادی اعتراضات اُٹھائے تھے۔ لیکن جوکچھ یہوواہ خدا نے باغِعدن میں آدم سے کہا تھا کیا وہ سچ تھا یاپھر شیطان نے حوا سے جوکچھ کہا وہ سچ تھا؟ کیا یہوواہ خدا اپنی رعایا پر انصاف اور راستی سے حکومت کرتا ہے؟ کیا خدا انسانوں سے فرمانبرداری کی توقع کرنے کا حق رکھتا ہے؟ کیا انسان خدا سے الگ ہو کر بہتر طور پر حکمرانی کرنے کے قابل ہوں گے؟ اِن سوالات کا جواب دینے کے لئے یہوواہ خدا نے عارضی طور پر انسانوں کو حکمرانی کرنے کی اجازت دے دی۔
لیکن اِس کا کیا نتیجہ نکلا؟ جب سے شیطان نے باغِعدن میں پہلا جھوٹ بولا تب سے انسان مشکلات اور تکالیف کا سامنا کر رہے ہیں۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ شیطان جھوٹا ہے اور خدا سے آزاد ہو کر زندگی گزارنے کے تباہکُن نتائج نکلتے ہیں۔ تاہم، یہوواہ خدا بےپناہ محبت اور حکمت کا مالک ہے۔ اِسی وجہ سے اُس نے اپنے نام پر آنے والی رسوائی کو مٹانے کے لئے اُن تمام مشکلات کو ختم کرنے کا مقصد ٹھہرایا ہے جن کا آغاز باغِعدن میں ہوا تھا۔ خدا اپنے اِس مقصد کو مسیحائی بادشاہت کے ذریعے پورا کرے گا۔ یہ بادشاہت کیا ہے؟
خدا کی بادشاہت—مشکلات کا حل
لاکھوں لوگ باقاعدگی سے یسوع کی سکھائی ہوئی دُعا کو دُہراتے ہیں۔ کیوںنہ کچھ دیر کے لئے اِس دُعا کے الفاظ پر غور کریں؟ مثلاً، یسوع نے کہا: ”تیری بادشاہی آئے۔“ (متی ۶:۱۰) بعض لوگ سوچتے ہیں کہ یہ بادشاہت محض ایک دلی کیفیت ہے۔ مگر درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ اِسلئےکہ لفظ ”بادشاہ“ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک بادشاہت یا حکومت ہے۔ دراصل، یہ آسمانی بادشاہت ہے جس کا حکمران ”بادشاہوں کا بادشاہ“ یسوع مسیح ہے۔ (مکاشفہ ۱۹:۱۳، ۱۶؛ دانیایل ۲:۴۴؛ ۷:۱۳، ۱۴) بائبل بیان کرتی ہے کہ وہ پوری زمین پر حکمرانی کرے گا۔ وہ تمام لوگوں کے درمیان امن اور اِتحاد پیدا کرے گا اور زمین سے تمام بُرائی کو ختم کر دے گا۔ (یسعیاہ ۹:۶، ۷؛ ۲-تھسلنیکیوں ۱:۶-۱۰) یوں کسی انسانی حکومت کی بجائے خدا کی بادشاہت کے ذریعے یسوع مسیح کے اِن الفاظ کی تکمیل ہوگی: ”تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔“
اپنے اِن الفاظ کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے یسوع نے اپنی جان فدیے میں دے دی تاکہ آدم کی اولاد گُناہ اور موت سے چھٹکارا حاصل کر سکے۔ (یوحنا ۳:۱۶؛ رومیوں ۶:۲۳) لہٰذا، خدا کی بادشاہت میں مسیح کی قربانی پر ایمان ظاہر کرنے والے تمام لوگ آدم کے گُناہ کے اثرات کو ختم ہوتے اور انسانوں کو آہستہ آہستہ کاملیت تک پہنچتے دیکھیں گے۔ (زبور ۳۷:۱۱، ۲۹) اُس وقت تمام بیماریاں بھی ختم ہو جائیں گی جو خاص طور پر بڑھاپے کے دوران ہمیں کمزور کر دیتی ہیں۔ یہاں تک کہ بیماری اور موت کی وجہ سے انسانوں پر آنے والی جذباتی تکلیف بھی ’جاتی رہے‘ گی۔—مکاشفہ ۲۱:۴۔
ہم اِس بات کا یقین کیوں رکھ سکتے ہیں کہ خدا اپنے وعدوں کو ضرور پورا کرے گا؟ اِس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ بائبل میں موجود سینکڑوں پیشینگوئیاں پہلے ہی پوری ہو چکی ہیں۔ پس ہم بائبل پر اندھا اور غیرمنطقی ایمان نہیں رکھتے بلکہ یہ ٹھوس دلائل اور بیشمار شہادتوں پر مبنی ہے۔—عبرانیوں ۱۱:۱۔
ہمارے زمانے کے لئے عملی مشورت
بائبل ہمیں نہ صرف مستقبل کے لئے اُمید فراہم کرتی ہے بلکہ آج بھی ایک خوشحال زندگی گزارنے میں مدد دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، خدا کا کلام شادی، خاندانی زندگی، انسانی رشتےناطوں، خوشی کی تلاش اور دیگر بہت سے موضوعات کے متعلق عملی مشورت فراہم کرتا ہے۔ چند مثالوں پر غور کریں۔
◼ پہلے تولیں پھر بولیں۔ ”بےتامل بولنے والے کی باتیں تلوار کی طرح چھیدتی ہیں لیکن دانشمند کی زبان صحتبخش ہے۔“—امثال ۱۲:۱۸۔
◼ حسد نہ کریں۔ ”مطمئن دل جسم کی جان ہے لیکن حسد ہڈیوں کی بوسیدگی ہے۔“—امثال ۱۴:۳۰۔
◼ اپنے بچوں کی تربیت کریں۔ ”لڑکے کی اُس راہ میں تربیت کر جس پر اُسے جانا ہے۔ وہ بوڑھا ہو کر بھی اُس سے نہیں مڑے گا۔“ ”جو لڑکا بےتربیت چھوڑ دیا جاتا ہے اپنی ماں کو رسوا کرے گا۔“—امثال ۲۲:۶؛ ۲۹:۱۵۔
◼ معاف کریں۔ یسوع مسیح نے کہا: ”مبارک ہیں وہ جو رحمدل ہیں کیونکہ اُن پر رحم کِیا جائے گا۔“ (متی ۵:۷) دانشمند بادشاہ سلیمان نے لکھا: ”محبت سب خطاؤں کو ڈھانک دیتی ہے۔“ (امثال ۱۰:۱۲) اگر کسی نے آپ کے خلاف اتنا سنگین گُناہ کِیا ہے کہ آپ اِسے معاف کرنا یا بھلانا مشکل پاتے ہیں تو بائبل مشورت دیتی ہے: ”جا اور خلوت میں باتچیت کرکے اُسے سمجھا۔“—متی ۱۸:۱۵۔
◼ زر کی دوستی سے بچیں۔ ”زر کی دوستی ہر قسم کی بُرائی کی جڑ ہے جس کی آرزو میں بعض نے ایمان سے گمراہ ہو کر اپنے دلوں کو طرح طرح کے غموں سے چھلنی کر لیا۔“ (۱-تیمتھیس ۶:۱۰) غور کریں کہ بائبل زر یا روپےپیسے کو بُرا نہیں کہتی بلکہ ”زر کی دوستی“ سے منع کرتی ہے۔
ہمارے آسمانی باپ کی طرف سے ایک ”خط“
پس بائبل میں بہت سی باتیں درج ہیں۔ ہم نے غور کِیا کہ بائبل بنیادی طور پر خدا اور اُس کے مقصد کی بابت بیان کرتی ہے۔ تاہم، بائبل انسانوں کے بارے میں بھی بتاتی ہے۔ یہ بیان کرتی ہے کہ ہم خدا کی بادشاہت کے تحت اب اور ہمیشہ تک کیسے خوش رہ سکتے ہیں۔ یوں کہہ لیں کہ بائبل ہمارے ’آسمانی باپ‘ کی طرف سے ایک خط کی مانند ہے۔ (متی ۶:۹) اِس کے ذریعے یہوواہ خدا ہمیں اپنے بیشقیمت خیالات سے آگاہ کرتا اور اپنی مرضی اور عظیم ہستی کو ہم پر آشکارا کرتا ہے۔
بائبل کو پڑھنے اور اِس پر غوروخوض کرنے سے ہم خدا کو بالکل اُسی طرح ”دیکھنے“ لگتے ہیں جیسا وہ حقیقت میں ہے۔ ہم حقیقی معنوں میں یہوواہ خدا سے محبت کرنے لگتے ہیں اور یوں اُس کی قربت میں آ جاتے ہیں۔ (یعقوب ۴:۸) بائبل محض تاریخ، پیشینگوئیوں اور احکامات پر مشتمل کتاب ہی نہیں ہے۔ بائبل یہ بھی بیان کرتی ہے کہ ہم خدا کے ساتھ ایک ذاتی رشتہ قائم کر سکتے ہیں۔ اِسی بات نے بائبل کو ایک منفرد اور بیشقیمت کتاب بنا دیا ہے۔—۱-یوحنا ۴:۸، ۱۶۔
[صفحہ ۱۹ پر عبارت]
یسوع مسیح نے جو دُعا سکھائی اُس کے چند ابتدائی جملوں میں بڑے خوبصورت انداز میں بائبل کے موضوع کا خلاصہ پیش کِیا گیا ہے
[صفحہ ۲۱ پر بکس/تصویر]
بائبل کو پڑھنے کا طریقہ
بائبل ایک دلچسپ کتاب ہے۔ درحقیقت، اِس میں درج سرگزشتیں اور اخلاقی سبق اتنے مشہور ہیں کہ اِنہیں مختلف زبانوں کے ادب میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ بائبل ہمیں اپنے خالق یہوواہ خدا کو جاننے میں مدد دیتی ہے۔ یہ حکمت کا بہت بڑا خزانہ ہے۔ ایک بائبل مثل بیان کرتی ہے: ”حکمت افضل اصل ہے۔ پس حکمت حاصل کر بلکہ اپنے تمام حاصلات سے فہم حاصل کر۔“ (امثال ۴:۷) لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ کیسے بائبل کی پڑھائی سے بھرپور فائدہ اُٹھا سکتے ہیں؟
اُس وقت بائبل کی پڑھائی کرنے کا انتخاب کریں جب آپ کا دماغ تروتازہ ہے۔ مواد کی محض سطحی پڑھائی نہ کریں۔ آپ کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ خدا کے خیالات کو سمجھیں اور اِنہیں ذہننشین کریں۔ بائبل کی پڑھائی ختم کرنے کے بعد جوکچھ آپ نے پڑھا ہے اِس پر غوروخوض کریں۔ پھر اِس کا موازنہ اُن باتوں کے ساتھ کریں جو آپ پہلے سے جانتے ہیں۔ اِس سے آپ کی سمجھ اور خدا کے کلام کے لئے آپ کی قدردانی میں اضافہ ہوگا۔—زبور ۱۴۳:۵۔
بعض شاید سوچیں، ’مجھے بائبل کی پڑھائی کہاں سے شروع کرنی چاہئے؟‘ آپ پیدایش کی کتاب سے بائبل کی پڑھائی شروع کر سکتے ہیں۔ تاہم، پہلی مرتبہ بائبل پڑھنے والے بعض اشخاص متی، مرقس، لوقا اور یوحنا کی اناجیل سے شروع کرنا آسان پاتے ہیں کیونکہ اِن میں یسوع کی زندگی اور خدمتگزاری کی بابت بیان کِیا گیا ہے۔ بعض لوگ دلکش اور شاعرانہ انداز میں تحریرکردہ اور حکمت سے پُر زبور، امثال اور واعظ کی کتابوں کو پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ اِس کے بعد بائبل کے دیگر حصوں کو پڑھنے کے لئے آپ کی بھوک میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ (اِس سلسلے میں نیچے دئے گئے بکس کو دیکھیں۔) تاہم، یہ نظریہ نہ اپنائیں کہ آپ کو صرف یونانی صحائف ہی کو پڑھنا چاہئے جسے عام طور پر لوگ نیا عہدنامہ کہتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ ’ہر ایک صحیفہ خدا کے الہام سے ہے اور فائدہمند بھی ہے۔‘—۲-تیمتھیس ۳:۱۶۔
بائبل کا مطالعہ کرنے کا ایک مؤثر طریقہ اِسے مختلف موضوعات کے تحت پڑھنا ہے۔ مثال کے طور پر، یہوواہ کے گواہ بائبل کا مطالعہ کرنے میں مدد دینے والی ایک کتاب پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں کو مُنادی میں استعمال کرتے ہیں۔ اِس کتاب میں ”گھریلو زندگی کو خوشگوار بنانے کا نسخہ،“ ”خدا کو کس قسم کی عبادت قبول ہے؟“ اور ”مرنے پر کیا واقع ہوتا ہے؟“ جیسے موضوعات پر بات کی گئی ہے۔
[صفحہ ۲۱ پر بکس]
بائبل کو مختلف موضوعات کے تحت پڑھیں
زندگی کی ابتدا اور انسان کا گناہ میں پڑنا—پیدایش
ایک قوم کے طور پر اسرائیل کا منتخب کِیا جانا—خروج تا استثنا
تحریک دینے والی سرگزشتیں—یشوع تا آستر
پُراثر شاعری اور گیت—ایوب، زبور اور غزلالغزلات
عملی حکمت—امثال اور واعظ
پیشینگوئیاں اور اخلاقی راہنمائی—یسعیاہ تا ملاکی اور مکاشفہ
یسوع مسیح کی زندگی اور تعلیمات—متی تا یوحنا
مسیحیت کا آغاز اور توسیع—اعمال
کلیسیاؤں کے نام خطوط—رومیوں تا یہوداہ