بید کے درخت کی مختلف اقسام
چیک ریپبلک سے جاگو! کا نامہنگار
اس درخت کی ایک قسم سیدھی، پتلی اور لمبی جبکہ دوسری قسم لٹکی اور جھکی ہوئی ہوتی ہے۔ یہ درخت فرق شکلوں کے باوجود بید ہی کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں بید مجنوں، سفیدے اور چنارِلرزاں کے درخت شامل ہیں۔
بید کے درخت کی مختلف اقسام اکثر دریاؤں کے کنارے یا ندیوں کے آسپاس ملتی ہیں۔ چیک ریپبلک کے دلدلی علاقوں میں ان کی قلمیں بہت جلد پھوٹ نکلتی ہیں۔ بید کے بعض درخت ۳۰ میٹر (۱۰۰ فٹ) تک اُونچے ہو سکتے ہیں۔ بید کے درخت کی مختلف اقسام کے باریک لمبے پتے بڑی خوبصورتی سے لمبیلمبی ٹہنیوں کے ساتھ لٹکے ہوتے ہیں۔ جبکہ چمکدار بید اور امریکی بید کے پتے چوڑے اور بلی کے بالوں کی طرح نرموملائم ہوتے ہیں۔
اگرچہ بید کی ۳۵۰ سے زائد اقسام ہیں توبھی ان میں سے بید مجنوں خاص توجہ کا حامل ہے۔ اس کی ایک اَور قسم بید مشک ہے جو اپنے پشمنما پھولوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کے پھول پتوں سے بھی پہلے نکل آتے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ جب یہ پھول کھلتے ہیں تو بہار کی آمدآمد ہوتی ہے۔
بید کی وسیع اقسام
چیک کے دارالحکومت پراگ کے علاقے بوہمیا میں بید کی اقسام بکثرت نظر آتی ہیں۔ سفیدے کی کم سے کم ۳۵ اقسام ہیں اور یہ تمام بید ہی کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان میں سیاہ بید بہت عام ہے جو کہ بوہمیا کے علاقے میں ندیوں اور نمی والی جگہوں کے قریب اُگتا ہے۔ سیاہ بید کی ایک قسم اطالوی سفیدہ کے نام سے مشہور ہے جس کی شاخیں پتلے تنے کے ساتھ ساتھ اُوپر کو بڑھتی ہیں۔ یہ خوبصورت درخت ۳۵ میٹر (۱۱۵ فٹ) تک اُونچا ہو سکتا ہے جو ایک ۱۱ منزلہ عمارت کے برابر ہے۔ اطالوی سفیدہ سڑکوں کے کنارے اور دیہی علاقوں میں خوبصورت منظر پیش کرتا ہے۔ خاص طور پر جب موسمِخزاں میں اس کے پتے زرد ہو جاتے ہیں تو یہ اَور بھی خوشنما لگنے لگتا ہے۔
بید کی ایک اَور قسم چنارِلرزاں ہے۔ یہ درخت بہت زیادہ اُونچے نہیں ہوتے لیکن جوںجوں ان کی شاخیں اُوپر کو جاتی ہیں یہ پتلی ہوتی جاتی ہیں۔ چنارِلرزاں کی ایک اَور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس کے پتے ہوا کی ہلکی سی جنبش سے بھی لہرانے لگتے ہیں۔
کیا بائبل میں بید کے درخت کا ذکر ملتا ہے؟
یہ مت سوچئے کہ بید کا درخت صرف مشرقِوسطیٰ کے جنوب میں پایا جاتا ہے۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ اسرائیلیوں نے بابل کی غلامی کے دوران اپنے ستار بید کے درختوں پر لٹکا دئے تھے۔ (زبور ۱۳۷:۲) اُنہوں نے ایسا کیوں کِیا تھا؟ اگرچہ ستار یہوواہ کی حمد میں استعمال ہونے والا ایک ساز تھا توبھی اسرائیلی بابل کی غلامی کے باعث غمزدہ تھے۔ اسی وجہ سے اُنہوں نے اپنے ستاروں کو بجانے کی بجائے درختوں پر لٹکا دیا تھا۔ (یسعیاہ ۲۴:۸، ۹) خدا کا کلام یہ بھی بتاتا ہے کہ عیدِخیام کے موقع پر بید کی ڈالیاں کاٹ کر اس سے خیمے بنائے جاتے تھے۔ (احبار ۲۳:۴۰) بائبل میں ایوب کی کتاب نڈر ہپوپوٹیمس کے بارے میں بیان کرتی ہے کہ ”نالے کی بیدیں اُسے گھیر لیتی ہیں۔“—ایوب ۴۰:۲۲۔
آجکل بھی بید اور سفیدے کے درخت تجارتی مصنوعات بنانے کے کام آتے ہیں۔ عام طور پر سفیدے کے درخت سے پلائیوڈ، ٹوکرے، گتے کے ڈبے اور دیگر کاغذی مصنوعات بنائی جاتی ہیں۔ بید کا درخت اپنی افادیت کی وجہ سے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ دستکار اس کی لچکدار ٹہنیوں سے ٹوکریاں اور فرنیچر بناتے ہیں۔ واقعی، بید درختوں کی مختلف اقسام سے تعلق رکھتا ہے!
[صفحہ ۱۶ پر تصویر]
بید مجنوں
[صفحہ ۱۶ پر تصویر]
چنارِلرزاں کے پتے
[صفحہ ۱۶ پر تصویر]
اطالوی سفیدہ
[صفحہ ۱۶ پر تصویر]
بید مشک
[صفحہ ۱۶ پر تصویر]
سیاہ بید