یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو06ء جولائی ص.‏ 18-‏20
  • ایک خوبصورت روایتی باغ

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ایک خوبصورت روایتی باغ
  • جاگو!‏—‏2006ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • چھوٹا سا جنگل‌نما باغ
  • کری‌اول گارڈن کی سیر
  • ایک خوب‌صورت باغ
    پاک کلام کی سچی کہانیاں
  • کیا واقعی باغِ‌عدن جیسی کوئی جگہ تھی؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2011ء
جاگو!‏—‏2006ء
جاگو06ء جولائی ص.‏ 18-‏20

ایک خوبصورت روایتی باغ

گوادےلوپ سے جاگو!‏ کا نامہ‌نگار

وہ ایک خوبصورت جگہ پر رہتے تھے مگر اُس کی خصوصیات سے مستفید نہ ہو سکے۔ ہوا یوں کہ سترویں صدی سے شروع کرکے ہزاروں افریقیوں کو اُن کے ملکوں سے نکال کر امریکہ کے جزیروں گوادےلوپ اور مارتینیق میں آباد کر دیا گیا۔ اس کے بعد اُن کی باقی‌ماندہ زندگی اِن ہی جزائر میں گنے کے کھیتوں میں مزدوری کرتے گزر گئی۔‏

کھیتوں کے مالکان کی اکثریت غلاموں کے لئے خوراک فراہم نہیں کرتی تھی بلکہ اُنہیں خود ہی اپنے لئے خوراک کا بندوبست کرنا پڑتا تھا۔ اس طرح اگرچہ اُنہیں زیادہ محنت کرنی پڑتی تھی توبھی وہ اپنی پسند کا اناج اُگانے سے بہت خوش تھے۔ وہ غذائیت سے بھرپور ایسے پودے کاشت کرنے لگے جو شاید اُن کے مالکوں کی طرف سے ملنے والی خوراک سے حد درجہ بہتر تھے۔ ان میں اروی، کچالو، شکرقندی اور اسی طرح کے دیگر پودے شامل تھے۔ وہ علاج کے لئے جڑی‌بوٹیاں اور کھانے میں استعمال ہونے والے مختلف مصالحے بھی کاشت کرتے تھے۔‏

سن ۱۸۴۸ میں فرانسیسی حکومت نے ان جزائر پر آباد تمام غلاموں کو آزاد کر دیا مگر اس کے باوجود اُنہوں نے اپنے ذاتی باغات لگانے کی روایت کو جاری رکھا۔ آج بھی گوادےلوپ اور مارتینیق میں آباد جفاکش افریقیوں کی اکثریت ایسے باغات لگاتی ہے جنہیں کری‌اول گارڈن کہا جاتا ہے۔‏

چھوٹا سا جنگل‌نما باغ

عام طور پر یہ لوگ سبزیاں گھروں سے تھوڑے فاصلے پر اُگاتے تھے اور ”‏باغیچہ“‏ یعنی کری‌اول گارڈن گھر کے ساتھ ہی ہوتا تھا۔ آج بھی ایسے باغیچے میں مختلف قسم کے پھول، گھاس، درخت اور سرسبز گھنی جھاڑیاں لگائی جاتی ہیں۔ ہر طرف ہریالی دیکھ کر شاید آپ کو محسوس ہو کہ باغ خوبصورت تو ہے مگر بہت ہی بے‌ترتیب۔ مگر درحقیقت یہ باغ بہت ہی ترتیب سے تیار کِیا گیا ہے اور اسے مختلف حصوں میں تقسیم بھی کِیا گیا ہے۔ اس میں موجود چھوٹی چھوٹی پگ‌ڈنڈیاں باغبان کو پودوں کے قریب جانے کا راستہ مہیا کرتی ہیں۔‏

باغ پچھواڑے سے شروع ہو کر گھر کے آگے تک پھیلا ہوتا ہے۔ جب مہمان گھر میں داخل ہوتے ہیں تو خاندان اُنہیں رنگ‌برنگے کروٹون، تُرم‌بیل، صراحی‌دار پھولوں، بوگن‌ویلیا اور افریقی سنبل کے درمیان خوش‌آمدید کہتا ہے۔‏

کری‌اول گارڈن کے دوسرے حصے میں علاج‌معالجے کیلئے جڑی‌بوٹیاں لگائی جاتی ہیں۔ انہیں اکثر گھر کے اندر سایہ‌دار جگہ پر اُگایا جاتا ہے۔ اس جزیرے کی روایتی جڑی‌بوٹیوں میں تلسی، دارچینی، تھاروبوٹی اور تیج‌پات وغیرہ شامل ہیں۔ اس باغ میں لیمن‌گراس بھی اُگائی جاتی ہے اور اس کے خشک پتوں کو جلانے سے مچھر گھر میں داخل نہیں ہوتے۔‏

جزیرے کے زیادہ‌تر لوگ جڑی‌بوٹیوں کی بابت علم کی بڑی قدر کرتے ہیں۔ ماضی میں جب کوئی بیمار یا زخمی ہو جاتا تو ڈاکٹر تک پہنچنا بہت مشکل ہوتا تھا۔ ایسی صورت میں لوگ کری‌اول گارڈن کی جڑی‌بوٹیوں سے خود ہی اپنا علاج کر لیا کرتے تھے۔ آج بھی ان پودوں کو ادویات کے طور پر استعمال کِیا جاتا ہے۔ مگر یاد رکھیں کہ اپنی مرضی سے علاج کے لئے جڑی‌بوٹیاں استعمال کرنا کبھی‌کبھار خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ اگر انجانے میں کوئی غلط جڑی‌بوٹی استعمال کر لی جائے تو مریض کو آرام آنے کی بجائے تکلیف بڑھ سکتی ہے۔ پس آجکل اس جزیرے کے رہنے والے بھی اُن ہی لوگوں سے علاج کراتے ہیں جو جڑی‌بوٹیوں کے موزوں استعمال سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں۔‏

کری‌اول گارڈن کا خاص حصہ گھر کے پچھلی طرف ہوتا ہے جس میں خوراک کے لئے استعمال ہونے والے پودے کاشت کئے جاتے ہیں۔ جس میں شکرقندی، بینگن، مکئی، امرنت، سلاد اور دیگر فصلوں کے علاوہ کھانے میں استعمال ہونے والے مصالحے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں آپ کو ثمرنان، مگرناشپاتی، امرود، آم اور کیلے کے درخت بھی دکھائی دیں گے۔‏

کری‌اول گارڈن کی سیر

جب آپ کری‌اول گارڈن کے قریب سے گزرتے ہیں تو شاید آپ اس کی خوبصورتی سے متاثر ہوکر اندر جانے کی تحریک پائیں۔ اندر داخل ہونے کے بعد آپ پھولوں کی ترتیب اور اُن کے رنگوں کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس کے علاوہ ہوا کے جھونکوں کے ساتھ ایسی ملی‌جلی خوشبو آتی ہے جس کا مقابلہ عطر کی خوشبو بھی نہیں کر سکتی۔ واقعی، یہاں کی سیر نے آپ کا دل خوش کر دیا ہے۔ لیکن ذرا اِس باغ کے مالک کی خوشی کا تصور کریں جو ہر روز یہاں وقت گزارتا ہے!‏

کیا لوگ روایتی کری‌اول گارڈن کاشت کرتے رہیں گے؟ جزیرے پر آباد بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نئی نسل ایسی خوبصورت روایت کو جاری رکھنے میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہی۔ تاہم، بعض نوجوان اور عمررسیدہ لوگ باغ کی خوبصورتی اور اس کی ثقافتی اہمیت کی بہت قدر کرتے ہیں۔ کری‌اول گارڈن اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ افریقی غلاموں نے ناسازگار حالات کا کیسے مقابلہ کِیا تھا۔‏

‏[‏صفحہ ۱۹ پر بکس]‏

‏”‏کری‌اول“‏ کا مطلب کیا ہے؟‏

اصل میں لفظ ”‏کری‌اول“‏ امریکہ میں پیدا ہونے والے اُن بچوں کی طرف اشارہ ہے جو یورپیوں کی اولاد ہیں۔ لیکن اس لفظ کو بہت سے معنی دے دئے گئے ہیں۔ ہیٹی کے بعض لوگ کسی خوبصورت اور معیاری چیز کو بیان کرنے کے لئے لفظ ”‏کری‌اول“‏ استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ جمیکا، ہیٹی اور بعض دیگر علاقوں میں بولی جانے والی زبان کو بھی کری‌اول کہا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر، کری‌اول ایک ملی‌جلی زبان ہے جو بہت سے گروہوں کی بولی بن گئی ہے۔‏

”‏کری‌اول“‏ امریکہ کے بہت سے جزائر کی علاقائی ثقافت اور طرزِزندگی کی پہچان بن گیا ہے۔ پورٹو ریکو اور ڈومینیکن جمہوریہ میں اسی طرح کا ایک ہسپانوی لفظ کری‌اولو کا بھی یہی مطلب ہے۔ امریکہ کے جزائر میں، افریقیوں اور یورپیوں نے آپس میں شادیاں کر لی ہیں۔ ان سے نہ صرف خوبصورت بچوں نے بلکہ ایک ملی‌جلی ثقافت نے بھی جنم لیا ہے۔ ایسی ثقافتوں کی بدولت ہی گوادےلوپ اور مارتینیق میں کری‌اول گارڈن کا نام پڑا۔‏

‏[‏صفحہ ۲۰ پر تصویریں]‏

تصاویر (‏اُوپر سے نیچے کی طرف)‏:‏ الپینیا، کالی مرچ، انناس، کوکوا اور کافی

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں