چشمکدار دُم والا خوبصورت پرندہ
بھارت سے جـاگـو! کا رائٹر
آپ عنوان ہی سے سمجھ گئے ہونگے کہ ہم مور کی بات کر رہے ہیں۔ یقیناً، مور لمبے پَروں والی دُم کیلئے دُنیابھر میں مشہور ہے۔a تاہم، کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یہ شاندار دُم کیا کام انجام دیتی ہے اور یہ پرندہ اپنی خوبصورتی کے علاوہ اَور بھی کوئی خوبی رکھتا ہے؟
مور کا تعلق تیتر کے خاندان سے ہے اور اسکی تین بنیادی نسلیں ہیں۔ ہم اپنی توجہ ہندوستانی یا عام مور پر مرتکز رکھینگے جسکی رنگت کائینما، لمبائی ۸۰ سے ۹۲ سینٹیمیٹر اور دُم ۶۰ اِنچ لمبی ہوتی ہے۔ دُم کے پَر سبز اور سنہری ہوتے ہیں اور ان پر نیلے اور کاسنی رنگ کے آنکھنما نشان ہوتے ہیں۔ جسم کے پَر زیادہتر دھاتی نیلگوں سبز ہوتے ہیں۔
مور باضابطہ طور پر بھارت کا قومی پرندہ واقعی پُروقار نظر آتا ہے۔ غالباً اسی لئے بعض زبانوں میں متکبر لوگوں کیلئے ”مور کی طرح مغرور“ ہونے کا اظہار استعمال کِیا جاتا ہے۔ تاہم، اس پرندے کی بےرُخی محض نظر کا دھوکا ہے۔ درحقیقت اسے آسانی سے سدھایا جا سکتا ہے۔ بعض لوگ مور کو مُقدس خیال کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے بھارتی کسان بعضاوقات ان پرندوں کے ذریعے اپنے کھیتوں کو پہنچنے والے نقصان کو برداشت کرتے ہیں۔
انکے شاندار مظاہرے
واقعی، مور اپنے لمبے پَروں کو ایک رنگبرنگے پنکھے کی شکل میں پھیلا کر شاندار مظہر پیش کرنے کیلئے مشہور ہیں۔ اس مظاہرے کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ بدیہی طور پر اسکا تعلق مورنیوں کو متاثر کرنے سے ہوتا ہے۔
مورنی انتخاب کے معاملے میں بلند معیار رکھتی ہے لیکن شوخچشم مور اُسکی کمزوری ہیں۔ مور کی شاندار رنگوں اور آنکھنما نشانوں والی پنکھے کی شکل میں پھیلی ہوئی دُم مورنی کی پوری توجہ حاصل کرتی ہے۔ وہ سب سے بہترین نظارہ پیش کرنے والے مور کو اپنا ساتھی بنانا چاہتی ہے۔
تاہم، پَر پھیلانا اس مظاہرے کا محض ایک حصہ ہے۔ مور سب سے پہلے اپنی لمبی دُم کو پھیلاتا اور اسے آگے کی طرف جھکاتا ہے۔ اسکے بعد وہ اپنا مشہور جاذبِتوجہ ناچ شروع کرتا ہے۔ جب وہ اپنے بدن کو ہلاتا ہے تو اُسکے سرخی مائل خاکی رنگ کے بازو اُس کے دونوں طرف جھکے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اُس کے سیدھے کھڑے ہوئے پَر سرسرانے کی آواز پیدا کرتے ہیں۔ وہ زوردار اُونچی آوازیں بھی نکالتا ہے۔ یہ آواز سُریلی تو نہیں ہوتی لیکن اس سے مورنی کو یہ پتا ضرور چل جاتا ہے کہ مور اُسے پسند کرتا ہے۔
بعضاوقات مورنی کسی حد تک مور کے کرتب کی نقل کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن اکثر غیردلچسپی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ اسکے باوجود، سب سے شوخ مور اسکا دل جیت لیتا ہے۔ ایک مور کمازکم پانچ مورنیوں کیساتھ رہ کر ایک سال میں تقریباً ۲۵ بچے پیدا کر سکتا ہے۔
مور کی خاندانی زندگی
نسلکشی کے موسم کے بعد، پَروں کے جھڑنے کا وقت آتا ہے۔ اوسطاً، ایک بالغ کے ۲۰۰ سے زائد لمبے پَر ہوتے ہیں۔ بھارت کے دیہاتی انہیں مغربی ممالک بھیجنے کیلئے جمع کِیا کرتے تھے لیکن بعدازاں انکی برآمد پر پابندی عائد کر دی گئی تاکہ اس نسل کی حفاظت کی جا سکے۔ تاہم، مقامی طور پر، اب بھی انکے پَروں سے پنکھے اور دیگر پُرکشش چیزیں بنائی جاتی ہیں۔
شام کے وقت مور رات گزارنے کیلئے موزوں جگہ کی تلاش میں آہستہ آہستہ اُونچے درختوں پر چڑھنے لگتے ہیں۔ صبح کے وقت وہ پھر دھیرے دھیرے نیچے اُتر آتے ہیں۔ یہ پرندے اپنی خوبصورتی سے آپکی آنکھوں کو لبھا سکتے ہیں لیکن انکے گانے کی آواز اس معیار پر پوری نہیں اُترتی۔ جبتک یہ پرندے کھانے کی تلاش شروع نہیں کرتے انکی دردبھری پکار شام کے پُرسکون ماحول کو خراب کرتی رہتی ہے۔
مور ہر چیز کھا لیتے ہیں۔ انکی غذا میں حشرات، چھپکلیاں اور بعضاوقات چھوٹے سانپوں کے علاوہ بیج، اناج، پھلیاں اور پودوں کی نرم جڑیں بھی شامل ہوتی ہیں۔
بظاہر اپنی خوبصورتی پر ناز کرنے والے مور ایک دوسرے کی بڑی حفاظت کرتے ہیں۔ شکار کی تلاش کرنے والی بلی کو دیکھکر مور ممکنہ خطرے کی آگاہی دینے کیلئے زور زور سے چلّاتا ہوا جنگل میں بھاگتا ہے۔ دیگر مور بھی اس عمل میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ حیرانکُن تیزرفتاری کیساتھ ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ تاہم، مورنیاں خطرناک صورتحال میں بھی اپنے بچوں کو اکیلا نہیں چھوڑتیں۔
مور کی لمبی دُم اسکی رفتار کو تو کم نہیں کرتی لیکن جب یہ اُڑنے لگتا ہے تو یہ کسی حد تک رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔ تاہم، ایک بار اُڑنا شروع کرنے کے بعد مور اپنے پَروں کو بڑی تیزی سے پھڑپھڑاتا ہوا تیزرفتاری کیساتھ اُڑتا ہے۔
آٹھ ماہ کی عمر میں بچے اپنے والدین کو چھوڑ کر اپنی دیکھبھال خود کرنے لگتے ہیں۔ انکے جانے سے ماں کو اگلی نسل کی پرورش کرنے کیلئے تیاری کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ آٹھ ماہ کی عمر میں مور کے خوبصورت لمبے پَر نکلنے لگتے ہیں تاہم چار سال کی عمر میں ان کی نشوونما مکمل ہو جاتی ہے۔ اسکے بعد وہ اپنا خاندان شروع کرنے کیلئے تیار ہوتے ہیں۔
مور کی تاریخ
مور قدیم یونان، روم اور بھارت کے باغوں کی زینت ہوا کرتے تھے۔ ہزاروں سال تک مور بھارت کے شاہی محلوں کے فنپاروں میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ واقعی، تختِطاؤس بھارت کے اہمترین قیمتی اثاثوں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق، اسکی تہہ بیشمار ہیروں سے بنی تھی جس میں ۱۰۸ یاقوت اور ۱۱۶ زمرد جڑے تھے۔ چھت پر ایک سنہری مور بنا تھا جسکی وجہ سے اسے یہ نام دیا گیا تھا۔ اس تخت کو اہم تقریبات پر استعمال کرنے کیلئے بنایا گیا تھا۔
بائبل تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ بادشاہ سلیمان کی قیمتی اشیا کی درآمدات میں مور بھی شامل تھے۔ اُس کے شاہی باغیچوں میں مور کی آوازوں کا تصور کرنا دلچسپی کا حامل ہے۔ (۱-سلاطین ۱۰:۲۲، ۲۳) واقعی یہ پرندے ہمیں ایک ذہین نمونہساز کی موجودگی کا یقین دلاتے ہیں۔ جب مور اپنے شاندار رنگوں والے لمبے پَر پھیلا کر ناچتا ہے تو کوئی بھی شخص یہوواہ خدا کی فنی صلاحیتوں کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا جس نے ”سب چیزیں پیدا کیں“ ہیں۔—مکاشفہ ۴:۱۱۔
[فٹنوٹ]
a یہ پَر اسکی دُم کی بجائے اسکی کمر سے اُگتے ہیں۔ لیکن مور اپنے لمبے پَروں کو پھیلانے کیلئے اپنی دُم کے پَروں کو استعمال کرتا ہے۔
[صفحہ ۲۴ پر تصویر]
مورنی ہمیشہ مور کے ناچ سے متاثر نہیں ہوتی
[تصویر کا حوالہ]
D. Cavagnaro\Visuals Unlimited ©
[صفحہ ۲۵ پر تصویر]
مورنیاں اچھی مائیں ثابت ہوتی ہیں
[تصویر کا حوالہ]
2001 Steven Holt\stockpix.com ©
[صفحہ ۲۴ پر تصویر کا حوالہ]
Peacock: Lela Jane Tinstman\Index Stock Photography
[صفحہ ۲۵ پر تصویر کا حوالہ]
John Warden\Index Stock Photography