اِس شمارے میں
مارچ ۲۰۰۲ء
پناہگزین کیا اُنہیں کبھی گھر نصیب ہوگا؟ ۳-۱۳
دُنیابھر میں لاکھوں پناہگزین بےیارومددگار دربدر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔ اُن میں سے بہتیرے کبھی بھی وہ تحفظ حاصل نہیں کر پاتے جسکے وہ متلاشی ہیں۔ کیا کبھی ایسا وقت آئیگا جب ہر شخص کے پاس اپنا گھر ہوگا؟
۶ ایسی جگہ کی تلاش جسے وہ اپنا گھر کہہ سکیں
۱۱ ایک ایسی دُنیا جو سب کیلئے ہوگی
۱۴ زیبرا—افریقہ کا جنگلی گھوڑا
۳۲ ”براہِمہربانی میری مدد کیجئے! آپ ہی میری واحد اُمید ہیں“
جارجیا میں مذہبی اذیت—کب تک جاری رہیگی؟ ۱۸
اس مُلک میں یہوواہ کے گواہوں کو مارپیٹ اور پُرتشدد دھمکیوں کا نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟
پُراسرار کاموں سے دل بہلانے میں کیا بُرائی ہے؟ ۲۵
بہت سے نوجوان پُراسرار کاموں کے سلسلے میں متجسس ہوتے ہیں۔ کیا اسے محض وقت گزاری کہا جا سکتا ہے یا کیا اس میں خطرات پنہاں ہیں؟
[سرِورقکی تصویر]
کور: روانڈا کے پناہگزین اپنے مُلک واپس لوٹتے ہیں
[تصویر کا حوالہ]
UNHCR/R. Chalasani
[صفحہ ۲، ۳ پر تصویر]
صفحہ ۲ اور ۳: ایتھیوپیا کے پناہگزین ہنگامی صورتحال کے تحت خوراک اور پانی کی رسد کے منتظر ہیں
[تصویر کا حوالہ]
UN PHOTO 164673/JOHN ISAAC