یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو01 8/‏12 ص.‏ 4-‏9
  • جوڑوں کے درد کو سمجھنا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • جوڑوں کے درد کو سمجھنا
  • جاگو!‏—‏2001ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • جوڑ کی ساخت
  • ریموٹائڈ آرتھرائٹس
  • اوسٹیوآرتھرائٹس
  • علاج
  • آرتھرائٹس کے ساتھ گزر کرنا سیکھنا
    جاگو!‏—‏1993ء
  • جوڑوں کا درد—‏معذور کر دینے والا مرض
    جاگو!‏—‏2001ء
  • جوڑوں کے درد میں مبتلا مریضوں کیلئے امید
    جاگو!‏—‏2001ء
  • اِس شمارے میں
    جاگو!‏—‏2001ء
مزید
جاگو!‏—‏2001ء
جاگو01 8/‏12 ص.‏ 4-‏9

جوڑوں کے درد کو سمجھنا

‏”‏مَیں رات کے وقت اپنے ٹیڑے پاؤں اور ہاتھ دیکھ کر آنسو بہاتی ہوں۔“‏—‏مادوری، جاپان۔‏

کئی صدیوں سے جوڑوں کے درد نے انسانوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ حنوط‌شُدہ مصری لاشوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بیماری صدیوں پہلے بھی موجود تھی۔ سیاح کرسٹوفر کولمبس بدیہی طور پر اِسی مرض میں مبتلا تھا۔ نیز، آجکل بھی لاکھوں لوگ اِس کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن یہ معذور کر دینے والا مرض درحقیقت کیا ہے؟‏

جوڑوں کے درد کے لئے انگریزی لفظ ”‏آرتھرائٹس“‏ یونانی الفاظ بمعنی ‏”‏متورم جوڑوں“‏ سے لیا گیا ہے اور اسی قسم کی ۱۰۰ سے زائد بیماریوں یا حالتوں سے وابستہ ہے۔‏a یہ بیماریاں جوڑوں کے علاوہ عضلات، ہڈیوں، وتروں اور نسیج کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔ جوڑوں کے درد کی بعض اقسام جِلد، اندرونی اعضا اور آنکھوں کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ آئیے دو ایسی بیماریوں—‏ریموٹائڈ آرتھرائٹس (‏RA)‏ اور اوسٹیوآرتھرائٹس (‏OA)‏—‏پر غور کریں جنہیں اکثر جوڑوں کے درد سے وابستہ خیال کِیا جاتا ہے۔‏

جوڑ کی ساخت

دو ہڈیوں کے جڑنے کی جگہ کو جوڑ کہتے ہیں۔ زلالی جوڑ کے گِرد ایک سخت جھلی ہوتی ہے جو اس کی حفاظت کرتی اور اِسے سہارا دیتی ہے۔ (‏صفحہ ۴ پر تصویر دیکھیں۔)‏ جوڑ کے گِرد یہ جھلی ایک اَور زلالی جھلی سے جڑی ہوتی ہے۔ اس جھلی سے لیس‌دار سیال مادہ خارج ہوتا ہے۔ جوڑ کے گِرد جھلی میں دو ہڈیوں کے سرے ایک ملائم لچکدار نسیج سے ڈھکے ہوتے ہیں جسے کُرکری ہڈی [‏غضروف]‏ کہتے ہیں۔ یہ آپکی ہڈیوں کو آپس میں رگڑ کھانے اور گھسنے سے بچاتا ہے۔ غضروف آپکی ہڈیوں کے سروں میں ایک گدے کا کام انجام دیتا ہے اور جھٹکے کی شدت کو جذب کرتے ہوئے اِسے یکساں طور پر دیگر ہڈیوں میں منتقل کر دیتا ہے۔‏

مثال کے طور پر، جب آپ چلتے، بھاگتے یا اُچھلتے‌کودتے ہیں تو آپکے کولہوں اور گھٹنوں پر آپکے وزن کی نسبت آٹھ گُنا زیادہ دباؤ پڑتا ہے!‏ اگرچہ اس دباؤ کا بیشتر حصہ آس‌پاس کے عضلات اور وتروں میں جذب ہو جاتا ہے توبھی غضروف ایک سپنج کی مانند کام کرنے سے آپکی ہڈیوں کو یہ بوجھ برداشت کرنے میں مدد دیتا ہے۔‏

ریموٹائڈ آرتھرائٹس

ریموٹائڈ آرتھرائٹس (‏RA)‏ میں جسم کا مدافعتی نظام جوڑوں پر حملہ‌آور ہوتا ہے۔ بعض نامعلوم وجوہات کی بِنا پر، جسم کے مدافعتی نظام میں اہم کردار ادا کرنے والے ٹی خلیوں سمیت خون کے خلیے بڑی مقدار میں جوڑ کے جوفوں میں گھس جاتے ہیں۔ اس سے کیمیائی عوامل کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جس سے جوڑ میں سوزش ہو جاتی ہے۔ زلالی خلیوں میں بیحد اضافے کے باعث نسیجوں پر مشتمل ایک چادر سی تشکیل پاتی ہے جسے غباری پردہ کہتے ہیں۔ یہ غباری پردہ پھر نقصاندہ خامرے پیدا کرتا ہے جو غضروف کو تباہ کر دیتے ہیں۔ اسطرح ہڈیوں کی سطح ایک دوسرے کیساتھ جڑ جاتی ہے اور حرکت میں دِقت اور سخت تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ یہ تباہ‌کُن عمل رباط، وتروں اور عضلات کو بھی کمزور کرتا ہے جس سے جوڑ غیرمستحکم ہوکر اپنی جگہ سے ہل جاتے ہیں اور یوں متعلقہ اعضا بدشکل ہو جاتے ہیں۔ عموماً ریموٹائڈ آرتھرائٹس ترتیب‌وار کلائیوں، گھٹنوں اور پھر پاؤں کے جوڑوں کو متاثر کرتا ہے۔ ریموٹائڈ آرتھرائٹس کے مریضوں میں سے ۵۰ فیصد کی جِلد میں گومڑ یا اُبھار بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ بعض کو انیمیا، آنکھوں اور گلے میں خشکی اور درد کی شکایت ہو جاتی ہے۔ ریموٹائڈ آرتھرائٹس تھکاوٹ اور نزلے کے علاوہ بخار اور عضلاتی درد کا باعث بھی بنتا ہے۔‏

دراصل، ریموٹائڈ آرتھرائٹس کی ابتدا اور مدت ہمیشہ مختلف ہوتی ہے۔ ایک شخص میں درد اور جوڑوں کی سختی ہفتوں اور شاید سالوں کے دوران آہستہ‌آہستہ پیدا ہوتی ہے جبکہ کسی دوسرے شخص میں اسکی ابتدا فوراً ہی ہو جاتی ہے۔ بعض لوگوں میں، ریموٹائڈ آرتھرائٹس چند ماہ رہنے کے بعد زیادہ نقصان پہنچائے بغیر ہی ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن دیگر میں اسکی سنگین علامات دفعتہً ظاہر ہوتی ہیں لیکن بعد میں عارضی کمی سے وہ کچھ بہتر محسوس کرنے لگتے ہیں۔ بعض مریض ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں یہ مرض کئی سال ستاتا اور معذور کر دیتا ہے۔‏

کون ریموٹائڈ آرتھرائٹس کا شکار ہو سکتے ہیں؟ ڈاکٹر مائیکل شیف کے مطابق ”‏اُدھیڑعمر خواتین اس کا خاص نشانہ بنتی ہیں۔“‏ تاہم، شیف مزید بیان کرتا ہے کہ ”‏یہ روگ کسی بھی عمر میں کسی کو بھی لگ سکتا ہے۔“‏ جن لوگوں کے خاندان میں ریموٹائڈ آرتھرائٹس کا مرض ہو اُنہیں خاص طور پر خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ بہتیرے مشاہدات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ تمباکونوشی، موٹاپا اور انتقالِ‌خون کا ریکارڈ اس مرض میں مبتلا ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔‏

اوسٹیوآرتھرائٹس

‏”‏اوسٹیوآرتھرائٹس“‏ کی بابت ویسٹرن جرنل آف میڈیسن بیان کرتا ہے کہ ”‏یہ کئی لحاظ سے موسم کی طرح ہر جگہ موجود ہونے کے علاوہ اکثر پوشیدہ رہتا ہے مگر اسکے اثرات نہایت عمیق اور شدید ہوتے ہیں۔“‏ ریموٹائڈ آرتھرائٹس کے برعکس، اوسٹیوآرتھرائٹس (‏OA)‏ عموماً جسم کے بیشتر حصوں کی بجائے صرف ایک یا چند جوڑوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ جب غضروف رفتہ‌رفتہ متاثر ہو جاتا ہے تو ہڈیاں آپس میں رگڑ کھانے لگتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہڈیوں میں ذیلی افزائش شروع ہو جاتی ہے جسے اوسٹیوفائٹس کہتے ہیں۔ اِس سے آبلے بنتے ہیں اور اساسی ہڈی سخت اور بدنما ہو جاتی ہے۔ دیگر علامات میں انگشتی گومڑ، جوڑوں سے نکلنے والی کرخت آوازیں، عضلاتی سکڑاؤ، درد، اکڑاؤ اور اینٹھن شامل ہیں۔‏

ماضی میں یہ نظریہ عام تھا کہ بڑھاپا اوسٹیوآرتھرائٹس کا سبب ہے۔ تاہم، اب ماہرین نے اِس پُرانے نظریے کو ترک کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں دی امریکن جرنل آف میڈیسن بیان کرتا ہے:‏ ”‏اس بات کی کوئی شہادت دستیاب نہیں کہ انسان کی زندگی میں اُس کے جسم کا کوئی جوڑ عام تناؤ کے تحت ٹوٹ سکتا ہے۔“‏ پس، اوسٹیوآرتھرائٹس کا سبب کیا ہے؟ برطانوی رسالے دی لینسٹ کے مطابق اس کا درست سبب تلاش کرنے کی کاوشیں ”‏بحث‌وتکرار کا شکار“‏ ہیں۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ پہلے ہڈی میں مائیکروفریکچر ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہڈی میں ذیلی افزائش اور غضروفی خستگی کا عمل شروع ہوتا ہے۔ بعض کی رائے میں اوسٹیوآرتھرائٹس غضروف سے ہی شروع ہوتا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ مسلسل انحطاط سے اساسی ہڈی پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ جب جسم غضروف کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو مرضیاتی تبدیلیاں رُونما ہوتی ہیں۔‏

اوسٹیوآرتھرائٹس میں کون مبتلا ہو سکتے ہیں؟ اگرچہ عمر اس مرض میں مبتلا ہونے کا واحد سبب نہیں توبھی عمررسیدگی کے ساتھ ساتھ جوڑوں کے غضروف کو مسلسل نقصان پہنچتا رہتا ہے۔ اگر کسی کے جوڑوں کی سطح کے باہم ملنے میں کوئی نقص ہے یا اگر کسی کی ٹانگ اور کولہوں کے عضلات کمزور ہیں، ٹانگیں چھوٹی‌بڑی ہیں یا ریڑھ کی ہڈی سیدھی نہیں ہے تو ایسے اشخاص اس مرض کا شکار ہو سکتے ہیں۔ کسی ایکسیڈنٹ کی وجہ سے جوڑ پر چوٹ لگنا یا کسی خاص پیشے کی وجہ سے کسی جوڑ کا ازحد استعمال بھی اوسٹیوآرتھرائٹس کا سبب بن سکتا ہے۔ انحطاط کی شروعات کے بعد وزن میں اضافہ بھی اس مرض کو دعوت دیتا ہے۔‏

ڈاکٹر ٹم سپیکٹر بیان کرتا ہے:‏ ”‏اوسٹیوآرتھرائٹس ایک نہایت پیچیدہ بیماری ہے جس میں ماحولیاتی عناصر بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں مگر اس میں جینیاتی عمل‌دخل کو بھی نظرانداز نہیں کِیا جا سکتا۔“‏ جن اُدھیڑعمر یا عمررسیدہ خواتین کے خاندان میں یہ بیماری ہو وہ بالخصوص اس کی زد میں آتی ہیں۔ آسٹیوپوروسس کے برعکس، اوسٹیوآرتھرائٹس سے پہلے کم کی بجائے زیادہ استخوانی سختی واقع ہوتی ہے۔ بعض محققین آزاد آکسیجن ریڈیکل سے ہونے والے نقصان اور وٹامن سی اور ڈی کی کمی کو بھی اہم عناصر قرار دیتے ہیں۔‏

علاج

جوڑوں کے درد کے علاج کے لئے ورزش، طرزِزندگی میں تبدیلی اور ادویات کا استعمال ضروری ہے۔ فزیکل تھراپسٹ شفابخش ورزش کا پروگرام شروع کر سکتا ہے۔ اِس میں مختلف حرکات اور وزن اُٹھانے سے عضلاتی اور تنفّسی نظام کو بہتر بنانے کی ورزشیں شامل ہو سکتی ہیں۔ یہ جوڑوں کے درد اور سوزش، تھکان، بے‌چینی اور افسردگی کے علاوہ دیگر علامات کو دُور کرنے میں مفید ثابت ہو چکی ہیں۔ ورزش کی بدولت عمررسیدہ لوگوں کو بھی افاقہ ہوتا ہے۔ ورزش ہڈیوں میں پیدا ہونے والے اکڑاؤ کو بھی روکتی ہے۔ بعض کا دعویٰ ہے کہ متاثرہ حصے پر گرم یا سرد اشیا رکھنے اور آکیوپنکچر سے بھی کسی حد تک درد سے آرام ملتا ہے۔‏b

وزن کم ہونے سے جوڑوں کے درد میں کمی ہوتی ہے اسلئے پرہیزی غذا اس مرض کے علاج کا اہم پہلو ہے۔ بعض کا دعویٰ ہے کہ ٹھنڈے پانی کی مچھلی جس میں اومیگا ۳ روغنی تیزاب کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور تازہ سبزیوں اور پھلوں پر مشتمل پرہیزی غذا مصنوعی کھانوں اور چکنائیوں کے اثرات کو قابو میں رکھتے ہوئے وزن اور درد کم کرنے میں مفید ثابت ہوتی ہے۔ کیسے؟ بعض کے خیال میں ایسی غذا سوزش کے عمل کو روکتی ہے۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ گوشت، دودھ سے بنی اشیا، گندم اور ٹماٹر، آلو، کالی مرچ اور بینگن جیسی سلانیشیا نوع کی ترکاریوں سے پرہیز کرنا بعض کو فائدہ پہنچاتا ہے۔‏

بعض حالات میں سرجری کی سفارش بھی کی گئی ہے جسے آرتھروسکوپی (‏جوڑبینی)‏ کہتے ہیں۔ اس کے دوران ایک آلہ جوڑ کے اندر ڈالا جاتا ہے جس کی مدد سے سرجن نقصاندہ خامرے پیدا کرنے والے زلالی نسیج کو باہر نکال دیتا ہے۔ تاہم، یہ عمل زیادہ مؤثر نہیں کیونکہ بعدازاں پھر سوزش ہو جاتی ہے۔ اس سے بھی مشکل اور پیچیدہ عمل آرتھروپلاسٹی یعنی پورے کے پورے جوڑ کی تبدیلی ہے۔ مثال کے طور پر پورے جوڑ (‏عموماً کولہے یا گھٹنے)‏ کی جگہ مصنوعی جوڑ لگا دیا جاتا ہے۔ یہ طریقۂ‌علاج ۱۰ تا ۱۵ سال تک مؤثر ثابت ہوتا ہے اور درد ختم کرنے کیلئے بہت مفید ہے۔‏

حال ہی میں، ڈاکٹروں نے وسکوسپلیمن‌ٹیشن (‏لزوجی تکمّل)‏ جیسا کم پیچیدہ علاج آزمایا ہے جس میں زجاجی مائع براہِ‌راست جوڑ میں داخل کِیا جاتا ہے۔ اس عمل کو اکثر گھٹنوں پر آزمایا جاتا ہے۔ بعض یورپی تحقیقات کے مطابق، غضروف کے نقصان کو دُور کرنے والے مادے (‏کونڈروپروٹیکٹیو ایجنٹس)‏ منتقل کرنے سے بھی کسی حد تک فائدہ ہوا ہے۔‏

اگرچہ جوڑوں کے درد سے شفا کیلئے کوئی دوا تو دریافت نہیں ہوئی توبھی بہتیری ادویات درد اور سوزش کو کم ضرور کرتی ہیں اور بعض اس مرض میں اضافے کے عمل کی رفتار کو بھی کم کر دیتی ہیں۔ مانع‌درد اور کارٹیکوسٹیرائڈ تھراپی، نان‌سٹیرائڈ اینٹی ان‌فلامیٹری ڈرگز (‏NSAIDs)‏، ڈیزیز موڈیفائنگ اینٹی‌ریوماٹک ڈرگز (‏DMARDs)‏، امینوسپرسینٹ، بائیولوجک رسپونس موڈیفائرز اور مدافعتی ردِعمل میں خلل پیدا کرنے کیلئے جنیٹک انجینیئرنگ سے تیارکردہ ادویات، یہ سب کے سب ایسے ہتھیار ہیں جو معذور کر دینے والے جوڑوں کے درد سے چھٹکارا فراہم کرنے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ تاہم، چھٹکارا مہنگا پڑ سکتا ہے کیونکہ یہ تمام ادویات بہتیرے ضمنی اثرات بھی پیدا کرتی ہیں۔ امکانی فوائد اور خطرات کا جائزہ ڈاکٹر اور مریض دونوں کے لئے چیلنج‌خیز ہوتا ہے۔‏

جوڑوں کے درد سے شدید نقصان اُٹھانے والے لوگ اس تکلیف‌دہ مرض کو برداشت کرنے کے قابل کیسے ہوئے ہیں؟‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a ان میں اوسٹیوآرتھرائٹس، ریموٹائڈ آرتھرائٹس، سسٹمک لوپس ارتھماٹوسس، جووینائل ریموٹائڈ آرتھرائٹس، گوٹ، بُرسائٹس، ریوماٹک فیور، لائم ڈیزیز، کارپل ٹانل سنڈروم، فائبرومائیل‌جیا، ریٹر سنڈروم اور انکلوزنگ سپونڈیلاٹس شامل ہیں۔‏

b جاگو!‏ کسی کی بھی ورزش، دوا یا سرجری کی سفارش نہیں کرتا۔ ہر مریض کی یہ ذاتی ذمہ‌داری ہے کہ وہ حقائق کی روشنی میں محتاط غوروفکر کے بعد خود مناسب علاج تلاش کرے۔‏

‏[‏صفحہ ۶ پر عبارت]‏

تمباکونوشی، موٹاپے اور انتقالِ‌خون کی وجہ سے کوئی ریموٹائڈ آرتھرائٹس میں مبتلا ہو سکتا ہے

‏[‏صفحہ ۸ پر بکس/‏تصویر]‏

متبادل علاج

بعض ادویات روایتی علاج کی نسبت ضمنی اثرات کم ہونے کی وجہ سے محفوظ خیال کی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک ٹائپ II کولاجن ہے جسے کھانے سے بعض محققین کے مطابق ریموٹائڈ آرتھرائٹس (‏RA)‏ میں جوڑوں کی سوزش اور درد کو کم کِیا جا سکتا ہے۔ کیسے؟ یہ سوزش کو بڑھانے والے تباہ‌کُن سائٹوکنز یعنی انٹرلیوکن 1 اور ٹیومر نکروسس فیکٹر α کو ختم کرتی ہے۔ بعض قدرتی غذاؤں میں بھی ان تباہ‌کُن عناصر کو ختم کرنے کی صلاحیت ہے۔ ان میں وٹامن ای، وٹامن سی، نایاسینامائڈ، ایکوسپانٹنوئیک ایسڈ (‏EPA)‏ اور گمالینولنک ایسڈ (‏GLA)‏ سے بھرپور مچھلی کے تیل، لسان‌الثور بیج کا تیل اور گلِ‌فنجانی کا تیل شامل ہے۔ چین میں ٹرپٹرائجم وِلفورڈی ہک‌ایف، نباتاتی علاج کئی سالوں سے استعمال ہو رہا ہے۔ مختلف رپورٹوں سے پتہ چلا ہے کہ یہ ریموٹائڈ آرتھرائٹس کے اثرات کو کم کرنے میں مفید ہے۔‏

‏[‏صفحہ ۴، ۵ پر ڈائیگرام]‏

‏(‏تصویر کے لئے چھپے ہوئے صفحے کو دیکھیں)‏

صحتمند جوڑ

دُرجک

عضلہ

غضروف

وتر

جوڑ کی جھلی

زلالی جھلی

زلالی سیال

ہڈی

ریموٹائڈ آرتھرائٹس سے متاثرہ جوڑ

فاصلے کی کمی

غضروفی اور استخوانی نقصان

متورم زلالی جھلی

اوسٹیوآرتھرائٹس سے متاثرہ جوڑ

غضروفی ڈھیلاپن

غضروفی نقصان

استخوانی دندانہ

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

Source: Arthritis Foundation

‏[‏صفحہ ۷ پر تصویریں]‏

تمام عمر کے لوگ جوڑوں کے درد کا شکار ہو سکتے ہیں

‏[‏صفحہ ۸ پر تصویریں]‏

ورزش اور مناسب پرہیزی غذا سے کچھ افاقہ ممکن ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں