ہمارے قارئین کی رائے
زندگیبخش مضمون ہم لینی نامی ایک شخص سے ملنے کیلئے گئے جس نے کہا کہ ”مچھر کے کاٹنے سے پھیلنے والا لال بخار“ مضمون (جولائی ۲۲، ۱۹۹۸) نے اُسکی بھتیجی کی زندگی بچا لی ہے۔ اُسے کئی دن سے بخار تھا اور جسم پر سُرخ بادے بھی نکل آئے تھے لیکن اُسکے والدین نے اسے خسرہ سمجھ کر نظرانداز کر دیا۔ لینی کو یہ مضمون یاد آیا، لہٰذا اُس نے رسالہ ڈھونڈ کر اس مضمون میں لال بخار کی علامات بیان کرنے والا حصہ دوبارہ پڑھا۔ بعدازاں اُس نے اپنی بھتیجی کے والدین سے اُسے ہسپتال لیجانے کو کہا۔ وہاں ڈاکٹروں نے تشخیص کر دی کہ اُسے واقعی لال بخار ہے۔ لینی نے جاگو! کی تعریف کی کہ اِس نے اُسکی بھتیجی کی جان بچانے میں بڑی مدد کی ہے۔ لہٰذا، وہ بائبل مطالعہ کرنے پر راضی ہو گیا۔
جے.ایم.ایل.، فلپائن
مرفینس سنڈروم مضمون ”مرفینس سنڈروم سے نپٹنا—جب جوڑ ہل جاتے ہیں“ (مارچ ۸، ۲۰۰۱) میں مشل بیان کرتی ہے کہ وہ ہر روز مارفین استعمال کرتی ہے۔ ایک مسیحی کوئی نشہآور دوا کیونکر استعمال کر سکتا ہے؟
ایس. ڈی.، ریاستہائےمتحدہ
ایک مسیحی کیلئے ادویات کو محض ہیجان یا مدہوشی کی خاطر استعمال کرنا یقیناً غلط ہوگا۔ تاہم، اگر کوئی شخص بیماری کی وجہ سے رفعِدرد کیلئے کسی ڈاکٹر کے مشورے سے نشہآور دوا کھاتا ہے تو اُسے نشے کا عادی نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن ایسے معاملات میں بھی ایک مسیحی کو نشے کی عادت پڑ جانے کے علاوہ اس دوا کے دیگر مُضر اثرات کے امکانات کا احتیاط سے جائزہ لینا چاہئے۔—ایڈی۔
مشل کے تجربے نے میری بڑی حوصلہافزائی کی ہے۔ مَیں اِس بات کیلئے اُسکی تعریف کرتا ہوں کہ مسلسل درد کے باوجود، وہ اپنے حالات کو پورے دل سے یہوواہ کی خدمت میں حائل نہیں ہونے دیتی۔
جے. جی.، گوم
تابکاری ذرّات مجھے آپ کا مضمون ”تابکاری کے ذرّات—لمحہفکریہ“ (مارچ ۸، ۲۰۰۱) پڑھکر بہت مایوسی ہوئی۔ آپکو بائبل کی بابت اپنے نظریات کو فروغ دینے کیلئے لوگوں میں خوف پیدا کرنے والے ہتھکنڈے استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔ خطرات کو بھی صحیح پیرائے میں بیان کِیا جانا چاہئے۔ مثال کے طور پر، اگر احتیاط برتی جائے تو بجلی سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ اسکے باوجود ہر سال کئی لوگ بجلی کا جھٹکا لگنے سے مر جاتے ہیں۔ کیا اسکا مطلب یہ ہے کہ ہم سب کسی طرح کے وسوسے میں پڑ کر بجلی کے خوف میں زندگی گزاریں؟ حقیقت تو یہ ہے کہ تمام ممالک کو مستقبل میں زیادہ بجلی کی ضرورت ہوگی اور نیوکلیئر ریایکٹر بجلی پیدا کرنے کے صاف اور محفوظ ذرائع کے طور پر منظرِعام پر آ رہے ہیں۔ ہمیں نیوکلیئر توانائی سے خائف ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
آر. ایس.، کینیڈا
یہ پیچیدہ معاملات ہیں مگر ہم اس قاری کی صافگوئی کی قدر کرتے ہیں۔ تاہم، ہمارے خیال میں اِس مضمون میں کسی طرح کے ”خوف پیدا کرنے والے ہتھکنڈے“ استعمال نہیں کئے گئے تھے۔ قارئین کو خوفزدہ کرنے کی کوشش بھی نہیں کی گئی تھی۔ ہم نے نیوکلیئر توانائی کی مذمت بھی نہیں کی۔ ہم نے تو محض نیوکلیئر توانائی سے متعلق بیشتر لوگوں کے جائز تفکرات کو نمایاں کرتے ہوئے خدا کی بادشاہت کو توانائی کے بحران کے واحد حل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔—ایڈی۔
انشورنس ایک انشورنس ایجنٹ کے طور پر، مجھے ”انشورنس—کیا آپکو اسکی واقعی ضرورت ہے؟“ (مارچ ۸، ۲۰۰۱) کے موضوع پر سلسلہوار مضامین بہت پسند آئے۔ بیشتر صارفین کیلئے انشورنس بہت پیچیدہ ہوتی ہے۔ یہ بات سمجھنا بہت مشکل ہے کہ جو چیز آپ کبھی استعمال ہی نہیں کرینگے اُس کیلئے پیسے کیوں جمع کراتے رہیں۔ لہٰذا، مجھے آپکی اضافی ٹائر کی تمثیل بہت پسند آئی۔ خوبصورت الفاظ سے مزین ان معلومات کیلئے آپکا بہت شکریہ۔
سی. پی.، ریاستہائےمتحدہ
چپکے سے باہر نکل جانا آپکے مضمون ”نوجوان لوگ پوچھتے ہیں . . . رات کو گھر سے چپکے سے باہر نکل جانے میں کیا خرابی ہے؟“ (مارچ ۸، ۲۰۰۱) کیلئے آپکا شکریہ۔ مجھے یہ جان کر بڑا دُکھ ہوا کہ بعض نوجوان مسیحی کتنے غافل ہوتے ہیں۔ ایک نوجوان لڑکی کسی پارٹی پر جانے کیلئے رات کو چپکے سے باہر نکل گئی مگر اُسکی عزت لوٹ لی گئی۔ کوئی بھی اُس کی مدد کو نہ پہنچا۔ براہِمہربانی ہمارے نوجوانوں کو مسلسل آگاہ کرتے رہیں!
جے. این.، ریاستہائےمتحدہ