کیا آپکو انشورنس کی ضرورت ہے؟
بعض ممالک میں انشورنس کی کچھ اقسام لازمی ہیں۔ کئی ممالک میں اس کی بیشتر اقسام سے لوگ ناواقف ہیں۔ علاوہازیں، مختلف ممالک میں بیمے کی لاگت اور اس کی پالیسیاں کافی حد تک مختلف ہوتی ہیں۔ تاہم، انشورنس کا بنیادی مقصد—ایک دوسرے کے نقصان میں شریک ہونا—سب ممالک میں ایک ہی ہے۔
یہ قدرتی امر ہے کہ جس شخص کے پاس زیادہ مالومتاع ہوتا ہے اُسے نقصان کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح، کسی شخص کی جتنی زیادہ خاندانی ذمہداریاں ہوتی ہیں اُسکی وفات یا معذوری کے اثرات بھی اُتنے ہی زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔ تاہم، اگر انشورنس کرائی گئی ہو تو اس سے مالی نقصان یا مفلوج کر دینے والے حادثے سے واقع ہونے والے نقصان سے متاثر ہونے کی فکر قدرے کم ہو جاتی ہے۔
تاہم، اگر کبھی رقم واپس لینے کا موقع ہی نہ ملے تو کیا انشورنس کیلئے پیسہ لگانا دانشمندانہ بات ہوگی؟ چنانچہ اگر اضافی ٹائر کی کبھی ضرورت نہیں پڑتی تو کیا اسے کار میں رکھنا پیسے کا زیاں ہوگا؟ اس سے کار ڈرائیور کو حاصل ہونے والے احساسِتحفظ کی بدولت اضافی ٹائر کا خرچ معقول دکھائی دیگا۔ اگرچہ مالی امداد سے بعض نقصانات کا ازالہ ممکن نہیں توبھی اس سے دیگر نقصانات کو ضرور پورا کِیا جا سکتا ہے۔
انشورنس پالیسیاں کس قسم کے نقصانات کو پورا کرتی ہیں؟
انشورنس کی اقسام
انشورنس کا زیادہتر تعلق املاک، ذمہداری، صحت، معذوری اور زندگی سے ہوتا ہے۔
پراپرٹی انشورنس [بیمۂاملاک]: پراپرٹی—گھر، کاروبار، کار یا دیگر اثاثوں—کے نقصان کی تلافی کیلئے انشورنس کرانا سب سے عام ہے۔ پچھلے مضمون میں متذکرہ جان نے اپنی دُکان اور اوزاروں کیلئے اِسی طرح کی انشورنس کرانے سے انکار کر دیا تھا۔
بعض ہوم انشورنس پالیسیوں میں کچھ گھریلو چیزیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ اگر آپ ایسی پالیسی خریدتے ہیں توپھر بیمہشُدہ گھریلو چیزوں کی تصاویر یا ویڈیو فلم سمیت انکی فہرست تیار کرنا دانشمندانہ بات ہوگی۔ اس فہرست اور نرخنامے یا خریداری کی رسیدوں کو گھر سے باہر کسی دوسری محفوظ جگہ پر رکھنا چاہئے۔ ان ریکارڈز کی مدد سے بآسانی نقصان کا تخمینہ لگا کر رقم کی ادائیگی کیلئے درخواست کی جا سکتی ہے۔
لائبیلٹی انشورنس [بیمۂذمہداری]: تمام ڈرائیوروں، گھر یا کسی اَور چیز کے مالکوں، کاروباری اشخاص یا آجروں کو حادثے سے ہونے والے نقصان کی تلافی کرنے کی ذمہداری اُٹھانی پڑتی ہے۔ چنانچہ حادثے کے دوران کسی چیز کو نقصان پہنچ سکتا ہے یاپھر کوئی شخص زخمی یا ہلاک ہو سکتا ہے۔ ڈرائیور یا کسی چیز یا کاروبار کے مالک کو علاج، توڑپھوڑ کی مرمت یا کسی دوسرے شخص کی تکلیف اور مصیبت کے ازالے کیلئے بھی رقم ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ کئی ممالک میں آجروں اور ڈرائیوروں سے ایسے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے بیمہذمہداری کرانے کا قانوناً تقاضا کِیا جاتا ہے۔ جن ممالک میں بیمہ قانونی تقاضا نہیں وہاں پر بھی ڈرائیوروں، جائداد کے مالکوں یا آجروں کو قانونی اور اخلاقی طور پر حادثے کا شکار ہونے والے شخص یا اُسکے خاندان کے افراد کی مدد کرنے کا ذمہدار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
ہیلتھ انشورنس [بیمۂصحت]: بیشتر ممالک میں حکومت ایسے بیمے کی حمایت کرتی ہے تاکہ عمررسیدہ شہریوں کو پینشن اور طبّی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ تاہم، جہاں ایسا ہے وہاں شاید ایسی انشورنس کُل طبّی اخراجات کا محض ایک حصہ یا پھر چند مخصوص اخراجات ہی ادا کرے۔ لہٰذا، ایسے اشخاص باقی اخراجات پورے کرنے کیلئے اضافی پرائیویٹ انشورنس کراتے ہیں۔ بہتیرے ممالک میں کارکنوں کو اپنی ملازمت کی خاطر ہیلتھ انشورنس کرانی پڑتی ہے۔
طبّی نگہداشت کے سلسلے میں قائمکردہ بعض ادارے ماہانہ یا سالانہ مقررہ فیس کے عوض علاجمعالجے کی عمدہ سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ ایسے ادارے سستا علاج اور حفظماتقدم کے طور پر ادویات فراہم کرنے سے طبّی اخراجات کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم، روایتی ہیلتھ انشورنس کے برعکس ان اداروں میں مریض کو ڈاکٹر یا طریقۂعلاج کا انتخاب کرنے کی آزادی نہیں ہوتی۔
ڈسایبلٹی انشورنس [بیمۂمعذوری] اور لائف انشورنس [بیمۂزندگی]: اگر کوئی شخص زخمی ہو جانے کے باعث کام کرنے کے قابل نہیں رہتا تو بیمہمعذوری اُسے کچھ آمدنی فراہم کرتا ہے۔ لائف انشورنس سے کسی شخص کی وفات کے بعد اُسکے لواحقین کی مالی امداد ہوتی ہے۔ ایسی انشورنس سے بہتیرے خاندان اپنے روزی کمانے والے شخص کی معذوری یا وفات کے بعد قرض اُتارنے اور معمول کے مطابق زندگی گزارنے کے قابل ہوئے ہیں۔
قابلِاعتماد بیمہکاروں کی تلاش
انشورنس کا اصول یہ ہے کہ حال میں پیسہ جمع کرا کر مستقبل میں مالی تحفظ سے فائدہ اُٹھائیں اسلئے یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ بہت سی ٹھگ کمپنیوں نے انشورنس کا کاروبار شروع کر دیا ہے۔ ترقییافتہ اور ترقیپذیر دونوں طرح کی معیشتوں میں ایسا ہوتا ہے۔ لہٰذا، سستی اور قابلِاعتراض بیمہ پالیسیوں سے خبردار رہنا عقلمندی کا ثبوت ہوگا۔ جب ایسی کمپنیاں پالیسی کی رقم ادا کرنے میں ناکام یا راتوںرات ہی غائب ہو جاتی ہیں تو خوشحال مستقبل کی اُمید میں بیمہ کرانے والے بہتیرے لوگ مفلس ہو جاتے ہیں!
پس، جیسے کسی بھی ضروری چیز کی خریداری کرتے وقت مختلف پہلوؤں کو ملحوظِخاطر رکھا جاتا ہے اُسی طرح بیمہ کراتے وقت مختلف کمپنیوں کی پیشکش کا موازنہ کرنا بھی لازمی ہے۔ مثال کے طور پر، بعض کمپنیاں تمباکونوشی نہ کرنے والوں کو ہیلتھ انشورنس پر اور ڈرائیونگ کورس اور ٹیسٹ پاس کرنے والوں کو کار انشورنس پر کم رقم دیتی ہیں۔ تاہم، کوئی شخص قابلِاعتماد انشورنس کیسے حاصل کر سکتا ہے؟
سب سے پہلے تو یہ دیکھنا چاہئے کہ مختلف انشورنس کمپنیوں اور ایجنٹوں کے سلسلے میں دوسروں کو کیسا تجربہ ہوا ہے۔ دوستوں اور رشتہداروں کو شاید معلوم ہو کہ خدمات کے سلسلے میں کوئی کمپنی یا دیانتداری اور ذاتی دلچسپی کے معاملے میں کوئی ایجنٹ کیسی شہرت رکھتا ہے۔ خبروں پر دھیان دینا بھی اچھا ہوگا کہ کونسی انشورنس کمپنیاں مسائل سے دوچار ہیں۔
علاوہازیں، لائبریری، بُکسٹور یا انٹرنیٹ سے انشورنس کی جانچ کرنے والے شعبے کی ہدایات کا جائزہ لینے سے کسی کمپنی کے ریکارڈ اور مالی حالت کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ ایسی ہدایات کی بدولت درجذیل سوالات کا جواب حاصل کِیا جا سکتا ہے: کیا کمپنی کی مالی حالت مستحکم ہے؟ کیا یہ کافی سالوں سے کامیابی کے ساتھ کاروبار کر رہی ہے؟ کیا یہ بِلاحیلوحجت اور بِلاتاخیر رقم ادا کر دیتی ہے؟
تاہم، انشورنس کی جانچ کرنے والے شعبے کی ہدایات کو حتمی خیال نہیں کرنا چاہئے۔ کروڑوں ڈالر کے اثاثوں کی مالک اور طویل عرصے سے کام کرنے والی ایک انشورنس کمپنی کو بہترین کمپنی قرار دیا گیا لیکن اسکے ایک ہفتے بعد ہی حکومت نے اسے ضبط کر لیا!
انشورنس ایجنٹوں کا کردار
ایک انشورنس ایجنٹ عموماً کسی خاص کمپنی کیلئے کام کرتا ہے۔ کوئی بروکر یا خودمختار ایجنٹ یہ معلوم کرنے کیلئے مختلف کمپنیوں سے رابطہ کر سکتا ہے کہ کسی مخصوص قیمت میں کونسی عمدہ انشورنس دستیاب ہے۔ دونوں کو اپنے کاروبار کی کامیابی کیلئے گاہکوں سے اچھے تعلقات رکھنے کی ضرورت ہے۔ قابلِاعتماد اور ذاتی دلچسپی کا مظاہرہ کرنے والا ایجنٹ اپنے گاہکوں کی بہت زیادہ مدد کر سکتا ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ ایجنٹ یا بروکر بظاہر لاتعداد بیمہ پالیسیوں میں سے بہترین پالیسی کا انتخاب کرنے کیلئے اپنے گاہک کی مدد کر سکتے ہیں۔ وہ اپنے گاہک کو پالیسی کی تمام تفصیلات بھی سمجھائے گا۔ یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ بیمہ پالیسیاں بہت ہی پیچیدہ ہوتی ہیں۔ ایک بیمہ کمپنی کے صدر نے تسلیم کِیا کہ اُس نے اپنے گھر کیلئے جو پالیسی لی ہے وہ خود بھی اُسے نہیں سمجھتا!
ایجنٹ کی وضاحت اُس کے گاہک کو ناخوشگوار انکشافات سے بچا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، املاک اور صحت کی بیشتر بیمہ پالیسیوں میں منہائی کی شق بھی ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں بیمہ کرانے والے شخص کو کار کی مرمت، علاجمعالجے یا ایسے ہی دیگر اخراجات کو پورا کرنے کیلئے بیمہ کمپنی کی مالی اعانت سے پہلے خود ایک مخصوص رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ اگر گاہک کو بیمہ کمپنی سے رقم وصول کرنے میں کوئی دقت پیش آتی ہے تو ایجنٹ اُسکے حق میں اُسکی وکالت بھی کر سکتا ہے۔
انشورنس اور مسیحی
کیا خدا کی مدد پر توکل کرنے والے اور اس نظاماُلعمل کے خاتمے کے منتظر ایک مسیحی کو انشورنس کرانے کی ضرورت ہے؟ سن ۱۹۱۰ میں، بعض لوگوں نے جاگو! کے ساتھی رسالے مینارِنگہبانی کے ایڈیٹر، چارلس ٹیز رسل سے یہی سوال پوچھا تھا۔ رسل نے یہ بات تسلیم کی کہ بائبل موجودہ معاشی نظام کے خاتمے کی پیشینگوئی کرتی ہے اور میرا اپنا بھی کوئی بیمۂزندگی نہیں ہے۔
تاہم رسل نے بیان کِیا کہ ”سب کے حالات ایک جیسے نہیں ہوتے۔ ایک شادیشُدہ مرد کی ذمہداری ہے کہ وہ اپنی بیوی اور اپنے کمسن اور روزی کمانے کے ناقابل بچوں کی دیکھبھال کرے۔“ (۱-تیمتھیس ۵:۸) رسل نے واضح کِیا کہ کوئی شخص اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کچھ رقم پسانداز کر سکتا ہے۔ ”لیکن اگر وہ ایسا نہیں کر پاتا تو وہ لائف انشورنس کے ذریعے اپنا فرض ادا کر سکتا ہے۔“
خاندان کا سربراہ دیگر ارکان کیلئے بھی صحت، معذوری اور دیگر اقسام کی انشورنس کا بندوبست کر سکتا ہے۔ بہتیرے غیرشادیشُدہ اشخاص بھی ضروری خدمات حاصل کرنے اور حادثے یا بیماری کی صورت میں مقروض ہو جانے سے بچنے کیلئے انشورنس کراتے ہیں۔
انشورنس کے سلسلے میں دیانتداری بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایک سچا مسیحی انشورنس کیلئے درخواست فارم پُر کرتے یا پالیسی کی رقم طلب کرتے وقت انشورنس کمپنی کو کبھی کوئی دھوکا نہیں دیگا۔ (عبرانیوں ۱۳:۱۸) وہ یہ یاد رکھیگا کہ بیمے کا مقصد نقصان کی تلافی کرنا ہے۔ یہ کوئی لاٹری ٹکٹ نہیں ہے جس سے عیشوعشرت کی زندگی گزارنے کا موقع ہاتھ لگ سکتا ہے۔—۱-کرنتھیوں ۶:۱۰۔
مسیحی انشورنس سے متعلق تمام تقاضوں اور قوانین کی پابندی کرتے ہیں۔ جن ممالک میں کاروبار یا گاڑی چلانے کے لئے مناسب انشورنس کرانا قانوناً لازم قرار دیا گیا ہے وہاں مسیحی اس پر عمل کرتے ہیں۔ (رومیوں ۱۳:۵-۷) دیانتداری اور عملی حکمت باقاعدگی سے اقساط ادا کرنے کا تقاضا بھی کرتی ہیں۔ اگر اقساط ادا نہیں کی جاتیں تو کمپنی پالیسی کی رقم کی ادائیگی منسوخ کر سکتی ہے۔ کمپنی سے اقساط کی رقم ملنے کے سلسلے میں براہِراست دریافت کرتے رہنا اور پھر اسکا تحریری ریکارڈ رکھنا دانشمندی کی بات ہوگی، بالخصوص منسوخشُدہ چیکوں کی صورت میں تو ایسا کرنا بہت ضروری ہے۔
آپکے علاقے میں انشورنس کی سہولیات دستیاب ہوں یا نہ ہوں، ایسی احتیاطی تدابیر ضرور بروئےکار لائی جا سکتی ہیں جو آپکو اور آپکے عزیزواقارب کو اُس نقصان اور تکلیف سے بچا سکتی ہیں جس کی تلافی انشورنس کی کوئی بھی رقم نہیں کر سکتی۔ اگلے مضمون میں ہم چند ایسی احتیاطی تدابیر پر غور کرینگے۔
[صفحہ ۷ پر تصویر]
ایک قابلِاعتماد ایجنٹ انشورنس کی بابت فیصلہ کرنے میں آپکی مدد کر سکتا ہے
[صفحہ ۷ پر تصویر]
بہتیرے لوگ قانونی تقاضوں سے ہٹ کر بھی بیمہ کراتے ہیں