بائبل کا نقطۂنظر
خدا کا طاقت استعمال کرنا—کیا یہ واجب ہے؟
طاقت کا مُہلک استعمال انسانی تاریخ کی نمایاں خصوصیت رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ۲۰ ویں صدی میں غالباً ۱۷،۰۰،۰۰،۰۰۰ لوگ اپنے ہی سیاسی نظام کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔ بائبل بالکل درست کہتی ہے کہ انسان ایک دوسرے پر حکومت کرکے اپنے اُوپر مصیبت لائے ہیں۔—واعظ ۸:۹۔
انسان چونکہ اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہیں اسلئے بعض لوگ اپنے دشمنوں کو ختم کرنے کیلئے خدا کی طاقت کے استعمال پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔ کیا اسرائیلیوں نے خدا کے حکم کی تعمیل میں ملکِموعود میں آباد کنعانیوں پر حملہ کرکے اُنہیں ہلاک نہیں کر دیا تھا؟ (استثنا ۲۰:۱۶، ۱۷) نیز کیا خدا خود بھی یہ نہیں فرماتا کہ وہ تمام مخالف حکومتوں کو نیست کر دیگا؟ (دانیایل ۲:۴۴) بعض خلوصدل اشخاص سوچتے ہیں کہ آیا خدا کا اپنی طاقت استعمال کرنا ہمیشہ واجب ہوتا ہے۔
طاقت کا غلط استعمال
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ طاقت کو استعمال کرنے کی صلاحیت حکومت چلانے کیلئے بہت ضروری ہوتی ہے۔ دراصل، جو انتظامیہ اپنے احکام کو نافذ نہیں کر سکتی وہ بالکل بےجان ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، پولیس کی بدسلوکیوں کے باوجود کتنے لوگ پولیس کی طرف سے فراہمکردہ تحفظ کو رد کریں گے؟ اِس کے علاوہ کونسا شخص انسانی معاشرے میں عدلوانصاف کے مؤثر نظام کی ضرورت سے انکار کر سکتا ہے۔
ظلموتشدد سے نفرت کیلئے مشہور، موہنداس گاندھی نے ایک مرتبہ کہا: ”فرض کریں کہ ایک شخص پاگلپن کے عالم میں اپنی تلوار ہاتھ میں لئے بڑے غضب سے اپنے راستے میں آنے والے ہر شخص کو قتل کرتا جا رہا ہے اور کسی میں بھی اُسے زندہ پکڑنے کی ہمت نہیں۔ ایسی صورت میں اگر کوئی اس پاگل کو ختم کر دیتا ہے تو دوسرے لوگ اُسکے بڑے شکرگزار ہونگے اور اُسے اپنا خیرخواہ خیال کرینگے۔“ واقعی، گاندھی نے بھی بعض حالات کے تحت طاقت کے استعمال کی ضرورت محسوس کی تھی۔
صاف ظاہر ہے کہ طاقت کو عمل میں لانے کی صلاحیت ایک مستحکم معاشرے کا لازمی عنصر ہے۔ عموماً، جب لوگ طاقت کے استعمال کی بابت شکایت کرتے ہیں تو وہ دراصل طاقت کے غلط استعمال کیخلاف احتجاج کرتے ہیں۔—واعظ ۴:۱-۳۔
”اُسکی سب راہیں انصاف کی ہیں“
تاریخ میں ایسا کوئی واقعہ نہیں ملتا جب خدا نے اپنی طاقت کا غلط استعمال کِیا ہو۔ وہ طاقت کے آزادانہ استعمال سے حکومت نہیں کرتا۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم محبت سے تحریک پا کر اُس کی پرستش کریں۔ (۱-یوحنا ۴:۱۸، ۱۹) دراصل، اگر طاقت کے استعمال سے اجتناب کرنے کی درست وجہ ہو تو خدا اپنی طاقت استعمال نہیں کرتا۔ (یرمیاہ ۱۸:۷، ۸؛ ۲۶:۳، ۱۳؛ حزقیایل ۱۸:۳۲؛ ۳۳:۱۱) نیز، جب وہ طاقت استعمال کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اُس سے پہلے آگاہی دیتا ہے تاکہ اگر کوئی چاہے تو اپنی اصلاح کر سکتا ہے۔ (عاموس ۳:۷؛ متی ۲۴:۱۴) کیا کوئی ظالم خدا ایسا کریگا؟
خدا انسانوں کی طرح غیرمنصفانہ طریقے سے اپنی طاقت استعمال نہیں کرتا ہے۔ موسیٰ نے یہوواہ کی بابت کہا کہ ”اُسکی سب راہیں انصاف کی ہیں۔ وہ وفادار خدا اور بدی سے مبرا ہے۔“ (استثنا ۳۲:۴) ظالم انسانوں کی حکومتوں کے برعکس خدا کی حکومت جسکی لاٹھی اُسکی بھینس کے اصول پر عمل نہیں کرتی۔ اُس نے اب تک تمام معاملات میں اپنی طاقت کو کامل محبت، حکمت اور انصاف کے ساتھ استعمال کِیا ہے۔—زبور ۱۱۱:۲، ۳، ۷؛ متی ۲۳:۳۷۔
مثال کے طور پر، خدا نے طوفان میں بدکاروں کو ہلاک کرنے سے پہلے کئی سال تک آگاہی دی تھی۔ سب کے پاس کشتی میں جا کر اپنی جان بچانے کا موقع تھا۔ لیکن صرف آٹھ افراد نے ہی اپنی جان بچائی۔ (۱-پطرس ۳:۱۹، ۲۰؛ ۲-پطرس ۲:۵) یشوع کے زمانے میں، اسرائیلی بدکار کنعانیوں کیخلاف یہوواہ کی عدالتی کارروائی کو عمل میں لائے تھے جسکا ۴۰۰ سال پہلے ہی اعلان کر دیا گیا تھا! (پیدایش ۱۵:۱۳-۲۱) اِس سارے عرصہ کے دوران یقیناً کنعانی اس بات کے زوردار ثبوت سے غافل نہیں ہونگے کہ اسرائیل خدا کی برگزیدہ قوم ہے۔ (یشوع ۲:۹-۲۱؛ ۹:۲۴-۲۷) تاہم، جبعونیوں کے سوا کوئی بھی کنعانی قوم رحم کی طالب نہ ہوئی اور نہ ہی کسی نے صلح کے موقع سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی۔ اسکے برعکس، کنعانیوں نے خدا کے خلاف اپنے دل سخت کرنے کا فیصلہ کِیا۔—یشوع ۱۱:۱۹، ۲۰۔
خدا بااختیار ہے
خدا کے اپنی طاقت استعمال کرنے کے معاملے کو سمجھنے سے پہلے ہمیں خدا کے حضور اپنی حیثیت کی بنیادی سچائی پر غور کرنا چاہئے۔ یسعیاہ نبی نے انکساری سے تسلیم کِیا کہ ”ہم مٹی ہیں اور تُو ہمارا کمہار ہے۔“ (یسعیاہ ۶۴:۸) ظاہر ہے کہ کائنات کے خالق کے طور پر خدا جیسے چاہے اپنی طاقت استعمال کر سکتا ہے۔ خدا کے اختیار کو تسلیم کرتے ہوئے ہم بھی سلیمان کی طرح کہہ سکتے ہیں: ”بادشاہ کا حکم بااختیار ہے اور اُس سے کون کہیگا کہ تُو یہ کیا کرتا ہے؟“—واعظ ۸:۴؛ رومیوں ۹:۲۰، ۲۱۔
قادرِمطلق خالق کے طور پر خدا زندگی دینے اور لینے کا حق رکھتا ہے۔ پس، بجا طور پر انسان میں اتنی عقلوفہم نہیں کہ وہ خدا کے اپنی طاقت استعمال کرنے پر کوئی اعتراض اُٹھا سکے۔ انسان کو اپنی سوچ خدا کی سوچ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ یہوواہ نے پوچھا، ”کیا تمہاری روش ناراست نہیں؟“—حزقیایل ۱۸:۲۹؛ یسعیاہ ۴۵:۹۔
یہوواہ کا عدل اور انسانوں سے محبت اُسے تحریک دیگی کہ وہ اِس زمین سے اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کرنے والے اور دوسروں کا حق مارنے والے لوگوں کو نیست کر دے۔ طاقت کے اس استعمال سے امنپسند لوگوں کیلئے زمین پر مثالی حالتیں قائم ہو جائینگی۔ (زبور ۳۷:۱۰، ۱۱؛ ناحوم ۱:۹) پس، خدا کی حکومت راست اور ہمیشہ کیلئے سُرخرو ہو جائیگی۔—مکاشفہ ۲۲:۱۲-۱۵۔