مظلوم خواتین کیلئے مدد
تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین کی مدد کرنے کیلئے کیا کِیا جا سکتا ہے؟ سب سے پہلے تو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اُنہیں کس صورتحال کا سامنا ہے۔ اکثر تشدد کرنے والوں کی طرف سے پہنچایا جانے والا نقصان محض جسمانی نہیں ہوتا۔ اس میں زبانی دھمکیاں اور خوفزدہ کرنا بھی شامل ہوتا ہے تاکہ متاثرہ شخص خود کو بےیارومددگار محسوس کرنے لگے۔
رخسانہ کو ہی لے لیں جسکا تذکرہ تعارفی مضمون میں کِیا گیا تھا۔ بعضاوقات اُس کا شوہر تلوار کی طرح چھیدنے والے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ ”وہ مجھے توہینآمیز ناموں سے بلاتا ہے،“ رخسانہ رازداری سے بتاتی ہے۔ ”وہ کہتا ہے کہ ’تم نے تو تعلیم بھی مکمل نہیں کی۔ تم میرے بغیر بچوں کی دیکھبھال کیسے کرو گی؟ تم ایک کاہل اور نااہل ماں ہو۔ تمہارے خیال میں اگر تم مجھے چھوڑ دو گی تو کیا عدالت تمہیں بچوں کو اپنی تحویل میں رکھنے کی اجازت دیگی؟‘“
رخسانہ کا شوہر پیسے پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے سے اپنا کنٹرول قائم رکھتا ہے۔ وہ اُسے کار بھی استعمال نہیں کرنے دیتا اور اُس کی سرگرمیوں سے باخبر رہنے کے لئے سارا دن وقفے وقفے سے ٹیلیفون کرتا رہتا ہے۔ اگر وہ کسی بات میں اپنی رائے دیتی ہے تو وہ فوراً غصے میں آ جاتا ہے۔ نتیجتاً، رخسانہ خاموش ہی رہتی ہے۔
جیساکہ ہم دیکھ سکتے ہیں بیاہتا ساتھی کے ساتھ زیادتی ایک گمبھیر مسئلہ ہے۔ مدد کرنے کیلئے اُنکی بات کو ہمدردی سے سنیں۔ یاد رکھیں کہ ظلم کا شکار عورت کیلئے یہ بیان کرنا کافی مشکل ہوتا ہے کہ اُس پر کیا بیت رہی ہے۔ آپکا مقصد متاثرہ خاتون کی حوصلہافزائی کرنا ہونا چاہئے جب وہ اپنے طریقے سے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
تشدد کا نشانہ بننے والی بعض خواتین کو شاید اعلیٰ حکام کی مدد حاصل کرنے کی ضرورت ہو۔ بعضاوقات، سخت بحرانی صورتحال میں پولیس کی مداخلت زیادتی کرنے والے شخص کو اپنی غلطی کی سنگینی کا احساس دلا سکتی ہے۔ سچ ہے کہ جب بحرانی صورتحال ختم ہو جاتی ہے تو تبدیلی لانے کا محرک بھی اکثر ماند پڑ جاتا ہے۔
کیا ظلموستم کا نشانہ بننے والی بیوی کو اپنے شوہر کو چھوڑ دینا چاہئے؟ بائبل ازدواجی علیٰحدگی کو معمولی خیال نہیں کرتی۔ تاہم، وہ تشدد کا شکار بیوی کو ایسے شخص کیساتھ رہنے پر مجبور بھی نہیں کرتی جس سے اُسکی صحت اور شاید زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ مسیحی رسول پولس نے لکھا: ”اگر جُدا ہو تو یا بےنکاح رہے یا اپنے شوہر سے پھر ملاپ کر لے۔“ (۱-کرنتھیوں ۷:۱۰-۱۶) جب بائبل سنگین صورتحال کے تحت علیٰحدگی سے منع نہیں کرتی تو اس سلسلے میں ایک عورت ذاتی فیصلہ کر سکتی ہے۔ (گلتیوں ۶:۵) کسی کو بھی بیوی پر اپنے شوہر کو چھوڑنے کے لئے دباؤ نہیں ڈالنا چاہئے اور نہ ہی کسی کو تشدد کا نشانہ بننے والی عورت کو ایک زیادتی کرنے والے شخص کیساتھ رہنے کیلئے مجبور کرنا چاہئے جس سے اُس کی صحت، زندگی اور روحانیت کو خطرہ ہے۔
کیا تشدد کرنے والوں کے لئے کوئی اُمید ہے؟
بیاہتا ساتھی کیساتھ زیادتی بائبل اُصولوں کی صریحاً خلافورزی ہے۔ ہم افسیوں ۴:۲۹، ۳۱ میں پڑھتے ہیں: ”کوئی گندی بات تمہارے مُنہ سے نہ نکلے۔ . . . ہر طرح کی تلخمزاجی اور قہر اور غصہ اور شوروغل اور بدگوئی ہر قسم کی بدخواہی سمیت تم سے دُور کی جائیں۔“
مسیح کا پیروکار ہونے کا دعویدار کوئی بھی شوہر اگر اپنی بیوی کیساتھ زیادتی کرتا ہے تو وہ درحقیقت یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ اُسے پیار کرتا ہے۔ اگر وہ اپنی بیوی سے بدسلوکی کرتا ہے تو اُسکے باقی اچھے کاموں کی کیا وقعت ہے؟ ”مارپیٹ کرنے والا“ مسیحی کلیسیا میں خاص استحقاقات حاصل نہیں کر سکتا۔ (۱-تیمتھیس ۳:۳؛ ۱-کرنتھیوں ۱۳:۱-۳) بِلاشُبہ، کسی بھی دعویدار مسیحی کو بار بار غصے میں آنے اور غیرتائب رہنے کی وجہ سے مسیحی کلیسیا سے خارج کِیا جا سکتا ہے۔—گلتیوں ۵:۱۹-۲۱؛ ۲-یوحنا ۹، ۱۰۔
کیا متشدّد اشخاص اپنے رویے میں تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں؟ بعض نے ایسا کِیا ہے۔ تاہم، عموماً ایک مارپیٹ کرنے والا شخص اُس وقت تک تبدیل نہیں ہو سکتا جبتک کہ وہ (۱) یہ تسلیم نہیں کرتا کہ اُسکا چالچلن دُرست نہیں، (۲) اپنی روش کو بدلنے کا تہیہ نہیں کرتا اور (۳) مدد کا طلبگار نہیں ہوتا۔ یہوواہ کے گواہوں کا تجربہ ہے کہ تبدیلی لانے کیلئے بائبل طاقتور اثر رکھتی ہے۔ دلچسپی رکھنے اور اُنکے ساتھ بائبل کا مطالعہ کرنے والے بیشتر لوگوں میں خدا کو خوش کرنے کی والہانہ خواہش پیدا ہو گئی ہے۔ یہ نئے بائبل طالبعلم یہوواہ خدا کی بابت یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ”شریر اور ظلم دوست سے اُسکی رُوح کو نفرت ہے۔“ (زبور ۱۱:۵) بیشک، مارپیٹ کرنے والے ایک شخص کو اپنے رویے میں تبدیلی لانے کیلئے محض مارپیٹ سے گریز کرنے کے علاوہ اَور بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں اپنی بیوی کے ساتھ بالکل مختلف رویے سے پیش آنے کی بابت سیکھنا بھی شامل ہے۔
جب کوئی شخص خدا کا علم حاصل کر لیتا ہے تو وہ اپنی بیوی کو ایک خادمہ نہیں بلکہ ”ایک مددگار“ خیال کرنے لگتا ہے اور اُسکی تحقیر کرنے کی بجائے اُسکی ”عزت“ کرتا ہے۔ (پیدایش ۲:۱۸؛ ۱-پطرس ۳:۷) وہ ہمدردی دکھانے اور اپنی بیوی کے نقطۂنظر پر دھیان دینے کی ضرورت کو بھی محسوس کرنے لگتا ہے۔ (پیدایش ۲۱:۱۲؛ واعظ ۴:۱) یہوواہ کے گواہوں کی طرف سے پیش کئے جانے والے بائبل مطالعے کے پروگرام نے بہت سے جوڑوں کی مدد کی ہے۔ مسیحی خاندان میں سفاک، جابر یا ظالم شخص کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔—افسیوں ۵:۲۵، ۲۸، ۲۹۔
”خدا کا کلام زندہ اور مؤثر“ ہے۔ (عبرانیوں ۴:۱۲) لہٰذا، بائبل میں پنہاں حکمت جوڑوں کو درپیش مسائل کو سمجھنے اور اُن کے ساتھ نپٹنے کا حوصلہ دینے میں معاون ہو سکتی ہے۔ اس سے بڑھ کر، بائبل اُس تشدد سے پاک دُنیا کو دیکھنے کی یقینی اور اطمینانبخش اُمید پیش کرتی ہے جب یہوواہ کا آسمانی بادشاہ تمام فرمانبردار نوعِانسان پر حکمرانی کریگا۔ بائبل بیان کرتی ہے: ”وہ محتاج کو جب وہ فریاد کرے اور غریب کو جسکا کوئی مددگار نہیں چھڑائیگا۔ وہ فدیہ دیکر اُنکی جان کو ظلم اور جبر سے چھڑائیگا۔“—زبور ۷۲:۱۲، ۱۴۔
[صفحہ ۱۲ پر عبارت]
مسیحی خاندان میں سفاک، جابر یا ظالم شخص کی کوئی گنجائش نہیں ہے
[صفحہ ۹ پر بکس]
غلطفہمیوں کا ازالہ کرنا
• مظلوم خواتین اپنے شوہروں کے اس رویے کی ذمہدار ہیں۔
بیشتر مارپیٹ کرنے والے شوہر یہ کہہ کر اپنے رویے کی ذمہداری قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں کہ اُنکی بیویاں اُنہیں اشتعال دلاتی ہیں۔ خاندان کے بعض دوستاحباب بھی اس خیال کی تائید کر سکتے ہیں کہ بیوی کیساتھ مشکل سے نباہ کرنے کی وجہ سے شوہر اکثروبیشتر آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔ مگر یہ مظلوم کو ملزم اور ظالم کو حقبجانب ٹھہرانے کے مترادف ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ مارپیٹ کا نشانہ بننے والی بیویاں اکثر اپنے شوہروں کو پُرسکون رکھنے کیلئے غیرمعمولی جدوجہد کرتی ہیں۔ علاوہازیں، کسی بھی صورتحال کے تحت اپنے ساتھی کو مارنےپیٹنے کا کبھی بھی کوئی جواز نہیں ہوتا ہے۔ کتاب دی بیٹرر—اے سائیکولاجیکل پروفائل بیان کرتی ہے: ”جن آدمیوں کو عدالتیں بیوی کیساتھ نازیبا سلوک کی وجہ سے علاج کیلئے بھیجتی ہیں وہ تشدد کے عادی ہوتے ہیں۔ وہ اسے غصے اور مایوسی کو کم کرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں، اُنکے خیال میں یہ ایک ایسا طریقہ ہے جو جھگڑا ختم کرتا اور تناؤ کو کم کرتا ہے۔ . . . اکثر وہ اپنا کردار سمجھنے سے قاصر رہتے یا مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتے ہیں۔“
• الکحل ایک شخص کے اپنی بیوی کو مارنےپیٹنے کا سبب بنتی ہے۔
یہ سچ ہے کہ بعض مرد شرابنوشی کرتے وقت زیادہ متشدّد ہوتے ہیں۔ مگر کیا الکحل کو مارپیٹ کا ذمہدار ٹھہرانا مناسب ہے؟ ”نشے میں مارپیٹ کرنے والے کو اپنی اور اپنے طرزِعمل کی بجائے کسی دوسرے پر الزام دینے کا ایک جواز فراہم کر دیتا ہے،“ کے. جے. ولسن اپنی کتاب وین وائلنس بیگنز ایٹ ہوم میں لکھتی ہے۔ وہ مزید بیان کرتی ہے: ”ایسے لگتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں، جب گھریلو تشدد کسی نشے میں مبتلا شخص کی طرف سے ہوتا ہے تو یہ قابلِفہم خیال کِیا جاتا ہے۔ بدسلوکی کا شکار عورت اپنے شوہر کو زیادتی کرنے والے کی بجائے شرابی یا نشے کا عادی خیال کرنے لگتی ہے۔“ ولسن بیان کرتی ہے کہ ایسی سوچ ایک عورت کو جھوٹی تسلی دے سکتی ہے کہ ”اگر وہ شخص پینا چھوڑ دے تو وہ تشدد کرنا بھی چھوڑ دیگا۔“
اس وقت، بیشتر ماہرین شرابنوشی اور مارپیٹ کو دو مختلف مسائل خیال کرتے ہیں۔ بہرصورت، منشیات کے مسائل سے دوچار مردوں کی اکثریت اپنی بیویوں پر تشدد نہیں کرتی۔ وین مین بیٹر ویمن کے ئنن بیان کرتے ہیں: ”مارپیٹ بنیادی طور پر تشدد کا شکار عورت کو قابو کرنے، خوفزدہ کرنے اور مغلوب کرنے کیلئے کی جاتی ہے۔ . . . الکحل اور منشیات کا استعمال مارپیٹ کرنے والوں کی طرزِزندگی کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ مگر یہ سوچنا غلط ہے کہ منشیات کا استعمال تشدد کا باعث بنتا ہے۔“
• مارپیٹ کرنے والے سب کیساتھ متشدّد ہوتے ہیں۔
مارپیٹ کرنے والا شخص عموماً دوسروں کیساتھ بڑی خوشمزاجی سے پیش آتا ہے۔ وہ مختلف روپ دھارتا رہتا ہے۔ اسی لئے دوستاحباب کیلئے یہ ماننا نہایت مشکل ہوتا ہے کہ وہ تشدد کرتا ہے۔ تاہم، بیوی کو مارنےپیٹنے والا درحقیقت بیوی پر برتری جتانے کیلئے اُس پر زیادتی کرتا ہے۔
• خواتین بُرا سلوک کئے جانے کے خلاف آواز نہیں اُٹھاتیں۔
غالباً اس نظریے کا تعلق اس بات سے ہے کہ لوگ عورت کی بےیارومددگار حالت کو نہیں سمجھتے کہ آخر وہ بھاگ کر جائے کہاں۔ مارپیٹ کا نشانہ بننے والی بیوی کے شاید کچھ واقفکار ہوں جو ایک یا دو ہفتے کیلئے اُسے اپنے پاس رکھنے کو تیار ہوں مگر اس کے بعد وہ کیا کریگی؟ ملازمت تلاش کرنا اور مکان کا کرایہ ادا کرنا نیز بچوں کی نگہداشت کرنا ایسے امکانات ہیں جو اُسکی حوصلہشکنی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ شاید قانون بھی بچوں کیساتھ گھر سے بھاگنے کی اجازت نہ دے۔ بعض نے فرار کی کوشش کی ہے مگر اُنہیں زبردستی یا بہلاپھسلا کر واپس لایا گیا ہے۔ ایسے دوستاحباب جو صورتحال کو سمجھ نہیں سکتے شاید وہ اس غلطفہمی کا شکار ہو جائیں کہ ایسی عورتیں زیادتی کے خلاف آواز نہیں اُٹھاتیں۔