یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو01 8/‏10 ص.‏ 24-‏27
  • کراس‌کنٹری سکی‌انگ—‏کیا آپ اِس سے لطف‌اندوز ہو سکتے ہیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کراس‌کنٹری سکی‌انگ—‏کیا آپ اِس سے لطف‌اندوز ہو سکتے ہیں؟‏
  • جاگو!‏—‏2001ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • اسکی ابتدا
  • جسمانی فوائد
  • اپنے موسمِ‌سرما کو مزید خوشگوار بنانا
  • کِیا—‏ایک پہاڑی مسخرہ
    جاگو!‏—‏2002ء
  • خطرناک کھیل—‏کیا آپ کو اپنی جان خطرے میں ڈالنی چاہیے؟‏
    جاگو!‏—‏خطرناک کھیل—‏کیا آپ کو اپنی جان خطرے میں ڈالنی چاہیے؟‏
جاگو!‏—‏2001ء
جاگو01 8/‏10 ص.‏ 24-‏27

کراس‌کنٹری سکی‌انگ‏—‏کیا آپ اِس سے لطف‌اندوز ہو سکتے ہیں؟‏

کینیڈا سے جاگو!‏ کا رائٹر

‏”‏لانگ‌لوئیفر لے‌بین لینگر“‏‏—‏”‏کراس‌کنٹری سکیئرز زندہ‌باد۔“‏ جرمن زبان کا یہ مشہور مقولہ موسمِ‌سرما کے کھیل کراس‌کنٹری سکی‌انگ کیلئے لوگوں کی قدردانی کو بخوبی نمایاں کرتا ہے۔ واقعی کئی ممالک کے دیہی علاقہ‌جات میں جہاں موسمِ‌سرما میں بہت زیادہ برف‌باری ہوتی ہے وہاں سکی‌انگ کی وجہ سے برف پر آڑی‌ترچھی لکیروں کا ایک جال بچھ جاتا ہے۔ بعض ممالک میں شہروں اور دیہاتوں کے درمیان برف پر بنے ہوئے اِن راستوں پر سائن بورڈ لگا دئے جاتے ہیں اور انہیں مصنوعی طریقے سے روشن کِیا جاتا ہے تاکہ سکیئرز گھر سے کام اور کام سے گھر آنے‌جانے کے لئے انہیں استعمال کر سکیں۔‏

سن ۱۹۶۰ سے پہلے بہت کم لوگ کراس‌کنٹری سکی‌انگ کی طرف مائل تھے مگر حالیہ سالوں کے دوران اس نے دُنیا کے بہتیرے ممالک میں شہرت حاصل کر لی ہے۔ بعض لوگوں کے اندازے کے مطابق صرف شمالی امریکہ میں ہر سال تقریباً چار ملین لوگ اس کھیل سے لطف‌اندوز ہوتے ہیں!‏ اس کی شہرت اور دلکشی کا راز کیا ہے؟ بظاہر اسکی سادگی اور کم لاگت۔ اسکی دوسری مشہور قسم—‏الپائین یا ڈاؤن‌ہل (‏ڈھلوانی)‏ سکی‌انگ—‏کی نسبت کراس‌کنٹری سکی‌انگ کے کچھ پہلو آسان ہیں۔ ڈاؤن‌ہل سکیئر کو خاص قسم کے قیمتی آلات اور لباس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اُسے سکی‌انگ کیلئے مخصوص پہاڑوں پر جانا پڑتا ہے جس کیلئے اسے سکی‌لفٹ کی مہنگی ٹکٹ خریدنے کے علاوہ ایک لمبی قطار میں کافی دیر تک لفٹ کا انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ ڈاؤن‌ہل سکی‌انگ کسی حد تک چستی اور پھرتی کا بھی تقاضا کرتی ہے جو بہتیرے ناتجربہ‌کار لوگوں میں نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس، ہر عمر کے لوگ کراس‌کنٹری سکی‌انگ سے لطف‌اندوز ہو سکتے ہیں۔ اس کیلئے صرف کچھ انچ تازہ برف، تھوڑی تربیت اور سستے سکی، سکی بوٹ اور سکی چھڑیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔‏

کراس‌کنٹری سکی‌انگ ایک ہیجان‌خیز تجربہ ہو سکتا ہے!‏ سکیئرز حسبِ‌منشا میدانوں اور سبزہ‌زاروں، منجمد جھیلوں اور ندیوں، جنگلات اور برف‌پوش وادیوں میں جا سکتے ہیں۔ کراس‌کنٹری سکی‌انگ غوروخوض کرنے کا وقت مہیا کرتی ہے جس سے ہمیں اپنے خالق سے تنہائی میں بات کرنے اور زندگی کے حیرت‌انگیز کاموں کیلئے اُسکا شکر ادا کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ موسمِ‌سرما یہوواہ خدا کی تخلیق کو ایک منفرد خصوصیت عطا کرتا ہے۔ برف کی ایک چمکدار چادر پورے علاقے پر سکوت طاری کر دیتی ہے۔ زمین تازہ اور صاف لگتی ہے گویا یہ اب اپنا نیا نظارہ پیش کرنے کیلئے تیار ہے۔ برف سے گزرتے وقت برف سے لدے درخت دل‌ودماغ کو فرحت پہنچاتے ہیں۔ ہماری مشینی دُنیا کا شور ختم ہو جاتا ہے اور صرف سکی کی سرسراہٹ سنائی دیتی ہے۔‏

اگر خاندان یا دوستوں کیساتھ کراس‌کنٹری سکی‌انگ کی جائے تو یہ ایک اجتماعی تفریح بن جاتی ہے جو اتحاد اور میل‌جول کو فروغ دیتی ہے۔ آجکل شمالی یورپ کے ممالک میں بعض خاندان ریل کے ذریعے ۲۰ یا ۳۰ کلومیٹر کا سفر کرکے سکی‌انگ کرتے ہوئے اکٹھے گھر واپس لوٹتے ہیں۔‏

اسکی ابتدا

بعض لوگ کراس‌کنٹری سکی‌انگ کو ایک حالیہ ایجاد خیال کر سکتے ہیں لیکن درحقیقت یہ کوئی نیا کھیل نہیں ہے۔ سن ۱۹۲۷ میں ناروے کے جزیرے روڈوئے کے غاروں میں بنی ہوئی ہزاروں سال پُرانی تصاویر دریافت ہوئی ہیں۔ ایک تصویر میں ایک شکاری کو خرگوش کی کھال کا بنا نقاب پہنے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وہ بظاہر لمبی سکی پہنے برف پر پھسل رہا ہے۔ حال ہی میں سکینڈینیویا میں نباتاتی دلدل سے ہزاروں پُرانے سکی بڑی عمدہ حالت میں دریافت ہوئے ہیں۔ ناروے کے ابتدائی لوگوں کیلئے طویل اور برفانی موسمِ‌سرما میں سکی‌انگ سفر کا ایک بنیادی ذریعہ تھا۔ یہ ان کی طرزِزندگی کا اسقدر اہم حصہ تھا کہ وہ سکی دیوی اور دیوتا کی پرستش بھی کرتے تھے!‏ آجکل ناروے اور سویڈن کے بہتیرے شہروں اور دیہاتوں کے ناموں میں ان قدیم بُت‌پرستانہ اعتقادات کی جھلک نظر آتی ہے۔ شاید سکینڈینیویا نام بھی سکیئرز کی دیوی سکیڈ کی نمائندگی کرتا ہے۔‏

اگرچہ سکی‌انگ صدیوں سے ناروے کی طرزِزندگی کا ایک اہم حصہ رہی ہے لیکن بین‌الاقوامی کھیل کے طور پر کراس‌کنٹری سکی‌انگ کو ۱۹ویں صدی کے بعد عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔ اس وقت ناروے کے لوگوں نے روایتی سکی کو مخروطی شکل میں ڈھالنے کے علاوہ اس میں دیگر تبدیلیاں کرکے اسے بہتر بنا لیا۔ اُنہوں نے ایڑی اور پاؤں کی انگلیوں کو باندھنے کا نظام بھی تشکیل دیا جسکی بنیاد پر جدید سکی باندھنے کے آلات بنائے گئے۔ جلد ہی جنوب وسطی ناروے کے کوہستانی علاقے ٹیلی‌مارک میں مقابلوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ عام رائے کے مطابق، مُتعیّنہ وقت کیساتھ سب سے پہلی کراس‌کنٹری سکی ریس اس علاقے میں منعقد ہوئی اور اس میں جیتنے والے شخص نے تقریباً ۳۰ منٹ میں پانچ کلومیٹر کا فاصلہ طے کِیا۔ اس کے بعد بہت جلد شمالی یورپ کے ممالک میں کراس‌کنٹری سکی‌انگ نے شہرت حاصل کر لی لیکن اسے باقی دُنیا سے ایک اَور موقع پر متعارف کرایا گیا۔‏

سیاح فرٹ‌یوف نین‌سن نے ۱۸۸۸ میں گرین‌لینڈ کا سفر سکی پر طے کرنے کا کارنامہ سرانجام دیا۔ اسکے بعد اس نے اپنے تجربے پر ایک کتاب لکھی جسکا ۱۸۹۱ میں انگریزی، فرانسیسی اور جرمن زبانوں میں ترجمہ کِیا گیا۔ قُطب شمالی کے ویران علاقے میں اسکے کٹھن سفر کی تصویرکشی کرنے والی اس سرگزشت نے وکٹوریائی دَور کے قارئین کی دلچسپی کو اُبھارا۔ اس نے ایک غیرآباد قطعہ کو فتح کرنے کے مہماتی تصورات کو تحریک دی۔ اسی سال پہلا یورپی سکی کلب ٹوڈناؤ قائم کِیا گیا۔‏

سن ۱۹۶۰ میں خاندان کے ساتھ سکی کرنے کی تفریح کا بڑے پیمانے پر اہتمام کِیا گیا۔ بہت جلد کراس‌کنٹری سکی‌انگ میں مہارت رکھنے والے سکی سینٹرز قائم ہونے لگے۔ صنعت‌کاروں نے اس بات پر غور کِیا اور نئے اور حساس‌وپیچیدہ آلات وجود میں آنے لگے۔ الغرض کراس‌کنٹری سکی‌انگ میں خوش‌لباس نظر آنے کے لئے نئے فیشن کے لباس متعارف کرائے گئے۔ عوام کی بڑھتی ہوئی مانگ کے نتیجے میں گالف کے میدانوں اور شہر کے پارکوں سمیت کسی بھی دستیاب علاقے کو صاف کرکے اسے سکی‌انگ کیلئے تیار کرنے کے سلسلے میں کئی بلدیاتی اداروں میں مقابلہ‌بازی شروع ہو گئی۔‏

جسمانی فوائد

کراس‌کنٹری سکی‌انگ کا شمار مشہور اور محفوظ کھیلوں میں ہوتا ہے۔ اگرچہ گِرنے سے معمولی موچ آ سکتی ہے لیکن گہری چوٹیں بہت کم لگتی ہیں اور یہ بھی اکثر اُس صورت میں ہوتا ہے جب کراس‌کنٹری سکیئرز ڈھلوانی اور کم آباد دیہی علاقے میں سکی‌انگ کرتا ہے۔‏

کراس‌کنٹری سکی‌انگ کی حرکات متوازن اور ہم‌آہنگ ہوتی ہیں لہٰذا اس میں جوڑوں اور عضلات کی تھکاوٹ یا جھٹکا لگنے سے نقصان پہنچنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔ کھلاڑیوں کے ڈاکٹر جاگنگ کرنے یا سائیکل چلانے سے زخمی ہونے والے اشخاص کو اکثر علاج کے طور پر کراس‌کنٹری سکی‌انگ کا مشورہ دیتے ہیں۔ یہ چند ایسی کارگزاریوں میں سے ایک ہے جو جسم کے عضلات کے تقریباً تمام بنیادی گروپوں کو استعمال میں لاتی ہے اور یوں سکیئرز کی مکمل ورزش ہو جاتی ہے۔ دل اور پھیپھڑوں کو بہت زیادہ فائدہ پہنچتا ہے اور چست سکیئرز کا بلڈپریشر اور رفتارِنبض عموماً سُست لوگوں سے کم ہوتا ہے۔ پس کراس‌کنٹری سکیئرز کا شمار دُنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔‏

چوٹ لگنے کے کم خطرات کیساتھ ساتھ ہم‌آہنگ اور چست حرکات کراس‌کنٹری سکی‌انگ کو عمررسیدہ لوگوں کیلئے بھی موزوں بنا دیتی ہیں۔ شمالی یورپ کے بعض ممالک میں عمررسیدہ لوگوں کو سکی‌انگ کرتے دیکھنا عام بات ہے۔‏

سکی‌انگ کرنے سے جسم میں بہت زیادہ حرارت پیدا ہوتی ہے لہٰذا سرد موسم میں یہ کھیل بڑے آرام سے کھیلا جا سکتا ہے۔ ایک انتہائی سرد دن پر بھی سکیئرز معمول کے مطابق، ہلکے لباس پہنے اور اکثر دستانوں کے بغیر مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔ تاہم، ناتجربہ‌کار اشخاص کو اپنے ہاتھوں اور پاؤں کو سردی سے محفوظ رکھنے کیلئے احتیاط برتنی چاہئے۔ بیرونی کھیلوں میں دلچسپی رکھنے والے تجربہ‌کار اشخاص اکثر کپڑوں کی کئی تہیں چڑھاتے ہیں، سب سے پہلے ایک اُونی یا کیمیاوی طریقے سے تیارکردہ تہ چڑھائی جاتی ہے اور آخر میں ایک پن‌روک اور ہواروک بیرونی پوشاک پہنی جاتی ہے۔ اس سے وہ اپنے جسمانی درجۂ‌حرارت کو متوازن رکھنے اور ذاتی طور پر پُرسکون محسوس کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ وہ ضرورت کے مطابق تہ چڑھاتے یا اُتارتے ہیں۔ دانشمند والدین کو اپنے بچوں کو مناسب لباس پہنانے کا یقین کر لینا چاہئے کیونکہ بالغ اشخاص کی نسبت بچوں کے جسم جلد سرد ہو جاتے ہیں۔ چونکہ بچوں میں حرارت جلدی ختم ہو جاتی ہے اسلئے اُنہیں ٹھنڈ لگنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔‏

اپنے موسمِ‌سرما کو مزید خوشگوار بنانا

‏”‏اگر آپ چل سکتے ہیں تو آپ سکی بھی کر سکتے ہیں،“‏ یہ اظہار کراس‌کنٹری سکیئرز اکثر استعمال کرتے ہیں کیونکہ اس کھیل اور چلنے میں بہت زیادہ مشابہت پائی جاتی ہے۔ کسی حد تک اِس بیان کے درست ہونے کے باوجود ہم میں سے بیشتر کسی تربیت‌یافتہ اُستاد کیساتھ کچھ وقت گزارنے سے بہت فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ سکی سینٹرز ذاتی یا گروپ کی شکل میں تربیت فراہم کرتے ہیں اور ایک مختصر عرصے کے بعد ناتجربہ‌کار شخص کراس‌کنٹری سکی‌انگ کے بنیادی اصول جیساکہ ہموار علاقوں سے گزرنے، ڈھلانوں پر چڑھنے اور پھر نیچے اُترنے اور رُکنے کے طریقے سیکھ سکتا ہے!‏ ایک بار ان بنیادی مہارتوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد بیشتر لوگ اس کھیل میں حصہ لینے کے قابل ہو جاتے ہیں۔‏

فرٹ‌یوف نین‌سن نے ۱۸۹۰ میں کراس‌کنٹری سکی‌انگ کی بابت بیان کِیا کہ ”‏عضلات کو مضبوط کرنے اور جسم میں طاقت اور لچک پیدا کرنے کا اس سے بہتر اَور کوئی طریقہ نہیں۔“‏ آپ بھی اس کھیل سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ یہ آپکے موسمِ‌سرما کو مزید خوشگوار اور دلچسپ بنا سکتا ہے۔‏

‏[‏صفحہ ۲۴، ۲۵ پر تصویریں]‏

کراس‌کنٹری سکی‌انگ نسبتاً کم‌خرچ ہے اور تمام عمر کے لوگ اس سے لطف‌اندوز ہو سکتے ہیں

‏[‏صفحہ ۲۶ پر تصویر]‏

غار میں ایک سکیئر کی تصویر

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

Foto: © Universitetets kulturhistoriske museer, Eirik Irgens

Johnsen

‏[‏صفحہ ۲۶ پر تصویر]‏

واس، ناروے میں دریافت ہونے والی قدیم سکی

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

Foto: Inge Ove Tysnes / Syv søstre forlag

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں