عمررسیدہ کی بابت مفروضات اور حقائق
عمررسیدہ لوگوں کی بابت بیشمار مفروضات پائے جاتے ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ایجنگ اینڈ ہیلتھ پروگرام کی ایک اشاعت ”ایجنگ—ایکسپلوڈنگ دی میتھس“ بعض مفروضات کے جھوٹ کو بےنقاب کرتی ہے۔ اسکی چند مثالوں پر غور کریں۔
مفروضہ: زیادہتر عمررسیدہ لوگ ترقییافتہ ممالک میں رہتے ہیں۔
حقیقت: دُنیا کے ۵۸۰ ملین عمررسیدہ لوگوں میں سے ۶۰ فیصد درحقیقت ترقیپذیر ممالک میں رہتے ہیں۔ اِن ممالک کے اندر بیشتر لوگ حفظانِصحت کے بہتر انتظامات، خوراک اور رہائش کے معیار میں بہتری کی بدولت اب طویل عمر پاتے ہیں۔
مفروضہ: عمررسیدہ لوگ معاشرے کو کچھ نہیں دے سکتے۔
حقیقت: عمررسیدہ لوگ ایسے مختلف کام کرنے سے دوسروں کی مدد میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جنکا اُنہیں کوئی معاوضہ نہیں ملتا۔ مثال کے طور پر، ریاستہائےمتحدہ میں اندازاً ۲ ملین بچوں کی کفالت اُن کے دادا دادی یا نانا نانی کر رہے ہیں اور ان میں سے ۲.۱ ملین اپنے دادا دادی یا نانا نانی کے گھروں ہی میں رہتے ہیں۔ لہٰذا، عمررسیدہ لوگ رہائش، خوراک اور تعلیم فراہم کرنے کے علاوہ اپنے اسباط میں ثقافتی اقدار منتقل کرنے کے علاوہ ان کے والدین کیلئے اپنی ملازمتیں جاری رکھنا ممکن بناتے ہیں۔ اسی طرح، ترقییافتہ ممالک میں بیشتر رضاکار تنظیمیں عمررسیدہ لوگوں کے عطیات سے ہی چل رہی ہیں۔ وہ زیادہ موزوں دیکھبھال فراہم کرتے ہیں جس کی واقعی بڑی ضرورت ہے۔ بعض ترقیپذیر ممالک میں جہاں تقریباً ۳۰ فیصد بالغ ایڈز سے متاثر ہیں وہاں عمررسیدہ لوگ نہ صرف ان بیمار بالغوں کی دیکھبھال کرتے ہیں بلکہ انکی وفات کے بعد اپنے یتیم اسباط کی پرورش بھی کرتے ہیں۔
مفروضہ: عمررسیدہ لوگ کام نہ کر پانے کی وجہ سے ملازمت چھوڑ دیتے ہیں۔
حقیقت: وہ بڑھاپے کی بجائے عموماً تعلیموتربیت کی کمی یا پھر عمررسیدہ سے روا رکھے جانے والے تعصّب کی وجہ سے کام چھوڑ دیتے ہیں۔
مفروضہ: عمررسیدہ لوگ کام کرنا ہی نہیں چاہتے۔
حقیقت: اکثر عمررسیدہ لوگوں کو کام جاری رکھنے کی لیاقت اور رضامندی کے باوجود اچھی تنخواہ والی ملازمتوں سے برطرف کر دیا جاتا ہے۔ بالخصوص بیروزگاری کے باعث، اکثر یہ مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے کہ عمررسیدہ لوگوں کو اچھی ملازمتیں چھوڑ دینی چاہئیں تاکہ بیروزگار نوجوانوں کیلئے اَسامیاں خالی ہو جائیں۔ تاہم، عمررسیدہ ملازمین کو وقت سے پہلے ہی ملازمت سے نکال دینا اس بات کی ضمانت نہیں کہ نوجوانوں کو ملازمتیں مل جائینگی۔ ملازمت کے خواہاں ایک بیروزگار نوجوان میں شاید ایسی تمام مہارتیں نہ ہوں کہ وہ عمررسیدہ شخص کی جگہ کام کر سکے۔ تجربہکار عمررسیدہ ملازمین پیداوار اور پائیداری کی ضمانت دینے کے قابل ہوتے ہیں۔
اِن تمام حقائق کے پیشِنظر، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیوایچاو) بیان کرتی ہے کہ دُنیا کو اپنے عمررسیدہ لوگوں کو ایسے ماہرین خیال کرنا چاہئے جن سے بہت فائدہ حاصل کِیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا، ڈبلیوایچاو کے ایجنگ اینڈ ہیلتھ پروگرام کے گروپ کا لیڈر الیگزینڈر کلاچی بیان کرتا ہے کہ ”تمام ممالک میں عمررسیدہ لوگوں کو مسئلے کی بجائے مسئلے کا امکانی حل خیال کِیا جانا چاہئے۔“ یہی مسلمہ حقیقت ہے۔