دُنیا کا نظارہ کرنا
سکندریہ کی نئی لائبریری میں کتابوں کا فقدان
دی وال سٹریٹ جرنل کے مطابق، سکندریہ کی عظیم لائبریری جو ”مسیح کے زمانے میں انسانی علم کا مکمل خزانہ تھی . . . ۴۷ ق.س. میں آتشزدگی سے تباہ ہو گئی تھی اور بالآخر ۷ویں صدی عیسوی میں بالکل ختم ہوگئی تھی۔“ کچھ عربی ممالک اور اقوامِمتحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم کی مدد سے مصر نے سکندریہ میں ایک نئی لائبریری قائم کی ہے اور اُسے اُمید ہے کہ یہ سابقہ لائبریری سے زیادہ شاندار ہوگی۔ ”پہلی چار منزلیں زمیندوز ہیں۔ لائبریری کے چوگرد ایک تالاب ہے، اس میں ۱۷ ایلیویٹر، خودکار صفائی والی کھڑکیاں اور ایک اسقدر جدید حفاظتی نظام ہے جو کسی بھی بیشقیمت مواد پر پانی کے بغیر آگ بجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔“ تاہم، جرنل بیان جاری رکھتا ہے کہ ”لائبریری میں ایک اہم چیز کی کمی ہے۔ کتابیں۔“ اخبار مزید بیان کرتا ہے کہ کئی سالوں کے دوران اس کی تعمیر پر لاکھوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد ”درحقیقت نئی لائبریری کیلئے کتابیں خریدنے کا بجٹ اتنا کم رہ گیا کہ لائبریری کے سربراہ، محسن زاران کو انکساری کیساتھ کتابوں کے لئے درخواست کرنی پڑی جنکی خصوصیت صرف یہ ہے کہ اُنکی کوئی قیمت نہیں۔“ مسٹر زاران بیان کرتا ہے کہ کسی بڑے لائبریرین کی تلاش نہیں کی جا رہی کیونکہ ”ہم اسے تنخواہ نہیں دے سکتے۔“ نئی لائبریری میں اَسی لاکھ کتابوں کی گنجائش ہے۔
درد کا وہم
نیو سائنٹسٹ رسالے کی رپورٹ کے مطابق ”اپنے جسم کے کسی عضو سے محروم ہو جانے والے لوگ اکثر اس حصے میں شدید درد محسوس کرتے ہیں یا اگر کوئی انکے چہرے کو چھو لے تو اُنہیں اس میں سنسنی سی محسوس ہوتی ہے۔“ رسالہ وضاحت کرتا ہے کہ ”جب کوئی عضا کاٹ دیا جاتا ہے یا ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ کی وجہ سے قشرہ بےجان ہو جاتا ہے تو قریبی رگیں اس حصے کی جگہ لے کر وہاں کام کرنے لگتی ہیں۔“ رسالہ مزید بیان کرتا ہے: ”نتیجتاً لوگ کٹے ہوئے عضا کی موجودگی یا مستقل درد کو محسوس کرنے لگتے ہیں۔“
سانس کی بدبو اور نوکری کے امکانات
برازیل کے بزنس میگزین ایزامے میں ڈینٹسٹ اینا کرسٹینا کولبے بیان کرتی ہے، ”یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ [سانس کی بدبو] بہتیری ملازمتوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اسکے علاوہ، ملازم بھرتی کرنے والا اعلیٰ افسر لیانڈرو سرڈیرا بیان کرتا ہے، ”سنگین معاملات میں، لوگ یکےبعددیگرے ملازمتوں سے محروم ہوتے رہتے ہیں مگر اس مسئلے کی اصل وجہ نہیں سمجھ پاتے۔“ برازیل کے دو بڑے شہروں میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق، ۴۰ فیصد لوگ ہیلیٹوسس یا سانس کی بدبو کا شکار تھے۔ اس کی زیادہ عام وجہ ذہنی دباؤ اور ریشےدار غذا کی کمی تھی۔ ڈاکٹر کولبے اِن علامات کو کم کرنے کیلئے اس مسئلے میں مبتلا لوگوں کو کچھ دنوں کی چھٹی لینے اور سبزیوں کا استعمال بڑھانے کی تجویز پیش کرتی ہے۔ سانس کی بدبو والے ملازمین اسکے فوری حل کیلئے ہلکی ہائیڈروجن پرآکسائیڈ اور پانی کے غرارے کر سکتے ہیں۔
مایوسی میں اضافہ
فرانسیسی اخبار لی مونڈے بیان کرتا ہے کہ عالمی ادارۂصحت (ڈبلیوایچاو) کی ۱۰۵ ممالک پر پیشکردہ رپورٹ کے مطابق، ۱۹۵۰ اور ۱۹۹۵ کے درمیان ان ممالک میں خودکُشی کی تعداد اوسطاً ۶۰ فیصد بڑھ گئی ہے۔ ڈبلیوایچاو کے مینٹل ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی منتظم، ڈاکٹر ہوزے ماریہ برٹولوٹے کے اندازے کے مطابق، سن ۲۰۰۰ میں ایک ملین لوگ خودکُشی کرینگے اور کوئی ۱۰ سے ۲۰ ملین لوگ خودکُشی کرنے کی کوشش کرینگے۔ تاہم، اصل اعدادوشمار اس سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ہر سال مجموعی طور پر دُنیا میں اتنی جانیں تو جنگوں میں بھی ضائع نہیں ہوتیں جتنی کہ خودکُشی کے باعث ضائع ہو جاتی ہیں۔ ڈاکٹر برٹولوٹے کے بیان کے مطابق، ۱۵ سے ۳۵ سال کے لوگوں میں، خودکُشی ”موت کی تین بنیادی وجوہات میں سے ایک بن گئی ہے۔“
جنوبی افریقہ میں عصمتدری کے واقعات
ورلڈ پریس ریوو کے مطابق، ”جنوبی افریقہ میں ہر سال عصمتدری کے ایک ملین واقعات پیش آتے ہیں۔“ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ۳۰ سیکنڈ کے بعد عصمتدری کی جاتی ہے۔ مضمون بیان کرتا ہے کہ ”دُنیا میں عصمتدری کے سب سے زیادہ واقعات جنوبی افریقہ میں پیش آتے ہیں جن کا انجام اکثر قتل ہوتا ہے۔“ دوسرے نمبر پر آنے والے ملک ریاستہائےمتحدہ کے مقابل، جنوبی افریقہ میں ان واقعات کی تعداد ۱۲ گُنا زیادہ ہے حالانکہ یہاں کی آبادی صرف ۴۰ ملین ہے۔ مضمون مزید بیان کرتا ہے: ”دوسرے ممالک میں لوگ شاید آپکو عصمتدری، چوری یا قتل کا نشانہ بنائیں۔ لیکن جنوبی افریقہ میں لوگ آپ کو قتل کرنے سے پہلے عصمتدری کا نشانہ بنائینگے گویا کہ آپ کی موجودگی سے فائدہ اُٹھانا ان کے لئے عام بات ہے۔ دوسرے جرائم کرتے وقت عصمتدری کرنا فطری عمل بن کر رہ گیا ہے۔“ اس کے علاوہ، ”کسی گروہ کے نئے ارکان کیلئے عصمتدری ابتدائی تقاضوں میں شامل ہے“ جسکے بعد وہ اپنے شکار کو قتل کر دیتے ہیں۔ مضمون جن عناصر کو اس صورتحال کا ذمہدار ٹھہراتا ہے ان میں بچوں سے بدسلوکی اور زندگی کی بےقدری کا رجحان شامل ہے۔ علاوہازیں، مضمون بیان کرتا ہے کہ ۱۹۹۸ میں جوہانزبرگ کے ایک سروے کے مطابق، ”نوجوان مرد یہ یقین رکھتے ہیں کہ عورتیں درحقیقت عصمتدری کا نشانہ بننا پسند کرتی ہیں مگر اِسے ظاہر نہیں کرتیں اور اگر آپ کسی لڑکی کو باہر لے جاتے ہیں تو اس سے جنسی تعلقات کا تقاضا کرنا آپ کا حق ہے۔“
جنوبی افریقہ میں خون کے بغیر جراحی
جنوبی افریقہ کے اخبار دی مرکری کی رپورٹ کے مطابق، ”جنوبی افریقہ کے بڑے پرائیویٹ ہسپتالوں کے ایک گروپ نے ایڈز کے بڑھتے ہوئے خوفناک اعدادوشمار کے پیشِنظر ’خون کے بغیر علاج اور جراحی‘ کا انتخاب کِیا ہے۔“ اس پروگرام کے میڈیکل ڈائریکٹر، ڈاکٹر افرائیم کرامر نے بیان کِیا، ”ہمارا مقصد عطیے میں دئے گئے خون کے بغیر مریضوں کی طبّی اور جراحی ضروریات کو پورا کرنے میں طبّی عملے کی حوصلہافزائی کرنا ہے۔“ جنوبی افریقہ میں کمازکم ۸۰۰ ڈاکٹر انفرادی طور پر خون کے بغیر علاج اور جراحی کرتے ہیں تاہم، ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ہسپتالوں کے ایک گروپ نے قومی سطح پر منظم کئے گئے ایسے پروگرام پر عمل کرنے کا فیصلہ کِیا ہے۔ ڈاکٹر کرامر نے کہا کہ ڈاکٹروں کا جوابیعمل ”نمایاں طور پر مثبت“ رہا تھا۔ دی مرکری بیان کرتا ہے: ”خون کے عطیے کے ذریعے علاج قبول نہ کرنے والے یہوواہ کے گواہوں جیسے مذہبی گروہوں کے مطالبوں کی وجہ سے بڑی حد تک خون کے بغیر علاج کے مؤثر طریقے عمل میں آئے ہیں۔“
وٹامن سی کے قدرتی کیپسول
ازارل جسے جنگلی چیری بھی کہتے ہیں تقریباً دو سینٹیمیٹر کی ہوتی ہے۔ تاہم، اس کھٹےمیٹھے پھل میں نارنجی سے ۵۰ گُنا زیادہ اور لیمو سے ۱۰۰ گُنا زیادہ وٹامن سی ہوتا ہے۔ ٹاراپوٹو، پیرو کی سان مارٹن سٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق نے ظاہر کِیا کہ سب سے زیادہ ایسڈ والے لیمو کے ۱۰۰ گرام گودے میں ۴۴ ملیگرام وٹامن سی ہوتا ہے جبکہ اتنی ہی مقدار کے ازارل میں ۴،۶۰۰ ملیگرام وٹامن سی ہوتا ہے۔ اِن قدرتی پھلوں کے صرف چار ”کیپسول“ ایک بالغ شخص کی روزانہ وٹامن سی کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ اخبار ایل کمرشیو کے مطابق، کوکا کی پیداوار کی جگہ ”جلد خراب ہو جانے والے پھل“ ازارل کو تجارتی سطح پر اُگانے کی کوششیں جاری ہیں۔
نقصاندہ مشورت
”ابلاغِعامہ اور جدتپسند ماہرینِنفسیات اس نظریے کو فروغ دیتے ہیں کہ [غصے] کا ’اظہار‘ کرنا مفید ہے،“ رسالہ سائیکولوجی ٹوڈے بیان کرتا ہے۔ ”تاہم یہ مشورہ مفید ہونے کی بجائے زیادہ نقصاندہ ہے۔“ آئیووا سٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرِنفسیات بریڈ بشمین کے مطابق، ”غصے کا اظہار درحقیقت جارحیت میں اضافہ کرتا ہے۔“ زیرِتحقیق اشخاص میں سے مکےبازی کے تھیلے پر مکے مار کر اپنے ”غصے کا اظہار“ کرنے والوں نے دوسروں کی نسبت دو گُنا زیادہ جارحیتپسندی اور سفاکی کا ثبوت دیا۔ مضمون بیان کرتا ہے، ”مکےبازی کے تھیلے پر مشق کرنے سے پہلے، کیتھارسس کے فوائد پر مضمون پڑھنے والے اشخاص بھی دوسروں کی نسبت زیادہ مکے برسانے کی طرف مائل تھے۔“ بشمین بیان کرتا ہے کہ ”غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرنے کی بجائے اس پر قابو پائیں۔ ۱۰ تک—یا ضروری ہو تو ۱۰۰ تک—گنتی گنیں تو آپکا غصہ خودبخود ٹھنڈا ہو جائیگا۔“
اوزون کا سب سے بڑا سوراخ
ستمبر ۲۰۰۰ کے دوران، ناسا کے اوزون کا مشاہدہ کرنے والے سیارے نے انٹارکٹیکا کے اُوپر آج تک ریکارڈ ہونے والا سب سے بڑا سوراخ دریافت کِیا۔ یہ رپورٹ ارجنٹینا، بیونس آئرس کے اخبار کلیرن نے پیش کی۔ یہ سوراخ تقریباً ۳.۲۸ ملین مربع کلومیٹر کے علاقے کے اُوپر رونما ہوا جو کہ سابقہ ریکارڈ سے ۱۰،۰۰،۰۰۰ مربع کلومیٹر زیادہ بڑا ہے۔ اس سوراخ کی وسعت نے سائنسدانوں کو حیرتزدہ کر دیا۔ ناسا کے ڈاکٹر مائیکل کیوریلو نے بیان کِیا کہ ان مشاہدوں نے ”زمین کی اوزون پرت کی کمزوری کے متعلق فکر میں اضافہ کر دیا ہے۔“ خلائی تحقیق کرنے والی ارجنٹینا کی نیشنل کمیٹی کے رُکن اور ماہرِطبیعیات روبن پایسنٹنی نے تبصرہ کِیا کہ اگرچہ یہ سوراخ اس وقت انٹارکٹیکا کے غیرآباد علاقے کے اُوپر موجود ہے لیکن یہ ”[ارجنٹینا] کے جنوبی علاقے کے اُوپر سے بھی گزر سکتا ہے۔“ کلیرن نے بیان کِیا کہ اوزون سورج کی الٹراوائلٹ ریڈیایشن (بنفشی شعاعیں) کے نقصاندہ اثرات کو کم کرنے سے ایک حفاظتی ڈھال کا کام انجام دیتی ہے۔