پاک صحیفوں کی روشنی میں
خطرناک کھیل—کیا آپ کو اپنی جان خطرے میں ڈالنی چاہیے؟
”آجکل زیادہ سے زیادہ لوگ بس تماشائی بن کر کھیلوں کو نہیں دیکھنا چاہتے بلکہ وہ خود پیراشوٹ باندھ کر جہاز سے چھلانگ لگانا اور ہوا میں اُڑنا چاہتے ہیں، تیز بہاؤ والے چشموں پر چھوٹی سی کشتی چلانا چاہتے ہیں یا شارک سے بھرے سمندر میں غوطہخوری کرنا چاہتے ہیں۔“—اخبار ”دی وِلو گلین ریزیڈنٹ۔“
اِس اخبار میں بتائے گئے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ خطرناک کھیل کھیلنا بہت پسند کرنے لگے ہیں جیسے کہ سکائےڈائیونگ (یعنی پیراشوٹ کھولنے سے پہلے ہوا میں کرتب کرنا)، برف کی چوٹیوں پر چڑھنا، بیس جمپنگ۔a اِس کے علاوہ بہت سے لوگ سنوبورڈنگ، پہاڑوں پر سائیکل چلانے، سکیٹ بورڈ نگ جیسے کھیلوں میں ریکارڈ قائم کرنے کے لیے جان کی بازی لگا دیتے ہیں۔ رسالہ ”ٹائمز“ میں بتایا گیا: ””خطرناک کھیلوں“ کی شہرت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ اِن کھیلوں میں حصہ لینے والے لاکھوں لوگ، چاہے وہ منجھے ہوئے کھلاڑی ہوں یا چھٹی والے دنوں میں کھیلوں میں حصہ لینے والے کھلاڑی، یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ بڑی مہارت سے ایک کھیل کھیلنے کے ساتھ ساتھ اِس کے خطروں پر بھی قابو پا سکتے ہیں۔ اِن لوگوں کو اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اِن خطروں کو مول لینے سے اُن کی جان بھی جا سکتی ہے۔“
کئی لوگوں کے لیے اِن کھیلوں کو کھیلنا بہت مہنگا پڑا ہے۔ بہت سے لوگ اُس وقت زخمی ہو جاتے ہیں جب وہ ایک ایسے کھیل کو بھی خطرناک طریقے سے کھیلتے ہیں جسے کھیلنے سے عام طور پر نقصان نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر 1997ء میں امریکہ کے ایک ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں 33 فیصد لوگ سکیٹبورڈنگ، 31 فیصد لوگ سنوبورڈنگ اور 20 فیصد لوگ پہاڑ کو سر کرنے کے کھیلوں میں زخمی ہونے کی وجہ سے بھرتی ہوئے۔ کچھ کھیلوں میں تو اِس سے بھی زیادہ بھیانک نتائج دیکھنے کو ملے ہیں۔ ہر سال اِن کھیلوں میں ہونے والی اموات کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔ خطرناک کھیلوں میں حصہ لینے والے لوگ اکثر اِس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اُنہیں فلاں کھیل کو کھیلنے سے کیا خطرہ ہوگا۔ اِس سلسلے میں ایک عورت نے جو کہ بڑے خطرناک طریقے سے سکینگ کرتی ہے، کہا: ”اِس کھیل کو کھیلتے وقت موت ہمیشہ میری آنکھوں کے سامنے ہوتی ہے۔“ سنوبورڈنگ کے ایک ماہر نے کہا: ”اگر آپ ابھی تک زخمی نہیں ہوئے تو اِس کا مطلب ہے کہ ابھی تک آپ نے اِتنی محنت ہی نہیں کی۔“
مگر سوال یہ کھڑے ہوتے ہیں کہ کیا ایک مسیحی کو اِس طرح کے کھیلوں میں حصہ لینا چاہیے؟ اور اِس سلسلے میں پاک کلام کے اصول ہمارے کام کیسے آ سکتے ہیں؟ جب ہم اِس بات کو ذہن میں رکھتے ہیں کہ یہوواہ خدا زندگی کو کیسا خیال کرتا ہے تو ہمیں اپنے اِن سوالوں کے جواب مل سکتے ہیں۔
زندگی کے بارے میں خدا کا نظریہ
بائبل میں بتایا گیا ہے کہ یہوواہ خدا ”زندگی کا چشمہ“ ہے۔ (زبور 36:9) اُس نے ہمیں صرف زندگی ہی نہیں دی بلکہ ہمارا خیال رکھتے ہوئے ہمیں ایسی چیزیں بھی دی ہیں جن سے ہمیں خوشی ملتی ہے۔ (زبور 139:14؛ اعمال 14:16، 17؛ 17:24-28) اِسی لیے وہ ہم سے یہ توقع کرتا ہے کہ ہم اُس کی دی ہوئی زندگی کی قدر کریں۔ اِس حوالے سے اُس نے بنیاِسرائیل کو ایسے اصول اور قوانین دیے جن سے وہ زندگی کی قدر کرنا سیکھ سکتے تھے۔
خدا نے موسیٰ کو جو شریعت دی، اُس میں اِسرائیلیوں سے یہ کہا گیا تھا کہ وہ دوسروں کی زندگی کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری قدم اُٹھائیں۔ اگر ایک اِسرائیلی ایسا نہ کرتا اور اُس کی وجہ سے کسی کی موت ہو جاتی تو اُسے اِس کے لیے قصوروار ٹھہرایا جاتا تھا۔ مثال کے طور پر ایک گھر کے مالک کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے گھر کی چھت پر منڈیر لگائے یعنی اِس کے چاروں طرف چھوٹی دیواریں کھڑی کرے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتا اور چھت سے گِر کر کسی کی جان چلی جاتی تو اُس کی موت کا ذمےدار وہ ہوتا تھا۔ (اِستثنا 22:8) اِس کے علاوہ اگر ایک بیل اچانک سے کسی شخص کو ایسے سینگ مارتا کہ وہ مر ہی جاتا تو اُس بیل کے مالک کو اِس کے لیے قصوروار نہیں ٹھہرایا جاتا تھا۔ لیکن اگر اُس بیل کے مالک کو یہ پتہ ہوتا کہ اُس کے بیل کو سینگ مارنے کی عادت ہے اور وہ پھر بھی اُس کی صحیح طرح سے نگرانی نہ کرتا تو کسی شخص کی موت کا قصوروار بیل کے مالک کو ہی ٹھہرایا جاتا تھا اور اُسے سزائےموت دی جاتی تھی۔ (خروج 21:28، 29) شریعت میں دیے گئے قوانین سے صاف ظاہر ہوا کہ یہوواہ خدا زندگی کو کتنا قیمتی خیال کرتا ہے۔
یہوواہ کے بندے یہ جانتے ہیں کہ خدا کے اِن قوانین میں جو اصول پائے جاتے ہیں، وہ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنے جیسی صورتحال پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ پاک کلام میں ایک ایسا واقعہ بتایا گیا ہے جس میں داؤد نے یہ خواہش ظاہر کی: ”اَے کاش کوئی بیتلحمؔ کے اُس کنوئیں کا پانی جو پھاٹک کے قریب ہے مجھے پینے کو دیتا!“ اُس زمانے میں بیتلحم پر فلستیوں کی حکومت تھی۔ داؤد کی اِس بات کو سُن کر اُن کے تین فوجی اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر فلستیوں کے خیمے میں گئے، بیتلحم کے کنوئیں سے پانی نکالا اور اِسے داؤد کے پاس لائے۔ اِس پر داؤد نے کیا کِیا؟ اُنہوں نے وہ پانی نہیں پیا بلکہ اِسے زمین پر اُنڈیل دیا۔ داؤد نے کہا: ”خدا نہ کرے کہ مَیں ایسا کروں۔ کیا مَیں اِن لوگوں کا خون پیوں جو اپنی جانوں پر کھیلے ہیں؟ کیونکہ وہ جان بازی کر کے اِسے لائے ہیں۔“(1-تواریخ 11:17-19) داؤد تو یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ وہ اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لیے کسی کی جان کو خطرے میں ڈالیں۔
یسوع مسیح نے بھی اُس وقت ایسا ہی کِیا جب شیطان نے غالباً ایک رُویا میں اُنہیں ہیکل کی چھت سے چھلانگ لگانے کی بات کی اور کہا کہ ”[فرشتے] تمہیں ہاتھوں پر اُٹھا لیں گے تاکہ تمہارے پاؤں کو پتھر سے ٹھوکر نہ لگے۔“ اِس پر یسوع مسیح نے کہا: ”تُم یہوواہ اپنے خدا کا اِمتحان نہ لو۔“ (متی 4:5-7) بےشک داؤد اور یسوع مسیح اِس بات کو اچھی طرح سے سمجھتے تھے کہ بِلاوجہ اپنی یا کسی دوسرے کی جان کو خطرے میں ڈالنا یہوواہ کی نظر میں سراسر غلط ہے۔
اِن مثالوں پر غور کرتے وقت شاید ہم سوچیں کہ ”ہم یہ کیسے جان سکتے ہیں کہ آیا ایک کھیل خطرناک ہے یا نہیں؟“ چونکہ ایک عام سے کھیل کو بھی خطرناک بنا کر کھیلا جا سکتا ہے تو ہم یہ اندازہ کیسے لگا سکتے ہیں کہ ہمیں اِس کھیل کو کھیلنے کے لیے کس حد تک جانا چاہیے؟
کیا اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کا کوئی فائدہ ہے؟
اِس سوال کا جواب ہمیں اِس بات پر غور کرنے سے مل سکتا ہے کہ ہم ایک کام کیا سوچ کر کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم خود سے پوچھ سکتے ہیں: ”اِس کھیل میں کتنے حادثے ہوئے ہیں؟ کیا مَیں نے اِسے کھیلنے کی تربیت لی ہے اور کیا میرے پاس ایسی چیزیں ہیں جنہیں پہننے سے مَیں اِسے کھیلتے وقت محفوظ رہوں گا؟ اگر کودتے وقت مجھ سے چُوک ہو گئی یا مَیں نے جو حفاظتی چیزیں پہنی ہیں، اُنہوں نے کام نہ کِیا تو اِس کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟ کیا مجھے بس چھوٹی موٹی چوٹ آئے گی یا مَیں شدید زخمی ہو جاؤں گا یا مر جاؤں گا؟“
اگر ایک مسیحی تفریح کے نام پر اپنی جان کو خطرے میں ڈالتا ہے تو اِس سے یہوواہ کے ساتھ اُس کی دوستی داؤ پر لگ سکتی ہے اور کلیسیا میں اُس سے وہ خاص ذمےداریاں لے لی جا سکتی ہیں جنہیں وہ نبھا رہا ہے۔ (1-تیمُتھیُس 3:2، 8-10؛ 4:12؛ طِطُس 2:6-8) لہٰذا ایک مسیحی چاہے جو بھی تفریح کر رہا ہو، اُسے زندگی کے سلسلے میں یہوواہ کی سوچ کو ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھنا چاہیے۔
[فٹنوٹ]
a بیس جمپنگ ایک ایسا کھیل ہے جس میں ایک شخص پیراشوٹ باندھ کر کسی اُونچی عمارت، پُل یا پہاڑ کی چوٹی سے چھلانگ لگاتا ہے۔ یہ کھیل اِس قدر خطرناک سمجھا جاتا ہے کہ امریکہ میں حکومت نے اِس پر پابندی لگا دی ہے۔