کُلوقتی خدمت کو اپنا پیشہ بنائیں
۱ ’مَیں اپنی زندگی میں کونسی روش اختیار کرنا چاہتا ہوں؟ مجھے زندگی میں کونسی روش اختیار کرنی چاہئے؟‘ اپنے مستقبل کی بابت فکرمند ہونے والے نوجوانوں کیلئے یہ نہایت اہم بات ہے۔ اس وقت کِیا جانے والا فیصلہ آپکی باقیماندہ زندگی کو متاثر کر سکتا ہے۔
۲ بےایمان خاندانی افراد اور رشتہداروں کی توقعات، معاشرے کو پسند آنے والی اقدار، اساتذہ اور دوستوں کی مشورت اور آپکی اپنی خواہشات—آپکے فیصلے کو متاثر کر سکتی ہیں۔ دریںاثنا، آپکا بائبل سے تربیتیافتہ ضمیر آپکو آگاہ کرتا ہے کہ آپکو حتیٰالمقدور یہوواہ کی خدمت کرنی چاہئے۔ (واعظ ۱۲:۱) آپ نے بائبل سے سیکھ لیا ہے کہ مادی کامیابی باطل ہے اور دُنیا اور اُسکی خواہش دونوں مٹتی جاتی ہیں۔ (۱-یوح ۲:۱۵-۱۷) اپنے اردگرد کے لوگوں کی زندگیوں کا مشاہدہ کرنے سے آپ سمجھتے ہیں کہ یہ بات کسقدر سچ ہے۔
۳ آپ شاید اس دُنیا کی عیشونشاط سے بھرپور زندگی کی طرف مائل نہ ہوں۔ تاہم، آپ محسوس کر سکتے ہیں کہ آپ روحانی طور پر اتنے پُختہ نہیں ہیں کہ کُلوقتی خدمت کی جستجو کر سکیں۔ ممکن ہے کہ آپکا یہ منفی نقطۂنظر بھی ہو کہ کُلوقتی خدمت کرنے والے سب لوگوں کو حقیقی خوشی حاصل نہیں ہوتی۔ یا آپ میں سے بعض اس وجہ سے بھی بےصبری کا شکار ہو سکتے ہیں کیونکہ آپکا طرزِزندگی ابھی تک بےمقصد اور متزلزل ہے۔
۴ اس وقت کُلوقتی خدمت کی اہمیت پر غور کرنا نہایت فائدہمند ہے۔ دیانتدار اور عقلمند نوکر جماعت نے بارہا مطبوعات کے ذریعے کُلوقتی خدمت کو ”پیشہ“ بنانے کیلئے حوصلہافزائی کی ہے۔ ویبسٹرز نیو کالجئیٹ ڈکشنری پیشے کی تعریف کچھ یوں کرتی ہے، ”یہ بالخصوص عوام میں، پیشہورانہ یا کاروباری زندگی کے اندر، کسی خاص شعبے میں بتدریج کامیابی حاصل کرنے کی جستجو ہے . . . ایک ایسا کام جس کیلئے ایک شخص تربیت پاتا اور مستقل روزگار کے طور پر اختیار کرتا ہے۔“ مثال کے طور، جو اشخاص طب کو اپنا پیشہ بناتے ہیں وہ کئی سال تک اسکی خاص تعلیم اور حقیقی تربیت حاصل کرتے ہیں اور اپنی مہارتوں میں اضافہ کرنے کیلئے مزید مطالعہ کرتے رہتے ہیں تاکہ اپنے پیشے پر فخر کر سکیں۔ ذرا سوچیں: طبی پیشہوروں کا واسطہ طبیعی انسانوں سے پڑتا ہے جبکہ خدا کے خادموں کا واسطہ انسانوں کے باطن سے پڑتا ہے اور یوں وہ بہترین طرزِزندگی کی تعلیم دیتے اور روحانی اور اخلاقی تربیت فراہم کرتے ہیں۔ لہٰذا، پائنیر خدمت کو محض ایک آسان کام کی بجائے قابلِقدر پیشہ خیال کریں جو خاص تربیت کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر آپ مطالعہ کرنا، دوسروں کا مشاہدہ کرنا اور اس خدمت میں کامیابی کیلئے تجربہ حاصل کرنا جاری رکھتے ہیں تو کچھ عرصہ بعد آپ پائنیر خدمت سے قابلِقدر پھل حاصل کرینگے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک مؤثر خادم بننے میں آپکو کچھ وقت لگے لیکن یہوواہ آپکو تربیت دیگا۔—۱-پطر ۵:۱۰۔
۵ اُس خوشی کا تصور کریں جو کُلوقتی خدمت سے حاصل ہو سکتی ہے۔ بالخصوص سچائی میں پرورش پانے والے نوجوانوں کیلئے، شاید بالغوں کو بائبل کی تعلیم دینا اور قائل کرنا اتنا آسان نہ ہو۔ وہ اکثراوقات ایسے سوالات پوچھ سکتے ہیں جنکی بابت آپ کبھی سوچتے بھی نہیں۔ تاہم، اگر آپ انکے مخلصانہ سوالوں کے جواب کی تحقیق کرتے اور استدلال کرنے کا طریقہ سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ یقیناً تعلیم دینے کے کام سے خوشی حاصل کرینگے۔ (امثا ۱۵:۲۳) آپ سچائی کیلئے اپنی سمجھ اور قدردانی کو وسیع کر رہے ہونگے۔ ایک بائبل طالبعلم کو صحائف سے اعتماد حاصل کرتے، اپنی پرانی انسانیت اور بُری عادات پر قابو پانے کی کوشش کرتے اور سچائی کیلئے اپنا مؤقف اختیار کرتے دیکھنا بھی خوشی بخشتا ہے۔ (افس ۴:۲۳، ۲۴) تعلیمی کام کے ذریعے مستقلمزاجی، یہوواہ پر توکل، فروتنی اور خدا کے کلام کی اثرپذیری کیلئے قدردانی کو بڑھانا ممکن ہے۔ (۱-کر ۴:۷؛ عبر ۴:۱۲) جیہاں، اس کام کو سنجیدگی سے لینا اور اسکی جستجو میں رہنا بہت زیادہ خوشی کا باعث بن سکتا ہے۔—۱-تیم ۴:۱۵، ۱۶۔ مینارِنگہبانی دسمبر ۱، ۲۰۰۲ صفحہ ۱۹-۲۱۔
۶ آپ کی بابت کیا ہے؟ اگر آپ کی کوئی خاص صحیفائی ذمہداری نہیں اور آپ کے حالات بھی اجازت دیتے ہیں کہ پائنیر خدمت اختیار کریں تو کیا آپ اس لئے فکرمند ہیں کہ آپ روحانی طور پر مضبوط نہیں اور آپ میدانی خدمت سے خوشی حاصل کرنے کے قابل نہیں ہیں؟ اگر ایسا ہے تو براہِمہربانی دُعا میں یہوواہ کے حضور اپنے احساسات بیان کریں۔ اس کے حضور اپنا دل اُنڈیل دیں۔ (یرم ۱:۶؛ خر ۴:۱۰) دُعا، بائبل پڑھائی، روزانہ کی آیت، ذاتی مطالعہ، غوروخوض اور اجلاسوں میں شرکت سمیت اپنے روحانی معمول کو ترتیب دینے کی کوشش کریں۔ (یشو ۱:۸؛ ۱-تیم ۴:۱۵؛ عبر ۱۰:۲۴، ۲۵) یہوواہ آپ پر وہ راہ ظاہر کر سکتا ہے جس پر آپ کو جانا ہے۔ (یسع ۳۰:۲۰، ۲۱) آپ اپنی سوچ میں تبدیلی کا تجربہ کریں گے اور طاقت پائیں گے۔ یہ اچھا ہوگا کہ ایک یا اس سے زیادہ مہینوں کے لئے امدادی پائنیر خدمت کریں۔ روحانی کارگزاری کے ذریعے آپ اُس حمایت کا تجربہ کر سکتے ہیں جو یہوواہ فراہم کرتا ہے جسے ہماری فکر ہے۔ جب آپ اپنی کلیسیا میں سرگرم پائنیروں سے رفاقت رکھتے ہیں تو آپ کو تجربہ حاصل کرنے اور کُلوقتی خدمت کے لئے قدردانی بڑھانے میں مدد ملے گی۔ اس طرح آپ سمجھ جائیں گے کہ آپ کا پیشہ کیا ہونا چاہئے اور دُنیاوی ملازمت کا آپ کی زندگی میں کیا مقام ہونا چاہئے۔
۷ یہ سچ ہے کہ ہر کوئی کُلوقتی خدمت نہیں کر سکتا۔ لیکن یہوواہ ”دل پر نظر کرتا ہے“ اور ہمارے دل کی خواہشات کو سمجھتا ہے۔ (۱-سمو ۱۶:۷) کسی انسان کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں کہ کونسی چیز کسی ساتھی مسیحی کی پورے دلوجان سے کی جانے والی خدمت کو تشکیل دیتی ہے۔ تاہم، اگر ہم اس مضمون میں پیشکردہ نصیحت پر دھیان دیں تو ہم اپنے اندر پائنیر جذبہ پیدا کر سکتے ہیں۔ نیز اگر ہم اس جذبے کو برقرار رکھتے ہیں تو کُلوقتی خدمت کا دروازہ ہمارے لئے کھل سکتا اور اسے اختیار کرنا ہمارے لئے ممکن ہو سکتا ہے۔ (اعما ۱۸:۴، ۵؛ دیکھیں دی واچٹاور، جولائی ۱، ۱۹۹۱، صفحہ ۲۸۔) دُعا ہے کہ یہوواہ آپکی پورے دلوجان سے خدمت کو برکت بخشے۔—مر ۱۲:۳۳، ۳۴۔
۱، ۲. کونسی چیز زندگی کی روش میں نوجوانوں کے فیصلوں پر اثرانداز ہو سکتی ہے؟
۳. کُلوقتی خدمت کی بابت بعض منفی نقطۂنظر کیوں رکھ سکتے ہیں؟
۴. کُلوقتی خدمت کو کیسا خیال کِیا جانا چاہئے؟
۵. کُلوقتی خدمت کیسے قابلِقدر پھل پیدا کرتی ہے؟
۶. کُلوقتی خدمت کیلئے قدردانی کو کیسے بڑھایا جا سکتا ہے؟
۷. پائنیر جذبہ قائم رکھنا کیوں اہم ہے؟