اجتناب اور یکزوجگی کی حکمت
اب تک تقریباً ۳۰ ملین لوگ ایڈز کے وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں اور ۶ ملین سے زائد مر چکے ہیں۔ ہر روز تقریباً ۸۵۰۰ نئے مریضوں کی تشخیص ہوتی ہے—جن میں سے ۱۴۰۰ بچے ہوتے ہیں جو عموماً زندگی کے پہلے سال میں ہی مر جاتے ہیں۔ نامنہاد خطرے سے خالی جنسی تعلقات نے لوگوں کی سوچ کو اُبھارا ہے لیکن بعض کا خیال ہے کہ یہ کافی نہیں۔ ”ایڈز ایک مُہلک بیماری ہے،“ دی ٹامپا ٹرِبیون میں ڈاکٹر سٹیون جے. سینزبری لکھتا ہے، ”اور اسکے انتقال کی روکتھام کیلئے تمام تدابیر کو ۱۰۰ فیصد مؤثر ہونا چاہئے۔“
ایڈز کی روکتھام کے ذریعے کے طور پر کنڈومز کے استعمال کی بابت ڈاکٹر سینزبری تبصرہ کرتے ہیں: ”ہم اس معاملے کو اس طرح سمجھ سکتے ہیں۔ فرض کریں کہ کچھ نامعلوم وجوہات کی بِنا پر اچانک جب بھی کوئی چابی گھماتا ہے تو گاڑیاں دھماکے سے پھٹنے لگتی ہیں۔ سارے مُلک میں گاڑیوں والے اِن دھماکوں کی نذر ہونے لگتے ہیں۔ انجامکار، حکومت ایک حل پیش کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایندھن میں اس مائع کا اضافہ کر لیں تو دھماکے کا خطرہ ۹۰ فیصد کم ہو جائیگا۔ کیا آپ یہ سمجھیں گے کہ مسئلہ حل ہو گیا؟ کیا آپ پھر بھی اپنی کار چلاتے رہینگے؟ میرے خیال میں آپ ایسا نہیں کرینگے۔ توپھر ہم کنڈومز کو ایڈز کا حل کیوں تسلیم کریں؟“
اِس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ ایڈز زیادہتر جنسی صحبت کی وجہ سے ہوتی ہے، ڈاکٹر سینزبری ایک حل پیش کرتے ہیں: ”جب تک کوئی کسی غیرمتاثرہ شخص کیساتھ یکزوجگی تعلق کی پابندی کرنے کیلئے تیار نہیں تب تک کوئی جنسی صحبت نہیں۔ کلیدی الفاظ اجتناب اور یکزوجگی ہیں۔“
بائبل کنوارے اشخاص کو جنسی اجتناب اور بیاہتا اشخاص کو یکزوجگی کا حکم دیتی ہے۔ بائبل کے بلندپایۂ معیار حرامکاری، زناکاری اور ہمجنسپسندی کو ممنوع قرار دیتے ہیں۔ (متی ۱۹:۴-۶؛ ۱-کرنتھیوں ۶:۹، ۱۰؛ ۷:۸، ۹) اگرچہ بہتیرے اس معیار پر تنقید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ متروک یا دقیانوسی ہے، بائبل کے اصولِاخلاق نے صحت اور ذہنی سکون کو فروغ دیا ہے۔—یسعیاہ ۴۸:۱۷۔