یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو93 8/‏7
  • اتنی زیادہ جھوٹی آگاہیاں کیوں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • اتنی زیادہ جھوٹی آگاہیاں کیوں؟‏
  • جاگو!‏—‏1993ء
  • ملتا جلتا مواد
  • کیا دُنیا کا خاتمہ قریب ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏عوامی ایڈیشن)‏—2021
  • جھوٹے مذہب سے دُور رہیں!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2006ء
جاگو!‏—‏1993ء
جاگو93 8/‏7

اتنی زیادہ جھوٹی آگاہیاں کیوں؟‏

دنیا کا خاتمہ—‏کس قدر قریب؟‏

یہ کہانی ایک لڑکے کی ہے جو گاؤں والوں کی بھیڑوں کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ ایک دن یونہی لوگوں میں کچھ اشتیاق پیدا کرنے کیلئے وہ چلایا، ”‏بھیڑیا!‏ بھیڑیا!‏“‏ جبکہ بھیڑیے کا نام‌ونشان بھی نہ تھا۔ بھیڑیے کو بھگانے کیلئے گاؤں والے اپنی اپنی لاٹھیاں لئے وہاں پہنچ گئے، لیکن دیکھا تو وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ یہ سب اسقدر مضحکہ‌خیز بات تھی کہ لڑکے نے ایک بار پھر ایسا ہی کیا۔ پھر سے گاؤں والے اپنی اپنی لاٹھیوں سمیت بھاگے آئے، لیکن وہاں پہنچ کر انہیں پتا چلا کہ اس بار پھر جھوٹی چیخ‌وپکار تھی۔ اسکے بعد ایک دن سچ‌مچ بھیڑیا آ نکلا اور لڑکے نے شور مچایا کہ ”‏بھیڑیا!‏ بھیڑیا!‏“‏ لیکن گاؤں والوں نے اس کی چیخ‌وپکار کو ایک بار پھر جھوٹا شور سمجھ کر نظرانداز کر دیا۔ انہیں کئی بار بیوقوف بنایا گیا تھا۔‏

یہی کچھ ان کی بابت ہے جو کہ دنیا کے آخر ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ یسوع کے وقت سے لے کر صدیوں کے دوران، اتنی غیرتکمیل‌شدہ پیشینگوئیاں کی گئی ہیں کہ اب کوئی بھی ان پر سنجیدگی سے غور نہیں کرتا۔‏

گریگری اول، ۵۹۰ سے ۶۰۴ س۔ع۔ تک رہنے والے پوپ نے یورپی حکمران کو ایک خط میں یہ کہا:‏ ”‏ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ جہاں‌پناہ یہ جان جائیں کہ جیسے ہم نے پاک صحیفوں میں قادرمطلق خدا کے ان الفاظ سے جانا ہے اس موجودہ دنیا کا خاتمہ بالکل قریب ہے اور مقدسوں کی ابدی بادشاہت کا وقت نزدیک آ رہا ہے۔“‏

۱۶ ویں صدی میں، لوتھرن چرچ کے بانی، مارٹن لوتھر نے یہ پیشینگوئی کی کہ خاتمہ بالکل قریب ہے۔ ایک محقق کے مطابق، اس نے کہا:‏ ”‏جہاں تک میرا تعلق ہے مجھے یقین ہے کہ روزعدالت بالکل دروازے پر کھڑا ہے۔“‏

بپٹسٹوں کے اوائلی گروپوں میں سے ایک کی بابت یہ بیان کیا جاتا ہے:‏ ”‏سولہویں صدی کے شروع کے اینابپٹسٹ یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ ہزار سالہ دور ۱۵۳۳ میں شروع ہو جائیگا۔“‏

انگلینڈ کا پرائمیٹ اور یارک کا آرچ بشپ (‏۱۵۱۹-‏۱۵۸۸)‏ ایڈون سینڈیز .‏.‏.‏ کہتا ہے، .‏.‏.‏ آئیے ہم اس کا یقین کر لیں کہ خداوند کی آمد بالکل قریب ہے۔“‏

ولیم ملر، جس کے سر بالعموم ایڈونٹسٹ چرچ کی بنیاد کا سہرا ہے، اس کا حوالہ یہ کہتے ہوئے دیا گیا ہے:‏ ”‏مجھے اس کا پورا پورا یقین ہے کہ مارچ ۲۱، ۱۸۴۳ اور مارچ ۲۱، ۱۸۴۴ کے دوران، وقت کے یہودی حساب کتاب کے مطابق کسی بھی وقت مسیح آ جائیگا۔“‏

کیا ایسی پیشینگوئیوں کا سچ ثابت ہونے میں ناکام رہنا، استثنا ۱۸:‏۲۰-‏۲۲ کے معنی کے مطابق، ان کے کرنے والوں کو جھوٹے نبی بنا دیتا ہے؟ وہ بیان یوں پڑھا جاتا ہے:‏ ”‏جو نبی گستاخ بن کر کوئی ایسی بات میرے نام سے کہے جسکے کہنے کا میں نے اس کو حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کچھ کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے۔ اور اگر تو اپنے دل میں کہے کہ جو بات خداوند نے نہیں کہی ہے اسے ہم کیونکر پہچانیں؟ تو پہچان یہ ہے کہ جب وہ نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور اسکے کہے کے مطابق کچھ واقع یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں۔“‏

بعض ایسے ہیں جو توجہ اور حمایت حاصل کرنے کیلئے اس دنیا کے خاتمہ کی بابت دلکش پیشینگوئیاں کرتے ہیں، لیکن دوسرے ایسے ہیں جو خلوص سے اس بات کے قائل ہیں کہ انکی پیشینگوئیاں بالکل سچی ہیں۔ وہ ان توقعات کو بیان کرتے ہیں جو چند صحیفائی حوالہ‌جات کی انکی اپنی تاویل یا طبعی واقعات پر مبنی ہیں۔ وہ یہ دعوی تو نہیں کرتے کہ انکی پیشنگوئیاں براہ‌راست یہوواہ کی طرف سے مکاشفے ہیں اور یوں وہ یہوواہ کے نام سے نبوت کرتے ہیں۔ پس، ایسے حالات میں، جب ان کی باتیں سچی ثابت نہیں ہوتیں تو انہیں اسی طرح کے جھوٹے نبی خیال نہیں کرنا چاہیے جن کے خلاف استثنا ۱۸:‏۲۰-‏۲۲ میں آگاہی دی گئی تھی۔ اپنی انسانی ناکاملیت کی وجہ سے انہوں نے معاملات کی غلط تاویل کر دی ہے۔‏a

گزشتہ ناکامیوں سے بے‌حوصلہ ہوئے بغیر بعض لوگ ۲۰۰۰ کے سال کے قریب آنے سے متحرک ہوئے ہیں اور انہوں نے دنیا کے خاتمے کی بابت مزید پیشینگوئیاں کی ہیں۔ دسمبر ۵، ۱۹۸۹ کے دی وال سٹریٹ جرنل نے ”‏ہزار سالہ دور کا جنون:‏ نبی تحریر کرتے ہیں، خاتمہ قریب ہے“‏ کے عنوان پر ایک مضمون شائع کیا۔ ۲۰۰۰ کے قریب آنے کیساتھ ساتھ کئی بشارت دینے والے یہ پیشینگوئی کر رہے ہیں کہ یسوع آنے والا ہے اور یہ کہ ۱۹۹۰ کا عشرہ ”‏ایسی بڑی مصیبت کا وقت ہوگا جو پہلے کبھی نہیں ہوئی۔“‏ اس تحریر کے وقت، سب سے تازہ‌ترین واقع ریپبلک آف کوریا میں رونما ہوا تھا جہاں پر مشن فار کمنگ ڈیز (‏آنے والے دنوں کیلئے مشن)‏ نے یہ پیشینگوئی کی تھی کہ اکتوبر ۲۸، ۱۹۹۲ کو آدھی رات کے قریب مسیح آ جائیگا اور اپنے ماننے والوں کو آسمان پر لیجائیگا۔ بہتیرے دیگر یوم‌آخرت کو ماننے والے گروہوں نے اسی طرح کی پیشینگوئیاں کی ہیں۔‏

جھوٹی آگاہیوں کا سیلاب بڑا بے‌موقع ہے۔ وہ چرواہے لڑکے کی ان چیخوں کی طرح ہیں جو کہ چلاتا تھا کہ بھیڑیا بھیڑیا—‏لوگ جلد انہیں نظرانداز کر دیتے ہیں اور جب حقیقی آگاہی دی جاتی ہے تو اسے بھی نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔‏

لیکن کیوں صدیوں کے دوران اور ہمارے زمانے تک بھی ایسی جھوٹی آگاہیاں دینے کا اسقدر رجحان ہے، جیسے کہ یسوع نے کہا تھا کہ وہ دی جائینگی؟ (‏متی ۲۴‏:‏۲۳-‏۲۶)‏ اپنے شاگردوں کو ان واقعات کی بابت بتانے کے بعد جو اس کی واپسی کی نشاندہی کرینگے، یسوع نے ان سے کہا، جیسے کہ ہم متی ۲۴‏:‏۳۶-‏۴۲ میں پڑھتے ہیں:‏ ”‏اس دن اور اس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا مگر صرف باپ۔ جیسا نوح کے دنوں میں ہوا ویسا ہی ابن‌آدم کے آنے کے وقت ہوگا۔ .‏.‏.‏ پس جاگتے رہو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تمہارا خداوند کس دن آئیگا۔“‏

انہیں نہ صرف جاگتے رہنے اور تیار رہنے کیلئے ہی کہا گیا تھا بلکہ یہ بھی کہ وہ اشتیاق کیساتھ اس کو مدنظر رکھیں۔ رومیوں ۸:‏۱۹ کہتی ہے:‏ ”‏کیونکہ مخلوقات کمال آرزو سے خدا کے بیٹوں کے ظاہر ہونے کی راہ دیکھتی ہے۔“‏ انسانی فطرت ایسی ہے کہ جب ہم کسی چیز کیلئے پرامید اور مشتاق ہوتے ہیں اور کمال آرزو کیساتھ اس کے منتظر ہوتے ہیں تو ہمارے اندر اسے جلد پورا ہوتے دیکھنے کی آزمائش بڑی شدت سے جنم لیتی ہے، اگرچہ اسکی بابت شہادت ناکافی ہوتی ہے۔ ہمارے اشتیاق کے پیش‌نظر شاید جھوٹی آگاہیاں دی جائیں۔‏

تو پھر، کیا چیز سچی آگاہیوں کو جھوٹی آگاہیوں سے فرق کریگی؟ جواب کیلئے براہ‌مہربانی اگلے مضمون کو دیکھیں۔ (‏3-G93 3/22 P)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a یہوواہ کے گواہوں نے، یسوع کی دوسری آمد کے اپنے اشتیاق میں، ایسی تاریخیں پیش کی ہیں جو کہ صحیح ثابت نہیں ہوئیں۔ اس وجہ سے بعض نے انہیں جھوٹے نبی کہا ہے۔ تاہم، ان واقعات میں سے کسی میں بھی انہوں نے اپنی پیشینگوئیوں کی بابت یہ نہیں کہا کہ وہ ”‏یہوواہ کی طرف سے ہیں۔“‏ نہ ہی کبھی انہوں نے یہ کہا کہ یہ ”‏یہوواہ کے الفاظ ہیں۔“‏ یہوواہ کے گواہوں کے مستند جریدے دی واچ‌ٹاور نے کہا ہے:‏ ”‏ہمیں نبوت کی نعمت نہیں ملی ہے۔“‏ (‏جنوری ۱۸۸۳، صفحہ ۴۲۵)‏ ”‏نہ ہی ہم اپنی تحریروں کی تقدیس کریں گے یا خطا سے خالی خیال کریں گے۔“‏ (‏دسمبر ۱۵، ۱۹۸۶، صفحہ ۳۰۶)‏ دی‌واچ ٹاور نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ حقیقت کہ بعض میں خدا کی روح کام کرتی ہے ”‏اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ جو اب یہوواہ کے گواہوں کے طور پر خدمت کرتے ہیں وہ الہام‌یافتہ ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس رسالے دی واچ‌ٹاور میں لکھی ہوئی ہر بات الہامی اور خطا سے خالی اور غلطی سے مبرا ہے۔“‏ (‏مئی ۱۵، ۱۹۴۷، صفحہ ۱۵۷)‏ ”‏دی واچ‌ٹاور اپنے کلام میں الہامی ہونے کا دعوی نہیں کرتا لیکن یہ بے‌دلیل بات بھی نہیں کرتا۔“‏ (‏اگست ۱۵، ۱۹۵۰، صفحہ ۲۶۳)‏ ”‏ان اشاعتوں کو تیار کرنے والے بھائی خطا سے خالی نہیں ہیں۔ نہ ہی انکی تحریریں الہامی ہیں جیسے کہ پولس اور دیگر بائبل کے لکھنے والوں کی ہیں۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶)‏ اور اسلئے بعض اوقات، یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ سمجھ بہتر ہونے کیساتھ ساتھ خیالات کی درستی کی جائے۔ (‏امثال ۴:‏۱۸‏)‏“‏—‏فروری ۱۵، ۱۹۸۱، صفحہ ۱۹۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں