یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ت‌ن‌د مکاشفہ 1:‏1-‏22:‏21
  • مکاشفہ

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • مکاشفہ
  • کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
مکاشفہ

یوحنا پر مکاشفہ

1 یسوع مسیح کی طرف سے ایک مکاشفہ*‏ جو خدا نے اُن کو دیا تاکہ اپنے غلاموں کو وہ باتیں دِکھائے جو جلد ہونے والی ہیں۔ اور اُنہوں نے اپنا فرشتہ بھیجا جس نے یہ باتیں اُن کے غلام یوحنا پر نشانیوں کے ذریعے ظاہر کیں۔ 2 اور یوحنا نے خدا کی باتوں کے بارے میں گواہی دی اور اُس گواہی کے بارے میں بھی جو یسوع مسیح نے دی تھی، ہاں، اُس نے اُن سب باتوں کے بارے میں گواہی دی جو اُس نے دیکھی تھیں۔ 3 وہ شخص خوش رہتا ہے جو اِس کتاب میں لکھے پیغام کو اُونچی آواز میں پڑھتا ہے اور وہ لوگ خوش رہتے ہیں جو اِس میں بتائی گئی باتوں کو سنتے ہیں اور اِن پر عمل کرتے ہیں کیونکہ مقررہ وقت نزدیک ہے۔‏

4 یوحنا کی طرف سے اُن سات کلیسیاؤں*‏ کے نام پیغام جو صوبہ آسیہ میں ہیں:‏

آپ کو اُس کی طرف سے عظیم رحمت اور اِطمینان حاصل ہو ”‏جو ہے اور تھا اور آ رہا ہے“‏ اور اُن سات روحوں کی طرف سے جو اُس کے تخت کے سامنے ہیں 5 اور یسوع مسیح کی طرف سے جو ”‏وفادار گواہ“‏ اور ”‏مُردوں میں سے پہلوٹھے“‏ اور ”‏زمین کے بادشاہوں کے حاکم“‏ ہیں۔‏

یسوع جو ہم سے محبت کرتے ہیں اور جنہوں نے ہمیں اپنے خون کے ذریعے گُناہوں سے آزاد کرایا 6 اور جنہوں نے ہمیں بادشاہ بنایا اور اپنے خدا اور باپ کے لیے کاہن بھی بنایا، ہاں، اُن ہی کی بڑائی ہو اور اُن کا اِختیار ہمیشہ تک رہے۔ آمین۔‏

7 دیکھیں!‏ وہ بادلوں میں آ رہے ہیں اور سب آنکھیں اُن کو دیکھیں گی اور جنہوں نے اُن کو چھیدا تھا، وہ بھی اُن کو دیکھیں گے۔ اور زمین کے تمام قبیلے اُن کی وجہ سے غم کے مارے چھاتی پیٹیں گے۔ آمین۔‏

8 یہوواہ*‏ خدا کہتا ہے:‏ ”‏مَیں الفا اور اومیگا ہوں،‏*‏ وہ جو ہے اور تھا اور آ رہا ہے اور وہ جو لامحدود قدرت کا مالک ہے۔“‏

9 مَیں یوحنا، آپ لوگوں کی طرح یسوع مسیح کا ساتھی ہوں۔ اِس لیے مَیں آپ کا بھائی ہوں اور مصیبت، بادشاہت اور ثابت‌قدمی میں آپ کا شریک بھی ہوں۔ مَیں خدا اور یسوع کے بارے میں گواہی دینے کی وجہ سے اُس جزیرے پر تھا جسے پتمُس کہتے ہیں۔ 10 اور مَیں پاک روح کے اثر سے مالک کے دن میں پہنچ گیا اور مَیں نے اپنے پیچھے نرسنگے*‏ جیسی زوردار آواز سنی 11 جو کہہ رہی تھی کہ ”‏جو باتیں آپ دیکھ رہے ہیں، اِن کو ایک کتاب*‏ میں لکھ لیں اور اُن سات کلیسیاؤں کو بھیجیں جو اِفسس، سمِرنہ، پرگمن، تھواتیرہ، سردیس، فِلدلفیہ اور لودیکیہ میں ہیں۔“‏

12 مَیں یہ دیکھنے کے لیے مُڑا کہ مجھ سے کون بات کر رہا ہے۔ اور جب مَیں مُڑا تو مَیں نے سونے کے سات شمع‌دان دیکھے 13 اور اِن سات شمع‌دانوں کے بیچ میں ایک شخص تھا جو اِنسان کے ایک بیٹے کی طرح تھا۔ اُس نے ایک کُرتا پہنا ہوا تھا جس کی لمبائی پاؤں تک تھی اور اُس نے سینے کے گِرد سنہری پیٹی باندھی ہوئی تھی۔ 14 اُس کا سر اور اُس کے بال اُون اور برف کی طرح سفید تھے اور اُس کی آنکھیں بھڑکتے ہوئے شعلوں کی طرح تھیں۔ 15 اُس کے پاؤں بھٹی میں تمتماتے ہوئے خالص تانبے کی طرح تھے اور اُس کی آواز بہت سے پانیوں کی آواز کی طرح تھی۔ 16 اُس کے دائیں ہاتھ میں سات ستارے تھے اور اُس کے مُنہ سے ایک لمبی، تیز، دو دھاری تلوار نکلی ہوئی تھی اور اُس کا چہرہ پوری شدت سے چمکنے والے سورج کی طرح تھا۔ 17 جب مَیں نے اُسے دیکھا تو مَیں مُردہ سا ہو کر اُس کے پیروں میں گِر پڑا۔‏

تب اُس نے اپنا دایاں ہاتھ مجھ پر رکھا اور کہا:‏ ”‏گھبرائیں مت۔ مَیں پہلا ہوں اور آخری بھی 18 اور مَیں وہ ہوں جو زندہ ہے اور مَیں مر گیا تھا مگر دیکھیں!‏ مَیں ہمیشہ ہمیشہ تک زندہ ہوں اور میرے پاس موت اور قبر*‏ کی چابیاں ہیں۔ 19 اِس لیے اُن باتوں کو لکھ لیں جو آپ نے دیکھی ہیں اور جو ابھی ہو رہی ہیں اور جو اِن کے بعد ہونے والی ہیں۔ 20 سات ستارے جو آپ نے میرے دائیں ہاتھ میں دیکھے اور سونے کے سات شمع‌دان، وہ ایک مُقدس راز ہیں جس کا مطلب یہ ہے:‏ سات ستارے سات کلیسیاؤں کے فرشتے ہیں اور سات شمع‌دان سات کلیسیائیں ہیں۔‏

2 اِفسس کی کلیسیا*‏ کے فرشتے کو یہ لکھیں:‏ جس شخص کے دائیں ہاتھ میں سات ستارے ہیں اور جو سونے کے سات شمع‌دانوں کے بیچ میں چلتا ہے، وہ کہتا ہے کہ 2 ‏”‏مَیں آپ کے کاموں، محنت اور ثابت‌قدمی کو جانتا ہوں اور مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ آپ بُرے آدمیوں کو برداشت نہیں کرتے اور آپ اُن لوگوں کو آزماتے ہیں جو کہتے ہیں کہ وہ رسول ہیں لیکن اصل میں نہیں ہیں اور اُن کو جھوٹا پاتے ہیں۔ 3 آپ ثابت‌قدم ہیں اور آپ نے میرے نام کی خاطر مصیبتوں کو برداشت کِیا ہے اور ہمت نہیں ہاری۔ 4 لیکن مجھے آپ سے یہ شکایت ہے کہ آپ کی محبت ویسی نہیں رہی جیسی شروع میں تھی۔‏

5 اِس لیے یاد رکھیں کہ آپ کس اُونچائی سے گِرے ہیں۔ توبہ کریں اور ویسے کام کریں جیسے آپ پہلے کِیا کرتے تھے۔ اگر آپ ویسے کام نہیں کریں گے اور توبہ نہیں کریں گے تو مَیں آپ کے پاس آؤں گا اور آپ کے شمع‌دان کو اِس کی جگہ سے ہٹا دوں گا۔ 6 لیکن یہ بات آپ کے حق میں ہے کہ آپ نیکلاؤس کے فرقے کے کاموں سے نفرت کرتے ہیں جن سے مَیں بھی نفرت کرتا ہوں۔ 7 جس کے کان ہیں، وہ سنے کہ روح کلیسیاؤں سے کیا کہہ رہی ہے۔ جو جیتے گا، اُس کو مَیں زندگی کے درخت کا پھل کھانے دوں گا جو خدا کے فردوس میں ہے۔“‏

8 سمِرنہ کی کلیسیا کے فرشتے کو یہ لکھیں:‏ جو شخص ”‏پہلا ہے اور آخری بھی،“‏ جو مر گیا اور دوبارہ زندہ ہو گیا، وہ کہتا ہے کہ 9 ‏”‏مَیں آپ کی مصیبتوں اور غربت کے بارے میں جانتا ہوں حالانکہ آپ تو امیر ہیں۔ مَیں یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ لوگ کفر بک رہے ہیں جو خود کو یہودی کہتے ہیں لیکن ہیں نہیں بلکہ شیطان کی جماعت ہیں۔ 10 اُن باتوں سے نہ ڈریں جو آپ پر آنے والی ہیں۔ دیکھیں!‏ اِبلیس آپ میں سے کچھ لوگوں کو بار بار قیدخانے میں ڈالے گا تاکہ آپ پوری طرح سے آزمائے جائیں اور آپ دس دنوں کے لیے مصیبت سہیں گے۔ مرتے دم تک وفادار رہیں تو مَیں آپ کو زندگی کا تاج دوں گا۔ 11 جس کے کان ہیں، وہ سنے کہ روح کلیسیاؤں سے کیا کہہ رہی ہے۔ جو جیتے گا، اُسے دوسری موت سے کوئی نقصان نہیں ہوگا۔“‏

12 پرگمن کی کلیسیا کے فرشتے کو یہ لکھیں:‏ جس شخص کے پاس ایک لمبی، تیز، دو دھاری تلوار ہے، وہ کہتا ہے کہ 13 ‏”‏مَیں جانتا ہوں کہ آپ جہاں رہتے ہیں وہاں شیطان کا تخت ہے لیکن اِس کے باوجود آپ میرے وفادار ہیں*‏ اور آپ نے میرے وفادار گواہ انتپاس کے زمانے میں بھی اِس بات سے اِنکار نہیں کِیا کہ آپ مجھ پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ اُن کو آپ کے پاس ہی مار ڈالا گیا یعنی وہاں جہاں شیطان رہتا ہے۔‏

14 لیکن مجھے آپ سے کچھ شکایتیں ہیں۔ آپ کے پاس ایسے لوگ ہیں جو بلعام کی تعلیم سے چپکے ہوئے ہیں جس نے بلق کو سکھایا کہ وہ بنی‌اِسرائیل کو بُتوں کے سامنے چڑھائی گئی چیزیں کھانے اور حرام‌کاری*‏ کرنے پر اُکسائے۔ 15 آپ کے پاس کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو نیکلاؤس کے فرقے کی تعلیمات سے چپکے ہوئے ہیں۔ 16 لہٰذا توبہ کریں۔ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو مَیں جلد آ رہا ہوں اور اُن کے ساتھ اُس لمبی تلوار سے جنگ کروں گا جو میرے مُنہ سے نکلی ہوئی ہے۔‏

17 جس کے کان ہیں، وہ سنے کہ روح کلیسیاؤں سے کیا کہہ رہی ہے۔ جو جیتے گا، اُسے مَیں پوشیدہ من میں سے کچھ دوں گا۔ مَیں اُسے ایک سفید پتھر بھی دوں گا جس پر ایک نیا نام لکھا ہے جسے کوئی نہیں جانتا سوائے اُس کے جسے یہ پتھر دیا جاتا ہے۔“‏

18 تھواتیرہ کی کلیسیا کے فرشتے کو یہ لکھیں:‏ خدا کا بیٹا جس کی آنکھیں بھڑکتے ہوئے شعلوں کی طرح ہیں اور جس کے پاؤں خالص تانبے کی طرح ہیں، وہ کہتا ہے کہ 19 ‏”‏مَیں آپ کے کاموں، محبت، ایمان، خدمت اور ثابت‌قدمی کو جانتا ہوں۔ مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ آپ ابھی جو کام کر رہے ہیں، وہ آپ کے پہلے کاموں سے زیادہ ہیں۔‏

20 لیکن مجھے آپ سے یہ شکایت ہے کہ آپ نے اُس عورت، اِیزِبل کو چُھوٹ دی ہے جو کہتی ہے کہ وہ نبِیّہ ہے اور میرے غلاموں کو سکھاتی اور ورغلاتی ہے کہ حرام‌کاری*‏ کریں اور بُتوں کے سامنے چڑھائی گئی چیزیں کھائیں۔ 21 مَیں نے اُسے توبہ کرنے کے لیے وقت دیا لیکن وہ حرام‌کاری*‏ سے توبہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔ 22 دیکھیں!‏ مَیں اُس کو سنگین بیماری میں مبتلا کرنے والا ہوں اور اگر وہ لوگ جو اُس کے ساتھ زِنا کرتے ہیں، اُس کے کاموں سے توبہ نہ کریں تو مَیں اُن پر بڑی مصیبت لاؤں گا۔ 23 اور مَیں اُس کے بچوں کو جان‌لیوا وبا سے مار ڈالوں گا تاکہ ساری کلیسیاؤں کو پتہ چل جائے کہ مَیں وہ ہوں جو اِنسانوں کی سوچ*‏ اور دلوں کو پرکھتا ہوں اور مَیں آپ میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے کاموں کے مطابق بدلہ دوں گا۔‏

24 لیکن تھواتیرہ کے باقی لوگ جو اِس تعلیم پر نہیں چل رہے اور جو اُن باتوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتے جنہیں ”‏شیطان کی گہری باتیں“‏ کہا جاتا ہے، اُن سب سے مَیں کہتا ہوں کہ ”‏مَیں آپ پر کوئی اَور بوجھ نہیں ڈال رہا ہوں۔ 25 البتہ میرے آنے تک وہ سب کچھ تھامے رکھیں جو آپ کے پاس ہے۔ 26 جو شخص جیتے گا اور آخر تک میرے جیسے کام کرے گا، مَیں اُسے قوموں پر ویسا ہی اِختیار دوں گا 27 جیسا باپ نے مجھے دیا ہے تاکہ وہ شخص لوہے کی لاٹھی سے قوموں پر حکومت کرے اور اُنہیں مٹی کے برتنوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔ 28 اِس کے علاوہ مَیں اُسے صبح کا ستارہ بھی دوں گا۔ 29 جس کے کان ہیں، وہ سنے کہ روح کلیسیاؤں سے کیا کہہ رہی ہے۔“‏ “‏

3 سردیس کی کلیسیا*‏ کے فرشتے کو یہ لکھیں:‏ جس شخص کے پاس خدا کی سات روحیں اور سات ستارے ہیں، وہ کہتا ہے کہ ”‏مَیں آپ کے کاموں کو جانتا ہوں۔ آپ تو بس نام کے زندہ ہیں لیکن اصل میں مُردہ ہیں۔ 2 چوکس ہو جائیں اور جو کچھ باقی رہ گیا ہے اور مرنے والا ہے، اُسے مضبوط کریں کیونکہ مَیں نے دیکھا ہے کہ آپ نے میرے خدا کے حضور اپنے کام مکمل نہیں کیے۔ 3 اِس لیے یاد کریں کہ آپ کو کیا ملا تھا اور آپ نے کیا سنا تھا اور اِس پر عمل کرتے رہیں اور توبہ کریں۔ اگر آپ نہیں جاگیں گے تو بے‌شک مَیں ایک چور کی طرح آؤں گا۔ آپ کو بالکل پتہ نہیں چلے گا کہ مَیں کس وقت آپ کے سر پر آ پہنچوں گا۔‏

4 لیکن سردیس میں آپ کے پاس کچھ لوگ*‏ ہیں جنہوں نے اپنے کپڑے ناپاک نہیں کیے۔ وہ سفید کپڑوں میں میرے ساتھ چلیں گے کیونکہ وہ اِس لائق ہیں۔ 5 جو جیتے گا، اُسے سفید کپڑے پہنائے جائیں گے اور مَیں اُس کے نام کو زندگی کی کتاب سے ہرگز نہیں مٹاؤں گا بلکہ مَیں اپنے باپ اور اُس کے فرشتوں کے سامنے اُس کے نام کا اِقرار کروں گا۔ 6 جس کے کان ہیں، وہ سنے کہ روح کلیسیاؤں سے کیا کہہ رہی ہے۔“‏

7 فِلدلفیہ کی کلیسیا کے فرشتے کو یہ لکھیں:‏ جو شخص مُقدس اور سچا ہے، جس کے پاس داؤد کی چابی ہے، جو دروازہ کھولتا ہے کہ اِسے بند نہ کِیا جائے، جو دروازہ بند کرتا ہے کہ اِسے کھولا نہ جائے، وہ کہتا ہے کہ 8 ‏”‏مَیں آپ کے کاموں کو جانتا ہوں۔ دیکھیں!‏ مَیں نے آپ کے سامنے ایک دروازہ کھولا ہے جسے کوئی بند نہیں کر سکتا۔ مَیں جانتا ہوں کہ آپ میں تھوڑی سی طاقت تو ہے اور آپ نے میری باتوں پر عمل کِیا ہے اور مجھ*‏ سے بے‌وفائی نہیں کی۔ 9 دیکھیں!‏ جو لوگ شیطان کی جماعت کے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ یہودی ہیں لیکن ہیں نہیں بلکہ جھوٹ بول رہے ہیں، مَیں اُن کو لاؤں گا اور آپ کے قدموں پر جھکاؤں گا*‏ اور اُن کو بتاؤں گا کہ مَیں نے آپ سے محبت کی ہے۔ 10 جو کچھ آپ کو میری ثابت‌قدمی کے بارے میں بتایا گیا تھا، آپ نے اُس پر عمل کِیا ہے۔‏*‏ اِس لیے مَیں آپ کو آزمائش کی اُس گھڑی*‏ سے بچاؤں گا جو پوری دُنیا پر آنے والی ہے تاکہ زمین پر رہنے والوں کو آزمایا جائے۔ 11 مَیں جلد آ رہا ہوں۔ وہ سب کچھ تھامے رکھیں جو آپ کے پاس ہے تاکہ کوئی آپ کا تاج چھین نہ لے۔‏

12 جو جیتے گا، اُس کو مَیں اپنے خدا کی ہیکل*‏ کا ایک ستون بناؤں گا اور وہ آئندہ کبھی وہاں سے باہر نہیں جائے گا اور مَیں اُس پر اپنے خدا کا نام لکھوں گا اور اپنے خدا کے شہر یعنی نئے یروشلیم کا نام بھی جو میرے خدا کی طرف سے آسمان سے اُتر رہا ہے۔ اور مَیں اُس پر اپنا نیا نام بھی لکھوں گا۔ 13 جس کے کان ہیں، وہ سنے کہ روح کلیسیاؤں سے کیا کہہ رہی ہے۔“‏

14 لودیکیہ کی کلیسیا کے فرشتے کو یہ لکھیں:‏ جو شخص آمین ہے، جو وفادار اور سچا گواہ ہے اور جو خدا کی بنائی ہوئی چیزوں کی اِبتدا ہے، وہ کہتا ہے کہ 15 ‏”‏مَیں آپ کے کاموں کو جانتا ہوں کہ آپ نہ تو ٹھنڈے ہیں اور نہ ہی گرم۔ کاش کہ آپ ٹھنڈے ہوتے یا پھر گرم۔ 16 چونکہ آپ نہ تو گرم ہیں اور نہ ہی ٹھنڈے بلکہ نیم‌گرم ہیں اِس لیے مَیں آپ کو اپنے مُنہ سے اُگلنے والا ہوں۔ 17 آپ کہتے ہیں کہ ”‏مَیں امیر ہوں اور مَیں نے مال‌ودولت جمع کِیا ہے اور مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے“‏ لیکن آپ کو پتہ نہیں کہ آپ مصیبت کے مارے اور قابلِ‌ترس اور غریب اور اندھے اور ننگے ہیں۔ 18 اِس لیے مَیں آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ مجھ سے ایسا سونا خرید لیں جسے تپا تپا کر خالص کِیا گیا ہے تاکہ آپ امیر بن جائیں؛ مجھ سے سفید کپڑے خرید لیں تاکہ آپ کچھ پہن لیں اور دوسرے آپ کو ننگا نہ دیکھیں اور آپ کو شرمندہ نہ ہونا پڑے؛ مجھ سے اپنی آنکھوں میں ڈالنے کے لیے مرہم بھی خرید لیں تاکہ آپ دیکھ سکیں۔‏

19 مَیں اُن سب کی درستی اور اِصلاح کرتا ہوں جن سے مَیں پیار کرتا ہوں۔ اِس لیے جوش سے کام لیں اور توبہ کریں۔ 20 دیکھیں!‏ مَیں دروازے پر کھڑا ہوں اور کھٹکھٹا رہا ہوں۔ اگر کوئی میری آواز سُن کر دروازہ کھولے گا تو مَیں اُس کے گھر میں داخل ہوں گا اور اُس کے ساتھ شام کا کھانا کھاؤں گا اور وہ میرے ساتھ کھانا کھائے گا۔ 21 جو جیتے گا، اُسے مَیں اپنے ساتھ اپنے تخت پر بیٹھنے کا شرف عطا کروں گا، بالکل ویسے ہی جیسے مَیں جیت کر اپنے باپ کے ساتھ اُس کے تخت پر بیٹھ گیا ہوں۔ 22 جس کے کان ہیں، وہ سنے کہ روح کلیسیاؤں سے کیا کہہ رہی ہے۔“‏ “‏

4 اِس کے بعد مَیں نے دیکھا اور دیکھو!‏ آسمان پر ایک کُھلا ہوا دروازہ تھا اور پہلی آواز جو مجھ سے بات کرنے لگی، وہ ایک نرسنگے*‏ کی طرح تھی اور کہہ رہی تھی کہ ”‏اُوپر آئیں تاکہ مَیں آپ کو وہ باتیں دِکھاؤں جو ضرور ہوں گی۔“‏ 2 اِس کے فوراً بعد مَیں پاک روح کے اثر میں آ گیا اور دیکھو!‏ آسمان پر ایک تخت تھا اور اُس پر کوئی بیٹھا ہوا تھا۔ 3 اور جو تخت پر بیٹھا تھا، وہ سنگِ‌یشب اور عقیقِ‌جگری کی طرح لگ رہا تھا اور تخت کے اِردگِرد ایک دھنک تھی جو دِکھنے میں زُمُرد جیسی تھی۔‏

4 اُس تخت کے اِردگِرد 24 (‏چوبیس)‏ تخت تھے۔ اور مَیں نے دیکھا کہ اُن پر 24 بزرگ بیٹھے ہیں جنہوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے اور اُن کے سروں پر سونے کے تاج تھے۔ 5 اُس تخت سے بجلی نکل رہی تھی اور آوازیں اور گھن‌گرج سنائی دے رہی تھی۔ اُس کے سامنے سات بڑے چراغ جل رہے تھے جن کا مطلب خدا کی سات روحیں ہے۔ 6 اور اُس کے سامنے ایک تالاب جیسی چیز بھی تھی جو دِکھنے میں شیشے یا بِلور کی طرح تھی۔‏

اور درمیان میں تخت کے اِردگِرد چار جان‌دار تھے جن کے آگے پیچھے آنکھیں ہی آنکھیں تھیں۔ 7 پہلا جان‌دار شیر کی طرح تھا، دوسرا جان‌دار بیل کی طرح تھا، تیسرے جان‌دار کی شکل اِنسان جیسی تھی اور چوتھا جان‌دار اُڑتے ہوئے عقاب کی طرح تھا۔ 8 اُن چاروں جان‌داروں میں سے ہر ایک کے چھ پَر تھے جن کے اُوپر نیچے آنکھیں ہی آنکھیں تھیں۔ اور وہ دن رات لگاتار کہہ رہے تھے:‏ ”‏مُقدس، مُقدس، مُقدس ہے یہوواہ*‏ خدا جو لامحدود قدرت کا مالک ہے اور جو تھا، جو ہے اور جو آ رہا ہے۔“‏

9 اور جب بھی جان‌دار اُس کی بڑائی اور عزت اور شکرگزاری کرتے ہیں جو تخت پر بیٹھا ہے اور جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہے 10 تو 24 (‏چوبیس)‏ بزرگ اُس کے آگے جھکتے ہیں جو تخت پر بیٹھا ہے اور اُس کی عبادت کرتے ہیں جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہے اور وہ اپنے تاج تخت کے سامنے ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ 11 ‏”‏اَے یہوواہ،‏*‏ ہمارے خدا، تُو عظمت اور عزت اور طاقت کے لائق ہے کیونکہ تُو نے سب چیزیں بنائی ہیں اور ساری چیزیں تیری مرضی سے وجود میں آئیں اور بنائی گئیں۔“‏

5 اور جو تخت پر بیٹھا تھا، مَیں نے اُس کے دائیں ہاتھ میں ایک لپٹا ہوا صفحہ*‏ دیکھا جس کی دونوں طرف کچھ لکھا ہوا تھا اور جس پر سات مُہریں لگی ہوئی تھیں۔ 2 پھر مَیں نے ایک طاقت‌ور فرشتے کو دیکھا جس نے اُونچی آواز میں کہا:‏ ”‏کون اِس صفحے کو کھولنے اور اِس کی مُہریں توڑنے کے لائق ہے؟“‏ 3 لیکن نہ تو آسمان پر، نہ زمین پر اور نہ ہی زمین کے نیچے کوئی اِس قابل تھا کہ اِس صفحے کو کھولے یا اِسے پڑھے۔ 4 مَیں زارزار رونے لگا کیونکہ کوئی اِس لائق نہیں تھا کہ اِس صفحے کو کھولے یا اِسے پڑھے۔ 5 مگر بزرگوں میں سے ایک نے مجھ سے کہا:‏ ”‏روئیں مت۔ دیکھیں، وہ جو یہوداہ کے قبیلے کا شیر اور داؤد کی جڑ ہے، جیت گیا ہے۔ اِس لیے وہی اِس صفحے اور اِس کی ساتوں مُہروں کو کھول سکتا ہے۔“‏

6 اور مَیں نے دیکھا کہ تخت کے پاس اور چار جان‌داروں اور بزرگوں کے بیچ میں ایک میمنا*‏ کھڑا ہے جس کے سات سینگ اور سات آنکھیں ہیں اور اِن آنکھوں کا مطلب خدا کی سات روحیں ہیں جن کو پوری زمین پر بھیجا گیا ہے اور لگتا تھا کہ اُس میمنے کو ذبح کِیا گیا ہے۔ 7 اُس نے فوراً آگے بڑھ کر صفحے کو اُس کے دائیں ہاتھ سے لے لیا جو تخت پر بیٹھا تھا۔ 8 جب اُس نے صفحہ لے لیا تو چار جان‌دار اور 24 (‏چوبیس)‏ بزرگ اُس کے سامنے گھٹنوں کے بل گِر گئے اور ہر ایک کے پاس ایک بربط*‏ اور سونے کا کٹورا تھا جس میں بخور بھرا تھا۔ (‏بخور مُقدسوں کی دُعاؤں کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔)‏ 9 اور وہ ایک نیا گیت گا رہے تھے اور کہہ رہے تھے:‏ ”‏تُو اِس لائق ہے کہ اِس صفحے کو لے اور اِس کی مُہریں کھولے کیونکہ تجھے ذبح کِیا گیا اور تُو نے اپنے خون سے خدا کے لیے ہر قبیلے، زبان، نسل اور قوم میں سے لوگوں کو خرید لیا۔ 10 اور تُو نے اُن کو ہمارے خدا کے لیے بادشاہ اور کاہن بنایا ہے اور وہ بادشاہوں کے طور پر زمین پر حکمرانی کریں گے۔“‏

11 اور مَیں نے دیکھا اور مجھے تخت اور جان‌داروں اور بزرگوں کے اِردگِرد بہت سے فرشتوں کی آواز سنائی دی جن کی تعداد ہزاروں اور لاکھوں میں تھی 12 اور وہ اُونچی آواز میں کہہ رہے تھے:‏ ”‏جس میمنے کو ذبح کِیا گیا، وہ اِس لائق ہے کہ اُس کو طاقت اور دولت اور دانش‌مندی اور قوت اور عزت اور عظمت اور برکت ملے۔“‏

13 اور مَیں نے سنا کہ آسمان اور زمین اور زمین کے نیچے اور سمندر کی ہر مخلوق اور اِن میں موجود ہر شے کہہ رہی ہے:‏ ”‏اُس کی جو تخت پر بیٹھا ہے اور میمنے کی بڑائی اور عزت اور عظمت اور قدرت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہو۔“‏ 14 اور چاروں جان‌دار کہہ رہے تھے:‏ ”‏آمین!‏“‏ اور بزرگوں نے گھٹنوں کے بل گِر کر خدا کی عبادت کی۔‏

6 اور مَیں نے دیکھا کہ میمنے نے سات مُہروں میں سے ایک کھولی۔ پھر مَیں نے چار جان‌داروں میں سے ایک کو گرج جیسی آواز میں کہتے سنا:‏ ”‏نکل آؤ!‏“‏ 2 مَیں نے دیکھا اور دیکھو!‏ ایک سفید گھوڑا نکلا جس کے سوار کے پاس ایک کمان تھی اور اُسے ایک تاج بھی دیا گیا۔ اور وہ مکمل فتح حاصل کرنے کے لیے نکلا اور جیتتا گیا۔‏

3 جب اُس نے دوسری مُہر کھولی تو مَیں نے دوسرے جان‌دار کو کہتے سنا:‏ ”‏نکل آؤ!‏“‏ 4 ایک اَور گھوڑا نکلا جس کا رنگ لال سُرخ تھا۔ اُس کے سوار کو زمین پر سے امن اُٹھا لینے کا اِختیار دیا گیا تاکہ لوگ ایک دوسرے کا خون کریں۔ اُسے ایک بڑی تلوار بھی دی گئی۔‏

5 جب اُس نے تیسری مُہر کھولی تو مَیں نے تیسرے جان‌دار کو کہتے سنا:‏ ”‏نکل آؤ!‏“‏ مَیں نے دیکھا اور دیکھو!‏ ایک کالا گھوڑا نکلا جس کے سوار کے ہاتھ میں ترازو تھا۔ 6 اور مَیں نے سنا اور ایسا لگا جیسے چار جان‌داروں کے بیچ سے ایک آواز کہہ رہی ہو کہ ”‏ایک سیر گندم کی قیمت ایک دینار،‏*‏ تین سیر جَو کی قیمت ایک دینار اور زیتون کے تیل اور مے کو ختم نہ کرو۔“‏

7 جب اُس نے چوتھی مُہر کھولی تو مَیں نے چوتھے جان‌دار کو کہتے سنا:‏ ”‏نکل آؤ!‏“‏ 8 مَیں نے دیکھا اور دیکھو!‏ ایک ہلکے پیلے رنگ کا گھوڑا نکلا جس کے سوار کا نام موت تھا اور قبر*‏ اُس کے پیچھے پیچھے آ رہی تھی۔ اور اُن کو زمین کے چوتھے حصے پر اِختیار دیا گیا تاکہ لوگوں کو لمبی تلوار اور قحط اور جان‌لیوا وباؤں اور زمین کے جنگلی جانوروں کے ذریعے مار ڈالیں۔‏

9 جب اُس نے پانچویں مُہر کھولی تو مَیں نے قربان‌گاہ کے نیچے اُن لوگوں کا خون*‏ دیکھا جن کو اِس لیے مار ڈالا گیا کہ اُنہوں نے خدا کے کلام پر عمل کِیا اور گواہی دی۔ 10 اور اُنہوں نے چلّا کر کہا:‏ ”‏اَے کائنات کے مالک، تُو جو پاک اور سچا ہے، تُو کب تک زمین پر رہنے والوں کی عدالت نہیں کرے گا اور اُن سے ہمارے خون کا بدلہ نہیں لے گا؟“‏ 11 تب اُن میں سے ہر ایک کو ایک سفید چوغہ دیا گیا اور اُن سے کہا گیا کہ وہ تھوڑی دیر اَور اِنتظار کریں جب تک اُن کے ہم‌خدمتوں اور بھائیوں کی تعداد پوری نہ ہو جائے جنہیں اُن کی طرح قتل کِیا جانے والا تھا۔‏

12 مَیں نے دیکھا کہ اُس نے چھٹی مُہر کھولی اور ایک بہت بڑا زلزلہ آیا، سورج ٹاٹ*‏ کی طرح کالا ہو گیا، پورے کا پورا چاند خون ہو گیا 13 اور آسمان کے ستارے بالکل ویسے ہی زمین پر گِر پڑے جیسے کچے اِنجیر آندھی میں درخت سے گِرتے ہیں۔ 14 اور آسمان کو ایک صفحے*‏ کی طرح لپیٹا گیا اور وہ غائب ہو گیا۔ اور ہر پہاڑ اور ہر جزیرے کو اپنی جگہ سے ہٹا دیا گیا۔ 15 تب زمین کے بادشاہ، اعلیٰ افسر، فوجی کمانڈر، امیر، طاقت‌ور اور سب غلام اور آزاد پہاڑوں کی چٹانوں اور غاروں میں چھپ گئے۔ 16 اور وہ بار بار پہاڑوں اور چٹانوں سے کہہ رہے تھے:‏ ”‏ہم پر گِر جاؤ اور ہمیں اُس کی نظروں سے چھپا لو جو تخت پر بیٹھا ہے اور میمنے کے غضب سے بھی 17 کیونکہ اُن کے غضب کا عظیم دن آ گیا ہے۔ اب کون بچ سکتا ہے؟“‏

7 اِس کے بعد مَیں نے زمین کے چار کونوں پر چار فرشتوں کو کھڑے دیکھا جنہوں نے زمین کی چار ہواؤں کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا تاکہ زمین پر یا سمندر پر یا کسی درخت پر کوئی ہوا نہ چلے۔ 2 پھر مَیں نے ایک فرشتے کو مشرق سے*‏ آتے دیکھا جس کے ہاتھ میں زندہ خدا کی مُہر تھی۔ اُس نے اُن چار فرشتوں کو پکارا جن کو زمین اور سمندر کو نقصان پہنچانے کا اِختیار دیا گیا تھا 3 اور کہا:‏ ”‏تب تک زمین یا سمندر یا درختوں کو نقصان نہ پہنچانا جب تک ہم اپنے خدا کے غلاموں کے ماتھے پر مُہر نہ لگا لیں۔“‏

4 پھر مَیں نے اُن کی تعداد سنی جن پر مُہر لگائی گئی تھی۔ اُن کی تعداد 1،44،000 (‏ایک لاکھ چوالیس ہزار)‏ تھی اور وہ بنی‌اِسرائیل کے ہر قبیلے سے تھے:‏

5 یہوداہ کے قبیلے سے 12 ہزار،‏

رُوبن کے قبیلے سے 12 ہزار،‏

جد کے قبیلے سے 12 ہزار،‏

6 آشر کے قبیلے سے 12 ہزار،‏

نفتالی کے قبیلے سے 12 ہزار،‏

منسّی کے قبیلے سے 12 ہزار،‏

7 شمعون کے قبیلے سے 12 ہزار،‏

لاوی کے قبیلے سے 12 ہزار،‏

اِشکار کے قبیلے سے 12 ہزار،‏

8 زبولون کے قبیلے سے 12 ہزار،‏

یوسف کے قبیلے سے 12 ہزار،‏

بنیمین کے قبیلے سے 12 ہزار۔‏

9 اِس کے بعد مَیں نے دیکھا اور دیکھو!‏ لوگوں کی ایک بڑی بِھیڑ جسے کوئی گن نہیں سکتا تھا، تخت اور میمنے کے سامنے کھڑی تھی۔ وہ لوگ سب قوموں، قبیلوں، نسلوں اور زبانوں سے تھے، اُنہوں نے سفید چوغے پہنے ہوئے تھے اور اُن کے ہاتھوں میں کھجور کی شاخیں تھیں۔ 10 وہ لگاتار اُونچی آواز میں کہہ رہے تھے:‏ ”‏ہم اپنی نجات کے لیے اپنے خدا کے احسان‌مند ہیں جو تخت پر بیٹھا ہے اور میمنے کے بھی۔“‏

11 اور سارے فرشتے تخت اور بزرگوں اور چار جان‌داروں کے اِردگِرد کھڑے تھے اور وہ تخت کے سامنے مُنہ کے بل گِر گئے اور یہ کہہ کر خدا کی عبادت کرنے لگے کہ 12 ‏”‏آمین!‏ ہمارے خدا کی بڑائی اور عظمت اور دانش‌مندی اور شکرگزاری اور عزت اور طاقت اور قوت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہو۔ آمین۔“‏

13 اِس پر ایک بزرگ نے مجھ سے کہا:‏ ”‏جن لوگوں نے سفید چوغے پہنے ہوئے ہیں، وہ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں؟“‏ 14 مَیں نے فوراً کہا:‏ ”‏مالک!‏ یہ تو آپ جانتے ہیں۔“‏ اُنہوں نے مجھ سے کہا:‏ ”‏یہ وہ لوگ ہیں جو بڑی مصیبت سے نکل آئے ہیں۔ اُنہوں نے اپنے چوغوں کو میمنے کے خون میں دھو کر سفید کر لیا ہے۔ 15 اِس لیے وہ خدا کے تخت کے سامنے کھڑے ہیں اور دن رات اُس کی ہیکل*‏ میں اُس کی عبادت کرتے ہیں۔ اور جو تخت پر بیٹھا ہے، وہ اُن پر اپنا خیمہ تانے گا۔ 16 آئندہ وہ بھوکے اور پیاسے نہیں رہیں گے اور نہ ہی اُن کو سورج یا کوئی اَور چیز جھلسائے گی 17 کیونکہ میمنا جو تخت کے پاس کھڑا ہے، اُن کی گلّہ‌بانی کرے گا اور اُن کو زندگی کے پانی کے چشموں کے پاس لے جائے گا۔ اور خدا اُن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا۔“‏

8 جب اُس نے ساتویں مُہر کھولی تو آسمان پر تقریباً آدھے گھنٹے کے لیے خاموشی ہو گئی۔ 2 اور مَیں نے اُن سات فرشتوں کو دیکھا جو خدا کے سامنے کھڑے ہیں اور اُنہیں سات نرسنگے*‏ دیے گئے۔‏

3 پھر ایک اَور فرشتہ جس کے ہاتھ میں سونے کا بخوردان تھا، وہاں آیا اور قربان‌گاہ کے پاس کھڑا ہو گیا۔ اُس فرشتے کو بہت سا بخور دیا گیا تاکہ وہ اِسے سب مُقدسوں کی دُعاؤں کے ساتھ سونے کی قربان‌گاہ پر چڑھائے جو تخت کے سامنے تھی۔ 4 اُس فرشتے نے بخور جلایا اور دھواں مُقدسوں کی دُعاؤں کے ساتھ خدا کے حضور اُٹھنے لگا۔ 5 لیکن اُس نے فوراً ہی بخوردان لیا اور اِس میں قربان‌گاہ سے کچھ آگ بھری اور اِسے زور سے زمین پر پھینک دیا۔ پھر آوازیں اور گرج سنائی دی اور بجلیاں چمکیں اور ایک زلزلہ آیا۔ 6 اور جن سات فرشتوں کے پاس سات نرسنگے تھے، وہ اُن کو پھونکنے کے لیے تیار ہوئے۔‏

7 پہلے فرشتے نے نرسنگا پھونکا۔ تب زمین پر ایسے اَولے اور آگ برسائی گئی جن میں خون ملا ہوا تھا۔ اور زمین کا تیسرا حصہ جل گیا اور تمام درختوں کا تیسرا حصہ جل گیا اور سارے ہرے پودے بھی جل گئے۔‏

8 دوسرے فرشتے نے نرسنگا پھونکا۔ تب ایک چیز جو جلتے ہوئے پہاڑ کی طرح تھی، سمندر میں پٹخ دی گئی اور سمندر کا تیسرا حصہ خون ہو گیا۔ 9 اور سمندر کے جان‌داروں کا تیسرا حصہ مر گیا اور بحری جہازوں کا تیسرا حصہ تباہ ہو گیا۔‏

10 تیسرے فرشتے نے نرسنگا پھونکا۔ تب آسمان سے ایک بہت بڑا ستارہ جو ایک چراغ کی طرح جل رہا تھا، دریاؤں اور چشموں کے تیسرے حصے پر جا گِرا۔ 11 اُس ستارے کا نام ناگ‌دون*‏ تھا اور پانیوں کا تیسرا حصہ ناگ‌دون بن گیا اور بہت سے لوگ اِن پانیوں کی وجہ سے مر گئے کیونکہ یہ پانی کڑوے ہو گئے تھے۔‏

12 چوتھے فرشتے نے نرسنگا پھونکا۔ تب سورج کے تیسرے حصے اور چاند کے تیسرے حصے اور ستاروں کے تیسرے حصے پر مصیبت بھیجی گئی تاکہ اُن کا تیسرا حصہ تاریک ہو جائے اور دن اور رات کے تیسرے حصے میں روشنی نہ رہے۔‏

13 اور مَیں نے دیکھا کہ آسمان پر ایک عقاب اُڑ رہا ہے اور اُونچی آواز میں کہہ رہا ہے کہ ”‏جو لوگ زمین پر رہتے ہیں، اُن پر افسوس!‏ افسوس!‏ افسوس!‏ کیونکہ جن تین فرشتوں نے ابھی نرسنگے نہیں پھونکے، وہ اِنہیں پھونکنے والے ہیں۔“‏

9 پانچویں فرشتے نے نرسنگا*‏ پھونکا۔ تب مَیں نے ایک ستارہ دیکھا جو آسمان سے زمین پر گِرا تھا اور اُس کو اتھاہ گڑھے کی چابی دی گئی۔ 2 جب اُس نے اتھاہ گڑھے کو کھولا تو اِس میں سے ایسے دھواں نکلا جیسے بڑی بھٹی سے نکلتا ہے اور سورج اور ہوا اِس دھوئیں سے تاریک ہو گئے۔ 3 اِس دھوئیں میں سے ٹڈے زمین پر آئے اور اُن کو ایسا اِختیار دیا گیا جیسا زمین کے بچھوؤں کے پاس ہے۔ 4 اُن سے کہا گیا کہ وہ زمین کے پودوں یا ہری گھاس یا درختوں کو نقصان نہ پہنچائیں بلکہ صرف اُن لوگوں کو جن کے ماتھے پر خدا کی مُہر نہیں ہے۔‏

5 ٹڈوں کو یہ اِختیار نہیں دیا گیا کہ اُن لوگوں کو مار ڈالیں بلکہ یہ کہ اُن کو پانچ مہینوں کے لیے اذیت پہنچائیں۔ یہ اذیت اُس اِنسان کی اذیت کی طرح تھی جسے بچھو نے ڈنک مارا ہو۔ 6 اُس زمانے میں لوگ موت کو آواز دیں گے لیکن وہ ہرگز نہیں آئے گی، وہ مرنے کی آرزو کریں گے مگر موت اُن سے دُور بھاگے گی۔‏

7 یہ ٹڈے دِکھنے میں اُن گھوڑوں کی طرح تھے جن کو جنگ کے لیے تیار کِیا گیا ہو۔ اُن کے سروں پر سونے کے تاج جیسا کچھ تھا۔ اُن کے چہرے اِنسانوں کی طرح تھے 8 جبکہ اُن کے بال عورتوں کے بالوں جیسے تھے۔ اُن کے دانت شیروں کے دانتوں کی طرح تھے 9 اور اُنہوں نے بکتر پہن رکھے تھے جو لوہے کے بکتروں کی طرح تھے۔ اُن کے پَروں کی آواز اُن رتھوں اور گھوڑوں کی آواز جیسی تھی جو جنگ لڑنے کو دوڑتے ہیں۔ 10 اُن کی دُمیں بچھوؤں کی دُموں کی طرح تھیں جن پر ڈنک ہوتے ہیں اور اُن کی دُموں میں لوگوں کو پانچ مہینوں کے لیے اذیت پہنچانے کا اِختیار تھا۔ 11 اُن کا ایک بادشاہ ہے یعنی اتھاہ گڑھے کا فرشتہ۔ عبرانی میں اُس کا نام ابدّون*‏ ہے جبکہ یونانی میں اُس کا نام اپُلیون*‏ ہے۔‏

12 پہلے افسوس کا اِعلان ہو گیا ہے۔ دیکھو!‏ اِن باتوں کے بعد دو اَور افسوس کے اِعلان ہوں گے۔‏

13 چھٹے فرشتے نے نرسنگا پھونکا۔ تب مَیں نے اُس سونے کی قربان‌گاہ کے سینگوں سے جو خدا کے سامنے ہے، ایک آواز سنی۔ 14 اِس نے چھٹے فرشتے سے جس کے پاس نرسنگا تھا، کہا کہ ”‏اُن چار فرشتوں کو کھولو جو عظیم دریائے‌فرات کے پاس بندھے ہوئے ہیں۔“‏ 15 اور جن چار فرشتوں کو اُس گھنٹے اور دن اور مہینے اور سال کے لیے تیار کِیا گیا تھا، اُن کو کھولا گیا تاکہ لوگوں کے تیسرے حصے کو مار ڈالیں۔‏

16 گُھڑسوار فوجیوں کی تعداد 20 کروڑ تھی۔ مَیں نے اُن کی تعداد سنی۔ 17 مَیں نے جن گھوڑوں اور سواروں کو رُویا میں دیکھا، وہ یوں لگتے تھے:‏ سواروں کے بکتر لال سُرخ اور گہرے نیلے اور گندھک جیسے پیلے رنگ کے تھے اور گھوڑوں کے سر شیروں کے سر جیسے تھے اور اُن کے مُنہ سے آگ اور دھواں اور گندھک نکل رہی تھی۔ 18 لوگوں کا تیسرا حصہ اِن تین آفتوں سے مارا گیا یعنی اُس آگ اور دھوئیں اور گندھک سے جو اُن کے مُنہ سے نکل رہی تھی۔ 19 گھوڑوں کا اِختیار اُن کے مُنہ اور دُموں میں تھا کیونکہ اُن کی دُمیں سانپوں کی طرح تھیں اور اِن دُموں کے سر تھے جن کے ذریعے گھوڑے لوگوں کو نقصان پہنچا رہے تھے۔‏

20 لیکن جو لوگ اِن آفتوں سے نہیں مارے گئے، اُنہوں نے اپنے کاموں*‏ سے توبہ نہیں کی۔ وہ بُرے فرشتوں اور اُن بُتوں کی پوجا کرتے رہے جو سونے اور چاندی اور تانبے اور پتھر اور لکڑی کے بنے ہوتے ہیں؛ جو نہ تو دیکھ سکتے ہیں اور نہ سُن سکتے ہیں اور نہ ہی چل سکتے ہیں۔ 21 وہ قتل، جادوٹونا، حرام‌کاری*‏ اور چوری کرتے رہے اور اِن کاموں سے توبہ نہیں کی۔‏

10 اور مَیں نے دیکھا کہ ایک اَور طاقت‌ور فرشتہ آسمان سے اُتر رہا ہے۔ اُس نے بادل پہنا*‏ ہوا تھا، اُس کے سر پر ایک دھنک تھی، اُس کا چہرہ سورج کی طرح تھا اور اُس کی ٹانگیں*‏ آگ کے ستونوں جیسی تھیں۔ 2 اُس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا صفحہ*‏ تھا جسے کھولا گیا تھا۔ اُس نے اپنا دایاں پاؤں سمندر پر رکھا اور اپنا بایاں پاؤں زمین پر۔ 3 وہ اُونچی آواز میں پکارنے لگا، بالکل ویسے ہی جیسے شیر دھاڑتا ہے۔ جب وہ پکارنے لگا تو سات گرجوں کی آوازیں سنائی دیں۔‏

4 جب سات گرجیں بولنے لگیں تو مَیں اُن کی باتیں لکھنے لگا۔ لیکن آسمان سے آواز آئی کہ ”‏سات گرجوں نے جو کچھ کہا ہے، اِس پر مُہر لگا دیں اور اِسے نہ لکھیں۔“‏ 5 اور جس فرشتے کو مَیں نے سمندر اور زمین پر کھڑے دیکھا تھا، اُس نے اپنا دایاں ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھایا 6 اور اُس کی قسم کھائی جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہے اور جس نے آسمان اور اِس کی سب چیزیں اور زمین اور اِس کی سب چیزیں اور سمندر اور اِس کی سب چیزیں بنائیں۔ اُس نے کہا کہ ”‏اب اَور دیر نہیں ہوگی۔ 7 لیکن اُس زمانے میں جب ساتواں فرشتہ نرسنگا*‏ پھونکنے والا ہوگا تو وہ مُقدس راز ضرور پورا ہوگا جسے خدا نے اپنے غلاموں یعنی نبیوں کو خوش‌خبری کے طور پر سنایا تھا۔“‏

8 مَیں نے دوبارہ آسمان سے وہی آواز سنی اور اُس نے مجھ سے کہا:‏ ”‏جائیں، کُھلے ہوئے صفحے کو اُس فرشتے سے لے لیں جو سمندر اور زمین پر کھڑا ہے۔“‏ 9 مَیں اُس فرشتے کے پاس گیا اور اُس سے وہ چھوٹا صفحہ مانگا۔ اُس نے مجھ سے کہا:‏ ”‏لیں، اِسے کھا لیں۔ یہ آپ کے مُنہ میں شہد جیسا میٹھا ہوگا لیکن آپ کے پیٹ کو کڑوا کر دے گا۔“‏ 10 اور مَیں نے فرشتے کے ہاتھ سے وہ چھوٹا صفحہ لے لیا اور اِسے کھانے لگا۔ وہ میرے مُنہ میں شہد جیسا میٹھا تھا لیکن جب مَیں نے اِسے کھا لیا تو میرا پیٹ کڑوا ہو گیا۔ 11 اور مجھ سے کہا گیا:‏ ”‏نسلوں اور قوموں اور زبانوں اور بہت سے بادشاہوں کے بارے میں پھر سے پیش‌گوئی کریں۔“‏

11 اور مجھے ناپنے کے لیے ایک لاٹھی*‏ دی گئی اور مجھ سے کہا گیا:‏ ”‏اُٹھیں اور خدا کی ہیکل*‏ کے مُقدس مقام کو، اِس میں عبادت کرنے والوں کو اور قربان‌گاہ کو ناپیں۔ 2 لیکن صحن کو جو مُقدس مقام کے باہر ہے، چھوڑ دیں اور نہ ناپیں کیونکہ اِسے قوموں کو دیا گیا ہے اور وہ 42 (‏بیالیس)‏ مہینے تک مُقدس شہر کو پاؤں کے نیچے روندیں گی۔ 3 اور مَیں اپنے دو گواہوں کو بھیجوں گا کہ 1260 (‏بارہ سو ساٹھ)‏ دن تک ٹاٹ اوڑھ کر نبوّت کریں۔“‏ 4 وہ زیتون کے دو درخت ہیں اور دو شمع‌دان ہیں اور زمین کے مالک کے حضور کھڑے ہیں۔‏

5 اگر اُن کا کوئی دُشمن اُن کو نقصان پہنچانا چاہے تو اُن کے مُنہ سے آگ نکل کر اُسے بھسم کر دے گی۔ جو بھی شخص اُن کو نقصان پہنچانا چاہے، اُس کو اِسی طرح مار ڈالا جائے۔ 6 اُن کو اِختیار دیا گیا ہے کہ آسمان کو بند کر دیں تاکہ جس زمانے میں وہ نبوّت کر رہے ہوں، بارش نہ پڑے۔ اُن کو یہ اِختیار بھی دیا گیا ہے کہ پانیوں کو خون میں بدل دیں اور جب چاہیں زمین پر ہر طرح کی آفت بھیجیں۔‏

7 جب وہ گواہی دینا ختم کر لیں گے تو وحشی درندہ جو اتھاہ گڑھے سے نکلتا ہے، اُن سے جنگ کرے گا اور اُن پر غالب آئے گا اور اُن کو مار ڈالے گا۔ 8 اور اُن کی لاشیں اُس بڑے شہر کے چوک پر پڑی رہیں گی جو مجازی معنوں میں سدوم اور مصر ہے اور جہاں اُن کے مالک کو سُولی*‏ دی گئی تھی۔ 9 اور نسلوں اور قبیلوں اور زبانوں اور قوموں کے لوگ ساڑھے تین دن کے لیے اُن کی لاشوں کو دیکھتے رہیں گے اور اِن کو دفنانے کی اِجازت نہیں دیں گے۔ 10 زمین کے باشندے اُن کی موت پر خوش ہوں گے اور جشن منائیں گے اور ایک دوسرے کو تحفے بھیجیں گے کیونکہ اُن دو نبیوں نے زمین کے باشندوں کو اذیت پہنچائی تھی۔‏

11 لیکن ساڑھے تین دن کے بعد اُن میں خدا کی طرف سے زندگی کا دم*‏ آیا اور وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے اور جس جس نے اُن کو دیکھا، وہ خوف‌زدہ ہو گیا۔ 12 اور آسمان سے ایک اُونچی آواز نے اُن سے کہا:‏ ”‏اُوپر آئیں۔“‏ اور وہ ایک بادل میں آسمان پر گئے اور اُن کے دُشمنوں نے اُن کو دیکھا۔‏*‏ 13 اُس وقت ایک بہت بڑا زلزلہ آیا جس میں شہر کا دسواں حصہ تباہ ہو گیا اور 7000 لوگ مارے گئے۔ مگر باقی لوگ ڈر گئے اور خدا کی جو آسمان پر ہے، بڑائی کرنے لگے۔‏

14 دوسرے افسوس کا اِعلان ہو گیا ہے۔ دیکھو!‏ تیسرے افسوس کا اِعلان جلد ہونے والا ہے۔‏

15 ساتویں فرشتے نے نرسنگا*‏ پھونکا۔ تب آسمان پر اُونچی آوازیں سنائی دیں جو کہہ رہی تھیں کہ ”‏دُنیا کی بادشاہت ہمارے مالک اور اُس کے مسیح کی بادشاہت بن گئی ہے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بادشاہ کے طور پر حکمرانی کرے گا۔“‏

16 اور 24 (‏چوبیس)‏ بزرگ جو اپنے تختوں پر خدا کے سامنے بیٹھے تھے، اُنہوں نے مُنہ کے بل گِر کر خدا کی عبادت کی 17 اور کہا:‏ ”‏اَے یہوواہ*‏ خدا، لامحدود قدرت کے مالک، تُو جو ہے اور جو تھا، ہم تیرا شکر ادا کرتے ہیں کیونکہ تُو نے اپنا عظیم اِختیار سنبھال لیا ہے اور تُو بادشاہ کے طور پر حکمرانی کرنے لگا ہے۔ 18 لیکن قوموں کو غصہ آیا اور تیرا غضب نازل ہوا اور مقررہ وقت آ گیا کہ مُردوں کی عدالت کی جائے اور مُقدسوں اور تیرے غلاموں یعنی نبیوں اور اُن بڑوں اور چھوٹوں کو جو تیرے نام سے ڈرتے ہیں، اِنعام دیا جائے اور اُن کو تباہ کِیا جائے جو زمین کو تباہ کر رہے ہیں۔“‏

19 اور خدا کی ہیکل کا مُقدس مقام جو آسمان میں ہے، کُھل گیا اور اُس میں خدا کا عہد کا صندوق نظر آیا۔ اور بجلیاں چمکیں اور آوازیں اور گرج سنائی دی اور ایک زلزلہ آیا اور بہت سے اَولے برسے۔‏

12 پھر آسمان پر ایک بڑی نشانی دِکھائی دی۔ ایک عورت نے سورج اوڑھا ہوا تھا، اُس کے پاؤں کے نیچے چاند تھا، اُس کے سر پر 12 ستاروں کا تاج تھا 2 اور وہ حاملہ تھی۔ وہ درد اور تکلیف کے مارے چلّا رہی تھی کیونکہ اُس کے بچے کی پیدائش ہونے والی تھی۔‏

3 آسمان پر ایک اَور نشانی دِکھائی دی۔ دیکھو!‏ ایک بڑا سا لال سُرخ اژدہا تھا۔ اُس کے سات سر اور دس سینگ تھے اور اُس کے سروں پر سات تاج تھے۔ 4 اور وہ اپنی دُم سے آسمان کے ستاروں کے تیسرے حصے کو گھسیٹ رہا تھا۔ اُس نے اُن کو نیچے زمین پر پھینک دیا۔ اور اژدہا اُس عورت کے سامنے کھڑا رہا جس کا بچہ ہونے والا تھا تاکہ جیسے ہی بچہ پیدا ہو، اِس کو ہڑپ کر لے۔‏

5 اور عورت نے ایک لڑکے کو جنم دیا جو لوہے کی لاٹھی سے ساری قوموں پر حکومت کرے گا۔ اُس کے بیٹے کو جلدی سے خدا اور اُس کے تخت کے پاس لے جایا گیا۔ 6 اور عورت بھاگ کر ویرانے میں چلی گئی جہاں خدا نے اُس کے لیے ایک جگہ تیار کر رکھی تھی اور جہاں اُسے 1260 (‏بارہ سو ساٹھ)‏ دن تک کھانا کھلایا جائے گا۔‏

7 اور آسمان پر جنگ چھڑ گئی۔ میکائیل*‏ اور اُن کے فرشتوں نے اژدہے سے جنگ کی اور اژدہے اور اُس کے فرشتوں نے اُن سے جنگ کی 8 لیکن غالب نہیں آئے*‏ اور اُن کے لیے آسمان پر جگہ نہیں رہی۔ 9 لہٰذا اُس بڑے اژدہے کو نیچے پھینک دیا گیا یعنی اُس قدیم سانپ کو جسے اِبلیس اور شیطان کہا جاتا ہے اور جو ساری دُنیا کو گمراہ کر رہا ہے۔ اُسے نیچے زمین پر پھینک دیا گیا اور اُس کے فرشتوں کو بھی اُس کے ساتھ پھینک دیا گیا۔ 10 پھر مَیں نے آسمان پر ایک اُونچی آواز کو یہ کہتے سنا:‏

‏”‏خدا نے نجات دِلائی ہے!‏ اُس کا اِختیار ظاہر ہو گیا ہے!‏ اُس کی بادشاہت قائم ہو گئی ہے!‏ اُس کے مسیح نے اِختیار سنبھال لیا ہے!‏ کیونکہ ہمارے بھائیوں پر اِلزام لگانے والے کو نیچے پھینک دیا گیا ہے۔ ہاں، اُسی کو جو دن رات ہمارے خدا کے سامنے اُن پر اِلزام لگاتا ہے!‏ 11 ہمارے بھائی میمنے کے خون اور اُس پیغام کی وجہ سے جو اُنہوں نے سنایا تھا، اُس پر غالب آئے اور اُنہوں نے موت کا سامنا کرتے وقت بھی اپنی جانوں کو عزیز نہیں رکھا۔ 12 اِس وجہ سے اَے آسمانو اور اِن پر رہنے والو، خوش ہو!‏ لیکن اَے زمین اور سمندر، تُم پر افسوس!‏ کیونکہ اِبلیس تمہارے پاس آ گیا ہے اور وہ بڑے غصے میں ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اُس کے پاس تھوڑا ہی وقت ہے۔“‏

13 جب اژدہے نے دیکھا کہ اُسے زمین پر پھینک دیا گیا ہے تو اُس نے اُس عورت کو اذیت پہنچائی جس کا بیٹا ہوا تھا۔ 14 لیکن عورت کو بڑے عقاب کے دو پَر دیے گئے تاکہ اُڑ کر سانپ کی نظروں سے دُور ویرانے میں اُس جگہ چلی جائے جو اُس کے لیے تیار کی گئی تھی اور جہاں اُسے ایک وقت اور وقتوں اور آدھے وقت کے لیے*‏ کھانا کھلایا جائے گا۔‏

15 اور سانپ نے عورت کے پیچھے اپنے مُنہ سے پانی کا دریا اُگلا تاکہ وہ اِس دریا میں ڈوب جائے۔ 16 لیکن زمین عورت کی مدد کو آئی اور زمین نے اپنا مُنہ کھولا اور اُس دریا کو نگل لیا جو اژدہے نے اپنے مُنہ سے اُگلا تھا۔ 17 لہٰذا اژدہے کو عورت پر غصہ آیا اور وہ عورت کی باقی اولاد*‏ سے جنگ لڑنے گیا جو خدا کے حکموں پر عمل کرتی ہے اور جسے یسوع کے بارے میں گواہی دینے کا کام دیا گیا ہے۔‏

13 اور وہ*‏ سمندر کی ریت پر کھڑا ہو گیا۔‏

اور مَیں نے دیکھا کہ ایک وحشی درندہ سمندر میں سے اُوپر آ رہا ہے۔ اُس کے دس سینگ اور سات سر تھے اور اُس کے سینگوں پر دس تاج تھے۔ اُس کے سروں پر ایسے نام لکھے تھے جن سے خدا کی توہین ہو۔ 2 مَیں نے جو وحشی درندہ دیکھا، وہ تیندوے جیسا تھا لیکن اُس کے پاؤں ریچھ کے پاؤں جیسے تھے اور اُس کا مُنہ شیر کے مُنہ جیسا تھا۔ اور اژدہے نے اِس درندے کو طاقت اور تخت اور بڑا اِختیار دیا۔‏

3 مَیں نے دیکھا کہ وحشی درندے کا ایک سر شدید زخمی تھا لیکن اُس کا جان‌لیوا زخم ٹھیک ہو گیا اور زمین کے سب لوگوں نے اُس کو بہت سراہا اور اُس کے پیچھے پیچھے گئے۔ 4 اور اُنہوں نے اژدہے کی پوجا کی کیونکہ اُس نے وحشی درندے کو اِختیار دیا تھا۔ اُنہوں نے وحشی درندے کی بھی پوجا کی اور کہا:‏ ”‏وحشی درندے جیسا کون ہے؟ کون اُس سے لڑ سکتا ہے؟“‏ 5 اور اُس کو بڑے بڑے بول بولنے اور کفر بکنے کی صلاحیت دی گئی اور 42 (‏بیالیس)‏ مہینے تک کارروائی کرنے کا اِختیار بھی دیا گیا۔ 6 اور اُس نے خدا کے خلاف کفر بکنے کے لیے مُنہ کھولا تاکہ خدا کے نام اور اُس کی رہائش‌گاہ کے خلاف کفر بکے یعنی اُن کے خلاف جو آسمان پر رہتے ہیں۔ 7 اُس کو مُقدسوں کے خلاف جنگ کرنے اور اُن پر غالب آنے کی اِجازت دی گئی اور اُسے ہر قبیلے اور نسل اور زبان اور قوم پر اِختیار دیا گیا۔ 8 زمین کے سب باشندے اُس کی پوجا کریں گے۔ جب سے دُنیا کی بنیاد ڈالی گئی، اُس وقت سے اُن میں سے کسی کا نام اُس زندگی کی کتاب*‏ میں نہیں لکھا گیا جو اُس میمنے کی ہے جسے ذبح کِیا گیا تھا۔‏

9 اگر کسی کے کان ہیں تو وہ سنے۔ 10 اگر کسی کو قید ہونا ہے تو وہ قید ہوگا اور اگر کوئی شخص کسی کو تلوار سے مار ڈالے گا*‏ تو اُسے ضرور تلوار سے مار ڈالا جائے گا۔ اِس لیے مُقدسوں کو ثابت‌قدمی سے کام لینا ہوگا اور ایمان ظاہر کرنا ہوگا۔‏

11 پھر مَیں نے ایک اَور وحشی درندے کو دیکھا جو زمین سے اُوپر آ رہا تھا۔ اُس کے میمنے جیسے دو سینگ تھے لیکن وہ ایک اژدہے کی طرح بولنے لگا۔ 12 اور وہ پہلے والے وحشی درندے کے سامنے اُس کا سارا اِختیار اِستعمال کرتا ہے اور زمین اور اِس کے باشندوں سے پہلے والے وحشی درندے کی پوجا کراتا ہے جس کا جان‌لیوا زخم ٹھیک ہو گیا تھا۔ 13 وہ بڑے بڑے معجزے دِکھاتا ہے یہاں تک کہ وہ اِنسانوں کے سامنے آسمان سے زمین پر آگ برساتا ہے۔‏

14 اور اُسے وحشی درندے کے سامنے جو معجزے کرنے کی اِجازت دی گئی تھی، اُن کے ذریعے وہ زمین کے باشندوں کو گمراہ کرتا ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ وہ زمین کے باشندوں سے کہتا ہے کہ وہ اُس وحشی درندے کا بُت بنائیں جو تلوار سے زخمی ہوا تھا لیکن ٹھیک ہو گیا تھا۔ 15 اور اُس کو اِجازت دی گئی کہ وہ وحشی درندے کے بُت کو زندگی کا دم*‏ دے تاکہ وہ بُت بول سکے اور اُن سب کو مروائے جو وحشی درندے کے بُت کی پوجا کرنے سے اِنکار کرتے ہیں۔‏

16 اور وہ سب کو یعنی چھوٹے اور بڑے کو، امیر اور غریب کو، آزاد اور غلام کو مجبور کرتا ہے کہ اپنے دائیں ہاتھ پر یا ماتھے پر نشان لگوائیں۔ 17 اور وہ کسی شخص کو کچھ خریدنے یا بیچنے کی اِجازت نہیں دیتا سوائے اُس کے جس پر نشان لگا ہو یعنی وحشی درندے کا نام یا اُس کے نام کا عدد۔ 18 اِس بات کو سمجھنے کے لیے دانش‌مندی کی ضرورت ہے۔ جو سمجھ‌دار ہے، وہ وحشی درندے کے عدد کا حساب لگائے کیونکہ یہ ایک اِنسانی عدد ہے اور اُس کا عدد 666 (‏چھ سو چھیاسٹھ)‏ ہے۔‏

14 پھر مَیں نے دیکھا اور دیکھو!‏ میمنا کوہِ‌صیون پر کھڑا تھا اور اُس کے ساتھ 1،44،000 (‏ایک لاکھ چوالیس ہزار)‏ لوگ تھے جن کے ماتھوں پر اُس کا نام اور اُس کے باپ کا نام لکھا تھا۔ 2 مجھے آسمان سے ایک آواز سنائی دی جو بہت سے پانیوں اور زوردار گرج کی سی تھی اور جو آواز مَیں نے سنی، وہ اُن گانے والوں جیسی تھی جو بربط*‏ بجا کر گیت گاتے ہیں۔ 3 وہ تخت اور چار جان‌داروں اور بزرگوں کے سامنے گویا ایک نیا گیت گا رہے تھے۔ کوئی شخص اِس گیت کو اچھی طرح نہیں سیکھ سکا سوائے اُن 1،44،000 (‏ایک لاکھ چوالیس ہزار)‏ کے جن کو زمین سے خریدا گیا تھا۔ 4 یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خود کو عورتوں سے ناپاک نہیں کِیا۔ دراصل یہ کنوارے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہر جگہ میمنے کے پیچھے پیچھے جاتے ہیں۔ اِن کو اِنسانوں میں سے خرید لیا گیا تاکہ خدا اور میمنے کے لیے پہلے پھل ہوں۔ 5 اِن لوگوں کے مُنہ میں کوئی فریب نہیں پایا گیا۔ اِن میں کوئی عیب نہیں ہے۔‏

6 اور مَیں نے ایک اَور فرشتے کو دیکھا جو آسمان پر اُڑ رہا تھا۔ اُس کے پاس ابدی خوش‌خبری تھی جو اُس نے زمین کے باشندوں کو یعنی ہر قوم اور قبیلے اور زبان اور نسل کو سنانی تھی۔ 7 وہ اُونچی آواز میں کہہ رہا تھا:‏ ”‏خدا سے ڈرو اور اُس کی بڑائی کرو کیونکہ وہ وقت*‏ آ گیا ہے کہ خدا عدالت کرے۔ اِس لیے اُس کی عبادت کرو جس نے آسمان اور زمین اور سمندر اور پانی کے چشموں کو بنایا ہے۔“‏

8 اُس کے پیچھے پیچھے ایک اَور فرشتہ آ رہا تھا جو کہہ رہا تھا کہ ”‏اُس نے شکست کھائی!‏ بابلِ‌عظیم نے شکست کھائی!‏ ہاں، اُس نے جس نے ساری قوموں کو اپنی حرام‌کاری*‏ کے جنون کی مے پلائی!‏“‏

9 اُن دونوں کے پیچھے ایک اَور فرشتہ آ رہا تھا اور اُونچی آواز میں کہہ رہا تھا کہ ”‏اگر کوئی شخص وحشی درندے اور اُس کے بُت کی پوجا کرے گا اور اپنے ماتھے یا ہاتھ پر نشان لگوائے گا 10 تو وہ خدا کے غصے کی خالص مے پیئے گا جو خدا کے غضب کے پیالے میں ڈالی گئی ہے اور اُسے مُقدس فرشتوں اور میمنے کے سامنے آگ اور گندھک سے اذیت دی جائے گی۔ 11 اور اِس اذیت کا دھواں ہمیشہ ہمیشہ تک اُٹھے گا۔ ہاں، اُن لوگوں کو دن رات کوئی آرام نہیں ملے گا جو وحشی درندے اور اُس کے بُت کی پوجا کرتے ہیں اور اُس کے نام کا نشان لگواتے ہیں۔ 12 اِس لیے مُقدسوں کو ثابت‌قدمی سے کام لینا ہوگا یعنی اُن کو جو خدا کے حکموں پر عمل کرتے ہیں اور یسوع پر پکا ایمان رکھتے ہیں۔“‏

13 اور مَیں نے آسمان سے ایک آواز سنی جو کہہ رہی تھی:‏ ”‏یہ لکھیں:‏ وہ خوش ہیں جو اب سے مالک کے ساتھ متحد رہتے ہوئے مرتے ہیں۔ روح کہتی ہے کہ اُن کو اپنے کاموں سے آرام کرنے دیں کیونکہ جو کچھ اُنہوں نے کِیا ہے، وہ اُن کے ساتھ جائے گا۔“‏

14 پھر مَیں نے دیکھا اور دیکھو!‏ ایک سفید بادل تھا اور اُس بادل پر ایک شخص بیٹھا تھا جو اِنسان کے ایک بیٹے کی طرح تھا۔ اُس کے سر پر سونے کا تاج تھا اور اُس کے ہاتھ میں تیز درانتی تھی۔‏

15 پھر ایک اَور فرشتہ ہیکل*‏ کے مُقدس مقام سے آیا اور اُس نے اُونچی آواز میں اُس فرشتے سے جو بادل پر بیٹھا تھا، کہا:‏ ”‏اپنی درانتی چلائیں اور فصل کاٹیں کیونکہ کٹائی کا وقت آ گیا ہے اور زمین کی فصل پوری طرح پک گئی ہے۔“‏ 16 اور جو فرشتہ بادل پر بیٹھا تھا، اُس نے اپنی درانتی زمین پر چلائی اور زمین کی فصل کٹ گئی۔‏

17 اِس کے بعد ایک اَور فرشتہ ہیکل کے مُقدس مقام سے آیا جو آسمان پر ہے۔ اُس کے ہاتھ میں بھی تیز درانتی تھی۔‏

18 اور ایک اَور فرشتہ قربان‌گاہ سے آیا جس کو آگ پر اِختیار تھا۔ اُس نے اُونچی آواز میں اُس فرشتے سے جس کے پاس تیز درانتی تھی، کہا:‏ ”‏اپنی تیز درانتی چلائیں اور زمین کے انگوروں کے گچھوں کو جمع کریں کیونکہ انگور پک گئے ہیں۔“‏ 19 اور اُس فرشتے نے زمین پر درانتی چلائی اور زمین کے انگوروں کی بیل کو کاٹا اور اِس کو روندنے کے لیے خدا کے غصے کے حوض میں پھینکا 20 جو شہر کے باہر تھا۔ جب اِس میں انگوروں کو روندا گیا تو اِتنا خون نکلا کہ 1600 فرلانگ*‏ کے فاصلے پر موجود گھوڑوں کی لگاموں تک پہنچ گیا۔‏

15 اور مَیں نے آسمان پر ایک اَور نشانی دیکھی جو بہت ہی شان‌دار اور حیران‌کُن تھی۔ سات فرشتوں کے پاس سات آفتیں تھیں۔ یہ آخری آفتیں ہیں کیونکہ اِن کے ذریعے خدا کا غصہ ختم ہو جائے گا۔‏

2 اور مَیں نے شیشے کے تالاب جیسی کوئی چیز دیکھی جس میں آگ ملی ہوئی تھی۔ اور جو لوگ وحشی درندے اور اِس کے بُت اور اِس کے نام کے عدد پر غالب آئے، وہ شیشے کے اُس تالاب کے پاس کھڑے تھے اور اُن کے ہاتھوں میں خدا کے بربط*‏ تھے۔ 3 وہ خدا کے غلام موسیٰ کا گیت اور میمنے کا گیت گا رہے تھے اور کہہ رہے تھے:‏

‏”‏یہوواہ*‏ خدا، لامحدود قدرت کے مالک!‏ تیرے کام شان‌دار اور حیران‌کُن ہیں۔ ابدیت کے بادشاہ!‏ تیری راہیں راست اور سچی ہیں۔ 4 اَے یہوواہ،‏*‏ کون تجھ سے نہیں ڈرے گا؟ اور کون تیرے نام کی بڑائی نہیں کرے گا؟ کیونکہ تُو ہی وفادار ہے۔ ساری قومیں آئیں گی اور تیرے حضور عبادت کریں گی کیونکہ تیرے راست فیصلے ظاہر ہو گئے ہیں۔“‏

5 اِس کے بعد مَیں نے دیکھا کہ آسمان پر گواہی کے خیمے کا مُقدس مقام کُھل گیا 6 اور وہ سات فرشتے جن کے پاس سات آفتیں تھیں، مُقدس مقام سے نکل آئے۔ اُنہوں نے لینن کے صاف ستھرے اور اُجلے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور سینے کے گِرد سونے کی پیٹیاں باندھی ہوئی تھیں۔ 7 چار جان‌داروں میں سے ایک نے سات فرشتوں کو سونے کے سات کٹورے دیے۔ یہ کٹورے اُس خدا کے غصے سے بھرے ہوئے تھے جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ ہے۔ 8 اور مُقدس مقام خدا کی شان اور طاقت کی وجہ سے دھوئیں سے بھر گیا۔ اور جب تک وہ سات آفتیں ختم نہ ہو گئیں جو سات فرشتوں کے پاس تھیں، کوئی بھی مُقدس مقام میں داخل نہیں ہو سکا۔‏

16 اور مَیں نے مُقدس مقام سے ایک اُونچی آواز سنی جس نے سات فرشتوں سے کہا کہ ”‏جائیں، خدا کے غصے کے سات کٹورے زمین پر اُنڈیل دیں۔“‏

2 اِس پر پہلے فرشتے نے جا کر اپنا کٹورا زمین پر اُنڈیل دیا۔ اور جن لوگوں پر وحشی درندے کا نشان تھا اور جو اُس کے بُت کی پوجا کر رہے تھے، اُن پر ایک تکلیف‌دہ اور سنگین ناسور بن گیا۔‏

3 دوسرے فرشتے نے اپنا کٹورا سمندر میں اُنڈیل دیا۔ اور سمندر مُردے کے خون کی طرح بن گیا اور اِس میں جتنے بھی جان‌دار تھے، وہ سب مر گئے۔‏

4 تیسرے فرشتے نے اپنا کٹورا دریاؤں اور پانی کے چشموں میں اُنڈیل دیا اور وہ خون بن گئے۔ 5 اور اِس فرشتے نے جسے پانیوں پر اِختیار تھا، یہ کہا:‏ ”‏تُو جو ہے اور جو تھا اور جو وفادار ہے، تُو نیک ہے کیونکہ تُو نے یہ فیصلے جاری کیے ہیں 6 اِس لیے کہ اُنہوں نے مُقدسوں اور نبیوں کا خون بہایا۔ اور اِس لیے تُو نے اُنہیں پینے کے لیے خون دیا۔ یہ اِسی لائق ہیں!‏“‏ 7 اور مَیں نے قربان‌گاہ کو یہ کہتے سنا کہ ”‏یہوواہ*‏ خدا، لامحدود قدرت کے مالک، تیرے فیصلے کتنے سچے اور راست ہیں!‏“‏

8 چوتھے فرشتے نے اپنا کٹورا سورج پر اُنڈیل دیا۔ اور سورج کو یہ اِختیار دیا گیا کہ لوگوں کو آگ سے جھلسا دے۔ 9 اور لوگ شدید تپش سے جُھلس گئے لیکن اُنہوں نے توبہ نہیں کی اور اُس خدا کی بڑائی نہیں کی جو اِن آفتوں پر اِختیار رکھتا ہے بلکہ اُس کے نام کے خلاف کفر بکا۔‏

10 پانچویں فرشتے نے اپنا کٹورا وحشی درندے کے تخت پر اُنڈیل دیا۔ اور اِس کی بادشاہت تاریک ہو گئی اور لوگ تکلیف کے مارے اپنی زبانیں چبانے لگے۔ 11 لیکن اُنہوں نے اپنے کاموں سے توبہ نہیں کی بلکہ اپنی تکلیفوں اور ناسوروں کی وجہ سے آسمان کے خدا کے خلاف کفر بکا۔‏

12 چھٹے فرشتے نے اپنا کٹورا عظیم دریائے‌فرات پر اُنڈیل دیا۔ اور اِس کا پانی سُوکھ گیا تاکہ مشرق*‏ کے بادشاہوں کے لیے راستہ تیار ہو جائے۔‏

13 اور مَیں نے دیکھا کہ اژدہے اور وحشی درندے اور جھوٹے نبی کے مُنہ سے تین ناپاک روحانی پیغام*‏ نکل رہے ہیں جو دِکھنے میں مینڈکوں کی طرح ہیں۔ 14 دراصل یہ روحانی پیغام بُرے فرشتوں کی طرف سے ہیں اور بڑے بڑے معجزے دِکھاتے ہیں اور پوری زمین کے بادشاہوں کے پاس جاتے ہیں تاکہ اُن کو لامحدود قدرت والے خدا کے عظیم دن کی جنگ کے لیے جمع کریں۔‏

15 پھر ایک آواز سنائی دی کہ ”‏دیکھو!‏ مَیں چور کی طرح آ رہا ہوں۔ وہ شخص خوش ہے جو جاگتا رہتا ہے تاکہ اُس کے کپڑے نہ لے لیے جائیں کیونکہ پھر اُسے ننگا پھرنا پڑے گا اور لوگ اُس کا ننگاپن دیکھیں گے۔“‏

16 اور اُنہوں نے اُن بادشاہوں کو اُس جگہ جمع کِیا جسے عبرانی میں ہرمجِدّون*‏ کہتے ہیں۔‏

17 ساتویں فرشتے نے اپنا کٹورا ہوا پر اُنڈیل دیا۔ اِس پر مُقدس مقام سے، ہاں تخت سے، ایک اُونچی آواز آئی جس نے کہا:‏ ”‏سب کچھ ہو گیا ہے!‏“‏ 18 اور بجلیاں چمکیں اور آوازیں اور گرج سنائی دی اور ایک بہت بڑا زلزلہ آیا۔ اِتنا زبردست اور شدید زلزلہ اُس وقت سے نہیں آیا جب سے اِنسان زمین پر موجود ہیں۔ 19 اور عظیم شہر تین حصے ہو گیا اور قوموں کے شہر تباہ ہو گئے۔ اور خدا نے بابلِ‌عظیم کو یاد کِیا تاکہ اُسے اپنے شدید غضب کی مے کا پیالہ دے۔ 20 اور سارے جزیرے بھاگ گئے اور پہاڑ غائب ہو گئے۔ 21 پھر آسمان سے لوگوں پر بڑے بڑے اَولے پڑے جو آدھے آدھے من*‏ کے تھے۔ اور لوگوں نے اَولوں کی آفت کی وجہ سے خدا کے خلاف کفر بکا کیونکہ وہ بڑی شدید تھی۔‏

17 جن سات فرشتوں کے پاس سات کٹورے تھے، اُن میں سے ایک نے آ کر مجھ سے کہا:‏ ”‏آئیں، مَیں آپ کو دِکھاتا ہوں کہ اُس عظیم فاحشہ کی سزا کیا ہوگی جو بہت سے پانیوں پر بیٹھی ہے 2 اور جس کے ساتھ زمین کے بادشاہوں نے حرام‌کاری*‏ کی۔ اور زمین کے باشندے اُس کی حرام‌کاری*‏ کی مے سے متوالے ہو گئے۔“‏

3 وہ مجھے روح کے اثر میں ویرانے میں لے گیا۔ اور مَیں نے ایک عورت کو دیکھا جو ایک گہرے سُرخ رنگ کے وحشی درندے پر بیٹھی تھی۔ اُس درندے کے سات سر اور دس سینگ تھے اور اُس کے پورے جسم پر ایسے نام لکھے تھے جن سے خدا کی توہین ہو۔ 4 اُس عورت نے جامنی اور گہرے سُرخ رنگ کے کپڑے اور سونے اور قیمتی پتھروں اور موتیوں کے زیورات پہنے ہوئے تھے۔ اُس کے ہاتھ میں سونے کا پیالہ تھا جو گھناؤنی چیزوں اور اُس کی حرام‌کاری*‏ کی ناپاکیوں سے بھرا ہوا تھا۔ 5 اُس کے ماتھے پر ایک نام لکھا تھا جو ایک راز تھا۔ وہ نام یہ تھا:‏ ”‏بابلِ‌عظیم، فاحشاؤں اور زمین کی گھناؤنی چیزوں کی ماں!‏“‏ 6 اور مَیں نے دیکھا کہ وہ عورت مُقدسوں کے خون اور یسوع کے گواہوں کے خون کے نشے میں دُھت ہے۔‏

جب مَیں نے اُس کو دیکھا تو مَیں بہت حیران ہوا۔ 7 اِس لیے اُس فرشتے نے مجھ سے کہا:‏ ”‏آپ حیران کیوں ہو رہے ہیں؟ مَیں آپ کو ایک راز بتاؤں گا جو عورت اور اُس وحشی درندے کے بارے میں ہے جس پر وہ سوار ہے اور جس کے سات سر اور دس سینگ ہیں۔ راز یہ ہے کہ 8 جو وحشی درندہ آپ نے دیکھا، وہ پہلے تھا، اب نہیں ہے لیکن وہ اتھاہ گڑھے سے نکلنے والا ہے اور ہلاک ہونے والا ہے۔ اور جب زمین کے باشندے یعنی وہ لوگ جن کے نام تب سے زندگی کی کتاب*‏ میں نہیں لکھے گئے جب سے دُنیا کی بنیاد ڈالی گئی، یہ دیکھیں گے کہ وحشی درندہ پہلے تھا، اب نہیں ہے لیکن دوبارہ موجود ہوگا تو وہ حیران ہوں گے۔‏

9 اِس بات کو سمجھنے کے لیے عقل‌مندی اور دانش‌مندی کی ضرورت ہے۔ سات سروں کا مطلب سات پہاڑ ہیں جن پر وہ عورت بیٹھی ہے۔ 10 اور یہ سات بادشاہ ہیں جن میں سے پانچ جا*‏ چکے ہیں، ایک ابھی موجود ہے اور ایک ابھی نہیں آیا لیکن جب وہ آئے گا تو تھوڑی دیر کے لیے رہے گا۔ 11 اور جو وحشی درندہ پہلے تھا مگر اب نہیں ہے، وہ بھی ایک بادشاہ ہے یعنی آٹھواں بادشاہ۔ لیکن یہ سات بادشاہوں میں سے نکلتا ہے اور ہلاک ہونے والا ہے۔‏

12 جو دس سینگ آپ نے دیکھے، اُن کا مطلب دس بادشاہ ہیں جن کو ابھی تک بادشاہت نہیں ملی لیکن اُن کو ایک گھنٹے کے لیے وحشی درندے کے ساتھ بادشاہوں کے طور پر اِختیار دیا جائے گا۔ 13 اُن کا اِرادہ ایک ہی ہے اِس لیے وہ اپنی طاقت اور اِختیار وحشی درندے کے سپرد کر دیں گے۔ 14 وہ میمنے کے ساتھ جنگ کریں گے لیکن چونکہ میمنا مالکوں کا مالک اور بادشاہوں کا بادشاہ ہے اِس لیے وہ اُن پر غالب آئے گا۔ اور میمنے کے ساتھی بھی غالب آئیں گے یعنی وہ جن کو بلا‌یا اور چُنا گیا ہے اور جو وفادار ہیں۔“‏

15 اُس نے مجھ سے کہا:‏ ”‏وہ پانی جو آپ نے دیکھے اور جن پر فاحشہ بیٹھی ہے، اُن کا مطلب نسلیں اور لوگ اور قومیں اور زبانیں ہیں۔ 16 اور وحشی درندہ اور وہ دس سینگ جو آپ نے دیکھے، فاحشہ سے نفرت کریں گے اور اُسے برباد اور ننگا کریں گے اور اُس کا گوشت کھائیں گے اور اُسے آگ میں جلا کر راکھ کر دیں گے۔ 17 کیونکہ خدا اُن کے دل میں یہ خیال ڈالے گا کہ وہ اُس کا اِرادہ جو اُن کا اپنا اِرادہ بھی ہے، پورا کرنے کے لیے اپنی بادشاہت اُس وقت تک وحشی درندے کے سپرد کریں جب تک خدا کی باتیں پوری نہ ہو جائیں۔ 18 اور جس عورت کو آپ نے دیکھا، اُس کا مطلب وہ عظیم شہر ہے جو زمین کے بادشاہوں پر حکمرانی کرتا ہے۔“‏

18 اِس کے بعد مَیں نے ایک اَور فرشتے کو آسمان سے آتے دیکھا جس کے پاس بڑا اِختیار تھا۔ ساری زمین اُس کی شان سے روشن ہو گئی۔ 2 اُس نے اُونچی آواز میں کہا:‏ ”‏اُس نے شکست کھائی!‏ بابلِ‌عظیم نے شکست کھائی!‏ اب اُس میں بُرے فرشتے رہتے ہیں اور ہر طرح کی ناپاک روح*‏ اور ہر قسم کے ناپاک اور گھناؤنے پرندے چھپتے ہیں!‏ 3 کیونکہ اُس کی حرام‌کاری*‏ کے جنون کی مے کی وجہ سے ساری قومیں اُس کا شکار ہو گئیں اور زمین کے بادشاہوں نے اُس کے ساتھ حرام‌کاری کی اور زمین کے تاجر اُس بے‌اِنتہا دولت کی وجہ سے امیر ہو گئے جو اُس نے بے‌شرمی سے جمع کی تھی۔“‏

4 پھر مجھے آسمان سے ایک اَور آواز سنائی دی جس نے کہا:‏ ”‏اَے میرے بندو، اُس میں سے نکل آؤ!‏ اگر تُم نہیں چاہتے کہ تُم اُس کے گُناہوں میں شریک ہو اور اگر تُم نہیں چاہتے کہ اُس کی آفتوں میں سے کوئی تُم پر آئے تو اُس میں سے نکل آؤ۔ 5 کیونکہ اُس کے گُناہ اِتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ وہ آسمان تک پہنچ گئے ہیں اور خدا نے اُس کی نااِنصافیوں*‏ کو یاد کِیا ہے۔ 6 اُس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کِیا جائے جیسا اُس نے دوسروں کے ساتھ کِیا۔ ہاں، اُس نے جو کچھ کِیا، اُس کے لیے اُسے دُگنا بدلہ دیا جائے۔ جس پیالے میں اُس نے مے تیار کی، اُسی میں اُس کے لیے دُگنی مے تیار کی جائے۔ 7 جس حد تک اُس نے اپنی بڑائی کی اور بے‌شرمی سے اپنی بے‌اِنتہا دولت سے لطف اُٹھایا، اُسی حد تک اُسے اذیت دی جائے اور رُلایا جائے۔ کیونکہ وہ دل میں کہتی ہے:‏ ”‏مَیں تو ملکہ کی طرح حکمرانی کر رہی ہوں۔ مَیں بیوہ نہیں ہوں۔ مجھے کبھی رونا نہیں پڑے گا۔“‏ 8 اِس لیے ایک ہی دن میں اُس پر آفتیں آئیں گی یعنی موت اور رونا پیٹنا اور قحط۔ اور اُسے آگ میں جلا کر راکھ کر دیا جائے گا کیونکہ یہوواہ*‏ خدا جس نے اُسے سزا سنائی ہے، بڑا طاقت‌ور ہے۔‏

9 اور زمین کے بادشاہ جنہوں نے اُس کے ساتھ حرام‌کاری*‏ کی اور اُس کے ساتھ مل کر اُس کی بے‌اِنتہا دولت سے لطف اُٹھایا، وہ اُس کے جلنے کا دھواں دیکھ کر روئیں گے اور غم کے مارے چھاتی پیٹیں گے 10 اور اُس کی اذیت دیکھ کر خوف کھائیں گے اور دُور کھڑے ہو کر کہیں گے:‏ ”‏افسوس!‏ اَے بابل، تُو جو اِتنا عظیم اور بڑا شہر ہے، تجھ پر افسوس!‏ کیونکہ ایک ہی گھنٹے میں تجھے سزا مل گئی!‏“‏

11 زمین کے تاجر بھی اُسے دیکھ کر روئیں گے اور ماتم کریں گے کیونکہ اب کوئی ایسا نہیں رہا جو اُن کا سارا مال خریدے 12 یعنی سونا، چاندی، قیمتی پتھر، موتی، اعلیٰ قسم کا لینن، جامنی اور گہرے سُرخ رنگ کا کپڑا، ریشم، خوشبودار لکڑی کی چیزیں، ہاتھی‌دانت اور قیمتی لکڑی اور تانبے اور لوہے اور سنگِ‌مرمر کی چیزیں، 13 دارچینی، اِلائچی، بخور، خوشبودار تیل، لوبان، مے، زیتون کا تیل، میدہ، گندم، مویشی، بھیڑیں، گھوڑے، بگھیاں، غلام اور اِنسان۔‏*‏ 14 ہاں، وہ اچھی چیزیں تجھ سے لے لی گئی ہیں جو تجھے*‏ پسند تھیں۔ اور تیرے عمدہ عمدہ کھانے اور تیری شان‌دار چیزیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غائب ہو گئی ہیں۔‏

15 جو تاجر یہ چیزیں بیچتے تھے اور اُس شہر کے ذریعے امیر ہو گئے، وہ اُس کی اذیت دیکھ کر خوف کھائیں گے اور دُور کھڑے ہو کر روئیں گے اور ماتم کریں گے 16 اور کہیں گے:‏ ”‏اَے عظیم شہر، تجھ پر افسوس!‏ تُو جس نے اعلیٰ قسم کے لینن اور جامنی اور گہرے سُرخ رنگ کے کپڑے پہنے اور جس نے خود کو سونے اور قیمتی پتھروں اور موتیوں کے زیورات سے سجایا، تجھ پر افسوس!‏ 17 کیونکہ ایک ہی گھنٹے میں اِتنی زیادہ دولت برباد ہو گئی!‏“‏

اور تمام جہازوں کے کپتان اور ملاح اور سب لوگ جو سمندری سفر کرتے ہیں یا سمندر کے ذریعے روزی کماتے ہیں، دُور کھڑے ہوں گے 18 اور اُس کے جلنے کا دھواں دیکھ کر چلّا اُٹھیں گے اور کہیں گے:‏ ”‏بھلا اَور کون سا شہر اِس عظیم شہر کی طرح ہے؟“‏ 19 وہ اپنے سر پر خاک ڈالیں گے اور چلّائیں گے اور روئیں گے اور ماتم کریں گے اور کہیں گے:‏ ”‏اَے عظیم شہر، تجھ پر افسوس!‏ تُو جس کی دولت سے تمام بحری جہازوں کے مالک امیر ہو گئے، تجھ پر افسوس!‏ کیونکہ ایک ہی گھنٹے میں تیری بربادی ہو گئی!‏“‏

20 اَے آسمانو اور مُقدسو اور رسولو اور نبیو، اُس کی بربادی پر خوش ہو!‏ کیونکہ خدا نے تمہاری خاطر اُسے سزا سنائی ہے!‏“‏

21 پھر ایک طاقت‌ور فرشتے نے ایک پتھر اُٹھایا جو ایک بڑی چکی کے پاٹ جیسا تھا اور اِسے سمندر میں پھینک دیا اور کہا:‏ ”‏عظیم شہر بابل کو اِسی طرح پھرتی سے پھینک دیا جائے گا اور اُس کا نام‌ونشان مٹ جائے گا۔ 22 اور تجھ میں پھر کبھی بربط*‏ بجا کر گیت گانے والوں کی اور موسیقاروں کی اور بانسری اور نرسنگے*‏ بجانے والوں کی آواز سنائی نہیں دے گی۔ اور تجھ میں پھر کبھی کوئی کاریگر کام نہیں کرے گا۔ اور تجھ میں پھر کبھی چکی چلانے کی آواز سنائی نہیں دے گی۔ 23 اور تجھ میں پھر کبھی کسی چراغ کی روشنی نہیں ہوگی۔ اور تجھ میں پھر کبھی کسی دُلہے یا دُلہن کی آواز سنائی نہیں دے گی۔ یہ سب کچھ اِس لیے ہوگا کیونکہ تیرے تاجر بڑے اثرورسوخ والے تھے اور تیرے جادوٹونے کی وجہ سے ساری قومیں گمراہ ہوئیں۔ 24 ہاں، اُس شہر میں نبیوں اور مُقدسوں کا اور اُن سب کا خون پایا گیا جنہیں بے‌رحمی سے مار ڈالا گیا۔“‏

19 اِس کے بعد مجھے آسمان پر ایک اُونچی آواز سنائی دی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ایک بڑی بِھیڑ پکار رہی ہے۔ وہ کہہ رہی تھی کہ ”‏یاہ کی بڑائی ہو!‏*‏ ہمارا خدا بڑا عظیم اور طاقت‌ور ہے۔ وہ نجات دِلاتا ہے۔ 2 اُس کے فیصلے سچے اور راست ہیں کیونکہ اُس نے اُس عظیم فاحشہ کو سزا دی جس نے اپنی حرام‌کاری*‏ سے دُنیا کو بگا‌ڑ دیا اور اُس سے اپنے غلاموں کے خون کا بدلہ لے لیا۔“‏ 3 اور اُس بِھیڑ نے فوراً ہی دوبارہ کہا:‏ ”‏یاہ کی بڑائی ہو!‏*‏ بابل کا دھواں ہمیشہ ہمیشہ تک اُٹھتا رہے گا۔“‏

4 اور چوبیس بزرگوں اور چار جان‌داروں نے مُنہ کے بل گِر کر خدا کی عبادت کی جو تخت پر بیٹھا ہے اور کہا:‏ ”‏آمین!‏ یاہ کی بڑائی ہو!‏“‏*‏

5 اور تخت سے ایک آواز آئی جس نے کہا:‏ ”‏اَے خدا کے سب غلامو، اُس کی بڑائی کرو!‏ ہاں، تُم سب جو اُس سے ڈرتے ہو، چاہے تُم چھوٹے ہو یا بڑے، اُس کی بڑائی کرو!‏“‏

6 اور مجھے ایک آواز سنائی دی جو ایک بڑی بِھیڑ کی سی اور بہت سے پانیوں کی سی اور زوردار گرجوں کی سی تھی اور کہہ رہی تھی کہ ”‏یاہ کی بڑائی ہو!‏*‏ کیونکہ ہمارے لامحدود قدرت والے خدا یہوواہ*‏ نے بادشاہ کے طور پر حکمرانی کرنا شروع کر دی ہے!‏ 7 آؤ، خوش ہوں بلکہ خوشی سے جھومیں اور اُس کی بڑائی کریں کیونکہ میمنے کی شادی ہونے والی ہے اور اُس کی دُلہن تیار ہو گئی ہے۔ 8 دُلہن کو اُجلے، صاف اور اعلیٰ قسم کے لینن کا لباس پہننے کا شرف عطا کِیا گیا ہے کیونکہ اعلیٰ قسم کا لینن مُقدسوں کے نیک کاموں کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔“‏

9 اور اُس نے مجھ سے کہا کہ ”‏یہ لکھیں:‏ وہ لوگ خوش ہیں جن کو میمنے کی شادی کی دعوت پر بلا‌یا گیا ہے۔“‏ اُس نے مجھ سے یہ بھی کہا کہ ”‏خدا کی یہ باتیں سچی ہیں۔“‏ 10 یہ سُن کر مَیں اُس کی عبادت کرنے کے لیے اُس کے قدموں میں گِر گیا۔ لیکن اُس نے مجھ سے کہا:‏ ”‏خبردار!‏ ایسا مت کریں!‏ صرف خدا کی عبادت کریں!‏ مَیں بھی ویسے ہی ایک غلام ہوں جیسے آپ اور آپ کے بھائی ہیں جنہیں یسوع کے بارے میں گواہی دینے کا کام دیا گیا ہے۔ کیونکہ یسوع کے بارے میں گواہی دینا پیش‌گوئیوں*‏ کا مقصد ہے۔“‏

11 مَیں نے دیکھا کہ آسمان کُھل گیا اور دیکھو!‏ وہاں ایک سفید گھوڑا تھا۔ اُس کا سوار وفادار اور سچا کہلاتا ہے اور وہ اِنصاف کے ساتھ عدالت کرتا اور جنگ لڑتا ہے۔ 12 اُس کی آنکھیں بھڑکتے ہوئے شعلوں کی طرح تھیں اور اُس کے سر پر بہت سے تاج تھے۔ اُس پر ایک نام لکھا تھا جسے صرف وہی جانتا تھا۔ 13 اُس نے ایک چوغہ پہنا ہوا تھا جس پر خون کے دھبے*‏ تھے اور اُس کا نام تھا:‏ خدا کا کلام۔ 14 آسمان کی فوجیں سفید گھوڑوں پر اُس کے پیچھے پیچھے آ رہی تھیں۔ اُنہوں نے سفید، صاف اور اعلیٰ قسم کے لینن کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ 15 اور اُس کے مُنہ سے ایک لمبی، تیز تلوار نکلی ہوئی تھی جس سے وہ قوموں کو مارے گا اور وہ لوہے کی لاٹھی سے اُن پر حکومت کرے گا۔ وہ لامحدود قدرت والے خدا کے شدید غضب کے حوض میں انگور روندے گا۔ 16 اُس کے چوغے پر، ہاں، اُس کی ران پر یہ نام لکھا تھا:‏ بادشاہوں کا بادشاہ اور مالکوں کا مالک۔‏

17 مَیں نے ایک فرشتے کو بھی دیکھا جو سورج کے سامنے کھڑا تھا اور اُس نے اُونچی آواز میں سب پرندوں کو پکارا جو آسمان پر اُڑتے ہیں اور کہا:‏ ”‏اِدھر آؤ، خدا کی بڑی دعوت کے لیے اِکٹھے ہو 18 تاکہ تُم بادشاہوں کا گوشت اور فوجی کمانڈروں کا گوشت اور طاقت‌ور آدمیوں کا گوشت اور گھوڑوں اور اُن کے سواروں کا گوشت اور باقی سب لوگوں کا گوشت کھا سکو، چاہے وہ آزاد ہوں یا غلام، چھوٹے ہوں یا بڑے۔“‏

19 اور مَیں نے دیکھا کہ وحشی درندہ اور زمین کے بادشاہ اور اُن کی فوجیں اُس گُھڑسوار اور اُس کی فوج سے جنگ لڑنے کے لیے جمع ہوئیں۔ 20 اور وحشی درندہ پکڑا گیا۔ اور اُس کے ساتھ وہ جھوٹا نبی بھی پکڑا گیا جس نے اُس کے سامنے وہ معجزے دِکھائے جن کے ذریعے اُس نے اُن لوگوں کو گمراہ کِیا تھا جنہوں نے وحشی درندے کا نشان لگوایا تھا اور جو اُس کے بُت کی پوجا کرتے تھے۔ وہ دونوں ابھی زندہ ہی تھے کہ اُن کو آگ کی اُس جھیل میں پھینک دیا گیا جو گندھک سے جلتی ہے۔ 21 لیکن باقی لوگ اُس لمبی تلوار سے مارے گئے جو اُس گُھڑ سوار کے مُنہ سے نکلی ہوئی تھی۔ اور سارے پرندے اُن کے گوشت سے سیر ہوئے۔‏

20 اور مَیں نے ایک فرشتے کو دیکھا جو آسمان سے نیچے آ رہا تھا۔ اُس کے ہاتھ میں اتھاہ گڑھے کی چابی اور ایک بہت بڑی زنجیر تھی۔ 2 اُس نے اژدہے کو یعنی اُس قدیم سانپ کو جو اِبلیس اور شیطان ہے، پکڑ لیا اور اُسے 1000 سال کے لیے باندھ دیا۔ 3 پھر اُس نے اُسے اتھاہ گڑھے میں پھینک دیا اور اتھاہ گڑھے کو بند کر کے اِس پر مُہر لگا دی تاکہ اژدہا اُس وقت تک قوموں کو گمراہ نہ کر سکے جب تک 1000 سال ختم نہ ہو جائیں۔ اِس کے بعد اُسے تھوڑی دیر کے لیے رِہا کِیا جائے گا۔‏

4 اور مَیں نے تخت دیکھے اور جو لوگ اُن پر بیٹھے تھے، اُنہیں عدالت کرنے کا اِختیار دیا گیا۔ ہاں، مَیں نے اُن لوگوں*‏ کو دیکھا جن کو اِس لیے مار ڈالا گیا*‏ کہ اُنہوں نے خدا اور یسوع کے بارے میں گواہی دی تھی اور وحشی درندے اور اُس کے بُت کی پوجا نہیں کی تھی اور اپنے ماتھے اور ہاتھ پر اُس کا نشان نہیں لگوایا تھا۔ اور وہ زندہ ہو گئے اور اُنہوں نے 1000 سال کے لیے مسیح کے ساتھ بادشاہوں کے طور پر حکمرانی کی۔ 5 ‏(‏باقی مُردے اُس وقت تک زندہ نہیں ہوئے جب تک 1000 سال پورے نہیں ہوئے۔)‏ یہ وہ ہیں جو سب سے پہلے زندہ ہوئے۔ 6 وہ لوگ پاک اور خوش ہیں جو سب سے پہلے زندہ ہوں گے کیونکہ اُن پر دوسری موت کا کوئی اِختیار نہیں ہے۔ وہ خدا اور مسیح کے لیے کاہن ہوں گے اور 1000 سال تک مسیح کے ساتھ بادشاہوں کے طور پر حکمرانی کریں گے۔‏

7 جوں ہی 1000 سال ختم ہو جائیں گے، شیطان کو قید سے رِہا کر دیا جائے گا۔ 8 اور وہ زمین کے چاروں کونوں میں موجود قوموں کو یعنی جوج اور ماجوج کو گمراہ کرنے کے لیے نکلے گا تاکہ اُنہیں جنگ کے لیے جمع کرے۔ اُن لوگوں کی تعداد سمندر کی ریت جتنی ہوگی۔ 9 اور وہ پوری زمین پر پھیل جائیں گے اور مُقدسوں کی خیمہ‌گاہ اور عزیز شہر کو گھیر لیں گے۔ لیکن آسمان سے آگ نازل ہوگی اور اُن کو بھسم کر دے گی۔ 10 اور اِبلیس کو جو اُن کو گمراہ کر رہا تھا، آگ اور گندھک کی اُس جھیل میں پھینکا جائے گا جس میں وحشی درندہ اور جھوٹا نبی پہلے سے موجود تھے اور اُن کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دن رات اذیت دی جائے گی۔‏*‏

11 اور مَیں نے ایک بہت بڑا سفید تخت دیکھا اور اُس کو بھی دیکھا جو اُس پر بیٹھا تھا۔ اُس کے سامنے سے زمین اور آسمان بھاگ گئے اور اُن کا نام‌ونشان مٹ گیا۔ 12 اور مَیں نے دیکھا کہ سب مُردے یعنی چھوٹے اور بڑے، تخت کے سامنے کھڑے ہیں اور کتابیں*‏ کھولی گئیں۔ لیکن ایک اَور کتاب بھی کھولی گئی۔ یہ زندگی کی کتاب تھی۔ اور مُردوں کی عدالت اُن کتابوں میں لکھی ہوئی باتوں اور اُن کے کاموں کے مطابق کی گئی۔ 13 اور سمندر نے اُن مُردوں کو رِہا کر دیا جو اُس میں تھے اور موت اور قبر*‏ نے اُن مُردوں کو رِہا کر دیا جو اُن میں تھے اور ہر مُردے کی عدالت اُس کے کاموں کے مطابق کی گئی۔ 14 اور موت اور قبر*‏ کو آگ کی جھیل میں پھینک دیا گیا۔ آگ کی جھیل کا مطلب دوسری موت ہے۔ 15 اور جس کسی کا نام زندگی کی کتاب میں نہیں لکھا تھا، اُسے آگ کی جھیل میں پھینکا گیا۔‏

21 اور مَیں نے ایک نئے آسمان اور نئی زمین کو دیکھا کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمین مٹ گئے اور سمندر بھی نہیں رہا۔ 2 مَیں نے مُقدس شہر یعنی نئے یروشلیم کو بھی دیکھا جو آسمان سے، ہاں، خدا کی طرف سے نیچے آ رہا تھا اور ایک دُلہن کی طرح لگ رہا تھا جس نے اپنے دُلہے کے لیے سنگھار کِیا ہو۔ 3 اِس کے ساتھ ہی مَیں نے تخت سے ایک اُونچی آواز سنی جس نے کہا:‏ ”‏دیکھیں!‏ خدا کا خیمہ اِنسانوں کے درمیان ہے۔ وہ اُن کے ساتھ رہے گا اور وہ اُس کے بندے ہوں گے۔ اور خدا خود اُن کے ساتھ ہوگا۔ 4 اور وہ اُن کے سارے آنسو پونچھ دے گا اور نہ موت رہے گی، نہ ماتم، نہ رونا، نہ درد۔ جو کچھ پہلے ہوتا تھا، وہ سب ختم ہو گیا۔“‏

5 اور جو تخت پر بیٹھا تھا، اُس نے کہا:‏ ”‏دیکھیں!‏ مَیں سب کچھ نیا بنا رہا ہوں۔“‏ اُس نے یہ بھی کہا:‏ ”‏اِن باتوں کو لکھ لیں کیونکہ یہ قابلِ‌بھروسا اور سچی ہیں۔“‏ 6 پھر اُس نے مجھ سے کہا:‏ ”‏یہ باتیں پوری ہو چکی ہیں!‏ مَیں الفا اور اومیگا ہوں،‏*‏ مَیں آغاز اور اِختتام ہوں۔ جو پیاسا ہے، اُس کو مَیں زندگی کے پانی کے چشمے سے مُفت پلاؤں گا۔ 7 جو جیتے گا، اُس کو یہ سب کچھ ورثے میں ملے گا اور مَیں اُس کا خدا ہوں گا اور وہ میرا بیٹا ہوگا۔ 8 لیکن جو لوگ بزدل ہیں اور جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے اور جو اپنی گندی حرکتوں کی وجہ سے گھناؤنے ہیں اور جو قاتل ہیں اور جو حرام‌کار*‏ ہیں اور جو جادوٹونا کرتے ہیں اور جو بُت‌پرست ہیں اور جو جھوٹ بولتے ہیں، اُن کا انجام وہ جھیل ہوگی جو آگ اور گندھک سے جلتی ہے۔ اِس کا مطلب دوسری موت ہے۔“‏

9 اور سات فرشتے جن کے پاس سات آخری آفتوں والے سات کٹورے تھے، اُن میں سے ایک نے میرے پاس آ کر کہا:‏ ”‏آئیں، مَیں آپ کو دُلہن یعنی میمنے کی ہونے والی بیوی دِکھاتا ہوں۔“‏ 10 پھر وہ مجھے روح کے اثر میں ایک بڑے اور اُونچے پہاڑ پر لے گیا اور مجھے مُقدس شہر یروشلیم دِکھایا جو آسمان سے، ہاں، خدا کی طرف سے نیچے آ رہا تھا۔ 11 اُس شہر میں خدا کی شان تھی۔ اُس کی چمک ایک بہت ہی قیمتی پتھر جیسی تھی یعنی سنگِ‌یشب جیسی جو بِلور کی طرح چمکتا ہے۔ 12 اُس کی دیوار بہت ہی بڑی اور اُونچی تھی۔ اُس کے 12 دروازے تھے جن پر 12 فرشتے کھڑے تھے۔ اُن دروازوں پر بنی‌اِسرائیل کے 12 قبیلوں کے نام لکھے تھے۔ 13 تین دروازے شہر کے مشرق میں تھے، تین دروازے شمال میں تھے، تین دروازے جنوب میں تھے اور تین دروازے مغرب میں تھے۔ 14 شہر کی دیوار کے 12 بنیادی پتھر تھے جن پر میمنے کے 12 رسولوں کے 12 نام لکھے تھے۔‏

15 جو فرشتہ مجھ سے بات کر رہا تھا، اُس نے ہاتھ میں سونے کا ایک بانس پکڑا ہوا تھا تاکہ اُس شہر اور اُس کے دروازوں اور اُس کی دیوار کو ناپے۔ 16 اور وہ شہر چوکور تھا اور اُس کی لمبائی اُس کی چوڑائی جتنی تھی۔ جب اُس نے شہر کو بانس سے ناپا تو اِس کی لمبائی اور چوڑائی اور اُونچائی برابر تھی یعنی 12 ہزار فرلانگ۔‏*‏ 17 اُس نے شہر کی دیوار بھی ناپی اور یہ اِنسانی پیمانے کے مطابق 144 (‏ایک سو چوالیس)‏ ہاتھ*‏ تھی اور فرشتے نے یہی پیمانہ اِستعمال کِیا۔ 18 یہ دیوار سنگِ‌یشب کی بنی ہوئی تھی اور شہر خالص سونے کا تھا اور دِکھنے میں شیشے کی طرح شفاف تھا۔ 19 شہر کی دیوار کی بنیادیں ہر طرح کے قیمتی پتھروں سے سجی ہوئی تھیں۔ پہلی بنیاد سنگِ‌یشب کی تھی، دوسری نیلم کی تھی، تیسری سنگِ‌یمانی کی تھی، چوتھی زُمُرد کی تھی، 20 پانچویں عقیقِ‌سلیمانی کی تھی، چھٹی عقیقِ‌جگری کی تھی، ساتویں زبرجد کی تھی، آٹھویں بَرِیل کی تھی، نویں یاقوتِ‌زرد کی تھی، دسویں عقیقِ‌سبز کی تھی، گیارہویں زرقون کی تھی اور بارہویں یاقوتِ‌ارغوانی کی تھی۔ 21 اور شہر کے 12 دروازے 12 موتی تھے۔ ہر دروازہ ایک موتی تھا۔ شہر کی مرکزی سڑک خالص سونے سے بنی تھی اور دِکھنے میں شیشے کی طرح شفاف تھی۔‏

22 مجھے اُس میں کوئی ہیکل*‏ دِکھائی نہیں دی کیونکہ یہوواہ*‏ خدا جو لامحدود قدرت کا مالک ہے، اُس کی ہیکل ہے اور میمنا بھی اُس کی ہیکل ہے۔ 23 اور شہر کو سورج یا چاند کی روشنی کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ خدا کی شان سے روشن تھا اور میمنا اُس کا چراغ تھا۔ 24 اور اُس شہر کی روشنی سے قوموں کی راہ روشن ہوگی اور زمین کے بادشاہ اُس میں اپنی شان لائیں گے۔ 25 اُس کے دروازے سارا دن بند نہیں کیے جائیں گے کیونکہ اُس میں رات نہیں ہوگی۔ 26 اور اُس میں قوموں کی شان اور عظمت لائی جائے گی۔ 27 لیکن کوئی ناپاک چیز یا کوئی ایسا شخص جو گھناؤنے کام کرتا ہے یا دھوکے‌باز ہے، ہرگز اُس شہر میں داخل نہیں ہوگا بلکہ صرف وہ اُس میں داخل ہوگا جس کا نام اُس زندگی کی کتاب*‏ میں لکھا ہے جو میمنے کی ہے۔‏

22 اور اُس فرشتے نے مجھے زندگی کے پانی کا دریا دِکھایا جو بِلور کی طرح شفاف تھا۔ یہ دریا خدا اور میمنے کے تخت سے نکل کر 2 شہر کی مرکزی سڑک کے بیچ میں بہہ رہا تھا۔ دریا کے دونوں طرف درخت تھے جن پر پھل کی بارہ فصلیں لگتی تھیں یعنی ہر مہینے میں ایک فصل۔ اِن درختوں کے پتوں کے ذریعے قوموں کو شفا ملنی تھی۔‏

3 اور اُس شہر پر پھر کبھی لعنت نہیں بھیجی جائے گی بلکہ خدا کا اور میمنے کا تخت اُس میں ہوگا۔ خدا کے غلام اُس کی خدمت کریں گے 4 اور اُس کا چہرہ دیکھیں گے اور اُس کا نام اُن کے ماتھوں پر لکھا ہوگا۔ 5 وہاں پھر کبھی رات نہیں ہوگی اور اُن کو چراغ یا سورج کی روشنی کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ یہوواہ*‏ خدا اُن پر روشنی چمکائے گا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بادشاہوں کے طور پر حکمرانی کریں گے۔‏

6 پھر اُس نے مجھ سے کہا:‏ ”‏یہ باتیں قابلِ‌بھروسا اور سچی ہیں۔ یہوواہ*‏ خدا جو نبیوں کو اِلہام عطا کرتا ہے، اُس نے اپنے فرشتے کو بھیجا تاکہ اپنے غلاموں کو وہ باتیں دِکھائے جو جلد ہونے والی ہیں۔ 7 دیکھیں!‏ مَیں جلد آ رہا ہوں!‏ جو لوگ اِس کتاب*‏ کے پیغام پر عمل کرتے ہیں، وہ خوش رہتے ہیں۔“‏

8 مَیں، یوحنا یہ سب کچھ سُن اور دیکھ رہا تھا۔ جب مَیں نے یہ باتیں سنیں اور دیکھیں تو مَیں اُس فرشتے کے قدموں میں گِر گیا جو مجھے یہ سب کچھ دِکھا رہا تھا تاکہ اُس کی عبادت کروں۔ 9 لیکن اُس نے مجھ سے کہا:‏ ”‏خبردار!‏ ایسا مت کریں!‏ صرف خدا کی عبادت کریں!‏ کیونکہ مَیں بھی آپ اور آپ کے بھائیوں یعنی نبیوں اور اُن لوگوں کی طرح ایک غلام ہوں جو اِس کتاب کی باتوں پر عمل کرتے ہیں۔“‏

10 اُس نے یہ بھی کہا کہ ”‏اِس کتاب کے پیغام پر مُہر نہ لگائیں کیونکہ مقررہ وقت نزدیک ہے۔ 11 جو بُرا ہے، وہ بُرائی کرتا رہے اور جو ناپاک ہے، وہ ناپاک رہے مگر جو نیک ہے، وہ نیکی کرتا رہے اور جو پاک ہے، وہ پاک رہے۔‏

12 ‏”‏دیکھیں!‏ مَیں جلد آ رہا ہوں اور ہر ایک کو اُس کے کاموں کے مطابق بدلہ دوں گا۔ 13 مَیں الفا اور اومیگا ہوں،‏*‏ مَیں پہلا اور آخری ہوں، مَیں آغاز اور اِختتام ہوں۔ 14 وہ لوگ خوش ہیں جو اپنے چوغے دھوتے ہیں تاکہ اُنہیں زندگی کے درختوں کے پاس جانے کا اعزاز ملے اور وہ شہر کے دروازوں سے اندر داخل ہو سکیں۔ 15 مگر شہر سے باہر کتّے*‏ اور جادوٹونا کرنے والے اور حرام‌کار*‏ اور قاتل اور بُت‌پرست ہیں اور وہ لوگ بھی جو جھوٹ کے شیدائی ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں۔“‏

16 ‏”‏مَیں، یسوع نے اپنے فرشتے کو بھیجا تاکہ وہ کلیسیاؤں کے فائدے کے لیے آپ کو اِن باتوں کے بارے میں گواہی دے۔ مَیں داؤد کی جڑ اور اولاد ہوں اور صبح کا چمکتا ستارہ بھی۔“‏ “‏

17 اور روح اور دُلہن کہتی ہیں:‏ ”‏آئیں!‏“‏ اور جو کوئی یہ سنتا ہے، وہ بھی کہے:‏ ”‏آئیں!‏“‏ اور جس کسی کو پیاس لگی ہے، وہ آئے اور جو بھی چاہے، زندگی کا پانی مُفت لے۔‏

18 ‏”‏جو شخص اِس کتاب میں لکھے پیغام کو سنتا ہے، اُسے مَیں آگاہ کر رہا ہوں کہ اگر کوئی اِس میں کسی بات کا اِضافہ کرے گا تو خدا اُس پر وہ تمام آفتیں لائے گا جن کا اِس کتاب میں ذکر ہوا ہے۔ 19 اور اگر کوئی اِس کتاب میں لکھے پیغام میں سے کچھ نکالے گا تو خدا اُسے وہ اچھی چیزیں نہیں دے گا جو اِس کتاب میں لکھی ہیں یعنی وہ اُسے زندگی کے درختوں کا پھل نہیں دے گا اور نہ ہی مُقدس شہر میں داخل ہونے دے گا۔‏

20 جو اِن باتوں کے بارے میں گواہی دے رہا ہے، وہ کہتا ہے:‏ ”‏ہاں، مَیں جلد آ رہا ہوں۔“‏ “‏

‏”‏آمین!‏ آئیں، مالک یسوع!‏“‏

21 مُقدسوں کو مالک یسوع کی عظیم رحمت حاصل ہو۔‏

یا ”‏ظہور؛ اِنکشاف“‏

یا ”‏جماعتوں“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏مَیں الف ہوں اور ے بھی۔“‏ الفا یونانی حروفِ‌تہجی کا پہلا حرف ہے جبکہ اومیگا آخری حرف ہے۔‏

یا ”‏باجے“‏

یا ”‏طومار“‏

یونانی لفظ:‏ ”‏ہادس۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏جماعت“‏

یونانی میں:‏ ”‏آپ نے میرے نام کو تھام رکھا ہے“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی لفظ:‏ ”‏پورنیا۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏سب سے گہرے احساسات۔“‏ یونانی میں:‏ ”‏گردوں“‏

یا ”‏جماعت“‏

یونانی میں:‏ ”‏نام“‏

یونانی میں:‏ ”‏میرے نام“‏

یا ”‏آپ کی تعظیم کراؤں گا“‏

یا شاید ”‏آپ نے ثابت‌قدمی کے سلسلے میں میری مثال پر عمل کِیا ہے۔“‏

یا ”‏گھنٹے“‏

یعنی خدا کا گھر

یا ”‏باجے“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏طومار“‏

یا ”‏برّہ“‏

یہ ایک قسم کا تاردار ساز ہے۔‏

یعنی ایک دن کی مزدوری

یونانی لفظ:‏ ”‏ہادس۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏جانیں“‏

غالباً بکری کے بالوں سے بنے ہوئے ٹاٹ

یا ”‏طومار“‏

یونانی میں:‏ ”‏وہاں سے جہاں سے سورج نکلتا ہے“‏

یعنی خدا کا گھر

یا ”‏باجے“‏

یہ ایک قسم کا پودا ہے جس میں زہریلا اور کڑوا مادہ ہوتا ہے۔‏

یا ”‏باجا“‏

اِس کا مطلب ہے:‏ ”‏تباہی۔“‏

اِس کا مطلب ہے:‏ ”‏تباہ کرنے والا۔“‏

یا ”‏اپنی کاریگری“‏

یونانی لفظ:‏ ”‏پورنیا۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏لپیٹا“‏

یونانی میں:‏ ”‏پاؤں“‏

یا ”‏طومار“‏

یا ”‏باجا“‏

یونانی میں:‏ ”‏سرکنڈا“‏

یعنی خدا کا گھر

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏روح“‏

یا ”‏اُن کے دُشمن دیکھ رہے تھے۔“‏

یا ”‏باجا“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

اِس کا مطلب ہے:‏ ”‏خدا کی طرح کون ہے؟“‏

یا شاید ”‏لیکن اُس کو (‏یعنی اژدہے کو)‏ شکست ہوئی“‏

یعنی ساڑھے تین وقتوں کے لیے

یا ”‏نسل“‏

یعنی اژدہا

یا ”‏طومار“‏

یا شاید ”‏اگر کسی کو تلوار سے مرنا ہے“‏

یونانی میں:‏ ”‏روح“‏

یہ ایک قسم کا تاردار ساز ہے۔‏

یا ”‏گھنٹہ“‏

یونانی لفظ:‏ ”‏پورنیا۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یعنی خدا کا گھر

یونانی میں:‏ ”‏ستادیون۔“‏ ایک ستادیون 185 میٹر (‏تقریباً 607 فٹ)‏ تھا۔‏

یہ ایک قسم کا تاردار ساز ہے۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏وہاں سے جہاں سے سورج نکلتا ہے“‏

یونانی میں:‏ ”‏ناپاک روحیں“‏

اِس کا مطلب ہے:‏ ”‏مجِدّو کا پہاڑ۔“‏

یونانی میں:‏ ”‏ایک ایک تلنتون۔“‏ ایک تلنتون 4.‏20 کلوگرام کے برابر تھا۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی لفظ:‏ ”‏پورنیا۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی لفظ:‏ ”‏پورنیا۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏طومار“‏

یونانی میں:‏ ”‏گِر“‏

یا شاید ”‏سانس؛ دم؛ روحانی پیغام“‏

یونانی لفظ:‏ ”‏پورنیا۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏جرائم“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏جانیں“‏

یونانی میں:‏ ”‏تیری جان کو“‏

یہ ایک قسم کا تاردار ساز ہے۔‏

یا ”‏باجے“‏

یا ”‏ہللویاہ!‏“‏ ”‏یاہ“‏ نام یہوواہ کا مخفف ہے۔‏

یونانی لفظ:‏ ”‏پورنیا۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏ہللویاہ!‏“‏ ”‏یاہ“‏ نام یہوواہ کا مخفف ہے۔‏

یا ”‏ہللویاہ!‏“‏ ”‏یاہ“‏ نام یہوواہ کا مخفف ہے۔‏

یا ”‏ہللویاہ!‏“‏ ”‏یاہ“‏ نام یہوواہ کا مخفف ہے۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏نبوّت کرنے“‏

یا شاید ”‏خون کی چھینٹیں“‏

یونانی میں:‏ ”‏جانوں“‏

یونانی میں:‏ ”‏کلہاڑے سے مار ڈالا گیا“‏

یا ”‏قید میں رکھا جائے گا۔“‏

یا ”‏طومار“‏

یونانی لفظ:‏ ”‏ہادس۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی لفظ:‏ ”‏ہادس۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏مَیں الف ہوں اور ے بھی۔“‏ الفا یونانی حروفِ‌تہجی کا پہلا حرف ہے جبکہ اومیگا آخری حرف ہے۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏حرام‌کاری“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏12 ہزار ستادیون۔“‏ تقریباً 2220 کلومیٹر (‏1379 میل)‏۔ ایک ستادیون 185 میٹر (‏تقریباً 607 فٹ)‏ تھا۔‏

تقریباً 64 میٹر (‏210 فٹ)‏

یعنی خدا کا گھر

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏طومار“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏طومار“‏

یا ”‏مَیں الف ہوں اور ے بھی۔“‏ الفا یونانی حروفِ‌تہجی کا پہلا حرف ہے جبکہ اومیگا آخری حرف ہے۔‏

یعنی ایسے لوگ جن کے کام خدا کی نظر میں گھناؤنے ہیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏حرام‌کاری“‏ کو دیکھیں۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں