پطرس کا پہلا خط
1 یسوع مسیح کے رسول پطرس کی طرف سے اُن مسافروں کے نام خط جو پُنطُس، گلتیہ، کپدُکیہ، آسیہ اور بِتونیہ میں رہتے ہیں 2 اور جن کو خدا یعنی باپ نے اپنے اِرادے کے مطابق پہلے سے چُنا ہے اور پاک روح سے مخصوص* کِیا ہے تاکہ وہ فرمانبردار رہیں اور یسوع مسیح کا خون اُن پر چھڑکا جائے۔
خدا آپ کو اَور زیادہ رحمت اور سلامتی عطا کرے۔
3 ہمارے مالک یسوع مسیح کے خدا اور باپ کی بڑائی ہو کیونکہ اُس نے ہم پر بڑا رحم کِیا اور ہمیں نئے سرے سے پیدا کِیا تاکہ ہمیں یسوع مسیح کے جی اُٹھنے کی بِنا پر زندہ اُمید ملے 4 اور ایک پائیدار اور پاک اور لازوال وراثت حاصل ہو۔ یہ وراثت آپ کے لیے آسمان میں رکھی گئی ہے، 5 ہاں، آپ کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں اور جنہیں خدا اپنی طاقت کے ذریعے محفوظ رکھتا ہے تاکہ آپ کو وہ نجات دے جو آخری زمانے میں ظاہر ہوگی۔ 6 اِنہی باتوں کی وجہ سے تو آپ بہت خوش ہیں حالانکہ تھوڑی دیر کے لیے آپ کو طرح طرح کی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 7 یوں آپ کا ایمان پرکھا گیا اور اُس سونے سے کہیں زیادہ قیمتی نکلا جسے آگ میں ڈال کر پرکھا* تو گیا ہے لیکن پھر بھی تباہ ہو جاتا ہے۔ ایسا ایمان اُس وقت آپ کے لیے تعریف اور عظمت اور عزت کا باعث بنے گا جب یسوع مسیح ظاہر ہوں گے۔ 8 حالانکہ آپ نے اُن کو کبھی نہیں دیکھا لیکن پھر بھی آپ اُن سے محبت کرتے ہیں۔ آپ اُن کو ابھی بھی نہیں دیکھ رہے لیکن پھر بھی آپ اُن پر ایمان ظاہر کر رہے ہیں اور بےاِنتہا اور ناقابلِبیان خوشی محسوس کر رہے ہیں 9 کیونکہ آپ کو یقین ہے کہ آپ اپنے ایمان کی منزل پائیں گے یعنی اپنی نجات۔*
10 اِس نجات کے متعلق اُن نبیوں نے بڑی تحقیق اور تفتیش کی جنہوں نے اُس عظیم رحمت کے بارے میں نبوّت کی جو آپ کو ملنی تھی۔ 11 وہ تحقیق کرتے رہے کہ وہ باتیں کب اور کس زمانے میں ہوں گی جو پاک روح نے مسیح کے بارے میں ظاہر کی تھیں کیونکہ پاک روح نے پہلے سے بتا دیا تھا کہ مسیح کو کون سی تکلیفیں اُٹھانی پڑیں گی اور اِس کے بعد کون سی شاندار باتیں ہوں گی۔ 12 اُن نبیوں پر ظاہر کِیا گیا کہ وہ اپنے لیے خدمت نہیں کر رہے بلکہ آپ کے لیے کیونکہ جن لوگوں نے آپ کو پاک روح کی مدد سے خوشخبری سنائی ہے، وہ اِنہی باتوں کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ اور فرشتے بھی اِن باتوں کو سمجھنے کی بڑی خواہش رکھتے ہیں۔
13 لہٰذا سخت محنت کے لیے تیار ہو جائیں،* ہوشوحواس قائم رکھیں اور اُس عظیم رحمت کے منتظر رہیں جو تب آپ پر نازل ہوگی جب یسوع مسیح ظاہر ہوں گے۔ 14 فرمانبردار بچوں کی طرح اُن خواہشوں پر عمل کرنا بند کر دیں جو آپ اپنی جہالت کے زمانے میں رکھتے تھے۔ 15 اِس کی بجائے اُس پاک خدا کی طرح بنیں جس نے آپ کو بلایا ہے اور اپنے سارے چالچلن کو پاک کریں 16 کیونکہ لکھا ہے کہ ”پاک ہو کیونکہ مَیں بھی پاک ہوں۔“
17 اور اگر آپ اُس باپ سے دُعا کرتے ہیں جو تعصب نہیں کرتا بلکہ ہر ایک کی عدالت اُس کے کاموں کے مطابق کرتا ہے تو دُنیا میں اپنی مسافرت کے دوران اُس کے خوف سے زندگی گزاریں۔ 18 کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ آپ اپنے باپدادا کے فضول طورطریقوں سے سونے اور چاندی کے ذریعے آزاد نہیں ہوئے* جو خراب ہو جاتے ہیں 19 بلکہ آپ مسیح کے قیمتی خون کے ذریعے آزاد ہوئے جو ایک بےداغ اور بےعیب میمنے* کے خون کی طرح ہے۔ 20 یہ سچ ہے کہ اِس سے پہلے کہ دُنیا کی بنیاد ڈالی گئی، مسیح کو چُنا گیا لیکن اِس آخری زمانے میں اُسے آپ کی خاطر ظاہر کِیا گیا۔ 21 اُسی کے ذریعے آپ خدا پر ایمان لائے جس نے اُس کو مُردوں میں سے زندہ کِیا اور عظمت دی۔ اِس لیے خدا پر ایمان رکھیں اور اُس سے اُمید لگائیں۔
22 آپ نے سچائی کا فرمانبردار ہو کر اپنے آپ* کو پاک کِیا ہے اور اِس کے نتیجے میں آپ ایک دوسرے کے لیے بےریا شفقت رکھتے ہیں۔ اِس لیے ایک دوسرے سے دل کی گہرائی سے محبت کریں۔ 23 آپ کو زندہ اور ابدی خدا کے کلام کے ذریعے نئے سرے سے پیدا کِیا گیا ہے اور یہ ایسے بیج* سے نہیں ہوا جو خراب ہو سکتا ہے بلکہ ایسے بیج سے جو خراب نہیں ہو سکتا۔ 24 جیسا کہ لکھا ہے کہ ”تمام اِنسان گھاس کی طرح ہیں اور اُن کی شان میدان کے پھولوں کی طرح ہے۔ گھاس سُوکھ جاتی ہے اور پھول مُرجھا جاتے ہیں 25 لیکن یہوواہ* کا کلام ہمیشہ تک رہتا ہے۔“ اور یہ ”کلام“ وہ خوشخبری ہے جو آپ کو سنائی گئی۔
2 لہٰذا ہر طرح کی بُرائی اور دھوکےبازی اور ریاکاری اور حسد کو چھوڑ دیں اور دوسروں کی پیٹھ پیچھے بُرائیاں نہ کریں۔ 2 ننھے بچوں کی طرح کلام کے خالص دودھ کی طلب پیدا کریں تاکہ اِس کے ذریعے آپ بڑھتے بڑھتے نجات حاصل کر سکیں 3 کیونکہ آپ نے دیکھا* ہے کہ ہمارا مالک مہربان ہے۔
4 وہ ایک زندہ پتھر ہے۔ اِنسانوں نے تو اُسے ٹھکرا دیا لیکن خدا نے اُسے چُنا ہے اور اُسے قیمتی خیال کرتا ہے۔ جوںجوں آپ اُس کے پاس آتے ہیں، 5 آپ کو زندہ پتھروں کے طور پر ایک روحانی گھر میں لگایا جاتا ہے تاکہ آپ کاہنوں کی مُقدس جماعت بن جائیں اور یسوع مسیح کے ذریعے ایسی روحانی قربانیاں پیش کریں جن سے خدا خوش ہو۔ 6 کیونکہ صحیفوں میں لکھا ہے کہ ”دیکھو! مَیں صیون میں ایک چُنا ہوا پتھر رکھ رہا ہوں۔ یہ کونے کا بنیادی پتھر ہے اور بہت ہی قیمتی ہے۔ جو بھی اِس پر ایمان رکھے گا، وہ کبھی مایوس* نہیں ہوگا۔“
7 وہ پتھر آپ کی نظر میں قیمتی ہے کیونکہ آپ ایمان رکھتے ہیں لیکن وہ اُن لوگوں کی نظر میں قیمتی نہیں ہے جو ایمان نہیں رکھتے کیونکہ لکھا ہے کہ ”جس پتھر کو مزدوروں نے ٹھکرا دیا، وہ کونے کا سب سے اہم پتھر* بن گیا“ 8 اور ”ایسا پتھر جس سے ٹھوکر لگے اور ایسی چٹان جو رُکاوٹ بنے۔“ اُن لوگوں کو اِس لیے ٹھوکر لگتی ہے کیونکہ وہ خدا کے کلام پر عمل نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کا انجام یہی ہے۔ 9 لیکن آپ ”ایک چُنی ہوئی نسل، کاہنوں کی شاہی جماعت، ایک مُقدس اُمت اور ایک ایسی قوم ہیں جو خدا کی خاص ملکیت ہے تاکہ آپ اُس کی عظیم صفات* کا چرچا کریں۔“ اُسی نے آپ کو تاریکی سے اپنی شاندار روشنی میں بلایا ہے۔ 10 کیونکہ ایک زمانے میں آپ خدا کی قوم نہیں تھے لیکن اب آپ خدا کی قوم ہیں۔ ایک زمانے میں آپ پر رحم نہیں کِیا گیا لیکن اب آپ پر رحم کِیا گیا ہے۔
11 عزیز بھائیو، آپ پردیسی اور مسافر ہیں اِس لیے مَیں آپ کی حوصلہافزائی کرتا ہوں کہ اپنی اُن جسمانی خواہشوں سے باز رہیں جو آپ* سے جنگ لڑتی ہیں۔ 12 غیرایمان والوں کے سامنے اچھا چالچلن برقرار رکھیں تاکہ جب وہ آپ پر بُرے ہونے کا اِلزام لگائیں تو آپ کے اچھے کاموں کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور اُس دن خدا کی بڑائی کریں جب وہ اِنسانوں کو پرکھے گا۔
13 مالک کی خاطر ہر اِنسانی نظام کے تابع رہیں، چاہے بادشاہ ہو کیونکہ اُس کا مرتبہ اُونچا ہے، 14 چاہے حاکم ہوں جن کو بادشاہ نے بھیجا ہے تاکہ بُرے کام کرنے والوں کو سزا دیں اور اچھے کام کرنے والوں کی تعریف کریں۔ 15 خدا یہی چاہتا ہے کہ آپ اچھے کام کر کے اُن ناسمجھ آدمیوں کا مُنہ بند کر دیں* جو بےبنیاد باتیں کرتے ہیں۔ 16 آپ آزاد ہیں لیکن اپنی آزادی کو بُرے کام کرنے کا بہانہ* نہ بنائیں بلکہ اِسے خدا کے غلاموں کے طور پر اِستعمال کریں۔ 17 ہر طرح کے لوگوں کی عزت کریں، تمام ہمایمانوں* سے محبت کریں، خدا سے ڈریں، بادشاہ کا احترام کریں۔
18 نوکر اپنے مالکوں کے تابعدار ہوں اور اُن کا بھرپور احترام کریں۔ صرف اُن مالکوں کے ساتھ ایسا رویہ نہ رکھیں جو اچھے اور نرممزاج ہیں بلکہ اُن کے ساتھ بھی جنہیں خوش کرنا مشکل ہے۔ 19 کیونکہ اگر کوئی شخص خدا کے سامنے صاف ضمیر رکھنے کی وجہ سے مشکلات* برداشت کرتا اور نااِنصافیاں سہتا ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ 20 کیونکہ اگر آپ گُناہ کرنے کی وجہ سے مارپیٹ برداشت کرتے ہیں تو اِس میں فخر کی کون سی بات ہے؟ لیکن اگر آپ اِس لیے مشکلات برداشت کرتے ہیں کیونکہ آپ اچھے کام کرتے ہیں تو یہ خدا کے نزدیک اچھی بات ہے۔
21 اِسی لیے تو آپ کو بلایا گیا ہے۔ کیونکہ مسیح نے بھی آپ کے لیے تکلیف سہی اور یوں آپ کے لیے مثال چھوڑی تاکہ آپ اُس کے نقشِقدم پر چلیں۔ 22 اُس نے کوئی گُناہ نہیں کِیا اور اُس کے مُنہ میں کوئی فریب نہیں پایا گیا۔ 23 جب اُس کی بےعزتی کی گئی تو اُس نے بدلے میں بےعزتی نہیں کی۔ جب اُسے اذیت دی گئی تو اُس نے دھمکی نہیں دی بلکہ اپنے آپ کو اُس کے سپرد کِیا جو راستی سے اِنصاف کرتا ہے۔ 24 وہ ہمارے گُناہوں کو اپنے جسم میں سُولی* پر لے گیا تاکہ ہم گُناہ کے لحاظ سے مر جائیں لیکن نیکی کرنے کے لیے جئیں۔ اور آپ نے ”اُس کے زخموں کی وجہ سے شفا پائی“ 25 کیونکہ آپ ایسی بھیڑوں کی طرح تھے جو بھٹک رہی تھیں لیکن اب آپ اپنے* چرواہے اور نگہبان کے پاس لوٹ آئے ہیں۔
3 بیویو، آپ اپنے شوہر کی تابعدار ہوں تاکہ اگر آپ کا شوہر کلام کو نہیں مانتا تو آپ اُسے بغیر کسی لفظ کے اپنے چالچلن سے قائل کر سکیں 2 کیونکہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھے گا کہ آپ کا چالچلن پاک ہے اور آپ اُس کا گہرا احترام بھی کرتی ہیں۔ 3 آپ کی خوبصورتی صرف باہر سے نہ ہو یعنی گندھے ہوئے بالوں سے اور سونے کے زیورات اور اچھے اچھے کپڑوں سے 4 بلکہ آپ کی خوبصورتی اندر سے ہو یعنی دل میں چھپے اِنسان سے جسے اُس پُرسکون اور نرم رویے* سے سجایا گیا ہے جو پائیدار ہے اور خدا کی نظر میں بہت ہی قیمتی ہے۔ 5 قدیم زمانے کی مُقدس عورتیں جو خدا پر بھروسا رکھتی تھیں، وہ بھی خود کو اِسی طرح سجاتی تھیں یعنی وہ اپنے شوہر کی تابعداری کرتی تھیں، 6 بالکل ویسے ہی جیسے سارہ ابراہام کی فرمانبرداری کرتی تھیں اور اُن کو مالک کہہ کر پکارتی تھیں۔ اور آپ سارہ کی بیٹیاں ہیں بشرطیکہ آپ اچھے کام کرتی رہیں اور خوف کو خود پر غالب نہ آنے دیں۔
7 شوہرو، آپ بھی اپنی بیوی کے ساتھ رہتے ہوئے اُس کا لحاظ رکھیں۔* عورت مرد سے زیادہ نازک برتن ہے۔ اِس لیے اپنی بیوی کی عزت کریں کیونکہ وہ بھی آپ کی طرح زندگی کی نعمت کی وارث ہے ورنہ آپ کی دُعاؤں میں رُکاوٹ پیدا ہو جائے گی۔
8 آپ سب میں اِتفاق ہو،* ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ میں شریک ہوں، دوسروں سے شفقت اور ہمدردی سے پیش آئیں اور خاکساری سے کام لیں۔ 9 نقصان کے بدلے کسی کا نقصان نہ کریں اور بےعزتی کے بدلے کسی کی بےعزتی نہ کریں بلکہ نرمی سے پیش آئیں* کیونکہ آپ کو ایسا کرنے کے لیے بلایا گیا ہے تاکہ آپ ورثے میں برکت پائیں۔
10 کیونکہ ”جو زندگی سے محبت کرتا ہے اور اچھے دن دیکھنا چاہتا ہے، وہ اپنی زبان کو بُری باتیں کہنے اور اپنے ہونٹوں کو جھوٹ بولنے سے باز رکھے؛ 11 وہ بُرے کاموں سے دُور رہے اور اچھے کام کرے؛ وہ صلح کی خواہش رکھے اور اِس کی جستجو میں رہے 12 کیونکہ یہوواہ* کی آنکھیں نیک لوگوں پر ہیں اور اُس کے کان اُن کی اِلتجاؤں کو سنتے ہیں۔ لیکن یہوواہ* اُن کے خلاف ہے* جو بُرے کام کرتے ہیں۔“
13 اگر آپ شوق* سے اچھے کام کریں تو کون آپ کو نقصان پہنچائے گا؟ 14 لیکن اگر آپ کو نیک ہونے کی وجہ سے تکلیف دی بھی جائے تو آپ خوش ہوں گے۔ البتہ نہ تو اُن باتوں سے ڈریں جن سے لوگ ڈرتے ہیں* اور نہ ہی گھبرائیں۔ 15 دل میں مسیح کو مالک اور مُقدس سمجھ کر اُن لوگوں کو جواب دینے کے لیے ہر وقت تیار رہیں جو آپ کی اُمید کے بارے میں سوال کرتے ہیں لیکن ایسا کرتے وقت نرممزاجی سے کام لیں اور گہرا احترام ظاہر کریں۔
16 اپنا ضمیر صاف رکھیں تاکہ جو لوگ آپ کے خلاف بولتے ہیں، وہ یہ دیکھ کر شرمندہ ہو جائیں کہ مسیح کے پیروکار ہونے کی وجہ سے آپ کا چالچلن اچھا ہے۔ 17 اگر خدا کی مرضی ہے کہ آپ اچھے کام کرنے کی وجہ سے تکلیف اُٹھائیں تو یہ بُرے کام کرنے کی وجہ سے تکلیف اُٹھانے سے بہتر ہے۔ 18 کیونکہ مسیح نے بھی ایک ہی بار گُناہوں کے لیے جان دے دی یعنی ایک نیک آدمی گُناہگاروں کے لیے مر گیا تاکہ آپ کو خدا تک لے جائے۔ اُس کو اِنسان* کے طور پر مارا گیا لیکن روح کے طور پر زندہ کِیا گیا۔ 19 اور اُس نے اِس حالت میں جا کر اُن بُرے فرشتوں* کو مُنادی کی جو قید میں تھے 20 اور جنہوں نے نوح کے زمانے میں خدا کی نافرمانی کی۔ اُس زمانے میں خدا صبر سے اِنتظار کر رہا تھا اور اِس دوران ایک کشتی بنائی جا رہی تھی جس میں سوار ہو کر کچھ لوگ یعنی آٹھ جانیں پانی سے بچ گئیں۔
21 بپتسمہ بھی اِسی طرح ہے اور آپ کو بچا رہا ہے (جسم سے گندگی دُور کر کے نہیں بلکہ خدا سے اچھے ضمیر کی درخواست کر کے) کیونکہ آپ اِس بات پر ایمان لائے ہیں کہ یسوع مسیح کو مُردوں میں سے زندہ کِیا گیا ہے۔ 22 اب وہ خدا کی دائیں طرف ہیں کیونکہ وہ آسمان پر چلے گئے اور فرشتے اور حکمران اور طاقتیں اُن کے تابع کر دی گئیں۔
4 جب مسیح اِنسان تھا تو اُس نے اذیت اُٹھائی۔ اِس لیے آپ بھی اپنے آپ کو اُس جیسی سوچ* سے لیس کریں کیونکہ ہر وہ شخص جس نے اِنسان کے طور پر اذیت اُٹھائی ہے، گُناہ کرنے سے باز آ گیا ہے 2 تاکہ اپنی باقی زندگی اِنسانی خواہشوں کے لیے نہیں بلکہ خدا کی مرضی پر چلنے کے لیے جیئے۔ 3 کیونکہ آپ نے غیرایمان والوں کی مرضی پر چلنے میں جتنا وقت گزارا تھا، وہ کافی ہے۔ اُس وقت آپ ہٹدھرمی سے غلط کام* کرتے تھے، بےلگام نفسانی خواہشوں کے مطابق چلتے تھے، حد سے زیادہ شراب پیتے تھے، غیرمہذب دعوتوں اور شراب کی محفلوں میں شریک ہوتے تھے اور گھناؤنی بُتپرستی کرتے تھے۔ 4 لیکن اب آپ اُن کی طرح عیاشی کی زندگی نہیں گزار رہے ہیں اِس لیے وہ اُلجھن میں ہیں اور آپ کو بُرا بھلا کہتے ہیں۔ 5 مگر وہ اُس کے سامنے جوابدہ ٹھہرائے جائیں گے جو زندوں اور مُردوں کی عدالت کرے گا۔ 6 اِسی وجہ سے تو مُردوں کو بھی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ حالانکہ اُن کی عدالت اِنسان کے نقطۂنظر سے کی جاتی ہے لیکن وہ خدا کے نقطۂنظر سے زندہ ہیں اور روح کی ہدایت کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں۔
7 لیکن سب چیزوں کا خاتمہ نزدیک ہے۔ اِس لیے سمجھداری سے کام لیں اور دُعا کرنے کے لیے ہر وقت تیار* رہیں۔ 8 سب سے بڑھ کر دل کی گہرائی سے ایک دوسرے سے محبت رکھیں کیونکہ محبت بہت سے گُناہوں پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ 9 بڑبڑائے بغیر ایک دوسرے کی مہماننوازی کریں۔ 10 جس حد تک آپ کو کوئی نعمت* ملی ہے، اِسے ایک دوسرے کی خدمت کرنے کے لیے اِستعمال کریں کیونکہ آپ خدا کی اُس عظیم رحمت کے اچھے مختار ہیں جو مختلف طریقوں سے ظاہر ہوتی ہے۔ 11 اگر کوئی بولے تو خدا کے پیغام سنائے اور اگر کوئی خدمت کرے تو اُس طاقت کے سہارے کرے جو خدا دیتا ہے تاکہ ہر بات میں یسوع مسیح کے ذریعے خدا کی بڑائی ہو۔ اُس کی عظمت اور قدرت ہمیشہ ہمیشہ تک رہے۔ آمین۔
12 عزیزو، آپ کو شدید* آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن حیران نہ ہوں اور یہ نہ سوچیں کہ جو کچھ آپ کے ساتھ ہو رہا ہے، وہ کوئی انوکھی بات ہے۔ 13 اِس کی بجائے خوش ہوں کیونکہ آپ بھی مسیح کی طرح اذیت اُٹھا رہے ہیں تاکہ آپ تب بھی خوش ہوں بلکہ خوشی سے جھومیں جب یسوع مسیح کی شان ظاہر ہوگی۔ 14 اگر مسیح کے نام کی وجہ سے آپ کی بےعزتی کی جا رہی ہے تو خوش ہوں کیونکہ عظمت کی روح یعنی خدا کی روح آپ پر ہے۔
15 آپ میں سے کوئی اِس وجہ سے اذیت نہ اُٹھائے کہ وہ قاتل یا چور یا مُجرم ہے یا دوسروں کے معاملے میں دخل دیتا ہے۔ 16 لیکن اگر کوئی اِس لیے اذیت اُٹھائے کہ وہ مسیحی ہے تو شرمندگی محسوس نہ کرے بلکہ مسیحی کے طور پر زندگی گزارتا رہے اور خدا کی بڑائی کرتا رہے۔ 17 کیونکہ اب عدالت کا مقررہ وقت ہے اور یہ خدا کے گھر سے شروع ہو رہی ہے۔ اب اگر پہلے ہماری عدالت ہونی ہے تو اُن کا کیا انجام ہوگا جو خدا کی خوشخبری کو نہیں مانتے؟ 18 ”اور اگر نیک آدمی مشکل سے نجات پائیں گے تو بُرے اور گُناہگار آدمیوں کا کیا ہوگا؟“ 19 لہٰذا جو لوگ خدا کی مرضی پر چلنے کی وجہ سے اذیت اُٹھا رہے ہیں، وہ آئندہ بھی خود* کو اپنے وفادار خالق کے سپرد کرتے رہیں اور اچھے کام کرتے رہیں۔
5 چونکہ مَیں بھی ایک بزرگ ہوں اور مسیح کی اذیت کا گواہ ہوں اور اُس شان میں شریک ہوں جو ظاہر ہوگی اِس لیے مَیں بزرگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ 2 خدا کے اُس گلّے کی گلّہبانی کریں جو آپ کے سپرد کِیا گیا ہے۔ خدا کے حضور نگہبانوں کے طور پر خدمت کریں* لیکن مجبوری سے نہیں بلکہ خوشی سے؛ فائدہ حاصل کرنے کے لالچ سے نہیں بلکہ شوق سے؛ 3 خدا کی ملکیت پر حکم چلانے سے نہیں بلکہ گلّے کے لیے مثال قائم کرنے سے۔ 4 اور جب عظیم چرواہا ظاہر ہوگا تو آپ کو ایک شاندار تاج ملے گا جو کبھی خراب نہیں ہوگا۔
5 اِسی طرح جوان آدمی بھی بزرگوں کے تابع رہیں۔ آپ سب ایک دوسرے کے ساتھ خاکساری سے پیش آئیں* کیونکہ خدا مغروروں کی مخالفت کرتا ہے لیکن خاکساروں کو عظیم رحمت عطا کرتا ہے۔
6 اِس لیے خاکسار بنیں اور خدا کے زورآور ہاتھ کے نیچے رہیں تاکہ وقت آنے پر وہ آپ کو عزت دے۔ 7 اپنی ساری پریشانیاں اُس پر ڈال دیں کیونکہ اُس کو آپ کی فکر ہے۔ 8 ہوشوحواس قائم رکھیں! چوکس رہیں! آپ کا دُشمن، اِبلیس ایک دھاڑتے ہوئے ببر شیر کی طرح گھوم رہا ہے اور کسی کو پھاڑ کھانے کا موقع ڈھونڈ رہا ہے۔ 9 لیکن ڈٹ کر اُس کا مقابلہ کریں اور مضبوط ایمان رکھیں۔ یاد رکھیں کہ پوری دُنیا میں آپ کے ہمایمان* اِسی طرح کی مصیبتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ 10 مگر جب آپ تھوڑی دیر کے لیے تکلیف اُٹھا لیں گے تو خدا جو عظیم رحمت کا مالک ہے اور جس نے آپ کو مسیح کے ذریعے اپنی ابدی عظمت میں بلایا ہے، وہ آپ کی اچھی طرح تربیت کر لے گا۔ وہ آپ کو مضبوط بنائے گا۔ وہ آپ کو طاقت بخشے گا۔ وہ آپ کو قائم کرے گا۔ 11 اُس کی قدرت ہمیشہ تک رہے۔ آمین۔
12 مَیں نے سِلوانُس* کے ذریعے جو میرے نزدیک ایک وفادار بھائی ہیں، آپ کو یہ مختصر سا خط لکھا ہے تاکہ آپ کی حوصلہافزائی کروں اور خلوص سے گواہی دوں کہ یہی خدا کی عظیم رحمت ہے۔ اِس کے سائے میں رہیں۔ 13 وہ جو بابل میں ہے اور آپ کی طرح چُنی ہوئی ہے، آپ کو سلام کہہ رہی ہے۔ میرا بیٹا مرقس بھی آپ کو سلام بھیج رہا ہے۔ 14 گلے مل کر* ایک دوسرے کا خیرمقدم کریں اور یوں محبت ظاہر کریں۔
دُعا ہے کہ آپ سب جو مسیح میں متحد ہیں، سلامت رہیں۔
یا ”پاک“
یا ”خالص کِیا“
یونانی میں: ”اپنی جانوں کی نجات۔“
یونانی میں: ”اپنے ذہن کو کمربستہ کریں“
یونانی میں: ”سونے اور چاندی کے فدیے کے ذریعے چھڑائے نہیں گئے“
یا ”برّے“
یونانی میں: ”اپنی جانوں“
یعنی ایسا بیج جو پھل لائے یا جس کے ذریعے نسل آگے بڑھے۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”چکھا“
یونانی میں: ”شرمندہ“
یونانی میں: ”کونے کا سر“
یعنی شاندار خوبیاں اور کام
یونانی میں: ”جان“
یونانی میں: ”مُنہ باندھ دیں“
یونانی میں: ”پردہ“
یونانی میں: ”پوری برادری“
یا ”دُکھ؛ تکلیف“
یا ”درخت۔“ ”الفاظ کی وضاحت“ میں ”سُولی“ کو دیکھیں۔
یونانی میں: ”اپنی جانوں کے“
یونانی میں: ”روح“
یا ”اُس کو سمجھنے کی کوشش کریں۔“
یا ”آپ سب ہمخیال ہوں“
یونانی میں: ”برکت دیں“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یونانی میں: ”یہوواہ کا چہرہ اُن کے خلاف ہے“
یا ”جوش“
یا شاید ”نہ تو لوگوں کی دھمکیوں سے ڈریں“
یونانی میں: ”گوشت پوست“
یونانی میں: ”روحوں“
یا ”عزم؛ ذہنی رُجحان“
یا ”بےشرمی سے غلط کام۔“ یونانی لفظ: ”اسیلگیا۔“ ”الفاظ کی وضاحت“ میں ”ہٹدھرم چالچلن“ کو دیکھیں۔
یا ”چوکس؛ بیدار“
یا ”صلاحیت“
یونانی میں: ”آتشی“
یونانی میں: ”اپنی جانوں“
یا ”بڑے دھیان سے گلّے کی دیکھبھال کریں“
یونانی میں: ”خاکساری کی پیٹی باندھیں“
یونانی میں: ”آپ کی برادری“
یعنی سیلاس
یونانی میں: ”بوسہ دے کر“