یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ت‌ن‌د عبرانیوں 1:‏1-‏13:‏25
  • عبرانیوں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • عبرانیوں
  • کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
عبرانیوں

عبرانیوں کے نام خط

1 بہت عرصہ پہلے خدا نے بہت سے موقعوں پر اور بہت سے طریقوں سے اپنے نبیوں کے ذریعے ہمارے باپ‌دادا سے بات کی۔ 2 لیکن اِس زمانے کے آخر میں اُس نے ایک بیٹے کے ذریعے ہم سے بات کی جسے اُس نے سب چیزوں کا وارث مقرر کِیا اور جس کے ذریعے اُس نے مختلف نظام*‏ بنائے۔ 3 وہ خدا کی شان کا عکس ہے اور ہوبہو اُس کی طرح ہے۔ وہ اپنے طاقت‌ور کلام کے ذریعے سب چیزوں کو قائم رکھتا ہے۔ اُس نے ہمیں گُناہوں سے پاک کِیا اور پھر آسمان پر عظیم خدا کی دائیں طرف جا بیٹھا۔ 4 اُس کو ورثے میں ایک ایسا نام ملا جو فرشتوں کے نام سے اعلیٰ ہے اِس لیے وہ اُن سے بڑا بن گیا۔‏

5 مثال کے طور پر کیا خدا نے کبھی کسی فرشتے سے کہا کہ ”‏تُم میرے بیٹے ہو۔ آج سے مَیں تمہارا باپ ہوں“‏؟ اور یہ بھی کہ ”‏مَیں اُس کا باپ بنوں گا اور وہ میرا بیٹا بنے گا“‏؟ 6 اور جب وہ اپنے پہلوٹھے بیٹے کو دوبارہ دُنیا میں بھیجے گا تو وہ کہے گا:‏ ”‏خدا کے تمام فرشتے جھک کر اُس کی تعظیم کریں۔“‏

7 اور وہ فرشتوں کے بارے میں کہتا ہے:‏ ”‏وہ اپنے فرشتوں کو روحیں بناتا ہے اور اپنے خادموں کو آگ کے شعلے۔“‏ 8 لیکن بیٹے کے بارے میں وہ کہتا ہے:‏ ”‏خدا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تمہارا تخت ہے اور تمہاری بادشاہت کا عصا راستی*‏ کا عصا ہے۔ 9 تمہیں نیکی سے محبت تھی اور بُرائی سے نفرت۔ اِسی لیے خدا، ہاں، تمہارے خدا نے تمہیں تیل سے مسح*‏ کِیا اور تمہیں اپنے ساتھیوں سے زیادہ خوشی بخشی۔“‏ 10 اور یہ بھی لکھا ہے کہ ”‏اَے مالک، تُو نے شروع میں زمین کی بنیاد ڈالی اور آسمان تیری کاریگری ہے۔ 11 وہ تو ختم ہو جائیں گے لیکن تُو ہمیشہ قائم رہے گا۔ وہ سب ایک کپڑے کی طرح گھس جائیں گے۔ 12 تُو اُن کو ایک کپڑے بلکہ ایک چادر کی طرح تہہ کرے گا اور وہ تبدیل کیے جائیں گے۔ لیکن تُو لاتبدیل ہے اور تیری زندگی کبھی ختم نہیں ہوگی۔“‏

13 مگر کیا خدا نے کبھی کسی فرشتے کے بارے میں کہا:‏ ”‏میری دائیں طرف بیٹھو جب تک کہ مَیں تمہارے دُشمنوں کو تمہارے پاؤں کی چوکی کی طرح نہ کر دوں“‏؟ 14 کیا وہ سب مُقدس خدمت کرنے والی روحیں نہیں جن کو اُن لوگوں کی خدمت کے لیے بھیجا گیا ہے جو ورثے میں نجات پائیں گے؟‏

2 اِس لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اُن باتوں پر اَور بھی زیادہ توجہ دیں جو ہم نے سنی ہیں تاکہ ہم کبھی ایمان سے دُور نہ ہوں۔ 2 بے‌شک وہ کلام اٹل تھا جو فرشتوں کے ذریعے پہنچایا گیا تھا اور جو شخص اِس کی خلاف‌ورزی اور نافرمانی کرتا تھا، اُس کو اِنصاف کے تقاضوں کے مطابق سزا ملتی تھی۔ 3 لہٰذا اگر ہم اپنی شان‌دار نجات کو نظر انداز کریں گے تو ہم سزا سے کیسے بچیں گے؟ کیونکہ اِس نجات کا ذکر سب سے پہلے ہمارے مالک نے کِیا اور جن لوگوں نے اُن کی بات سنی، اُنہوں نے ہماری خاطر اِس کی تصدیق کی۔ 4 اور خدا نے بھی نشانیوں، معجزوں اور حیرت‌انگیز کاموں کے ذریعے اور اپنی مرضی کے مطابق پاک روح تقسیم کرنے سے اِس بات کی تصدیق کی۔‏

5 کیونکہ خدا نے اُس آنے والی دُنیا کو فرشتوں کے تابع نہیں کِیا جس کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں 6 بلکہ ایک گواہ نے لکھا:‏ ”‏اِنسان کیا ہے کہ تُو اُسے یاد رکھے اور اِنسان کا بیٹا کیا ہے کہ تُو اُس کا خیال رکھے؟ 7 تُو نے اُسے فرشتوں سے تھوڑا کم‌تر کر دیا۔ تُو نے اُسے شان اور عظمت کا تاج پہنایا اور اُسے اپنی ساری دست‌کاریوں پر مقرر کِیا۔ 8 تُو نے ساری چیزیں اُس کے پاؤں تلے کر دیں۔“‏ جب خدا نے ساری چیزیں اُس کے تابع کر دیں تو کوئی ایسی چیز نہیں رہی جو اُس کے تابع نہ ہو۔ مگر ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ابھی ساری چیزیں اُس کے تابع نہیں ہوئی ہیں۔ 9 لیکن ہم جانتے ہیں کہ یسوع کو شان اور عظمت کا تاج پہنایا گیا ہے کیونکہ اُنہوں نے موت سہی۔ اُن کو فرشتوں سے تھوڑا کم‌تر کر دیا گیا تاکہ وہ خدا کی عظیم رحمت کے ذریعے سب لوگوں کے لیے موت کا مزہ چکھیں۔‏

10 کیونکہ خدا جس کی خاطر اور جس کے ذریعے ساری چیزیں بنی ہیں، بہت سے بیٹوں کو شان‌دار رُتبہ عطا کرنا چاہتا تھا۔ اِس لیے مناسب تھا کہ وہ اُن کی نجات کے عظیم پیشوا کو کامل بنانے کے لیے اُسے تکلیف اُٹھانے دے۔ 11 کیونکہ جو پاک*‏ کر رہا ہے اور جو پاک*‏ کیے جا رہے ہیں، وہ سب ایک ہی باپ سے ہیں۔ اِسی وجہ سے پاک کرنے والا اُنہیں بھائی کہنے میں شرمندگی محسوس نہیں کرتا 12 کیونکہ اُس نے کہا:‏ ”‏مَیں اپنے بھائیوں کے سامنے تیرے نام کا اِقرار کروں گا۔ مَیں جماعت*‏ میں تیری حمد کے گیت گاؤں گا۔“‏ 13 اور یہ بھی کہ ”‏مَیں اُس پر بھروسا کروں گا“‏ اور یہ بھی کہ ”‏دیکھو!‏ مَیں اور وہ چھوٹے بچے جو یہوواہ*‏ نے مجھے دیے۔“‏

14 اب جبکہ ”‏چھوٹے بچے“‏ گوشت پوست کے ہیں تو وہ بھی گوشت پوست کا اِنسان بنا تاکہ وہ اپنی موت کی بِنا پر اِبلیس کو ختم کر سکے جو موت لا سکتا ہے 15 اور اُن سب کو آزاد کرا سکے جنہوں نے موت کے ڈر سے ساری زندگی غلامی میں گزاری ہے۔ 16 کیونکہ اصل میں وہ فرشتوں کی نہیں بلکہ ابراہام کی نسل کی مدد کر رہا ہے۔ 17 لہٰذا اُسے ہر لحاظ سے اپنے ”‏بھائیوں“‏ کی طرح بننا پڑا تاکہ وہ خدا کی خدمت کے سلسلے میں ایک رحیم اور وفادار کاہنِ‌اعظم بن سکے اور لوگوں کے گُناہوں کے لیے کفارے کی قربانی پیش کر سکے۔ 18 اُس نے آزمائش سے گزرتے وقت تکلیف اُٹھائی اِس لیے وہ اُن کی مدد کو آ سکتا ہے جو آزمائش سے گزر رہے ہیں۔‏

3 لہٰذا مُقدس بھائیو، آپ جو آسمانی بلا‌وے*‏ میں شریک ہیں، اُس رسول اور کاہنِ‌اعظم پر یعنی یسوع پر غور کریں جسے ہم مانتے*‏ ہیں۔ 2 وہ خدا کے وفادار تھے جس نے اُن کو مقرر کِیا، بالکل ویسے ہی جیسے موسیٰ خدا کے گھر*‏ میں وفادار تھے۔ 3 اُن کو موسیٰ کی نسبت زیادہ عزت کے لائق ٹھہرایا گیا کیونکہ جو گھر بناتا ہے، وہ گھر سے زیادہ عزت رکھتا ہے۔ 4 ظاہری بات ہے کہ ہر گھر کو کسی نے بنایا ہے لیکن سب چیزوں کو خدا نے بنایا ہے۔ 5 اب موسیٰ خدا کے پورے گھر میں خادم کے طور پر وفادار رہے اور اُنہوں نے اپنی خدمت سے اُن چیزوں کے بارے میں گواہی دی جو آئندہ ظاہر ہونی تھیں۔ 6 لیکن مسیح خدا کے گھر کی نگرانی کرنے میں بیٹے کے طور پر وفادار رہا۔ ہم خدا کا گھر ہیں بشرطیکہ ہم آخر تک دلیری سے بات کرتے رہیں اور اُس اُمید کو مضبوطی سے تھامے رکھیں جس پر ہم فخر کرتے ہیں۔‏

7 اِس لیے پاک روح نے کہا:‏ ”‏آج جب تُم میری آواز سنو 8 تو اپنے دلوں کو سخت نہ کرو جیسا کہ اُس موقعے پر ہوا جب مجھے شدید غصہ دِلایا گیا اور اُس دن جب ویرانے میں میرا اِمتحان لیا گیا، 9 ہاں، جب تمہارے باپ‌دادا نے میرا اِمتحان لیا اور مجھے آزمایا حالانکہ اُنہوں نے 40 (‏چالیس)‏ سال تک میرے کام دیکھے۔ 10 اِس وجہ سے مَیں اُس پُشت سے کوفت محسوس کرنے لگا اور مَیں نے کہا:‏ ”‏اُن کے دل ہمیشہ گمراہ ہوتے ہیں اور اُنہوں نے میری راہوں کو نہیں جانا۔“‏ 11 لہٰذا مَیں نے غصے میں قسم کھائی کہ ”‏وہ میرے آرام میں شامل نہیں ہوں گے۔“‏ “‏

12 بھائیو، خبردار رہیں کہ آپ زندہ خدا سے مُنہ نہ پھیر لیں اور اِس کی وجہ سے آپ کے دل بُرے نہ ہو جائیں اور آپ میں ایمان نہ رہے۔ 13 اِس کی بجائے جب تک کہ ”‏آج“‏ ہے، ہر دن ایک دوسرے کی حوصلہ‌افزائی کرتے رہیں تاکہ آپ میں سے کسی کا دل گُناہ کی دھوکاباز کشش سے سخت نہ ہو جائے۔ 14 کیونکہ ہم صرف تبھی مسیح کے شریک بنیں گے جب ہم اُس اِعتماد کو آخر تک تھامے رکھیں گے جو شروع میں ہم میں تھا۔ 15 جیسا کہ کہا گیا تھا:‏ ”‏آج جب تُم میری آواز سنو تو اپنے دلوں کو سخت نہ کرو جیسا کہ اُس موقعے پر ہوا جب مجھے شدید غصہ دِلایا گیا۔“‏

16 وہ کون تھے جنہوں نے اُس کی آواز سنی لیکن پھر بھی اُس کو شدید غصہ دِلایا؟ کیا یہ وہ سب نہیں تھے جو موسیٰ کی رہنمائی میں مصر سے نکل آئے؟ 17 اور خدا نے کن سے 40 (‏چالیس)‏ سال تک کوفت محسوس کی؟ کیا اُن لوگوں سے نہیں جنہوں نے گُناہ کِیا، جن کی لاشیں ویرانے میں پڑی رہیں؟ 18 اور اُس نے کن سے قسم کھائی کہ وہ اُس کے آرام میں شامل نہیں ہوں گے؟ کیا اُن سے نہیں جنہوں نے نافرمانی کی؟ 19 لہٰذا ہم اِس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ وہ اِس لیے اُس کے آرام میں شامل نہیں ہو سکے کیونکہ اُن میں ایمان نہیں رہا تھا۔‏

4 چونکہ ابھی بھی خدا کے آرام میں شامل ہونے کا وعدہ موجود ہے اِس لیے آئیں، خبردار رہیں،‏*‏ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم میں سے کوئی اِس آرام میں شامل ہونے کے لائق نہ ٹھہرے۔ 2 کیونکہ ہمیں بھی خوش‌خبری سنائی گئی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے ہمارے باپ‌دادا کو سنائی گئی تھی۔ لیکن اُنہوں نے سنی ہوئی باتوں سے فائدہ حاصل نہیں کِیا کیونکہ اُن میں ویسا ایمان نہیں تھا جیسا فرمانبردار لوگوں میں تھا۔ 3 کیونکہ ہم جو ایمان کے مطابق چلتے ہیں، اُس آرام میں شامل ہوتے ہیں جس کے بارے میں اُس نے کہا تھا:‏ ”‏لہٰذا مَیں نے غصے میں قسم کھائی کہ ”‏وہ میرے آرام میں شامل نہیں ہوں گے“‏ “‏ جبکہ اُس کے کام تو اُس وقت ختم ہو چکے تھے جب دُنیا کی بنیاد ڈالی گئی تھی۔ 4 کیونکہ اُس نے ایک صحیفے میں ساتویں دن کے بارے میں کہا:‏ ”‏خدا نے اپنے سارے کام کر کے ساتویں دن آرام کِیا۔“‏ 5 اُس نے یہ بھی کہا کہ ”‏وہ میرے آرام میں شامل نہیں ہوں گے۔“‏

6 جن لوگوں کو سب سے پہلے خوش‌خبری سنائی گئی، وہ اِس آرام میں شامل نہیں ہوئے کیونکہ وہ نافرمان تھے لیکن کچھ لوگ ابھی بھی اِس میں شامل ہو سکتے ہیں۔ 7 اِس لیے اُس نے بڑے عرصے بعد داؤد کے زبور میں ”‏آج“‏ کہہ کر ایک دن مقرر کِیا جس کا مَیں پہلے ذکر کر چُکا ہوں یعنی ”‏آج جب تُم میری آواز سنو تو اپنے دلوں کو سخت نہ کرو۔“‏ 8 کیونکہ اگر وہ یشوع کی رہنمائی میں اُس آرام میں شامل ہو جاتے تو خدا بعد میں ایک اَور دن کا ذکر نہ کرتا۔ 9 لہٰذا خدا کے بندوں کے لیے ابھی بھی سبت کے دن جیسا آرام موجود ہے۔ 10 کیونکہ جو شخص خدا کے آرام میں شامل ہوتا ہے، وہ اپنے کام ختم کر کے آرام کرتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے خدا نے کِیا۔‏

11 اِس لیے آئیں، اُس آرام میں شامل ہونے کی پوری کوشش کریں تاکہ ہم میں سے کوئی اُن کی طرح نافرمانی نہ کرنے لگے۔ 12 کیونکہ خدا کا کلام زندہ اور مؤثر ہے اور کسی بھی دو دھاری تلوار سے زیادہ تیز ہے اور جسم کو چھیدتا ہے اور جان*‏ اور روح*‏ کو اور ہڈیوں*‏ اور گودے کو ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے اور دل کے خیالوں اور اِرادوں کو جانچتا ہے۔ 13 اور کوئی ایسی چیز نہیں جو اُس کی نظر سے چھپی ہے بلکہ جس کو ہم نے حساب دینا ہے، اُس کی نظر میں ساری چیزیں واضح اور بے‌پردہ ہیں۔‏

14 چونکہ ہمارا کاہنِ‌اعظم یعنی خدا کا بیٹا یسوع جو آسمان میں داخل ہوا، بہت عظیم ہے اِس لیے آئیں، سب کے سامنے اُس کا اِقرار کرتے رہیں۔ 15 کیونکہ ہمارا کاہنِ‌اعظم ایسا نہیں کہ ہماری کمزوریوں کو نہ سمجھے بلکہ وہ ہر لحاظ سے ہماری طرح آزمایا گیا لیکن گُناہ سے پاک رہا۔ 16 لہٰذا آئیں، اُس خدا کے تخت کے سامنے بِلاجھجک حاضر ہوں جو عظیم رحمت کا مالک ہے تاکہ ہم پر رحم کِیا جائے اور ہمیں ضرورت کے وقت رحمت عطا کی جائے۔‏

5 کیونکہ ہر کاہنِ‌اعظم جسے آدمیوں میں سے چُنا جاتا ہے، اُسے اِس لیے مقرر کِیا جاتا ہے کہ لوگوں کی خاطر خدا کی خدمت کرے اور نذرانے دے اور گُناہوں کی قربانیاں چڑھائے۔ 2 وہ ناسمجھ اور خطاکار لوگوں کے ساتھ دردمندی*‏ سے پیش آتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ خود بھی خطاکار ہے۔ 3 اِس لیے وہ نہ صرف لوگوں کے گُناہوں کے لیے قربانی چڑھاتا ہے بلکہ اپنے گُناہوں کے لیے بھی۔‏

4 ایک آدمی اپنی مرضی سے اِس مُعزز عہدے پر فائز نہیں ہوتا بلکہ خدا اُسے چُنتا ہے اور یہ عہدہ دیتا ہے جیسے اُس نے ہارون کو دیا تھا۔ 5 اِسی طرح مسیح نے بھی اپنی مرضی سے کاہنِ‌اعظم کا مُعزز عہدہ نہیں سنبھالا بلکہ خدا نے اُس کو عزت دی جس نے کہا:‏ ”‏تُم میرے بیٹے ہو۔ آج سے مَیں تمہارا باپ ہوں۔“‏ 6 اُس نے ایک اَور صحیفے میں یہ بھی کہا:‏ ”‏تُم مَلکی‌صدق جیسے کاہن ہو اور ہمیشہ رہو گے۔“‏

7 جب مسیح زمین پر تھا تو اُس نے آنسو بہا بہا کر اور دُہائیاں دے دے کر اُس کے سامنے اِلتجائیں اور درخواستیں کیں جو اُسے موت سے بچا سکتا تھا اور خوفِ‌خدا کی وجہ سے اُس کی سنی گئی۔ 8 حالانکہ وہ بیٹا تھا تو بھی اُس نے تکلیفیں سہہ کر فرمانبرداری سیکھی۔ 9 اور جب وہ کامل بن گیا تو اُسے اُن سب کو ابدی نجات دِلانے کی ذمے‌داری دی گئی جو اُس کا کہنا مانتے ہیں 10 کیونکہ خدا نے اُسے مَلکی‌صدق کی طرح کاہنِ‌اعظم مقرر کِیا۔‏

11 ہمیں مسیح کے بارے میں اَور بھی بہت کچھ کہنا ہے لیکن اِسے سمجھانا آسان نہیں کیونکہ آپ سننے*‏ میں سُستی کرنے لگے ہیں۔ 12 اب تک*‏ تو آپ کو اُستاد بن جانا چاہیے تھا لیکن آپ ٹھوس غذا کھانے کی بجائے دوبارہ سے دودھ پینے لگے ہیں اور اب پھر سے ضرورت ہے کہ آپ کو خدا کے کلام کی بنیادی باتیں سمجھائی جائیں 13 کیونکہ جو شخص بس دودھ پیتا ہے، وہ نیکی کے کلام سے ناواقف ہے کیونکہ وہ چھوٹا بچہ ہے۔ 14 لیکن ٹھوس غذا پُختہ لوگوں کے لیے ہوتی ہے یعنی اُن لوگوں کے لیے جو اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو اِستعمال کر کے اِسے تیز کرتے ہیں تاکہ اچھے اور بُرے میں تمیز کر سکیں۔‏

6 اِس لیے اب جبکہ ہم مسیح کے متعلق اِبتدائی تعلیمات سے آگے بڑھ گئے ہیں، آئیں، پختگی کی طرف بڑھیں اور بنیادی باتوں کو نئے سرے سے نہ سیکھیں*‏ یعنی مُردہ کاموں سے توبہ کرنے، خدا پر ایمان لانے، 2 دوسروں پر ہاتھ رکھنے، مُردوں کے زندہ ہونے، بپتسموں اور خدا کے ابدی فیصلوں کی تعلیم۔ 3 اور اگر خدا نے چاہا تو ہم ضرور آگے بڑھیں گے۔‏

4 لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں جن کو خدا نے سمجھ عطا کی، جو پاک روح کے شریک بنے اور جنہوں نے آسمانی نعمت، 5 خدا کے عمدہ کلام اور آنے والے زمانے کی برکتوں*‏ کا مزہ چکھا 6 لیکن وہ گمراہ ہو گئے ہیں۔ اِن لوگوں کو توبہ کی ترغیب دینا ناممکن ہے کیونکہ وہ خدا کے بیٹے کو اپنے لیے دوبارہ سے سُولی*‏ پر چڑھاتے ہیں اور اُسے سب کے سامنے رسوا کرتے ہیں۔ 7 کیونکہ جب بار بار بارش ہوتی ہے اور زمین اِسے جذب کر کے کاشت‌کاروں کے لیے اچھی فصل پیدا کرتی ہے تو خدا اِسے برکت دیتا ہے۔ 8 لیکن اگر زمین کانٹے‌دار جھاڑیاں پیدا کرتی ہے تو یہ بے‌کار ہے اور جلد ہی اِس پر لعنت کی جائے گی اور آخرکار اِسے جلا دیا جائے گا۔‏

9 حالانکہ ہم یہ باتیں کہہ رہے ہیں لیکن عزیزو، ہمیں پورا یقین ہے کہ آپ ایسے نہیں ہیں کیونکہ آپ کے پاس وہ چیزیں ہیں جو نجات تک پہنچاتی ہیں۔ 10 کیونکہ خدا بے‌اِنصاف نہیں ہے۔ وہ اُس محنت اور محبت کو نہیں بھولے گا جو آپ نے مُقدسوں کی خدمت کر کے اُس کے نام کے لیے ظاہر کی ہے اور اب بھی کر رہے ہیں۔ 11 لیکن ہم چاہتے ہیں کہ آپ میں سے ہر ایک ایسا ہی جذبہ ظاہر کرے تاکہ آپ کو آخر تک پکا یقین ہو کہ آپ کی اُمید پوری ہوگی 12 اور آپ سُست نہ ہو جائیں بلکہ اُن لوگوں کی مثال پر عمل کریں جو اپنے ایمان اور صبر کی وجہ سے وعدوں کے وارث ہیں۔‏

13 کیونکہ جب خدا نے ابراہام سے وعدہ کِیا تو اُس نے اپنی ہی قسم کھائی (‏کیونکہ اُس سے بڑا کوئی نہیں جس کی وہ قسم کھا سکے)‏ 14 اور کہا:‏ ”‏مَیں تمہیں ضرور برکت دوں گا اور تمہیں ضرور کثرت سے اولاد بخشوں گا۔“‏ 15 ابراہام نے کچھ عرصے کے لیے صبر کِیا پھر اُن سے یہ وعدہ کِیا گیا۔ 16 کیونکہ لوگ اپنے سے بڑے کی قسم کھاتے ہیں اور اِس طرح بحث‌وتکرار نہیں ہوتی کیونکہ اُن کی قسم ایک قانونی ضمانت ہوتی ہے۔ 17 اِسی طرح جب خدا نے فیصلہ کِیا کہ وہ وعدے کے وارثوں پر صاف ظاہر کرے گا کہ اُس کا اِرادہ بدل نہیں سکتا تو اُس نے قسم کھا کر اِس کی ضمانت دی۔ 18 اِن دو لاتبدیل چیزوں کے متعلق خدا جھوٹ نہیں بول سکتا۔ اور اِنہی کے ذریعے ہم جو خدا کی پناہ میں بھاگ گئے ہیں، اُس اُمید کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کی بھرپور حوصلہ‌افزائی پاتے ہیں جو ہمارے سامنے ہے۔ 19 یہ اُمید ہماری جانوں کے لیے ایک لنگر کی طرح ہے۔ یہ مضبوط اور قابلِ‌بھروسا ہے اور ہمیں پردے کے اُس پار لے جاتی ہے 20 جہاں ایک پہل‌کار ہماری خاطر داخل ہوا یعنی یسوع جو مَلکی‌صدق جیسے کاہنِ‌اعظم بن گئے اور ہمیشہ رہیں گے۔‏

7 کیونکہ مَلکی‌صدق جو سالم کے بادشاہ اور خدا تعالیٰ کے کاہن تھے، اُس وقت ابراہام سے ملنے گئے جب ابراہام بادشاہوں کو شکست دے کر آ رہے تھے۔ مَلکی‌صدق نے اُن کو برکت دی 2 اور ابراہام نے اُنہیں ہر چیز کا دسواں حصہ*‏ دیا۔ مَلکی‌صدق کے نام کا مطلب ”‏صداقت کا بادشاہ“‏ ہے اور وہ سالم کے بادشاہ یعنی ”‏سلامتی کے بادشاہ“‏ بھی ہیں۔ 3 اُن کے ماں باپ، اُن کے نسب‌نامے اور اُن کی زندگی کے آغاز اور اِختتام کے بارے میں کچھ پتہ نہیں بلکہ وہ خدا کے بیٹے کی طرح ہیں اور اِس لیے وہ ہمیشہ تک کاہن رہیں گے۔‏

4 دیکھیں، وہ کتنا عظیم آدمی تھا جسے ہمارے خاندان کے سربراہ ابراہام نے مالِ‌غنیمت کی سب سے اچھی چیزوں کا دسواں حصہ دیا۔ 5 یہ سچ ہے کہ لاوی کے جن بیٹوں کو کاہن کا عہدہ دیا جاتا ہے، اُنہیں شریعت کے مطابق حکم دیا گیا کہ وہ اپنی قوم سے یعنی اپنے بھائیوں سے دسواں حصہ اِکٹھا کریں حالانکہ یہ بھی ابراہام کی اولاد ہیں۔ 6 لیکن وہ آدمی جو لاوی کے قبیلے سے نہیں تھا، اُس نے ابراہام سے دسواں حصہ لیا اور اُس شخص کو برکت دی جس سے وعدے کیے گئے تھے۔ 7 اب اِس میں کوئی شک نہیں کہ بڑا، چھوٹے کو برکت دیتا ہے۔ 8 عام طور پر تو دسواں حصہ ایسے آدمیوں کو دیا جاتا ہے جو مرتے ہیں لیکن اِس موقعے پر یہ ایک ایسے شخص کو دیا گیا جس کے بارے میں گواہی دی گئی کہ وہ زندہ ہے۔ 9 یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ لاوی جنہیں دسواں حصہ دیا جاتا ہے، اُنہوں نے بھی ایک لحاظ سے ابراہام کے ذریعے دسواں حصہ دیا 10 کیونکہ جب مَلکی‌صدق، ابراہام سے ملے تو لاوی، ابراہام کی آنے والی اولاد تھے۔‏

11 اگر لاوی کے کاہنوں کے ذریعے کامل بننا ممکن ہوتا (‏کیونکہ کاہنوں کا عہدہ اُس شریعت کا ایک پہلو تھا جو ہماری قوم کو دی گئی تھی)‏ تو ایک ایسے کاہن کی کیا ضرورت ہوتی جو ہارون جیسا نہیں بلکہ مَلکی‌صدق جیسا ہو؟ 12 اب چونکہ کاہنوں کا عہدہ کسی اَور کو دیا جائے گا اِس لیے ضروری ہے کہ شریعت کو بھی تبدیل کِیا جائے۔ 13 کیونکہ جس آدمی کے بارے میں یہ باتیں کہی گئیں، وہ ایک اَور قبیلے سے ہے یعنی ایک ایسے قبیلے سے جس میں سے کسی نے کاہن کے طور پر قربانیاں نہیں چڑھائیں۔ 14 کیونکہ اِس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے مالک، یہوداہ کے قبیلے سے ہیں حالانکہ موسیٰ نے یہ نہیں کہا تھا کہ اِس قبیلے سے کاہن آئیں گے۔‏

15 اب جبکہ ایک نیا کاہن اُٹھا ہے جو مَلکی‌صدق جیسا ہے تو یہ بات اَور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ 16 وہ شریعت کی اِس شرط کی بِنا پر کاہن نہیں بنا کہ کاہن کسی خاص قبیلے سے ہو بلکہ وہ اُس قدرت کی بِنا پر کاہن بنا جو نہ ختم ہونے والی زندگی عطا کرتی ہے۔ 17 کیونکہ اُس کے بارے میں یہ گواہی دی گئی کہ ”‏تُم مَلکی‌صدق جیسے کاہن ہو اور ہمیشہ رہو گے۔“‏

18 لہٰذا پہلے والے حکموں کو ہٹا دیا گیا کیونکہ وہ کمزور اور بے‌اثر تھے۔ 19 کیونکہ شریعت نے کامل نہیں بنایا لیکن جس بہتر اُمید کے ذریعے ہم خدا کے قریب جاتے ہیں، وہ کامل بناتی ہے۔ 20 اور خدا نے قسم کھا کر یسوع کو کاہن مقرر کِیا 21 ‏(‏کچھ آدمی کاہن بن گئے حالانکہ اُن سے قسم نہیں کھائی گئی تھی جبکہ یسوع اُس قسم کی بِنا پر کاہن بنے جو خدا نے کھائی تھی جس نے کہا:‏ ”‏یہوواہ*‏ نے قسم کھائی کہ ”‏تُم ہمیشہ کاہن رہو گے“‏ اور وہ اپنا اِرادہ نہیں بدلے گا۔“‏)‏ 22 لہٰذا یسوع ایک بہتر عہد کی ضمانت بن گئے۔ 23 اِس کے علاوہ ایک کے بعد ایک آدمی کاہن بنا کیونکہ جب ایک کاہن مر جاتا تو وہ اپنی خدمت جاری نہ رکھ پاتا۔ 24 لیکن چونکہ یسوع ہمیشہ تک زندہ رہیں گے اِس لیے کسی اَور کو اُن کا عہدہ سنبھالنے کی ضرورت نہیں۔ 25 لہٰذا وہ اُن لوگوں کو مکمل نجات دِلا سکتے ہیں جو اُن کے ذریعے خدا سے دُعا کرتے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ زندہ ہیں اور ہمیشہ اِن لوگوں کے لیے اِلتجائیں کر سکتے ہیں۔‏

26 مناسب ہے کہ ہمارا ایسا کاہنِ‌اعظم ہو جو وفادار، بے‌گُناہ، پاک، گُناہ‌گاروں سے الگ اور آسمانوں سے اُونچا ہے۔ 27 باقی کاہنِ‌اعظموں کو پہلے تو اپنے لیے اور پھر دوسروں کے لیے ہر روز قربانیاں چڑھانی پڑیں۔ لیکن ہمارے کاہنِ‌اعظم کو ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اُس نے اپنے آپ کو قربان کر کے ایک ہی بار ہمیشہ کے لیے قربانی چڑھا دی۔ 28 کیونکہ شریعت کے ذریعے ایسے آدمیوں کو کاہنِ‌اعظم مقرر کِیا جاتا ہے جن میں کمزوریاں ہیں۔ لیکن شریعت کے بعد جو قسم کھائی گئی، اُس کے ذریعے ایک بیٹے کو مقرر کِیا گیا جسے ہمیشہ کے لیے کامل بنایا گیا ہے۔‏

8 ہم نے جو کچھ کہا ہے، اُس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارا ایسا ہی کاہنِ‌اعظم ہے۔ اور وہ آسمان پر عظیم خدا کے تخت کی دائیں طرف بیٹھ گیا ہے 2 اور مُقدس‌ترین خانے میں اور اُس حقیقی خیمے میں خادم ہے جسے کسی اِنسان نے نہیں بلکہ یہوواہ*‏ نے کھڑا کِیا ہے۔ 3 ہر کاہنِ‌اعظم کو نذرانے اور قربانیاں پیش کرنے کے لیے مقرر کِیا جاتا ہے اِس لیے ضروری تھا کہ ہمارا کاہنِ‌اعظم بھی کچھ پیش کرے۔ 4 اگر وہ زمین پر ہوتا تو وہ کاہن نہ ہوتا کیونکہ شریعت کے مطابق نذرانے پیش کرنے کے لیے پہلے سے آدمی مقرر ہیں۔ 5 اور اِن آدمیوں کی خدمت آسمانی چیزوں کی نقل اور سایہ ہے کیونکہ جب موسیٰ خیمے کو بنانے والے تھے تو خدا نے اُن کو یہ حکم دیا:‏ ”‏خیال رکھنا کہ تُم سب چیزوں کو اُس نمونے کے مطابق بناؤ جو تمہیں پہاڑ پر دِکھایا گیا تھا۔“‏ 6 لیکن یسوع کو اِن آدمیوں سے زیادہ اچھی خدمت دی گئی ہے کیونکہ وہ زیادہ اچھے عہد کے درمیانی ہیں جسے زیادہ اچھے وعدوں کی بِنا پر قانونی حیثیت دی گئی ہے۔‏

7 اگر پہلے عہد میں کمی نہ ہوتی تو دوسرے کی ضرورت نہ پڑتی۔ 8 اور چونکہ اُس نے دیکھا کہ لوگوں میں کمی ہے اِس لیے اُس نے کہا:‏ ”‏یہوواہ*‏ کہتا ہے کہ ”‏دیکھو!‏ وہ دن آ رہے ہیں جب مَیں اِسرائیل کے گھرانے اور یہوداہ کے گھرانے سے نیا عہد باندھوں گا۔ 9 یہ اُس عہد کی طرح نہیں ہوگا جو مَیں نے اُس دن اُن کے باپ‌دادا سے باندھا جب مَیں نے اُن کا ہاتھ پکڑا تاکہ اُن کو ملک مصر سے نکال لاؤں۔ لیکن چونکہ وہ میرے عہد پر قائم نہیں رہے اِس لیے مَیں نے اُن کو اُن کے حال پر چھوڑ دیا۔“‏ یہ یہوواہ*‏ فرماتا ہے۔‏

10 یہوواہ*‏ کہتا ہے کہ ”‏مَیں اُن دنوں کے بعد اِسرائیل کے گھرانے سے یہ عہد باندھوں گا:‏ مَیں اپنے حکم اُن کے ذہن میں ڈالوں گا اور اُن کے دل پر لکھوں گا۔ اور مَیں اُن کا خدا بنوں گا اور وہ میری قوم بنیں گے۔‏

11 اور پھر اُن میں سے کوئی اپنے پڑوسی اور اپنے بھائی سے یہ نہیں کہے گا کہ ”‏یہوواہ*‏ کو جانو!‏“‏ کیونکہ وہ سب مجھے جانیں گے، ہاں، سب سے چھوٹے سے لے کر سب سے بڑے تک۔ 12 کیونکہ مَیں اُن کے بُرے کاموں کو معاف کروں گا اور اُن کے گُناہوں کو بالکل یاد نہیں کروں گا۔“‏ “‏

13 جب اُس نے ”‏نئے عہد“‏ کا ذکر کِیا تو اُس نے پہلے کو فالتو قرار دیا۔ اب جو چیز پُرانی اور فالتو ہے، وہ مٹنے والی ہے۔‏

9 پہلے عہد میں عبادت کے سلسلے میں شریعت کے حکم تھے اور زمین پر ایک مُقدس مقام بھی تھا۔ 2 جب اِس خیمے کے پہلے خانے کو بنایا گیا تو اِس میں شمع‌دان اور میز اور نذرانے کی روٹیاں رکھی گئیں اور یہ خانہ مُقدس خانہ کہلاتا ہے۔ 3 لیکن دوسرے پردے کے پیچھے وہ خانہ تھا جسے مُقدس‌ترین خانہ کہتے ہیں۔ 4 اُس میں سونے کا بخوردان اور عہد کا صندوق تھا جس کے چاروں طرف سونا لگا ہوا تھا۔ اُس صندوق میں عہد کی تختیاں تھیں، من سے بھرا سونے کا مرتبان تھا اور ہارون کی وہ لاٹھی تھی جس پر کلیاں نکلی تھیں۔ 5 اُس کے کفارے کے ڈھکن کے اُوپر شان‌دار کروبی تھے۔ لیکن ابھی اِن چیزوں کو تفصیل سے بیان کرنے کا وقت نہیں۔‏

6 جب یہ سب چیزیں بن گئیں تو کاہن باقاعدگی سے خیمے کے پہلے خانے میں جانے لگے تاکہ مُقدس خدمت انجام دیں۔ 7 لیکن دوسرے خانے میں صرف کاہنِ‌اعظم سال میں ایک بار جاتا ہے اور خون ضرور ساتھ لے جاتا ہے تاکہ اِسے اپنے لیے اور لوگوں کے اُن گُناہوں کے لیے پیش کر سکے جو اُنہوں نے انجانے میں کیے ہیں۔ 8 اِس طرح پاک روح ظاہر کرتی ہے کہ جب تک پہلا خیمہ موجود تھا تب تک مُقدس‌ترین خانے میں جانے والا راستہ نہیں دِکھایا گیا تھا۔ 9 یہ خیمہ موجودہ چیزوں کی تشبیہ ہے اور اِس بندوبست کے تحت نذرانے اور قربانیاں پیش کی جاتی ہیں۔ لیکن یہ چیزیں عبادت کرنے والے شخص کے ضمیر کو مکمل طور پر صاف نہیں کر سکتیں۔ 10 اِن کا تعلق صرف کھانوں اور مشروبات اور طہارت کی رسموں*‏ سے ہے۔ شریعت کے یہ حکم جسمانی چیزوں سے متعلق تھے اور اِنہیں معاملوں کو درست کرنے کے لیے مقررہ وقت تک رہنا تھا۔‏

11 لیکن مسیح کاہنِ‌اعظم کے طور پر وہ اچھی چیزیں لانے کے لیے آیا جو آ چکی ہیں اور اُس خیمے میں داخل ہوا جو زیادہ عظیم اور کامل ہے اور ہاتھ کا بنا ہوا نہیں یعنی اِس زمین کا نہیں ہے۔ 12 پھر وہ مُقدس‌ترین خانے میں ایک ہی بار ہمیشہ کے لیے داخل ہوا لیکن بکروں اور بچھڑوں کا خون لے کر نہیں بلکہ اپنا خون لے کر اور یوں ہمارے لیے ابدی نجات*‏ حاصل کی۔ 13 کیونکہ کاہن بکروں اور بیلوں کا خون اور بچھیا کی راکھ چھڑک کر ناپاک لوگوں کو جسمانی طور پر پاک کرتے ہیں۔ 14 لیکن مسیح کا خون تو اِس سے کہیں زیادہ قیمتی ہے!‏ اُس نے ابدی روح کی رہنمائی میں اپنے آپ کو خدا کے لیے ایک بے‌عیب قربانی کے طور پر پیش کِیا اور اپنے خون سے ہمارے ضمیر کو مُردہ کاموں سے پاک کِیا تاکہ ہم زندہ خدا کی عبادت کر سکیں۔‏

15 لہٰذا وہ ایک نئے عہد کا درمیانی ہے کیونکہ اُس نے اپنی جان دے کر فدیہ ادا کِیا اور یوں اُن لوگوں کو رِہائی دِلائی جنہوں نے پہلے عہد کے تحت گُناہ کیے تھے تاکہ بلا‌ئے گئے لوگوں سے ابدی وراثت کا وعدہ کِیا جا سکے۔ 16 کیونکہ جب ایک عہد باندھا جاتا ہے تو عہد کے اِنسانی درمیانی کو مرنا پڑتا ہے 17 کیونکہ عہد موت کے ذریعے ہی عمل میں آتا ہے۔ جب تک عہد کا اِنسانی درمیانی زندہ ہے تب تک عہد عمل میں نہیں آتا۔ 18 اِسی لیے تو پہلا عہد بھی اُس وقت تک عمل میں نہیں آیا جب تک خون نہیں بہایا گیا۔ 19 کیونکہ جب موسیٰ نے پوری قوم کو شریعت کے تمام حکم سنا دیے تو اُنہوں نے بکروں اور جوان بیلوں کا خون لیا اور اِس میں پانی ملایا۔ پھر اُنہوں نے زوفے کی ٹہنی اور گہری سُرخ اُون سے اُس خون کو کتاب*‏ اور پوری قوم پر چھڑکا 20 اور کہا:‏ ”‏یہ اُس عہد کا خون ہے جس پر قائم رہنے کا حکم خدا نے آپ لوگوں کو دیا ہے۔“‏ 21 اُنہوں نے یہ خون خیمے اور مُقدس خدمت کے تمام برتنوں پر بھی چھڑکا۔ 22 شریعت کے مطابق تقریباً ساری چیزیں خون سے پاک ہو جاتی ہیں اور جب تک خون نہیں بہایا جاتا، گُناہ معاف نہیں ہوتے۔‏

23 اِس لیے ضروری تھا کہ آسمانی چیزوں کی نقلوں کو جانوروں کی قربانیوں سے پاک کِیا جائے۔ لیکن آسمانی چیزوں کو پاک کرنے کے لیے اِن سے بہتر قربانیوں کی ضرورت ہے۔ 24 کیونکہ مسیح ہاتھ سے بنے مُقدس‌ترین خانے میں داخل نہیں ہوا جو اصل کی نقل ہے بلکہ وہ آسمان میں داخل ہوا تاکہ ہماری خاطر خدا کے سامنے حاضر ہو۔ 25 یوں مسیح نے اپنے آپ کو قربانی کے طور پر بار بار پیش نہیں کِیا جیسے کاہنِ‌اعظم کرتا ہے جب وہ ہر سال جانوروں کا خون لے کر مُقدس‌ترین خانے میں جاتا ہے۔ 26 ورنہ تو مسیح کو دُنیا کی بنیاد ڈالے جانے سے لے کر اب تک بار بار تکلیف اُٹھانی پڑتی۔ لیکن وہ اِس آخری زمانے میں ایک ہی بار آیا تاکہ اپنی جان دے کر گُناہوں کو مٹا دے۔ 27 جیسے اِنسانوں کو ایک ہی بار مرنا پڑتا ہے اور اِس کے بعد عدالت ہوگی 28 اِسی طرح مسیح بھی ایک ہی بار بہت سے لوگوں کے گُناہوں کے لیے قربان ہوا۔ جب وہ دوسری بار آئے گا تو گُناہوں کو دُور کرنے کے لیے نہیں بلکہ اُن لوگوں کو نجات دِلانے کے لیے آئے گا جو شدت سے اُس کا اِنتظار کر رہے ہیں۔‏

10 شریعت آنے والی اچھی چیزوں کا محض سایہ ہے لیکن بذاتِ‌خود وہ چیزیں نہیں ہے۔ اِس لیے یہ*‏ اُن قربانیوں کے ذریعے جو سالہاسال بار بار پیش کی جاتی ہیں، اُن لوگوں کو کامل نہیں بنا سکتی جو خدا کی عبادت کرتے ہیں۔ 2 اگر ایسا ہوتا تو کیا قربانیاں چڑھانے کی ضرورت رہتی؟ کیونکہ اگر عبادت کرنے والے پاک ہو جاتے تو اُن کا ضمیر اُن کو پھر کبھی گُناہ کا احساس نہ دِلاتا۔ 3 مگر یہ قربانیاں تو سالہاسال گُناہوں کا احساس دِلاتی ہیں 4 کیونکہ بیلوں اور بکروں کا خون گُناہوں کو مٹا نہیں سکتا۔‏

5 لہٰذا جب مسیح دُنیا میں آیا تو اُس نے کہا:‏ ”‏ ”‏تُو قربانیاں اور نذرانے نہیں چاہتا تھا بلکہ تُو نے میرے لیے ایک جسم تیار کِیا۔ 6 تجھے سالم آتشی قربانیاں اور گُناہ کی قربانیاں پسند نہیں تھیں۔“‏ 7 پھر مَیں نے کہا:‏ ”‏دیکھ، مَیں آیا ہوں۔ کتاب*‏ میں میرے بارے میں لکھا ہے۔ اَے خدا، مَیں تیری مرضی پر چلنے آیا ہوں۔“‏ “‏ 8 پہلے وہ کہتا ہے:‏ ”‏نہ تو تُو قربانیاں اور نذرانے اور سالم آتشی قربانیاں اور گُناہ کی قربانیاں چاہتا تھا اور نہ ہی تجھے ایسی قربانیاں پسند تھیں“‏ یعنی وہ قربانیاں جو شریعت کے مطابق پیش کی جاتی ہیں۔ 9 پھر وہ کہتا ہے:‏ ”‏دیکھ، مَیں تیری مرضی پر چلنے آیا ہوں۔“‏ وہ پہلے کو ہٹا دیتا ہے تاکہ دوسرے کو قائم کرے۔ 10 اِسی ”‏مرضی“‏ کے ذریعے ہم پاک کیے گئے ہیں کیونکہ یسوع مسیح کا جسم ایک ہی بار ہمیشہ کے لیے قربان کِیا گیا۔‏

11 کاہن تو مُقدس خدمت انجام دینے کے لیے ہر روز اپنی جگہ پر کھڑے ہوتے ہیں اور بار بار ایک ہی طرح کی قربانیاں پیش کرتے ہیں جو گُناہوں کو پوری طرح نہیں مٹا سکتیں۔ 12 لیکن اُس آدمی نے ایک ہی قربانی پیش کی جو گُناہوں کو ہمیشہ کے لیے مٹا دیتی ہے اور پھر وہ خدا کی دائیں طرف جا بیٹھا 13 اور اِس بات کا اِنتظار کرنے لگا کہ خدا اُس کے دُشمنوں کو اُس کے پاؤں کی چوکی کی طرح بنا دے۔ 14 کیونکہ اُس نے ایک ہی قربانی کے ذریعے مخصوص‌شُدہ*‏ لوگوں کو ہمیشہ کے لیے کامل بنا دیا۔ 15 اِس کے علاوہ پاک روح بھی ہمارے سامنے گواہی دیتی ہے کیونکہ پہلے اِس نے کہا:‏ 16 ‏”‏یہوواہ*‏ کہتا ہے کہ ”‏مَیں اُن دنوں کے بعد اُن سے یہ عہد باندھوں گا:‏ مَیں اپنے حکم اُن کے دل میں ڈالوں گا اور اُن کے ذہن پر لکھوں گا۔“‏ “‏ 17 پھر اِس نے کہا:‏ ”‏مَیں اُن کے گُناہوں اور اُن کے بُرے کاموں کو بالکل یاد نہیں کروں گا۔“‏ 18 اب جبکہ گُناہوں کو معاف کِیا جا رہا ہے تو قربانیاں پیش کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔‏

19 لہٰذا بھائیو، چونکہ یسوع کے خون کی بِنا پر ہم اِعتماد*‏ کے ساتھ وہ راستہ اِستعمال کر سکتے ہیں جو مُقدس‌ترین خانے تک جاتا ہے 20 ‏(‏اور اُنہوں نے یہ نیا اور زندہ راستہ پردے کے پار یعنی اپنے جسم کے پار جا کر ہمارے لیے کھولا ہے)‏ 21 اور چونکہ خدا کے گھرانے پر ایک عظیم کاہن مقرر ہے 22 اِس لیے آئیں، سچے دل اور کامل ایمان کے ساتھ خدا کی عبادت کریں کیونکہ ہمارے جسموں کو صاف پانی سے غسل دیا گیا ہے اور ہمارے دلوں پر چھڑکاؤ کِیا گیا ہے تاکہ یہ آلودہ*‏ ضمیر سے پاک ہو جائیں۔ 23 اور آئیں، شک کیے بغیر سب کے سامنے اپنی اُمید کا اِقرار کرتے رہیں کیونکہ جس نے وعدہ کِیا ہے، وہ وعدے کا پکا ہے۔ 24 اور آئیں، ایک دوسرے کے بارے میں سوچتے رہیں*‏ تاکہ محبت اور اچھے کاموں کی ترغیب دے سکیں۔ 25 اور ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہونے میں ناغہ نہ کریں جیسے کچھ لوگوں کا معمول ہے بلکہ ایک دوسرے کی حوصلہ‌افزائی کریں۔ اور اب تو اِن باتوں پر اَور بھی زیادہ عمل کریں کیونکہ وہ دن نزدیک ہے۔‏

26 کیونکہ اگر ہم سچائی کے بارے میں صحیح علم حاصل کرنے کے بعد بار بار جان بُوجھ کر گُناہ کریں تو ہمارے گُناہوں کے لیے کوئی قربانی نہیں رہے گی 27 لیکن ایک ہول‌ناک سزا کا اندیشہ ضرور رہے گا اور خدا کا شدید غضب بھی رہے گا جو مخالفوں کو بھسم کر دے گا۔ 28 جو آدمی موسیٰ کی شریعت کو نظرانداز کرتا ہے، اُس پر رحم نہیں کِیا جاتا بلکہ اُسے دو یا تین لوگوں کی گواہی پر سزائے‌موت دی جاتی ہے۔ 29 تو پھر ذرا سوچیں کہ وہ شخص کتنی سزا کے لائق ہوگا جس نے خدا کے بیٹے کو پیروں تلے روندا اور عہد کے اُس خون کو معمولی خیال کِیا جس کے ذریعے وہ پاک ہوا اور عظیم رحمت کی روح کی توہین کی؟ 30 کیونکہ ہم اُس کو جانتے ہیں جس نے کہا:‏ ”‏بدلہ لینا میرا کام ہے۔ مَیں بدلہ دوں گا۔“‏ اُس نے یہ بھی کہا کہ ”‏یہوواہ*‏ اپنے بندوں کا اِنصاف کرے گا۔“‏ 31 اور زندہ خدا کے ہاتھوں میں پڑنا بہت ہول‌ناک ہے۔‏

32 اُن دنوں کو یاد کرتے رہیں جب خدا نے آپ کو سمجھ عطا کی اور آپ نے تکلیف اُٹھا اُٹھا کر ثابت‌قدمی سے مشکلوں کا سامنا کِیا۔ 33 کبھی کبھار آپ کو کُھلے عام*‏ رسوا کِیا گیا اور اذیت دی گئی اور کبھی کبھار آپ نے اُن لوگوں کا ساتھ دیا جو ایسی صورتحال سے گزر رہے تھے۔ 34 آپ نے قید میں بند لوگوں کے لیے ہمدردی ظاہر کی اور جب آپ کی چیزیں لُوٹی گئیں تو آپ نے اپنی خوشی نہیں کھوئی کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ آپ کے پاس ایک ایسی وراثت ہے جو زیادہ اچھی اور لازوال ہے۔‏

35 لہٰذا دلیری سے بولتے رہیں کیونکہ اِس کا بڑا اجر ہے۔ 36 آپ کو ثابت‌قدمی کی ضرورت ہے تاکہ آپ خدا کی مرضی پر چلتے رہیں اور وہ سب کچھ پائیں جس کا اُس نے وعدہ کِیا ہے۔ 37 کیونکہ ”‏کچھ دیر“‏ باقی ہے اور ”‏آنے والا پہنچ جائے گا اور دیر نہیں کرے گا۔“‏ 38 ‏”‏لیکن میرا نیک بندہ اپنے ایمان کی بِنا پر زندہ رہے گا“‏ اور ”‏اگر وہ ڈر کے مارے پیچھے ہٹے گا تو مَیں*‏ اُس سے خوش نہیں ہوں گا۔“‏ 39 مگر ہم ایسے نہیں کہ ڈر کے مارے پیچھے ہٹ جائیں اور تباہ ہو جائیں بلکہ ہم ایسے ہیں کہ ایمان رکھیں اور اپنی جان بچائیں۔‏

11 ایمان اِس بات کی ضمانت ہے کہ ہماری اُمید ضرور پوری ہوگی۔ ایمان اُن حقیقتوں کا ثبوت ہے جو ہم دیکھ نہیں سکتے۔ 2 قدیم زمانے کے لوگوں*‏ کا ایسا ہی ایمان تھا اِس لیے اُنہیں گواہی دی گئی کہ خدا اُن سے خوش ہے۔‏

3 ایمان کی بدولت ہم نے جان لیا کہ خدا نے اپنے کلام کے ذریعے مختلف نظام*‏ بنائے۔ یوں اَن‌دیکھی چیزوں کے ذریعے وہ چیزیں وجود میں آئیں جو دِکھائی دیتی ہیں۔‏

4 ایمان کی بدولت ہابل نے خدا کے سامنے قائن سے زیادہ اچھی قربانی چڑھائی۔ اور اِسی ایمان کی وجہ سے ہابل کو گواہی ملی کہ وہ نیک ہیں کیونکہ خدا نے اُن کے نذرانوں کو قبول کِیا۔ حالانکہ ہابل مر چکے ہیں لیکن وہ اب بھی اپنے ایمان کے ذریعے بات کرتے ہیں۔‏

5 ایمان کی بدولت حنوک کو منتقل کِیا گیا تاکہ وہ موت کو نہ دیکھیں اور وہ غائب ہو گئے کیونکہ خدا نے اُن کو منتقل کر دیا۔ لیکن منتقل ہونے سے پہلے اُن کو گواہی ملی کہ خدا اُن سے خوش ہے۔ 6 ایمان کے بغیر خدا کو خوش کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ جو شخص خدا کی عبادت کرتا ہے، اُس کو ایمان رکھنا ہوگا کہ وہ ہے اور اُن سب کو اجر دے گا جو لگن سے اُس کی خدمت کرتے ہیں۔‏

7 جب نوح کو خدا کی طرف سے ایسے واقعات کی آگاہی ملی جو پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے تو ایمان کی بدولت اُنہوں نے خدا کا خوف ظاہر کِیا اور اپنے گھر والوں کو بچانے کے لیے کشتی بنائی۔ اِسی ایمان کے ذریعے اُنہوں نے دُنیا کو قصوروار ٹھہرایا اور اِسی ایمان کی وجہ سے اُنہیں نیک قرار دیا گیا۔‏

8 جب ابراہام کو بلا‌یا گیا تو ایمان کی بدولت اُنہوں نے خدا کا کہنا مانا اور اُس جگہ روانہ ہو گئے جو اُن کو ورثے میں ملنی تھی۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کہاں جا رہے ہیں لیکن پھر بھی وہ روانہ ہوئے۔ 9 ایمان کی بدولت وہ اُس ملک میں مسافر کے طور پر رہے جس کا وعدہ اُن سے کِیا گیا تھا۔ وہاں وہ اِضحاق اور یعقوب کے ساتھ خیموں میں رہے جو اُن کی طرح اِس وعدے کے وارث تھے 10 کیونکہ وہ اُس شہر کا اِنتظار کر رہے تھے جس کی بنیادیں پائیدار ہیں اور جس کا نقشہ‌ساز اور معمار خدا ہے۔‏

11 حالانکہ سارہ بچے پیدا کرنے کی عمر سے گزر چکی تھیں لیکن ایمان کی بدولت وہ حاملہ ہوئیں کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ جس نے وعدہ کِیا ہے، وہ وعدے کا پکا*‏ ہے۔ 12 اور یوں ایک آدمی سے جو ایک لحاظ سے مُردہ تھا، اِتنی اولاد ہوئی کہ اِس کی تعداد آسمان کے ستاروں اور سمندر کی ریت کی طرح بے‌شمار ہو گئی۔‏

13 یہ سب لوگ مرتے دم تک اپنے ایمان پر قائم رہے حالانکہ اُنہوں نے اُن وعدوں کو پورا ہوتے نہیں دیکھا جو اُن سے کیے گئے تھے۔ لیکن اُنہوں نے اِن وعدوں کو دُور سے دیکھا اور اِن کا خیرمقدم کِیا اور سب کے سامنے اِقرار کِیا کہ وہ ملک میں اجنبی اور مسافر ہیں۔ 14 کیونکہ ایسا اِقرار کرنے والے لوگ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اپنے لیے ایک جگہ حاصل کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ 15 لیکن اگر وہ اُس جگہ کے بارے میں سوچتے رہتے جس سے وہ آئے تھے تو وہ واپس جانے کا راستہ نکال لیتے۔ 16 مگر اُنہوں نے زیادہ اچھی جگہ حاصل کرنے کی کوشش کی جس کا تعلق آسمان سے ہے۔ اِس لیے خدا اُن کا خدا کہلانے سے شرمندگی محسوس نہیں کرتا کیونکہ اُس نے اُن کے لیے ایک شہر تیار کِیا ہے۔‏

17 جب ابراہام کو آزمایا گیا تو ایمان کی بدولت اُنہوں نے اپنی طرف سے تو اِضحاق کو قربان کر ہی دیا، ہاں، جس شخص نے خوشی سے وعدوں کو قبول کِیا، اُس نے اپنے اِکلوتے بیٹے کو قربان کرنے کی کوشش کی 18 حالانکہ اُس شخص سے کہا گیا تھا کہ ”‏جو لوگ آپ کی نسل کہلائیں گے، وہ اِضحاق سے پیدا ہوں گے۔“‏ 19 لیکن ابراہام نے سوچا کہ خدا اُن کے بیٹے کو مُردوں میں سے بھی زندہ کر سکتا ہے اور ایک طرح سے تو ایسا ہوا بھی۔‏

20 ایمان کی بدولت اِضحاق نے یعقوب اور عیسو کو برکت دی اور بتایا کہ آئندہ کیا ہوگا۔‏

21 جب یعقوب مرنے والے تھے تو ایمان کی بدولت اُنہوں نے یوسف کے بیٹوں کو برکت دی اور اپنی لاٹھی کا سہارا لے کر عبادت کی۔‏

22 ایمان کی بدولت یوسف نے مرنے سے پہلے بنی‌اِسرائیل کی رِہائی کا ذکر کِیا اور اپنی ہڈیوں*‏ کے سلسلے میں ہدایات دیں۔‏

23 جب موسیٰ پیدا ہوئے تو ایمان کی بدولت اُن کے والدین نے اُن کو تین مہینے تک چھپا کر رکھا کیونکہ اُنہوں نے دیکھا کہ یہ بچہ خوب‌صورت ہے اور اُنہوں نے بادشاہ کے حکم کی پرواہ نہیں کی۔ 24 جب موسیٰ بڑے ہوئے تو ایمان کی بدولت اُنہوں نے فرعون کی بیٹی کا بیٹا کہلانے سے اِنکار کر دیا۔ 25 اُنہوں نے گُناہ کا وقتی مزہ لُوٹنے کی بجائے خدا کے بندوں کے ساتھ بدسلوکی برداشت کرنے کا اِنتخاب کِیا 26 کیونکہ وہ مسیح کے طور پر رسوا ہونے کو ایک ایسا شرف خیال کرتے تھے جو مصر کے تمام خزانوں سے زیادہ قیمتی ہے اور اُن کا سارا دھیان اجر پانے پر تھا۔ 27 ایمان کی بدولت وہ بادشاہ کے غضب سے نہیں ڈرے اور مصر کو چھوڑ کر چلے گئے اور وہ اَن‌دیکھے خدا کو گویا دیکھ کر ثابت‌قدم رہے۔ 28 ایمان کی بدولت اُنہوں نے عیدِفسح منائی اور چوکھٹوں پر خون چھڑکا تاکہ ہلاک کرنے والا فرشتہ اُن کے پہلوٹھوں کو نہ مارے۔‏*‏

29 ایمان کی بدولت وہ بحیرۂ‌احمر*‏ سے ایسے گزرے جیسے خشک زمین پر سے گزرتے ہیں لیکن جب مصریوں نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو وہ ڈوب گئے۔‏

30 جب بنی‌اِسرائیل نے سات دن شہر یریحو کے گِرد چکر لگایا تو اُن کے ایمان کی بدولت اُس کی دیواریں گِر گئیں۔ 31 اپنے ایمان کی بدولت راحب نامی فاحشہ نافرمان لوگوں کے ساتھ ہلاک نہیں ہوئیں کیونکہ اُنہوں نے جاسوسوں کا خیرمقدم کِیا۔‏

32 مَیں اَور کس کس کا ذکر کروں؟ اِتنا وقت نہیں کہ مَیں جدعون، برق، سمسون، اِفتاح، داؤد، سموئیل اور دوسرے نبیوں کا ذکر کروں۔ 33 ایمان کی بدولت اِن لوگوں نے سلطنتوں کو شکست دی، نیکی کی، خدا کے وعدے حاصل کیے، شیروں کے مُنہ بند کیے، 34 آگ کی شدت کو ٹھنڈا کِیا، تلوار سے بچ گئے، کمزور حالت میں طاقت پائی، دلیری سے جنگ لڑی اور دُشمن کی فوجوں کو بھگا دیا۔ 35 عورتوں کو اپنے مُردہ رشتے‌دار زندہ حالت میں واپس ملے۔ آدمیوں نے مرتے دم تک اذیت سہی کیونکہ وہ کسی قیمت پر سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں تھے تاکہ اُنہیں بہتر لحاظ سے زندہ کِیا جائے۔ 36 بعض کو طعنے دیے گئے اور کوڑے لگائے گئے یہاں تک کہ اُنہیں زنجیروں میں جکڑا گیا، اُنہیں قید میں ڈالا گیا، 37 اُنہیں سنگسار کِیا گیا، اُنہیں بہکانے کی کوشش کی گئی، اُنہیں آرے سے چیرا گیا، اُنہیں تلوار سے مار ڈالا گیا، اُنہوں نے بھیڑوں اور بکریوں کی کھالیں پہنیں، اُنہوں نے بدسلوکی برداشت کی، وہ ضرورت‌مند اور مصیبت‌زدہ تھے 38 اور دُنیا اُن کے لائق نہیں تھی۔ وہ ریگستانوں اور پہاڑوں اور غاروں اور کھوؤں میں رہے۔‏

39 اُن سب نے وعدوں کو پورا ہوتے نہیں دیکھا حالانکہ اُن کے ایمان کی وجہ سے اُن کو گواہی ملی تھی کہ خدا اُن سے خوش ہے 40 کیونکہ خدا نے ہمیں زیادہ اچھی چیز دینے کا اِرادہ کِیا تھا تاکہ وہ لوگ ہمارے بغیر کامل نہ بنیں۔‏

12 اب چونکہ ہمارے اِردگِرد گواہوں کا اِتنا بڑا بادل ہے اِس لیے آئیں، ہر طرح کے بوجھ اور اُس گُناہ کو اُتار پھینکیں جو ہمیں آسانی سے اُلجھا لیتا ہے اور ثابت قدمی سے اُس دوڑ میں دوڑتے رہیں جو ہمیں دوڑنی ہے۔ 2 اور آئیں، اپنا پورا دھیان یسوع پر رکھیں جو ہمارے عظیم پیشوا ہیں اور ہمارے ایمان کو مکمل کرتے ہیں۔ اُنہوں نے اُس خوشی کی خاطر جو اُن کو ملنی تھی، سُولی*‏ کی تکلیف سہی، بے‌عزتی کی پرواہ نہیں کی اور خدا کے تخت کی دائیں طرف جا بیٹھے۔ 3 ہاں، اُس پر نظریں جمائے رکھیں جس نے اُن گُناہ‌گاروں کی طرف سے توہین‌آمیز باتیں برداشت کیں جو اپنا ہی نقصان کر رہے تھے۔ اگر آپ اُس پر نظریں جمائے رکھیں گے تو آپ تھک کر ہمت نہیں ہاریں گے۔‏

4 آپ گُناہ کا مقابلہ کر رہے ہیں لیکن ابھی تک یہ نوبت نہیں آئی کہ آپ کو جان دینی پڑے۔ 5 اور آپ بالکل بھول گئے ہیں کہ آپ کو بیٹا کہہ کر یہ نصیحت کی گئی:‏ ”‏بیٹا، یہوواہ*‏ کی طرف سے اِصلاح کو حقیر نہ سمجھو اور جب وہ تمہاری درستی کرے تو ہمت نہ ہارو۔ 6 کیونکہ یہوواہ*‏ اُن کی اِصلاح کرتا ہے جن سے وہ محبت کرتا ہے، ہاں، وہ ہر اُس شخص کو سزا دیتا*‏ ہے جسے وہ بیٹا بناتا ہے۔“‏

7 آپ جو کچھ برداشت کرتے ہیں، وہ آپ کی اِصلاح*‏ کے لیے ہے کیونکہ خدا آپ کو بیٹا خیال کرتا ہے۔ اور کون سا باپ اپنے بیٹے کی اِصلاح نہیں کرتا؟ 8 اگر آپ کی اِصلاح نہ کی جاتی تو آپ بیٹے نہیں بلکہ ناجائز اولاد ہوتے۔ 9 ہمارے اِنسانی باپ بھی تو ہماری اِصلاح کرتے تھے اور ہم اُن کا احترام کرتے تھے۔ تو پھر کیا یہ زیادہ اہم نہیں کہ ہم اپنے آسمانی باپ کے تابع‌دار ہوں*‏ اور زندہ رہیں؟ 10 اُنہوں نے تو کچھ عرصے کے لیے اپنی سمجھ کے مطابق ہماری اِصلاح کی لیکن خدا ہمارے فائدے کے لیے ہماری اِصلاح کرتا ہے تاکہ ہم بھی اُس کی طرح پاک ہو جائیں۔ 11 یہ سچ ہے کہ جب ہماری اِصلاح کی جاتی ہے تو ہمیں خوشی نہیں بلکہ تکلیف ہوتی ہے لیکن جو لوگ اِس کے ذریعے تربیت پاتے ہیں، وہ بعد میں صلح‌پسند اور نیک بن جاتے ہیں۔‏

12 لہٰذا کمزور ہاتھوں اور لرزتے گھٹنوں کو مضبوط کریں 13 اور سیدھی راہ پر چلتے رہیں تاکہ جو کمزور ہو، وہ اَور کمزور نہ ہو جائے بلکہ ٹھیک ہو جائے۔ 14 سب لوگوں کے ساتھ امن سے رہیں اور اُس پاکیزگی کی جستجو کریں جس کے بغیر کوئی اِنسان مالک کو نہیں دیکھے گا۔ 15 خبردار رہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ میں سے کوئی خدا کی عظیم رحمت کو گنوا دے اور آپ کے درمیان کوئی ایسی زہریلی جڑ پھوٹ نکلے جس کی وجہ سے مصیبت کھڑی ہو جائے اور بہت سے لوگ ناپاک ہو جائیں۔ 16 اور خبردار رہیں کہ آپ میں کوئی حرام‌کار*‏ نہ ہو اور نہ ہی کوئی ایسا شخص جو عیسو کی طرح پاک چیزوں کی قدر نہ کرے کیونکہ عیسو نے محض چند نوالوں کے لیے پہلوٹھے کا حق بیج ڈالا۔ 17 اور آپ جانتے ہی ہیں کہ بعد میں جب اُس نے برکت حاصل کرنی*‏ چاہی تو اُسے ٹھکرا دیا گیا حالانکہ اُس نے رو رو کر اپنے باپ کا فیصلہ بدلنے کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔‏

18 کیونکہ آپ ایک ایسی چیز کے نزدیک نہیں آئے جسے چُھوا جا سکتا ہے، جو آگ میں لپٹی ہے اور جس کے گِرد ایک کالا سیاہ بادل، گہری تاریکی اور آندھی ہے۔ 19 اور آپ نرسنگے*‏ کی آواز نہیں سُن رہے اور نہ ہی اُس آواز کو بولتے سُن رہے ہیں جس کو سُن کر لوگوں نے مِنتیں کیں کہ اُن سے مزید کوئی بات نہ کی جائے۔ 20 کیونکہ وہ یہ حکم سُن کر ڈر گئے کہ ”‏اگر کوئی جانور بھی اِس پہاڑ کو چُھوئے تو اُسے سنگسار کر دیا جائے۔“‏ 21 وہ منظر اِتنا ہول‌ناک تھا کہ موسیٰ نے بھی کہا:‏ ”‏مَیں خوف کے مارے کانپ رہا ہوں۔“‏ 22 لیکن آپ جن چیزوں کے نزدیک آئے ہیں، وہ یہ ہیں:‏ کوہِ‌صیون، زندہ خدا کا شہر یعنی آسمانی یروشلیم، ہزاروں فرشتوں کی جماعت، 23 اُن پہلوٹھوں کی کلیسیا جن کے نام آسمان میں لکھے ہیں، خدا جو سب کا منصف ہے، اُن نیک لوگوں کی زندگی جو پاک روح سے پیدا ہوئے ہیں اور کامل بنائے گئے ہیں، 24 یسوع جو نئے عہد کے درمیانی ہیں اور وہ خون جو اُنہوں نے ہم پر چھڑکا ہے جو ہابل کے خون سے زیادہ اچھی درخواست کرتا ہے۔‏

25 خبردار رہیں کہ آپ اُس کی بات سننے سے اِنکار نہ کریں*‏ جو بول رہا ہے۔ جن لوگوں نے اُس شخص کی بات سننے سے اِنکار کِیا جو زمین پر خدا کی طرف سے آگاہی دے رہا تھا، اُن کو سزا ملی۔ تو پھر اگر ہم آسمان سے بولنے والے کی بات سننے سے اِنکار کریں گے تو ہم سزا سے کیسے بچیں گے؟ 26 اُس وقت اُس کی آواز سے زمین ہل گئی لیکن اب اُس نے وعدہ کِیا ہے کہ ”‏مَیں ایک بار پھر سے نہ صرف زمین کو بلکہ آسمان کو بھی ہلاؤں گا۔“‏ 27 جب اُس نے ”‏ایک بار پھر سے“‏ کہا تو اُس نے ظاہر کِیا کہ جو چیزیں ہلائی جائیں گی، اُن کو ہٹا دیا جائے گا یعنی اُن چیزوں کو ہٹا دیا جائے گا جنہیں خدا نے نہیں بنایا تاکہ وہ چیزیں قائم رہیں جو ہلائی نہیں جائیں گی۔ 28 لہٰذا چونکہ ہمیں ایسی بادشاہت ملے گی جو ہلائی نہیں جا سکتی اِس لیے آئیں، وہ عظیم رحمت حاصل کرتے رہیں جس کے ذریعے ہم خوف اور احترام کے ساتھ خدا کی عبادت کر کے اُس کی خوشنودی حاصل کر سکتے ہیں۔ 29 کیونکہ ہمارا خدا تباہ‌کُن آگ ہے۔‏

13 ایک دوسرے سے بہن بھائیوں کی طرح پیار کرتے رہیں۔ 2 مہمان‌نوازی کرنا*‏ نہ بھولیں کیونکہ مہمان‌نواز ہونے کی وجہ سے کچھ لوگوں نے انجانے میں فرشتوں کی خاطرتواضع کی۔ 3 جو قید ہیں، اُن کو ایسے یاد رکھیں جیسے آپ بھی اُن کے ساتھ قید ہوں اور اُن کو بھی یاد رکھیں جن کے ساتھ بدسلوکی ہو رہی ہے کیونکہ آپ بھی گوشت پوست کے اِنسان ہیں۔‏*‏ 4 شادی کا بندھن سب لوگوں کی نظر میں باعزت ہو اور ازدواجی تعلقات پاک رہیں کیونکہ خدا حرام‌کاروں*‏ اور زِناکاروں کی عدالت کرے گا۔ 5 آپ کی زندگی سے ظاہر ہو کہ آپ کو پیسے سے پیار نہیں ہے بلکہ آپ اُن چیزوں سے مطمئن ہیں جو آپ کے پاس ہیں۔ کیونکہ اُس نے کہا ہے کہ ”‏مَیں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ مَیں تمہیں کبھی ترک نہیں کروں گا۔“‏ 6 اِس لیے ہم پورے اِعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ ”‏یہوواہ*‏ میرا مددگار ہے۔ مَیں نہیں ڈروں گا۔ اِنسان میرا کیا بگا‌ڑ سکتا ہے؟“‏

7 اُن کو یاد رکھیں جو آپ کی پیشوائی کر رہے ہیں؛ جنہوں نے آپ کو خدا کے کلام کے بارے میں بتایا ہے۔ اور غور کریں کہ اُن کے کاموں کا کیا نتیجہ نکلتا ہے اور اُن جیسا ایمان پیدا کریں۔‏

8 یسوع مسیح کل بھی وہی تھے، آج بھی وہی ہیں اور ہمیشہ وہی رہیں گے۔‏

9 طرح طرح کی عجیب تعلیمات سے گمراہ نہ ہوں۔ بہتر ہے کہ دل کھانوں*‏ سے نہیں بلکہ خدا کی عظیم رحمت سے مضبوط ہو کیونکہ جو لوگ کھانوں کو حد سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں، اُن کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔‏

10 ہماری ایک قربان‌گاہ ہے لیکن اُن لوگوں کو اِس سے کھانے کا حق نہیں ہے جو خیمے میں مُقدس خدمت انجام دیتے ہیں۔ 11 کیونکہ جن جانوروں کا خون کاہنِ‌اعظم گُناہ کی قربانی کے طور پر مُقدس‌ترین خانے میں لے جاتا ہے، اُن کی لاشیں خیمہ‌گاہ سے باہر جلائی جاتی ہیں۔ 12 لہٰذا یسوع نے بھی شہر سے باہر تکلیف سہی تاکہ لوگوں کو اپنے خون کے ذریعے پاک کریں۔ 13 تو پھر آئیں، ہم بھی اُن کے پاس خیمہ‌گاہ سے باہر جائیں اور اُن کی رسوائی میں شریک ہوں۔ 14 کیونکہ یہاں ہمارا کوئی شہر نہیں ہے جو قائم رہے گا بلکہ ہم تو اُس شہر کا شدت سے اِنتظار کر رہے ہیں جو آئے گا۔ 15 آئیں، یسوع کے ذریعے خدا کے حضور حمدوستائش کی قربانیاں پیش کرتے رہیں۔ یہی ہمارے ہونٹوں کا پھل ہے کیونکہ اِنہی ہونٹوں سے ہم سب کے سامنے خدا کے نام کا اِقرار کرتے ہیں۔ 16 اور بھلائی کرنا اور اپنی چیزیں دوسروں کے ساتھ بانٹنا نہ بھولیں کیونکہ خدا ایسی قربانیاں پسند کرتا ہے۔‏

17 اُن لوگوں کے فرمانبردار اور تابع‌دار ہوں جو آپ کی پیشوائی کرتے ہیں کیونکہ وہ یہ جانتے ہوئے آپ*‏ کی دیکھ‌بھال کرتے ہیں کہ اُن کو اِس کا حساب دینا ہوگا۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو وہ خوشی سے آپ کی دیکھ‌بھال کریں گے نہ کہ آہیں بھر کر کیونکہ اِس صورت میں آپ کا نقصان ہوگا۔‏

18 ہمارے لیے دُعا کِیا کریں کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ ہمارا ضمیر صاف*‏ ہے اور ہم ہر بات میں ایمان‌داری سے کام لینا چاہتے ہیں۔ 19 میری خاص طور پر درخواست ہے کہ آپ دُعا کریں کہ مَیں جلد آپ کے پاس آ سکوں۔‏

20 خدا نے بھیڑوں کے عظیم چرواہے یعنی ہمارے مالک یسوع کو مُردوں میں سے زندہ کِیا جو ابدی عہد کا خون اپنے ساتھ لائے۔ ہاں، خدا جو اِطمینان*‏ کا بانی ہے، 21 آپ کو ہر اچھی چیز مہیا کرے تاکہ آپ اُس کی مرضی پر چلیں۔ وہ یسوع مسیح کے ذریعے ہمیں ایسے کام کرنے کی ترغیب دیتا ہے جو اُسے پسند ہیں۔ خدا کی بڑائی ہمیشہ ہمیشہ تک ہو۔ آمین۔‏

22 بھائیو، مَیں نے آپ کو مختصر سا خط لکھا ہے۔ مہربانی سے اِس میں لکھی نصیحت پر دھیان دیں۔ 23 اور ہاں، ہمارے بھائی تیمُتھیُس رِہا ہو گئے ہیں۔ اگر وہ جلدی آئے تو مَیں اُن کے ساتھ آپ سے ملنے آؤں گا۔‏

24 اُن سب کو میرا سلام دیں جو آپ کی پیشوائی کر رہے ہیں اور سب مُقدسوں کو بھی سلام کہیں۔ وہ جو اِطالیہ میں ہیں، آپ کو سلام کہتے ہیں۔‏

25 دُعا ہے کہ خدا کی عظیم رحمت آپ سب کے ساتھ رہے۔‏

یا ”‏زمانے“‏

یا ”‏اِنصاف“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏مخصوص“‏

یا ”‏مخصوص“‏

یا ”‏کلیسیا“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏دعوت“‏

یا ”‏تسلیم کرتے“‏

یعنی بنی‌اِسرائیل

یونانی میں:‏ ”‏خوف کریں“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏جوڑوں“‏

یا ”‏نرمی“‏

یا ”‏سمجھنے“‏

یونانی میں:‏ ”‏وقت کے حساب سے“‏

یا ”‏اور دوبارہ سے بنیاد نہ ڈالیں“‏

یونانی میں:‏ ”‏طاقتوں“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏دہ‌یکی“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏طرح طرح کے بپتسموں“‏

یونانی میں:‏ ”‏فدیہ؛ کفارہ“‏

یا ”‏طومار“‏

یا شاید ”‏آدمی“‏

یا ”‏طومار“‏

یا ”‏پاک کیے گئے“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏دلیری“‏

یونانی میں:‏ ”‏بُرے“‏

یا ”‏کی فکر کرتے رہیں“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏گویا تماشاگاہ میں“‏

یونانی میں:‏ ”‏میری جان“‏

یا ”‏ہمارے باپ‌دادا“‏

یا ”‏زمانے“‏

یا ”‏وفادار“‏

یا ”‏اپنے دفن“‏

یونانی میں:‏ ”‏چُھوئے“‏

یا ”‏بحرِقلزم“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏کوڑے لگاتا“‏

یا ”‏تربیت“‏

یا ”‏اُس باپ کے تابع‌دار ہوں جس نے ہمیں پاک روح سے پیدا کِیا ہے۔“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏حرام‌کاری“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏ورثے میں حاصل کرنی“‏

یا ”‏باجے“‏

یا ”‏اُس کو نظرانداز نہ کریں؛ اُس کی بات سننے کے سلسلے میں بہانے نہ بنائیں“‏

یا ”‏اجنبیوں کے ساتھ مہربانی سے پیش آنا“‏

یا شاید ”‏گویا آپ کے ساتھ بھی بدسلوکی ہو رہی ہو۔“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏حرام‌کاری“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یعنی کھانوں کے بارے میں قاعدے قانون۔‏

یونانی میں:‏ ”‏آپ کی جان“‏

یونانی میں:‏ ”‏اچھا“‏

یا ”‏امن“‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں