یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ت‌ن‌د یوحنا 1:‏1-‏21:‏25
  • یوحنا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • یوحنا
  • کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
یوحنا

یوحنا کی اِنجیل

1 شروع میں کلام*‏ تھا۔ کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام ایک خدا تھا۔‏*‏ 2 وہ شروع میں خدا کے ساتھ تھا۔ 3 سب چیزیں اُس کے ذریعے وجود میں آئیں اور کوئی بھی چیز اُس کے بغیر وجود میں نہیں آئی۔‏

4 اُس کے ذریعے زندگی وجود میں آئی۔ اور زندگی اِنسانوں کے لیے روشنی تھی۔ 5 یہ روشنی، تاریکی میں چمک رہی ہے اور تاریکی اِس پر غالب نہیں آئی۔‏

6 پھر ایک آدمی آیا جسے خدا نے اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا۔ اُس کا نام یوحنا تھا۔ 7 وہ روشنی کے بارے میں گواہی دینے آیا تاکہ اُس کے ذریعے ہر طرح کے لوگ ایمان لائیں۔ 8 وہ خود روشنی نہیں تھا لیکن اُسے روشنی کے بارے میں گواہی دینے کے لیے بھیجا گیا تھا۔‏

9 حقیقی روشنی جو ہر طرح کے لوگوں پر چمکتی ہے، دُنیا میں آنے والی تھی۔ 10 کلام دُنیا میں تھا اور دُنیا اُس کے ذریعے وجود میں آئی لیکن دُنیا نے اُس کو نہیں پہچانا۔ 11 وہ اپنے گھر میں آیا مگر اُس کے اپنوں نے اُسے قبول نہیں کِیا۔ 12 لیکن جن لوگوں نے اُسے قبول کِیا، اُن کو اُس نے خدا کی اولاد بننے کا موقع دیا کیونکہ وہ اُس کے نام پر ایمان لائے۔ 13 وہ لوگ خون سے یا جسم کی مرضی اور آدمیوں کی مرضی سے پیدا نہیں ہوئے بلکہ خدا کی مرضی سے پیدا ہوئے۔‏

14 کلام اِنسان بن کر ہمارے درمیان رہا اور ہم نے اُس کی ایسی شان دیکھی جیسی باپ کے اِکلوتے بیٹے*‏ کی ہوتی ہے۔ اُسے خدا کی خوشنودی*‏ حاصل تھی اور وہ سچائی سے معمور تھا۔ 15 ‏(‏یوحنا نے اُس کے بارے میں گواہی دی اور پکار کر کہا:‏ ”‏یہ وہی ہے جس کے بارے میں مَیں نے کہا تھا کہ ”‏میرے پیچھے جو شخص آ رہا ہے، وہ مجھ سے آگے نکل گیا ہے کیونکہ وہ مجھ سے پہلے موجود تھا۔“‏ “‏)‏ 16 وہ خدا کی عظیم رحمت سے معمور تھا اِس لیے اُس نے ہمیں بھی کثرت سے عظیم رحمت عطا کی 17 کیونکہ شریعت موسیٰ کے ذریعے دی گئی لیکن عظیم رحمت اور سچائی یسوع مسیح کے ذریعے آئی۔ 18 کسی اِنسان نے خدا کو کبھی نہیں دیکھا لیکن اِکلوتے بیٹے*‏ نے جو خدا کی طرح ہے اور باپ کے پہلو میں*‏ ہے، اُس نے واضح کِیا کہ خدا کون ہے۔‏

19 یہ وہ گواہی ہے جو یوحنا نے اُس وقت دی جب یہودیوں نے کاہنوں اور لاویوں کو اُن کے پاس یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ ”‏تُم کون ہو؟“‏ 20 یوحنا نے اُن کی بات کا جواب دینے سے اِنکار نہیں کِیا بلکہ صاف صاف کہہ دیا:‏ ”‏مَیں مسیح نہیں ہوں۔“‏ 21 اِس پر اُنہوں نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏تو کیا تُم ایلیاہ ہو؟“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏نہیں۔“‏ اُنہوں نے پھر سے پوچھا:‏ ”‏تو کیا تُم وہ نبی ہو جس کے آنے کے بارے میں پیش‌گوئی کی گئی تھی؟“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏نہیں۔“‏ 22 تب اُنہوں نے کہا:‏ ”‏تو پھر تُم کون ہو؟ تُم اپنے بارے میں کیا کہتے ہو؟ ہمیں کچھ تو بتاؤ تاکہ ہم جا کر اُن کو جواب دے سکیں جنہوں نے ہمیں بھیجا ہے۔“‏ 23 یوحنا نے جواب دیا:‏ ”‏جیسا کہ یسعیاہ نبی نے کہا، مَیں وہ آواز ہوں جو ویرانے میں پکار رہی ہے کہ ”‏یہوواہ*‏ کی راہ ہموار کرو۔“‏ “‏ 24 اُن کاہنوں اور لاویوں کو فریسیوں نے بھیجا تھا۔ 25 لہٰذا اُنہوں نے یوحنا سے پوچھا:‏ ”‏اگر تُم مسیح یا ایلیاہ یا وہ نبی نہیں ہو جس کے آنے کے بارے میں پیش‌گوئی کی گئی تھی تو تُم لوگوں کو بپتسمہ کیوں دیتے ہو؟“‏ 26 یوحنا نے اُنہیں جواب دیا:‏ ”‏مَیں پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں۔ آپ کے درمیان ایک شخص ہے جسے آپ نہیں جانتے۔ 27 یہ وہ شخص ہے جو میرے پیچھے آ رہا ہے اور مَیں تو اِس لائق بھی نہیں کہ اُس کے جُوتوں کے تسمے کھولوں۔“‏ 28 یہ سب باتیں دریائے‌اُردن*‏ کے پار بیت‌عنیاہ میں ہوئیں جہاں یوحنا بپتسمہ دیتے تھے۔‏

29 اگلے دن یوحنا نے دیکھا کہ یسوع اُن کی طرف آ رہے ہیں۔ اِس پر اُنہوں نے کہا:‏ ”‏یہ خدا کا میمنا*‏ ہے جو دُنیا کے گُناہ دُور کر دیتا ہے۔ 30 یہ وہی ہے جس کے بارے میں مَیں نے کہا تھا کہ ”‏میرے پیچھے ایک شخص آ رہا ہے جو مجھ سے آگے نکل گیا ہے کیونکہ وہ مجھ سے پہلے موجود تھا۔“‏ 31 مَیں بھی اُسے نہیں جانتا تھا لیکن مَیں اِس لیے لوگوں کو پانی سے بپتسمہ دینے آیا تاکہ وہ شخص اِسرائیل پر ظاہر ہو جائے۔“‏ 32 یوحنا نے یہ گواہی بھی دی:‏ ”‏مَیں نے دیکھا کہ پاک روح کبوتر کی شکل میں آسمان سے اُتری اور اُس پر ٹھہر گئی۔ 33 مَیں بھی اُسے نہیں جانتا تھا لیکن جس نے مجھے پانی سے بپتسمہ دینے کے لیے بھیجا، اُس نے مجھ سے کہا:‏ ”‏جس شخص پر تُم پاک روح اُترتے اور ٹھہرتے دیکھو گے، وہی وہ شخص ہے جو پاک روح سے بپتسمہ دیتا ہے۔“‏ 34 اور مَیں نے ایسا ہوتے دیکھا اور گواہی دی کہ وہ خدا کا بیٹا ہے۔“‏

35 اگلے دن یوحنا پھر سے وہاں کھڑے تھے۔ اُن کے ساتھ اُن کے دو شاگرد بھی تھے۔ 36 جب یوحنا نے یسوع کو وہاں سے گزرتے دیکھا تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏دیکھو!‏ خدا کا میمنا!‏“‏ 37 یہ سُن کر دونوں شاگرد یسوع کے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔ 38 جب یسوع نے مُڑ کر دیکھا کہ وہ اُن کے پیچھے آ رہے ہیں تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏آپ لوگ کیا چاہتے ہیں؟“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏ربّی، آپ کہاں ٹھہرے ہوئے ہیں؟“‏ (‏ربّی کا مطلب ہے:‏ اُستاد۔)‏ 39 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏آئیں، خود ہی دیکھ لیں۔“‏ لہٰذا وہ یسوع کے ساتھ گئے اور دیکھا کہ وہ کہاں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ یہ تقریباً دسویں گھنٹے*‏ کی بات تھی۔ اُس دن وہ دونوں یسوع کے ساتھ ہی رہے۔ 40 جو دو شاگرد یوحنا کی بات سُن کر یسوع کے پیچھے پیچھے گئے، اُن میں سے ایک شمعون پطرس کے بھائی اندریاس تھے۔ 41 اندریاس نے جا کر سب سے پہلے اپنے بھائی شمعون کو ڈھونڈا اور اُن سے کہا:‏ ”‏ہمیں مسیح مل گیا ہے۔“‏ (‏مسیح کا مطلب ہے:‏ مسح‌شُدہ۔)‏ 42 پھر وہ اُنہیں یسوع کے پاس لے گئے۔ جب یسوع نے شمعون کو دیکھا تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏آپ یوحنا کے بیٹے شمعون ہیں۔ اب سے آپ کو کیفا کہا جائے گا۔“‏ (‏کیفا کو یونانی میں پطرس کہتے ہیں۔)‏

43 اگلے دن یسوع گلیل جانا چاہتے تھے۔ جب اُنہیں فِلپّس ملے تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏میرے پیروکار بن جائیں۔“‏ 44 فِلپّس شہر بیت‌صیدا سے تھے جہاں سے اندریاس اور پطرس بھی تھے۔ 45 فِلپّس، نتن‌ایل سے ملے اور اُن سے کہا:‏ ”‏ہمیں وہ شخص مل گیا ہے جس کے بارے میں موسیٰ کی شریعت اور نبیوں کے صحیفوں میں لکھا تھا۔ اُس کا نام یسوع ہے۔ وہ یوسف کا بیٹا ہے اور ناصرت سے ہے۔“‏ 46 لیکن نتن‌ایل نے اُن سے کہا:‏ ”‏بھلا ناصرت سے بھی کوئی اچھی چیز آ سکتی ہے؟“‏ اِس پر فِلپّس نے کہا:‏ ”‏آئیں، خود ہی دیکھ لیں۔“‏ 47 جب یسوع نے نتن‌ایل کو اپنی طرف آتے دیکھا تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏دیکھیں!‏ یہ ایک سچا اِسرائیلی ہے جو فریب سے پاک ہے۔“‏ 48 اِس پر نتن‌ایل نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ مجھے کیسے جانتے ہیں؟“‏ یسوع نے کہا:‏ ”‏اِس سے پہلے کہ فِلپّس آپ کو بلا‌تے، مَیں نے آپ کو اِنجیر کے درخت کے نیچے دیکھ لیا تھا۔“‏ 49 تب نتن‌ایل نے کہا:‏ ”‏ربّی، آپ خدا کے بیٹے ہیں اور اِسرائیل کے بادشاہ ہیں۔“‏ 50 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏کیا آپ اِس لیے ایمان لائے ہیں کیونکہ مَیں نے آپ کو بتایا ہے کہ مَیں نے آپ کو اِنجیر کے درخت کے نیچے دیکھا تھا؟ آپ تو اِن سے بھی بڑی باتیں دیکھیں گے۔“‏ 51 اِس کے بعد یسوع نے کہا:‏ ”‏مَیں آپ لوگوں سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ آپ آسمان کو کُھلا ہوا اور خدا کے فرشتوں کو اِنسان کے بیٹے*‏ کے پاس آتے جاتے دیکھیں گے۔“‏

2 اِس کے دو دن بعد گلیل کے قصبے قانا میں ایک شادی تھی اور یسوع کی ماں وہاں تھیں۔ 2 یسوع اور اُن کے شاگردوں کو بھی اِس شادی پر بلا‌یا گیا تھا۔‏

3 جب یسوع کی ماں نے دیکھا کہ مے کم پڑ گئی ہے تو اُنہوں نے یسوع سے کہا:‏ ”‏اُن کے پاس مے نہیں ہے۔“‏ 4 لیکن یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏بی‌بی، اِس سے ہمارا کیا لینا دینا؟‏*‏ میرا وقت ابھی نہیں آیا۔“‏ 5 اُن کی ماں نے خادموں سے کہا:‏ ”‏جو بھی وہ تمہیں کہیں، وہ کرو۔“‏ 6 وہاں پتھر کے چھ مٹکے پڑے تھے جو یہودیوں کے دستور کے مطابق طہارت*‏ کے لیے رکھے گئے تھے۔ ہر مٹکے میں پانی کی دو یا تین بڑی بالٹیوں*‏ کی گنجائش تھی۔ 7 یسوع نے خادموں سے کہا:‏ ”‏مٹکوں کو پانی سے بھر دیں۔“‏ اِس پر اُنہوں نے مٹکوں کو اُوپر تک بھر دیا۔ 8 پھر یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏اب اِن میں سے تھوڑا سا نکال کر اُس شخص کے پاس لے جائیں جس کے ہاتھ میں دعوت کا اِنتظام ہے۔“‏ اُنہوں نے ایسا ہی کِیا۔ 9 جب دعوت کے منتظم نے اُس پانی کو چکھا جو مے بن چُکا تھا تو اُس نے دُلہے کو بلا‌یا۔ دراصل دعوت کا منتظم یہ نہیں جانتا تھا کہ مے کہاں سے آئی ہے (‏لیکن جن خادموں نے مٹکوں سے پانی نکالا تھا، وہ جانتے تھے)‏۔ 10 اِس لیے اُس نے دُلہے سے کہا:‏ ”‏ہر میزبان پہلے اچھی مے پیش کرتا ہے۔ پھر جب مہمانوں کو نشہ چڑھ جاتا ہے تو وہ ایسی مے پیش کرتا ہے جو زیادہ اچھی نہیں ہوتی۔ لیکن آپ نے اچھی مے ابھی تک بچا کر رکھی ہے۔“‏ 11 یسوع نے یہ معجزہ گلیل کے قصبے قانا میں کِیا اور یہ اُن کا سب سے پہلا معجزہ تھا۔ یوں اُنہوں نے اپنی قوت ظاہر کی اور اُن کے شاگرد اُن پر ایمان لے آئے۔‏

12 اِس کے بعد یسوع، اُن کی ماں، اُن کے بھائی اور اُن کے شاگرد کفرنحوم گئے لیکن وہ زیادہ دن وہاں نہیں رہے۔‏

13 یہودیوں کی عیدِفسح قریب تھی۔ اِس لیے یسوع یروشلیم گئے۔ 14 جب وہ ہیکل*‏ میں گئے تو اُنہوں نے دیکھا کہ لوگ مویشی، بھیڑیں اور کبوتر بیچ رہے ہیں اور پیسوں کا کاروبار کرنے والے بھی وہاں بیٹھے ہیں۔ 15 اِس لیے اُنہوں نے رسیوں سے ایک کوڑا بنایا اور مویشیوں اور بھیڑوں کو اُن لوگوں سمیت ہیکل سے بھگا دیا جو اِنہیں بیچ رہے تھے۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے پیسوں کا کاروبار کرنے والوں کے سِکے بکھیر دیے اور اُن کی میزیں اُلٹ دیں۔ 16 اور جو لوگ کبوتر بیچ رہے تھے، اُن سے یسوع نے کہا:‏ ”‏یہ چیزیں یہاں سے لے جاؤ!‏ میرے باپ کے گھر کو منڈی نہ بناؤ!‏“‏ 17 یہ دیکھ کر یسوع کے شاگردوں کو یاد آیا کہ صحیفوں میں لکھا ہے کہ ”‏میرے دل میں تیرے گھر کے لیے جوش بھڑک اُٹھے گا۔“‏

18 لیکن یہودیوں نے یسوع سے کہا:‏ ”‏ہمیں کوئی نشانی دِکھاؤ جس سے ثابت ہو کہ تمہیں یہ سب کچھ کرنے کا اِختیار دیا گیا ہے۔“‏ 19 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏اِس ہیکل کو گِرا دیں اور مَیں تین دن میں اِسے دوبارہ کھڑا کر دوں گا۔“‏ 20 اِس پر یہودیوں نے کہا:‏ ”‏اِس ہیکل کو بنانے میں 46 (‏چھیالیس)‏ سال لگے تو تُم اِسے تین دن میں کیسے کھڑا کرو گے؟“‏ 21 لیکن اصل میں یسوع ہیکل کی نہیں بلکہ اپنے جسم کی بات کر رہے تھے۔ 22 جب یسوع مُردوں میں سے زندہ ہوئے تو اُن کے شاگردوں کو یاد آیا کہ وہ اکثر یہ بات کہا کرتے تھے اور وہ صحیفوں پر اور یسوع کی باتوں پر ایمان لائے۔‏

23 جب یسوع عیدِفسح کے موقعے پر یروشلیم میں تھے تو اُن کے معجزوں کو دیکھ کر بہت سے لوگ اُن کے نام پر ایمان لے آئے۔ 24 لیکن یسوع کو اُن پر اِعتماد نہیں تھا کیونکہ وہ اُنہیں اچھی طرح سے جانتے تھے۔ 25 اُنہیں کسی اَور کے مُنہ سے اِنسانوں کی فطرت کے بارے میں سننے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اِنسان کے دل میں کیا ہے۔‏

3 اب ایک فریسی تھا جس کا نام نیکُدیمس تھا۔ نیکُدیمس یہودیوں کے ایک پیشوا تھے۔ 2 وہ رات کے وقت یسوع کے پاس آئے اور اُن سے کہا:‏ ”‏ربّی، ہم جانتے ہیں کہ آپ ایک ایسے اُستاد ہیں جسے خدا نے بھیجا ہے کیونکہ جیسے معجزے آپ کر رہے ہیں ویسے معجزے صرف وہ کر سکتا ہے جس کے ساتھ خدا ہو۔“‏ 3 یسوع نے اُنہیں جواب دیا:‏ ”‏مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ جب تک ایک شخص دوبارہ سے پیدا*‏ نہ ہو، وہ خدا کی بادشاہت کو نہیں دیکھ سکتا۔“‏ 4 اِس پر نیکُدیمس نے اُن سے کہا:‏ ”‏ایک اِنسان بڑا ہو کر دوبارہ کیسے پیدا ہو سکتا ہے؟ وہ واپس اپنی ماں کے پیٹ میں جا کر دوبارہ پیدا تو نہیں ہو سکتا!‏“‏ 5 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ جب تک ایک شخص پانی اور روح سے پیدا نہ ہو، وہ خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ 6 جو جسم سے پیدا ہوا ہے، وہ جسمانی ہے اور جو پاک روح سے پیدا ہوا ہے، وہ روحانی ہے۔ 7 میری اِس بات پر حیران نہ ہوں کہ آپ لوگوں کو دوبارہ سے پیدا ہونا پڑے گا۔ 8 ہوا جس طرف کو چاہے، چل پڑتی ہے۔ آپ اِس کی آواز سنتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ یہ کہاں سے آ رہی ہے اور کہاں جا رہی ہے۔ یہی بات ہر اُس شخص پر لاگو ہوتی ہے جو پاک روح سے پیدا ہوا ہے۔“‏

9 اِس پر نیکُدیمس نے اُن سے کہا:‏ ”‏یہ کیسے ہو سکتا ہے؟“‏ 10 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏آپ اِسرائیل کے اُستاد ہو کر بھی اِن باتوں کے بارے میں نہیں جانتے؟ 11 مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ جو باتیں ہم جانتے ہیں، وہ بتاتے ہیں اور جو باتیں ہم دیکھتے ہیں، اُن کی گواہی دیتے ہیں لیکن آپ لوگ ہماری گواہی قبول نہیں کرتے۔ 12 مَیں نے آپ کو زمینی چیزوں کے بارے میں بتایا لیکن آپ نے یقین نہیں کِیا۔ اب اگر مَیں آپ کو آسمانی چیزوں کے بارے میں بتاؤں تو آپ کیسے یقین کریں گے؟ 13 کوئی بھی شخص آسمان پر نہیں گیا سوائے اُس کے جو آسمان سے آیا ہے یعنی اِنسان کا بیٹا۔‏*‏ 14 اور جس طرح موسیٰ نے ویرانے میں سانپ کو لٹکایا اُسی طرح اِنسان کے بیٹے کو بھی لٹکایا جائے گا 15 تاکہ جو بھی شخص اُس پر ایمان لائے، وہ ہمیشہ کی زندگی حاصل کرے۔‏

16 کیونکہ خدا کو دُنیا سے اِتنی محبت ہے کہ اُس نے اپنا اِکلوتا بیٹا*‏ دے دیا تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان ظاہر کرے، وہ ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔ 17 خدا نے اپنے بیٹے کو دُنیا میں اِس لیے نہیں بھیجا کہ وہ دُنیا کے خلاف سزا سنائے بلکہ اِس لیے کہ اُس کے ذریعے دُنیا نجات پائے۔ 18 جو بھی اُس پر ایمان ظاہر کرتا ہے، اُسے سزاوار نہیں ٹھہرایا جائے گا اور جو کوئی ایمان ظاہر نہیں کرتا، اُسے سزاوار ٹھہرایا جا چُکا ہے کیونکہ اُس نے خدا کے اِکلوتے بیٹے*‏ کے نام پر ایمان ظاہر نہیں کِیا۔ 19 اب لوگوں کو اِس بِنا پر سزاوار ٹھہرایا جائے گا کہ روشنی دُنیا میں آئی لیکن اُنہوں نے روشنی کی بجائے تاریکی سے محبت رکھی کیونکہ اُن کے کام بُرے تھے۔ 20 جو شخص بُرے کام کرتا ہے، وہ روشنی سے نفرت کرتا ہے اور اِس میں نہیں آتا تاکہ اُس کے کاموں کا پردہ فاش نہ ہو۔‏*‏ 21 لیکن جو شخص اچھے کام کرتا ہے، وہ روشنی میں آتا ہے تاکہ ظاہر ہو جائے کہ اُس کے کام خدا کی مرضی کے مطابق ہیں۔“‏

22 اِس کے بعد یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ یہودیہ کے دیہاتوں میں گئے۔ وہاں اُنہوں نے شاگردوں کے ساتھ کچھ وقت گزارا اور لوگوں کو بپتسمہ دیا۔ 23 لیکن یوحنا، عینون میں لوگوں کو بپتسمہ دے رہے تھے جو شالیم کے نزدیک ہے کیونکہ وہاں کافی پانی تھا اور لوگ اُن کے پاس آ کر بپتسمہ لے رہے تھے۔ 24 ابھی تک یوحنا کو قید میں نہیں ڈالا گیا تھا۔‏

25 اب یوحنا کے شاگردوں اور ایک یہودی میں طہارت کے حوالے سے بحث چھڑ گئی۔ 26 لہٰذا وہ یوحنا کے پاس آئے اور اُن سے کہا:‏ ”‏ربّی، دیکھیں، جو آدمی دریائے‌اُردن کے پار آپ کے ساتھ تھا اور جس کے بارے میں آپ نے گواہی دی تھی، وہ لوگوں کو بپتسمہ دے رہا ہے اور سب لوگ اُس کے پاس جا رہے ہیں۔“‏ 27 یوحنا نے اُنہیں جواب دیا:‏ ”‏ایک شخص کو تب تک کچھ بھی نہیں مل سکتا جب تک خدا اُسے نہ دے۔ 28 آپ اِس بات کے گواہ ہیں کہ مَیں نے کہا تھا کہ ”‏مَیں مسیح نہیں ہوں لیکن مجھے اُس کے آگے بھیجا گیا ہے۔“‏ 29 دُلہا وہی ہوتا ہے جس کی دُلہن ہوتی ہے۔ لیکن جب دُلہے کا دوست دُلہے کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور اُس کی آواز سنتا ہے تو اُس کی خوشی کا ٹھکانا نہیں رہتا۔ اِسی طرح مَیں بھی بہت خوش ہوں۔ 30 یہ لازمی ہے کہ وہ آگے بڑھتا رہے اور مَیں پیچھے رہوں۔“‏

31 جو شخص اُوپر سے آتا ہے، وہ دوسروں سے عظیم ہے۔ جو شخص زمین سے ہے، وہ زمینی ہے اور اِس لیے وہ زمینی چیزوں کے بارے میں بات کرتا ہے۔ جو شخص آسمان سے آتا ہے، وہ دوسروں سے عظیم ہے۔ 32 وہ اُن باتوں کی گواہی دیتا ہے جو اُس نے دیکھی اور سنی ہیں لیکن کوئی اُس کی گواہی کو قبول نہیں کرتا۔ 33 جو بھی اُس کی گواہی کو قبول کرتا ہے، وہ اِس بات کی تصدیق کرتا ہے*‏ کہ خدا سچا ہے۔ 34 خدا جس شخص کو بھیجتا ہے، وہ خدا کی باتیں بتاتا ہے کیونکہ خدا پاک روح ناپ تول کر نہیں دیتا۔ 35 باپ، بیٹے سے محبت کرتا ہے اور اُس نے سب کچھ بیٹے کے سپرد کر دیا ہے۔ 36 جو بیٹے پر ایمان ظاہر کرتا ہے، اُسے ہمیشہ کی زندگی ملے گی لیکن جو بیٹے کا کہنا نہیں مانتا، اُسے زندگی نہیں ملے گی بلکہ خدا اُس سے ناراض رہے گا۔‏

4 ہمارے مالک کو پتہ چل گیا کہ فریسیوں نے سنا ہے کہ یسوع، یوحنا سے زیادہ شاگرد بنا رہے ہیں اور اُن کو بپتسمہ دے رہے ہیں۔ 2 ‏(‏دراصل یسوع خود بپتسمہ نہیں دیتے تھے بلکہ اُن کے شاگرد بپتسمہ دیتے تھے۔)‏ 3 اِس لیے یسوع یہودیہ چھوڑ کر پھر سے گلیل کے لیے روانہ ہوئے۔ 4 لیکن اُن کو سامریہ کے راستے جانا پڑا۔ 5 سفر کرتے کرتے وہ سامریہ کے شہر سُوخار پہنچے۔ یہ شہر اُس زمین کے نزدیک ہے جو یعقوب نے اپنے بیٹے یوسف کو دی تھی۔ 6 یعقوب کا کنواں بھی وہاں ہے۔ یسوع سفر سے تھکے ہارے کنوئیں*‏ کے پاس بیٹھ گئے۔ یہ تقریباً چھٹے گھنٹے*‏ کی بات تھی۔‏

7 تب ایک سامری عورت کنوئیں سے پانی بھرنے آئی۔ یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏ذرا مجھے پانی پلا دیں۔“‏ 8 ‏(‏اُن کے شاگرد کھانا خریدنے کے لیے شہر گئے ہوئے تھے۔)‏ 9 عورت نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ تو یہودی ہیں۔ پھر آپ مجھ سے پانی کیوں مانگ رہے ہیں جبکہ مَیں ایک سامری عورت ہوں؟“‏ (‏کیونکہ یہودی، سامریوں کے ساتھ تعلقات نہیں رکھتے۔)‏ 10 یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏اگر آپ خدا کی نعمت کے بارے میں جانتیں اور یہ بھی جانتیں کہ کون آپ سے پانی مانگ رہا ہے تو آپ اُس سے مانگتیں اور وہ آپ کو زندگی کا پانی دیتا۔“‏ 11 اِس پر عورت نے کہا:‏ ”‏جناب، یہ کنواں گہرا ہے اور آپ کے پاس پانی بھرنے کے لیے بالٹی بھی نہیں۔ تو پھر آپ کو زندگی کا یہ پانی کہاں سے ملا؟ 12 آپ ہمارے باپ‌دادا یعقوب سے تو بڑے نہیں ہیں جنہوں نے ہمیں یہ کنواں دیا اور جنہوں نے اپنے بیٹوں اور مویشیوں کے ساتھ اِس کا پانی پیا۔“‏ 13 یسوع نے اُسے جواب دیا:‏ ”‏جو اِس کنوئیں کا پانی پیتا ہے، اُسے دوبارہ پیاس لگے گی۔ 14 لیکن جو شخص وہ پانی پیئے گا جو مَیں اُسے دوں گا، اُسے کبھی پیاس نہیں لگے گی بلکہ یہ پانی اُس میں ایک چشمہ بن جائے گا جس سے ہمیشہ کی زندگی کا پانی پھوٹے گا۔“‏ 15 عورت نے کہا:‏ ”‏جناب، مجھے یہ پانی دیں تاکہ مجھے نہ تو پیاس لگے اور نہ ہی بار بار پانی بھرنے کے لیے یہاں آنا پڑے۔“‏

16 یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏جائیں، اپنے شوہر کو بلا کر لائیں۔“‏ 17 اُس نے جواب دیا:‏ ”‏میرا تو کوئی شوہر نہیں ہے۔“‏ یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏آپ نے بالکل صحیح کہا کہ ”‏میرا کوئی شوہر نہیں ہے۔“‏ 18 کیونکہ آپ پانچ شوہر کر چکی ہیں اور جس آدمی کے ساتھ آپ ابھی رہ رہی ہیں، وہ آپ کا شوہر نہیں ہے۔ لہٰذا آپ نے سچ بولا ہے۔“‏ 19 اِس پر عورت نے کہا:‏ ”‏جناب، مَیں دیکھ سکتی ہوں کہ آپ ایک نبی ہیں۔ 20 ہمارے باپ‌دادا اِس پہاڑ پر عبادت کرتے تھے لیکن آپ لوگ کہتے ہیں کہ عبادت یروشلیم میں کرنی چاہیے۔“‏ 21 یسوع نے کہا:‏ ”‏بی‌بی، یقین کریں کہ وہ وقت آ رہا ہے جب آپ لوگ نہ تو اِس پہاڑ پر اور نہ ہی یروشلیم میں آسمانی باپ کی عبادت کریں گے۔ 22 آپ علم کے بغیر عبادت کرتے ہیں جبکہ ہم علم کی بِنا پر عبادت کرتے ہیں کیونکہ نجات یہودیوں سے شروع ہوتی ہے۔ 23 لیکن وہ وقت آ رہا ہے بلکہ اب ہے جب باپ کے سچے خادم روح اور سچائی سے اُس کی عبادت کریں گے کیونکہ باپ چاہتا ہے کہ ایسے ہی لوگ اُس کی عبادت کریں۔ 24 خدا روح ہے*‏ اور اُس کی عبادت کرنے والوں کو روح اور سچائی سے عبادت کرنی ہوگی۔“‏ 25 عورت نے کہا:‏ ”‏مَیں جانتی ہوں کہ وہ شخص آنے والا ہے جسے مسیح کہتے ہیں۔ جب وہ آئے گا تو وہ ہمیں ساری باتیں صاف صاف بتائے گا۔“‏ 26 اِس پر یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏مَیں ہی وہ شخص ہوں۔“‏

27 اُسی لمحے یسوع کے شاگرد واپس آ گئے۔ وہ یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے کہ یسوع ایک عورت سے بات کر رہے ہیں۔ لیکن ظاہر سی بات ہے کہ کسی نے یہ نہیں کہا کہ ”‏آپ کیا چاہتے ہیں؟“‏ یا ”‏آپ اِس عورت سے بات کیوں کر رہے ہیں؟“‏ 28 عورت اپنا مٹکا وہیں چھوڑ کر شہر چلی گئی اور لوگوں سے کہنے لگی:‏ 29 ‏”‏آؤ، ایک آدمی کو دیکھو جس نے مجھے وہ سب کچھ بتایا جو مَیں نے کِیا ہے۔ کہیں وہ مسیح تو نہیں؟“‏ 30 یہ سُن کر لوگ شہر سے نکلے اور یسوع کے پاس جانے لگے۔‏

31 اِس دوران شاگرد یسوع سے کہہ رہے تھے کہ ”‏ربّی، کھانا کھا لیں۔“‏ 32 لیکن اُنہوں نے کہا:‏ ”‏میرے پاس جو کھانا ہے، اُس کے بارے میں آپ نہیں جانتے۔“‏ 33 یہ سُن کر شاگرد ایک دوسرے سے کہنے لگے:‏ ”‏کیا کوئی اُن کو کھانا دے چُکا ہے؟“‏ 34 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏میرا کھانا یہ ہے کہ مَیں اُس کی مرضی پر چلوں جس نے مجھے بھیجا ہے اور اُس کا کام پورا کروں۔ 35 کیا آپ نہیں کہتے کہ فصل کی کٹائی میں ابھی چار مہینے باقی ہیں؟ دیکھیں!‏ مَیں آپ سے کہتا ہوں کہ اپنی نظریں اُٹھا کر دیکھیں کہ کھیت سنہرے ہیں اور فصل کٹائی کے لیے تیار ہے۔ 36 کاٹنے والے کو ابھی سے ہی اجر مل رہا ہے اور وہ ہمیشہ کی زندگی کا پھل جمع کر رہا ہے تاکہ بونے والا اور کاٹنے والا مل کر خوشی منائیں۔ 37 اِس طرح یہ کہاوت سچ ثابت ہو گئی ہے کہ ایک بوتا ہے جبکہ دوسرا کاٹتا ہے۔ 38 مَیں نے آپ کو ایسی فصل کاٹنے بھیجا ہے جس کے لیے آپ نے محنت نہیں کی۔ دوسروں نے محنت کی اور آپ کو اُن کی محنت کا پھل ملا۔“‏

39 اُس شہر میں رہنے والے بہت سے سامری، یسوع پر ایمان لائے کیونکہ اُس عورت نے گواہی دی تھی کہ ”‏اُس شخص نے مجھے وہ ساری باتیں بتائی ہیں جو مَیں نے کی ہیں۔“‏ 40 لہٰذا جب وہ سامری، یسوع کے پاس آئے تو اُنہوں نے یسوع سے درخواست کی کہ وہ اُن کے پاس ٹھہریں۔ اِس لیے یسوع دو دن وہاں رہے۔ 41 اُن کی تعلیم سُن کر اَور بھی بہت سے سامری ایمان لائے۔ 42 اِن لوگوں نے اُس عورت سے کہا:‏ ”‏اب ہم صرف تمہاری باتوں کی وجہ سے ایمان نہیں رکھتے۔ ہم نے خود اِس آدمی کی باتیں سنی ہیں اور ہم جان گئے ہیں کہ یہ واقعی دُنیا کا نجات‌دہندہ ہے۔“‏

43 دو دن کے بعد یسوع گلیل کے لیے روانہ ہو گئے۔ 44 اُنہوں نے کہا تھا کہ اپنے علاقے میں نبی کی عزت نہیں کی جاتی۔ 45 مگر جب وہ گلیل پہنچے تو وہاں کے لوگ اِس لیے بڑی خوشی سے اُن سے ملے کیونکہ اُنہوں نے وہ سارے کام دیکھے تھے جو یسوع نے عید کے موقعے پر یروشلیم میں کیے تھے کیونکہ وہ لوگ بھی وہاں گئے تھے۔‏

46 پھر یسوع گلیل کے قصبے قانا گئے جہاں اُنہوں نے پانی کو مے میں بدلا تھا۔ وہاں ایک شاہی افسر تھا جس کا بیٹا کفرنحوم میں بیمار پڑا تھا۔ 47 جب اُس نے سنا کہ یسوع یہودیہ سے گلیل آئے ہیں تو وہ اُن سے ملنے کے لیے گیا اور اُن سے درخواست کی کہ وہ آ کر اُس کے بیٹے کو ٹھیک کر دیں کیونکہ وہ مرنے والا تھا۔ 48 لیکن یسوع نے کہا:‏ ”‏آپ لوگ تو نشانیاں اور معجزے دیکھے بغیر ایمان نہیں لائیں گے!‏“‏ 49 شاہی افسر نے کہا:‏ ”‏مالک، میرے گھر آئیں۔ ایسا نہ ہو کہ میرا بچہ مر جائے۔“‏ 50 اِس پر یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏جائیں، آپ کا بیٹا زندہ رہے گا۔“‏ اُس آدمی نے یسوع کی بات پر یقین کر لیا اور روانہ ہو گیا۔ 51 ابھی وہ راستے ہی میں تھا کہ اُس کے غلام آئے اور اُس سے کہا کہ ”‏آپ کا بیٹا زندہ ہے۔“‏*‏ 52 اُس آدمی نے پوچھا:‏ ”‏میرے بیٹے کی طبیعت کب بہتر ہونے لگی؟“‏ غلاموں نے کہا:‏ ”‏اُس کا بخار کل ساتویں گھنٹے*‏ اُترا۔“‏ 53 یہ سُن کر وہ آدمی جان گیا کہ اُس کا بیٹا اُسی گھنٹے ٹھیک ہو گیا تھا جب یسوع نے کہا تھا:‏ ”‏آپ کا بیٹا زندہ رہے گا۔“‏ لہٰذا وہ اور اُس کے سارے گھر والے ایمان لے آئے۔ 54 یہ دوسرا معجزہ تھا جو یسوع نے یہودیہ سے گلیل آ کر کِیا تھا۔‏

5 پھر جب یہودیوں کی عید آئی تو یسوع یروشلیم گئے۔ 2 یروشلیم میں بھیڑ دروازے کے پاس ایک تالاب ہے جسے عبرانی میں بیت‌زاتا*‏ کہا جاتا ہے اور جس کے اِردگِرد پانچ برآمدے ہیں۔ 3 اِن برآمدوں میں بہت سے بیمار، اندھے اور لنگڑے لوگ پڑے تھے اور ایسے لوگ بھی جن کے بازوؤں یا ٹانگوں پر فالج ہوا تھا۔‏*‏ 4 ‏—‏*‏ 5 وہاں ایک آدمی بھی تھا جو 38 (‏اڑتیس)‏ سال سے بیمار تھا۔ 6 جب یسوع نے اُس کو وہاں پڑا دیکھا تو اُنہوں نے اُس سے پوچھا:‏ ”‏کیا آپ تندرست ہونا چاہتے ہیں؟“‏ کیونکہ اُن کو پتہ تھا کہ وہ آدمی بہت عرصے سے بیمار ہے۔ 7 اُس آدمی نے جواب دیا:‏ ”‏جناب، میرے پاس کوئی نہیں جو مجھے اُس وقت تالاب میں اُتارے جب پانی ہلتا ہے۔ اِس لیے جب تک مَیں وہاں پہنچتا ہوں، کوئی اَور تالاب میں اُتر جاتا ہے۔“‏ 8 یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏اُٹھیں!‏ اپنی چٹائی اُٹھائیں اور چلیں پھریں۔“‏ 9 اِس پر وہ آدمی فوراً ٹھیک ہو گیا اور اپنی چٹائی اُٹھا کر چلنے پھرنے لگا۔‏

یہ واقعہ سبت کے دن ہوا۔ 10 اِس لیے یہودیوں نے اُس آدمی سے کہا:‏ ”‏آج سبت کا دن ہے اور چٹائی اُٹھانا جائز نہیں!‏“‏ 11 لیکن اُس نے کہا:‏ ”‏جس شخص نے مجھے تندرست کِیا، اُسی نے مجھ سے کہا کہ اپنی چٹائی اُٹھاؤ اور چلو پھرو۔“‏ 12 اُنہوں نے اُس سے پوچھا:‏ ”‏وہ کون ہے جس نے تمہیں چٹائی اُٹھانے اور چلنے پھرنے کو کہا؟“‏ 13 لیکن وہ آدمی اُن کو نہیں بتا سکا کہ کس نے اُس کو ٹھیک کِیا تھا کیونکہ یسوع بِھیڑ میں آگے نکل گئے تھے۔‏

14 بعد میں یسوع اُس آدمی سے ہیکل*‏ میں ملے اور اُس سے کہا:‏ ”‏دیکھیں، اب آپ تندرست ہو گئے ہیں۔ آئندہ گُناہ نہ کریں تاکہ آپ کے ساتھ اِس سے زیادہ بُرا نہ ہو۔“‏ 15 اُس آدمی نے جا کر یہودیوں کو بتایا کہ یسوع نے اُس کو ٹھیک کِیا تھا۔ 16 یہ سُن کر یہودی، یسوع کی مخالفت کرنے لگے کیونکہ اُنہوں نے سبت کے دن یہ کام کِیا تھا۔ 17 لیکن یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏میرا باپ اب تک کام کرتا آیا ہے اور مَیں بھی کام کرتا رہوں گا۔“‏ 18 جب یہودیوں نے یہ سنا تو وہ یسوع کو مار ڈالنے کی اَور بھی کوشش کرنے لگے کیونکہ اُن کے خیال میں یسوع نہ صرف سبت کو توڑ رہے تھے بلکہ خدا کو باپ کہہ کر اپنے آپ کو اُس کے برابر ٹھہرا رہے تھے۔‏

19 اِس لیے یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ بیٹا اپنے اِختیار سے کچھ نہیں کر سکتا بلکہ صرف وہی کام کر سکتا ہے جو وہ باپ کو کرتے دیکھتا ہے کیونکہ جو کام باپ کرتا ہے، وہی کام بیٹا بھی اُسی طرح کرتا ہے جیسے باپ کرتا ہے۔ 20 باپ، بیٹے سے پیار کرتا ہے اور اُس کو وہ سارے کام دِکھاتا ہے جو وہ خود کرتا ہے بلکہ وہ اُس کو اِن سے بھی بڑے کام دِکھائے گا تاکہ آپ حیران ہو جائیں۔ 21 کیونکہ جس طرح باپ مُردوں کو زندہ کرتا ہے اور اُن کو زندگی عطا کرتا ہے اُسی طرح بیٹا بھی جسے چاہے، زندگی عطا کرتا ہے۔ 22 باپ کسی کی عدالت نہیں کرتا بلکہ اُس نے عدالت کرنے کا کام بیٹے کے سپرد کِیا ہے 23 تاکہ سب اُسی طرح بیٹے کی عزت کریں جیسے وہ باپ کی کرتے ہیں۔ جو کوئی بیٹے کی عزت نہیں کرتا، وہ باپ کی بھی عزت نہیں کرتا جس نے اُسے بھیجا ہے۔ 24 مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ جو میری باتیں سنتا ہے اور میرے بھیجنے والے کی باتوں پر یقین کرتا ہے، اُس کو ہمیشہ کی زندگی ملے گی اور اُس کو سزا نہیں سنائی جائے گی بلکہ وہ موت کی گِرفت سے آزاد ہو کر زندہ ہو گیا ہے۔‏

25 مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ وہ وقت آنے والا ہے بلکہ اب ہے جب مُردے خدا کے بیٹے کی آواز سنیں گے اور جو اُس پر دھیان دیں گے، وہ زندہ ہوں گے۔ 26 کیونکہ جس طرح باپ زندگی عطا کرنے کی قوت رکھتا ہے اُسی طرح اُس نے بیٹے کو بھی زندگی عطا کرنے کی قوت دی ہے۔ 27 اُسے باپ کی طرف سے عدالت کرنے کا اِختیار دیا گیا ہے کیونکہ وہ اِنسان کا بیٹا*‏ ہے۔ 28 اِس بات پر حیران نہ ہوں کیونکہ وہ وقت آئے گا جب سب لوگ جو قبروں*‏ میں ہیں، اُس کی آواز سنیں گے 29 اور نکل آئیں گے؛ جنہوں نے زندہ ہو کر اچھے کام کیے، اُنہیں زندگی ملے گی اور جنہوں نے زندہ ہو کر بُرے کام کیے، اُنہیں سزا ملے گی۔ 30 مَیں اپنے اِختیار سے کوئی کام نہیں کر سکتا۔ جو کچھ باپ مجھ سے کہتا ہے، مَیں اُسی کے مطابق فیصلہ سناتا ہوں اور مَیں اِنصاف سے فیصلہ کرتا ہوں کیونکہ مَیں اپنی مرضی نہیں کرتا بلکہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی پر چلتا ہوں۔‏

31 اگر صرف مَیں ہی اپنے بارے میں گواہی دیتا تو میری گواہی سچی نہ ہوتی۔ 32 لیکن ایک اَور ہے جو میرے بارے میں گواہی دیتا ہے اور مَیں جانتا ہوں کہ اُس کی گواہی سچی ہے۔ 33 آپ لوگوں نے یوحنا کے پاس آدمی بھیجے اور اُس نے سچائی کے بارے میں گواہی دی۔ 34 مجھے اِنسانوں کی گواہی سے کوئی لینا دینا نہیں مگر مَیں یہ باتیں اِس لیے کہہ رہا ہوں تاکہ آپ نجات پائیں۔ 35 وہ آدمی ایک جلتا ہوا چراغ تھا جس نے روشنی دی اور تھوڑے عرصے کے لیے آپ اُس کی روشنی سے خوش ہونا چاہتے تھے۔ 36 لیکن میرے پاس یوحنا کی گواہی سے بھی بڑی گواہی ہے کیونکہ جو کام میرے باپ نے مجھے سونپے ہیں یعنی جو کام مَیں کر رہا ہوں، وہ گواہی دے رہے ہیں کہ باپ نے مجھے بھیجا ہے۔ 37 اِس کے علاوہ میرا باپ جس نے مجھے بھیجا ہے، اُس نے بھی میرے بارے میں گواہی دی ہے۔ آپ نے اُس کی آواز کبھی نہیں سنی اور اُس کی صورت کبھی نہیں دیکھی 38 اور آپ کے دلوں میں اُس کا کلام نہیں ہے کیونکہ آپ اُس شخص کی باتوں کا یقین نہیں کرتے جسے اُس نے بھیجا ہے۔‏

39 آپ صحیفوں کا مطالعہ کرتے ہیں کیونکہ آپ کا خیال ہے کہ آپ کو اِن کے ذریعے ہمیشہ کی زندگی ملے گی۔ یہی تو میرے بارے میں گواہی دیتے ہیں۔ 40 لیکن پھر بھی آپ زندگی حاصل کرنے کے لیے میرے پاس نہیں آنا چاہتے۔ 41 مَیں اِنسانوں سے تعریف قبول نہیں کرتا 42 لیکن مَیں اچھی طرح جانتا ہوں کہ آپ کے دلوں میں خدا کے لیے محبت نہیں ہے۔ 43 مَیں اپنے باپ کے نام سے آیا ہوں لیکن آپ مجھے قبول نہیں کر رہے ہیں۔ اگر کوئی اپنے نام سے آتا تو آپ اُسے قبول کر لیتے۔ 44 آپ یقین کر بھی کیسے سکتے ہیں جبکہ آپ ایک دوسرے سے عزت چاہتے ہیں لیکن اُس عزت کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے جو واحد خدا کی طرف سے ملتی ہے؟ 45 یہ نہ سوچیں کہ باپ کے سامنے مَیں آپ پر اِلزام لگاؤں گا۔ ہاں، ایک ہے جو آپ پر اِلزام لگاتا ہے یعنی موسیٰ جن پر آپ نے آس لگائی ہے۔ 46 دراصل اگر آپ موسیٰ کی باتوں پر یقین کرتے تو آپ میری باتوں پر بھی یقین کرتے کیونکہ اُنہوں نے میرے بارے میں لکھا تھا۔ 47 لیکن اگر آپ اُن باتوں پر یقین نہیں کرتے جو اُنہوں نے لکھی تھیں تو پھر آپ میری باتوں پر کیسے یقین کریں گے؟“‏

6 اِس کے بعد یسوع گلیل کی جھیل یعنی بحیرۂ‌طبریہ کے پار گئے۔ 2 بہت سے لوگ اُن کے پیچھے پیچھے گئے کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ یسوع معجزانہ طور پر بیماروں کو ٹھیک کر رہے ہیں۔ 3 پھر یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ ایک پہاڑ پر گئے اور وہاں بیٹھ گئے۔ 4 اب یہودیوں کی عیدِفسح نزدیک تھی۔ 5 جب یسوع نے نظریں اُٹھائیں تو دیکھا کہ بہت سے لوگ اُن کی طرف آ رہے تھے۔ اِس لیے اُنہوں نے فِلپّس سے کہا:‏ ”‏ہم اِن سب لوگوں کے لیے روٹی کہاں سے خریدیں گے؟“‏ 6 حالانکہ یسوع کو پتہ تھا کہ وہ کیا کرنے والے ہیں لیکن اُنہوں نے فِلپّس کو آزمانے کے لیے یہ سوال پوچھا۔ 7 فِلپّس نے جواب دیا:‏ ”‏اگر ہم 200 دینار کی روٹیاں بھی خریدیں تو یہ اِتنے سارے لوگوں کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔“‏ 8 اندریاس جو یسوع کے شاگرد اور شمعون پطرس کے بھائی تھے، اُنہوں نے کہا:‏ 9 ‏”‏دیکھیں، اِس بچے کے پاس جَو کی پانچ روٹیاں اور دو چھوٹی مچھلیاں ہیں۔ لیکن اِن سے کیا بنے گا؟“‏

10 یسوع نے کہا:‏ ”‏سب لوگوں کو بٹھائیں۔“‏ اُس جگہ بہت زیادہ گھاس تھی اور لوگ اِس پر بیٹھ گئے۔ وہاں تقریباً 5000 مرد تھے۔ 11 پھر یسوع نے روٹیاں لیں، اِن پر دُعا کی اور وہاں بیٹھے لوگوں میں بانٹ دیں۔ اِسی طرح اُنہوں نے چھوٹی مچھلیاں بھی بانٹیں اور سب نے جی بھر کر کھایا۔ 12 جب سب لوگ سیر ہو گئے تو یسوع نے شاگردوں سے کہا:‏ ”‏جو ٹکڑے بچ گئے ہیں، اُنہیں جمع کر لیں تاکہ کچھ ضائع نہ ہو۔“‏ 13 لہٰذا اُنہوں نے وہ ٹکڑے جمع کیے جو پانچ روٹیوں سے بچ گئے تھے اور اُن سے 12 ٹوکرے بھر لیے۔‏

14 یسوع کا یہ معجزہ دیکھ کر لوگوں نے کہا:‏ ”‏بِلاشُبہ یہ وہی نبی ہے جسے دُنیا میں آنا تھا۔“‏ 15 یسوع کو پتہ تھا کہ لوگ اُن کو زبردستی بادشاہ بنانا چاہتے ہیں اِس لیے وہ اکیلے ایک پہاڑ پر چلے گئے۔‏

16 جب شام ہوئی تو شاگرد جھیل پر گئے 17 اور ایک کشتی پر سوار ہو کر جھیل کے اُس پار کفرنحوم کے لیے روانہ ہوئے۔ اندھیرا ہو چُکا تھا اور یسوع ابھی تک اُن کے پاس نہیں آئے تھے۔ 18 پھر تیز ہوا چلنے لگی اور جھیل میں اُونچی اُونچی لہریں اُٹھنے لگیں۔ 19 جب شاگردوں نے کوئی تین چار میل*‏ کا فاصلہ طے کر لیا تو اُنہوں نے دیکھا کہ یسوع پانی پر چل کر کشتی کے قریب آ رہے ہیں اور وہ بہت ڈر گئے۔ 20 لیکن یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏ڈریں مت۔ مَیں ہوں۔“‏ 21 تب اُنہوں نے یسوع کو کشتی میں سوار ہونے دیا اور جلد ہی اپنی منزل پر پہنچ گئے۔‏

22 جو لوگ جھیل کے اِس پار رہ گئے تھے، اُنہوں نے اگلے دن دیکھا کہ کنارے پر کوئی کشتی نہیں ہے۔ اُن کو پتہ تھا کہ کل شام تک وہاں بس ایک چھوٹی کشتی تھی جس پر سوار ہو کر شاگرد جھیل کے اُس پار جانے کے لیے روانہ ہوئے تھے مگر یسوع اُن کے ساتھ نہیں گئے تھے۔ 23 پھر شہر طبریہ سے کشتیاں اُس جگہ کے قریب پہنچیں جہاں لوگوں نے وہ روٹیاں کھائی تھیں جن پر ہمارے مالک نے دُعا کی تھی۔ 24 جب لوگوں نے دیکھا کہ نہ تو یسوع اور نہ ہی اُن کے شاگرد وہاں ہیں تو وہ کشتیوں پر سوار ہوئے اور یسوع کو ڈھونڈنے کے لیے کفرنحوم گئے۔‏

25 جب اُنہوں نے جھیل کے اُس پار پہنچ کر یسوع کو دیکھا تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏ربّی، آپ کب یہاں آئے؟“‏ 26 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ آپ لوگ مجھے اِس لیے نہیں ڈھونڈ رہے تھے کہ مَیں نے آپ کے سامنے معجزے کیے بلکہ اِس لیے کہ مَیں نے آپ کو پیٹ بھر کر روٹی کھلائی۔ 27 اُس کھانے کے لیے محنت نہ کریں جو خراب ہوتا ہے بلکہ اُس کھانے کے لیے جو خراب نہیں ہوتا اور جس کے ذریعے ہمیشہ کی زندگی ملتی ہے۔ یہ کھانا اِنسان کا بیٹا*‏ آپ کو دے گا کیونکہ اُس پر باپ یعنی خدا نے اپنی خوشنودی کی مُہر لگائی ہے۔“‏

28 اِس پر اُنہوں نے یسوع سے کہا:‏ ”‏ہمیں کون سے کام کرنے چاہئیں تاکہ خدا ہم سے خوش ہو؟“‏ 29 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏جو کام خدا کو پسند ہے، وہ یہ ہے کہ آپ اُس شخص پر ایمان ظاہر کریں جسے اُس نے بھیجا ہے۔“‏ 30 پھر لوگوں نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ ہمیں کون سا معجزہ دِکھائیں گے تاکہ ہم آپ کی بات پر یقین کریں؟ آپ کون سا کام کریں گے؟ 31 ہمارے باپ‌دادا نے ویرانے میں من کھایا جیسا کہ لکھا ہے:‏ ”‏اُس نے اُن کو آسمان سے روٹی دی۔“‏ “‏ 32 اِس پر یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ موسیٰ نے آپ کو آسمان سے روٹی نہیں دی لیکن میرا باپ آپ کو آسمان سے اصلی روٹی دیتا ہے۔ 33 کیونکہ جو روٹی خدا دیتا ہے، یہ وہ شخص ہے جو آسمان سے آتا ہے اور دُنیا کو زندگی دیتا ہے۔“‏ 34 یہ سُن کر لوگوں نے کہا:‏ ”‏مالک، ہمیں یہ روٹی ہمیشہ دیا کریں۔“‏

35 یسوع نے کہا:‏ ”‏مَیں زندگی کی روٹی ہوں۔ جو میرے پاس آتا ہے، اُسے کبھی بھوک نہیں لگے گی اور جو مجھ پر ایمان ظاہر کرتا ہے، اُسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ 36 لیکن جیسے مَیں نے کہا کہ آپ نے مجھے دیکھا ہے مگر پھر بھی یقین نہیں کرتے۔ 37 ہر وہ شخص جسے باپ مجھے دیتا ہے، میرے پاس آئے گا۔ اور جو میرے پاس آتا ہے، مَیں اُسے کبھی نہیں بھگاؤں گا۔ 38 کیونکہ مَیں آسمان سے اپنی مرضی کرنے نہیں بلکہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی پر چلنے آیا ہوں۔ 39 میرے بھیجنے والے کی مرضی یہ ہے کہ جو لوگ اُس نے مجھے دیے ہیں، اُن میں سے کوئی کھو نہ جائے بلکہ مَیں اُن کو آخری دن پر زندہ کروں۔ 40 کیونکہ میرے باپ کی مرضی یہ ہے کہ جو کوئی بیٹے کو قبول کرے اور اُس پر ایمان ظاہر کرے، اُسے ہمیشہ کی زندگی ملے۔ اور مَیں اُسے آخری دن پر زندہ کروں گا۔“‏

41 یہودی بڑبڑانے لگے کیونکہ یسوع نے کہا تھا کہ ”‏مَیں وہ روٹی ہوں جو آسمان سے آئی ہے۔“‏ 42 وہ کہنے لگے:‏ ”‏کیا یہ یوسف کا بیٹا یسوع نہیں؟ ہم اِس کے ماں باپ کو جانتے ہیں تو پھر یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ ”‏مَیں آسمان سے آیا ہوں“‏؟“‏ 43 اِس پر یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏بڑبڑائیں مت۔ 44 کوئی شخص میرے پاس نہیں آ سکتا جب تک کہ باپ اُسے میرے پاس نہ لائے۔‏*‏ اور مَیں اُسے آخری دن پر زندہ کروں گا۔ 45 نبیوں کے صحیفوں میں لکھا ہے:‏ ”‏وہ سب یہوواہ*‏ سے تعلیم پائیں گے۔“‏ جس کسی نے باپ کی باتیں سنی ہیں اور اُس سے تعلیم پائی ہے، وہ میرے پاس آتا ہے۔ 46 اِس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی اِنسان نے باپ کو دیکھا ہے کیونکہ صرف اُسی نے باپ کو دیکھا ہے جو خدا کی طرف سے آیا ہے۔ 47 مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ جو کوئی ایمان رکھتا ہے، اُسے ہمیشہ کی زندگی ملے گی۔‏

48 مَیں زندگی کی روٹی ہوں۔ 49 آپ کے باپ‌دادا نے ویرانے میں من کھایا لیکن پھر بھی وہ مر گئے۔ 50 مگر جو کوئی وہ روٹی کھاتا ہے جو آسمان سے آتی ہے، وہ نہیں مرے گا۔ 51 مَیں وہ زندگی کی روٹی ہوں جو آسمان سے آئی ہے۔ اگر کوئی اِس روٹی کو کھائے گا تو وہ ہمیشہ کے لیے زندہ رہے گا۔ دراصل جو روٹی مَیں دوں گا، وہ میرا جسم ہے۔ اور مَیں اِسے دوں گا تاکہ دُنیا کو زندگی ملے۔“‏

52 یہ سُن کر یہودی آپس میں بحث کرنے لگے اور کہنے لگے:‏ ”‏یہ آدمی ہمیں اپنا جسم کھانے کو کیسے دے سکتا ہے؟“‏ 53 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ جب تک آپ اِنسان کے بیٹے کا گوشت نہیں کھائیں گے اور اُس کا خون نہیں پئیں گے، آپ ہمیشہ کی زندگی نہیں پائیں گے۔‏*‏ 54 جو میرا گوشت کھاتا ہے اور میرا خون پیتا ہے، اُسے ہمیشہ کی زندگی ملے گی اور مَیں اُسے آخری دن پر زندہ کروں گا۔ 55 کیونکہ میرا گوشت اصلی کھانا ہے اور میرا خون اصلی مشروب ہے۔ 56 جو کوئی میرا گوشت کھاتا ہے اور میرا خون پیتا ہے، وہ میرے ساتھ متحد رہتا ہے اور مَیں اُس کے ساتھ متحد رہتا ہوں۔ 57 جیسے زندہ باپ نے مجھے بھیجا ہے اور مَیں باپ کی وجہ سے زندہ ہوں اُسی طرح جو شخص میرا گوشت کھاتا ہے، اُس کو میری وجہ سے زندگی ملے گی۔ 58 یہی وہ روٹی ہے جو آسمان سے آئی ہے۔ یہ اُس روٹی کی طرح نہیں جو آپ کے باپ‌دادا نے کھائی تھی اور پھر بھی مر گئے۔ جو اِس روٹی کو کھاتا ہے، وہ ہمیشہ کے لیے زندہ رہے گا۔“‏ 59 یہ باتیں یسوع نے کفرنحوم کی ایک عبادت‌گاہ*‏ میں تعلیم دیتے وقت کہیں۔‏

60 یسوع کی یہ باتیں سُن کر اُن کے بہت سے شاگردوں نے کہا:‏ ”‏یہ تو بکواس ہے۔ اِس آدمی کی باتیں ہم سے برداشت نہیں ہوتیں۔“‏ 61 لیکن یسوع جانتے تھے کہ اُن کے شاگرد کیوں بڑبڑا رہے ہیں۔ اِس لیے اُنہوں نے کہا:‏ ”‏کیا میری باتیں آپ کو ناگوار گزری ہیں؟ 62 تو پھر اُس وقت کیا ہوگا جب آپ اِنسان کے بیٹے کو وہاں جاتے دیکھیں گے جہاں سے وہ آیا ہے؟ 63 دراصل روح*‏ زندگی دیتی ہے، جسم کا کوئی فائدہ نہیں۔ جو باتیں مَیں نے آپ سے کہی ہیں، وہ روح کی طرف سے ہیں اور زندگی دیتی ہیں۔ 64 لیکن آپ میں سے کچھ میری باتوں پر یقین نہیں کرتے۔“‏ دراصل یسوع شروع سے جانتے تھے کہ کون سے لوگ یقین نہیں کرتے اور کون اُنہیں پکڑوائے گا۔ 65 اُنہوں نے یہ بھی کہا:‏ ”‏اِس لیے مَیں نے آپ سے کہا تھا کہ کوئی میرے پاس نہیں آ سکتا جب تک کہ باپ اُسے اِجازت نہ دے۔“‏

66 اِس وجہ سے یسوع کے بہت سے شاگردوں نے اُن کی پیروی کرنا چھوڑ دی اور دوبارہ سے اُن کاموں میں لگ گئے جو وہ پہلے کرتے تھے۔ 67 اِس پر یسوع نے 12 رسولوں سے کہا:‏ ”‏کیا آپ بھی مجھے چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں؟“‏ 68 شمعون پطرس نے جواب دیا:‏ ”‏مالک، ہم کس کے پاس جائیں؟ ہمیشہ کی زندگی کی باتیں تو آپ ہی کرتے ہیں۔ 69 ہم ایمان لائے ہیں اور جان گئے ہیں کہ آپ خدا کے مُقدس خادم ہیں۔“‏ 70 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ 12 کو مَیں نے خود چُنا تھا نا؟ لیکن آپ میں سے ایک مجھے بدنام کرنے والا ہے۔“‏*‏ 71 دراصل وہ شمعون اِسکریوتی کے بیٹے یہوداہ کی بات کر رہے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہوداہ اُن کو پکڑوائے گا حالانکہ وہ 12 رسولوں میں سے ایک تھا۔‏

7 اِس کے بعد یسوع گلیل میں سفر کرتے رہے کیونکہ وہ یہودیہ نہیں جانا چاہتے تھے۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ یہودی اُن کو مار ڈالنا چاہتے تھے۔ 2 لیکن یہودیوں کی ایک عید یعنی جھونپڑیوں کی عید*‏ نزدیک تھی۔ 3 اِس لیے یسوع کے بھائیوں نے اُن سے کہا:‏ ”‏یہودیہ جائیں تاکہ آپ کے شاگرد بھی اُن کاموں کو دیکھ سکیں جو آپ کر رہے ہیں۔ 4 کیونکہ جو شخص مشہور ہونا چاہتا ہے، وہ چھپ چھپ کر کام نہیں کرتا۔ اگر آپ ایسے کام کر رہے ہیں تو دُنیا کو دِکھائیں۔“‏ 5 دراصل اُن کے بھائی اُن پر ایمان نہیں لائے تھے۔ 6 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏میرا وقت ابھی نہیں آیا لیکن آپ کے لیے کوئی بھی وقت ٹھیک ہے۔ 7 دُنیا آپ سے نفرت نہیں کرتی لیکن مجھ سے نفرت کرتی ہے کیونکہ مَیں گواہی دیتا ہوں کہ اِس کے کام بُرے ہیں۔ 8 آپ عید پر جائیں۔ مَیں ابھی اِس عید پر نہیں جاؤں گا کیونکہ میرا وقت ابھی نہیں آیا۔“‏ 9 اُن سے یہ کہنے کے بعد یسوع گلیل میں رہے۔‏

10 لیکن جب اُن کے بھائی عید پر چلے گئے تو یسوع بھی وہاں گئے مگر کُھلے عام نہیں بلکہ چھپ کر۔ 11 اِس لیے یہودی، عید کے دوران اُنہیں ڈھونڈنے لگے اور کہنے لگے:‏ ”‏وہ آدمی کہاں ہے؟“‏ 12 وہاں موجود لوگ چپکے چپکے یسوع کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ کچھ لوگ کہہ رہے تھے:‏ ”‏وہ اچھا آدمی ہے“‏ جبکہ دوسرے کہہ رہے تھے:‏ ”‏وہ اچھا آدمی نہیں ہے۔ وہ لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔“‏ 13 لیکن کوئی بھی شخص کُھلے عام اُن کے بارے میں بات نہیں کر رہا تھا کیونکہ سب لوگ یہودیوں سے ڈرتے تھے۔‏

14 جب عید کے آدھے دن گزر گئے تو یسوع ہیکل*‏ میں گئے اور تعلیم دینے لگے۔ 15 یہودی اُن کی تعلیم کو سُن کر بہت حیران ہوئے اور کہنے لگے:‏ ”‏اِس آدمی نے مذہبی سکولوں میں تعلیم حاصل نہیں کی تو پھر اِس کے پاس صحیفوں کا اِتنا علم کہاں سے آیا؟“‏ 16 یسوع نے اُنہیں جواب دیا:‏ ”‏مَیں جو تعلیم دیتا ہوں، وہ میری نہیں بلکہ اُس کی ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔ 17 اگر کوئی شخص اُس کی مرضی پر چلنا چاہتا ہے تو وہ جان جائے گا کہ آیا میری تعلیم خدا کی طرف سے ہے یا میری اپنی طرف سے۔ 18 جو شخص اپنی طرف سے تعلیم دیتا ہے، وہ اپنی بڑائی چاہتا ہے لیکن جو شخص اُس کی بڑائی چاہتا ہے جس نے اُسے بھیجا ہے، وہ سچا ہے اور اُس میں کوئی بُرائی نہیں۔ 19 کیا موسیٰ نے آپ کو شریعت نہیں دی؟ لیکن آپ میں سے کوئی بھی شریعت پر عمل نہیں کرتا۔ آپ لوگ مجھے کیوں مار ڈالنا چاہتے ہیں؟“‏ 20 لوگوں نے جواب دیا:‏ ”‏تُم میں کوئی بُرا فرشتہ گھس گیا ہے۔ کون ہے جو تمہیں مار ڈالنا چاہتا ہے؟“‏ 21 اِس پر یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏مَیں نے بس ایک کام کر کے دِکھایا اور آپ سب حیران ہو گئے۔ 22 دیکھیں، موسیٰ نے آپ کو ختنے کے بارے میں حکم دیا (‏بلکہ یہ رسم تو موسیٰ کے باپ‌دادا کے زمانے سے چل رہی ہے)‏ اور آپ سبت کے دن بھی ختنہ کرتے ہیں۔ 23 اگر سبت کے دن ختنہ کِیا جاتا ہے تاکہ موسیٰ کی شریعت کی خلاف‌ورزی نہ ہو تو آپ اِس بات پر کیوں بھڑک رہے ہیں کہ مَیں نے سبت کے دن ایک آدمی کو بالکل ٹھیک کر دیا تھا؟ 24 صرف اُس بات کی بِنا پر فیصلہ نہ کریں جو آپ کو نظر آتی ہے بلکہ اِنصاف کے ساتھ فیصلہ کریں۔“‏

25 پھر یروشلیم کے کچھ لوگ کہنے لگے:‏ ”‏کیا یہ وہی آدمی نہیں جسے وہ مار ڈالنا چاہتے ہیں؟ 26 دیکھو!‏ یہ تو کُھلے عام تعلیم دے رہا ہے اور ہمارے پیشوا اِسے کچھ نہیں کہہ رہے۔ کہیں وہ اِسے مسیح تو نہیں سمجھ رہے؟ 27 ہم جانتے ہیں کہ یہ آدمی کہاں سے ہے لیکن جب مسیح آئے گا تو کسی کو پتہ نہیں ہوگا کہ وہ کہاں سے آیا ہے۔“‏ 28 یسوع ہیکل میں تعلیم دے رہے تھے اور اُنہوں نے اُونچی آواز میں کہا:‏ ”‏آپ مجھے جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ مَیں کہاں سے آیا ہوں۔ مَیں نے آنے کا فیصلہ خود نہیں کِیا لیکن جس نے مجھے بھیجا ہے، وہ حقیقی ہستی ہے اور آپ اُسے نہیں جانتے۔ 29 مَیں اُسے جانتا ہوں کیونکہ مَیں اُس کا نمائندہ ہوں اور اُسی نے مجھے بھیجا ہے۔“‏ 30 لہٰذا وہ لوگ یسوع کو پکڑنا چاہتے تھے لیکن اُن پر ہاتھ نہیں ڈال سکے کیونکہ یسوع کا وقت ابھی نہیں آیا تھا۔ 31 مگر بہت سے لوگ اُن پر ایمان لے آئے اور کہنے لگے:‏ ”‏جب مسیح آئے گا تو وہ اِس آدمی سے زیادہ معجزے تو نہیں دِکھائے گا۔“‏

32 جب فریسیوں نے سنا کہ لوگ یسوع کے بارے میں یہ باتیں کر رہے ہیں تو اُنہوں نے اور اعلیٰ کاہنوں نے یسوع کو پکڑنے کے لیے سپاہی بھیجے۔ 33 پھر یسوع نے کہا:‏ ”‏مَیں کچھ دیر اَور آپ کے ساتھ رہوں گا۔ پھر مَیں اُس کے پاس جاؤں گا جس نے مجھے بھیجا ہے۔ 34 آپ مجھے ڈھونڈیں گے مگر ڈھونڈ نہیں پائیں گے اور جہاں مَیں ہوں گا وہاں آپ نہیں آ سکیں گے۔“‏ 35 اِس پر یہودی ایک دوسرے سے کہنے لگے:‏ ”‏یہ آدمی کہاں جائے گا جہاں ہم اِسے ڈھونڈ نہیں پائیں گے؟ کہیں وہ اُن یہودیوں کے پاس تو نہیں جانا چاہتا جو یونانیوں کے درمیان رہتے ہیں؟ کیا وہ یونانیوں کو تعلیم دینا چاہتا ہے؟ 36 اُس کی اِس بات کا کیا مطلب ہے کہ ”‏آپ مجھے ڈھونڈیں گے مگر ڈھونڈ نہیں پائیں گے اور جہاں مَیں ہوں گا وہاں آپ نہیں آ سکیں گے“‏؟“‏

37 عید کے آخری دن پر جو عید کا سب سے اہم دن تھا، یسوع نے کھڑے ہو کر اُونچی آواز میں کہا:‏ ”‏اگر کوئی پیاسا ہے تو میرے پاس آئے اور پانی پیئے۔ 38 جو بھی مجھ پر ایمان لاتا ہے، اُس پر یہ صحیفہ لاگو ہوتا ہے کہ ”‏اُس کے اندر سے زندگی کے پانی کی ندیاں بہیں گی۔“‏ “‏ 39 یسوع نے یہ بات پاک روح کے بارے میں کہی تھی جو اُن لوگوں کو ملنے والی تھی جو اُن پر ایمان لائے تھے۔ ابھی تک اُن لوگوں کو یہ روح نہیں ملی تھی کیونکہ یسوع کو اپنا شان‌دار رُتبہ نہیں ملا تھا۔ 40 اُن کی یہ بات سُن کر وہاں موجود کچھ لوگ کہنے لگے:‏ ”‏بے‌شک یہ وہ نبی ہے جس کے بارے میں پیش‌گوئی کی گئی تھی۔“‏ 41 کچھ لوگ کہہ رہے تھے:‏ ”‏یہی مسیح ہے“‏ جبکہ کچھ اَور کہہ رہے تھے:‏ ”‏مسیح گلیل سے تو نہیں آئے گا۔ 42 کیا صحیفوں میں یہ نہیں لکھا کہ مسیح داؤد کی نسل سے اور داؤد کے گاؤں، بیت‌لحم سے آئے گا؟“‏ 43 لہٰذا لوگوں میں یسوع پر اِختلاف پیدا ہو گیا۔ 44 اُن میں سے کچھ یسوع کو پکڑنا چاہتے تھے لیکن وہ اُن پر ہاتھ نہیں ڈال سکے۔‏

45 پھر سپاہی اعلیٰ کاہنوں اور فریسیوں کے پاس واپس گئے۔ اُنہوں نے سپاہیوں سے پوچھا:‏ ”‏تُم لوگ اُسے کیوں نہیں لائے؟“‏ 46 سپاہیوں نے جواب دیا:‏ ”‏کسی نے کبھی اِس طرح سے تعلیم نہیں دی۔“‏ 47 یہ سُن کر فریسیوں نے کہا:‏ ”‏کہیں تُم بھی تو گمراہ نہیں ہو گئے؟ 48 کیا پیشواؤں یا فریسیوں میں سے ایک بھی اُس پر ایمان لایا ہے؟ 49 لیکن یہ لوگ جو شریعت کو نہیں جانتے، لعنتی ہیں۔“‏ 50 نیکُدیمس جو ایک فریسی تھے اور پہلے یسوع کے پاس آئے تھے، اُنہوں نے وہاں جمع فریسیوں سے کہا:‏ 51 ‏”‏کیا ہماری شریعت میں یہ نہیں لکھا کہ ایک شخص کو اُس وقت تک قصوروار نہ ٹھہرایا جائے جب تک اُس کی بات نہ سنی جائے اور یہ پتہ نہ چلایا جائے کہ اُس نے کیا کِیا ہے؟“‏ 52 اِس پر اُنہوں نے کہا:‏ ”‏کہیں تُم بھی تو گلیل سے نہیں؟ ذرا صحیفوں کو کھول کر دیکھو تو تمہیں پتہ چلے گا کہ گلیل سے کوئی نبی نہیں آنے والا۔“‏*‏

8 12 پھر یسوع نے لوگوں سے دوبارہ بات کی اور کہا:‏ ”‏مَیں دُنیا کی روشنی ہوں۔ جو میری پیروی کرتا ہے، وہ ہرگز تاریکی میں نہیں چلے گا بلکہ زندگی کی روشنی اُس کی ہوگی۔“‏ 13 اِس پر فریسیوں نے یسوع سے کہا:‏ ”‏تُم اپنے بارے میں گواہی دیتے ہو اِس لیے تمہاری گواہی سچی نہیں ہے۔“‏ 14 اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏اگر مَیں اپنے بارے میں گواہی دیتا بھی ہوں تو میری گواہی سچی ہے کیونکہ مَیں جانتا ہوں کہ مَیں کہاں سے آیا ہوں اور کہاں جا رہا ہوں۔ لیکن آپ نہیں جانتے کہ مَیں کہاں سے آیا ہوں اور کہاں جا رہا ہوں۔ 15 آپ دوسروں کو اِنسانی معیاروں کے مطابق قصوروار ٹھہراتے ہیں لیکن مَیں کسی کو قصوروار نہیں ٹھہراتا۔ 16 اور اگر مَیں کسی کو قصوروار ٹھہراتا بھی ہوں تو مَیں سچائی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں کیونکہ مَیں اکیلا نہیں ہوں بلکہ میرا باپ جس نے مجھے بھیجا ہے، میرے ساتھ ہے۔ 17 آپ کی اپنی شریعت میں بھی تو لکھا ہے کہ ”‏دو آدمیوں کی گواہی سچی ہوتی ہے۔“‏ 18 ایک تو مَیں ہوں جو اپنے بارے میں گواہی دیتا ہوں اور دوسرا میرا باپ ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔“‏ 19 فریسیوں نے اُن سے کہا:‏ ”‏تمہارا باپ کہاں ہے؟“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏آپ نہ تو مجھے جانتے ہیں اور نہ ہی میرے باپ کو۔ اگر آپ مجھے جانتے تو میرے باپ کو بھی جانتے۔“‏ 20 یسوع نے یہ باتیں ہیکل*‏ میں اُس جگہ کہیں جہاں عطیات کے ڈبے رکھے تھے کیونکہ وہ ہیکل میں تعلیم دے رہے تھے۔ لیکن کسی نے اُن پر ہاتھ نہیں ڈالا کیونکہ اُن کا وقت ابھی نہیں آیا تھا۔‏

21 اِس لیے یسوع نے اُن سے دوبارہ کہا:‏ ”‏مَیں جا رہا ہوں۔ آپ مجھے ڈھونڈیں گے لیکن پھر بھی آپ اپنے گُناہ کی وجہ سے مر جائیں گے۔ جہاں مَیں جا رہا ہوں وہاں آپ نہیں آ سکتے۔“‏ 22 یہودی کہنے لگے:‏ ”‏کہیں یہ خودکُشی تو نہیں کرنے والا؟ کیونکہ یہ کہہ رہا ہے کہ ”‏جہاں مَیں جا رہا ہوں وہاں آپ نہیں آ سکتے۔“‏ “‏ 23 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ نیچے کے ہیں، مَیں اُوپر کا ہوں۔ آپ اِس دُنیا کے ہیں، مَیں اِس دُنیا کا نہیں ہوں۔ 24 اِسی لیے مَیں نے آپ سے کہا ہے کہ ”‏آپ اپنے گُناہوں کی وجہ سے مر جائیں گے“‏ کیونکہ اگر آپ یقین نہیں کرتے کہ مَیں وہی ہوں تو آپ اپنے گُناہوں کی وجہ سے مر جائیں گے۔“‏ 25 اِس پر اُنہوں نے یسوع سے کہا:‏ ”‏تُم کون ہو؟“‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مَیں آپ لوگوں سے بات ہی کیوں کر رہا ہوں؟ 26 مجھے آپ کے بارے میں بہت سی باتیں کہنی ہیں اور بہت سی چیزوں کے بارے میں فیصلہ سنانا ہے۔ دراصل جس نے مجھے بھیجا ہے، وہ سچا ہے۔ اور جو باتیں مَیں نے اُس سے سنی ہیں، وہی مَیں دُنیا میں کہہ رہا ہوں۔“‏ 27 لیکن وہ لوگ یہ نہیں سمجھے کہ یسوع اُن سے اپنے آسمانی باپ کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ 28 پھر یسوع نے کہا:‏ ”‏جب آپ اِنسان کے بیٹے*‏ کو لٹکا*‏ دیں گے تب آپ کو پتہ چلے گا کہ مَیں وہی ہوں اور مَیں اپنے اِختیار سے کچھ نہیں کرتا بلکہ وہی کہتا ہوں جو باپ نے مجھے سکھایا ہے۔ 29 اور جس نے مجھے بھیجا ہے، وہ میرے ساتھ ہے۔ اُس نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا کیونکہ مَیں ہمیشہ وہی کام کرتا ہوں جو اُس کو پسند ہے۔“‏ 30 یسوع کی یہ باتیں سُن کر بہت سے لوگ اُن پر ایمان لے آئے۔‏

31 پھر یسوع نے اُن یہودیوں سے جو اُن پر ایمان لائے تھے، کہا:‏ ”‏اگر آپ میری باتوں پر عمل کرتے رہیں گے تو آپ واقعی میرے شاگرد ہوں گے۔ 32 اور آپ سچائی کو جان جائیں گے اور سچائی آپ کو آزاد کر دے گی۔“‏ 33 باقی یہودیوں نے یسوع سے کہا:‏ ”‏ہم تو ابراہام کی اولاد ہیں۔ ہم کبھی کسی کے غلام نہیں رہے۔ تو پھر تُم کیوں کہہ رہے ہو کہ ”‏آپ آزاد ہو جائیں گے“‏؟“‏ 34 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ جو شخص گُناہ کرتا ہے، وہ گُناہ کا غلام ہے۔ 35 اور غلام گھر میں ہمیشہ نہیں رہتا جبکہ بیٹا ہمیشہ رہتا ہے۔ 36 لہٰذا اگر بیٹا آپ کو آزاد کرتا ہے تو آپ واقعی آزاد ہوں گے۔ 37 مَیں جانتا ہوں کہ آپ ابراہام کی اولاد ہیں۔ لیکن آپ مجھے مار ڈالنا چاہتے ہیں کیونکہ میری باتوں کا آپ پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ 38 مَیں وہی کہتا ہوں جو مَیں نے اُس وقت دیکھا جب مَیں باپ کے ساتھ تھا لیکن آپ وہ کرتے ہیں جو آپ نے اپنے باپ سے سنا ہے۔“‏ 39 اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏ہمارے باپ ابراہام ہیں۔“‏ یسوع نے کہا:‏ ”‏اگر آپ ابراہام کی اولاد ہوتے تو آپ اُن جیسے کام بھی کرتے۔ 40 مَیں نے آپ کو اُن سچائیوں کے بارے میں بتایا جو مَیں نے خدا سے سنی ہیں لیکن آپ مجھے مار ڈالنا چاہتے ہیں۔ ابراہام تو کبھی ایسا نہ کرتے۔ 41 آپ اپنے باپ جیسے کام کر رہے ہیں۔“‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏ہم حرام*‏ کی اولاد تو نہیں ہیں۔ ہمارا ایک باپ ہے یعنی خدا۔“‏

42 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏اگر خدا آپ کا باپ ہوتا تو آپ مجھ سے محبت کرتے کیونکہ مَیں خدا کی طرف سے آیا ہوں اور اِس لیے یہاں ہوں۔ مَیں نے آنے کا فیصلہ خود نہیں کِیا بلکہ اُس نے مجھے بھیجا ہے۔ 43 آپ لوگ میری باتیں کیوں نہیں سمجھ رہے؟ اِس لیے کہ آپ میری باتیں سننا ہی نہیں چاہتے۔ 44 آپ اپنے باپ اِبلیس سے ہیں اور اُس کی خواہشوں پر چلنا چاہتے ہیں۔ جب وہ غلط راہ پر چلنے لگا تو وہ قاتل بن گیا*‏ اور سچائی پر قائم نہیں رہا کیونکہ اُس میں سچائی ہے ہی نہیں۔ جب وہ جھوٹ بولتا ہے تو اپنی فطرت کے مطابق بولتا ہے کیونکہ وہ جھوٹا ہے بلکہ جھوٹ کا باپ ہے۔ 45 اُس کے برعکس مَیں آپ سے سچ بولتا ہوں اِس لیے آپ میرا یقین نہیں کرتے۔ 46 آپ میں سے کون مجھے قصوروار ثابت کر سکتا ہے؟ اگر مَیں سچ بول رہا ہوں تو آپ میرا یقین کیوں نہیں کرتے؟ 47 جو خدا سے ہے، وہ خدا کے کلام کو سنتا ہے۔ آپ خدا سے نہیں ہیں اِسی لیے تو آپ میری نہیں سنتے۔“‏

48 اِس پر یہودیوں نے یسوع سے کہا:‏ ”‏ہم صحیح تو کہتے ہیں کہ تُم سامری ہو اور تُم میں کوئی بُرا فرشتہ گھسا ہوا ہے۔“‏ 49 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏مجھ میں کوئی فرشتہ نہیں ہے۔ مَیں تو اپنے باپ کی عزت کرتا ہوں جبکہ آپ میری بے‌عزتی کرتے ہیں۔ 50 لیکن مَیں اپنی تعریف نہیں کرتا بلکہ خدا میری تعریف کرتا ہے اور وہ منصف ہے۔ 51 مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ جو میری باتوں پر عمل کرتا ہے، وہ موت کا مزہ کبھی نہیں چکھے گا۔“‏ 52 یہودیوں نے کہا:‏ ”‏اب تو ہمیں پکا یقین ہو گیا ہے کہ تُم میں کوئی بُرا فرشتہ ہے۔ ابراہام اور سب نبی موت کی نیند سو گئے۔ لیکن تُم کہتے ہو کہ ”‏جو میری باتوں پر عمل کرتا ہے، وہ موت کا مزہ کبھی نہیں چکھے گا۔“‏ 53 کیا تُم ہمارے باپ ابراہام سے بڑے ہو جو فوت ہو گئے؟ اور سارے نبی بھی تو فوت ہو گئے۔ پھر تُم اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو؟“‏ 54 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏اگر مَیں اپنی تعریف کروں تو وہ تعریف کچھ نہیں ہے۔ لیکن میرا باپ میری تعریف کرتا ہے جس کے بارے میں آپ کہتے ہیں کہ وہ آپ کا خدا ہے۔ 55 مگر آپ اُسے نہیں جانتے جبکہ مَیں اُسے جانتا ہوں۔ اگر مَیں کہتا کہ مَیں اُسے نہیں جانتا تو مَیں آپ کی طرح جھوٹا ہوتا۔ لیکن مَیں اُسے جانتا ہوں اور اُس کی باتوں پر عمل کرتا ہوں۔ 56 آپ کے باپ ابراہام بہت خوش تھے کیونکہ وہ میرا دن دیکھنے کی اُمید رکھتے تھے اور اُنہوں نے اِسے دیکھا اور خوش ہوئے۔“‏ 57 یہودیوں نے اُن سے کہا:‏ ”‏تُم تو ابھی 50 (‏پچاس)‏ سال کے بھی نہیں ہو تو تُم نے ابراہام کو کیسے دیکھ لیا؟“‏ 58 یسوع نے کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ اِس سے پہلے کہ ابراہام پیدا ہوئے، مَیں موجود تھا۔“‏ 59 یہ سُن کر اُن لوگوں نے یسوع کو مارنے کے لیے پتھر اُٹھائے لیکن یسوع چھپ گئے اور ہیکل سے باہر نکل گئے۔‏

9 جب یسوع وہاں سے جا رہے تھے تو اُنہوں نے ایک آدمی کو دیکھا جو پیدائش سے اندھا تھا۔ 2 اُن کے شاگردوں نے اُن سے پوچھا:‏ ”‏ربّی، یہ آدمی اندھا کیوں پیدا ہوا؟ کیا اِس نے گُناہ کِیا تھا یا اِس کے ماں باپ نے؟“‏ 3 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏نہ تو اِس آدمی نے گُناہ کِیا تھا اور نہ ہی اِس کے ماں باپ نے بلکہ اِس کے ذریعے تو خدا کے کاموں کو ظاہر ہونا ہے۔ 4 جب تک دن ہے، ہمیں اُس کے کام کرنے ہیں جس نے مجھے بھیجا ہے۔ رات آ رہی ہے جس میں کوئی شخص کام نہیں کر سکتا۔ 5 لیکن جب تک مَیں دُنیا میں ہوں، مَیں دُنیا کی روشنی ہوں۔“‏ 6 یہ کہہ کر یسوع نے زمین پر تھوکا اور مٹی کا لیپ بنا کر اُس آدمی کی آنکھوں پر لگایا 7 اور اُس سے کہا:‏ ”‏جائیں، سِلُوام کے تالاب میں اپنا مُنہ دھو لیں۔“‏ (‏سِلُوام کا ترجمہ ہے:‏ بھیجا گیا۔)‏ اُس آدمی نے جا کر اپنا مُنہ دھویا اور جب وہ واپس آیا تو وہ دیکھ سکتا تھا۔‏

8 جب اُس آدمی کے جاننے والوں اور اُن لوگوں نے اُسے دیکھا جن کو پتہ تھا کہ وہ فقیر ہے تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏کیا یہ وہ آدمی نہیں جو بیٹھ کر بھیک مانگا کرتا تھا؟“‏ 9 کچھ لوگ کہہ رہے تھے:‏ ”‏ہاں، یہ وہی ہے۔“‏ دوسرے کہہ رہے تھے:‏ ”‏نہیں، اِس کی شکل اُس سے ملتی ہے۔“‏ لیکن وہ آدمی بار بار کہہ رہا تھا:‏ ”‏مَیں وہی ہوں۔“‏ 10 اِس پر لوگوں نے اُس سے پوچھا:‏ ”‏تو پھر تمہاری آنکھیں کیسے ٹھیک ہوئیں؟“‏ 11 اُس نے جواب دیا:‏ ”‏جس آدمی کا نام یسوع ہے، اُس نے مٹی کا لیپ بنا کر میری آنکھوں پر لگایا اور کہا کہ جا کر سِلُوام میں اپنا مُنہ دھو لو۔ مَیں نے جا کر مُنہ دھویا اور مجھے دِکھائی دینے لگا۔“‏ 12 لوگوں نے اُس سے کہا:‏ ”‏وہ آدمی کہاں ہے؟“‏ اُس نے کہا:‏ ”‏مجھے نہیں پتہ۔“‏

13 لوگ اُس کو فریسیوں کے پاس لے گئے۔ 14 اِتفاق سے جس دن یسوع نے لیپ بنا کر اُس کی آنکھوں کو ٹھیک کِیا، وہ سبت کا دن تھا۔ 15 اِس لیے فریسی بھی اُس سے پوچھنے لگے کہ وہ کیسے ٹھیک ہو گیا۔ اُس نے جواب دیا:‏ ”‏اُس آدمی نے میری آنکھوں پر لیپ لگایا اور مَیں نے مُنہ دھویا اور ٹھیک ہو گیا۔“‏ 16 اِس پر کچھ فریسیوں نے کہا:‏ ”‏وہ خدا کی طرف سے نہیں آیا کیونکہ وہ سبت کے دن کو نہیں مناتا۔“‏ دوسروں نے کہا:‏ ”‏ایک گُناہ‌گار بھلا ایسے معجزے کیسے کر سکتا ہے؟“‏ لہٰذا اُن میں اِختلاف پیدا ہو گیا۔ 17 اُنہوں نے پھر سے اُس آدمی سے کہا:‏ ”‏اُس نے تمہاری آنکھوں کو ٹھیک کِیا ہے تو تمہارا اُس کے بارے میں کیا خیال ہے؟“‏ اُس نے جواب دیا:‏ ”‏وہ ایک نبی ہیں۔“‏

18 لیکن یہودیوں کو اِس بات پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ آدمی اندھا تھا اور اب ٹھیک ہو گیا ہے۔ اِس لیے اُنہوں نے اُس کے ماں باپ کو بلوایا 19 اور اُن سے پوچھا:‏ ”‏کیا یہ تمہارا وہی بیٹا ہے جس کے بارے میں تُم کہتے ہو کہ یہ پیدائش سے اندھا تھا؟ تو اب اِس کی آنکھیں کیسے ٹھیک ہو گئیں؟“‏ 20 اُس کے ماں باپ نے جواب دیا:‏ ”‏ہاں، یہ ہمارا بیٹا ہے اور پیدائش سے اندھا تھا۔ 21 لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ اِسے دِکھائی کیسے دینے لگا اور اِس کی آنکھیں کس نے ٹھیک کی ہیں۔ اِسی سے پوچھیں۔ یہ بالغ ہے اور خود جواب دے سکتا ہے۔“‏ 22 اُس کے ماں باپ نے یہ اِس لیے کہا کیونکہ وہ یہودیوں سے ڈرتے تھے۔ دراصل یہودیوں نے آپس میں طے کِیا تھا کہ اگر کوئی شخص اِقرار کرے کہ یسوع، مسیح ہیں تو اُسے عبادت‌گاہ سے خارج کر دیا جائے گا۔ 23 اِسی لیے اُس کے ماں باپ نے کہا:‏ ”‏یہ بالغ ہے۔ اِسی سے پوچھیں۔“‏

24 لہٰذا یہودیوں نے دوسری بار اُس آدمی کو بلا‌یا اور اُس سے کہا:‏ ”‏خدا کو حاضروناظر جان کر سچ بولو۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ آدمی گُناہ‌گار ہے۔“‏ 25 اُس نے جواب دیا:‏ ”‏مَیں یہ نہیں جانتا کہ وہ آدمی گُناہ‌گار ہے کہ نہیں۔ لیکن مَیں یہ ضرور جانتا ہوں کہ مَیں اندھا تھا مگر اب دیکھ سکتا ہوں۔“‏ 26 پھر اُنہوں نے اُس سے پوچھا:‏ ”‏اُس نے کس طرح تمہاری آنکھیں کھولی تھیں؟ اُس نے کیا کِیا تھا؟“‏ 27 اُس نے جواب دیا:‏ ”‏مَیں پہلے بھی آپ کو بتا چُکا ہوں لیکن آپ نے میری بات نہیں سنی۔ آپ دوبارہ سے ساری بات کیوں سننا چاہتے ہیں؟ کہیں آپ بھی تو اُس کے شاگرد نہیں بننا چاہتے؟“‏ 28 اِس پر اُنہوں نے مذاق اُڑاتے ہوئے کہا:‏ ”‏تُم ہوگے اُس کے شاگرد۔ ہم تو موسیٰ کے شاگرد ہیں۔ 29 ہم جانتے ہیں کہ خدا نے موسیٰ سے باتیں کیں لیکن جہاں تک اُس آدمی کا تعلق ہے، ہمیں نہیں پتہ کہ اُسے کس نے بھیجا ہے۔“‏ 30 اُس نے کہا:‏ ”‏یہ تو بڑی عجیب بات ہے کہ آپ نہیں جانتے کہ اُسے کس نے بھیجا ہے حالانکہ اُس نے میری آنکھیں ٹھیک کی ہیں۔ 31 ہم جانتے ہیں کہ خدا گُناہ‌گاروں کی نہیں سنتا لیکن اگر کوئی شخص خدا سے ڈرتا ہے اور اُس کی مرضی پر چلتا ہے تو وہ اُس کی سنتا ہے۔ 32 آج تک کبھی یہ سننے میں نہیں آیا کہ کسی نے ایک پیدائشی اندھے کی آنکھیں ٹھیک کی ہوں۔ 33 اگر وہ آدمی خدا کی طرف سے نہیں آیا تو وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا۔“‏ 34 اِس پر یہودیوں نے کہا:‏ ”‏تُم خود تو پیدائش سے گُناہ‌گار ہو اور ہمیں سکھا رہے ہو؟“‏ پھر اُنہوں نے اُس کو عبادت‌گاہ سے نکال دیا۔‏

35 یسوع کو خبر ملی کہ اُن لوگوں نے اُس آدمی کو نکال دیا ہے۔ جب وہ اُس سے ملے تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏کیا آپ اِنسان کے بیٹے*‏ پر ایمان لے آئے ہیں؟“‏ 36 اُس نے جواب دیا:‏ ”‏جناب، مجھے بتائیں کہ وہ کون ہے تاکہ مَیں اُس پر ایمان لاؤں؟“‏ 37 یسوع نے کہا:‏ ”‏آپ نے اُسے دیکھا ہے۔ دراصل وہ ابھی آپ سے بات کر رہا ہے۔“‏ 38 اُس آدمی نے کہا:‏ ”‏جی مالک، مَیں اُس پر ایمان لاتا ہوں۔“‏ پھر اُس نے اُن کی تعظیم کی۔‏*‏ 39 یسوع نے کہا:‏ ”‏مَیں اِسی لیے دُنیا میں آیا ہوں کہ لوگوں کی عدالت کی جائے تاکہ جو اندھے ہیں، وہ دیکھ سکیں اور جو دیکھ سکتے ہیں، وہ اندھے ہو جائیں۔“‏ 40 جب اُن فریسیوں نے جو اُن کے ساتھ تھے، یہ سنا تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏تمہارے خیال میں کیا ہم اندھے ہیں؟“‏ 41 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏اگر آپ اندھے ہوتے تو آپ کو قصوروار نہ ٹھہرایا جاتا۔ لیکن آپ تو کہہ رہے ہیں کہ ”‏ہم دیکھ سکتے ہیں“‏ اِس لیے آپ کا گُناہ معاف نہیں ہوگا۔“‏

10 یسوع نے کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ جو شخص بھیڑخانے میں دروازے سے داخل نہیں ہوتا بلکہ کہیں اَور سے چڑھ کر آتا ہے، وہ چور اور ڈاکو ہے۔ 2 لیکن جو دروازے سے اندر آتا ہے، وہ بھیڑوں کا چرواہا ہے۔ 3 چوکیدار اُس کے لیے دروازہ کھولتا ہے اور بھیڑیں اُس کی آواز سنتی ہیں۔ وہ اپنی بھیڑوں کو نام سے بلا‌تا ہے اور اُنہیں باہر نکالتا ہے۔ 4 جب وہ اپنی سب بھیڑوں کو نکال لیتا ہے تو وہ اُن کے آگے آگے چلتا ہے اور بھیڑیں اُس کے پیچھے پیچھے جاتی ہیں کیونکہ وہ اُس کی آواز پہچانتی ہیں۔ 5 وہ کسی اجنبی کے پیچھے بالکل نہیں جاتیں بلکہ اُس سے بھاگتی ہیں کیونکہ وہ اجنبیوں کی آواز نہیں پہچانتیں۔“‏ 6 یسوع نے اُنہیں یہ مثال دی لیکن اُن لوگوں کو اُن کی بات سمجھ نہیں آئی۔‏

7 لہٰذا یسوع نے دوبارہ کہا:‏ ”‏مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ مَیں بھیڑوں کے لیے دروازہ ہوں۔ 8 جو لوگ میری جگہ آئے ہیں، وہ سب چور اور ڈاکو ہیں۔ لیکن بھیڑوں نے اُن کی نہیں سنی۔ 9 مَیں دروازہ ہوں۔ جو کوئی مجھ سے داخل ہوتا ہے، وہ نجات پائے گا اور اندر جائے گا اور باہر آئے گا اور اُسے چراگاہیں ملیں گی۔ 10 چور صرف چوری کرنے، مار ڈالنے اور تباہ کرنے کے لیے آتا ہے۔ لیکن مَیں اِس لیے آیا ہوں کہ بھیڑوں کو زندگی ملے بلکہ کثرت سے ملے۔ 11 مَیں اچھا چرواہا ہوں۔ اچھا چرواہا بھیڑوں کے لیے اپنی جان دے دیتا ہے۔ 12 جس آدمی کو بھیڑوں کی دیکھ‌بھال کے لیے دیہاڑی پر رکھا جاتا ہے، وہ نہ تو چرواہا ہوتا ہے اور نہ ہی بھیڑوں کا مالک۔ اِس لیے جب وہ بھیڑیے کو آتے دیکھتا ہے تو بھیڑوں کو چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔ پھر بھیڑیا بھیڑوں کو چیر پھاڑ دیتا ہے اور گلّے کو بکھیر دیتا ہے۔ 13 وہ آدمی اِس لیے بھیڑوں کو چھوڑ دیتا ہے کیونکہ وہ دیہاڑی پر کام کرتا ہے اور اُس کو بھیڑوں کی فکر نہیں ہوتی۔ 14 مَیں اچھا چرواہا ہوں۔ مَیں اپنی بھیڑوں کو جانتا ہوں اور میری بھیڑیں مجھے جانتی ہیں، 15 بالکل ویسے ہی جیسے باپ مجھے جانتا ہے اور مَیں باپ کو جانتا ہوں۔ مَیں بھیڑوں کے لیے اپنی جان دیتا ہوں۔‏

16 میری اَور بھی بھیڑیں ہیں جو اِس بھیڑخانے کی نہیں ہیں۔ لازمی ہے کہ مَیں اُن کو بھی اندر لاؤں۔ وہ میری آواز سنیں گی اور میری سب بھیڑیں ایک گلّہ بن جائیں گی اور اُن کا ایک چرواہا ہوگا۔ 17 میرا باپ اِس لیے مجھ سے محبت کرتا ہے کیونکہ مَیں اپنی جان دیتا ہوں تاکہ اِسے دوبارہ حاصل کروں۔ 18 مَیں اپنی مرضی سے اِسے دیتا ہوں۔ کوئی شخص اِسے مجھ سے چھین نہیں سکتا۔ مجھے اپنی جان دینے اور اِسے دوبارہ حاصل کرنے کا اِختیار ہے۔ یہ حکم مجھے اپنے باپ سے ملا ہے۔“‏

19 اِن باتوں کو سُن کر ایک بار پھر یہودیوں میں اِختلاف پیدا ہو گیا۔ 20 اُن میں سے بہت سے کہنے لگے:‏ ”‏اِس میں کوئی بُرا فرشتہ گھسا ہوا ہے۔ اِس کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ تُم لوگ اِس کی باتیں کیوں سُن رہے ہو؟“‏ 21 دوسروں نے کہا:‏ ”‏کیا ایسا شخص جس میں بُرا فرشتہ ہو، ایسی باتیں کہہ سکتا ہے؟ ایک بُرا فرشتہ تو اندھوں کی آنکھیں ٹھیک نہیں کر سکتا نا؟“‏

22 اُس وقت یروشلیم میں عیدِتقدیس منائی جا رہی تھی۔ یہ سردیوں کا موسم تھا 23 اور یسوع ہیکل*‏ میں سلیمان کے برآمدے میں ٹہل رہے تھے۔ 24 یہودیوں نے اُنہیں گھیر لیا اور کہنے لگے:‏ ”‏تُم کب تک ہمیں*‏ اُلجھن میں رکھو گے؟ اگر تُم مسیح ہو تو صاف صاف کیوں نہیں کہتے؟“‏ 25 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏مَیں آپ کو بتا چُکا ہوں لیکن آپ نے میری بات کا یقین نہیں کِیا۔ جو کام مَیں اپنے باپ کے نام سے کرتا ہوں، وہ میرے بارے میں گواہی دیتے ہیں۔ 26 لیکن آپ یقین نہیں کرتے کیونکہ آپ میری بھیڑیں نہیں ہیں۔ 27 میری بھیڑیں میری آواز سنتی ہیں اور میرے پیچھے چلتی ہیں۔ مَیں اُن کو جانتا ہوں 28 اور اُنہیں ہمیشہ کی زندگی دیتا ہوں۔ وہ ہرگز کبھی ہلاک نہیں ہوں گی اور کوئی اُنہیں میرے ہاتھ سے نہیں چھینے گا۔ 29 اُنہیں میرے باپ نے مجھے دیا ہے اور وہ دوسری تمام چیزوں سے زیادہ اہم ہیں۔ کوئی بھی اُنہیں میرے باپ کے ہاتھ سے نہیں چھین سکتا۔ 30 مَیں اور میرا باپ ایک*‏ ہیں۔“‏

31 ایک بار پھر یہودیوں نے یسوع کو سنگسار کرنے کے لیے پتھر اُٹھا لیے۔ 32 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏مَیں نے آپ کے سامنے باپ کی طرف سے بہت سے اچھے کام کیے ہیں۔ آپ اِن میں سے کس کام کی وجہ سے مجھے سنگسار کرنا چاہتے ہیں؟“‏ 33 یہودیوں نے جواب دیا:‏ ”‏ہم تمہیں اِس لیے سنگسار نہیں کر رہے کہ تُم نے کوئی اچھا کام کِیا ہے بلکہ اِس لیے کہ تُم نے کفر بکا ہے۔ کیونکہ تُم اِنسان ہو کر خود کو خدا کہتے ہو۔“‏ 34 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏کیا آپ کی شریعت میں نہیں لکھا کہ ”‏مَیں نے کہا:‏ ”‏تُم لوگ خدا*‏ ہو“‏ “‏؟ 35 خدا نے اِس صحیفے میں ایسے لوگوں کو ”‏خدا“‏ کہا جن کو اُس نے قصوروار ٹھہرایا اور صحیفوں کو غلط ثابت نہیں کِیا جا سکتا۔ 36 اور مَیں تو وہ شخص ہوں جسے خدا نے مخصوص کِیا اور دُنیا میں بھیجا۔ پھر بھی آپ لوگ کہہ رہے ہیں کہ مَیں نے کفر بکا ہے کیونکہ مَیں نے کہا ہے کہ ”‏مَیں خدا کا بیٹا ہوں۔“‏ 37 اگر مَیں اپنے باپ کے کام نہیں کر رہا تو میرا یقین نہ کریں۔ 38 لیکن اگر مَیں اُس کے کام کر رہا ہوں تو بھلے آپ میرا یقین نہ کریں، مگر اِن کاموں کا تو یقین کریں تاکہ آپ جان لیں اور آئندہ بھی جانتے رہیں کہ باپ میرے ساتھ متحد ہے اور مَیں باپ کے ساتھ متحد ہوں۔“‏ 39 اِس پر اُنہوں نے دوبارہ سے یسوع کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ اُن کے ہاتھ نہیں آئے۔‏

40 پھر یسوع دریائے‌اُردن کے پار اُس جگہ گئے جہاں یوحنا شروع شروع میں بپتسمہ دیتے تھے اور وہیں رہے۔ 41 بہت سے لوگ وہاں آئے اور کہنے لگے:‏ ”‏یوحنا نے کوئی معجزہ تو نہیں کِیا لیکن اُنہوں نے اِس آدمی کے بارے میں جو کچھ کہا، وہ سچ تھا۔“‏ 42 اور اُس جگہ بہت سے لوگ یسوع پر ایمان لے آئے۔‏

11 اب ایک آدمی جس کا نام لعزر تھا، بیمار تھا۔ وہ گاؤں بیت‌عنیاہ میں رہتا تھا جو مریم اور اُن کی بہن مارتھا کا گاؤں تھا۔ 2 یہ وہی مریم تھیں جنہوں نے ہمارے مالک کے پاؤں پر خوشبودار تیل ڈالا تھا اور پھر اِنہیں اپنے بالوں سے پونچھا تھا۔ اُنہی کے بھائی لعزر بیمار تھے۔ 3 اِس لیے لعزر کی بہنوں نے یسوع کو پیغام بھیجا کہ ”‏مالک، آپ کا پیارا دوست بیمار ہے۔“‏ 4 مگر جب یسوع نے یہ سنا تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏اِس بیماری کا انجام موت نہیں بلکہ خدا کی بڑائی ہے اور یوں خدا کے بیٹے کی بھی بڑائی ہوگی۔“‏

5 یسوع کو مارتھا، مریم اور لعزر سے بہت پیار تھا۔ 6 لیکن جب یسوع نے لعزر کی بیماری کے بارے میں سنا تو وہ دو دن اَور اُسی جگہ رہے جہاں وہ تھے۔ 7 اِس کے بعد اُنہوں نے شاگردوں سے کہا:‏ ”‏آئیں، دوبارہ یہودیہ چلیں۔“‏ 8 شاگردوں نے اُن سے کہا:‏ ”‏ربّی، ابھی کچھ دن پہلے تو یہودیہ کے لوگ آپ کو سنگسار کرنا چاہتے تھے اور آپ پھر وہاں جانا چاہتے ہیں؟“‏ 9 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏کیا دن میں 12 گھنٹے روشنی نہیں ہوتی؟ جو شخص دن کی روشنی میں چلتا ہے، وہ کسی چیز سے ٹھوکر نہیں کھاتا کیونکہ وہ اِس دُنیا کی روشنی کو دیکھتا ہے۔ 10 لیکن جو شخص رات میں چلتا ہے، وہ ٹھوکر کھاتا ہے کیونکہ اُس کے پاس روشنی نہیں ہوتی۔“‏

11 اِس کے بعد یسوع نے کہا:‏ ”‏ہمارے دوست لعزر سو گئے ہیں۔ لیکن مَیں اُنہیں جگانے جا رہا ہوں۔“‏ 12 اِس پر شاگردوں نے کہا:‏ ”‏مالک، اگر وہ سو رہے ہیں تو وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔“‏ 13 دراصل اُنہوں نے سوچا کہ یسوع، لعزر کے آرام کرنے کی بات کر رہے ہیں لیکن وہ تو اُن کی موت کی بات کر رہے تھے۔ 14 پھر یسوع نے شاگردوں کو صاف صاف بتا دیا کہ ”‏لعزر فوت ہو گئے ہیں۔ 15 اور کتنی خوشی کی بات ہے کہ مَیں وہاں نہیں تھا کیونکہ اب آپ کا ایمان اَور مضبوط ہوگا۔ آئیں، اُن کے پاس چلیں۔“‏ 16 لہٰذا توما نے جنہیں جُڑواں بھی کہا جاتا تھا، باقی شاگردوں سے کہا:‏ ”‏آئیں، ہم بھی اُن کے ساتھ مرنے چلیں۔“‏

17 جب یسوع وہاں پہنچے تو اُنہیں پتہ چلا کہ لعزر کی لاش چار دن سے قبر میں ہے۔ 18 بیت‌عنیاہ، یروشلیم سے تقریباً دو میل*‏ دُور ہے 19 اور بہت سے یہودی، مارتھا اور مریم کو اُن کے بھائی کی موت پر تسلی دینے آئے تھے۔ 20 جب مارتھا نے سنا کہ یسوع پہنچنے والے ہیں تو وہ اُن سے ملنے گئیں لیکن مریم گھر پر ہی رہیں۔ 21 یسوع کو دیکھ کر مارتھا نے کہا:‏ ”‏مالک، اگر آپ یہاں ہوتے تو میرا بھائی نہ مرتا۔ 22 لیکن مجھے ابھی بھی یقین ہے کہ آپ خدا سے جو کچھ بھی مانگیں گے، خدا آپ کو دے گا۔“‏ 23 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ کا بھائی جی اُٹھے گا۔“‏ 24 اِس پر مارتھا نے کہا:‏ ”‏مجھے پتہ ہے کہ آخری دن جب مُردوں کو زندہ کِیا جائے گا تو وہ بھی جی اُٹھے گا۔“‏ 25 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏مَیں وہ ہوں جو زندہ کرتا ہوں اور زندگی دیتا ہوں۔ جو مجھ پر ایمان ظاہر کرتا ہے، چاہے وہ مر بھی جائے تو بھی دوبارہ زندہ ہوگا۔ 26 اور جو زندہ ہے اور مجھ پر ایمان ظاہر کرتا ہے، وہ کبھی نہیں مرے گا۔ کیا آپ اِس بات پر یقین رکھتی ہیں؟“‏ 27 اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏جی مالک، مَیں یقین رکھتی ہوں کہ آپ مسیح اور خدا کے بیٹے ہیں۔ آپ وہی ہیں جسے دُنیا میں آنا تھا۔“‏ 28 اِس کے بعد اُنہوں نے جا کر اپنی بہن مریم کے کان میں کہا:‏ ”‏اُستاد آ گئے ہیں اور تمہیں بلا رہے ہیں۔“‏ 29 یہ سُن کر مریم جلدی سے اُٹھیں اور یسوع سے ملنے گئیں۔‏

30 دراصل یسوع ابھی تک گاؤں میں نہیں آئے تھے بلکہ اُسی جگہ پر تھے جہاں مارتھا اُن سے ملی تھیں۔ 31 جب اُن یہودیوں نے جو گھر میں مریم کو تسلی دے رہے تھے، دیکھا کہ وہ جلدی سے اُٹھ کر باہر گئی ہیں تو وہ اُن کے پیچھے گئے کیونکہ وہ سوچ رہے تھے کہ مریم قبر پر رونے کے لیے جا رہی ہیں۔ 32 جب مریم یسوع کے پاس پہنچیں اور اُنہیں دیکھا تو اُن کے قدموں میں گِر گئیں اور کہنے لگیں:‏ ”‏مالک، اگر آپ یہاں ہوتے تو میرا بھائی نہ مرتا۔“‏ 33 جب یسوع نے مریم اور اُن یہودیوں کو روتے دیکھا جو اُن کے ساتھ آئے تھے تو اُنہوں نے دل ہی دل میں*‏ گہری آہ بھری اور بہت پریشان ہو گئے۔ 34 پھر اُنہوں نے کہا:‏ ”‏لعزر کی لاش کہاں رکھی ہے؟“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏مالک، آئیں، آپ کو دِکھائیں۔“‏ 35 یسوع کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ 36 اِس پر یہودی کہنے لگے:‏ ”‏دیکھو!‏ اِن کو لعزر سے کتنا پیار تھا!‏“‏ 37 لیکن اُن میں سے کچھ نے کہا:‏ ”‏اگر یہ آدمی ایک اندھے کی آنکھیں ٹھیک کر سکتا ہے تو کیا یہ لعزر کو نہیں بچا سکتا تھا؟“‏

38 پھر یسوع نے دوبارہ دل میں گہری آہ بھری اور قبر پر آئے۔ یہ ایک غار تھا جس کا مُنہ ایک پتھر سے بند تھا۔ 39 یسوع نے کہا:‏ ”‏پتھر کو ہٹائیں۔“‏ اِس پر لعزر کی بہن مارتھا نے کہا:‏ ”‏مالک، اُسے قبر میں رکھے ہوئے چار دن ہو گئے ہیں۔ اب تو اُس میں سے بُو آ رہی ہوگی۔“‏ 40 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏کیا مَیں نے آپ سے کہا نہیں تھا کہ اگر آپ ایمان رکھیں گی تو آپ خدا کی عظمت دیکھیں گی؟“‏ 41 لہٰذا لوگوں نے پتھر ہٹایا۔ پھر یسوع نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا:‏ ”‏باپ، مَیں تیرا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ تُو نے میری سنی ہے۔ 42 مَیں جانتا تھا کہ تُو ہمیشہ میری سنتا ہے لیکن مَیں نے یہ بات یہاں کھڑے لوگوں کی وجہ سے کہی تاکہ وہ یقین کر لیں کہ تُو نے مجھے بھیجا ہے۔“‏ 43 اپنی بات ختم کرنے کے بعد اُنہوں نے اُونچی آواز میں کہا:‏ ”‏لعزر، باہر آ جائیں!‏“‏ 44 اِس پر وہ آدمی جو مر چُکا تھا، قبر سے نکل آیا۔ اُس کے ہاتھوں اور پیروں پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں اور اُس کے چہرے پر کپڑا لپٹا ہوا تھا۔ یسوع نے لوگوں سے کہا:‏ ”‏اِنہیں کھول دیں تاکہ یہ چل سکیں۔“‏

45 جب اُن یہودیوں نے یہ دیکھا جو مریم کے پاس آئے تھے تو اُن میں سے بہت سے یسوع پر ایمان لے آئے۔ 46 لیکن اُن میں سے کچھ فریسیوں کے پاس گئے اور اُنہیں بتایا کہ یسوع نے کیا کِیا تھا۔ 47 یہ سُن کر اعلیٰ کاہنوں اور فریسیوں نے عدالتِ‌عظمیٰ کو جمع کِیا اور کہا:‏ ”‏وہ آدمی بہت سے معجزے دِکھا رہا ہے۔ اُس کا کیا کِیا جائے؟ 48 اگر ایسے ہی چلتا رہا تو سب لوگ اُس پر ایمان لے آئیں گے اور پھر رومی آ کر ہماری جگہ*‏ اور ہماری قوم دونوں کو چھین لیں گے۔“‏ 49 لیکن کائفا نے جو اُس سال کاہنِ‌اعظم تھا، اُن سے کہا:‏ ”‏آپ لوگوں کو تو کچھ بھی نہیں پتہ۔ 50 ذرا سوچیں کہ اگر سب لوگوں کے لیے ایک آدمی مر جائے بجائے اِس کے کہ ساری قوم ہلاک ہو جائے تو آپ ہی کا فائدہ ہے۔“‏ 51 اُس نے یہ بات اپنی طرف سے نہیں کہی مگر چونکہ وہ اُس سال کاہنِ‌اعظم تھا اِس لیے اُس نے پیش‌گوئی کی کہ یسوع کو یہودی قوم کے لیے مرنا پڑے گا 52 اور صرف یہودیوں کے لیے نہیں بلکہ خدا کے اُن بچوں کے لیے بھی جو اِدھر اُدھر بکھرے ہوئے تھے تاکہ اِنہیں اِکٹھا کر کے متحد کِیا جائے۔ 53 لہٰذا اُس دن سے وہ یسوع کو مار ڈالنے کی سازشیں کرنے لگے۔‏

54 اِس لیے یسوع نے یہودیوں کے درمیان کُھلے عام جانا چھوڑ دیا۔ وہ وہاں سے ویرانے کے قریب ایک شہر میں چلے گئے جس کا نام اِفرائیم تھا اور اپنے شاگردوں کے ساتھ وہاں رہے۔ 55 اب یہودیوں کی عیدِفسح نزدیک تھی۔ بہت سے لوگ اپنے آپ کو پاک کرنے کے لیے عید سے پہلے دیہات سے یروشلیم گئے۔ 56 وہ یسوع کو ڈھونڈ رہے تھے اور ہیکل*‏ میں کھڑے ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے:‏ ”‏تمہارا کیا خیال ہے؟ وہ عید پر آئیں گے یا نہیں؟“‏ 57 لیکن اعلیٰ کاہنوں اور فریسیوں نے حکم دیا تھا کہ ”‏اگر کسی کو پتہ ہو کہ یسوع کہاں ہے تو آ کر خبر دے تاکہ اُسے گِرفتار کِیا جا سکے۔“‏

12 عیدِفسح سے چھ دن پہلے یسوع بیت‌عنیاہ پہنچے جہاں لعزر رہتے تھے جنہیں یسوع نے زندہ کِیا تھا۔ 2 وہاں یسوع کے لیے شام کا کھانا تیار کِیا گیا۔ مارتھا سب کی خدمت کر رہی تھیں جبکہ لعزر یسوع کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے۔ 3 لیکن مریم نے ایک پونڈ*‏ سنبل کا خالص تیل لیا جو بہت مہنگا اور خوشبودار تھا اور اِسے یسوع کے پاؤں پر ڈالا اور اِنہیں اپنے بالوں سے پونچھا۔ پورے گھر میں تیل کی خوشبو پھیل گئی۔ 4 جب یہوداہ اِسکریوتی نے یہ دیکھا جو یسوع کا ایک شاگرد تھا اور اُن کے ساتھ غداری کرنے والا تھا تو اُس نے کہا:‏ 5 ‏”‏کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ اِس تیل کو 300 دینار*‏ کا بیچا جاتا اور پیسے غریبوں کو دیے جاتے؟“‏ 6 اُس نے یہ اِس لیے نہیں کہا تھا کہ اُسے غریبوں کی فکر تھی بلکہ اِس لیے کہ وہ چور تھا۔ دراصل اُس کے پاس پیسوں کا ڈبہ ہوتا تھا اور وہ اُس میں سے پیسے چوری کرتا تھا۔ 7 یسوع نے کہا:‏ ”‏اُنہیں تنگ نہ کریں تاکہ وہ میرے کفن دفن کے پیشِ‌نظر یہ کام کریں۔ 8 کیونکہ غریب تو ہمیشہ آپ کے پاس رہیں گے لیکن مَیں ہمیشہ آپ کے پاس نہیں رہوں گا۔“‏

9 اِس دوران بہت سارے یہودیوں کو پتہ چلا کہ یسوع بیت‌عنیاہ میں ہیں۔ اِس لیے وہ نہ صرف یسوع کو دیکھنے آئے بلکہ لعزر کو بھی جنہیں یسوع نے زندہ کِیا تھا۔ 10 اعلیٰ کاہنوں نے لعزر کو بھی مار ڈالنے کی سازش کی 11 کیونکہ لعزر کی وجہ سے بہت سے یہودی وہاں جا رہے تھے اور یسوع پر ایمان لا رہے تھے۔‏

12 اگلے دن، عید پر آئے ہوئے بہت سے لوگوں نے سنا کہ یسوع یروشلیم آ رہے ہیں۔ 13 اِس لیے اُنہوں نے کھجور کی شاخیں لیں اور یسوع سے ملنے گئے۔ وہ اُونچی آواز میں کہہ رہے تھے:‏ ”‏اَے خدا، اُسے نجات دِلا!‏*‏ اُس شخص کو بڑی برکتیں حاصل ہیں جو یہوواہ*‏ کے نام سے آتا ہے اور اِسرائیل کا بادشاہ ہے!‏“‏ 14 جب یسوع کو ایک گدھی کا بچہ ملا تو وہ اِس پر بیٹھ گئے جیسا کہ لکھا ہے کہ 15 ‏”‏صیون کی بیٹی، گھبرا مت۔ دیکھ، تیرا بادشاہ گدھی کے بچے پر سوار ہو کر آ رہا ہے۔“‏ 16 یسوع کے شاگردوں کو پہلے تو یہ باتیں سمجھ میں نہیں آئیں لیکن جب یسوع کو اپنا شان‌دار رُتبہ ملا تو شاگردوں کو یاد آیا کہ اُن کے بارے میں یہ باتیں صحیفوں میں لکھی تھیں اور اُن کے ساتھ یہ سب کچھ ہوا۔‏

17 جو لوگ اُس وقت یسوع کے ساتھ تھے جب اُنہوں نے لعزر کو زندہ کِیا اور قبر سے باہر بلا‌یا، وہ اِس واقعے کے بارے میں گواہی دیتے رہے۔ 18 لوگوں کی بِھیڑ اِس وجہ سے بھی یسوع سے ملنے گئی کیونکہ اُنہوں نے یسوع کے اِس معجزے کے بارے میں سنا تھا۔ 19 لہٰذا فریسی ایک دوسرے سے کہنے لگے:‏ ”‏ہم لوگ کچھ بھی نہیں کر پا رہے۔ دیکھو، ساری دُنیا اُس کے پیچھے چل پڑی ہے۔“‏

20 جو لوگ عید پر عبادت کرنے کے لیے آئے تھے، اُن میں سے کچھ یونانی بھی تھے۔ 21 وہ فِلپّس کے پاس آئے جو گلیل کے بیت‌صیدا سے تھے اور کہنے لگے:‏ ”‏جناب، ہم یسوع کو دیکھنا چاہتے ہیں۔“‏ 22 فِلپّس نے آ کر اندریاس کو بتایا۔ پھر فِلپّس اور اندریاس دونوں یسوع کے پاس گئے اور اُنہیں یہ بات بتائی۔‏

23 لیکن یسوع نے اُنہیں جواب دیا:‏ ”‏وہ وقت آ گیا ہے کہ اِنسان کے بیٹے*‏ کو شان‌دار رُتبہ دیا جائے۔ 24 مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ جب تک گندم کا دانہ زمین پر گِر کر مر نہیں جاتا، وہ ایک ہی دانہ رہتا ہے۔ لیکن جب وہ مر جاتا ہے تو پھر وہ بہت پھل لاتا ہے۔ 25 جو کوئی اپنی جان کو عزیز رکھتا ہے، وہ اِسے تباہ کرتا ہے لیکن جو کوئی اِس دُنیا میں اپنی جان سے نفرت کرتا ہے، وہ اِسے ہمیشہ کی زندگی کے لیے محفوظ کرتا ہے۔ 26 اگر کوئی میری خدمت کرنا چاہتا ہے تو میری پیروی کرے اور جہاں مَیں ہوں وہاں میرا خادم بھی ہوگا۔ اگر کوئی میری خدمت کرنا چاہتا ہے تو میرا باپ اُسے عزت دے گا۔ 27 مَیں*‏ پریشان ہوں۔ اب مَیں کیا کہوں؟ باپ، مجھے اِس گھڑی سے بچا لے۔ لیکن مَیں اِسی گھڑی کے لیے تو آیا ہوں۔ 28 باپ، اپنے نام کی بڑائی کر۔“‏ پھر آسمان سے یہ آواز آئی:‏ ”‏مَیں نے اِس کی بڑائی کی اور دوبارہ بھی اِس کی بڑائی کروں گا۔“‏

29 جب اُن لوگوں نے جو وہاں کھڑے تھے، یہ آواز سنی تو اُنہوں نے کہا کہ ”‏بادل گرجے ہیں۔“‏ لیکن کچھ لوگوں نے کہا:‏ ”‏ایک فرشتے نے اُن سے بات کی ہے۔“‏ 30 یسوع نے اُن لوگوں سے کہا:‏ ”‏یہ آواز میری خاطر نہیں بلکہ آپ کی خاطر آئی ہے۔ 31 اب اِس دُنیا کی عدالت ہو رہی ہے۔ اب اِس دُنیا کے حاکم کو نکال دیا جائے گا۔ 32 لیکن جہاں تک میرا تعلق ہے، جب مجھے زمین پر سے اُٹھایا*‏ جائے گا تو مَیں ہر طرح کے لوگوں کو اپنی طرف کھینچوں گا۔“‏ 33 دراصل یہ بات کہہ کر یسوع نے ظاہر کِیا کہ اُن کی موت کیسے ہوگی۔ 34 پھر لوگوں نے اُن سے کہا:‏ ”‏ہم نے سنا ہے کہ شریعت میں لکھا ہے کہ مسیح ہمیشہ تک رہے گا۔ تو پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اِنسان کے بیٹے*‏ کو اُٹھایا جائے گا؟ آخر یہ اِنسان کا بیٹا ہے کون؟“‏ 35 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏روشنی کچھ دیر اَور آپ کے درمیان رہے گی۔ جب تک روشنی آپ کے پاس ہے، اِس میں چلیں تاکہ تاریکی آپ پر غالب نہ آ جائے۔ جو کوئی تاریکی میں چلتا ہے، اُسے پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کہاں جا رہا ہے۔ 36 اب جبکہ روشنی آپ کے پاس ہے، اِس پر ایمان ظاہر کریں تاکہ آپ روشنی کے بیٹے بن جائیں۔“‏

یہ باتیں کہہ کر یسوع وہاں سے چلے گئے اور چھپ کر رہنے لگے۔ 37 اُنہوں نے لوگوں کے سامنے بہت سے معجزے کیے تھے لیکن پھر بھی لوگ اُن پر ایمان نہیں لائے 38 تاکہ یسعیاہ نبی کی یہ بات پوری ہو کہ ”‏اَے یہوواہ،‏*‏ ہماری باتوں کو سُن کر کون ایمان لایا ہے؟ اور یہوواہ*‏ کی طاقت*‏ کس پر ظاہر ہوئی ہے؟“‏ 39 یسعیاہ نبی نے یہ بھی بتایا کہ لوگ ایمان کیوں نہیں لائے۔ اُنہوں نے کہا:‏ 40 ‏”‏اُس نے اُنہیں اندھا کر دیا ہے اور اُن کے دلوں کو سخت کر دیا ہے تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے نہ دیکھیں اور اپنے دلوں سے نہ سمجھیں اور واپس نہ لوٹیں اور مَیں اُن کو شفا نہ دوں۔“‏ 41 یسعیاہ نبی نے یہ باتیں اِس لیے کہیں کیونکہ اُنہوں نے اُس کی شان دیکھی اور اُس کے بارے میں بتایا۔ 42 بہت سے لوگ، یہاں تک کہ پیشوا بھی یسوع پر ایمان لائے تھے لیکن وہ اِس بات کا اِقرار نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ فریسیوں سے ڈرتے تھے تاکہ اُنہیں عبادت‌گاہ سے خارج نہ کر دیا جائے۔ 43 کیونکہ اُنہیں خدا کی خوشنودی حاصل کرنے سے زیادہ اِنسانوں کی خوشنودی حاصل کرنا پسند تھا۔‏

44 لیکن یسوع نے کہا:‏ ”‏جو مجھ پر ایمان لاتا ہے، وہ نہ صرف مجھ پر ایمان لاتا ہے بلکہ اُس پر بھی جس نے مجھے بھیجا ہے۔ 45 اور جو مجھے دیکھتا ہے، وہ اُس کو بھی دیکھتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔ 46 مَیں دُنیا میں روشنی بن کر آیا ہوں تاکہ جو کوئی مجھ پر ایمان لائے، وہ تاریکی میں نہ رہے۔ 47 لیکن اگر کوئی میری باتیں سنتا ہے اور اُن پر عمل نہیں کرتا تو مَیں اُس کو قصوروار نہیں ٹھہراتا کیونکہ مَیں دُنیا کو قصوروار ٹھہرانے نہیں بلکہ اِسے نجات دِلانے آیا ہوں۔ 48 جو مجھے رد کرتا ہے اور میری باتوں کو قبول نہیں کرتا، اُسے قصوروار ٹھہرایا جائے گا۔ میری باتیں اُسے آخری دن قصوروار ٹھہرائیں گی۔ 49 کیونکہ مَیں اپنی طرف سے نہیں بولتا بلکہ میرا باپ جس نے مجھے بھیجا ہے، اُس نے مجھے حکم دیا ہے کہ مجھے کیا بولنا اور کیا کہنا ہے۔ 50 اور مَیں جانتا ہوں کہ اُس کے حکم کا انجام ہمیشہ کی زندگی ہے۔ اِس لیے مَیں جو کچھ کہتا ہوں، بالکل ویسے کہتا ہوں جیسے باپ نے مجھے بتایا ہے۔“‏

13 یسوع عیدِفسح سے پہلے جانتے تھے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اِس دُنیا کو چھوڑ کر اپنے باپ کے پاس چلے جائیں اور وہ اِس دُنیا میں اپنوں سے محبت کرتے تھے اِس لیے وہ آخر تک اُن سے محبت کرتے رہے۔ 2 وہ سب شام کا کھانا کھا رہے تھے۔ اِبلیس، شمعون کے بیٹے یہوداہ اِسکریوتی کے دل میں یسوع کو پکڑوانے کا خیال پہلے ہی ڈال چُکا تھا۔ 3 یسوع جانتے تھے کہ باپ نے سب چیزیں اُن کے حوالے کی ہیں اور وہ خدا کی طرف سے آئے ہیں اور اُس کے پاس واپس جانے والے ہیں۔ 4 اِس لیے کھانے کے دوران وہ اُٹھے اور اپنی چادر اُتار کر ایک طرف رکھی۔ پھر اُنہوں نے ایک کپڑا لیا اور اِسے اپنی کمر پر باندھا۔ 5 اِس کے بعد اُنہوں نے ایک برتن میں پانی لیا اور شاگردوں کے پاؤں دھو کر اُس کپڑے سے صاف کرنے لگے جو اُن کی کمر پر بندھا ہوا تھا۔ 6 جب وہ شمعون پطرس کے پاؤں دھونے لگے تو اُنہوں نے کہا:‏ ”‏مالک، آپ میرے پاؤں کیسے دھو سکتے ہیں؟“‏ 7 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏مَیں جو کام کر رہا ہوں، آپ اُسے ابھی نہیں سمجھ رہے لیکن بعد میں سمجھیں گے۔“‏ 8 پطرس نے کہا:‏ ”‏آپ میرے پاؤں ہرگز نہیں دھوئیں گے۔“‏ یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏جب تک مَیں آپ کے پاؤں نہیں دھوؤں گا تب تک آپ میرے ساتھی نہیں ہوں گے۔“‏ 9 اِس پر شمعون پطرس نے کہا:‏ ”‏مالک، تو پھر آپ صرف میرے پاؤں نہیں بلکہ میرے ہاتھ اور میرا سر بھی دھوئیں۔“‏ 10 یسوع نے کہا:‏ ”‏جس شخص نے غسل کِیا ہے، اُس کے پاؤں دھونا کافی ہے کیونکہ وہ پوری طرح پاک صاف ہے۔ آپ لوگ پاک صاف ہیں لیکن سب کے سب نہیں۔“‏ 11 یسوع جانتے تھے کہ کون اُنہیں پکڑوائے گا۔ اِس لیے اُنہوں نے کہا:‏ ”‏آپ سب پاک صاف نہیں ہیں۔“‏

12 جب یسوع نے سب کے پاؤں دھو لیے تو اُنہوں نے چادر لی اور میز سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ پھر اُنہوں نے کہا:‏ ”‏کیا آپ جانتے ہیں کہ مَیں نے یہ کام کیوں کِیا ہے؟ 13 آپ مجھے ”‏اُستاد“‏ اور ”‏مالک“‏ کہتے ہیں اور بالکل صحیح کہتے ہیں کیونکہ مَیں اُستاد اور مالک ہوں۔ 14 اِس لیے اگر مَیں نے اُستاد اور مالک ہو کر آپ کے پاؤں دھوئے ہیں تو آپ کو بھی ایک دوسرے کے پاؤں دھونے چاہئیں۔‏*‏ 15 کیونکہ مَیں نے آپ کے لیے مثال قائم کی ہے۔ جیسا مَیں نے آپ کے ساتھ کِیا ہے، آپ کو بھی ویسا ہی کرنا چاہیے۔ 16 مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ ایک غلام اپنے مالک سے بڑا نہیں ہوتا اور جس شخص کو بھیجا گیا ہے، وہ بھیجنے والے سے بڑا نہیں ہوتا۔ 17 اگر آپ اِن باتوں کو جانتے ہیں اور اِن پر عمل کرتے ہیں تو آپ کو خوشی ملے گی۔ 18 مَیں آپ سب کے بارے میں بات نہیں کر رہا۔ مَیں اُن کو جانتا ہوں جن کو مَیں نے چُنا ہے۔ لیکن یوں یہ صحیفہ پورا ہوگا کہ ”‏جو میری روٹی کھا رہا تھا، اُس نے میرے خلاف اپنی ایڑی اُٹھائی ہے۔“‏*‏ 19 مَیں ابھی سے آپ کو اِس بارے میں بتا رہا ہوں تاکہ جب یہ بات پوری ہو تو آپ یقین کر لیں کہ مَیں وہی ہوں۔ 20 مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ جو کوئی کسی ایسے شخص کو قبول کرتا ہے جسے مَیں نے بھیجا ہے، وہ مجھے بھی قبول کرتا ہے۔ اور جو کوئی مجھے قبول کرتا ہے، وہ اُسے بھی قبول کرتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔“‏

21 یہ کہنے کے بعد یسوع پریشان ہونے لگے اور کہنے لگے:‏ ”‏مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ آپ میں سے ایک مجھے پکڑوائے گا۔“‏ 22 شاگرد اُلجھن میں پڑ گئے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے کہ یسوع کس کی بات کر رہے ہیں۔ 23 یسوع کا ایک شاگرد جو اُنہیں بہت عزیز تھا، اُن کے پہلو میں*‏ میز پر ٹیک لگا کر بیٹھا تھا۔ 24 اِس لیے شمعون پطرس نے اُس کو اِشارہ کِیا اور کہا:‏ ”‏ہمیں بتاؤ کہ وہ کس کی بات کر رہے ہیں۔“‏ 25 اِس پر وہ شاگرد یسوع کے سینے سے ٹیک لگا کر اُن سے پوچھنے لگا:‏ ”‏مالک، وہ شخص کون ہے؟“‏ 26 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏یہ وہ شخص ہے جسے مَیں نوالہ ڈبو کر دوں گا۔“‏ لہٰذا اُنہوں نے روٹی کا نوالہ ڈبو کر شمعون اِسکریوتی کے بیٹے، یہوداہ کو دیا۔ 27 جب یہوداہ وہ نوالہ لے چُکا تو شیطان اُس کے دل پر حاوی ہو گیا۔ اِس لیے یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏آپ جو کام کر رہے ہیں، جلدی سے کر لیں۔“‏ 28 لیکن جو لوگ میز پر بیٹھے تھے، اُن میں سے کوئی نہیں جانتا تھا کہ یسوع نے یہ کیوں کہا۔ 29 کچھ کا خیال تھا کہ چونکہ یہوداہ کے پاس پیسوں کا ڈبہ ہے اِس لیے یسوع اُس سے کہہ رہے ہیں کہ ”‏ہمیں عید کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے، وہ خرید لیں“‏ یا ”‏غریبوں کو کچھ دے دیں۔“‏ 30 یسوع سے نوالہ لینے کے بعد یہوداہ فوراً باہر چلا گیا۔ اُس وقت رات تھی۔‏

31 جب وہ باہر چلا گیا تو یسوع نے کہا:‏ ”‏اب اِنسان کے بیٹے کی بڑائی ہوگی اور اُس کے ذریعے خدا کی بھی بڑائی ہوگی۔ 32 خدا خود اُسے سربلند کرے گا اور وہ فوراً ایسا کرے گا۔ 33 پیارے بچو، مَیں آپ کے ساتھ کچھ دیر اَور ہوں۔ آپ مجھے ڈھونڈیں گے۔ مَیں نے یہودیوں سے کہا تھا کہ ”‏جہاں مَیں جا رہا ہوں وہاں آپ نہیں آ سکتے۔“‏ اور مَیں آپ سے بھی یہی بات کہہ رہا ہوں۔ 34 مَیں آپ کو ایک نیا حکم دے رہا ہوں کہ ایک دوسرے سے محبت کریں۔ جیسے مَیں نے آپ سے محبت کی ہے ویسے آپ بھی ایک دوسرے سے محبت کریں۔ 35 اگر آپ کے درمیان محبت ہوگی تو سب لوگ پہچان جائیں گے کہ آپ میرے شاگرد ہیں۔“‏

36 شمعون پطرس نے اُن سے کہا:‏ ”‏مالک، آپ کہاں جا رہے ہیں؟“‏ یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏جہاں مَیں جا رہا ہوں، آپ ابھی وہاں نہیں آ سکتے لیکن بعد میں آئیں گے۔“‏ 37 پطرس نے اُن سے کہا:‏ ”‏مالک، مَیں ابھی آپ کے ساتھ کیوں نہیں آ سکتا؟ مَیں آپ کی خاطر اپنی جان بھی دے دوں گا۔“‏ 38 اِس پر یسوع نے کہا:‏ ”‏کیا آپ واقعی میری خاطر اپنی جان دیں گے؟ مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ مُرغا اُس وقت تک بانگ نہیں دے گا جب تک آپ تین بار مجھے جاننے سے اِنکار نہیں کریں گے۔“‏

14 یسوع نے یہ بھی کہا:‏ ”‏اپنے دلوں کو پریشان نہ ہونے دیں۔ خدا پر ایمان ظاہر کریں۔ مجھ پر بھی ایمان ظاہر کریں۔ 2 میرے باپ کے گھر میں بہت جگہ ہے۔ اگر نہ ہوتی تو مَیں آپ کو بتا دیتا کیونکہ مَیں آپ کے لیے جگہ تیار کرنے جا رہا ہوں۔ 3 اور اگر مَیں آپ کے لیے جگہ تیار کرنے جا رہا ہوں تو مَیں دوبارہ آؤں گا اور آپ کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے جاؤں گا تاکہ جہاں مَیں ہوں وہاں آپ بھی ہوں۔ 4 اور جہاں مَیں جا رہا ہوں، وہاں کا راستہ آپ کو پتہ ہے۔“‏

5 توما نے اُن سے کہا:‏ ”‏مالک، ہم نہیں جانتے کہ آپ کہاں جا رہے ہیں۔ پھر ہمیں وہاں کا راستہ کیسے پتہ ہو سکتا ہے؟“‏

6 یسوع نے کہا:‏ ”‏مَیں راستہ اور سچائی اور زندگی ہوں۔ لوگ صرف اور صرف میرے ذریعے باپ کے پاس جا سکتے ہیں۔ 7 اگر آپ لوگ مجھے جانتے تو میرے باپ کو بھی جانتے۔ اب سے آپ اُسے جانتے ہیں بلکہ آپ نے اُسے دیکھ لیا ہے۔“‏

8 فِلپّس نے اُن سے کہا:‏ ”‏مالک، باپ کو ہمیں دِکھائیں۔ ہمارے لیے یہ کافی ہوگا۔“‏

9 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏فِلپّس، مَیں اِتنے عرصے سے آپ لوگوں کے ساتھ ہوں۔ کیا آپ ابھی تک مجھے نہیں جان پائے؟ جس نے مجھے دیکھا ہے، اُس نے باپ کو بھی دیکھا ہے۔ تو پھر آپ یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ ”‏باپ کو ہمیں دِکھائیں“‏؟ 10 کیا آپ اِس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ مَیں باپ کے ساتھ متحد ہوں اور باپ میرے ساتھ متحد ہے؟ مَیں جو کہتا ہوں، وہ اپنی طرف سے نہیں کہتا بلکہ میرا باپ جو میرے ساتھ متحد رہتا ہے، میرے ذریعے اپنا کام کرتا ہے۔ 11 یقین کریں کہ مَیں باپ کے ساتھ متحد ہوں اور باپ میرے ساتھ متحد ہے یا پھر میرے کاموں کی وجہ سے میرا یقین کریں۔ 12 مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ جو کوئی مجھ پر ایمان ظاہر کرتا ہے، وہ ویسے کام بھی کرے گا جیسے مَیں کرتا ہوں بلکہ وہ تو مجھ سے بھی بڑے کام کرے گا کیونکہ مَیں باپ کے پاس جا رہا ہوں۔ 13 اور آپ میرے نام سے جو کچھ بھی مانگیں گے، مَیں آپ کو دوں گا تاکہ بیٹے کے ذریعے باپ کی بڑائی ہو۔ 14 اگر آپ میرے نام سے کچھ مانگیں گے تو مَیں آپ کو دوں گا۔‏

15 اگر آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں تو آپ میرے حکموں پر عمل کریں گے۔ 16 مَیں باپ سے درخواست کروں گا اور وہ آپ کو ایک اَور مددگار*‏ دے گا جو ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے گا 17 یعنی سچائی کی روح جو اِس دُنیا کو نہیں مل سکتی کیونکہ دُنیا نہ تو اِسے دیکھتی ہے اور نہ ہی اِسے جانتی ہے۔ آپ اِسے جانتے ہیں کیونکہ یہ آپ کے ساتھ رہتی ہے اور آپ کے اندر ہے۔ 18 مَیں آپ کو اکیلا*‏ نہیں چھوڑوں گا۔ مَیں آپ کے پاس آ رہا ہوں۔ 19 کچھ دیر کے بعد دُنیا مجھے نہیں دیکھے گی لیکن آپ مجھے دیکھیں گے کیونکہ مَیں زندہ ہوں اور آپ بھی زندہ ہوں گے۔ 20 اُس دن آپ جان جائیں گے کہ مَیں اپنے باپ کے ساتھ متحد ہوں اور آپ میرے ساتھ متحد ہیں اور مَیں آپ کے ساتھ متحد ہوں۔ 21 جو میرے حکموں کو قبول کرتا ہے اور اِن پر عمل کرتا ہے، وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔ اور جو مجھ سے محبت کرتا ہے، میرا باپ اُس سے محبت کرے گا اور مَیں بھی اُس سے محبت کروں گا اور خود کو اُس پر ظاہر کروں گا۔“‏

22 یہوداہ نے (‏یہ یہوداہ اِسکریوتی نہیں تھے)‏ اُن سے کہا:‏ ”‏مالک، آپ خود کو صرف ہم پر ظاہر کیوں کرنا چاہتے ہیں، دُنیا پر کیوں نہیں؟“‏

23 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏اگر کوئی مجھ سے محبت کرتا ہے تو وہ میرے حکموں پر عمل کرے گا اور میرا باپ اُس سے محبت کرے گا اور ہم اُس کے پاس جائیں گے اور ہم سب ساتھ رہیں گے۔ 24 جو مجھ سے محبت نہیں کرتا، وہ میری باتوں پر عمل نہیں کرتا۔ جو باتیں آپ سُن رہے ہیں، وہ میری نہیں بلکہ میرے باپ کی ہیں جس نے مجھے بھیجا ہے۔‏

25 ابھی تو مَیں آپ کے ساتھ ہوں اور آپ سے یہ باتیں کہہ رہا ہوں۔ 26 لیکن مددگار یعنی پاک روح جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا، آپ کو سب باتیں سکھائے گا اور آپ کو وہ باتیں یاد دِلائے گا جو مَیں نے آپ سے کہی ہیں۔ 27 مَیں آپ کو اِطمینان دے رہا ہوں اور اِسے آپ کے پاس چھوڑ رہا ہوں۔ مَیں آپ کو ویسا اِطمینان نہیں دے رہا جیسا یہ دُنیا دیتی ہے۔ اپنے دلوں کو خوف سے لرزنے یا پریشان نہ ہونے دیں۔ 28 مَیں نے آپ سے کہا تھا کہ ”‏مَیں جا رہا ہوں اور آپ کے پاس واپس آؤں گا۔“‏ اگر آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں تو آپ اِس بات پر خوش ہوں گے کہ مَیں باپ کے پاس جا رہا ہوں کیونکہ باپ مجھ سے بڑا ہے۔ 29 مَیں ابھی سے آپ کو اِن باتوں کے بارے میں بتا رہا ہوں تاکہ جب یہ ہوں تو آپ اِن پر یقین کر لیں۔ 30 اب مَیں آپ سے زیادہ باتیں نہیں کروں گا کیونکہ دُنیا کا حاکم آ رہا ہے لیکن مَیں اُس کی گِرفت سے باہر ہوں۔‏*‏ 31 مَیں وہی کر رہا ہوں جو باپ نے مجھے کہا ہے تاکہ دُنیا جان لے کہ مَیں باپ سے محبت کرتا ہوں۔ آئیں، یہاں سے چلیں۔‏

15 مَیں انگور کی اصلی بیل ہوں اور میرا باپ کاشت‌کار ہے۔ 2 وہ میری ہر اُس شاخ کو کاٹ ڈالتا ہے جو پھل نہیں لاتی اور جو شاخ پھل لاتی ہے، اُس کو وہ چھانٹ کر صاف کرتا ہے تاکہ اَور بھی پھل لائے۔ 3 آپ تو اُن باتوں کی وجہ سے جو مَیں نے آپ سے کہی تھیں، پہلے سے صاف ہیں۔ 4 میرے ساتھ متحد رہیں اور مَیں آپ کے ساتھ متحد رہوں گا۔ ایک شاخ تب ہی پھل لا سکتی ہے اگر وہ بیل سے جُڑی رہے۔ اِسی طرح آپ تب ہی پھل لا سکتے ہیں اگر آپ میرے ساتھ متحد رہیں۔ 5 مَیں انگور کی بیل ہوں اور آپ شاخیں ہیں۔ جو شخص میرے ساتھ متحد رہتا ہے اور جس کے ساتھ مَیں متحد رہتا ہوں، وہ بہت زیادہ پھل لاتا ہے۔ کیونکہ آپ مجھ سے الگ ہو کر کچھ نہیں کر سکتے۔ 6 جو شخص میرے ساتھ متحد نہیں رہتا، اُسے ایک شاخ کی طرح باہر پھینکا جائے گا اور وہ سُوکھ جائے گا۔ اور لوگ ایسی شاخوں کو اِکٹھا کریں گے اور اُن کو آگ میں پھینک دیں گے اور وہ جل جائیں گی۔ 7 اگر آپ میرے ساتھ متحد رہتے ہیں اور میری باتیں آپ کے دل میں رہتی ہیں تو آپ جو چاہیں مانگیں، آپ کو دیا جائے گا۔ 8 میرے باپ کی بڑائی اِسی سے ہوتی ہے کہ آپ بہت پھل لائیں اور خود کو میرے شاگرد ثابت کریں۔ 9 جس طرح باپ نے مجھ سے محبت کی اِسی طرح مَیں نے آپ سے محبت کی۔ میری محبت میں قائم رہیں۔ 10 اگر آپ میرے حکموں پر عمل کریں گے تو آپ میری محبت میں قائم رہیں گے جیسے مَیں باپ کے حکموں پر عمل کرتا ہوں اور اُس کی محبت میں قائم رہتا ہوں۔‏

11 مَیں نے یہ باتیں آپ سے اِس لیے کہی ہیں تاکہ آپ پوری طرح میری خوشی محسوس کر سکیں۔ 12 میرا حکم ہے کہ آپ ایک دوسرے سے ویسے ہی محبت کریں جیسے مَیں نے آپ سے محبت کی ہے۔ 13 اِس سے زیادہ محبت کوئی نہیں کر سکتا کہ اپنے دوستوں کی خاطر اپنی جان دے دے۔ 14 آپ میرے دوست ہیں بشرطیکہ آپ میرے حکموں پر عمل کریں۔ 15 اب سے مَیں آپ کو غلام نہیں کہوں گا کیونکہ ایک غلام نہیں جانتا کہ اُس کا مالک کیا کرتا ہے۔ لیکن مَیں نے آپ کو دوست کہا ہے کیونکہ مَیں نے آپ کو وہ ساری باتیں بتا دی ہیں جو مَیں نے اپنے باپ سے سنی ہیں۔ 16 آپ نے مجھے نہیں چُنا بلکہ مَیں نے آپ کو چُنا ہے اور مقرر کِیا ہے تاکہ آپ جا کر پھل لاتے رہیں اور آپ کا پھل پائیدار ہو تاکہ آپ باپ سے جو کچھ میرے نام سے مانگیں، آپ کو دیا جائے۔‏

17 مَیں آپ کو اِن باتوں کا حکم دیتا ہوں تاکہ آپ ایک دوسرے سے محبت کریں۔ 18 اگر دُنیا آپ سے نفرت کرتی ہے تو آپ جانتے ہیں کہ اِس نے پہلے مجھ سے نفرت کی ہے۔ 19 اگر آپ دُنیا کا حصہ ہوتے تو وہ آپ کو عزیز رکھتی کیونکہ دُنیا اپنوں کو عزیز رکھتی ہے۔ لیکن چونکہ آپ دُنیا کا حصہ نہیں ہیں بلکہ مَیں نے آپ کو دُنیا میں سے چُن لیا ہے اِس لیے دُنیا آپ سے نفرت کرتی ہے۔ 20 وہ بات یاد رکھیں جو مَیں نے پہلے آپ سے کہی تھی کہ ایک غلام اپنے مالک سے بڑا نہیں ہوتا۔ اگر اُنہوں نے مجھے اذیت پہنچائی تو وہ آپ کو بھی اذیت پہنچائیں گے۔ اگر اُنہوں نے میری باتوں پر عمل کِیا تو وہ آپ کی باتوں پر بھی عمل کریں گے۔ 21 لیکن وہ میرے نام کی وجہ سے آپ کے خلاف یہ سب کچھ کریں گے کیونکہ وہ اُس کو نہیں جانتے جس نے مجھے بھیجا ہے۔ 22 اگر مَیں نے آ کر اُن سے بات نہ کی ہوتی تو اُن کو قصوروار نہ ٹھہرایا جاتا۔ لیکن اب وہ اپنے گُناہ کے لیے کوئی بہانہ پیش نہیں کر سکتے ہیں۔ 23 جو کوئی مجھ سے نفرت کرتا ہے، وہ میرے باپ سے بھی نفرت کرتا ہے۔ 24 مَیں نے اُن کے سامنے ایسے کام کیے جو کسی اَور نے نہیں کیے۔ اگر مَیں نے ایسا نہ کِیا ہوتا تو اُن کو قصوروار نہ ٹھہرایا جاتا۔ مگر اُنہوں نے تو میرے کام دیکھے ہیں پھر بھی وہ مجھ سے اور میرے باپ سے نفرت کرتے ہیں۔ 25 لیکن یہ اِس لیے ہوا تاکہ شریعت میں لکھی یہ بات پوری ہو کہ ”‏اُنہوں نے مجھ سے بِلاوجہ نفرت کی۔“‏ 26 جب وہ مددگار آئے گا جسے مَیں باپ کی طرف سے بھیجوں گا یعنی سچائی کی روح جو باپ کی طرف سے آتی ہے تو وہ میرے بارے میں گواہی دے گا۔ 27 پھر آپ کو بھی گواہی دینی ہوگی کیونکہ آپ شروع سے میرے ساتھ ہیں۔‏

16 مَیں نے آپ سے یہ باتیں کہی ہیں تاکہ آپ بھٹک نہ جائیں۔ 2 لوگ آپ کو عبادت‌گاہوں سے خارج کریں گے۔ دراصل وہ وقت آئے گا جب لوگ آپ کو قتل کر کے سوچیں گے کہ اُنہوں نے خدا کی خدمت کی ہے۔ 3 وہ ایسے کام اِس لیے کریں گے کیونکہ اُنہوں نے نہ تو باپ کو جانا ہے اور نہ ہی مجھے۔ 4 مَیں نے آپ کو یہ باتیں بتائی ہیں تاکہ جب یہ سب کچھ ہونے لگے تو آپ کو یاد آئے کہ مَیں آپ کو اِس بارے میں بتا چُکا ہوں۔‏

مَیں نے یہ باتیں آپ کو پہلے نہیں بتائیں کیونکہ مَیں آپ کے ساتھ تھا۔ 5 لیکن اب مَیں اُس کے پاس جا رہا ہوں جس نے مجھے بھیجا ہے۔ پھر بھی آپ میں سے کوئی یہ نہیں پوچھ رہا کہ ”‏آپ کہاں جا رہے ہیں؟“‏ 6 مگر چونکہ مَیں نے آپ کو یہ باتیں بتائی ہیں اِس لیے آپ کے دل غم سے بھر گئے ہیں۔ 7 مَیں سچ کہہ رہا ہوں کہ مَیں آپ ہی کے فائدے کے لیے جا رہا ہوں کیونکہ اگر مَیں نہیں جاؤں گا تو مددگار آپ کے پاس نہیں آئے گا۔ پر اگر مَیں جاؤں گا تو مَیں اُسے آپ کے پاس بھیجوں گا۔ 8 اور جب وہ آئے گا تو وہ دُنیا کو گُناہ اور نیکی اور عدالت کے بارے میں ٹھوس ثبوت پیش کرے گا۔ 9 پہلے تو گُناہ کے بارے میں کیونکہ دُنیا مجھ پر ایمان ظاہر نہیں کر رہی۔ 10 پھر نیکی کے بارے میں کیونکہ مَیں اپنے باپ کے پاس جا رہا ہوں اور پھر آپ مجھے نہیں دیکھیں گے۔ 11 اور آخر میں عدالت کے بارے میں کیونکہ دُنیا کا حاکم سزاوار ٹھہرایا گیا ہے۔‏

12 مجھے آپ سے اَور بھی بہت سی باتیں کہنی ہیں لیکن ابھی آپ اُن کو سمجھنے کے قابل نہیں ہیں۔ 13 لیکن جب وہ مددگار آئے گا یعنی سچائی کی روح تو وہ آپ کی رہنمائی کرے گا تاکہ آپ سچائی کو پوری طرح سمجھ جائیں کیونکہ وہ اپنی طرف سے نہیں بولے گا بلکہ وہی بولے گا جو وہ سنتا ہے اور وہ آپ کو بتائے گا کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے۔ 14 وہ میری بڑائی کرے گا کیونکہ اُس نے مجھ سے جو کچھ سنا ہے، وہی آپ کو بتائے گا۔ 15 میرے باپ نے مجھے وہ سب کچھ بتایا ہے جو وہ جانتا ہے۔ اِس لیے مَیں نے کہا ہے کہ ”‏اُس نے مجھ سے جو کچھ سنا ہے، وہی آپ کو بتائے گا۔“‏ 16 تھوڑی دیر میں آپ مجھے نہیں دیکھیں گے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد آپ مجھے دیکھیں گے۔“‏

17 یہ سُن کر یسوع کے کچھ شاگرد ایک دوسرے سے کہنے لگے:‏ ”‏اُن کی اِس بات کا کیا مطلب ہے کہ ”‏تھوڑی دیر میں آپ مجھے نہیں دیکھیں گے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد آپ مجھے دیکھیں گے“‏ اور اِس بات کا بھی کہ ”‏مَیں اپنے باپ کے پاس جا رہا ہوں“‏؟“‏ 18 وہ آپس میں یہ بھی کہہ رہے تھے کہ ”‏اِس ”‏تھوڑی دیر“‏ کا کیا مطلب ہے؟ ہمیں اُن کی باتیں سمجھ نہیں آ رہیں۔“‏ 19 یسوع کو پتہ تھا کہ شاگرد اُن سے سوال کرنا چاہتے ہیں اِس لیے اُنہوں نے کہا:‏ ”‏کیا آپ ایک دوسرے سے سوال اِس لیے کر رہے ہیں کیونکہ مَیں نے کہا تھا کہ ”‏تھوڑی دیر میں آپ مجھے نہیں دیکھیں گے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد آپ مجھے دیکھیں گے“‏؟ 20 مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ آپ روئیں گے اور ماتم کریں گے جبکہ دُنیا خوش ہوگی۔ آپ غمگین ہوں گے لیکن آپ کا غم خوشی میں بدل جائے گا۔ 21 جب کسی عورت کو حمل کی دردیں شروع ہوتی ہیں تو وہ غمگین ہوتی ہے کیونکہ اُس کی تکلیف کی گھڑی آ گئی ہے۔ لیکن جب اُس کا بچہ پیدا ہو جاتا ہے تو وہ اپنی تکلیف بھول جاتی ہے اور خوش ہوتی ہے کیونکہ دُنیا میں ایک بچہ آیا ہے۔ 22 اِسی طرح آپ ابھی تو غمگین ہیں لیکن وہ وقت آئے گا جب مَیں آپ کو پھر سے دیکھوں گا۔ تب آپ کے دل خوش ہوں گے اور کوئی بھی آپ سے یہ خوشی نہیں چھین سکے گا۔ 23 اُس دن آپ مجھ سے کوئی سوال نہیں کریں گے۔ مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ میرا باپ آپ کو ہر وہ چیز دے گا جو آپ میرے نام سے اُس سے مانگیں گے۔ 24 ابھی تک آپ نے میرے نام سے کوئی بھی چیز نہیں مانگی ہے۔ مانگیں تو آپ کو دیا جائے گا تاکہ آپ کی خوشی مکمل ہو جائے۔‏

25 مَیں نے آپ کو یہ باتیں تمثیلیں دے دے کر بتائی ہیں۔ لیکن وہ وقت آنے والا ہے جب مَیں آپ سے بات کرتے وقت تمثیلیں اِستعمال نہیں کروں گا بلکہ آپ کو باپ کے بارے میں صاف صاف بتاؤں گا۔ 26 اُس دن آپ میرے نام سے آسمانی باپ کے سامنے اپنی درخواستیں پیش کریں گے۔ مَیں یہ نہیں کہہ رہا کہ مَیں آپ کی خاطر درخواستیں پیش کروں گا 27 کیونکہ باپ خود آپ سے پیار کرتا ہے اِس لیے کہ آپ مجھ سے پیار کرتے ہیں اور آپ کو یقین ہے کہ مَیں خدا کے نمائندے کے طور پر آیا ہوں۔ 28 مَیں اپنے باپ کے نمائندے کے طور پر دُنیا میں آیا ہوں۔ اب مَیں دُنیا کو چھوڑ کر باپ کے پاس جا رہا ہوں۔“‏

29 شاگردوں نے کہا:‏ ”‏دیکھیں، اب آپ صاف صاف بات کر رہے ہیں اور تمثیلیں اِستعمال نہیں کر رہے ہیں۔ 30 اب ہم جان گئے ہیں کہ آپ کو سب کچھ پتہ ہے۔ آپ کو پتہ ہوتا ہے کہ لوگ کیا سوچ رہے ہیں اِس لیے اِس بات کی ضرورت نہیں کہ وہ آپ سے سوال کریں۔ اِس وجہ سے ہمیں پکا یقین ہے کہ آپ خدا کی طرف سے آئے ہیں۔“‏ 31 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏کیا اب آپ کو یقین آ گیا ہے؟ 32 دیکھیں، وہ وقت آنے والا ہے بلکہ آ چُکا ہے جب آپ سب تتربتر ہو جائیں گے اور اپنے اپنے گھروں کو بھاگ جائیں گے اور مجھے اکیلا چھوڑ جائیں گے۔ لیکن مَیں اکیلا نہیں ہوں کیونکہ میرا باپ میرے ساتھ ہے۔ 33 مَیں نے آپ سے یہ باتیں اِس لیے کہی ہیں تاکہ آپ کو میرے ذریعے اِطمینان حاصل ہو۔ دُنیا میں آپ کو مصیبتیں اُٹھانی پڑیں گی لیکن حوصلہ رکھیں، مَیں دُنیا پر غالب آ گیا ہوں۔“‏

17 اِن باتوں کو ختم کرنے کے بعد یسوع نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا:‏ ”‏اَے باپ، اب وقت آ پہنچا ہے۔ اپنے بیٹے کو شان‌دار رُتبہ عطا کر تاکہ وہ تیری بڑائی کرے۔ 2 کیونکہ تُو نے اپنے بیٹے کو سب لوگوں پر اِختیار دیا ہے تاکہ وہ اُن کو ہمیشہ کی زندگی دے سکے جو تُو نے اُس کو دیے ہیں۔ 3 ہمیشہ کی زندگی صرف وہ لوگ پائیں گے جو تجھے یعنی واحد اور سچے خدا کو اور یسوع مسیح کو قریب سے جانیں گے جسے تُو نے بھیجا ہے۔ 4 مَیں نے زمین پر تیری بڑائی کی اور وہ کام پورا کِیا جو تُو نے مجھے دیا۔ 5 لہٰذا اَے باپ، اب مجھے وہ شان‌دار رُتبہ دے جو مَیں دُنیا کے وجود میں آنے سے پہلے تیرے حضور رکھتا تھا۔‏

6 مَیں نے تیرا نام اُن لوگوں پر ظاہر کِیا ہے جو تُو نے مجھے اِس دُنیا میں سے دیے ہیں۔ وہ تیرے تھے اور تُو نے اُنہیں مجھے دیا اور اُنہوں نے تیری باتوں پر عمل کِیا۔ 7 اب اُن کو پتہ چل گیا ہے کہ جتنی بھی چیزیں تُو نے مجھے دی ہیں، وہ تیری طرف سے ہیں۔ 8 کیونکہ مَیں نے اُن کو وہ سب باتیں بتا دی ہیں جو تُو نے مجھ سے کہی تھیں اور اُنہوں نے اِن کو قبول کِیا ہے۔ اور وہ جان گئے ہیں کہ مَیں تیرے نمائندے کے طور پر آیا ہوں اور اُنہیں یقین ہو گیا ہے کہ تُو نے مجھے بھیجا ہے۔ 9 مَیں اُن کی خاطر درخواست کر رہا ہوں۔ مَیں دُنیا کی خاطر نہیں بلکہ اُن لوگوں کی خاطر درخواست کر رہا ہوں جو تُو نے مجھے دیے ہیں کیونکہ وہ تیرے ہی ہیں۔ 10 میری ساری چیزیں تیری ہیں اور تیری چیزیں میری ہیں اور اُن کے درمیان میری بڑائی ہوئی ہے۔‏

11 مَیں دُنیا سے جا رہا ہوں اور تیرے پاس آ رہا ہوں لیکن وہ دُنیا میں رہیں گے۔ مُقدس باپ، اپنے نام کی خاطر جو تُو نے مجھے دیا ہے، اُن کی حفاظت کر تاکہ وہ ایک*‏ ہوں جس طرح ہم ایک*‏ ہیں۔ 12 جب تک مَیں اُن کے ساتھ ہوں، مَیں تیرے نام کی خاطر جو تُو نے مجھے دیا ہے، اُن کی حفاظت کروں گا۔ مَیں نے اُن کی حفاظت کی ہے اِس لیے اُن میں سے ایک بھی ہلاک نہیں ہوا سوائے اُس کے جو ہلاکت کا بیٹا ہے تاکہ صحیفہ پورا ہو جائے۔ 13 لیکن اب مَیں تیرے پاس آ رہا ہوں۔ مَیں یہ باتیں دُنیا میں کہہ رہا ہوں تاکہ وہ میری خوشی پوری طرح محسوس کر سکیں۔ 14 مَیں نے تیری باتیں اُن کو بتائیں لیکن دُنیا نے اُن سے نفرت کی کیونکہ وہ دُنیا کا حصہ نہیں ہیں جس طرح مَیں دُنیا کا حصہ نہیں ہوں۔‏

15 مَیں یہ درخواست نہیں کر رہا کہ تُو اُن کو دُنیا میں سے نکال لے بلکہ یہ کہ تُو شیطان*‏ سے اُن کی حفاظت کر۔ 16 وہ دُنیا کا حصہ نہیں ہیں جس طرح مَیں دُنیا کا حصہ نہیں ہوں۔ 17 اُن کو سچائی کے ذریعے پاک کر۔ تیرا کلام سچائی ہے۔ 18 جس طرح تُو نے مجھے دُنیا میں بھیجا ہے اُسی طرح مَیں نے اُن کو دُنیا میں بھیجا ہے۔ 19 اور مَیں نے خود کو اُن کی خاطر پاک رکھا تاکہ وہ بھی سچائی کے ذریعے پاک ہوں۔‏

20 مَیں نہ صرف اِن کی خاطر درخواست کر رہا ہوں بلکہ اُن کی خاطر بھی جو اِن کی باتوں کے ذریعے مجھ پر ایمان لائیں گے 21 تاکہ وہ سب ایک ہوں جس طرح تُو، اَے باپ، میرے ساتھ متحد ہے اور مَیں تیرے ساتھ متحد ہوں تاکہ وہ بھی ہمارے ساتھ متحد ہوں اور یوں دُنیا کو یقین ہو جائے کہ تُو نے مجھے بھیجا ہے۔ 22 مَیں نے اُن کو وہ رُتبہ دیا ہے جو تُو نے مجھے دیا ہے تاکہ وہ ایک ہوں جس طرح ہم ایک ہیں۔ 23 مَیں اُن کے ساتھ متحد ہوں اور تُو میرے ساتھ متحد ہے تاکہ اُن میں کامل اِتحاد ہو اور دُنیا جان جائے کہ تُو نے مجھے بھیجا ہے اور جس طرح تُو نے مجھ سے محبت کی ہے اُسی طرح تُو نے اُن سے بھی محبت کی ہے۔ 24 اَے باپ، مَیں چاہتا ہوں کہ جو لوگ تُو نے مجھے دیے ہیں، وہ میرے ساتھ وہاں ہوں جہاں مَیں جا رہا ہوں تاکہ وہ اُس شان‌دار رُتبے کو دیکھیں جو تُو نے مجھے دیا ہے کیونکہ اِس سے پہلے کہ دُنیا کی بنیاد ڈالی گئی تُو نے مجھ سے محبت کی۔ 25 نیک باپ، دُنیا تجھے نہیں جانتی لیکن مَیں تجھے جانتا ہوں اور یہ لوگ بھی جان گئے ہیں کہ تُو نے مجھے بھیجا ہے۔ 26 مَیں نے اِن کو تیرے نام کے بارے میں تعلیم دی ہے اور آئندہ بھی دوں گا تاکہ وہ محبت جو تُو میرے لیے رکھتا ہے، اِن میں بھی ہو اور مَیں اِن کے ساتھ متحد ہوں۔“‏

18 اپنی بات ختم کرنے کے بعد یسوع اپنے شاگردوں کے ساتھ وادیِ‌قدرون کے پار ایک باغ میں گئے۔ 2 یہوداہ بھی جو یسوع کو پکڑوانے والا تھا، اُس جگہ کے بارے میں جانتا تھا کیونکہ یسوع اکثر اپنے شاگردوں کے ساتھ وہاں وقت گزارتے تھے۔ 3 لہٰذا یہوداہ اعلیٰ کاہنوں اور فریسیوں کے کچھ افسروں اور کچھ فوجیوں کو لے کر وہاں آ گیا۔ اُن کے پاس مشعلیں، چراغ اور ہتھیار تھے۔ 4 یسوع کو پتہ تھا کہ کیا ہونے والا ہے اِس لیے اُنہوں نے آگے بڑھ کر اُن لوگوں سے پوچھا:‏ ”‏آپ کس کو ڈھونڈ رہے ہیں؟“‏ 5 اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏یسوع ناصری کو۔“‏ یسوع نے کہا:‏ ”‏وہ مَیں ہوں۔“‏ یہوداہ بھی جو اُن کو پکڑوانے والا تھا، اُن لوگوں کے ساتھ کھڑا تھا۔‏

6 لیکن جب یسوع نے اُن لوگوں سے کہا کہ ”‏وہ مَیں ہوں“‏ تو وہ پیچھے ہٹ گئے اور زمین پر گِر گئے۔ 7 اِس لیے یسوع نے دوبارہ پوچھا کہ ”‏آپ کس کو ڈھونڈ رہے ہیں؟“‏ اُنہوں نے کہا:‏ ”‏یسوع ناصری کو۔“‏ 8 یسوع نے کہا:‏ ”‏مَیں آپ کو بتا چُکا ہوں کہ وہ مَیں ہوں۔ اگر آپ مجھے ڈھونڈ رہے ہیں تو اِن آدمیوں کو جانے دیں۔“‏ 9 اُنہوں نے یہ اِس لیے کہا تاکہ اُن کی وہ بات پوری ہو کہ ”‏تُو نے مجھے جو لوگ دیے، مَیں نے اُن میں سے ایک کو بھی نہیں کھویا۔“‏

10 شمعون پطرس کے پاس ایک تلوار تھی۔ جب اُنہوں نے یہ سب کچھ دیکھا تو اُنہوں نے تلوار نکالی اور کاہنِ‌اعظم کے غلام کا دایاں کان اُڑا دیا۔ اُس غلام کا نام ملخُس تھا۔ 11 لیکن یسوع نے پطرس سے کہا:‏ ”‏اپنی تلوار میان میں رکھ لیں۔ کیا مجھے وہ پیالہ نہیں پینا چاہیے جو باپ نے مجھے دیا ہے؟“‏

12 پھر وہاں موجود فوجی کمانڈر، فوجیوں اور یہودیوں کے افسروں نے یسوع کو پکڑ کر باندھ لیا۔ 13 وہ یسوع کو پہلے تو حنّا کے پاس لے گئے کیونکہ وہ کائفا کا سُسر تھا جو اُس سال کاہنِ‌اعظم تھا۔ 14 دراصل کائفا ہی وہ آدمی تھا جس نے یہودیوں کو مشورہ دیا تھا کہ اگر سب لوگوں کے لیے ایک آدمی مر جائے تو اُنہی کا فائدہ ہوگا۔‏

15 اب شمعون پطرس اور ایک اَور شاگرد یسوع کے پیچھے پیچھے گئے۔ اِس شاگرد کی کاہنِ‌اعظم سے واقفیت تھی۔ وہ یسوع کے پیچھے کاہنِ‌اعظم کے صحن تک گیا 16 لیکن پطرس باہر دروازے کے پاس کھڑے رہے۔ اِس لیے اُس شاگرد نے جو کاہنِ‌اعظم کا واقف تھا، باہر جا کر اُس نوکرانی سے بات کی جو گھر کی چوکیداری کر رہی تھی اور پطرس کو اندر لے آیا۔ 17 اُس نوکرانی نے پطرس سے پوچھا:‏ ”‏کہیں تُم بھی تو اُس آدمی کے شاگرد نہیں؟“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏نہیں تو۔“‏ 18 اب غلاموں اور افسروں نے ایک انگیٹھی میں آگ جلائی ہوئی تھی کیونکہ بہت سردی تھی اور وہ سب اِس کے اِردگِرد کھڑے آگ سینک رہے تھے۔ پطرس بھی اُن کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے اور آگ سینکنے لگے۔‏

19 اعلیٰ کاہن، یسوع سے اُن کے شاگردوں اور تعلیمات کے بارے میں پوچھ‌گچھ کرنے لگا۔ 20 یسوع نے اُس سے کہا:‏ ”‏مَیں نے دُنیا سے کُھلے عام بات کی۔ مَیں نے ہمیشہ عبادت‌گاہوں اور ہیکل*‏ میں تعلیم دی جہاں یہودی جمع ہوتے ہیں۔ مَیں نے پوشیدگی میں کچھ نہیں کہا۔ 21 آپ مجھ سے کیوں سوال کر رہے ہیں؟ اُن سے سوال کریں جنہوں نے میری باتیں سنی ہیں۔ دیکھیں، اُن کو پتہ ہے کہ مَیں نے کیا کچھ کہا ہے۔“‏ 22 جب یسوع نے یہ کہا تو پاس کھڑے ایک افسر نے اُن کے مُنہ پر تھپڑ مارا اور کہا:‏ ”‏کیا اعلیٰ کاہن سے اِس طرح بات کرتے ہیں؟“‏ 23 یسوع نے اُسے جواب دیا:‏ ”‏اگر مَیں نے کچھ غلط کہا ہے تو بتائیں*‏ کہ غلط کیا تھا لیکن اگر میری بات صحیح ہے تو آپ نے مجھے کیوں مارا ہے؟“‏ 24 پھر حنّا نے یسوع کے ہاتھ بندھوا کر اُن کو کاہنِ‌اعظم کائفا کے پاس بھیج دیا۔‏

25 جب شمعون پطرس کھڑے آگ سینک رہے تھے تو کچھ لوگوں نے اُن سے کہا:‏ ”‏کہیں تُم بھی تو اُس آدمی کے شاگرد نہیں؟“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏نہیں۔“‏ 26 وہاں کاہنِ‌اعظم کا ایک غلام بھی تھا جو اُس آدمی کا رشتے‌دار تھا جس کا کان پطرس نے اُڑا دیا تھا۔ اُس نے اُن سے کہا:‏ ”‏بے‌شک مَیں نے تمہیں اُس آدمی کے ساتھ باغ میں دیکھا تھا!‏“‏ 27 لیکن پطرس نے پھر سے اِنکار کِیا اور اُسی وقت ایک مُرغے نے بانگ دی۔‏

28 اب وہ لوگ یسوع کو صبح سویرے کائفا کے گھر سے حاکم کی رہائش‌گاہ لے گئے۔ لیکن وہ خود رہائش‌گاہ میں داخل نہیں ہوئے کیونکہ اُن کو ڈر تھا کہ وہ ناپاک ہو جائیں گے اور عیدِفسح کا کھانا نہیں کھا سکیں گے۔ 29 اِس لیے پیلاطُس نے باہر آ کر اُن سے پوچھا:‏ ”‏تُم اِس آدمی کو یہاں کیوں لائے ہو؟ اِس پر کیا اِلزام ہے؟“‏ 30 اُنہوں نے کہا:‏ ”‏اگر یہ آدمی مُجرم نہ ہوتا تو ہم اِس کو آپ کے حوالے نہ کرتے۔“‏ 31 پیلاطُس نے اُن سے کہا:‏ ”‏تُم خود اِس کو لے کر جاؤ اور اپنی شریعت کے مطابق اِس کے بارے میں فیصلہ سناؤ۔“‏ لیکن یہودیوں نے کہا:‏ ”‏کسی کو مار ڈالنا ہمارے لیے جائز نہیں ہے۔“‏ 32 یہ اِس لیے ہوا تاکہ وہ بات پوری ہو جو یسوع نے اپنی موت کے طریقے کے بارے میں کہی تھی۔‏

33 لہٰذا پیلاطُس پھر سے رہائش‌گاہ میں داخل ہوا اور یسوع کو بلوا کر اُن سے پوچھا:‏ ”‏کیا تُم یہودیوں کے بادشاہ ہو؟“‏ 34 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏کیا آپ یہ بات اپنی طرف سے کہہ رہے ہیں یا پھر کسی نے آپ کو میرے بارے میں بتایا ہے؟“‏ 35 پیلاطُس نے کہا:‏ ”‏مَیں تو یہودی نہیں ہوں۔ تمہاری اپنی قوم اور اعلیٰ کاہنوں نے تمہیں میرے حوالے کِیا ہے۔ آخر تُم نے کیا کِیا ہے؟“‏ 36 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏میری بادشاہت کا اِس دُنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر اِس کا دُنیا سے تعلق ہوتا تو میرے خادم لڑتے تاکہ مَیں یہودیوں کے حوالے نہ کِیا جاتا۔ لیکن میری بادشاہت یہاں کی نہیں ہے۔“‏ 37 پیلاطُس نے اُن سے کہا:‏ ”‏تو پھر کیا تُم ایک بادشاہ ہو؟“‏ یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏آپ نے خود ہی کہہ دیا کہ مَیں ایک بادشاہ ہوں۔ مَیں اِسی لیے پیدا ہوا اور دُنیا میں آیا تاکہ سچائی کے بارے میں گواہی دوں۔ جو شخص سچائی کی طرف ہے، وہ میری سنتا ہے۔“‏ 38 پیلاطُس نے کہا:‏ ”‏سچائی کیا ہے؟“‏

اِس کے بعد وہ دوبارہ یہودیوں کے پاس باہر گیا اور کہا:‏ ”‏اِس آدمی نے کوئی جُرم نہیں کِیا۔ 39 تمہارا رواج ہے کہ مَیں عیدِفسح کے موقعے پر تمہارے لیے ایک آدمی کو رِہا کروں۔ کیا تُم چاہتے ہو کہ مَیں یہودیوں کے بادشاہ کو رِہا کر دوں؟“‏ 40 وہ لوگ پھر سے چلّائے کہ ”‏اِس آدمی کو نہیں بلکہ برابا کو رِہا کریں!‏“‏ برابا ایک ڈاکو تھا۔‏

19 پھر پیلاطُس نے یسوع کو کوڑے لگوائے۔ 2 سپاہیوں نے کانٹوں سے ایک تاج بنا کر یسوع کے سر پر رکھ دیا اور اُنہیں جامنی رنگ کا لباس پہنا دیا۔ 3 وہ یسوع کے پاس آ آ کر کہنے لگے:‏ ”‏یہودیوں کے بادشاہ!‏ آداب!‏“‏ اور اُنہوں نے یسوع کے مُنہ پر تھپڑ بھی مارے۔ 4 پیلاطُس دوبارہ سے باہر گیا اور یہودیوں سے کہا:‏ ”‏دیکھو!‏ مَیں اُسے تمہارے پاس باہر لا رہا ہوں تاکہ تُم جان جاؤ کہ میرے خیال میں اُس نے کوئی جُرم نہیں کِیا۔“‏ 5 پھر یسوع باہر آئے۔ اُنہوں نے کانٹوں کا تاج اور جامنی لباس پہنا ہوا تھا۔ پیلاطُس نے لوگوں سے کہا:‏ ”‏دیکھو!‏ یہی وہ آدمی ہے۔“‏ 6 لیکن جب اعلیٰ کاہنوں اور افسروں نے یسوع کو دیکھا تو وہ چلّانے لگے:‏ ”‏اِسے سُولی*‏ دیں!‏ سُولی دیں!‏“‏ اِس پر پیلاطُس نے اُن سے کہا:‏ ”‏تُم خود ہی اِسے لے کر جاؤ اور مار ڈالو۔ میرے خیال میں تو یہ آدمی بے‌قصور ہے۔“‏ 7 یہودیوں نے اُسے جواب دیا:‏ ”‏ہماری شریعت کے مطابق اِسے سزائے‌موت ملنی چاہیے کیونکہ اِس نے خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کِیا ہے۔“‏

8 جب پیلاطُس نے اُن کی بات سنی تو وہ اَور خوف‌زدہ ہو گیا 9 اور اُس نے دوبارہ رہائش‌گاہ میں جا کر یسوع سے پوچھا:‏ ”‏تُم کہاں سے ہو؟“‏ لیکن یسوع نے کوئی جواب نہیں دیا۔ 10 اِس پر پیلاطُس نے اُن سے کہا:‏ ”‏تُم مجھ سے بات کرنے سے اِنکار کر رہے ہو؟ کیا تمہیں پتہ نہیں کہ میرے پاس اِختیار ہے کہ تمہیں رِہا کر دوں یا پھر مار ڈالوں؟“‏ 11 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏آپ کو مجھ پر صرف اِس لیے اِختیار ہے کیونکہ یہ آپ کو آسمان سے دیا گیا ہے۔ اِس لیے جس آدمی نے مجھے آپ کے حوالے کِیا، اُس کا گُناہ زیادہ ہے۔“‏

12 اِس وجہ سے پیلاطُس نے یسوع کو رِہا کرنے کی کوشش جاری رکھی لیکن یہودی چلّائے:‏ ”‏اگر آپ اِس آدمی کو رِہا کریں گے تو آپ قیصر کے ساتھی نہیں ہیں۔ جو شخص اپنے آپ کو بادشاہ کہتا ہے، وہ قیصر کے خلاف ہے۔“‏ 13 یہ سُن کر پیلاطُس، یسوع کو باہر لے آیا اور تختِ‌عدالت پر بیٹھ گیا۔ یہ تخت اُس جگہ پر تھا جسے دیوانِ‌سنگ کہا جاتا تھا لیکن عبرانی میں اُس کا نام گبّتا تھا۔ 14 یہ عیدِفسح کی تیاری کا دن تھا اور تقریباً چھٹا گھنٹہ*‏ تھا۔ پیلاطُس نے یہودیوں سے کہا:‏ ”‏دیکھو!‏ یہ تمہارا بادشاہ ہے۔“‏ 15 لیکن وہ چلّانے لگے:‏ ”‏اِسے لے جائیں!‏ لے جائیں!‏ اِسے سُولی دیں!‏“‏ پیلاطُس نے اُن سے کہا:‏ ”‏کیا مَیں تمہارے بادشاہ کو مار ڈالوں؟“‏ اعلیٰ کاہنوں نے جواب دیا:‏ ”‏ہمارا کوئی بادشاہ نہیں سوائے قیصر کے۔“‏ 16 اِس پر پیلاطُس نے یسوع کو اُن کے حوالے کر دیا تاکہ اُنہیں سُولی پر چڑھا دیا جائے۔‏

وہ یسوع کو لے گئے۔ 17 یسوع کو اپنی سُولی*‏ خود اُٹھانی پڑی اور اُنہیں اُس جگہ لے جایا گیا جسے کھوپڑی کہا جاتا ہے اور عبرانی میں اُس کا نام گلگتا ہے۔ 18 پھر یسوع کو کیلوں کے ساتھ سُولی پر لٹکا دیا گیا۔ اُن کے ساتھ دو اَور آدمیوں کو بھی سُولیوں پر چڑھایا گیا، ایک کو اُن کی دائیں طرف اور دوسرے کو اُن کی بائیں طرف۔ 19 پیلاطُس نے ایک تختی پر یہ خطاب بھی لکھوایا:‏ ”‏یہودیوں کا بادشاہ، یسوع ناصری“‏ اور پھر اِسے سُولی پر لگوا دیا۔ 20 بہت سے یہودیوں نے اِس خطاب کو پڑھا کیونکہ جس جگہ یسوع کو لٹکایا گیا تھا، وہ شہر کے قریب تھی اور خطاب عبرانی، لاطینی اور یونانی زبان میں لکھا تھا۔ 21 لیکن یہودیوں کے اعلیٰ کاہنوں نے پیلاطُس سے کہا:‏ ”‏یہ نہ لکھوائیں:‏ ”‏یہودیوں کا بادشاہ“‏ بلکہ وہ لکھوائیں جو اُس نے کہا تھا کہ ”‏مَیں یہودیوں کا بادشاہ ہوں۔“‏ “‏ 22 پیلاطُس نے جواب دیا:‏ ”‏جو مَیں نے لکھوانا تھا، لکھوا دیا۔“‏

23 یسوع کو سُولی پر لٹکانے کے بعد سپاہیوں نے اُن کی چادر لے لی اور اِسے چار حصوں میں تقسیم کر لیا تاکہ ہر سپاہی کو ایک ایک حصہ ملے۔ اُنہوں نے یسوع کا کُرتا بھی لے لیا لیکن چونکہ اِس میں کوئی سلائی نہیں تھی بلکہ یہ پورے کا پورا بُنا ہوا تھا 24 اِس لیے اُنہوں نے ایک دوسرے سے کہا:‏ ”‏ایسا کرتے ہیں کہ اِسے پھاڑتے نہیں ہیں بلکہ قُرعہ*‏ ڈال کر فیصلہ کرتے ہیں کہ یہ کس کو ملنا چاہیے۔“‏ یہ اِس لیے ہوا تاکہ یہ صحیفہ پورا ہو:‏ ”‏اُنہوں نے میرے کپڑے آپس میں تقسیم کیے اور اُنہوں نے میرے کپڑوں پر قُرعہ ڈالا۔“‏ اور سپاہیوں نے واقعی ایسا کِیا۔‏

25 یسوع کی سُولی کے پاس اُن کی ماں، اُن کی خالہ، کلوپاس کی بیوی مریم اور مریم مگدلینی کھڑی تھیں۔ 26 جب یسوع نے اپنی ماں اور اُس شاگرد کو اپنے پاس کھڑے دیکھا جو اُنہیں بہت عزیز تھا تو اُنہوں نے اپنی ماں سے کہا:‏ ”‏دیکھیں، یہ آپ کا بیٹا ہے۔“‏ 27 پھر یسوع نے اُس شاگرد سے کہا:‏ ”‏دیکھیں، یہ آپ کی ماں ہے۔“‏ اور وہ شاگرد اُسی دن اُن کی ماں کو اپنے گھر لے گیا۔‏

28 جب یسوع جان گئے کہ سب کچھ مکمل ہو گیا ہے تو اُنہوں نے ایک صحیفہ پورا کرنے کے لیے کہا:‏ ”‏مجھے پیاس لگی ہے۔“‏ 29 وہاں ایک برتن رکھا تھا جس میں کھٹی مے تھی۔ لہٰذا لوگوں نے ایک سپنج کو مے میں ڈبویا اور اِسے زوفے کی ایک ٹہنی پر لگا کر یسوع کے مُنہ کے آگے کِیا۔ 30 مے لینے کے بعد یسوع نے کہا:‏ ”‏سب کچھ مکمل ہو گیا ہے!‏“‏ اور پھر اُن کا سر جھک گیا اور اُنہوں نے دم*‏ دے دیا۔‏

31 یہ سبت کی تیاری کا دن تھا اور یہودی نہیں چاہتے تھے کہ سبت کے دن لاشیں سُولیوں پر لٹکی رہیں (‏کیونکہ یہ ایک خاص سبت تھا)‏۔ اِس لیے اُنہوں نے پیلاطُس سے اُن آدمیوں کی ٹانگیں تڑوانے اور اُن کی لاشیں وہاں سے ہٹوانے کی اِجازت مانگی۔ 32 لہٰذا سپاہیوں نے آ کر پہلے تو اُن مُجرموں کی ٹانگیں توڑیں جو یسوع کے دونوں طرف لٹکے ہوئے تھے۔ 33 لیکن جب وہ یسوع کے پاس آئے تو اُنہوں نے دیکھا کہ وہ مر چکے ہیں اِس لیے اُنہوں نے اُن کی ٹانگیں نہیں توڑیں۔ 34 مگر ایک سپاہی نے اُن کی پسلیوں میں نیزہ گھونپا اور فوراً وہاں سے خون اور پانی نکل آیا۔ 35 جس شخص نے یہ دیکھا، اُس نے اِس بارے میں گواہی دی تاکہ آپ بھی ایمان لے آئیں۔ اُس شخص کی گواہی سچی ہے اور وہ جانتا ہے کہ اُس کی بات سچی ہے۔ 36 دراصل یہ باتیں اِس لیے ہوئیں تاکہ یہ صحیفہ پورا ہو کہ ”‏اُس کی ایک بھی ہڈی توڑی*‏ نہیں جائے گی۔“‏ 37 اور ایک اَور صحیفے میں لکھا ہے کہ ”‏وہ اُس کی طرف دیکھیں گے جس کے جسم کو اُنہوں نے چھیدا تھا۔“‏

38 اِس کے بعد ارمتیاہ کے یوسف نے پیلاطُس سے یسوع کی لاش لے جانے کی اِجازت مانگی۔ دراصل یوسف، یسوع کے شاگرد بن چکے تھے لیکن خفیہ طور پر کیونکہ وہ یہودیوں سے ڈرتے تھے۔ پیلاطُس نے یوسف کو اِجازت دے دی اِس لیے اُنہوں نے آ کر یسوع کی لاش لے لی۔ 39 نیکُدیمس بھی وہاں آئے جو ایک بار پہلے رات کو یسوع کے پاس گئے تھے۔ وہ مُر اور عُود کا آمیزہ*‏ اپنے ساتھ لائے جس کا وزن تقریباً 100 پونڈ*‏ تھا۔ 40 اُنہوں نے لینن کی پٹیوں پر مصالحے لگا کر یسوع کی لاش کو اِن سے لپیٹ دیا کیونکہ یہودی کفن دفن کے لیے ایسا ہی کرتے ہیں۔ 41 اِتفاق سے جہاں یسوع کو سُولی دی گئی تھی، وہاں ایک باغ تھا اور اُس باغ میں ایک نئی قبر تھی جس میں ابھی تک کسی لاش کو نہیں رکھا گیا تھا۔ 42 چونکہ وہ قبر قریب تھی اور یہودیوں کے سبت کی تیاری کا دن تھا اِس لیے اُنہوں نے یسوع کی لاش کو اُس قبر میں رکھ دیا۔‏

20 ہفتے کے پہلے دن صبح سویرے جب ابھی اندھیرا ہی تھا، مریم مگدلینی قبر پر آئیں۔ اُنہوں نے دیکھا کہ جو پتھر قبر کے مُنہ پر رکھا تھا، وہ پہلے ہی ہٹا ہوا ہے۔ 2 وہ بھاگی بھاگی شمعون پطرس اور اُس شاگرد کے پاس گئیں جو یسوع کو بہت عزیز تھا اور اُن سے کہا:‏ ”‏وہ مالک کو قبر سے لے گئے ہیں اور ہمیں نہیں پتہ کہ اُن کو کہاں رکھا گیا ہے۔“‏

3 یہ سُن کر پطرس اور وہ شاگرد قبر پر جانے کے لیے روانہ ہوئے۔ 4 وہ دونوں بھاگنے لگے لیکن دوسرا شاگرد پطرس سے زیادہ تیز دوڑا اِس لیے وہ پہلے قبر پر پہنچ گیا۔ 5 جب اُس نے جھک کر اندر دیکھا تو وہاں لینن کی پٹیاں پڑی تھیں لیکن وہ اندر نہیں گیا۔ 6 پھر شمعون پطرس بھی اُس کے پیچھے پیچھے قبر پر پہنچ گئے۔ پطرس اندر چلے گئے اور دیکھا کہ وہاں لینن کی پٹیاں پڑی ہیں۔ 7 اور جو کپڑا یسوع کے سر پر لپیٹا گیا تھا، وہ پٹیوں کے پاس نہیں تھا بلکہ اُسے تہہ کر کے ایک طرف رکھا گیا تھا۔ 8 تب وہ شاگرد بھی جو پہلے قبر پر پہنچا تھا، اندر گیا۔ جب اُس نے سب کچھ دیکھا تو اُسے یقین آ گیا۔ 9 دراصل وہ دونوں ابھی تک اِس صحیفے کو نہیں سمجھے تھے کہ وہ مُردوں میں سے زندہ ہوگا۔ 10 پھر وہ شاگرد اپنے اپنے گھر چلے گئے۔‏

11 لیکن مریم قبر کے سامنے کھڑی رو رہی تھیں اور روتے روتے اُنہوں نے جھک کر اندر دیکھا۔ 12 وہاں اُن کو دو فرشتے دِکھائی دیے جنہوں نے سفید کپڑے پہنے تھے۔ وہ اُس جگہ بیٹھے تھے جہاں یسوع کی لاش کو رکھا گیا تھا، ایک سر کی طرف اور ایک پاؤں کی طرف۔ 13 اُنہوں نے مریم سے کہا:‏ ”‏بی‌بی، آپ کیوں رو رہی ہیں؟“‏ مریم نے کہا:‏ ”‏وہ میرے مالک کو لے گئے ہیں اور مجھے نہیں پتہ کہ اب اُن کو کہاں رکھا گیا ہے۔“‏ 14 یہ کہہ کر مریم نے مُڑ کر دیکھا۔ وہاں یسوع کھڑے تھے لیکن وہ اُن کو پہچان نہ پائیں۔ 15 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏بی‌بی، آپ کیوں رو رہی ہیں؟ آپ کس کو ڈھونڈ رہی ہیں؟“‏ مریم کو لگا کہ وہ مالی ہیں اِس لیے اُنہوں نے کہا:‏ ”‏بھائی، اگر آپ نے اُن کی لاش کو کہیں رکھا ہے تو بتائیں کہ کہاں رکھا ہے تاکہ مَیں اِسے لے جاؤں۔“‏ 16 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏مریم!‏“‏ اِس پر مریم مُڑیں اور عبرانی میں کہا:‏ ”‏ربونی!‏“‏ (‏جس کا مطلب ہے:‏ اُستاد۔)‏ 17 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏مجھے پکڑ کر نہ رکھیں۔ ابھی تو مَیں باپ کے پاس نہیں گیا۔ لیکن میرے بھائیوں کے پاس جائیں اور اُنہیں بتائیں کہ ”‏مَیں اپنے اور آپ کے باپ اور اپنے اور آپ کے خدا کے پاس جا رہا ہوں۔“‏ “‏ 18 مریم مگدلینی نے جا کر شاگردوں کو خبر دی کہ ”‏مَیں نے مالک کو دیکھا ہے۔“‏ اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ یسوع نے اُن سے کیا کہا تھا۔‏

19 ہفتے کے پہلے دن شام کے وقت شاگرد ایک گھر میں بیٹھے تھے اور اُنہوں نے یہودیوں کے ڈر سے دروازوں پر تالا لگایا ہوا تھا۔ اچانک یسوع آ کر اُن کے بیچ میں کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے:‏ ”‏آپ پر سلامتی ہو۔“‏ 20 یہ کہہ کر اُنہوں نے شاگردوں کو اپنے ہاتھ اور اپنی پسلیاں دِکھائیں۔ شاگرد اپنے مالک کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ 21 یسوع نے اُن سے دوبارہ کہا:‏ ”‏آپ پر سلامتی ہو۔ جس طرح باپ نے مجھے بھیجا ہے، مَیں بھی آپ کو بھیج رہا ہوں۔“‏ 22 یہ کہہ کر یسوع نے اُن پر پھونک ماری اور کہا:‏ ”‏پاک روح پائیں۔ 23 اگر آپ کسی کے گُناہ معاف کریں گے تو وہ معاف ہو گئے اور اگر آپ کسی کے گُناہ معاف نہیں کریں گے تو وہ معاف نہیں ہوئے۔“‏

24 لیکن توما جو 12 رسولوں میں سے ایک تھے اور جنہیں جُڑواں کہا جاتا تھا، وہ اُس وقت وہاں نہیں تھے جب یسوع آئے تھے۔ 25 باقی شاگردوں نے اُن کو بتایا کہ ”‏ہم نے مالک کو دیکھا ہے۔“‏ لیکن اُنہوں نے کہا:‏ ”‏جب تک مَیں اُن کے ہاتھوں میں کیلوں کے زخم*‏ نہیں دیکھوں گا اور اِن میں اُنگلی نہیں ڈالوں گا اور اُن کی پسلیوں میں ہاتھ نہیں ڈالوں گا تب تک مَیں تمہاری بات کا ہرگز یقین نہیں کروں گا۔“‏

26 اِس کے آٹھ دن بعد شاگرد پھر سے ایک گھر میں تھے اور توما بھی اُن کے ساتھ تھے۔ حالانکہ دروازوں کو تالا لگا ہوا تھا پھر بھی یسوع اندر آ گئے اور اُن کے بیچ میں کھڑے ہو کر کہا:‏ ”‏آپ پر سلامتی ہو۔“‏ 27 اِس کے بعد اُنہوں نے توما سے کہا:‏ ”‏میرے ہاتھوں کو دیکھیں اور اِن میں اُنگلی ڈالیں اور میری پسلیوں میں اپنا ہاتھ ڈالیں اور شک نہ کریں بلکہ یقین کریں۔“‏ 28 توما نے اُن سے کہا:‏ ”‏میرے مالک اور میرے خدا!‏“‏ 29 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏کیا مجھے دیکھ کر آپ کو یقین آ گیا ہے؟ وہ لوگ خوش رہتے ہیں جو دیکھے بغیر یقین کرتے ہیں۔“‏

30 بِلاشُبہ یسوع نے شاگردوں کے سامنے اَور بھی بہت سے معجزے کیے جو اِس کتاب*‏ میں نہیں لکھے۔ 31 لیکن جو معجزے لکھے ہیں، وہ اِس لیے لکھے ہیں تاکہ آپ یقین کر لیں کہ یسوع، خدا کے بیٹے اور مسیح ہیں اور اِس یقین کی وجہ سے آپ کو اُن کے نام کے ذریعے زندگی ملے۔‏

21 پھر یسوع، بحیرۂ‌طبریہ کے کنارے دوبارہ اپنے شاگردوں پر ظاہر ہوئے۔ اور وہ اِس طرح ظاہر ہوئے:‏ 2 وہاں شمعون پطرس، توما (‏جنہیں جُڑواں کہا جاتا تھا)‏، نتن‌ایل جو گلیل کے قصبے قانا سے تھے، زبدی کے دونوں بیٹے اور دو اَور شاگرد جمع تھے۔ 3 شمعون پطرس نے اُن سب سے کہا:‏ ”‏مَیں مچھلیاں پکڑنے جا رہا ہوں۔“‏ اِس پر اُنہوں نے کہا:‏ ”‏ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے۔“‏ وہ سب کشتی پر سوار ہو کر گئے۔ مگر اُس رات اُن کے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔‏

4 جب صبح ہو رہی تھی تو یسوع آ کر جھیل کے کنارے پر کھڑے ہو گئے لیکن شاگرد اُن کو پہچان نہیں پائے۔ 5 پھر یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏پیارے بچو!‏ کیا آپ کے پاس کھانے کو کچھ*‏ ہے؟“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏نہیں۔“‏ 6 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏کشتی کی دائیں طرف جال ڈالیں تو آپ کو ضرور کچھ ملے گا۔“‏ اُنہوں نے جال ڈالا اور اُن کے ہاتھ اِتنی مچھلیاں لگیں کہ جال کو اُوپر لانا مشکل ہو گیا۔ 7 اِس پر اُس شاگرد نے جس سے یسوع بہت پیار کرتے تھے، پطرس سے کہا:‏ ”‏یہ تو ہمارے مالک ہیں۔“‏ یہ سُن کر پطرس نے اپنا کُرتا پہنا کیونکہ وہ ننگے*‏ تھے اور جھیل میں کود پڑے۔ 8 لیکن باقی شاگرد چھوٹی کشتی میں اُن کے پیچھے گئے۔ وہ مچھلیوں سے بھرے جال کو کھینچتے ہوئے کنارے تک لائے کیونکہ وہ کنارے سے زیادہ دُور نہیں تھے بلکہ تقریباً 300 فٹ*‏ دُور تھے۔‏

9 جب وہ کنارے پر پہنچے تو اُنہوں نے دیکھا کہ کوئلے دہک رہے ہیں اور اِن پر مچھلی اور روٹی رکھی ہے۔ 10 یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏جو مچھلیاں آپ نے ابھی پکڑی ہیں، اُن میں سے کچھ لائیں۔“‏ 11 لہٰذا شمعون پطرس کشتی پر گئے اور جال کو کھینچ کر خشکی پر لائے جو 153 (‏ایک سو ترپن)‏ بڑی مچھلیوں سے بھرا تھا۔ حالانکہ اُس میں اِتنی ساری مچھلیاں تھیں لیکن پھر بھی وہ پھٹا نہیں۔ 12 یسوع نے اُن سب سے کہا:‏ ”‏آئیں، ناشتہ کر لیں۔“‏ شاگردوں میں سے کسی میں اِتنی ہمت نہیں تھی کہ اُن سے پوچھے کہ ”‏آپ کون ہیں؟“‏ کیونکہ وہ سب جانتے تھے کہ یہ مالک ہیں۔ 13 پہلے یسوع نے روٹی لی اور اُنہیں دی۔ پھر اُنہوں نے اُن کو مچھلی دی۔ 14 جب سے یسوع مُردوں میں سے زندہ ہوئے تھے، یہ تیسری بار تھا کہ وہ اپنے شاگردوں پر ظاہر ہوئے۔‏

15 جب اُن سب نے ناشتہ کر لیا تو یسوع نے شمعون پطرس سے پوچھا:‏ ”‏یوحنا کے بیٹے شمعون، کیا آپ اِن سے زیادہ مجھ سے پیار کرتے ہیں؟“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏جی مالک، آپ جانتے ہیں کہ مَیں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں۔“‏ یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏میرے میمنوں کو چرائیں۔“‏ 16 یسوع نے دوسری بار اُن سے پوچھا:‏ ”‏یوحنا کے بیٹے شمعون، کیا آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں؟“‏ اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏جی مالک، آپ جانتے ہیں کہ مَیں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں۔“‏ یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏میری چھوٹی بھیڑوں کی گلّہ‌بانی کریں۔“‏ 17 پھر اُنہوں نے تیسری بار اُن سے پوچھا:‏ ”‏یوحنا کے بیٹے شمعون، کیا آپ مجھ سے پیار کرتے ہیں؟“‏ پطرس کو اِس بات پر دُکھ ہوا کہ یسوع نے تیسری بار پوچھا ہے کہ ”‏کیا آپ مجھ سے پیار کرتے ہیں؟“‏ اِس لیے اُنہوں نے جواب دیا:‏ ”‏مالک، آپ تو سب کچھ جانتے ہیں۔ آپ کو پتہ ہے کہ مَیں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں۔“‏ یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏میری چھوٹی بھیڑوں کو چرائیں۔ 18 مَیں آپ سے بالکل سچ کہتا ہوں کہ جب آپ جوان تھے تو آپ خود اپنے کپڑے پہنتے تھے اور اپنی مرضی سے اِدھر اُدھر جاتے تھے۔ لیکن جب آپ بوڑھے ہوں گے تو آپ اپنے ہاتھ آگے کریں گے اور کوئی اَور آپ کو کپڑے پہنائے گا اور آپ کو اُٹھا کر وہاں لے جائے گا جہاں آپ نہیں جانا چاہیں گے۔“‏ 19 اِس بات سے یسوع نے اِشارہ دیا کہ پطرس کس طرح کی موت مر کر خدا کی بڑائی کریں گے۔ اِس کے بعد یسوع نے اُن سے کہا:‏ ”‏میری پیروی کرتے رہیں۔“‏

20 پطرس نے مُڑ کر دیکھا کہ وہ شاگرد اُن کے پیچھے پیچھے آ رہا ہے جس سے یسوع بہت پیار کرتے تھے اور جس نے شام کے کھانے پر یسوع کے سینے سے ٹیک لگا کر پوچھا تھا کہ ”‏مالک، وہ شخص کون ہے جو آپ کو پکڑوائے گا؟“‏ 21 اُسے دیکھ کر پطرس نے یسوع سے کہا:‏ ”‏مالک، اِس آدمی کے ساتھ کیا ہوگا؟“‏ 22 یسوع نے جواب دیا:‏ ”‏اگر مَیں چاہوں کہ یہ میرے آنے تک رہے تو اِس سے آپ کا کیا لینا دینا؟ آپ میری پیروی کرتے رہیں۔“‏ 23 اِس لیے بھائیوں میں یہ بات پھیل گئی کہ یہ شاگرد نہیں مرے گا۔ لیکن یسوع نے یہ نہیں کہا تھا کہ وہ نہیں مرے گا بلکہ یہ کہ ”‏اگر مَیں چاہوں کہ یہ میرے آنے تک رہے تو اِس سے آپ کا کیا لینا دینا؟“‏

24 یہ وہی شاگرد ہے جو اِن باتوں کے بارے میں گواہی دے رہا ہے اور جس نے یہ باتیں لکھی ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ اُس کی گواہی سچی ہے۔‏

25 دراصل یسوع نے اَور بھی بہت سے کام کیے۔ اگر وہ سب کے سب تفصیل سے لکھے جاتے تو میرا خیال ہے کہ دُنیا میں اِن کتابوں*‏ کو رکھنے کی جگہ نہ ہوتی۔‏

اِس باب میں لفظ کلام یسوع کے ایک لقب کے طور پر اِستعمال ہوا ہے۔‏

یا ”‏کلام خدا کی طرح تھا۔“‏

یعنی وہ واحد بیٹا جسے خدا نے براہِ‌راست بنایا تھا۔‏

یا ”‏عظیم رحمت“‏

یعنی وہ واحد بیٹا جسے خدا نے براہِ‌راست بنایا تھا۔‏

یونانی میں:‏ ”‏سینے کے پاس۔“‏ یہ اِصطلا‌ح ایک قریبی رشتے کی طرف اِشارہ کرتی ہے۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏دریائے‌یردن“‏

یا ”‏بّرہ“‏

تقریباً دوپہر چار بجے

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏بی‌بی، مجھے اور آپ کو کیا؟“‏ یہ ایک محاورہ تھا جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ ایک شخص کسی بات سے متفق نہیں ہے یا ایک کام نہیں کرنا چاہتا ہے۔ اِس جملے میں لفظ ”‏بی‌بی“‏ حقارت ظاہر نہیں کرتا۔‏

ایک طرح کا وضو

غالباً یہاں پر پیمائش کی ایک اِکائی کی طرف اِشارہ کِیا گیا ہے جسے بت کہا جاتا تھا۔ ایک بت 22 لیٹر کے برابر تھا۔‏

یعنی خدا کا گھر

یا شاید ”‏اُوپر سے پیدا“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یعنی وہ واحد بیٹا جسے خدا نے براہِ‌راست بنایا تھا۔‏

یعنی وہ واحد بیٹا جسے خدا نے براہِ‌راست بنایا تھا۔‏

یونانی میں:‏ ”‏تاکہ اُس کے کاموں کی اِصلاح نہ ہو۔“‏

یونانی میں:‏ ”‏اِس بات پر مُہر لگاتا ہے“‏

یا ”‏چشمے“‏

تقریباً دوپہر بارہ بجے

یا ”‏خدا ایک اَن‌دیکھی ہستی ہے“‏

یا ”‏آپ کے بیٹے کی طبیعت بہتر ہو گئی ہے۔“‏

تقریباً دوپہر ایک بجے

بائبل کے کچھ قدیم نسخوں میں اِس تالاب کو بیت‌حسدا کہا گیا ہے۔‏

یا ”‏جن کے بازو یا ٹانگیں سُوکھ گئی تھیں۔“‏

متی 17:‏21 کے فٹ‌نوٹ کو دیکھیں۔‏

یعنی خدا کا گھر

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏یادگاری قبروں“‏

یونانی میں:‏ ”‏تقریباً 25 یا 30 ستادیون۔“‏ تقریباً 5 یا 6 کلومیٹر۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏میری طرف کھینچ نہ لے۔“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏آپ میں زندگی نہیں ہوگی۔“‏

یا ”‏مجلس“‏

یعنی پاک روح

یا ”‏آپ میں سے ایک اِبلیس کی طرح ہے۔“‏

یا ”‏عیدِخیام“‏

یعنی خدا کا گھر

کئی قابلِ‌بھروسا قدیم نسخوں میں اِس باب کی آیت 53 سے لے کر باب 8 کی آیت 11 تک کا حصہ نہیں پایا جاتا ہے۔‏

یعنی خدا کا گھر

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یعنی سُولی پر لٹکا

یا ”‏حرام‌کاری۔“‏ یونانی لفظ:‏ ”‏پورنیا۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏وہ شروع سے قاتل تھا“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏اُن کے سامنے جھکا۔“‏

یعنی خدا کا گھر

یونانی میں:‏ ”‏ہماری جانوں کو“‏

یا ”‏متحد“‏

یا ”‏خدا کی طرح“‏

یونانی میں:‏ ”‏تقریباً 15 ستادیون۔“‏ تقریباً 3 کلومیٹر۔‏

یونانی میں:‏ ”‏روح میں“‏

یعنی ہیکل

یعنی خدا کا گھر

ایک رومی پونڈ تقریباً 327 گرام کے برابر تھا۔‏

تقریباً ایک سال کی مزدوری

یونانی میں:‏ ”‏ہوشعنا“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏میری جان“‏

یعنی سُولی پر لٹکایا

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏بازو“‏

یا ”‏تو آپ کا بھی فرض بنتا ہے کہ آپ ایک دوسرے کے پاؤں دھوئیں۔“‏

یا ”‏وہ میرے خلاف ہو گیا ہے۔“‏

یونانی میں:‏ ”‏سینے کے پاس“‏

یا ”‏تسلی دینے والا“‏

یا ”‏یتیم“‏

یا ”‏لیکن وہ مجھ پر حاوی نہیں ہو سکتا۔“‏

یا ”‏متحد“‏

یا ”‏متحد“‏

یونانی میں:‏ ”‏بُری ہستی“‏

یعنی خدا کا گھر

یا ”‏گواہی دیں“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

تقریباً دوپہر بارہ بجے

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏روح“‏

یا ”‏کچلی“‏

یا شاید ”‏تھیلا“‏

یعنی رومی پونڈ

یا ”‏نشان“‏

یا ”‏طومار“‏

یا ”‏مچھلی“‏

یا ”‏ادھ‌ننگے؛ صرف زیرجامہ پہنے“‏

یونانی میں:‏ ”‏تقریباً 200 ہاتھ“‏

یا ”‏طوماروں“‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں