یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ت‌ن‌د یرمیاہ 1:‏1-‏52:‏34
  • یرمیاہ

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • یرمیاہ
  • کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
یرمیاہ

یرمیاہ

1 یہ یرمیاہ*‏ کی باتیں ہیں جن کے والد کا نام خِلقیاہ تھا جو بِنیامین کے علاقے میں شہر عنتوت کے کاہنوں میں سے ایک تھے۔ 2 یہوداہ کے بادشاہ اور امون کے بیٹے یوسیاہ کی حکمرانی کے 13ویں سال میں یہوواہ کا کلام یرمیاہ تک پہنچا۔ 3 یہ کلام یہوداہ کے بادشاہ اور یوسیاہ کے بیٹے یہویقیم کے زمانے میں بھی یرمیاہ تک پہنچا۔ اُن تک یہ کلام یہوداہ کے بادشاہ اور یوسیاہ کے بیٹے صِدقیاہ کی حکمرانی کے 11ویں سال تک پہنچتا رہا یعنی تب تک جب تک پانچویں مہینے میں یروشلم کے لوگوں کو قیدی بنا کر نہیں لے جایا گیا۔‏

4 یہوواہ کا یہ کلام مجھ تک پہنچا:‏

 5 ‏”‏اِس سے پہلے کہ مَیں نے تمہیں تمہاری ماں کی کوکھ میں بنایا، مَیں تمہیں جانتا تھا۔‏*‏

مَیں نے تمہیں تمہاری پیدائش سے پہلے ہی*‏ مخصوص*‏ کِیا۔‏

مَیں نے تمہیں قوموں کے لیے نبی بنایا۔“‏

 6 لیکن مَیں نے کہا:‏ ”‏اَے حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ!‏

افسوس کہ مجھے بولنا نہیں آتا کیونکہ مَیں تو ابھی بچہ*‏ ہی ہوں!‏“‏

 7 تب یہوواہ نے مجھ سے کہا:‏

‏”‏یہ نہ کہو کہ ”‏مَیں تو ابھی بچہ ہی ہوں“‏

کیونکہ تمہیں اُن سب کے پاس جانا ہوگا جن کے پاس مَیں تمہیں بھیجوں گا

اور وہ سب بتانا ہوگا جس کا مَیں تمہیں حکم دوں گا۔‏

 8 تُم اُنہیں دیکھ کر ڈرنا نہیں

کیونکہ ”‏مَیں تمہیں بچانے کے لیے تمہارے ساتھ ہوں۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔“‏

9 پھر یہوواہ نے اپنا ہاتھ بڑھا کر میرے مُنہ کو چُھوا۔ یہوواہ نے مجھ سے کہا:‏ ”‏مَیں نے اپنی باتیں تمہارے مُنہ میں ڈالی ہیں۔ 10 دیکھو، آج مَیں نے تمہیں قوموں اور بادشاہتوں پر مقرر کِیا ہے تاکہ تُم اُکھاڑو اور گِراؤ؛ تباہ کرو اور ڈھاؤ؛ بناؤ اور لگاؤ۔“‏

11 یہوواہ کا کلام دوبارہ مجھ تک پہنچا اور اُس نے مجھ سے کہا:‏ ”‏یرمیاہ!‏ تمہیں کیا نظر آ رہا ہے؟“‏ مَیں نے جواب دیا:‏ ”‏مجھے بادام کے درخت*‏ کی ایک شاخ نظر آ رہی ہے۔“‏

12 یہوواہ نے مجھ سے کہا:‏ ”‏تُم نے بالکل صحیح دیکھا ہے کیونکہ مَیں پوری طرح جاگ رہا ہوں تاکہ اپنے کلام کو پورا کروں۔“‏

13 یہوواہ کا کلام دوسری بار مجھ تک پہنچا اور اُس نے مجھ سے کہا:‏ ”‏تمہیں کیا نظر آ رہا ہے؟“‏ مَیں نے جواب دیا:‏ ”‏مجھے ایک دیگ نظر آ رہی ہے جس میں کچھ اُبل رہا ہے۔ اُس کا مُنہ شمال سے جنوب کی طرف جھکا ہوا ہے۔“‏ 14 پھر یہوواہ نے مجھ سے کہا:‏

‏”‏شمال کی طرف سے ملک کے سب باشندوں پر مصیبت ٹوٹ پڑے گی

15 کیونکہ یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں شمال کی بادشاہتوں کے سب خاندانوں کو بُلا رہا ہوں۔‏

وہ آئیں گے اور ہر ایک یروشلم کے دروازوں پر،‏

اُس کی دیواروں کے گِرد

اور یہوداہ کے سب شہروں کے خلاف اپنا تخت لگائے گا۔‏

16 مَیں اُن کی ساری بُرائی کی وجہ سے اُن کے خلاف فیصلہ سناؤں گا

کیونکہ اُنہوں نے مجھے ترک کر دیا ہے۔‏

وہ دوسرے خداؤں کے لیے قربانیاں پیش کرتے ہیں تاکہ اِن کا دُھواں اُٹھے

اور اپنے ہاتھوں کے کام کے سامنے جھکتے ہیں۔“‏

17 لیکن تُم اپنی کمر کَس لو۔‏

اُٹھو اور اُنہیں وہ سب بتاؤ جس کا مَیں نے تمہیں حکم دیا ہے۔‏

اُن سے خوف‌زدہ نہ ہو

تاکہ مَیں تمہیں اُن کے سامنے خوف‌زدہ نہ کروں

18 کیونکہ آج مَیں نے تمہیں قلعہ‌بند شہر،‏

لوہے کا ستون اور تانبے کی دیواریں بنا دیا ہے

تاکہ تُم سارے ملک، ہاں، یہوداہ کے بادشاہوں، اُس کے حاکموں،‏

اُس کے کاہنوں اور ملک کے لوگوں کے سامنے کھڑے رہ سکو۔‏

19 وہ تمہارے خلاف لڑیں گے ضرور

لیکن وہ تُم پر حاوی نہیں ہو پائیں گے*‏

کیونکہ ”‏مَیں تمہیں بچانے کے لیے تمہارے ساتھ ہوں۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔“‏

2 یہوواہ کا یہ کلام مجھ تک پہنچا:‏ 2 ‏”‏جاؤ اور یروشلم کے کانوں میں اِعلان کرو کہ ”‏یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ تجھے*‏ جوانی میں مجھ سے کتنی اٹوٹ محبت تھی،‏

جب مجھ سے تیری منگنی ہوئی تھی تو تُو مجھ سے کتنا پیار کرتی تھی

اور ویرانے میں کیسے میرے پیچھے پیچھے چلتی تھی

جہاں زمین میں کوئی بیج نہیں بویا گیا تھا۔‏

 3 اِسرائیل یہوواہ کے لیے پاک تھا اور اُس کی پیداوار کا پہلا پھل تھا۔“‏“‏

یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏جو کوئی بھی اُسے نگلنے کی کوشش کرتا،‏

وہ قصوروار ٹھہرتا اور اُس پر مصیبت آتی۔“‏“‏

 4 اَے یعقوب کے گھرانے اور اِسرائیل کے گھرانے کے سب خاندانو!‏

یہوواہ کا کلام سنو۔‏

 5 یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏تمہارے باپ‌دادا نے مجھ میں ایسی کون سی خرابی دیکھی

کہ وہ مجھ سے اِتنے دُور ہو گئے

اور فضول بُتوں کو پوجنے لگے اور خود بھی فضول بن گئے؟‏

 6 اُنہوں نے یہ نہیں پوچھا:‏ ”‏یہوواہ کہاں ہے

جو ہمیں ملک مصر سے نکال کر لایا

اور جس نے ویرانے میں ہماری رہنمائی کی،‏

ہاں، ریگستانوں اور گڑھوں کی سرزمین میں؛‏

قحط اور گہری تاریکی کے ملک میں؛‏

ایسے علاقے میں جہاں نہ کوئی شخص سفر کرتا ہے

اور نہ ہی اِنسان بستے ہیں؟“‏

 7 پھر مَیں تمہیں باغوں کے ملک میں لایا

تاکہ تُم اِس کا پھل اور اِس کی اچھی چیزیں کھاؤ۔‏

لیکن تُم نے آ کر میرے ملک کو ناپاک کر دیا۔‏

تُم نے میری وراثت کو گھناؤنا بنا دیا۔‏

 8 کاہنوں نے یہ نہیں پوچھا کہ ”‏یہوواہ کہاں ہے؟“‏

شریعت کی تعلیم دینے والے مجھے نہیں جانتے تھے؛‏

چرواہوں نے میرے خلاف بغاوت کی؛‏

نبیوں نے بعل کے نام سے نبوّت کی

اور وہ اُن کے پیچھے لگ گئے جو اُنہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے تھے۔‏

 9 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اِس لیے مَیں پھر سے تُم سے لڑوں گا۔‏

مَیں تمہارے بیٹوں کے بیٹوں سے لڑوں گا۔“‏

10 ‏”‏لیکن اُس پار کِتّیم کے ساحلی علاقوں*‏ میں جا کر دیکھو،‏

ہاں، کسی کو قیدار بھیجو اور دھیان سے سوچ بچار کرو؛‏

دیکھو کہ کیا اِس سے پہلے کبھی ایسا ہوا ہے یا نہیں۔‏

11 کیا کسی قوم نے کبھی اپنے خداؤں کو ایسے خداؤں سے بدلا ہے جو خدا نہیں ہیں؟‏

مگر میری اپنی قوم نے میری شان کو ایک فضول چیز سے بدل دیا ہے۔‏

12 اَے آسمان!‏ حیرانی سے اِسے دیکھ؛‏

شدید خوف کے مارے کانپ!‏“‏ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے

13 ‏”‏کیونکہ میرے بندوں نے دو بُرے کام کیے ہیں:‏

اُنہوں نے مجھے، ہاں، زندگی کے پانی کے چشمے کو ترک کر دیا ہے

اور اپنے لیے حوض کھود لیے ہیں*‏

جو ٹوٹے ہوئے ہیں اور جن میں پانی نہیں ٹھہر سکتا۔“‏

14 ‏”‏کیا اِسرائیل ایک خادم یا کسی گھرانے میں پیدا ہونے والا کوئی غلام ہے؟‏

تو پھر اُسے لُوٹ کا مال کیوں بننے دیا گیا ہے؟‏

15 جوان شیر*‏ اُس پر گرجتے ہیں؛‏

وہ اُونچی آواز میں دھاڑتے ہیں۔‏

اُنہوں نے اُس کے ملک کو دہشت کی علامت بنا دیا ہے۔‏

اُس کے شہروں کو آگ لگا دی گئی ہے اِس لیے وہاں کوئی نہیں بستا۔‏

16 نوف*‏ اور تحفنیس کے لوگ تیرے سر کو کھا رہے ہیں۔‏

17 کیا تُو نے خود اپنا یہ حال نہیں کِیا

کیونکہ تُو نے خود اُس وقت اپنے خدا یہوواہ کو چھوڑ دیا

جب وہ راستے میں تیری پیشوائی کر رہا تھا؟‏

18 اب تُو سِیحور*‏ کا پانی پینے کے لیے مصر کے راستے پر کیوں جانا چاہتی ہے؟‏

تُو بڑے دریا*‏ کا پانی پینے کے لیے اسور کے راستے پر کیوں جانا چاہتی ہے؟‏

19 تیری بُرائی کو تیری درستی کرنی چاہیے

اور تیری اپنی بے‌وفائی کو تیری اِصلاح کرنی چاہیے۔‏

یہ جان لے اور سمجھ لے کہ اپنے خدا یہوواہ کو ترک کرنا

کتنا بُرا اور بھیانک ہے؛‏

تُو نے میرا ذرا بھی خوف نہیں رکھا۔“‏ یہ بات حاکمِ‌اعلیٰ یعنی فوجوں کا خدا یہوواہ فرما رہا ہے۔‏

20 ‏”‏مُدتوں پہلے مَیں نے تیرا جُوا چکناچُور دیا

اور تیری بیڑیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔‏

لیکن تُو نے کہا:‏ ”‏مَیں تیری خدمت نہیں کروں گی“‏

کیونکہ ہر اُونچی پہاڑی پر اور ہر گھنے درخت کے نیچے

تُو ٹانگیں اور بازو پھیلا کر لیٹ جاتی تھی اور جسم‌فروشی کرتی تھی۔‏

21 جب مَیں نے تجھے لگایا تھا تو تُو بہترین لال انگور کی بیل تھی جس کا بیج اصلی تھا؛‏

تو پھر تُو میرے سامنے انگور کی جنگلی*‏ بیل کی گلی‌سڑی شاخوں میں کیسے بدل گئی؟“‏

22 حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏چاہے تُو خود کو سوڈے*‏ سے دھوئے اور ڈھیر سارا صابن*‏ اِستعمال کرے،‏

میری نظر میں تیرے گُناہ کا داغ نہیں مٹے گا۔“‏

23 تُو کیسے کہہ سکتی ہے:‏ ”‏مَیں نے خود کو ناپاک نہیں کِیا؛‏

مَیں نے بعل دیوتاؤں کی پرستش نہیں کی“‏؟‏

وادی میں اپنی روِش کو دیکھ۔‏

غور کر کہ تُو نے کیا کِیا ہے۔‏

تُو ایک جوان تیزرفتار اُونٹنی کی طرح ہے

جو بِلامقصد اپنی مرضی سے اِدھر اُدھر بھاگتی رہتی ہے؛‏

24 تُو ایک جنگلی گدھی کی طرح ہے جو ویرانے میں رہنے کی عادی ہوتی ہے؛‏

جو شہوت کے جوش میں*‏ ہوا کو سُونگھتی ہے۔‏

جب اُس میں جنسی ملاپ کی خواہش عروج پر ہوتی ہے تو کون اُسے روک سکتا ہے؟‏

اُسے ڈھونڈنے والوں کو خود کو تھکانا نہیں پڑتا۔‏

اُس کے موسم*‏ میں وہ اُسے پا لیتے ہیں۔‏

25 اپنے پاؤں ننگے نہ ہونے دے

اور اپنا گلا سُوکھنے نہ دے۔‏

لیکن تُو نے کہا:‏ ”‏اِس کا کوئی فائدہ نہیں ہے!‏

کیونکہ مجھے اجنبیوں*‏ سے پیار ہو گیا ہے

اور مَیں اُن کے پیچھے جاؤں گی۔“‏

26 جس طرح چور پکڑے جانے پر شرمندہ ہوتا ہے

اُسی طرح اِسرائیل کے گھرانے کو شرمندہ کِیا گیا ہے،‏

ہاں، اُسے، اُس کے بادشاہوں، اُس کے حاکموں،‏

اُس کے کاہنوں اور اُس کے نبیوں کو۔‏

27 وہ درخت سے کہتے ہیں:‏ ”‏تُو میرا باپ ہے“‏

اور پتھر سے کہتے ہیں:‏ ”‏تُو نے مجھے پیدا کِیا ہے۔“‏

لیکن وہ میری طرف اپنا چہرہ کرنے کی بجائے اپنی پیٹھ کر لیتے ہیں۔‏

مگر مصیبت کے وقت میں وہ کہیں گے:‏

‏”‏اُٹھ اور ہمیں بچا!‏“‏

28 اب تیرے وہ خدا کہاں ہیں جو تُو نے اپنے لیے بنائے تھے؟‏

اگر وہ تیری مصیبت کے وقت تجھے بچا سکتے ہیں تو وہ اُٹھیں

کیونکہ اَے یہوداہ!‏ تیرے خدا تیرے شہروں کی طرح بے‌شمار ہو گئے ہیں۔‏

29 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏تُم میرے خلاف کیوں لڑ رہے ہو؟‏

تُم سب نے میرے خلاف بغاوت کیوں کی ہے؟“‏

30 مَیں نے فضول میں تمہارے بیٹوں کو مارا۔‏

اُنہوں نے کسی بھی طرح کی اِصلاح قبول نہیں کی؛‏

تمہاری اپنی تلوار ایک خون‌خوار شیر کی طرح

تمہارے نبیوں کو نگل گئی۔‏

31 اَے پُشت!‏ یہوواہ کے کلام پر غور کر۔‏

کیا مَیں اِسرائیل کے لیے ایک ویرانے کی طرح

یا گہری تاریکی والے ملک کی طرح بن گیا ہوں؟‏

اِن لوگوں نے یعنی میرے بندوں نے یہ کیوں کہا:‏ ”‏ہم آزادی سے گھومتے ہیں۔‏

اب ہم تیرے پاس نہیں آئیں گے“‏؟‏

32 کیا ایک کنواری اپنے زیور

اور ایک دُلہن اپنا سینہ‌بند بھول سکتی ہے؟‏

مگر میری اپنی قوم نے مُدتوں سے مجھے بُھلا دیا ہے۔‏

33 اَے عورت!‏ تُو محبت کی تلاش میں کتنی مہارت سے اپنا راستہ چُنتی ہے!‏

تُو نے بُرائی کی راہوں پر چلنے کے لیے اپنی تربیت کی ہے۔‏

34 تیرے کپڑے تک بے‌قصور غریبوں*‏ کے خون سے رنگے ہوئے ہیں؛‏

حالانکہ مَیں نے اُنہیں تیرے گھر میں گُھستے نہیں دیکھا

تو بھی اُن کا خون تیرے سارے کپڑوں پر لگا ہوا ہے۔‏

35 لیکن تُو کہتی ہے:‏ ”‏مَیں بے‌قصور ہوں۔‏

بے‌شک مجھ پر سے اُس کا غصہ ٹل گیا ہے۔“‏

اب مَیں تیرے خلاف سزا سناؤں گا

کیونکہ تُو کہتی ہے:‏ ”‏مَیں نے گُناہ نہیں کِیا ہے۔“‏

36 تُو اپنی ڈانوانڈول روِش کو اِتنا معمولی کیوں سمجھتی ہے؟‏

جیسے تجھے اسور کی وجہ سے شرمندہ ہونا پڑا

ویسے ہی تجھے مصر کی وجہ سے بھی شرمندہ ہونا پڑے گا۔‏

37 تُو اِس لیے بھی اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر باہر نکلے گی

کیونکہ یہوواہ نے اُنہیں ٹھکرا دیا ہے جن پر تجھے بھروسا تھا؛‏

وہ تجھے کامیابی نہیں دِلائیں گے۔“‏

3 لوگ کہتے ہیں:‏ ”‏اگر ایک آدمی اپنی بیوی کو نکال دے اور وہ عورت اُسے چھوڑ کر چلی جائے اور کسی اَور آدمی کی ہو جائے تو کیا اُس آدمی کو اُس عورت کے پاس واپس جانا چاہیے؟“‏

کیا وہ ملک بالکل آلودہ نہیں ہو گیا؟‏

یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏تُو*‏ نے بہت سے آدمیوں کے ساتھ حرام‌کاری کی ہے۔‏

کیا اب تجھے میرے پاس لوٹنا چاہیے؟‏

 2 اپنی آنکھیں اُٹھا کر بنجر پہاڑیوں کو دیکھ۔‏

کیا ایسی کوئی جگہ ہے جہاں تیری عزت نہیں لُوٹی گئی؟‏

تُو راستے میں بیٹھ کر ایسے اُن کا اِنتظار کرتی تھی

جیسے کوئی خانہ‌بدوش*‏ ویرانے میں اِنتظار کرتا ہے۔‏

تُو اپنی حرام‌کاری اور اپنی بُرائی سے ملک کو آلودہ کرتی رہی۔‏

 3 اِس لیے بارش روک دی گئی ہے؛‏

بہار میں بھی بارش نہیں ہوتی۔‏

تُو*‏ اُس بے‌حیا بیوی کی طرح ہے جو حرام‌کاری کرتی ہے؛‏

تجھے ذرا بھی شرم نہیں آتی۔‏

 4 لیکن اب تُو مجھے پکار کر کہتی ہے:‏

‏”‏میرے باپ!‏ تُو میری جوانی کا ساتھی ہے!‏

 5 کیا تُو ہمیشہ مجھ سے ناراض رہے گا

یا ہمیشہ رنجش پالے رکھے گا؟“‏

تُو یہ کہتی تو ہے

لیکن تُو وہ سب بُرے کام کرتی رہتی ہے جو تُو کر سکتی ہے۔“‏

6 بادشاہ یوسیاہ کے زمانے میں یہوواہ نے مجھ سے کہا:‏ ”‏”‏کیا تُم نے دیکھا ہے کہ اِس بے‌وفا عورت اِسرائیل نے کیا کِیا ہے؟ وہ حرام‌کاری کرنے کے لیے ہر اُونچے پہاڑ پر اور ہر گھنے درخت کے نیچے گئی۔ 7 مَیں اُس کے یہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی اُسے اپنے پاس واپس بُلاتا رہا لیکن وہ نہیں لوٹی اور یہوداہ اپنی دھوکے‌باز بہن کو دیکھتی رہی۔ 8 جب مَیں نے یہ دیکھا تو مَیں نے بے‌وفا اِسرائیل کو اُس کی زِناکاری کی وجہ سے طلاق‌نامہ دے کر بھیج دیا۔ لیکن اُس کی دھوکے‌باز بہن یہوداہ نہیں ڈری۔ اُس نے بھی جا کر حرام‌کاری کی۔ 9 اُس نے اپنی حرام‌کاری کو معمولی سمجھا اور وہ ملک کو آلودہ کرتی رہی اور پتھروں اور درختوں کے ساتھ زِناکاری کرتی رہی۔ 10 اِس سب کے باوجود اُس کی دھوکے باز بہن یہوداہ پورے دل سے میرے پاس نہیں لوٹی بلکہ صرف لوٹنے کا دِکھاوا کِیا۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔“‏

11 پھر یہوواہ نے مجھ سے کہا:‏ ”‏بے‌وفا اِسرائیل نے خود کو*‏ دھوکے‌باز یہوداہ سے زیادہ نیک ثابت کِیا ہے۔ 12 جاؤ اور شمال میں یہ اِعلان کرو:‏

‏”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اَے باغی اِسرائیل!‏ لوٹ آ۔“‏ یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں تجھے غصے سے نہیں دیکھوں گا کیونکہ مَیں وفادار ہوں۔ مَیں ہمیشہ ناراض نہیں رہوں گا۔ 13 تُو صرف اپنی غلطی تسلیم کر کیونکہ تُو نے اپنے خدا یہوواہ کے خلاف بغاوت کی ہے۔ تُو ہر گھنے درخت کے نیچے اجنبیوں*‏ کے لیے خود کو لُٹاتی رہی*‏ لیکن تُو نے میری نہیں سنی۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔“‏“‏

14 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏باغی بیٹو!‏ لوٹ آؤ کیونکہ مَیں تمہارا اصلی مالک*‏ بن گیا ہوں اور مَیں ہر شہر میں سے ایک شخص کو اور ہر خاندان میں سے دو لوگوں کو چُنوں گا اور تمہیں صِیّون لاؤں گا۔ 15 مَیں تمہیں ایسے چرواہے دوں گا جو میری مرضی*‏ کے مطابق چلیں گے۔ وہ تمہیں علم اور گہری سمجھ کھلائیں گے۔ 16 اُن دنوں میں تُم ملک میں بہت بڑھ جاؤ گے اور پھلو پھولو گے۔“‏ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔ ”‏وہ پھر یہ نہیں کہیں گے:‏ ”‏یہوواہ کے عہد کا صندوق!‏“‏ اُن کے دل میں اِس کا خیال نہیں آئے گا۔ نہ وہ اِسے یاد کریں گے اور نہ اِس کی کمی محسوس کریں گے۔ اور اِسے دوبارہ نہیں بنایا جائے گا۔ 17 اُس وقت وہ یروشلم کو یہوواہ کا تخت کہیں گے اور سب قوموں کو یہوواہ کے نام کی بڑائی کے لیے یروشلم میں اِکٹھا کِیا جائے گا۔ اور وہ آئندہ ڈھٹائی سے اپنے بُرے دل کی نہیں سنیں گے۔“‏

18 ‏”‏اُن دنوں میں یہوداہ کا گھرانہ اور اِسرائیل کا گھرانہ ساتھ ساتھ چلیں گے اور وہ اِکٹھے شمال کے ملک سے اُس ملک میں آئیں گے جو مَیں نے تمہارے باپ‌دادا کو وراثت میں دیا تھا۔ 19 مَیں نے سوچا:‏ ”‏مَیں کتنا خوش تھا جب مَیں نے تجھے اپنے بیٹوں میں شمار کِیا اور تجھے دلکش ملک دیا، ہاں، قوموں*‏ کے بیچ سب سے خوب‌صورت وراثت دی!‏“‏ مَیں نے یہ بھی سوچا کہ تُو مجھے اپنا باپ کہہ کر پکارے گی اور میرے پیچھے پیچھے چلنا نہیں چھوڑے گی۔ 20 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اَے اِسرائیل کے گھرانے!‏ تُو نے میرے ساتھ ویسے ہی دھوکا کِیا ہے جیسے ایک بیوی دھوکے سے اپنے شوہر*‏ کو چھوڑ دیتی ہے۔“‏“‏

21 بنجر پہاڑیوں پر ایک آواز سنائی دے رہی ہے؛‏

اِسرائیل کے لوگ رو رہے ہیں اور مِنتیں کر رہے ہیں

کیونکہ اُنہوں نے اپنی روِش بگا‌ڑ لی ہے؛‏

وہ اپنے خدا یہوواہ کو بھول گئے ہیں۔‏

22 ‏”‏باغی بیٹو!‏ لوٹ آؤ۔‏

مَیں تمہارے باغی دل کو شفا دوں گا۔“‏

‏”‏اَے یہوواہ!‏ ہم آ گئے ہیں!‏ ہم تیرے پاس آ گئے ہیں

کیونکہ تُو ہمارا خدا ہے۔‏

23 بے‌شک پہاڑیاں اور پہاڑوں پر شورشرابہ ایک دھوکا ہے۔‏

اصل میں ہمارا خدا یہوواہ ہی اِسرائیل کی نجات ہے۔‏

24 لیکن اُس شرم‌ناک چیز*‏ نے ہماری کم‌عمری سے ہمارے باپ‌دادا کی محنت نگل لی،‏

ہاں، اُن کے گلّے، اُن کے ریوڑ،‏

اُن کے بیٹے اور اُن کی بیٹیاں۔‏

25 آؤ ہم شرم کے مارے لیٹ جائیں

اور ہماری رُسوائی ہمیں ڈھانک لے

کیونکہ ہم نے اور ہمارے باپ‌دادا نے ہماری کم‌عمری سے آج تک

اپنے خدا یہوواہ کے خلاف گُناہ کِیا ہے

اور ہم نے اپنے خدا یہوواہ کی بات نہیں مانی۔“‏

4 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اَے اِسرائیل!‏ اگر تُو لوٹ آئے،‏

اگر تُو میرے پاس لوٹ آئے

اور اگر تُو میرے سامنے سے اپنے گھناؤنے بُتوں کو ہٹا دے

تو تُو مارا مارا نہیں پھرے گا۔‏

 2 اگر تُو سچائی، اِنصاف اور نیکی سے یہ کہے:‏

‏”‏زندہ خدا یہوواہ کی قسم!‏“‏

تو قومیں اُس سے اپنے لیے برکت حاصل کریں گی

اور اُس پر فخر کریں گی۔“‏

3 یہوواہ یہوداہ کے آدمیوں اور یروشلم سے یہ کہتا ہے:‏

‏”‏اپنے لیے ہل چلاؤ اور زمین کو کاشت کے قابل بناؤ؛‏

کانٹوں کے درمیان بیج نہ بوتے رہو۔‏

 4 یہوداہ کے آدمیو اور یروشلم کے باشندو!‏

یہوواہ کے لیے اپنا ختنہ کرو،‏

ہاں، اپنے دلوں کا ختنہ کرو

تاکہ تمہارے بُرے کاموں کی وجہ سے

میرا غضب آگ کی طرح نہ بھڑکے

جسے کوئی بجھا نہ سکے۔“‏

 5 یہوداہ میں اِس کے بارے میں بتاؤ اور یروشلم میں اِس کا اِعلان کرو؛‏

پورے ملک میں نرسنگا*‏ بجاؤ اور چلّا چلّا کر بتاؤ؛‏

بلند آواز میں یہ کہو:‏ ”‏اِکٹھے ہو جاؤ؛‏

آؤ قلعہ‌بند شہروں میں بھاگ جائیں۔‏

 6 صِیّون کی طرف ایک جھنڈا کھڑا کرو۔‏

کھڑے نہ رہو؛ پناہ‌گاہ ڈھونڈو“‏

کیونکہ مَیں شمال کی طرف سے مصیبت، ہاں، ایک بڑی تباہی لا رہا ہوں۔‏

 7 وہ شیر کی طرح اپنی گھنی جھاڑیوں سے نکلا ہے،‏

ہاں، قوموں کو تباہ کرنے والا روانہ ہو گیا ہے۔‏

وہ اپنی جگہ سے نکل آیا ہے تاکہ تمہارے ملک کو دہشت کی علامت بنا دے۔‏

تمہارے شہروں کو کھنڈر بنا دیا جائے گا اور اُن میں کوئی نہیں بسے گا۔‏

 8 اِس لیے ٹاٹ پہن لو،‏

ماتم کرو*‏ اور دھاڑیں مار مار کر رو

کیونکہ یہوواہ کا بھڑکتا ہوا غصہ ہم سے نہیں ٹلا ہے۔‏

 9 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اُس دن بادشاہ کا دل بیٹھ جائے گا اور حاکموں کا بھی؛‏

کاہن خوف‌زدہ ہو جائیں گے اور نبی حیران رہ جائیں گے۔“‏

10 پھر مَیں نے کہا:‏ ”‏افسوس، اَے حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ!‏ بے‌شک تُو نے اِس قوم اور یروشلم کو یہ کہہ کر دھوکا دیا ہے کہ ”‏تمہیں امن‌وسلامتی حاصل ہوگی“‏ حالانکہ تلوار ہمارے گلوں*‏ تک پہنچ چُکی ہے۔“‏

11 اُس وقت اِس قوم اور یروشلم سے کہا جائے گا:‏

‏”‏ریگستان کی بنجر پہاڑیوں سے

میری قوم کی بیٹی*‏ پر ایک جھلسانے والی ہوا چلے گی؛‏

وہ ہوا پھٹکنے یا صاف کرنے کے لیے نہیں آ رہی۔‏

12 اِن جگہوں سے اِنتہائی تیز ہوا میرے کہنے پر آ رہی ہے۔‏

اب مَیں اُن کے خلاف سزا سناؤں گا۔‏

13 دیکھو!‏ وہ گھنے بادلوں کی طرح آئے گا

اُس کے رتھ طوفانی ہوا کی طرح ہیں۔‏

اُس کے گھوڑے عقابوں سے زیادہ تیزرفتار ہیں۔‏

ہم پر افسوس کیونکہ ہم تباہ ہو گئے ہیں!‏

14 اَے یروشلم!‏ اپنے دل کو بُرائی سے پاک کر تاکہ تُو بچ سکے۔‏

تیرے دل میں کب تک بُرے خیال پلتے رہیں گے؟‏

15 ایک آواز دان سے خبر سنا رہی ہے

اور اِفرائیم کے پہاڑوں سے تباہی کا اِعلان کر رہی ہے۔‏

16 اِس کی خبر دو، ہاں، قوموں کو اِس کی خبر دو؛‏

یروشلم کے خلاف اِس کا اِعلان کرو۔“‏

‏”‏پہرےدار*‏ دُوردراز ملک سے آ رہے ہیں

اور وہ یہوداہ کے شہروں کے خلاف للکاریں گے۔‏

17 وہ کُھلے میدان کے محافظوں کی طرح چاروں طرف سے اُس کے خلاف آ رہے ہیں

کیونکہ اُس نے میرے خلاف بغاوت کی ہے۔“‏ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔‏

18 ‏”‏تجھے اپنی روِش اور اپنے کاموں کا انجام بھگتنا پڑے گا۔‏

تیری تباہی کتنی سنگین ہے

کیونکہ یہ تیرے دل کے اندر تک پہنچ چُکی ہے!‏“‏

19 ہائے میری اذیت!‏*‏ میری اذیت!‏

میرے دل*‏ میں شدید درد ہو رہا ہے۔‏

میرا دل زور زور سے دھڑک رہا ہے۔‏

مَیں چپ نہیں رہ سکتا

کیونکہ مَیں نے*‏ نرسنگے*‏ کی آواز سنی ہے،‏

ہاں، جنگ کا اِعلان*‏ سنا ہے۔‏

20 تباہی پر تباہی کی خبر آ رہی ہے

کیونکہ پورا ملک برباد ہو چُکا ہے۔‏

میرے اپنے خیموں کو اچانک تباہ کر دیا گیا ہے،‏

ہاں، میرے خیمے کے کپڑوں کو پَل بھر میں ہی تباہ کر دیا گیا ہے۔‏

21 مَیں کب تک جھنڈا دیکھتا رہوں گا

اور نرسنگے*‏ کی آواز سنتا رہوں گا؟‏

22 ‏”‏کیونکہ میرے بندے بے‌وقوف ہیں؛‏

وہ میری طرف کوئی دھیان نہیں دیتے۔‏

وہ احمق بیٹے ہیں جن میں کوئی سمجھ نہیں ہے۔‏

وہ بُرے کام کرنے کے لیے تو بڑے ہوشیار*‏ ہیں

لیکن اچھے کام کرنا نہیں جانتے۔“‏

23 مَیں نے زمین کو دیکھا اور دیکھو!‏ وہ خالی اور ویران تھی۔‏

مَیں نے آسمان کو دیکھا اور وہاں کوئی روشنی نہیں تھی۔‏

24 مَیں نے پہاڑوں کو دیکھا اور دیکھو!‏ وہ لرز رہے تھے

اور پہاڑیاں کانپ رہی تھیں۔‏

25 مَیں نے دیکھا اور دیکھو!‏ وہاں کوئی اِنسان نہیں تھا

اور آسمان کے سب پرندے اُڑ چُکے تھے۔‏

26 مَیں نے دیکھا اور دیکھو!‏ باغ ویرانہ بن چُکا تھا

اور اُس کے سب شہر ڈھا دیے گئے تھے۔‏

یہ سب یہوواہ کی وجہ سے،‏

ہاں، اُس کے بھڑکتے ہوئے غصے کی وجہ سے ہوا تھا

27 کیونکہ یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏پورا ملک ویران ہو جائے گا۔‏

لیکن مَیں اِسے مکمل طور پر تباہ نہیں کروں گا۔‏

28 اِس لیے ملک ماتم کرے گا

اور آسمان تاریک ہو جائے گا۔‏

ایسا اِس لیے ہوگا کیونکہ مَیں نے کہہ دیا ہے، مَیں نے فیصلہ کر لیا ہے

اور مَیں اپنا اِرادہ نہیں بدلوں گا*‏ اور نہ ہی اِس سے پیچھے ہٹوں گا۔‏

29 گُھڑسواروں اور تیراندازوں کی آواز پر

شہر کے سب لوگ بھاگ جاتے ہیں۔‏

وہ گھنی جھاڑیوں میں گُھس جاتے ہیں

اور چٹانوں پر چڑھ جاتے ہیں۔‏

سارے شہر خالی ہیں

اور اُن میں کوئی نہیں بستا۔“‏

30 اب جبکہ تُو تباہ ہو چُکی ہے تو تُو کیا کرے گی؟‏

تُو گہرے سُرخ رنگ کے کپڑے پہنا کرتی تھی

اور سونے کے زیورات سے خود کو سنوارتی تھی

اور اپنی آنکھوں کو بڑا کرنے کے لیے کالے رنگ سے سجاتی تھی

لیکن تُو فضول میں خود کو سنوارتی رہی

کیونکہ تیری ہوس میں رہنے والوں نے تجھے ٹھکرا دیا ہے؛‏

اب وہ تیری جان لینے پر تُلے ہیں۔‏

31 مَیں نے ایک آواز سنی ہے جو ایک بیمار عورت کی آواز جیسی ہے،‏

ایک ایسی عورت کی آواز جیسی جو اپنے پہلے بچے کو جنم دیتے ہوئے کراہتی ہے،‏

ہاں، مَیں نے صِیّون کی بیٹی کی آواز سنی ہے جو زور زور سے سانس لیتی ہے۔‏

وہ اپنے ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہتی ہے:‏

‏”‏مجھ پر افسوس کیونکہ مَیں*‏ قاتلوں کی وجہ سے نڈھال ہو گئی ہوں!‏“‏

5 یروشلم کی گلیوں میں گھومو۔‏

آس‌پاس نظر دوڑاؤ اور دھیان سے دیکھو۔‏

اُس کے چوکوں میں ڈھونڈو۔‏

اگر تمہیں کوئی ایسا آدمی مل جائے جو اِنصاف سے کام لیتا ہو

اور وفادار رہنے کی کوشش کرتا ہو

تو مَیں یروشلم کو معاف کر دوں گا۔‏

 2 چاہے وہ کہتے ہیں:‏ ”‏زندہ خدا یہوواہ کی قسم!‏“‏

لیکن پھر بھی وہ جھوٹی قسم کھاتے ہیں۔‏

 3 اَے یہوواہ!‏ کیا تیری نظریں وفاداری کو نہیں ڈھونڈتیں؟‏

تُو نے اپنے بندوں کو مارا لیکن اُن پر کوئی اثر نہیں ہوا۔‏*‏

تُو نے اُنہیں تباہ کر دیا لیکن اُنہوں نے اِصلاح کو قبول کرنے سے اِنکار کر دیا۔‏

اُنہوں نے اپنے چہرے چٹان سے بھی زیادہ سخت کر لیے

اور لوٹنے سے اِنکار کر دیا۔‏

 4 لیکن مَیں نے خود سے کہا:‏ ”‏یہ ضرور معمولی لوگ ہوں گے۔‏

یہ بے‌وقوفی سے کام لیتے ہیں کیونکہ یہ یہوواہ کی راہ کو نہیں جانتے،‏

ہاں، اپنے خدا کے فیصلے کو نہیں جانتے۔‏

 5 مَیں بااثر لوگوں کے پاس جاؤں گا اور اُن سے بات کروں گا

کیونکہ اُنہوں نے ضرور یہوواہ کی راہ اور اپنے خدا کے فیصلے پر دھیان دیا ہوگا۔‏

لیکن اُن سب نے اپنا جُوا توڑ دیا تھا

اور اِس کے بندھنوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے تھے۔“‏

 6 اِس لیے جنگل کا شیر اُن پر حملہ کرتا ہے؛‏

بنجر میدانوں کا بھیڑیا اُنہیں پھاڑ کھاتا ہے

اور تیندوا اُن کے شہروں کے پاس گھات میں بیٹھتا ہے۔‏

جو بھی شخص وہاں سے باہر نکلتا ہے، اُس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جاتے ہیں

کیونکہ اُن کے گُناہ بہت زیادہ ہیں؛‏

اُنہوں نے بار بار بے‌وفائی کی ہے۔‏

 7 مَیں تمہیں اِس کے لیے کیسے معاف کر سکتا ہوں؟‏

تمہارے بیٹوں نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔‏

وہ اُن کی قسم کھاتے ہیں جو خدا نہیں ہیں۔‏

مَیں نے اُن کی ضرورتیں پوری کیں

لیکن وہ زِناکاری کرتے رہے

اور مل کر ایک فاحشہ کے گھر گئے۔‏

 8 وہ جوشیلے گھوڑوں، ہاں، شہوت‌پرست گھوڑوں کی طرح ہیں؛‏

ہر کوئی دوسرے کی بیوی کو دیکھ کر ہنہناتا ہے۔‏

 9 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏کیا مجھے اُن سے اِن باتوں کا حساب نہیں لینا چاہیے؟‏

کیا مجھے*‏ ایسی قوم سے اپنا بدلہ نہیں لینا چاہیے؟“‏

10 ‏”‏آؤ اور حملہ کر کے اُس کے انگور کے باغ اُجاڑ دو

لیکن اُنہیں مکمل طور پر تباہ نہ کرنا۔‏

اُس کی بڑھتی ہوئی کونپلوں کو لے جاؤ

کیونکہ وہ یہوواہ کی نہیں ہیں۔‏

11 اِسرائیل کے گھرانے اور یہوداہ کے گھرانے نے

مجھے دھوکا دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔“‏ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔‏

12 ‏”‏اُنہوں نے یہوواہ کا اِنکار کِیا ہے اور وہ کہتے رہتے ہیں:‏

‏”‏وہ کچھ نہیں کرے گا۔‏*‏

ہم پر کوئی آفت نہیں آئے گی؛‏

ہم تلوار یا قحط نہیں دیکھیں گے۔“‏

13 نبیوں کی باتوں میں ہوا بھری ہوئی ہے

اور اُن کے اندر خدا کا کلام نہیں ہے۔‏

اُن کے ساتھ ایسا ہی ہو!‏“‏

14 اِس لیے فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏یہ آدمی ایسی باتیں کہہ رہے ہیں

اِس لیے مَیں اپنے کلام کو تمہارے مُنہ میں آگ بناؤں گا

اور اِن لوگوں کو لکڑی۔‏

اور یہ آگ اُنہیں بھسم کر دے گی۔“‏

15 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اَے اِسرائیل کے گھرانے!‏ مَیں تیرے خلاف دُوردراز سے ایک قوم لا رہا ہوں۔‏

وہ قوم لمبے عرصے سے قائم ہے۔‏

وہ ایک قدیم قوم ہے؛‏

وہ ایک ایسی قوم ہے جس کی زبان تُو نہیں جانتا

اور جس کی بولی تُو نہیں سمجھ سکتا۔‏

16 اُن لوگوں کے ترکش*‏ کُھلی قبر کی طرح ہیں؛‏

وہ سب جنگجو ہیں۔‏

17 وہ تیری فصل اور تیری روٹی کو نگل جائیں گے۔‏

وہ تیرے بیٹوں اور تیری بیٹیوں کو نگل جائیں گے۔‏

وہ تیرے گلّوں اور تیرے ریوڑوں کو نگل جائیں گے۔‏

وہ تیری انگور کی بیلوں اور تیرے اِنجیر کے درختوں کو نگل جائیں گے۔‏

وہ تیرے قلعہ‌بند شہروں کو جن پر تجھے بھروسا ہے، تلوار سے تباہ کر دیں گے۔“‏

18 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏لیکن مَیں اُن دنوں میں بھی تمہیں مکمل طور پر تباہ نہیں کروں گا۔ 19 جب وہ تُم سے پوچھیں گے:‏ ”‏ہمارے خدا یہوواہ نے ہمارے ساتھ یہ سب کچھ کیوں کِیا؟“‏ تو تُم اُنہیں جواب دینا:‏ ”‏جیسے تُم نے مجھے چھوڑ کر اپنے ملک میں دوسرے خدا کی خدمت کی ویسے ہی تُم ایک ایسے ملک میں جو تمہارا نہیں ہے، دوسرے لوگوں کی خدمت کرو گے۔“‏“‏

20 یعقوب کے گھرانے میں یہ اِعلان کرو

اور یہوداہ میں یہ پیغام سناؤ:‏

21 ‏”‏اَے بے‌وقوف اور ناسمجھ قوم!‏*‏ یہ بات سُن:‏

اُن کی آنکھیں تو ہیں مگر وہ دیکھ نہیں سکتے؛‏

اُن کے کان تو ہیں مگر وہ سُن نہیں سکتے۔‏

22 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏کیا تمہیں میرا خوف نہیں ہے؟‏

کیا تمہیں میرے سامنے کانپنا نہیں چاہیے؟‏

مَیں ہی ہوں جس نے ریت سے سمندر کی حد بنائی ہے،‏

ہاں، اُسے ایک ابدی قانون دیا ہے جس سے وہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔‏

اُس کی لہریں اُچھلتی ہیں لیکن غالب نہیں آ سکتیں؛‏

وہ گرجتی ہیں لیکن اپنی حد پار نہیں کر سکتیں۔‏

23 لیکن اِن لوگوں کا دل ڈھیٹھ اور باغی ہے؛‏

اِنہوں نے مُنہ موڑ لیا ہے اور اپنے راستے چل پڑے ہیں۔‏

24 یہ لوگ اپنے دل میں یہ نہیں کہتے:‏

‏”‏آؤ اپنے خدا یہوواہ کا خوف رکھیں

جو موسم کے حساب سے بارش برساتا ہے،‏

ہاں، خزاں کی بارش اور بہار کی بارش؛‏

جو ہماری خاطر کٹائی کے مقررہ ہفتوں کی حفاظت کرتا ہے۔“‏

25 تمہاری اپنی غلطیوں کی وجہ سے تمہیں یہ چیزیں نہیں مل رہیں؛‏

تُم اپنے گُناہوں کی وجہ سے اچھی چیزوں سے محروم ہو گئے ہو

26 کیونکہ میرے بندوں کے بیچ بُرے لوگ موجود ہیں۔‏

وہ شکار کی تاک میں رہتے ہیں جیسے ایک چڑی‌مار گھات لگا کر بیٹھتا ہے۔‏

وہ جان‌لیوا پھندا بچھاتے ہیں اور اِنسانوں کو پکڑتے ہیں۔‏

27 جیسے ایک پنجرا پرندوں سے بھرا ہوتا ہے

ویسے ہی اُن کے گھر فریب سے بھرے ہیں۔‏

اِسی وجہ سے وہ طاقت‌ور اور امیر ہو گئے ہیں۔‏

28 وہ موٹے تازے اور نرم‌وملائم ہو گئے ہیں؛‏

وہ بُرائی سے اُوپر تک بھرے ہوئے ہیں۔‏

وہ یتیم کا مُقدمہ نہیں لڑتے

تاکہ وہ خود کامیاب ہو سکیں

وہ غریبوں کو اِنصاف دینے سے اِنکار کرتے ہیں۔“‏“‏

29 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏کیا مجھے اُن سے اِن باتوں کا حساب نہیں لینا چاہیے؟‏

کیا مجھے*‏ ایسی قوم سے اپنا بدلہ نہیں لینا چاہیے؟‏

30 ملک میں یہ ہول‌ناک اور بھیانک بات ہوئی ہے:‏

31 نبی جھوٹی نبوّت کرتے ہیں

اور کاہن اپنے اِختیار کو اِستعمال کر کے دوسروں کو دباتے ہیں۔‏

میرے اپنے بندوں کو یہ سب کچھ پسند ہے۔‏

لیکن جب خاتمہ آئے گا تو تُم کیا کرو گے؟“‏

6 اَے بِنیامین کے بیٹو!‏ یروشلم سے دُور پناہ لو۔‏

تقوع میں نرسنگا*‏ بجاؤ؛‏

بیت‌ہکرِم میں آگ جلا کر اِشارہ دو

کیونکہ شمال کی طرف سے ایک آفت، ہاں، ایک بڑی تباہی آ رہی ہے!‏

 2 صِیّون کی بیٹی ایک خوب‌صورت اور نازک عورت کی طرح ہے۔‏

 3 چرواہے اور اُن کے ریوڑ آئیں گے۔‏

وہ اُس کی چاروں طرف اپنے خیمے لگائیں گے،‏

ہر چرواہا اپنے گلّے کو چرائے گا۔‏

 4 ‏”‏اُس کے خلاف جنگ کے لیے تیار*‏ ہو!‏

اُٹھو، آؤ دوپہر کے وقت اُس پر حملہ کریں!‏“‏

‏”‏ہم پر افسوس کیونکہ دن ڈھل رہا ہے؛‏

کیونکہ شام کے سائے لمبے ہو رہے ہیں!‏“‏

 5 ‏”‏اُٹھو، آؤ رات کے وقت حملہ کریں

اور اُس کے مضبوط بُرجوں کو ڈھا دیں“‏

 6 کیونکہ فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏درخت کاٹو اور یروشلم پر حملہ کرنے کے لیے ڈھلان بناؤ۔‏

وہ ایسا شہر ہے جس سے حساب لیا جانا چاہیے؛‏

اُس میں ظلم‌وستم کے سوا اَور کچھ نہیں ہے۔‏

 7 جیسے حوض پانی کو تازہ*‏ رکھتا ہے

ویسے ہی وہ اپنی بُرائی کو تازہ*‏ رکھتی ہے۔‏

اُس میں ظلم اور تباہی کی گُونج سنائی دیتی ہے؛‏

بیماری اور آفت مسلسل میرے سامنے رہتی ہیں۔‏

 8 اَے یروشلم!‏ خبردار ہو جا ورنہ مَیں*‏ تجھ سے گِھن کھا کر تجھ سے مُنہ پھیر لوں گا؛‏

مَیں تجھے ویران کر دوں گا، ہاں، ایک غیرآباد ملک بنا دوں گا۔“‏

 9 فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏وہ اِسرائیل کے بچے ہوئے حصے کو اچھی طرح جمع کر لیں گے جیسے انگور کی بیل سے آخری انگور جمع کیے جاتے ہیں۔‏

انگور کی بیل سے انگور جمع کرنے والے کی طرح دوبارہ اپنا ہاتھ پھیر۔“‏

10 ‏”‏مَیں کس سے بات کروں اور کسے خبردار کروں؟‏

کون میری سنے گا؟‏

دیکھ!‏ اُن کے کان بند*‏ ہیں اِس لیے وہ دھیان نہیں دے سکتے۔‏

دیکھ!‏ وہ یہوواہ کے کلام کا مذاق اُڑاتے ہیں؛‏

اُنہیں اِس سے کوئی خوشی نہیں ملتی۔‏

11 اِس لیے میرے اندر یہوواہ کا غضب بھرا ہوا ہے

اور مَیں اِسے دباتے دباتے تھک گیا ہوں۔“‏

‏”‏اِسے گلی میں بچوں پر اُنڈیل دو

اور جوان آدمیوں کے اُن گروہوں پر بھی جو ایک ساتھ جمع ہیں۔‏

اُن سب کو قیدی بنا لیا جائے گا، آدمیوں کو اُن کی بیویوں کے ساتھ

اور بوڑھوں کو اُن کے ساتھ جو اُن سے بھی بوڑھے ہیں۔‏

12 اُن کے گھر دوسروں کے حوالے کر دیے جائیں گے

اور اُن کے کھیت اور اُن کی بیویاں بھی

کیونکہ مَیں اپنا ہاتھ اِس ملک کے باشندوں کے خلاف بڑھاؤں گا۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

13 ‏”‏چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر ایک بے‌ایمانی کی کمائی کھاتا ہے؛‏

نبی سے لے کر کاہن تک ہر ایک دھوکے‌بازی کرتا ہے۔‏

14 وہ یہ کہتے ہوئے میرے بندوں کے زخموں*‏ کا اُوپر اُوپر سے علاج کرتے ہیں:‏

‏”‏امن ہے!‏ امن ہے!‏“‏

حالانکہ کوئی امن نہیں ہے۔‏

15 کیا اُنہیں اپنی گھناؤنی حرکتوں پر شرم آتی ہے؟‏

اُنہیں بالکل شرم نہیں آتی!‏

اُنہیں تو یہ تک نہیں پتہ کہ شرم ہوتی کیا ہے!‏

اِس لیے وہ گِرنے والوں کے ساتھ گِر جائیں گے۔‏

جب مَیں اُنہیں سزا دوں گا تو وہ ٹھوکر کھا کر گِر جائیں گے۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

16 یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏چوکوں پر کھڑے ہو اور دیکھو۔‏

پُرانے راستوں کے بارے میں پوچھو؛‏

پوچھو کہ اچھا راستہ کہاں ہے اور اُس پر چلو

تاکہ تمہیں*‏ سکون ملے۔“‏

لیکن وہ کہتے ہیں:‏ ”‏ہم اُس پر نہیں چلیں گے۔“‏

17 ‏”‏مَیں نے پہرےداروں کو مقرر کِیا جنہوں نے کہا:‏

‏”‏نرسنگے*‏ کی آواز پر دھیان دو!‏“‏“‏

لیکن اُنہوں نے کہا:‏ ”‏ہم دھیان نہیں دیں گے۔“‏

18 ‏”‏اِس لیے اَے قومو!‏ سنو

اور اَے جماعت!‏ جان لے

کہ اُن کے ساتھ کیا ہوگا۔‏

19 اَے زمین!‏ سُن۔‏

مَیں اِس قوم پر آفت لا رہا ہوں

جو اُس کی اپنی ہی سازشوں کا پھل ہے

کیونکہ اُس نے میری باتوں پر کوئی دھیان نہیں دیا

اور میری شریعت*‏ کو رد کر دیا۔“‏

20 ‏”‏تُم سبا سے جو لوبان اور دُوردراز ملک سے جو خوشبودار سرکنڈا لاتے ہو،‏

وہ میرے کس کام کا ہے؟‏

تمہاری بھسم ہونے والی سالم قربانیاں مجھے قبول نہیں ہیں

اور تمہاری قربانیوں سے مَیں خوش نہیں ہوتا۔“‏

21 اِس لیے یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏مَیں اِن لوگوں کے راستے میں ایسی چیزیں رکھوں گا

جن سے وہ ٹھوکر کھائیں گے۔‏

وہ ٹھوکر کھا کر گِر جائیں گے،‏

ہاں، باپ اور بیٹا ایک ساتھ گِریں گے

اور پڑوسی اور اُس کا ساتھی بھی

اور سب تباہ ہو جائیں گے۔“‏

22 یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏دیکھو!‏ شمال کے ملک سے ایک قوم آ رہی ہے؛‏

زمین کے دُوردراز علاقوں سے ایک بڑی قوم کو جگایا جائے گا۔‏

23 اُن کے ہاتھ میں کمانیں اور برچھیاں ہوں گی۔‏

وہ ظالم ہیں اور وہ کسی پر رحم نہیں کریں گے۔‏

اُن کی آواز میں سمندر جیسی گرج ہوگی

اور وہ گھوڑوں پر سوار ہوں گے۔‏

اَے صِیّون کی بیٹی!‏ وہ ایک جنگجو آدمی کی طرح تیرے خلاف لڑنے کے لیے صفیں باندھ رہے ہیں۔“‏

24 ہم نے اِس کے بارے میں خبر سنی ہے۔‏

ہمارے ہاتھوں میں جان نہیں رہی؛‏

پریشانی نے ہمیں جکڑ لیا ہے۔‏

ہم بچے کو جنم دینے والی عورت کی طرح سخت تکلیف میں ہیں۔‏

25 کھیت میں نہ جاؤ؛‏

راستے پر نہ چلو

کیونکہ دُشمن کے پاس تلوار ہے؛‏

ہر طرف دہشت ہی دہشت ہے۔‏

26 اَے میری قوم کی بیٹی!‏

ٹاٹ پہن اور راکھ میں لیٹ۔‏

دھاڑیں مار مار کر رو اور ایسے ماتم کر جیسے کوئی اپنے اِکلوتے بیٹے کے لیے کرتا ہے

کیونکہ تباہ کرنے والا اچانک ہم پر ٹوٹ پڑے گا۔‏

27 ‏”‏مَیں نے تمہیں*‏ اپنی قوم کے بیچ دھاتوں کو جانچنے والا بنایا ہے

جو اچھی طرح پرکھتا ہے؛‏

تُم اُن لوگوں پر دھیان دو اور اُن کی روِش کا جائزہ لو۔‏

28 وہ سب کے سب اِنتہائی ڈھیٹھ ہیں؛‏

وہ دوسروں کو بدنام کرتے پھرتے ہیں۔‏

وہ تانبے اور لوہے کی طرح ہیں؛‏

اُن سب میں کھوٹ ہے۔‏

29 دھونکنیاں*‏ جل گئی ہیں۔‏

اُن کی آگ سے صرف سیسہ نکلا۔‏

اُنہیں خالص کرنے کی سخت کوشش کی گئی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا

اور بُرے لوگوں کو الگ نہیں کِیا گیا۔‏

30 لوگ اُنہیں ٹھکرائی ہوئی چاندی کہیں گے

کیونکہ یہوواہ نے اُنہیں ٹھکرا دیا ہے۔“‏

7 یہوواہ کا یہ کلام یرمیاہ تک پہنچا:‏ 2 ‏”‏یہوواہ کے گھر کے دروازے میں کھڑے ہو اور یہ پیغام سناؤ:‏ ”‏یہوداہ کے سب لوگو!‏ تُم جو یہوواہ کے سامنے جھکنے کے لیے اِن دروازوں سے داخل ہوتے ہو، یہوواہ کا کلام سنو۔ 3 فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، یہ فرماتا ہے:‏ ”‏اپنی روِش اور اپنے کاموں کو سدھارو اور مَیں تمہیں اِس جگہ آباد رہنے دوں گا۔ 4 گمراہ‌کُن باتوں پر بھروسا نہ کرو اور یہ نہ کہو:‏ ”‏یہ ہے*‏ یہوواہ کی ہیکل، یہوواہ کی ہیکل، ہاں، یہوواہ کی ہیکل!‏“‏ 5 اگر تُم واقعی اپنی روِش اور اپنے کاموں کو سدھارو گے؛ اگر تُم واقعی ایک آدمی اور اُس کے پڑوسی کے بیچ اِنصاف کرو گے؛ 6 اگر تُم پردیسیوں، یتیموں اور بیواؤں پر ظلم نہیں ڈھاؤ گے؛ اگر تُم اِس جگہ معصوموں کا خون نہیں بہاؤ گے اور اگر تُم دوسرے خداؤں کی پرستش کر کے خود کو نقصان نہیں پہنچاؤ گے 7 تو مَیں تمہیں اِس جگہ آباد رہنے دوں گا، ہاں، اِس ملک میں جو مَیں نے ہمیشہ کے لیے*‏ تمہارے باپ‌دادا کو دیا تھا۔“‏“‏“‏

8 ‏”‏لیکن تُم گمراہ‌کُن باتوں پر بھروسا کر رہے ہو جن سے تمہیں ذرا بھی فائدہ نہیں ہوگا۔ 9 تُم چوری کرتے ہو، قتل کرتے ہو، زِنا کرتے ہو، جھوٹی قسم کھاتے ہو، بعل کے سامنے قربانیاں پیش کرتے ہو*‏ اور ایسے خداؤں کی پرستش کرتے ہو جنہیں تُم نہیں جانتے تھے۔ 10 کیا تُم یہ سب کرنے کے بعد اِس گھر میں میرے سامنے آ کر کھڑے ہو سکتے ہو جو میرے نام سے کہلاتا ہے اور یہ کہہ سکتے ہو:‏ ”‏ہمیں بچا لیا جائے گا“‏ حالانکہ تُم یہ سب گھناؤنے کام کرتے ہو؟ 11 کیا میرے نام سے کہلانے والا یہ گھر تمہاری نظر میں ڈاکوؤں کا غار بن گیا ہے؟ مَیں نے خود یہ دیکھا ہے۔“‏ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔‏

12 ‏”‏”‏لیکن اب سیلا میں میری اُس جگہ جاؤ جسے مَیں نے سب سے پہلے چُنا تھا تاکہ میرا نام وہاں رہے اور دیکھو کہ مَیں نے اپنی قوم اِسرائیل کی بُرائی کی وجہ سے اُس جگہ کا کیا حال کِیا ہے۔“‏ 13 یہوواہ فرما رہا ہے:‏ ”‏مگر تُم یہ سب کام کرتے رہے۔ مَیں نے بار بار*‏ تُم سے بات کی لیکن تُم نے میری نہیں سنی۔ مَیں تمہیں بُلاتا رہا مگر تُم نے جواب نہیں دیا۔ 14 اِس لیے مَیں نے جو کچھ سیلا کے ساتھ کِیا، مَیں اِس گھر کے ساتھ بھی وہی کروں گا جو میرے نام سے کہلاتا ہے اور جس پر تُم بھروسا کرتے ہو، ہاں، اِس جگہ کے ساتھ جو مَیں نے تمہیں اور تمہارے باپ‌دادا کو دی۔ 15 مَیں تمہیں اپنی نظروں سے دُور کر دوں گا جیسے مَیں نے تمہارے سب بھائیوں یعنی اِفرائیم کی ساری اولاد کو کِیا تھا۔“‏

16 تُم اِن لوگوں کے لیے دُعا نہ کرو۔ اِن لوگوں کی خاطر فریاد نہ کرو، دُعا نہ کرو اور اِلتجا نہ کرو کیونکہ مَیں تمہاری نہیں سنوں گا۔ 17 کیا تمہیں نظر نہیں آ رہا کہ وہ یہوداہ کے شہروں اور یروشلم کی گلیوں میں کیا کر رہے ہیں؟ 18 بیٹے لکڑی جمع کر رہے ہیں، باپ آگ جلا رہے ہیں اور بیویاں آٹا گُوندھ رہی ہیں تاکہ آسمان کی ملکہ*‏ کے لیے ٹکیوں کے نذرانے پیش کریں۔ وہ دوسرے خداؤں کے سامنے مے کے نذرانے اُنڈیل کر مجھے غصہ دِلا رہے ہیں۔ 19 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏لیکن کیا وہ مجھے تکلیف پہنچا*‏ رہے ہیں؟ نہیں، وہ خود کو تکلیف پہنچا رہے ہیں؛ وہ خود کو رُسوا کر رہے ہیں۔“‏ 20 اِس لیے حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏دیکھو!‏ میرا غصہ اور میرا غضب اِس جگہ پر نازل ہوگا، ہاں، اِنسانوں پر اور جانوروں پر؛ میدان کے درختوں پر اور زمین کی پیداوار پر۔ میرے غضب کی آگ جلتی رہے گی اور بُجھے گی نہیں۔“‏

21 فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏ ”‏جاؤ، جا کر اپنی دوسری قربانیوں کے ساتھ بھسم ہونے والی سالم قربانیاں بھی پیش کرو اور خود اُن کا گوشت کھاؤ 22 کیونکہ جس دن مَیں تمہارے باپ‌دادا کو ملک مصر سے نکال کر لایا، مَیں نے اُن سے بھسم ہونے والی سالم قربانیوں اور دوسری قربانیوں کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی اور کوئی حکم نہیں دیا۔ 23 لیکن مَیں نے اُنہیں یہ حکم ضرور دیا:‏ ”‏میری بات مانو۔ پھر مَیں تمہارا خدا بنوں گا اور تُم میری قوم بنو گے۔ تُم ضرور اُن سب راہوں پر چلنا جن کے حوالے سے مَیں تمہیں حکم دے رہا ہوں تاکہ تمہارا بھلا ہو۔“‏“‏ 24 لیکن اُنہوں نے میری نہیں سنی اور میری بات پر کان نہیں لگایا۔ اِس کی بجائے وہ اپنے منصوبوں*‏ کے مطابق چلتے رہے اور ڈھٹائی سے اپنے بُرے دل کی مانتے رہے۔ وہ آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے مُڑ گئے۔ 25 اُس دن سے آج تک ایسا ہی ہو رہا ہے جس دن سے تمہارے باپ‌دادا ملک مصر سے نکلے۔ اِس لیے مَیں اپنے سب بندوں یعنی اپنے نبیوں کو تمہارے پاس بھیجتا رہا۔ مَیں ہر دن اور بار بار*‏ اُنہیں بھیجتا رہا۔ 26 لیکن اُنہوں نے میری نہیں سنی اور میری بات پر کان نہیں لگایا بلکہ وہ ڈھیٹھ بنے رہے*‏ اور اُنہوں نے اپنے باپ‌دادا سے بھی زیادہ بُرے کام کیے۔‏

27 تُم اُن سے یہ سب باتیں کہو گے لیکن وہ تمہاری نہیں سنیں گے۔ تُم اُنہیں بُلاؤ گے لیکن وہ تمہیں جواب نہیں دیں گے۔ 28 تُم اُن سے کہو گے:‏ ”‏یہ وہ قوم ہے جس نے اپنے خدا یہوواہ کی بات نہیں مانی اور اِصلاح کو قبول کرنے سے اِنکار کر دیا۔ وفاداری ختم ہو گئی ہے اور اُن کے بیچ اِس کا ذکر تک نہیں ہوتا۔“‏

29 اپنے لمبے*‏ بال کاٹ کر پھینک دے اور بنجر پہاڑیوں پر ایک ماتمی گیت گا کیونکہ یہوواہ نے اِس پُشت کو رد کر دیا ہے جس نے اُس کا غصہ بھڑکایا ہے اور وہ اِسے ترک کر دے گا۔ 30 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏یہوداہ کے لوگوں نے ایسے کام کیے ہیں جو میری نظر میں بُرے ہیں۔ اُنہوں نے اُس گھر کو ناپاک کرنے کے لیے جو میرے نام سے کہلاتا ہے، اُس میں اپنے گھناؤنے بُت کھڑے کیے ہیں۔ 31 اُنہوں نے توفت کی اُونچی جگہیں بنائیں جو ہِنّوم کے بیٹے کی وادی*‏ میں ہے تاکہ اپنے بیٹوں اور اپنی بیٹیوں کو آگ میں جلائیں۔ مَیں نے اُنہیں ایسا کرنے کا حکم نہیں دیا تھا اور نہ ہی کبھی میرے دل میں ایسا کوئی خیال تک آیا تھا۔“‏

32 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اِس لیے دیکھو!‏ وہ دن آ رہے ہیں جب اِسے توفت یا ہِنّوم کے بیٹے کی وادی*‏ نہیں بلکہ وادیِ‌قتل کہا جائے گا۔ وہ تب تک توفت میں لاشیں دفناتے رہیں گے جب تک جگہ ختم نہیں ہو جائے گی۔ 33 اِس قوم کی لاشیں آسمان کے پرندوں اور زمین کے درندوں کے لیے خوراک بن جائیں گی جنہیں ڈرا کر بھگانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ 34 مَیں یہوداہ کے شہروں اور یروشلم کی گلیوں سے خوشی اور جشن کی آواز اور دُلہے اور دُلہن کی آواز ختم کر دوں گا کیونکہ ملک کھنڈر بن جائے گا۔“‏“‏

8 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اُس وقت یہوداہ کے بادشاہوں، حاکموں، کاہنوں، نبیوں اور یروشلم کے باشندوں کی ہڈیاں اُن کی قبروں سے نکالی جائیں گی۔ 2 اُنہیں سورج، چاند اور آسمان کی ساری چیزوں*‏ کے سامنے بکھیر دیا جائے گا جن سے وہ پیار کرتے تھے، جن کی وہ خدمت اور پرستش کرتے تھے، جن سے وہ مشورہ مانگتے تھے اور جن کے سامنے وہ جھکتے تھے۔ اُنہیں جمع نہیں کِیا جائے گا اور نہ ہی اُنہیں دفنایا جائے گا۔ وہ زمین کی سطح پر کھاد کی طرح بن جائیں گے۔“‏

3 فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اِس بُرے خاندان کا باقی بچا ہوا حصہ ہر اُس جگہ پر جہاں مَیں اِسے تتربتر کروں گا، زندگی کو نہیں بلکہ موت کو چُنے گا۔“‏

4 ‏”‏تُم اُن سے یہ کہنا:‏ ”‏یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏کیا وہ گِریں گے اور دوبارہ نہیں اُٹھیں گے؟‏

اگر کوئی ایک پیچھے ہٹے گا تو کیا دوسرا بھی پیچھے نہیں ہٹے گا؟‏

 5 یروشلم کے یہ لوگ مجھ سے مسلسل بے‌وفائی کیوں کر رہے ہیں؟‏

اُنہوں نے فریب کو مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے

اور وہ پیچھے ہٹنے سے اِنکار کر دیتے ہیں۔‏

 6 مَیں نے دھیان دیا اور سنتا رہا لیکن اُن کے بولنے کا طریقہ صحیح نہیں تھا۔‏

کسی بھی شخص نے اپنی بُرائی سے توبہ نہیں کی اور یہ نہیں پوچھا:‏ ”‏مَیں نے کیا کِیا ہے؟“‏

ہر کوئی بار بار اُس راہ پر لوٹتا ہے جس پر دوسرے چلتے ہیں جیسے ایک گھوڑا جنگ کے لیے سرپٹ دوڑتا ہے۔‏

 7 آسمان میں اُڑنے والے لق‌لق کو بھی اپنے مقررہ وقت کا پتہ ہوتا ہے؛‏

فاختہ، کوہی ابابیل اور بلبل*‏ اپنے لوٹنے*‏ کے وقت سے واقف ہوتی ہیں۔‏

لیکن میری اپنی قوم یہوواہ کے عدالتی فیصلے کو نہیں سمجھتی۔“‏“‏

 8 ‏”‏تُم کیسے کہہ سکتے ہو:‏ ”‏ہم دانش‌مند ہیں اور ہمارے پاس یہوواہ کی شریعت*‏ ہے؟“‏

کیونکہ اصل میں تو نقل‌نویسوں*‏ کا جھوٹا قلم صرف جھوٹ لکھنے کے لیے اِستعمال ہوا ہے۔‏

 9 دانش‌مند آدمیوں کو شرمندہ کِیا گیا ہے۔‏

وہ خوف‌زدہ ہو گئے ہیں؛ وہ پکڑے جائیں گے۔‏

دیکھو!‏ اُنہوں نے یہوواہ کے کلام کو ترک کر دیا ہے۔‏

اُن میں کیسی دانش‌مندی ہے؟‏

10 اِس لیے مَیں اُن کی بیویاں دوسرے آدمیوں کو دے دوں گا

اور اُن کے کھیت دوسرے مالکوں کو

کیونکہ چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر ایک بے‌ایمانی کی کمائی کھاتا ہے؛‏

نبی سے لے کر کاہن تک ہر ایک دھوکے‌بازی کرتا ہے۔‏

11 وہ یہ کہتے ہوئے میری قوم کی بیٹی کے زخموں*‏ کا اُوپر اُوپر سے علاج کرتے ہیں:‏

‏”‏امن ہے!‏ امن ہے!‏“‏

حالانکہ کوئی امن نہیں ہے۔‏

12 کیا اُنہیں اپنی گھناؤنی حرکتوں پر شرم آتی ہے؟‏

اُنہیں بالکل شرم نہیں آتی!‏

اُنہیں تو یہ تک نہیں پتہ کہ شرم ہوتی کیا ہے!‏

اِس لیے وہ گِرنے والوں کے ساتھ گِر جائیں گے۔‏

جب مَیں اُنہیں سزا دوں گا تو وہ ٹھوکر کھا کر گِر جائیں گے۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

13 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏جب مَیں اُنہیں جمع کروں گا تو مَیں اُن کا خاتمہ کر دوں گا۔‏

نہ تو انگور کی بیل پر کوئی انگور باقی رہے گا اور نہ اِنجیر کے درخت پر کوئی اِنجیر؛ پتّے مُرجھا جائیں گے۔‏

مَیں نے اُنہیں جو کچھ بھی دیا ہے، وہ اُسے گنوا دیں گے۔“‏“‏

14 ‏”‏ہم یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟‏

آؤ اِکٹھے ہو کر قلعہ‌بند شہروں میں جائیں اور وہاں مر مٹیں

کیونکہ ہمارا خدا یہوواہ ہمیں ہلاک کر دے گا۔‏

وہ ہمیں پینے کے لیے زہریلا پانی دیتا ہے

کیونکہ ہم نے یہوواہ کے خلاف گُناہ کِیا ہے۔‏

15 ہمیں امن کی اُمید تھی لیکن کچھ اچھا نہیں ہوا؛‏

شفا کی اُمید تھی لیکن دہشت چھائی ہوئی ہے!‏

16 دان سے اُس کے گھوڑوں کے نتھنوں کی زوردار آواز سنائی دے رہی ہے۔‏

اُس کے طاقت‌ور گھوڑوں کے ہنہنانے کی آواز سے پورا ملک لرز جاتا ہے۔‏

وہ آ کر ملک کو اور اُس کی ہر چیز کو،‏

ہاں، شہر کو اور اُس کے باشندوں کو نگل جاتے ہیں۔“‏

17 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں تمہارے بیچ سانپ بھیج رہا ہوں،‏

ایسے زہریلے سانپ جنہیں بس میں نہیں کِیا جا سکتا۔‏

وہ ضرور تمہیں ڈسیں گے۔“‏

18 میرا غم ناقابلِ‌علاج ہے؛‏

میرا دل بیمار ہے۔‏

19 دُوردراز ملک سے،‏

ہاں، میری قوم کی بیٹی سے مدد کی دُہائی آئی ہے:‏

‏”‏کیا یہوواہ صِیّون میں نہیں ہے؟‏

کیا صِیّون کا بادشاہ اُس میں نہیں ہے؟“‏

‏”‏اُنہوں نے اپنی تراشی ہوئی مورتوں سے،‏

ہاں، اپنے فضول خداؤں سے مجھے غصہ کیوں دِلایا ہے؟“‏

20 ‏”‏ کٹائی کا موسم گزر گیا ہے؛ گرمی کا موسم ختم ہو گیا ہے

لیکن ہمیں بچایا نہیں گیا ہے!‏“‏

21 اپنی قوم کی بیٹی کے زخموں پر میرا دل چُور چُور ہے؛‏

مَیں غم میں ڈوبا ہوا ہوں۔‏

خوف نے مجھے جکڑا ہوا ہے۔‏

22 کیا جِلعاد میں کوئی بلسان*‏ نہیں ہے؟‏

کیا وہاں کوئی شفا دینے والا*‏ نہیں ہے؟‏

میری قوم کی بیٹی کی صحت بحال کیوں نہیں ہو رہی؟‏

9 کاش میرا سر پانی کا کنواں ہوتا

اور میری آنکھیں آنسوؤں کا چشمہ ہوتیں!‏

پھر مَیں اپنی قوم کے قتل ہوئے لوگوں کے لیے

دن رات روتا رہتا۔‏

 2 کاش میرے لیے ویرانے میں ایک مسافرخانہ ہوتا!‏

پھر مَیں اپنے لوگوں کو چھوڑ کر اُن سے دُور چلا جاتا

کیونکہ وہ سب زِناکار ہیں؛‏

وہ دھوکے‌بازوں کی ٹولی ہیں۔‏

 3 وہ اپنی زبان کمان کی طرح موڑتے ہیں؛‏

ملک میں وفاداری کا نہیں بلکہ جھوٹ کا راج ہے۔‏

یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏وہ بُرائی پر بُرائی کرتے جاتے ہیں

اور میری طرف کوئی دھیان نہیں دیتے۔“‏

 4 ‏”‏ہر شخص اپنے پڑوسی سے خبردار رہے

اور اپنے بھائی پر بھی بھروسا نہ کرے

کیونکہ ہر بھائی دغاباز ہے

اور ہر پڑوسی دوسروں کو بدنام کرتا ہے۔‏

 5 ہر کوئی اپنے پڑوسی کو دھوکا دیتا ہے

اور کوئی بھی سچ نہیں بولتا۔‏

اُنہوں نے اپنی زبان کو جھوٹ بولنا سکھایا ہے۔‏

وہ غلط کام کر کر کے خود کو تھکا لیتے ہیں۔‏

 6 تُم فریب سے گِھرے ہوئے ہو۔‏

اُنہوں نے اپنے فریب کی وجہ سے مجھے جاننے سے اِنکار کر دیا ہے۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

 7 اِس لیے فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏مَیں اُنہیں پگھلاؤں گا اور پرکھوں گا

کیونکہ مَیں اپنی قوم کی بیٹی کے ساتھ اَور کر بھی کیا سکتا ہوں؟‏

 8 اُن کی زبان ایک جان‌لیوا تیر ہے جو فریب اُگلتی ہے

وہ اپنے مُنہ سے تو اپنے پڑوسی کے ساتھ امن کی باتیں کرتے ہیں

لیکن دل ہی دل میں گھات لگائے رہتے ہیں۔“‏

 9 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏کیا مجھے اُن سے اِن باتوں کا حساب نہیں لینا چاہیے؟‏

کیا مجھے*‏ ایسی قوم سے اپنا بدلہ نہیں لینا چاہیے؟‏

10 مَیں پہاڑوں کے لیے روؤں گا اور ماتم کروں گا

اور ویرانے کی چراگاہوں کے لیے ماتمی گیت گاؤں گا

کیونکہ اُنہیں جلا دیا گیا ہے اور وہاں سے کوئی نہیں گزرتا

اور نہ ہی وہاں مویشیوں کی آواز سنائی دیتی ہے۔‏

آسمان کے پرندے اور جنگلی جانور بھاگ گئے ہیں، ہاں، وہ چلے گئے ہیں۔‏

11 مَیں یروشلم کو پتھروں کا ڈھیر اور گیدڑوں کا ٹھکانا بنا دوں گا

اور مَیں یہوداہ کے شہروں کو ایسا ویران کر دوں گا کہ وہاں ایک بھی شخص نہیں بسے گا۔‏

12 کون اِتنا دانش‌مند ہے کہ اِس بات کو سمجھ سکے؟‏

یہوواہ نے کس سے بات کی ہے کہ وہ اِس کا اِعلان کرے؟‏

ملک کیوں تباہ ہو گیا ہے؟‏

یہ ویرانے کی طرح ایسے کیوں جُھلس رہا ہے

کہ اِس میں سے کوئی نہیں گزر رہا؟“‏

13 یہوواہ نے جواب دیا:‏ ”‏اِس لیے کہ اُنہوں نے میری شریعت*‏ کو ٹھکرا دیا جو مَیں نے اُنہیں دی اور اِس لیے کہ اُنہوں نے اِس پر عمل نہیں کِیا اور میری نہیں سنی۔ 14 اِس کی بجائے اُنہوں نے ڈھٹائی سے اپنے دل کی سنی اور بعل دیوتاؤں کی پرستش کی جیسے اُن کے باپ‌دادا نے اُنہیں سکھایا تھا۔ 15 اِس لیے فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏ ”‏دیکھو!‏ مَیں اِس قوم کو ناگ‌دون*‏ کھلاؤں گا اور زہریلا پانی پلاؤں گا۔ 16 مَیں اُنہیں ایسی قوموں کے درمیان تتربتر کر دوں گا جنہیں نہ تو وہ جانتے تھے اور نہ اُن کے باپ‌دادا اور مَیں تب تک اُن کے پیچھے تلوار بھیجتا رہوں گا جب تک مَیں اُن کا نام‌ونشان نہیں مٹا دیتا۔“‏

17 فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏سمجھ‌داری سے کام لو۔‏

ماتمی گیت گانے والی عورتوں کو بُلاؤ،‏

ہاں، اُن عورتوں کو جو اِس کام میں ماہر ہیں۔‏

18 وہ جلدی آئیں اور ہمارے لیے بین ڈالیں

تاکہ ہماری آنکھوں سے آنسوؤں کی ندیاں بہیں

اور ہماری پلکوں سے پانی ٹپکے

19 کیونکہ صِیّون سے ماتم کی آواز سنائی دے رہی ہے:‏

‏”‏ہائے ہم برباد ہو گئے ہیں!‏

ہائے ہمیں کتنی ذِلت سہنی پڑ رہی ہے!‏

کیونکہ ہمیں ملک چھوڑنا پڑا اور ہمارے گھروں کو ڈھا دیا گیا۔“‏

20 اَے عورتو!‏ یہوواہ کا کلام سنو۔‏

اُس کے مُنہ کے کلام پر کان دھرو۔‏

اپنی بیٹیوں کو یہ بین ڈالنا سکھاؤ

اور ایک دوسرے کو یہ ماتمی گیت سکھاؤ

21 کیونکہ موت ہماری کھڑکیوں سے اندر گُھس آئی ہے؛‏

یہ ہمارے مضبوط بُرجوں سے اندر داخل ہو گئی ہے

تاکہ ہمارے بچوں کو گلیوں سے

اور ہمارے جوانوں کو چوکوں سے اُٹھا کر لے جائے۔“‏

22 کہو:‏ ”‏یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏لوگوں کی لاشیں میدان کی سطح پر کھاد کی طرح پڑی ہوں گی۔‏

وہ ایسے پڑی ہوں گی جیسے کٹائی کرنے والا فصل کاٹ کاٹ کر اپنے پیچھے قطار میں چھوڑتا جاتا ہے۔‏

اُنہیں جمع کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔“‏“‏“‏

23 یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏دانش‌مند آدمی اپنی دانش‌مندی پر فخر نہ کرے؛‏

طاقت‌ور آدمی اپنی طاقت پر فخر نہ کرے

اور دولت‌مند آدمی اپنی دولت پر فخر نہ کرے۔“‏

24 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏لیکن جو فخر کرتا ہے، وہ اِس بات پر فخر کرے

کہ وہ میرے بارے میں گہری سمجھ اور علم رکھتا ہے

کہ مَیں یہوواہ ہوں جو زمین پر اٹوٹ محبت، اِنصاف اور نیکی سے کام لیتا ہوں

کیونکہ مجھے اِن چیزوں سے خوشی ملتی ہے۔“‏

25 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏دیکھو!‏ وہ دن آ رہے ہیں جب مَیں ہر اُس شخص سے حساب لوں گا جو مختون ہوتے ہوئے بھی غیرمختون ہے 26 یعنی مصر، یہوداہ، ادوم، عمونیوں، موآب اور ویرانے میں بسنے والے اُن سب لوگوں سے جن کی قلموں*‏ کے بال کٹے ہوئے ہیں کیونکہ سب قومیں غیرمختون ہیں اور اِسرائیل کے سارے گھرانے کا دل غیرمختون ہے۔“‏

10 اِسرائیل کے گھرانے!‏ یہوواہ کا وہ کلام سُن جو اُس نے تیرے خلاف کِیا ہے۔ 2 یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏قوموں کے طورطریقے نہ سیکھ

اور آسمان کی نشانیوں سے اِس لیے خوف‌زدہ نہ ہو

کہ قومیں اُن سے خوف‌زدہ ہیں

 3 کیونکہ قوموں کے رسم‌ورواج محض دھوکا*‏ ہیں۔‏

جنگل سے درخت کاٹا جاتا ہے

اور کاریگر اپنے ہاتھوں سے اپنے اوزار کے ساتھ اُسے گھڑتا ہے۔‏

 4 وہ اُسے چاندی اور سونے سے سجاتے ہیں

اور ہتھوڑے اور کیلوں سے اُسے مضبوط کرتے ہیں تاکہ وہ گِر نہ جائے۔‏

 5 وہ بُت کھیرے کے کھیت میں کھڑے پُتلے کی طرح بول نہیں سکتے؛‏

اُنہیں اُٹھا کر لے جانا پڑتا ہے کیونکہ وہ چل نہیں سکتے۔‏

اُن سے نہ ڈرو کیونکہ وہ نہ تو کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں

اور نہ ہی فائدہ۔“‏

 6 اَے یہوواہ!‏ تجھ جیسا کوئی نہیں ہے۔‏

تُو عظیم ہے اور تیرا نام عظیم اور طاقت‌ور ہے۔‏

 7 اَے قوموں کے بادشاہ!‏ کون ہے جسے تیرا خوف نہیں رکھنا چاہیے؟‏

کیونکہ ایسا کرنا صحیح ہے؛‏

کیونکہ قوموں اور اُن کی سب بادشاہتوں میں جتنے بھی دانش‌ور ہیں،‏

اُن میں تجھ جیسا کوئی بھی نہیں ہے۔‏

 8 وہ سب بے‌عقل اور احمق ہیں۔‏

ایک درخت کی طرف سے ہدایت محض دھوکا*‏ ہے۔‏

 9 ترسیس سے چاندی کی چادریں اور اُوفاز سے سونا منگوایا جاتا ہے

جسے کاریگر اور دھات‌گر لکڑی پر چڑھا دیتے ہیں۔‏

اُن بُتوں کو نیلے دھاگے اور جامنی اُون کا لباس پہنایا جاتا ہے۔‏

اُن سب کو ماہر کاریگر بناتے ہیں۔‏

10 لیکن یہوواہ سچ میں خدا ہے۔‏

وہ زندہ خدا اور ابدی بادشاہ ہے۔‏

اُس کے قہر کی وجہ سے زمین کانپے گی

اور کوئی بھی قوم اُس کا غضب برداشت نہیں کر پائے گی۔‏

11*‏ تُم لوگ اُن سے یہ کہنا:‏

‏”‏جن خداؤں نے آسمان اور زمین کو نہیں بنایا،‏

وہ زمین سے اور آسمان کے نیچے سے مٹ جائیں گے۔“‏

12 اُسی نے اپنی طاقت سے زمین کو بنایا ہے؛‏

اُسی نے اپنی دانش‌مندی سے زرخیز زمین کو تیار کِیا ہے

اور اُسی نے اپنی سمجھ‌داری سے آسمان کو پھیلایا ہے۔‏

13 جب وہ اپنی آواز بلند کرتا ہے

تو آسمان کے پانیوں میں ہلچل مچ جاتی ہے۔‏

وہ زمین کے کونے کونے سے بادلوں*‏ کو اُوپر اُٹھاتا ہے۔‏

وہ بارش کے لیے بجلی*‏ بناتا ہے

اور اپنے گوداموں سے ہوا باہر لاتا ہے۔‏

14 ہر اِنسان بغیر سمجھ اور علم کے کام کرتا ہے۔‏

ہر دھات‌گر کو اُس کی تراشی ہوئی مورتوں کی وجہ سے شرمندہ کِیا جائے گا

کیونکہ اُس کے دھات کے بُت محض جھوٹ ہیں

اور اُن میں کوئی سانس*‏ نہیں ہے۔‏

15 وہ محض دھوکا*‏ ہیں اور تمسخر کے لائق ہیں۔‏

جب اُن کی سزا کا دن آئے گا تو وہ فنا ہو جائیں گے۔‏

16 وہ ہستی جو یعقوب کا حصہ ہے، اِن چیزوں جیسی نہیں ہے

کیونکہ اُسی نے سب کچھ بنایا ہے

اور اِسرائیل اُس کی وراثت کی لاٹھی ہے۔‏

اُس کا نام فوجوں کا خدا یہوواہ ہے۔‏

17 اَے محاصرے میں رہنے والی عورت!‏

زمین سے اپنی گٹھڑی سمیٹ

18 کیونکہ یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏مَیں اِس وقت اِس ملک کے باشندوں کو باہر پھینکنے*‏ والا ہوں

اور مَیں اُنہیں پریشانی میں مبتلا کر دوں گا۔“‏

19 میرے زخم*‏ کی وجہ سے مجھ پر افسوس!‏

میرا زخم لاعلاج ہے۔‏

مَیں نے کہا:‏ ”‏یہ میری بیماری ہے اور مجھے اِسے جھیلنا پڑے گا۔‏

20 میرے خیمے کو تباہ کر دیا گیا ہے اور میرے خیمے کی سب رسیاں توڑ دی گئی ہیں۔‏

میرے بیٹوں نے مجھے چھوڑ دیا ہے اور اب وہ نہیں ہیں۔‏

میرے خیمے کو کھڑا کرنے والا اور میرے خیمے کے کپڑے پھیلانے والا کوئی نہیں رہا۔‏

21 چرواہوں نے بے‌وقوفی کی؛‏

اُنہوں نے یہوواہ سے رہنمائی نہیں مانگی۔‏

اِسی لیے اُنہوں نے گہری سمجھ سے کام نہیں لیا

اور اُن کے سارے گلّے بکھر گئے ہیں۔“‏

22 سنو!‏ ایک خبر آ رہی ہے!‏

شمال کے ملک سے بہت شورشرابہ سنائی دے رہا ہے

جو یہوداہ کے شہروں کو ویران کر دے گا اور اُسے گیدڑوں کا ٹھکانا بنا دے گا۔‏

23 اَے یہوواہ!‏ مَیں اچھی طرح جانتا ہوں کہ اِنسان اپنی راہ کا مالک نہیں ہے۔‏

وہ اپنے قدموں کی رہنمائی نہیں کر سکتا۔‏

24 اَے یہوواہ!‏ اپنے اِنصاف کے مطابق میری اِصلاح کر

لیکن غصے سے نہیں تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تُو مجھے فنا کر دے۔‏

25 اُن قوموں پر اپنا غضب نازل کر جو تجھے نظرانداز کر دیتی ہیں

اور اُن خاندانوں پر جو تیرا نام نہیں لیتے

کیونکہ اُنہوں نے یعقوب کو پھاڑ کھایا ہے،‏

ہاں، اُنہوں نے اُسے پھاڑ کھایا ہے اور تقریباً مٹا دیا ہے؛‏

اُنہوں نے اُس کے ملک کو ویران کر دیا ہے۔‏

11 یہوواہ کا یہ کلام یرمیاہ تک پہنچا:‏ 2 ‏”‏اَے لوگو!‏ اِس عہد کی باتیں سنو۔‏

یہوداہ کے لوگوں اور یروشلم کے باشندوں کو یہ باتیں بتاؤ*‏ 3 اور اُن سے کہو:‏ ”‏اِسرائیل کا خدا یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏ ”‏اُس شخص پر لعنت جو اِس عہد کی باتوں کو نہیں مانتا 4 جس کے بارے میں مَیں نے تمہارے باپ‌دادا کو اُس دن حکم دیا جب مَیں اُنہیں ملک مصر سے، ہاں، لوہا پگھلانے والی بھٹی سے نکال کر لایا اور مَیں نے اُن سے کہا:‏ ”‏میری بات مانو اور وہ سب کچھ کرو جس کا مَیں تمہیں حکم دیتا ہوں۔ پھر تُم میری قوم بنو گے اور مَیں تمہارا خدا ہوں گا 5 تاکہ مَیں اُس قسم کو پورا کروں جو مَیں نے تمہارے باپ‌دادا سے کھائی تھی کہ مَیں اُنہیں وہ ملک دوں گا جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے جیسا کہ آج کے دن ہے۔“‏“‏“‏“‏

تب مَیں نے جواب دیا:‏ ”‏اَے یہوواہ!‏ آمین!‏“‏*‏

6 پھر یہوواہ نے مجھ سے کہا:‏ ”‏یہوداہ کے شہروں اور یروشلم کی گلیوں میں اِن سب باتوں کا اِعلان کرو:‏ ”‏اِس عہد کی باتیں سنو اور اِن پر عمل کرو 7 کیونکہ جس دن مَیں تمہارے باپ‌دادا کو ملک مصر سے نکال کر لایا، اُس دن مَیں نے اُنہیں واضح طور پر نصیحت کی اور مَیں آج تک بار بار*‏ یہ نصیحت کر رہا ہوں:‏ ”‏میری بات مانو۔“‏ 8 لیکن اُنہوں نے میری نہیں سنی اور میری بات پر کان نہیں لگایا۔ اِس کی بجائے اُن میں سے ہر ایک ڈھٹائی سے اپنے بُرے دل کی سنتا رہا۔ اِس لیے مَیں نے اُنہیں اِس عہد میں لکھی سب باتوں کے مطابق سزا دی جن پر عمل کرنے کا مَیں نے اُنہیں حکم دیا تھا اور جن پر عمل کرنے سے اُنہوں نے اِنکار کر دیا۔“‏“‏

9 پھر یہوواہ نے مجھ سے کہا:‏ ”‏یہوداہ کے لوگوں اور یروشلم کے باشندوں کے بیچ ایک سازش گھڑی جا رہی ہے۔ 10 اُن لوگوں نے وہی گُناہ کیے ہیں جو اُن کے باپ‌دادا شروع سے کرتے آئے ہیں جنہوں نے میری باتوں کو ماننے سے اِنکار کر دیا تھا۔ اُنہوں نے بھی دوسرے خداؤں کی پرستش اور خدمت کی ہے۔ اِسرائیل کے گھرانے اور یہوداہ کے گھرانے نے میرے اُس عہد کو توڑ دیا ہے جو مَیں نے اُن کے باپ‌دادا سے باندھا تھا۔ 11 اِس لیے یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اُن پر مصیبت لا رہا ہوں جس سے وہ بچ نہیں سکیں گے۔ جب وہ مجھے مدد کے لیے پکاریں گے تو مَیں اُن کی نہیں سنوں گا۔ 12 پھر یہوداہ کے شہر اور یروشلم کے باشندے اُن خداؤں کے پاس جائیں گے جن کے لیے وہ قربانیاں پیش کرتے ہیں*‏ اور اُنہیں مدد کے لیے پکاریں گے۔ لیکن وہ خدا اُن کی مصیبت کے وقت اُنہیں ہرگز نہیں بچا سکیں گے۔ 13 اَے یہوداہ!‏ تیرے خداؤں کی تعداد تیرے شہروں جتنی ہو گئی ہے۔ تُو نے اُس شرم‌ناک چیز*‏ کے لیے اُتنی قربان‌گاہیں بنائی ہیں جتنی یروشلم میں گلیاں ہیں تاکہ اُن قربان‌گاہوں پر بعل کے لیے قربانیاں پیش کر سکے۔“‏

14 تُم*‏ اِن لوگوں کی خاطر دُعا نہ کرو۔ تُم اِن کی خاطر فریاد نہ کرو اور نہ اِن کے لیے دُعا کرو کیونکہ جب یہ مصیبت کے وقت مجھے پکاریں گے تو مَیں نہیں سنوں گا۔‏

15 میری پیاری قوم کو میرے گھر میں آنے کا کیا حق ہے

جبکہ اُس میں سے بہت سے لوگ بُرے منصوبوں کو انجام دیتے ہیں؟‏

جب اُن پر مصیبت آئے گی تو کیا وہ مُقدس گوشت*‏ سے اُسے ٹال پائیں گے؟‏

کیا اُس وقت تُم خوشی مناؤ گے؟‏

16 ایک وقت تھا جب یہوواہ نے تجھے زیتون کا پھلتا پھولتا درخت کہا،‏

ہاں، عمدہ پھل سے لدا خوب‌صورت درخت۔‏

اُس نے ایک زوردار آواز کے ساتھ اُسے آگ لگا دی

اور اُس کی شاخیں توڑ دی گئیں۔‏

17 تجھے لگانے والے یعنی فوجوں کے خدا یہوواہ نے کہا ہے کہ تجھ پر ایک آفت آئے گی کیونکہ اِسرائیل کے گھرانے اور یہوداہ کے گھرانے نے بُرے کام کیے ہیں اور بعل کے سامنے قربانیاں پیش کر کے مجھے غصہ دِلایا ہے۔“‏

18 یہوواہ!‏ تُو نے مجھے بتایا تاکہ مَیں جان جاؤں؛‏

اُس وقت تُو نے مجھے دِکھایا کہ وہ لوگ کیا کر رہے تھے۔‏

19 مَیں ایک پالتو میمنے کی طرح تھا جسے ذبح کرنے کے لیے لے جایا جا رہا ہو۔‏

مَیں نہیں جانتا تھا کہ وہ میرے خلاف یہ سازش گھڑ رہے ہیں:‏

‏”‏آؤ درخت کو اُس کے پھل سمیت تباہ کر دیں

اور اُسے زمین*‏ سے کاٹ ڈالیں

تاکہ اُس کا نام پھر کبھی یاد نہ کِیا جائے۔“‏

20 لیکن فوجوں کا خدا یہوواہ نیکی سے عدالت کرتا ہے؛‏

وہ گہرائیوں میں موجود خیالات*‏ اور دلوں کو جانچتا ہے۔‏

جب تُو اُن سے بدلہ لے تو مجھے دیکھنے کا موقع دینا

کیونکہ مَیں نے اپنا مُقدمہ تیرے سپرد کِیا ہے۔‏

21 اِس لیے عنتوت کے جو آدمی تمہاری جان لینے پر تُلے ہیں اور تُم سے کہتے ہیں:‏ ”‏تُم یہوواہ کا نام لے کر نبوّت نہ کرو ورنہ تُم ہمارے ہاتھوں مارے جاؤ گے،“‏ یہوواہ اُن کے خلاف فرماتا ہے، 22 ہاں، فوجوں کا خدا یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اُن سے حساب لینے والا ہوں۔ جوان آدمی تلوار سے مریں گے اور اُن کے بیٹے اور بیٹیاں قحط سے۔ 23 اُن میں سے کوئی بھی باقی نہیں بچے گا کیونکہ مَیں اُس سال میں عنتوت کے آدمیوں پر مصیبت لاؤں گا جس سال میں مَیں اُن سے حساب لوں گا۔“‏

12 اَے یہوواہ!‏ جب مَیں تجھ سے شکایت کرتا ہوں

اور اِنصاف کے معاملوں پر تجھ سے بات کرتا ہوں تو تُو صحیح*‏ ہوتا ہے۔‏

لیکن بُرے لوگ اپنے کاموں میں کامیاب کیوں ہیں

اور دھوکے‌باز بے‌فکر کیوں ہیں؟‏

 2 تُو نے اُنہیں لگایا اور اُنہوں نے جڑ پکڑ لی۔‏

وہ بڑھ گئے ہیں اور پھل لائے ہیں۔‏

اُن کے ہونٹوں پر تیرا ذکر ہوتا ہے لیکن اُن کے گہرائیوں میں موجود خیالات*‏ تجھ سے دُور ہیں۔‏

 3 مگر اَے یہوواہ!‏ تُو مجھے اچھی طرح جانتا ہے؛ تُو مجھے دیکھتا ہے؛‏

تُو نے میرے دل کو جانچا ہے اور دیکھا ہے کہ یہ تیرے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔‏

اُنہیں ایسی بھیڑوں کی طرح الگ کر دے جو ذبح کرنے کے لیے ہوں

اور اُنہیں قتل کے دن کے لیے مخصوص کر دے۔‏

 4 کب تک زمین سُوکھی رہے گی

اور کب تک ہر میدان کے پودے مُرجھاتے رہیں گے؟‏

اِس ملک میں رہنے والے لوگوں کی بُرائی کی وجہ سے

جانور اور پرندے مٹ گئے ہیں

کیونکہ وہ لوگ کہتے ہیں:‏ ”‏وہ نہیں دیکھ سکتا کہ ہمارے ساتھ کیا ہوگا۔“‏

 5 اگر تُم پیدل چلنے والوں کے ساتھ دوڑتے ہوئے تھک جاتے ہو

تو تُم گھوڑوں کے مقابلے میں کیسے دوڑو گے؟‏

تُم اِس پُرامن ملک میں محفوظ محسوس کرتے ہو

لیکن تُم اُردن*‏ کے کنارے گھنی جھاڑیوں کے بیچ کیا کرو گے؟‏

 6 کیونکہ تمہارے اپنے بھائیوں نے،‏

ہاں، تمہارے باپ کے گھرانے نے تُم سے دغا کی ہے۔‏

اُنہوں نے تمہارے خلاف آواز بلند کی ہے۔‏

اگر وہ تُم سے اچھی باتیں بھی کریں

تو اُن پر بھروسا نہ کرو۔‏

 7 ‏”‏مَیں نے اپنے گھر کو چھوڑ دیا ہے؛ مَیں نے اپنی وراثت کو ترک کر دیا ہے۔‏

مَیں نے اپنی*‏ پیاری قوم کو اُس کے دُشمنوں کے حوالے کر دیا ہے۔‏

 8 میری وراثت میرے لیے جنگل کے شیر کی طرح بن گئی ہے۔‏

وہ مجھ پر دھاڑتی ہے

اِس لیے مجھے اُس سے نفرت ہو گئی ہے۔‏

 9 میری وراثت میرے لیے رنگ‌برنگے*‏ شکاری پرندے کی طرح ہے؛‏

دوسرے شکاری پرندے اُسے گھیر لیتے ہیں اور اُس پر حملہ کرتے ہیں۔‏

میدان کے سب جنگلی جانورو!‏ آؤ، جمع ہو؛‏

کھانے کے لیے آؤ۔‏

10 بہت سے چرواہوں نے میرے انگور کے باغ کو تباہ کر دیا ہے؛‏

اُنہوں نے زمین کے میرے حصے کو روند ڈالا ہے۔‏

اُنہوں نے میرے پسندیدہ حصے کو اُجاڑ کر ویرانہ بنا دیا ہے۔‏

11 وہ ویران ہو گیا ہے۔‏

وہ سُوکھ گیا ہے؛‏*‏

وہ میرے سامنے اُجاڑ پڑا ہے۔‏

ساری زمین اُجڑ گئی ہے

لیکن کوئی شخص اِس پر دھیان نہیں دیتا۔‏

12 ویرانے کے سب ٹوٹے پھوٹے راستوں سے تباہ کرنے والے آ رہے ہیں

کیونکہ یہوواہ کی تلوار ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک لوگوں کو نگل رہی ہے۔‏

کسی کے لیے کوئی امن نہیں ہے۔‏

13 اُنہوں نے گندم بوئی لیکن کانٹوں کی فصل کاٹی۔‏

وہ تھک کر چُور ہو گئے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔‏

وہ یہوواہ کے بھڑکتے ہوئے غصے کی وجہ سے

اپنی پیداوار پر شرمندہ ہوں گے۔“‏

14 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اپنے اُن سب بُرے پڑوسیوں کو اُن کے ملک سے اُکھاڑنے والا ہوں جو اُس وراثت کو نقصان پہنچاتے ہیں جس کا مَیں نے اپنی قوم اِسرائیل کو مالک بنایا ہے۔ مَیں یہوداہ کے گھرانے کو اُن کے بیچ سے اُکھاڑ دوں گا۔ 15 لیکن اُنہیں اُکھاڑنے کے بعد مَیں پھر سے اُن پر رحم کروں گا اور اُن میں سے ہر ایک کو اُس کی وراثت اور اُس کے ملک میں واپس لاؤں گا۔“‏

16 ‏”‏اور اگر وہ میرے بندوں کے طورطریقے سیکھیں گے اور میرے نام سے یہ قسم کھائیں گے:‏ ”‏زندہ خدا یہوواہ کی قسم!‏“‏ بالکل ویسے ہی جیسے اُنہوں نے میرے بندوں کو بعل کی قسم کھانا سکھایا تو وہ میرے بندوں کے بیچ قائم رہیں گے۔ 17 لیکن اگر اُن میں سے کوئی قوم میری بات ماننے سے اِنکار کرے گی تو مَیں اُسے بھی اُکھاڑ دوں گا، ہاں، مَیں اُسے اُکھاڑ دوں گا اور تباہ کر دوں گا۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

13 یہوواہ نے مجھ سے کہا:‏ ”‏جاؤ اور اپنے لیے لینن کا ایک کمربند خریدو اور اُسے اپنی کمر پر باندھو لیکن اُسے پانی میں نہ ڈبونا۔“‏ 2 مَیں نے یہوواہ کے حکم کے مطابق ایک کمربند خریدا اور اُسے اپنی کمر پر باندھ لیا۔ 3 یہوواہ کا کلام دوسری بار مجھ تک پہنچا اور اُس نے کہا:‏ 4 ‏”‏جو کمربند تُم نے خرید کر باندھا ہے، اُسے لو اور اُٹھ کر دریائے‌فرات جاؤ اور وہاں اِسے چٹان کی دراڑ میں چھپا دو۔“‏ 5 اِس لیے مَیں یہوواہ کے حکم کے مطابق دریائے‌فرات گیا اور اِسے وہاں چھپا دیا۔‏

6 لیکن بہت دن بعد یہوواہ نے مجھ سے کہا:‏ ”‏اُٹھو، دریائے‌فرات جاؤ اور وہاں سے وہ کمربند نکالو جسے چھپانے کا مَیں نے تمہیں حکم دیا تھا۔“‏ 7 اِس لیے مَیں دریائے‌فرات گیا اور کھود کر اُس جگہ سے کمربند نکالا جہاں مَیں نے اُسے چھپایا تھا۔ مَیں نے دیکھا کہ کمربند خراب ہو چُکا تھا اور کسی کام کا نہیں رہا تھا۔‏

8 پھر یہوواہ کا یہ کلام مجھ تک پہنچا:‏ 9 ‏”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں یہوداہ کا غرور اور یروشلم کا شدید گھمنڈ اِسی طرح تباہ کر دوں گا۔ 10 یہ بُرے لوگ جو میری بات ماننے سے اِنکار کرتے ہیں؛ جو ڈھٹائی سے اپنے دل کی سنتے ہیں؛ جو دوسرے خداؤں کی پرستش اور خدمت کرتے ہیں اور اُن کے سامنے جھکتے ہیں، بالکل اِس کمربند کی طرح ہو جائیں گے جو کسی کام کا نہیں ہے۔“‏ 11 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏جیسے ایک کمربند ایک آدمی کی کمر سے بندھا رہتا ہے ویسے ہی مَیں نے اِسرائیل کے سارے گھرانے اور یہوداہ کے سارے گھرانے کو خود سے باندھے رکھا تاکہ وہ میری قوم بنیں اور میری شہرت، تعریف اور عزت کا باعث بنیں۔ لیکن اُنہوں نے میری بات نہیں مانی۔“‏

12 تُم اُنہیں یہ پیغام بھی دینا:‏ ”‏اِسرائیل کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏ہر بڑا مٹکا مے سے بھرا جائے۔“‏“‏ وہ تمہیں جواب دیں گے:‏ ”‏کیا ہمیں پہلے سے نہیں پتہ کہ ہر بڑا مٹکا مے سے بھرا جانا چاہیے؟“‏ 13 پھر تُم اُن سے کہنا:‏ ”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اِس ملک کے سب لوگوں کو یعنی داؤد کے تخت پر بیٹھنے والے بادشاہوں، کاہنوں اور نبیوں اور یروشلم کے سب باشندوں کو تب تک مے پلاؤں گا جب تک وہ نشے میں دُھت نہ ہو جائیں۔ 14 مَیں اُنہیں ایک دوسرے میں پٹخ پٹخ کر ماروں گا۔ مَیں والدوں اور بیٹوں سے ایک جیسا سلوک کروں گا۔ مَیں اُن پر ترس نہیں کھاؤں گا۔ نہ تو مجھے اُن کی حالت پر کوئی افسوس ہوگا اور نہ ہی اُن پر رحم آئے گا۔ کوئی بھی چیز مجھے اُن کو تباہ کرنے سے روک نہیں سکے گی۔“‏“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

15 سنو اور دھیان دو۔‏

مغرور نہ بنو کیونکہ یہ یہوواہ نے فرمایا ہے۔‏

16 اپنے خدا یہوواہ کی بڑائی کرو،‏

اِس سے پہلے کہ وہ تاریکی لائے

اور اِس سے پہلے کہ تمہارے پاؤں شام کے اندھیرے میں پہاڑوں پر ٹھوکر کھائیں۔‏

تمہیں روشنی کی اُمید ہوگی

لیکن وہ گہری تاریکی لائے گا؛‏

وہ روشنی کو گھپ اندھیرے میں بدل دے گا۔‏

17 اگر تُم سننے سے اِنکار کرو گے

تو مَیں*‏ تمہارے غرور کی وجہ سے چھپ کر روؤں گا۔‏

مَیں بہت سے آنسو بہاؤں گا اور میری آنکھوں سے آنسوؤں کی ندیاں بہیں گی

کیونکہ یہوواہ کے گلّے کو قیدی بنا کر لے جایا گیا ہے۔‏

18 بادشاہ اور اُس کی ماں*‏ سے کہو:‏ ”‏نیچے بیٹھ جاؤ

کیونکہ تمہارا خوب‌صورت تاج تمہارے سر سے گِر جائے گا۔“‏

19 جنوب کے شہر بند ہو گئے*‏ ہیں اور اُنہیں کھولنے والا کوئی نہیں ہے۔‏

سارے یہوداہ کو قیدی بنا کر لے جایا گیا ہے، ہاں، سب کے سب قید میں چلے گئے ہیں۔‏

20 اپنی نظریں اُٹھا کر شمال سے آنے والوں کو دیکھ۔‏

تیرا وہ گلّہ کہاں ہے جو تجھے دیا گیا تھا؛ تیری خوب‌صورت بھیڑیں کہاں ہیں؟‏

21 جب تجھے اُن کے ہاتھوں سزا ملے گی

جن سے تُو نے شروع سے قریبی دوستی پالی تھی تو تُو کیا کہے گی؟‏

کیا تجھے ویسے دردیں نہیں لگیں گی جیسے بچے کو جنم دینے والی عورت کو لگتی ہیں؟‏

22 تُو اپنے دل میں کہتی ہے:‏ ”‏میرے ساتھ یہ سب کچھ کیوں ہوا؟“‏

تیرے سنگین گُناہ کی وجہ سے تیرا دامن پھاڑ دیا گیا ہے

اور تیری ایڑیوں کو شدید درد سہنا پڑا ہے۔‏

23 کیا ایک کُوشی*‏ اپنی جِلد کے رنگ کو یا ایک تیندوا اپنے دھبوں کو بدل سکتا ہے؟‏

اگر ایسا ہو سکتا ہے تو پھر تُم بھی جو بُرے کام کرنے میں ماہر ہو، اچھائی کر سکتے ہو۔‏

24 اِس لیے مَیں اُنہیں اُس بھوسے کی طرح بکھیر دوں گا جسے ریگستان کی ہوا اُڑا لے جاتی ہے۔‏

25 اِس لیے یہ تیرا حصہ ہے جو مَیں نے تیرے لیے ناپا ہے۔“‏ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔‏

‏”‏کیونکہ تُو مجھے بھول گئی ہے اور تُو نے جھوٹ پر بھروسا کِیا ہے۔‏

26 اِس لیے مَیں تیرے دامن کو تیرے مُنہ تک اُٹھاؤں گا

اور تیرا ننگاپن نظر آئے گا۔‏

27 تیری زِناکاری، تیرا شہوت سے ہنہنانا

اور تیری شرم‌ناک جسم‌فروشی بھی ظاہر ہو جائے گی۔‏

مَیں نے پہاڑوں پر اور میدانوں میں تیری گھناؤننی حرکتیں دیکھی ہیں۔‏

اَے یروشلم!‏ تجھ پر افسوس!‏

تُو اَور کب تک ناپاک رہے گی؟“‏

14 خشک‌سالیوں کے بارے میں یہوواہ کا یہ کلام یرمیاہ تک پہنچا:‏

 2 یہوداہ ماتم کر رہا ہے اور اُس کے دروازے بے‌رونق ہو گئے ہیں۔‏

وہ مایوس ہو کر زمین میں دھنس گئے ہیں

اور یروشلم سے چیخ‌وپکار سنائی دے رہی ہے۔‏

 3 اُن کے مالک اپنے خادموں*‏ کو پانی لانے بھیجتے ہیں۔‏

وہ پانی کے گڑھوں*‏ کے پاس جاتے ہیں اور اُنہیں پانی نہیں ملتا۔‏

وہ اپنے خالی برتنوں کے ساتھ لوٹ آتے ہیں۔‏

وہ شرمندہ اور مایوس ہو کر اپنے سر ڈھک لیتے ہیں۔‏

 4 ملک میں بارش نہ ہونے کی وجہ سے زمین میں دراڑیں پڑ گئی ہیں

اِس لیے کسانوں نے مایوس ہو کر اپنے سر ڈھک لیے ہیں۔‏

 5 ہِرنی بھی میدان میں اپنے نوزائیدہ بچے کو چھوڑ دیتی ہے

کیونکہ کوئی گھاس نہیں ہے۔‏

 6 جنگلی گدھے بنجر پہاڑیوں پر کھڑے ہوتے ہیں۔‏

وہ ہوا کے لیے گیدڑوں کی طرح ہانپتے ہیں؛‏

اُن کی آنکھیں دُھندلا گئی ہیں کیونکہ کوئی گھاس نہیں ہے۔‏

 7 ہمارے اپنے گُناہ ہمارے خلاف گواہی دیتے ہیں۔‏

لیکن اَے یہوواہ!‏ تُو اپنے نام کی خاطر کارروائی کر۔‏

ہم نے بہت بار بے‌وفائی کی ہے

اور تیرے خلاف گُناہ کِیا ہے۔‏

 8 اَے اِسرائیل کی اُمید!‏ مشکل وقت میں اُسے نجات دِلانے والے!‏

تُو اِس ملک میں ایک اجنبی کی طرح کیوں ہے،‏

ایک ایسے مسافر کی طرح جو صرف رات گزارنے کے لیے رُکتا ہے؟‏

 9 تُو ایک ایسے اِنسان کی طرح کیوں ہو گیا ہے جو حیرت میں ڈوبا ہو،‏

ایک ایسے طاقت‌ور اِنسان کی طرح جو بچا نہیں سکتا؟‏

اَے یہوواہ!‏ تُو ہمارے بیچ ہے

اور ہم تیرے نام سے کہلاتے ہیں۔‏

ہمیں ترک نہ کر۔‏

10 یہوواہ اِس قوم کے بارے میں فرماتا ہے:‏ ”‏اِن لوگوں کو جگہ جگہ بھٹکنا پسند ہے؛ اِنہوں نے اپنے قدموں کو نہیں روکا ہے۔ اِس لیے یہوواہ اِن سے خوش نہیں ہے۔ اب وہ اِن کی غلطی کو یاد کرے گا اور اِن سے اِن کے گُناہوں کا حساب لے گا۔“‏

11 پھر یہوواہ نے مجھ سے کہا:‏ ”‏اِن لوگوں کی بھلائی کے لیے دُعا نہ کرو۔ 12 جب وہ روزہ رکھتے ہیں تو مَیں اُن کی اِلتجائیں نہیں سنتا اور جب وہ بھسم ہونے والی سالم قربانیاں اور اناج کے نذرانے پیش کرتے ہیں تو مجھے اُن سے کوئی خوشی نہیں ملتی۔ مَیں تلوار، قحط اور وبا*‏ سے اُن کا نام‌ونشان مٹا دوں گا۔“‏

13 اِس پر مَیں نے کہا:‏ ”‏اَے حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ!‏ افسوس کہ نبی اُن سے کہہ رہے ہیں:‏ ”‏تُم تلوار کو نہیں دیکھو گے اور تمہیں قحط کا سامنا نہیں ہوگا بلکہ خدا تمہیں اِس جگہ حقیقی امن*‏ بخشے گا۔“‏“‏

14 پھر یہوواہ نے مجھ سے کہا:‏ ”‏نبی میرے نام سے جھوٹی نبوّت کر رہے ہیں۔ مَیں نے اُنہیں نہیں بھیجا، مَیں نے اُنہیں حکم نہیں دیا اور نہ ہی مَیں نے اُن سے بات کی ہے۔ وہ جھوٹی رُویا، غیب کے فضول علم اور اپنے دل کے فریب سے تمہارے سامنے نبوّت کرتے ہیں۔ 15 اِس لیے یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏جو نبی میرے نام سے نبوّت کر رہے ہیں حالانکہ مَیں نے اُنہیں نہیں بھیجا اور جو کہہ رہے ہیں کہ اِس ملک میں تلوار نہیں چلے گی یا قحط نہیں پڑے گا، وہ تلوار اور قحط سے فنا ہو جائیں گے۔ 16 جن لوگوں کے سامنے وہ نبوّت کرتے ہیں، وہ قحط اور تلوار کی وجہ سے مارے جائیں گے اور اُن کی لاشیں یروشلم کی گلیوں میں پھینک دی جائیں گی اور اُنہیں، اُن کی بیویوں کو، اُن کے بیٹوں کو اور اُن کی بیٹیوں کو دفنانے والا کوئی نہیں ہوگا کیونکہ مَیں اُن پر وہ آفت لاؤں گا جس کے وہ لائق ہیں۔“‏

17 تُم اُن سے یہ کہنا:‏

‏”‏میری آنکھوں سے دن رات آنسوؤں کی ندی بہتی رہے؛ یہ نہ تھمے

کیونکہ میری قوم کی کنواری بیٹی کو بالکل کچل دیا گیا ہے اور چُور چُور کر دیا گیا ہے؛‏

اُسے بہت گہرا زخم لگایا گیا ہے۔‏

18 اگر مَیں باہر میدان میں جا کر دیکھوں

تو مجھے تلوار سے مارے گئے لوگوں کی لاشیں دِکھائی دیتی ہیں۔‏

اور اگر مَیں شہر میں آؤں

تو مجھے قحط سے بیمار لوگ دِکھائی دیتے ہیں

کیونکہ نبی اور کاہن ایسے ملک میں گھوم رہے ہیں جسے وہ نہیں جانتے۔“‏“‏

19 کیا تُو نے یہوداہ کو بالکل ترک کر دیا ہے؟‏

کیا تجھے*‏ صِیّون سے سخت نفرت ہو گئی ہے؟‏

تُو نے ہمیں ایسے کیوں مارا کہ ہم شفا ہی نہیں پا سکتے؟‏

ہمیں امن کی اُمید تھی لیکن کچھ اچھا نہیں ہوا؛‏

شفا کی اُمید تھی لیکن دہشت چھائی ہوئی ہے!‏

20 اَے یہوواہ !‏ ہم اپنی بُرائی کو تسلیم کرتے ہیں

اور اپنے باپ‌دادا کی غلطی کو بھی

کیونکہ ہم نے تیرے خلاف گُناہ کِیا ہے۔‏

21 اپنے نام کی خاطر ہمیں ترک نہ کر؛‏

اپنے عالی‌شان تخت کو حقیر نہ سمجھ۔‏

ہمارے ساتھ اپنے عہد کو یاد رکھ اور اُسے نہ توڑ۔‏

22 کیا قوموں کا کوئی بھی فضول بُت بارش برسا سکتا ہے

یا کیا آسمان اپنے آپ بارش بھیج سکتا ہے؟‏

اَے ہمارے خدا یہوواہ!‏ صرف تُو ہی ایسا کر سکتا ہے۔‏

ہم نے تجھ سے اُمید لگائی ہے

کیونکہ صرف تُو ہی یہ سب کچھ کرتا ہے۔‏

15 پھر یہوواہ نے مجھ سے کہا:‏ ”‏اگر موسیٰ اور سموئیل بھی میرے سامنے کھڑے ہوتے تو بھی مَیں اِس قوم پر رحم نہ کرتا۔‏*‏ اِنہیں میرے سامنے سے نکال دو۔ اِنہیں جانے دو۔ 2 اگر وہ تُم سے کہیں:‏ ”‏ہم کہاں جائیں؟“‏ تو تُم اُن سے کہنا:‏ ”‏یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏جن کے لیے جان‌لیوا وبا ہے، وہ جان‌لیوا وبا کی طرف جائیں!‏

جن کے لیے تلوار ہے، وہ تلوار کی طرف جائیں!‏

جن کے لیے قحط ہے، وہ قحط کی طرف جائیں

اور جن کے لیے قید ہے، وہ قید کی طرف جائیں!‏“‏“‏

3 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اُن پر چار آفتیں*‏ لاؤں گا۔ اُنہیں مارنے کے لیے تلوار، اُنہیں گھسیٹنے کے لیے کُتے اور اُنہیں پھاڑ کھانے اور تباہ کرنے کے لیے آسمان کے پرندے اور زمین کے درندے۔ 4 مَیں اُنہیں یہوداہ کے بادشاہ اور حِزقیاہ کے بیٹے منسّی کے اُن کاموں کی وجہ سے جو اُس نے یروشلم میں کیے، زمین کی سب بادشاہتوں کے لیے دہشت کی علامت بناؤں گا۔‏

 5 اَے یروشلم!‏ کون تجھ پر ترس کھائے گا؟‏

کون تجھ سے ہمدردی کرے گا

اور کون تیری خیریت پوچھنے کے لیے رُکے گا؟“‏

 6 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏تُو نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔‏

تُو بار بار مجھ سے پیٹھ پھیرتا رہا۔‏*‏

اِس لیے مَیں تیرے خلاف اپنا ہاتھ بڑھاؤں گا اور تجھے تباہ کر دوں گا۔‏

مَیں تجھ پر ترس کھاتے کھاتے*‏ تھک گیا ہوں۔‏

 7 مَیں اُنہیں ملک کے دروازوں پر ترنگلی*‏ سے پھٹکوں گا۔‏

مَیں اُنہیں بچوں سے محروم کر دوں گا۔‏

مَیں اپنے بندوں کو تباہ کر دوں گا

کیونکہ وہ اپنی روِش بدلنے سے اِنکار کرتے ہیں۔‏

 8 میرے سامنے اُن کی بیوائیں سمندر کی ریت سے بھی زیادہ ہو جائیں گی۔‏

مَیں بھری دوپہر میں اُن کے خلاف، ہاں، ماؤں اور اُن کے جوان بیٹوں کے خلاف ایک تباہ کرنے والا لاؤں گا۔‏

مَیں اُنہیں اچانک اُلجھن اور دہشت میں مبتلا کر دوں گا۔‏

 9 سات بچوں کو جنم دینے والی ماں نڈھال ہو گئی ہے؛‏

اُسے*‏ سانس لینے میں مشکل ہو رہی ہے۔‏

اُس کا سورج دن میں ہی ڈھل گیا ہے

جو شرمندگی اور ذِلت کا باعث بنا ہے۔“‏*‏

‏”‏مَیں اُن میں سے بچے ہوئے تھوڑے سے لوگوں کو

اُن کے دُشمنوں کی تلوار کے حوالے کر دوں گا۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔“‏

10 ہائے میری ماں!‏ مجھ پر افسوس!‏ کیونکہ تُو نے مجھے جنم دیا،‏

ہاں، ایک ایسے آدمی کو جس سے سارا ملک لڑائی جھگڑا کرتا ہے۔‏

مَیں نے نہ تو کسی کو قرض دیا ہے اور نہ ہی کسی سے قرض لیا ہے

پھر بھی وہ سب مجھے بددُعائیں دیتے ہیں۔‏

11 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں ضرور تمہاری بھلائی کے لیے کام کروں گا؛‏

مَیں ضرور مصیبت کے وقت اور پریشانی کے وقت

دُشمن کے سامنے تمہاری سفارش کروں گا۔‏

12 کیا کوئی لوہے، ہاں، شمال کے لوہے کے ٹکڑے ٹکڑے کر سکتا ہے؟‏

کیا کوئی تانبے کے ٹکڑے ٹکڑے کر سکتا ہے؟‏

13 تُو نے اپنے علاقوں میں جو بھی گُناہ کیے ہیں،‏

اُن کی وجہ سے مَیں تیرا مال‌ودولت اور تیرے خزانے لُوٹ کے مال کے طور پر،‏

ہاں، بغیر کسی قیمت کے دے دوں گا۔‏

14 مَیں اُنہیں تیرے دُشمنوں کو دے دوں گا

تاکہ وہ اُنہیں ایک ایسے ملک میں لے جائیں جس کے بارے میں تُو نہیں جانتا

کیونکہ میرے غضب کی وجہ سے ایک آگ جل اُٹھی ہے

اور یہ تیرے خلاف بھڑک رہی ہے۔“‏

15 اَے یہوواہ!‏ تُو میری صورتحال سے واقف ہے۔‏

مجھے یاد کر اور مجھ پر توجہ فرما۔‏

اُن لوگوں سے بدلہ لے جو مجھے اذیت دیتے ہیں۔‏

تُو جلدی غصہ نہیں کرتا لیکن اِس وجہ سے مجھے تباہ نہ ہونے دے۔‏

اِس بات پر توجہ فرما کہ مَیں یہ رُسوائی تیری خاطر سہہ رہا ہوں۔‏

16 تیرا کلام ملا اور مَیں نے اُسے کھا لیا؛‏

تیرے کلام سے مجھے خوشی ملی اور میرا دل باغ باغ ہو گیا

کیونکہ فوجوں کے خدا یہوواہ!‏ مَیں تیرے نام سے کہلاتا ہوں۔‏

17 مَیں موج مستی کرنے والوں کے ساتھ بیٹھ کر خوش نہیں ہوتا۔‏

تیرا ہاتھ مجھ پر ہے اِس لیے مَیں اکیلا بیٹھتا ہوں؛‏

تُو نے میرے اندر غصہ*‏ بھر دیا ہے۔‏

18 میرا درد کبھی ختم کیوں نہیں ہوتا اور میرا زخم لاعلاج کیوں ہے؟‏

یہ ٹھیک ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔‏

کیا تُو میرے لیے دھوکا دینے والے چشمے کی طرح بن جائے گا

جس پر بھروسا نہیں کِیا جا سکتا؟‏

19 اِس لیے یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏اگر تُم لوٹو گے تو مَیں تمہیں بحال کر دوں گا

اور تُم میرے حضور کھڑے ہو گے۔‏

اگر تُم قیمتی چیز کو فضول چیز سے الگ کرو گے

تو تُم میرے ترجمان*‏ بن جاؤ گے۔‏

وہ تمہاری طرف آئیں گے

لیکن تُم اُن کی طرف نہیں جاؤ گے۔“‏

20 ‏”‏مَیں تمہیں اِن لوگوں کے سامنے تانبے کی ایک مضبوط دیوار بنا رہا ہوں۔‏

وہ تمہارے خلاف لڑیں گے ضرور

لیکن وہ تُم پر حاوی نہیں ہو پائیں گے*‏

کیونکہ مَیں تمہیں بچانے اور تمہیں چھڑانے کے لیے تمہارے ساتھ ہوں۔“‏ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔‏

21 ‏”‏مَیں تمہیں بُرے لوگوں کے ہاتھ سے بچاؤں گا

اور بے‌رحم لوگوں کے چُنگل سے چھڑاؤں گا۔“‏

16 یہوواہ کا کلام دوبارہ مجھ تک پہنچا اور اُس نے کہا:‏ 2 ‏”‏تُم یہاں شادی نہ کرنا اور بیٹے بیٹیاں پیدا نہ کرنا 3 کیونکہ یہوواہ یہاں پیدا ہونے والے بیٹے بیٹیوں اور اِس ملک میں اُنہیں جنم دینے والی ماؤں اور اُنہیں پیدا کرنے والے والدوں کے بارے میں یہ فرماتا ہے:‏ 4 ‏”‏وہ جان‌لیوا بیماریوں سے مریں گے لیکن اُن کے لیے ماتم کرنے والا اور اُنہیں دفنانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ وہ زمین کی سطح پر کھاد کی طرح بن جائیں گے۔ وہ تلوار اور قحط سے ہلاک ہوں گے اور اُن کی لاشیں آسمان کے پرندوں اور زمین کے درندوں کے لیے خوراک بنیں گی۔“‏

 5 یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏اُس گھر میں داخل مت ہونا جہاں ماتم کرنے والوں کی دعوت ہوتی ہے

اور رونے دھونے اور تسلی دینے کے لیے نہ جانا۔“‏

یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏کیونکہ مَیں نے اُن سے وہ سکون، اٹوٹ محبت اور رحم جُدا کر دیا ہے

جس سے مَیں نے اُنہیں نوازا ہوا تھا۔‏

 6 اِس ملک میں چھوٹے بڑے سب لوگ مر جائیں گے۔‏

اُنہیں دفنایا نہیں جائے گا؛‏

کوئی اُن کے لیے ماتم نہیں کرے گا

اور نہ ہی کوئی اُن کے لیے اپنے جسم کو چیرے گا یا خود کو گنجا کرے گا۔‏*‏

 7 کوئی بھی ماتم کرنے والوں کو کھانا نہیں دے گا

کہ وہ اپنے عزیز کی موت پر دِلاسا پائیں؛‏

کوئی بھی اُنہیں تسلی کا پیالہ نہیں دے گا

کہ وہ اپنے باپ یا ماں کی موت پر اُسے پی سکیں۔‏

 8 ضیافت والے گھر میں نہ جانا؛‏

وہاں لوگوں کے ساتھ کھانے پینے کے لیے نہ بیٹھنا۔“‏

9 فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، یہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں تمہارے زمانے میں تمہاری آنکھوں کے سامنے اِس جگہ سے خوشی اور جشن کی آوازیں اور دُلہے اور دُلہن کی آوازیں ختم کر دوں گا۔“‏

10 جب تُم اِن لوگوں سے یہ سب باتیں کہو گے تو وہ تُم سے پوچھیں گے:‏ ”‏یہوواہ نے یہ کیوں کہا ہے کہ وہ ہم پر اِتنی بڑی آفت لائے گا؟ ہم نے اپنے خدا یہوواہ کے خلاف کون سی غلطی اور کون سا گُناہ کِیا ہے؟“‏ 11 تُم اُنہیں یہ جواب دینا:‏ ”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اِس لیے کہ تمہارے باپ‌دادا نے مجھے ترک کر دیا۔ وہ دوسرے خداؤں کی پرستش اور خدمت کرتے رہے اور اُن کے سامنے جھکتے رہے۔ لیکن اُنہوں نے مجھے ترک کر دیا اور میری شریعت پر عمل نہیں کِیا۔ 12 تُم نے اپنے باپ‌دادا سے بھی کہیں زیادہ بُرے کام کیے اور تُم میں سے ہر ایک میری بات ماننے کی بجائے ڈھٹائی سے اپنے بُرے دل کی سنتا ہے۔ 13 اِس لیے مَیں تمہیں اِس ملک سے نکال کر ایک ایسے ملک میں پھینک دوں گا جس کے بارے میں نہ تو تُم جانتے ہو اور نہ تمہارے باپ‌دادا جانتے تھے اور وہاں تمہیں دن رات دوسرے خداؤں کی خدمت کرنی پڑے گی کیونکہ مَیں تُم پر بالکل رحم نہیں کروں گا۔“‏“‏

14 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏لیکن وہ دن آ رہے ہیں جب وہ یہ کہنے کی بجائے کہ ”‏زندہ خدا یہوواہ کی قسم جو بنی‌اِسرائیل کو ملک مصر سے نکال کر لایا،“‏ 15 یہ کہیں گے:‏ ”‏زندہ خدا یہوواہ کی قسم جو بنی‌اِسرائیل کو شمال کے ملک سے اور اُن سب ملکوں سے نکال کر لایا جہاں اُس نے اُنہیں تتربتر کر دیا تھا“‏ اور مَیں اُنہیں اُن کے ملک میں واپس لاؤں گا جو مَیں نے اُن کے باپ‌دادا کو دیا تھا۔“‏

16 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏دیکھو، مَیں بہت سے مچھیروں کو بُلا رہا ہوں

اور وہ اُنہیں پکڑیں گے۔‏

اِس کے بعد مَیں بہت سے شکاریوں کو بُلاؤں گا

اور وہ ہر پہاڑ اور ہر پہاڑی سے

اور چٹانوں کے شگافوں سے اُنہیں ڈھونڈ نکالیں گے

17 کیونکہ میری آنکھیں اُن کے ہر کام کو*‏ دیکھ رہی ہیں۔‏

وہ مجھ سے چھپے نہیں ہیں

اور نہ ہی اُن کے گُناہ میری نظروں سے پوشیدہ ہیں۔‏

18 مَیں پہلے اُنہیں اُن کی غلطیوں اور اُن کے گُناہوں کی پوری سزا دوں گا

کیونکہ اُنہوں نے میرے ملک کو اپنے گھناؤنے بُتوں کی بے‌جان مورتوں*‏ سے ناپاک کِیا ہے

اور میری وراثت کو اپنی گھناؤنی چیزوں سے بھر دیا ہے۔“‏“‏

19 اَے یہوواہ!‏ تُو میری طاقت اور میرا قلعہ ہے؛‏

تُو وہ جگہ ہے جہاں مَیں مصیبت کے دن بھاگ کر جاتا ہوں۔‏

قومیں زمین کے کونے کونے سے تیرے پاس آئیں گی

اور کہیں گی:‏ ”‏ہمارے باپ‌دادا نے وراثت میں صرف جھوٹ پایا ہے

اور فضول اور بے‌کار چیزیں بھی جن کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔“‏

20 کیا ایک اِنسان اپنے لیے خدا بنا سکتا ہے

جبکہ اُس کے بنائے ہوئے خدا اصل میں خدا نہیں ہوتے؟‏

21 ‏”‏اِس لیے مَیں اُنہیں دِکھاؤں گا؛‏

مَیں اِس بار اُنہیں اپنی طاقت اور اپنی قوت دِکھاؤں گا

اور وہ جان جائیں گے کہ میرا نام یہوواہ ہے۔“‏

17 ‏”‏یہوداہ کا گُناہ لوہے کے قلم سے لکھا گیا ہے۔‏

اِسے ہیرے کی نوک سے اُن کے دل کی تختی پر

اور اُن کی قربان‌گاہوں کے سینگوں پر کندہ کِیا گیا ہے۔‏

 2 اُن کے بیٹے بھی اُن کی قربان‌گاہوں اور مُقدس بَلّیوں*‏ کو یاد کرتے ہیں

جو گھنے درختوں کے پاس، اُونچی پہاڑیوں پر

 3 اور کُھلے میدانوں میں پہاڑوں پر تھیں۔‏

تیرے سارے علاقوں میں پھیلے گُناہ کی وجہ سے

مَیں تیرا مال‌ودولت اور تیرے سارے خزانے،‏

ہاں، تیری اُونچی جگہیں لُوٹ کے مال کے طور پر دے دوں گا۔‏

 4 تُو خود اپنی وہ وراثت گنوا بیٹھے گا جو مَیں نے تجھے دی تھی

اور مَیں تجھ سے اُس ملک میں تیرے دُشمنوں کی خدمت کراؤں گا جس کے بارے میں تُو نہیں جانتا

کیونکہ تُم لوگوں نے میرے غصے کی آگ بھڑکائی ہے۔‏*‏

یہ ہمیشہ جلتی رہے گی۔“‏

 5 یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏اُس شخص*‏ پر لعنت ہے جو اِنسانوں پر بھروسا کرتا ہے؛‏

جو اِنسانی طاقت پر بھروسا کرتا ہے*‏

اور جس کا دل یہوواہ سے پھر جاتا ہے۔‏

 6 وہ ریگستان میں کھڑے اکیلے درخت کی طرح بن جائے گا۔‏

وہ کوئی اچھی چیز نہیں دیکھے گا

بلکہ ویرانے میں سُوکھی جگہوں اور سیم‌زدہ زمین پر بسے گا

جہاں کوئی نہیں رہ سکتا۔‏

 7 وہ شخص*‏ خوش رہتا ہے جو یہوواہ پر بھروسا رکھتا ہے؛‏

جو یہوواہ پر آس لگاتا*‏ ہے۔‏

 8 وہ ایسے درخت کی طرح بن جائے گا جو پانی کے پاس لگایا گیا ہے

اور جو اپنی جڑیں ندی کی طرف پھیلاتا ہے۔‏

اُسے شدید گرمی کا احساس نہیں ہوگا

بلکہ اُس کے پتّے ہمیشہ ہرے بھرے رہیں گے۔‏

وہ خشک‌سالی کے سال میں پریشان نہیں ہوگا

اور نہ ہی پھل دینا چھوڑے گا۔‏

 9 دل ہر چیز سے زیادہ دھوکے‌باز اور بے‌صبر*‏ ہے۔‏

اِسے کون جان سکتا ہے؟‏

10 مَیں یہوواہ دل کو پرکھتا ہوں

اور گہرائیوں میں موجود خیالات*‏ کو جانچتا ہوں

تاکہ ہر ایک کو اُس کی روِش،‏

ہاں، اُس کے کاموں کے پھل کے مطابق بدلہ دوں۔‏

11 جو شخص بے‌ایمانی*‏ سے دولت حاصل کرتا ہے،‏

وہ اُس مادہ تیتر کی طرح ہے جو کسی اَور کے انڈوں پر بیٹھتی ہے۔‏

دولت اُسے آدھی عمر میں چھوڑ دے گی

اور آخر میں وہ بے‌وقوف ثابت ہوگا۔“‏

12 وہ شان‌دار تخت جسے شروع سے بلند کِیا گیا ہے،‏

ہمارا مُقدس مقام ہے۔‏

13 اَے یہوواہ!‏ اِسرائیل کی اُمید!‏

جو لوگ تجھے چھوڑ دیتے ہیں، اُن سب کو شرمندہ کِیا جائے گا۔‏

جو لوگ تجھ سے*‏ برگشتہ ہو جاتے ہیں، اُن کے نام خاک پر لکھے جائیں گے

کیونکہ اُنہوں نے یہوواہ کو، ہاں، زندگی کے پانی کے چشمے کو ترک کر دیا ہے۔‏

14 اَے یہوواہ!‏ مجھے شفا دے اور مَیں ٹھیک ہو جاؤں گا۔‏

مجھے بچا لے اور مَیں بچ جاؤں گا

کیونکہ مَیں صرف تیری ہی بڑائی کرتا ہوں۔‏

15 دیکھ!‏ وہ مجھ سے پوچھتے ہیں:‏

‏”‏یہوواہ کا کلام کہاں ہے؟‏

اب مہربانی کر کے اِسے پورا ہونے دے!‏“‏

16 لیکن جہاں تک میری بات ہے، مَیں ایک چرواہے کے طور پر تیرے پیچھے چلنا چھوڑ کر نہیں بھاگا

اور نہ ہی مَیں نے تباہی کے دن کی خواہش کی۔‏

تُو میرے مُنہ سے نکلنے والی ہر بات کو اچھی طرح جانتا ہے؛‏

وہ سب تیرے سامنے ہی ہوئی ہیں!‏

17 میرے لیے دہشت کا باعث نہ بن۔‏

تُو مصیبت کے دن میری پناہ‌گاہ ہے۔‏

18 مجھے اذیت دینے والے شرمندہ ہوں

لیکن مجھے شرمندہ نہ ہونے دے۔‏

وہ دہشت‌زدہ ہوں

لیکن مجھے دہشت‌زدہ نہ ہونے دے۔‏

اُن پر مصیبت کا دن لا

اور اُنہیں کچل کر بالکل*‏ تباہ کر دے۔‏

19 یہوواہ نے مجھ سے یہ کہا:‏ ”‏جاؤ اور لوگوں کے بیٹوں کے دروازے پر کھڑے ہو جس سے یہوداہ کے بادشاہ اندر آتے اور باہر جاتے ہیں اور پھر جا کر یروشلم کے سب دروازوں پر بھی کھڑے ہو۔ 20 تُم اُن سے کہنا:‏ ”‏یہوداہ کے بادشاہو، یہوداہ کے سب لوگو اور یروشلم کے سب باشندو!‏ تُم جو اِن دروازوں سے داخل ہوتے ہو، یہوواہ کا کلام سنو۔ 21 یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏ ”‏تُم*‏ خبردار رہو!‏ سبت کے دن کوئی بوجھ نہ اُٹھاؤ اور نہ اُسے یروشلم کے دروازوں سے اندر لاؤ۔ 22 تُم سبت کے دن اپنے گھر سے کوئی بوجھ باہر نہ لانا اور نہ ہی کوئی کام کرنا۔ تُم سبت کے دن کو پاک رکھنا جیسے مَیں نے تمہارے باپ‌دادا کو حکم دیا تھا۔ 23 لیکن اُنہوں نے میری بات نہیں سنی اور اِس پر کان نہیں لگایا۔ وہ ڈھیٹھ بن گئے*‏ اور اُنہوں نے میری بات ماننے اور اِصلاح قبول کرنے سے اِنکار کر دیا۔“‏“‏

24 ‏”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏لیکن اگر تُم سختی سے میری بات پر عمل کرو گے اور سبت کے دن اِس شہر کے دروازوں سے کوئی بوجھ اندر نہیں لاؤ گے اور سبت کے دن کوئی کام نہ کر کے اِسے پاک رکھو گے 25 تو داؤد کے تخت پر بیٹھنے والے بادشاہ اور حاکم بھی رتھوں اور گھوڑوں پر سوار ہو کر اِس شہر کے دروازوں سے داخل ہوں گے، ہاں، وہ اور اُن کے حاکم، یہوداہ کے آدمی اور یروشلم کے باشندے داخل ہوں گے اور یہ شہر ہمیشہ آباد رہے گا۔ 26 لوگ یہوداہ کے شہروں، یروشلم کے اِردگِرد کے علاقوں، بِنیامین کے علاقے، نشیبی علاقے، پہاڑی علاقے اور نِجِب*‏ سے یہوواہ کے گھر آئیں گے۔ وہ بھسم ہونے والی سالم قربانیاں، دوسری قربانیاں، اناج کے نذرانے، لوبان اور شکرگزاری کی قربانیاں لائیں گے۔‏

27 لیکن اگر تُم میری بات نہ مان کر سبت کے دن کو ناپاک کرو گے اور سبت کے دن بوجھ اُٹھاؤ گے اور اِسے یروشلم کے دروازوں سے اندر لاؤ گے تو مَیں یروشلم کے دروازوں کو آگ لگا دوں گا اور وہ اُس کے مضبوط بُرجوں کو ضرور بھسم کر دے گی اور کبھی نہیں بُجھے گی۔“‏“‏“‏

18 یہوواہ کا یہ کلام یرمیاہ تک پہنچا:‏ 2 ‏”‏اُٹھو اور کُمہار کے گھر جاؤ اور وہاں مَیں تُم سے بات کروں گا۔“‏

3 اِس لیے مَیں کُمہار کے گھر گیا اور وہ اپنے چاک پر کام کر رہا تھا۔ 4 لیکن کُمہار مٹی سے جو برتن بنا رہا تھا، وہ اُس کے ہاتھ میں خراب ہو گیا۔ اِس لیے اُس نے اُس مٹی سے ایک دوسرا برتن بنایا جیسا اُس کی نظر میں صحیح تھا۔‏

5 پھر یہوواہ کا یہ کلام مجھ تک پہنچا:‏ 6 ‏”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اَے اِسرائیل کے گھرانے!‏ کیا مَیں تیرے ساتھ ویسا نہیں کر سکتا جیسا اِس کُمہار نے کِیا ہے؟ دیکھ!‏ اَے اِسرائیل کے گھرانے!‏ جیسے یہ مٹی کُمہار کے ہاتھ میں ہے ویسے ہی تُو میرے ہاتھ میں ہے۔ 7 جب مَیں کسی قوم یا بادشاہت کو اُکھاڑنے، گِرانے اور تباہ کرنے کے بارے میں کہوں 8 اور وہ قوم اپنی بُرائی سے باز آئے جس کے خلاف مَیں نے بات کی تھی تو مَیں بھی اپنی سوچ بدل لوں گا*‏ اور اُس پر وہ آفت نہیں لاؤں گا جسے لانے کا مَیں نے اِرادہ کِیا تھا۔ 9 لیکن جب بھی مَیں کسی قوم یا بادشاہت کو کھڑا کرنے اور لگانے کے بارے میں بات کروں 10 اور وہ ایسے کام کرے جو میری نظر میں بُرے ہیں اور میری بات نہ مانے تو مَیں اپنی سوچ بدل لوں گا*‏ اور اُس کے ساتھ وہ اچھائی نہیں کروں گا جس کا مَیں نے اِرادہ کِیا تھا۔“‏

11 اِس لیے مہربانی سے یہوداہ کے لوگوں اور یروشلم کے باشندوں سے کہو:‏ ”‏یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں تمہارے خلاف ایک آفت لانے کی تیاری کر رہا ہوں اور تمہارے خلاف ایک منصوبہ باندھ رہا ہوں۔ اِس لیے مہربانی سے اپنی بُری راہ کو چھوڑ کر لوٹ آؤ اور اپنی روِش اور اپنے کاموں کو سدھارو۔“‏“‏“‏

12 لیکن اُنہوں نے کہا:‏ ”‏اِس کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ ہم اپنی سوچ کے مطابق چلیں گے اور ہم میں سے ہر ایک ڈھٹائی سے اپنے بُرے دل کی مانے گا۔“‏

13 اِس لیے یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏مہربانی سے قوموں کے بیچ جا کر خود پوچھو۔‏

کیا کسی نے کوئی ایسی بات سنی ہے؟‏

اِسرائیل کی کنواری نے اِنتہائی گھناؤنی حرکت کی ہے۔‏

14 کیا لبنان کی برف اُس کی چٹانوں کی ڈھلانوں سے غائب ہو جاتی ہے؟‏

کیا دُور سے بہتا ٹھنڈا پانی سُوکھ جاتا ہے؟‏

15 لیکن میرے بندے مجھے بھول گئے ہیں

کیونکہ وہ ایک فضول چیز کے سامنے قربانیاں پیش کرتے ہیں؛‏*‏

وہ لوگوں کو اُن کی راہوں سے، ہاں، اُن کے پُرانے راستوں سے گمراہ کرتے ہیں

تاکہ وہ کچے راستوں پر چلیں جو سیدھے اور ہموار نہیں ہیں۔‏*‏

16 اِس طرح وہ اپنے ملک کو دہشت کی علامت اور ایک ایسی چیز بنا رہے ہیں

جسے دیکھ کر لوگ ہمیشہ سیٹی بجائیں گے۔‏

اُس کے پاس سے گزرنے والا ہر شخص دہشت کے مارے اُسے گھورے گا اور اپنا سر ہلائے گا۔‏

17 مَیں مشرقی ہوا کی طرح اُنہیں اُن کے دُشمنوں کے سامنے بکھیر دوں گا۔‏

مَیں اُن کی مصیبت کے دن اُنہیں اپنا چہرہ نہیں بلکہ پیٹھ دِکھاؤں گا۔“‏

18 اُنہوں نے کہا:‏ ”‏آؤ، یرمیاہ کے خلاف سازش گھڑیں کیونکہ ہمارے نبی شریعت سکھاتے*‏ رہیں گے؛ دانش‌مند لوگ مشورے دیتے رہیں گے اور نبی کلام سناتے رہیں گے۔ آؤ، اُس کے خلاف بولیں*‏ اور اُس کی باتوں پر کوئی توجہ نہ دیں۔“‏

19 اَے یہوواہ!‏ مجھ پر توجہ فرما

اور سُن کہ میرے مخالف کیا کہہ رہے ہیں۔‏

20 کیا اچھائی کا بدلہ بُرائی سے دیا جانا چاہیے؟‏

اُنہوں نے میری جان لینے کے لیے گڑھا کھودا ہے۔‏

یاد کر کہ مَیں نے تیرے سامنے کھڑے ہو کر کیسے اُن کے بارے میں اچھی باتیں کہی تھیں

تاکہ تیرا غضب اُن سے ٹل جائے۔‏

21 اِس لیے اُن کے بیٹوں کو قحط کے حوالے کر دے

اور اُنہیں تلوار کے حوالے کر دے۔‏

اُن کی بیویاں بچوں سے محروم ہو جائیں اور بیوہ ہو جائیں۔‏

اُن کے آدمی جان‌لیوا وبا سے مارے جائیں

اور اُن کے جوان آدمی جنگ میں تلوار کا نشانہ بن جائیں۔‏

22 جب تُو لُٹیروں کے گروہوں سے اُن پر اچانک حملہ کرائے

تو اُن کے گھروں سے چیخ‌وپکار سنائی دے

کیونکہ اُنہوں نے مجھے پکڑنے کے لیے گڑھا کھودا ہے

اور میرے پاؤں کے لیے پھندے بچھائے ہیں۔‏

23 لیکن اَے یہوواہ!‏ تُو اُن سازشوں سے اچھی طرح واقف ہے

جو اُنہوں نے مجھے مار ڈالنے کے لیے میرے خلاف باندھی ہیں۔‏

اُن کی غلطی کو نہ ڈھک

اور اُن کے گُناہ کو اپنے حضور سے نہ مٹا۔‏

جب تُو غصے میں آ کر اُن کے خلاف کارروائی کرے

تو وہ تیرے حضور لڑکھڑا جائیں۔‏

19 یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏ ”‏جاؤ اور کُمہار سے مٹی کی ایک صراحی خریدو۔ قوم کے کچھ بزرگوں اور کاہنوں کے کچھ بزرگوں کو ساتھ لو 2 اور ٹھیکرا دروازے کے پاس ہِنّوم کے بیٹے کی وادی میں جاؤ اور وہاں وہ پیغام سناؤ جو مَیں تمہیں دے رہا ہوں۔ 3 تُم یہ کہنا:‏ ”‏یہوداہ کے بادشاہو اور یروشلم کے باشندو!‏ یہوواہ کا پیغام سنو۔ فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏

‏”‏مَیں اِس جگہ ایک مصیبت لانے والا ہوں اور جو کوئی اِس کے بارے میں سنے گا، اُس کے کانوں میں سنسناہٹ ہوگی۔ 4 ایسا اِس لیے ہوگا کیونکہ اُنہوں نے مجھے ترک کر دیا ہے اور اِس جگہ کو پہچان کے قابل نہیں چھوڑا ہے۔ وہ یہاں دوسرے خداؤں کے لیے قربانیاں پیش کرتے ہیں جنہیں نہ وہ جانتے ہیں اور نہ اُن کے باپ‌دادا اور یہوداہ کے بادشاہ جانتے تھے۔ اُنہوں نے اِس جگہ کو بے‌قصوروں کے خون سے بھر دیا ہے۔ 5 اُنہوں نے بعل کے لیے اُونچی جگہیں بنائی ہیں تاکہ اپنے بیٹوں کو بعل کے سامنے بھسم ہونے والی سالم قربانی کے طور پر آگ میں جلائیں۔ مَیں نے اُنہیں ایسا کرنے کو نہیں کہا تھا، نہ ہی ایسا کوئی حکم دیا تھا اور نہ ہی کبھی میرے دل میں ایسا کوئی خیال تک آیا تھا۔“‏“‏

6 ‏”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اِس لیے دیکھو!‏ وہ دن آ رہے ہیں جب اِس جگہ کو توفت یا ہِنّوم کے بیٹے کی وادی نہیں بلکہ وادیِ‌قتل کہا جائے گا۔ 7 مَیں اِس جگہ یہوداہ اور یروشلم کے منصوبے ناکام بنا دوں گا۔ مَیں اُنہیں اُن کے دُشمنوں کے سامنے تلوار سے اور اُن لوگوں کے ہاتھ سے مروا دوں گا جو اُن کی جان لینے پر تُلے ہیں۔ مَیں اُن کی لاشیں آسمان کے پرندوں اور زمین کے درندوں کو خوراک کے طور پر دے دوں گا۔ 8 مَیں اِس شہر کو دہشت کی علامت اور ایک ایسی جگہ بنا دوں گا جسے دیکھ کر لوگ سیٹی بجائیں گے۔ اِس کے پاس سے گزرنے والا ہر شخص اِس پر آنے والی ساری آفتوں کی وجہ سے اِسے دہشت کے مارے گھورے گا اور سیٹی بجائے گا۔ 9 مَیں اُنہیں اُن کے بیٹوں اور بیٹیوں کا گوشت کھلاؤں گا اور ہر کوئی اپنے ساتھی کا گوشت کھائے گا کیونکہ جب اُن کے دُشمن اور وہ لوگ جو اُن کی جان لینے پر تُلے ہیں، اُنہیں چاروں طرف سے گھیر لیں گے تو وہ بے‌بس ہو جائیں گے۔“‏“‏

10 پھر اُن آدمیوں کے سامنے جو تمہارے ساتھ جائیں گے، صراحی توڑ دینا 11 اور اُن سے کہنا:‏ ”‏فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اِس قوم اور اِس شہر کو اُسی طرح ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا جس طرح کوئی شخص کُمہار کے برتن کو توڑ دیتا ہے تاکہ اُسے پھر کبھی نہ جوڑا جا سکے۔ وہ تب تک توفت میں مُردے دفناتے رہیں گے جب تک جگہ ختم نہیں ہو جائے گی۔“‏“‏

12 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اِس جگہ اور اِس میں رہنے والوں کے ساتھ ایسا ہی کروں گا تاکہ اِس شہر کو توفت کی طرح بنا دوں۔ 13 یروشلم کے گھرانے اور یہوداہ کے بادشاہوں کے گھرانے اِس جگہ یعنی توفت کی طرح ناپاک ہو جائیں گے، ہاں، وہ سب گھر جن کی چھتوں پر وہ آسمان کی سب چیزوں*‏ کے لیے قربانیاں پیش کرتے تھے اور دوسرے خداؤں کے لیے مے کے نذرانے اُنڈیلتے تھے۔“‏“‏

14 جب یرمیاہ توفت سے واپس آئے جہاں یہوواہ نے اُنہیں نبوّت کرنے بھیجا تھا تو وہ یہوواہ کے گھر کے صحن میں کھڑے ہوئے اور سب لوگوں سے کہا:‏ 15 ‏”‏فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏ ”‏دیکھو!‏ مَیں اِس شہر اور اِس کے سارے قصبوں پر وہ سب آفتیں لانے والا ہوں جو مَیں نے کہی تھیں کیونکہ اُنہوں نے ڈھٹائی سے*‏ میری بات ماننے سے اِنکار کر دیا۔“‏“‏

20 جب یرمیاہ اِن باتوں کے بارے میں نبوّت کر رہے تھے تو اِمّیر کا بیٹا فشحور جو کاہن تھا اور یہوواہ کے گھر میں مرکزی عہدےدار بھی تھا، سُن رہا تھا۔ 2 پھر فشحور نے یرمیاہ نبی کو مارا اور اُنہیں اُس کاٹھ میں جکڑ دیا جو یہوواہ کے گھر میں اُوپری بِنیامینی دروازے کے پاس تھا۔ 3 لیکن اگلے دن جب فشحور نے یرمیاہ کو کاٹھ سے نکالا تو یرمیاہ نے اُس سے کہا:‏

‏”‏یہوواہ نے تمہارا نام فشحور نہیں بلکہ ”‏ہر طرف چھائی دہشت“‏ رکھا ہے 4 کیونکہ یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں تمہیں تمہارے لیے اور تمہارے سب دوستوں کے لیے دہشت کی علامت بنا دوں گا اور وہ تمہاری نظروں کے سامنے اپنے دُشمنوں کی تلوار سے مارے جائیں گے اور مَیں سارے یہوداہ کو بابل کے بادشاہ کے حوالے کر دوں گا اور وہ اُن لوگوں کو قیدی بنا کر بابل لے جائے گا اور اُنہیں تلوار سے مار ڈالے گا۔ 5 مَیں اِس شہر کا سارا مال‌ودولت، اِس کی ساری قیمتی چیزیں اور یہوداہ کے بادشاہوں کے سارے خزانے اُن کے دُشمنوں کے ہاتھ میں دے دوں گا۔ وہ اُنہیں لُوٹ کر قبضے میں لے لیں گے اور بابل لے جائیں گے۔ 6 فشحور!‏ تُم اور تمہارے گھر میں رہنے والے سب لوگ قید میں جائیں گے۔ تمہیں بابل لے جایا جائے گا اور تُم وہیں مرو گے اور وہیں اپنے سارے دوستوں کے ساتھ دفن ہو گے کیونکہ تُم نے اُن کے سامنے جھوٹی نبوّت کی۔“‏“‏

 7 اَے یہوواہ!‏ تُو نے مجھے بے‌وقوف بنایا اور مَیں بے‌وقوف بن گیا۔‏

تُو نے میرے خلاف اپنی طاقت اِستعمال کی اور تُو جیت گیا۔‏

مجھے سارا سارا دن مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے؛‏

ہر کوئی میرا مذاق اُڑاتا ہے

 8 کیونکہ مَیں جب بھی بولتا ہوں، مجھے چیخ چیخ کر کہنا پڑتا ہے:‏

‏”‏ظلم اور تباہی!‏“‏

یہوواہ کا کلام میرے لیے سارا سارا دن بے‌عزتی اور طعنوں کی وجہ بنتا ہے۔‏

 9 اِس لیے مَیں نے کہا:‏ ”‏مَیں اُس کا ذکر نہیں کروں گا

اور آئندہ اُس کے نام سے پیغام نہیں سناؤں گا۔“‏

لیکن اُس کا کلام میرے دل میں جلتی آگ کی طرح بن گیا،‏

ہاں، میری ہڈیوں میں بھڑکتے شعلوں کی طرح؛‏

مَیں اِسے دباتے دباتے تھک گیا

اور مَیں اَور برداشت نہیں کر پایا۔‏

10 مَیں نے بہت سی بُری افواہیں سنی تھیں؛‏

میری ہر طرف دہشت چھائی ہوئی تھی۔‏

اُنہوں نے کہا:‏ ”‏اُس کے خلاف بولو؛ آؤ اُس کے خلاف بولیں!‏“‏

مجھے سلامتی کی دُعا دینے والا ہر شخص میرے گِرنے کا اِنتظار کر رہا تھا۔‏

اُنہوں نے کہا:‏ ”‏شاید وہ کوئی بے‌وقوفی کرے

اور ہم اُس پر حاوی ہو جائیں اور اُس سے اپنا بدلہ لیں۔“‏

11 لیکن یہوواہ ایک خطرناک جنگجو کی طرح میرے ساتھ تھا۔‏

اِس لیے مجھے اذیت دینے والے گِر جائیں گے اور مجھ پر حاوی نہیں ہو پائیں گے۔‏

اُنہیں بُری طرح شرمندہ کِیا جائے گا کیونکہ وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔‏

اُن کی ذِلت ہمیشہ کے لیے ہوگی اور کبھی بُھلائی نہیں جائے گی۔‏

12 لیکن اَے فوجوں کے خدا یہوواہ!‏ تُو نیک شخص کو پرکھتا ہے؛‏

تُو گہرائیوں میں موجود خیالات*‏ اور دلوں کو دیکھتا ہے۔‏

جب تُو اُن سے بدلہ لے تو مجھے دیکھنے کا موقع دینا

کیونکہ مَیں نے اپنا مُقدمہ تیرے سپرد کِیا ہے۔‏

13 یہوواہ کے لیے گیت گاؤ!‏ یہوواہ کی بڑائی کرو!‏

کیونکہ اُس نے غریب شخص کو*‏ بُرے لوگوں کے ہاتھ سے بچایا ہے۔‏

14 اُس دن پر لعنت ہو جس دن مَیں پیدا ہوا!‏

وہ دن مبارک نہ ہو جس دن میری ماں نے مجھے جنم دیا!‏

15 اُس شخص پر لعنت ہو جس نے میرے والد کو یہ خوش‌خبری دی جسے سُن کر وہ باغ باغ ہو گئے

کہ ”‏آپ کے ہاں لڑکا ہوا ہے!‏ آپ کا بیٹا ہوا ہے!‏“‏

16 وہ شخص اُن شہروں کی طرح ہو جائے جنہیں یہوواہ نے بغیر کسی افسوس*‏ کے ڈھا دیا۔‏

اُسے صبح چیخ‌وپکار سنائی دے اور بھری دوپہر کو جنگ کی للکار۔‏

17 اُس نے مجھے کوکھ میں ہی کیوں نہیں مار ڈالا

تاکہ میری ماں میری قبر بن جاتی اور ہمیشہ حاملہ رہتی؟‏

18 مَیں کوکھ سے باہر کیوں آیا؟‏

مصیبت اور غم دیکھنے کے لیے؟‏

شرمندگی اُٹھاتے اُٹھاتے مرنے کے لیے؟‏

21 یہوواہ کا کلام اُس وقت یرمیاہ تک پہنچا جب بادشاہ صِدقیاہ نے مَلکیاہ کے بیٹے فشحور اور معسیاہ کے بیٹے کاہن صِفَنیاہ کو اِس درخواست کے ساتھ اُن کے پاس بھیجا:‏ 2 ‏”‏مہربانی سے ہماری خاطر یہوواہ سے پوچھیں کہ آگے کیا ہوگا کیونکہ بابل کے بادشاہ نبوکدنضر*‏ نے ہمارے خلاف جنگ چھیڑ دی ہے۔ شاید یہوواہ ہماری خاطر کوئی حیران‌کُن کام کرے تاکہ وہ پیچھے ہٹ جائے۔“‏

3 یرمیاہ نے اُن سے کہا:‏ ”‏صِدقیاہ سے یہ کہنا:‏ 4 ‏”‏اِسرائیل کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں تمہارے ہاتھ میں موجود جنگی ہتھیاروں کا رُخ تمہاری طرف کر دوں گا*‏ جن سے تُم بابل کے بادشاہ اور کسدیوں کے خلاف لڑ رہے ہو جو شہر کی دیوار کے باہر ہیں اور تُم لوگوں کو گھیرے ہوئے ہیں۔ مَیں اُنہیں اِس شہر کے بیچ میں اِکٹھا کروں گا۔ 5 مَیں طاقت‌ور ہاتھ*‏ اور زورآور بازو سے خود تُم سے لڑوں گا اور غصہ، قہر اور شدید غضب ظاہر کروں گا۔ 6 مَیں اِس شہر میں رہنے والوں، ہاں، اِنسانوں اور جانوروں کو مار ڈالوں گا۔ وہ ایک بڑی وبا*‏ سے مر جائیں گے۔“‏“‏

7 ‏”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اُس کے بعد مَیں یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ، اُس کے خادموں اور اِس شہر کے لوگوں کو، ہاں، اُن کو جو وبا، تلوار اور قحط سے بچ جائیں گے، بابل کے بادشاہ نبوکدنضر*‏ کے حوالے، اُن کے دُشمنوں کے حوالے اور اُن لوگوں کے حوالے کر دوں گا جو اُن کی جان لینے پر تُلے ہیں۔ وہ اُنہیں تلوار سے مار ڈالے گا۔ وہ اُن پر ترس نہیں کھائے گا اور نہ ہی اُن پر مہربانی اور رحم کرے گا۔“‏“‏

8 تُم اِس قوم سے کہنا:‏ ”‏یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں تمہارے سامنے زندگی کا راستہ اور موت کا راستہ رکھ رہا ہوں۔ 9 جو لوگ اِس شہر میں رہیں گے، وہ تلوار، قحط اور وبا سے مر جائیں گے۔ لیکن جو کوئی باہر جا کر کسدیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دے گا جنہوں نے تمہیں گھیرا ہوا ہے، وہ زندہ رہے گا اور اُس کی جان بچ جائے گی۔“‏“‏*‏

10 ‏”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏کیونکہ مَیں نے اِس شہر پر تباہی لانے کے لیے اِس کا رُخ کر لیا ہے نہ کہ اِس کے ساتھ اچھائی کرنے کے لیے۔ اِسے بابل کے بادشاہ کے حوالے کر دیا جائے گا اور وہ اِسے آگ سے جلا دے گا۔“‏

11 یہوداہ کے بادشاہ کے گھرانے!‏ یہوواہ کا کلام سُن۔ 12 اَے داؤد کے گھرانے!‏ یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏ہر صبح اِنصاف سے کام لے

اور اُس شخص کو دھوکے‌باز کے ہاتھ سے چھڑا جسے لُوٹا جا رہا ہے

تاکہ تیرے بُرے کاموں کی وجہ سے

میرا غضب آگ کی طرح نہ بھڑکے

جسے کوئی بجھا نہ سکے۔“‏“‏

13 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اَے وادی کے رہائشی!‏

اَے میدان کی چٹان!‏ مَیں تیرے خلاف ہوں۔‏

تُو کہتا ہے:‏ ”‏کون ہم پر دھاوا بولے گا؟‏

کون ہمارے گھروں پر حملہ کرے گا؟“‏

14 مَیں تجھ سے تیرے کاموں کے مطابق حساب لوں گا۔‏

مَیں تیرے جنگل کو آگ لگا دوں گا

جو تیرے آس‌پاس کی سب چیزوں کو بھسم کر دے گی۔“‏

یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔“‏

22 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏یہوداہ کے بادشاہ کے محل میں جاؤ اور یہ پیغام سناؤ۔ 2 تُم یہ کہنا:‏ ”‏داؤد کے تخت پر بیٹھنے والے یہوداہ کے بادشاہ!‏ تُم، تمہارے خادم اور تمہارے لوگ جو اِن دروازوں سے داخل ہوتے ہیں، یہوواہ کا کلام سنیں۔ 3 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اِنصاف اور نیکی کی راہ پر چلو۔ جس شخص کو لُوٹا جا رہا ہے، اُسے دھوکے‌باز کے ہاتھ سے چھڑاؤ۔ کسی پردیسی سے بدسلوکی نہ کرو، کسی یتیم یا بیوہ کو نقصان نہ پہنچاؤ اور اِس جگہ کسی بے‌قصور کا خون نہ بہاؤ۔ 4 اگر تُم اِن باتوں پر اچھی طرح عمل کرو گے تو داؤد کے تخت پر بیٹھنے والے بادشاہ اپنے خادموں اور اپنے لوگوں کے ساتھ رتھوں اور گھوڑوں پر سوار ہو کر اِس محل کے دروازوں سے داخل ہوں گے۔“‏“‏

5 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏لیکن اگر تُم اِن باتوں پر عمل نہیں کرو گے تو مَیں اپنی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ محل تباہ ہو جائے گا۔“‏

6 کیونکہ یہوواہ یہوداہ کے بادشاہ کے محل کے بارے میں یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏تُو میرے لیے جِلعاد کی طرح ہے،‏

ہاں، لبنان کی چوٹی کی طرح۔‏

لیکن مَیں تجھے ویرانہ بنا دوں گا؛‏

تیرا کوئی بھی شہر آباد نہیں ہوگا۔‏

 7 مَیں تیرے خلاف تباہ کرنے والوں کو مقرر*‏ کروں گا؛‏

اُن میں سے ہر ایک کے پاس اپنے ہتھیار ہوں گے۔‏

وہ تیرے عمدہ دیوداروں کو کاٹ ڈالیں گے

اور اُنہیں آگ میں جھونک دیں گے۔‏

8 بہت سی قومیں اِس شہر کے پاس سے گزریں گی اور ایک دوسرے سے کہیں گی:‏ ”‏یہوواہ نے اِس عظیم شہر کے ساتھ ایسا کیوں کِیا؟“‏ 9 اور وہ لوگ جواب میں کہیں گے:‏ ”‏کیونکہ اُنہوں نے اپنے خدا یہوواہ کے عہد کو ترک کر دیا اور دوسرے خداؤں کے سامنے جھکنے لگے اور اُن کی خدمت کرنے لگے۔“‏“‏

10 مُردہ شخص کے لیے نہ رو

اور اُس کے لیے ماتم نہ کرو۔‏

اِس کی بجائے اُس کے لیے پھوٹ پھوٹ کر رو جو جا رہا ہے

کیونکہ وہ اپنی پیدائش کے ملک کو دیکھنے کے لیے نہیں لوٹے گا۔‏

11 کیونکہ یہوواہ یوسیاہ کے بیٹے سلّوم*‏ کے بارے میں جو یہوداہ کا بادشاہ ہے اور اپنے باپ یوسیاہ کی جگہ حکمرانی کر رہا ہے اور اِس جگہ سے جا چُکا ہے، یہ فرماتا ہے:‏ ”‏وہ یہاں کبھی نہیں لوٹے گا۔ 12 وہ اُس جگہ مر جائے گا جہاں اُسے قیدی بنا کر لے جایا گیا ہے اور اِس ملک کو پھر کبھی نہیں دیکھے گا۔“‏

13 اُس شخص پر افسوس جو اپنا گھر بُرائی سے بناتا ہے

اور اپنے اُوپر والے کمرے بے‌اِنصافی سے؛‏

جو اپنے پڑوسی سے مُفت میں خدمت کراتا ہے

اور اُس کی مزدوری دینے سے اِنکار کر دیتا ہے؛‏

14 جو کہتا ہے:‏ ”‏مَیں اپنے لیے ایک بہت بڑا گھر بناؤں گا

جس کے اُوپر والے کمرے کُھلے کُھلے ہوں گے؛‏

مَیں اُس میں کھڑکیاں لگاؤں گا

اور دیودار کے تختے بھی اور اُن پر تیز سُرخ رنگ کراؤں گا۔“‏

15 کیا تُم اِس لیے حکمرانی کرتے رہو گے کیونکہ تُم نے دیودار کے اِستعمال میں دوسروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے؟‏

تمہارا باپ بھی کھاتا اور پیتا تھا

لیکن وہ اِنصاف اور نیکی کی راہ پر چلتا تھا

اور اِس وجہ سے اُس کا بھلا ہوا۔‏

16 اُس نے مصیبت کے ماروں اور غریبوں کے قانونی حق کا دِفاع کِیا

اِس لیے سب اچھا ہوا۔‏

یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏کیا مجھے جاننے کا یہی مطلب نہیں ہے؟‏

17 لیکن تمہاری نظریں اور تمہارا دل صرف بے‌ایمانی کی کمائی،‏

بے‌قصوروں کا خون بہانے

اور دھوکے اور لُوٹ‌مار پر لگا ہے۔“‏

18 اِس لیے یہوواہ یوسیاہ کے بیٹے یہویقیم کے بارے میں جو یہوداہ کا بادشاہ ہے، یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏وہ یہ کہتے ہوئے اُس کے لیے ماتم نہیں کریں گے:‏

‏”‏ہائے میرے بھائی!‏ ہائے میری بہن!‏“‏

وہ یہ کہتے ہوئے اُس کے لیے ماتم نہیں کریں گے:‏

‏”‏ہائے مالک!‏ ہائے اُس کی شان‌وشوکت!‏“‏

19 اُس کی لاش کے ساتھ گدھے کی لاش جیسا سلوک کِیا جائے گا؛‏

اُسے گھسیٹ کر یروشلم کے دروازوں سے باہر پھینک دیا جائے گا۔“‏

20 لبنان جا*‏ اور چلّا؛‏

بسن میں اپنی آواز بلند کر

اور عباریم سے اُونچی آواز میں چلّا

کیونکہ تجھے شدت سے چاہنے والوں کو کچل دیا گیا ہے۔‏

21 مَیں نے تجھ سے تب بات کی جب تُو خود کو محفوظ محسوس کرتی تھی۔‏

لیکن تُو نے کہا:‏ ”‏مَیں تیری بات نہیں مانوں گی۔“‏

تُو جوانی سے ایسا ہی کرتی آئی ہے

کیونکہ تُو نے میری بات نہیں مانی۔‏

22 ایک ہوا تیرے سب چرواہوں کی گلّہ‌بانی کرے گی

اور تجھے شدت سے چاہنے والوں کو قیدی بنا کر لے جایا جائے گا۔‏

پھر تجھے تیری ساری مصیبتوں کی وجہ سے شرمندہ اور رُسوا کِیا جائے گا۔‏

23 اَے لبنان میں رہنے والی!‏

اَے دیوداروں کے بیچ بسنے والی!‏

جب تجھے دردیں لگیں گی تو تُو کتنا کراہے گی!‏

تُو بچے کو جنم دینے والی عورت کی طرح تڑپے گی!‏“‏

24 ‏”‏زندہ خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏یہوداہ کے بادشاہ اور یہویقیم کے بیٹے کونیاہ!‏*‏ مجھے اپنی قسم کہ اگر تُم میرے دائیں ہاتھ میں مُہر والی انگوٹھی بھی ہوتے تو مَیں تمہیں اُتار کر پھینک دیتا!‏ 25 مَیں تمہیں اُن کے حوالے کر دوں گا جو تمہاری جان لینے پر تُلے ہیں، اُن کے حوالے جن سے تُم ڈرتے ہو، ہاں، بابل کے بادشاہ نبوکدنضر*‏ اور کسدیوں کے حوالے۔ 26 مَیں تمہیں اور تمہاری ماں کو جس نے تمہیں جنم دیا، ایک دوسرے ملک میں پھینک دوں گا جس میں تُم پیدا نہیں ہوئے تھے اور تُم وہیں مرو گے۔ 27 تُم اُس ملک میں پھر کبھی نہیں لوٹو گے جس کے لیے تُم ترستے ہو۔‏

28 کیا یہ آدمی کونیاہ محض ایک حقیر اور ٹوٹا ہوا برتن ہے،‏

ایک ایسا برتن جسے کوئی رکھنا نہیں چاہتا؟‏

اُسے اور اُس کی اولاد کو ایک ایسے ملک میں کیوں پھینک دیا گیا

جس کے بارے میں وہ نہیں جانتے؟“‏

29 اَے زمین،‏*‏ اَے زمین، اَے زمین!‏ یہوواہ کا کلام سُن۔‏

30 یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏لکھ کہ یہ آدمی بے‌اولاد ہے

جسے اپنی زندگی میں کوئی کامیابی نہیں ملے گی

کیونکہ اُس کی اولاد میں سے کوئی بھی داؤد کے تخت پر بیٹھنے

اور دوبارہ یہوداہ پر حکمرانی کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا۔“‏“‏

23 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اُن چرواہوں پر افسوس جو میری چراگاہ کی بھیڑوں کو تباہ کر رہے ہیں اور بکھیر رہے ہیں!‏“‏

2 اِس لیے اِسرائیل کا خدا یہوواہ میری قوم کی گلّہ‌بانی کرنے والے چرواہوں کے خلاف فرماتا ہے:‏ ”‏تُم نے میری بھیڑوں کو بکھیر دیا ہے؛ تُم اُنہیں تتربتر کرتے رہے ہو اور تُم نے اُن پر کوئی دھیان نہیں دیا ہے۔“‏

‏”‏اِس لیے مَیں تمہارے بُرے کاموں کی وجہ سے تمہیں سزا دوں گا۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

3 ‏”‏پھر مَیں اپنی بھیڑوں کے بچے ہوئے حصے کو اُن سب ملکوں سے جمع کروں گا جہاں مَیں نے اُنہیں تتربتر کِیا ہے اور مَیں اُنہیں اُن کی چراگاہ میں واپس لاؤں گا اور وہ پھلیں پھولیں گی اور تعداد میں خوب بڑھ جائیں گی 4 اور مَیں اُن پر ایسے چرواہے مقرر کروں گا جو صحیح معنوں میں اُن کی گلّہ‌بانی کریں گے۔ وہ ڈریں گی نہیں اور خوف‌زدہ نہیں ہوں گی اور نہ ہی اُن میں سے کوئی گُم ہوگی۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

5 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏دیکھو!‏ وہ دن آ رہے ہیں جب مَیں داؤد کی نسل سے ایک نیک کونپل اُگاؤں گا۔‏*‏ ایک بادشاہ حکمرانی کرے گا اور گہری سمجھ سے کام لے گا اور ملک میں اِنصاف اور نیکی کو قائم کرے گا۔ 6 اُس کے زمانے میں یہوداہ کو بچایا جائے گا اور اِسرائیل سلامتی سے بسے گا۔ اور اُسے اِس نام سے پکارا جائے گا:‏ یہوواہ ہماری نیکی ہے۔“‏

7 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏لیکن وہ دن آ رہے ہیں جب وہ یہ کہنے کی بجائے کہ ”‏زندہ خدا یہوواہ کی قسم جو بنی‌اِسرائیل کو ملک مصر سے نکال کر لایا،“‏ 8 یہ کہیں گے:‏ ”‏زندہ خدا یہوواہ کی قسم جو اِسرائیل کے گھرانے کی اولاد کو شمال کے ملک سے اور اُن سب ملکوں سے نکال کر واپس لایا جہاں اُس نے*‏ اُنہیں تتربتر کر دیا تھا“‏ اور وہ اپنے ملک میں بسیں گے۔“‏

9 نبیوں کے لیے پیغام:‏

میرا دل اندر سے ٹوٹ چُکا ہے۔‏

میری ساری ہڈیاں کانپ رہی ہیں۔‏

مَیں یہوواہ اور اُس کی پاک باتوں کی وجہ سے

اُس آدمی کی طرح ہوں جو نشے میں دُھت ہو،‏

ہاں، اُس آدمی کی طرح جسے مے کا نشہ چڑھا ہو

10 کیونکہ ملک زِناکاروں سے بھرا ہے؛‏

لعنت کی وجہ سے ملک سوگ میں ڈوبا ہے

اور ویرانے کی چراگاہیں سُوکھ گئی ہیں۔‏

اُن کی روِش بُری ہے اور وہ اپنے اِختیار کا غلط اِستعمال کرتے ہیں۔‏

11 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏نبی اور کاہن دونوں آلودہ*‏ ہیں۔‏

مَیں نے دیکھا ہے کہ وہ میرے گھر میں بھی بُرائی کرتے ہیں۔“‏

12 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اِس لیے اُن کا راستہ پھسلنا اور تاریک ہو جائے گا؛‏

اُنہیں دھکا دیا جائے گا اور وہ گِر جائیں گے

کیونکہ مَیں حساب کتاب کے سال میں اُن پر مصیبت لاؤں گا۔“‏

13 ‏”‏مَیں نے سامریہ کے نبیوں میں گھناؤنی چیزیں دیکھی ہیں۔‏

وہ بعل کے نام سے پیش‌گوئیاں کرتے ہیں

اور میری قوم اِسرائیل کو گمراہ کرتے ہیں۔‏

14 مَیں نے یروشلم کے نبیوں کو بھیانک کام کرتے دیکھا ہے۔‏

وہ زِناکاری کرتے ہیں اور جھوٹ کی راہ پر چلتے ہیں؛‏

وہ بُرے کام کرنے والوں کی ہمت بڑھاتے ہیں*‏

اور اپنی بُرائی سے باز نہیں آتے۔‏

وہ سب میری نظر میں سدوم کی طرح ہیں

اور اُس کے باشندے عمورہ کی طرح۔“‏

15 اِس لیے فوجوں کا خدا یہوواہ نبیوں کے خلاف یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏دیکھو!‏ مَیں اُنہیں ناگ‌دون*‏ کھلاؤں گا

اور زہریلا پانی پلاؤں گا

کیونکہ یروشلم کے نبیوں کی وجہ سے پورے ملک میں برگشتگی پھیل گئی ہے۔“‏

16 فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏اُن نبیوں کی باتیں نہ سنو جو تمہارے سامنے نبوّت کر رہے ہیں۔‏

وہ تمہیں دھوکا دے رہے ہیں۔‏*‏

جس رُویا کی وہ بات کرتے ہیں، وہ یہوواہ کی طرف سے نہیں ہے

بلکہ اُن کے اپنے دل کی ایجاد ہے۔‏

17 وہ میری توہین کرنے والوں سے بار بار کہتے ہیں:‏

‏”‏یہوواہ نے کہا ہے:‏ ”‏تمہیں امن حاصل ہوگا۔“‏“‏

اور وہ ہر اُس شخص سے جو اپنے ڈھیٹھ دل کی سنتا ہے، کہتے ہیں:‏

‏”‏تُم پر کوئی مصیبت نہیں آئے گی۔“‏

18 کون یہوواہ کے قریبی دوستوں کی جماعت میں کھڑا ہوا ہے

تاکہ اُس کا کلام سنے اور سمجھے؟‏

کس نے اُس کے کلام پر دھیان دیا ہے اور اِسے سنا ہے؟‏

19 دیکھو!‏ یہوواہ کے غضب کی آندھی چلے گی؛‏

یہ طوفانی بگولے کی طرح بُرے لوگوں کے سر پر منڈلائے گی۔‏

20 یہوواہ کا غصہ تب تک نہیں ٹلے گا

جب تک وہ اپنے دل کا اِرادہ پورا نہ کر لے اور اِسے انجام تک نہ پہنچا لے۔‏

تُم آخری دنوں میں*‏ اِس بات کو اچھی طرح سمجھ جاؤ گے۔‏

21 مَیں نے نبیوں کو نہیں بھیجا پھر بھی وہ بھاگ کر گئے۔‏

مَیں نے اُن سے بات نہیں کی پھر بھی اُنہوں نے نبوّت کی۔‏

22 لیکن اگر وہ میرے قریبی دوستوں کی جماعت میں کھڑے ہوتے

تو اُنہوں نے میری قوم کو میری باتیں سنائی ہوتیں

اور اُنہیں اُن کی بُری راہ اور اُن کے بُرے کاموں سے روک دیا ہوتا۔“‏

23 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏کیا مَیں صرف نزدیک ہی خدا ہوں؟ کیا مَیں دُور خدا نہیں ہوں؟“‏

24 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏کیا کوئی شخص کسی ایسی پوشیدہ جگہ میں چھپ سکتا ہے جہاں مَیں اُسے نہ دیکھ سکوں؟“‏

یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏کیا آسمان اور زمین میں کوئی چیز مجھ سے چھپی ہے؟“‏

25 ‏”‏جو نبی میرے نام سے جھوٹی نبوّت کر رہے ہیں، اُنہیں مَیں نے یہ کہتے سنا ہے:‏ ”‏مَیں نے ایک خواب دیکھا تھا!‏ مَیں نے ایک خواب دیکھا تھا!‏“‏ 26 اُن نبیوں کے دل میں یہ کب تک چلتا رہے گا کہ وہ جھوٹی نبوّت کریں؟ وہ ایسے نبی ہیں جن کی باتیں اُن کے فریبی دل کی ایجاد ہیں۔ 27 وہ اِس اِرادے سے ایک دوسرے کو اپنے خواب سناتے ہیں کہ میرے بندے میرا نام بھول جائیں جیسے اُن کے باپ‌دادا بعل کی وجہ سے میرا نام بھول گئے تھے۔ 28 جس نبی نے خواب دیکھا ہے، وہ اپنا خواب سنائے لیکن جس کے پاس میرا کلام ہے، وہ سچائی سے میرا کلام سنائے۔“‏

‏”‏کیا بھوسے اور اناج کا کوئی میل ہے؟“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

29 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏کیا میرا کلام آگ کی طرح نہیں ہے؟ کیا یہ اُس ہتھوڑے کی طرح نہیں ہے جس سے چٹان کو چُور چُور کِیا جاتا ہے؟“‏

30 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اُن نبیوں کے خلاف ہوں جو ایک دوسرے سے میری باتیں چُراتے ہیں۔“‏

31 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اُن نبیوں کے خلاف ہوں جو اپنی زبان سے یہ کہتے ہیں:‏ ”‏خدا فرماتا ہے!‏“‏“‏

32 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اُن نبیوں کے خلاف ہوں جو جھوٹے خواب سناتے ہیں اور جھوٹی باتیں کر کے اور شیخی مار کے میرے بندوں کو گمراہ کرتے ہیں۔“‏

‏”‏لیکن مَیں نے اُنہیں نہیں بھیجا اور نہ ہی اُنہیں حکم دیا۔ اِس لیے وہ اِس قوم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔“‏ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔‏

33 ‏”‏جب یہ لوگ یا کوئی نبی یا کوئی کاہن تُم سے پوچھے:‏ ”‏یہوواہ کا بوجھ*‏ کیا ہے؟“‏ تو تُم اُنہیں یہ جواب دینا:‏ ”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏تُم لوگ بوجھ ہو!‏ اور مَیں تمہیں اُتار کر پھینک دوں گا۔“‏“‏ 34 اگر کوئی نبی یا کاہن یا کوئی شخص یہ کہے:‏ ”‏یہ یہوواہ کا بوجھ*‏ ہے!‏“‏ تو مَیں اُس شخص اور اُس کے گھرانے کو سزا دوں گا۔ 35 تُم میں سے ہر ایک اپنے ساتھی اور اپنے بھائی سے کہہ رہا ہے:‏ ”‏یہوواہ نے کیا جواب دیا ہے؟ یہوواہ نے کیا کہا ہے؟“‏ 36 لیکن تُم آئندہ یہوواہ کے بوجھ*‏ کا ذکر نہ کرنا کیونکہ ہر شخص کی اپنی بات بوجھ*‏ ہے۔ تُم نے ہمارے زندہ خدا، ہاں، فوجوں کے خدا یہوواہ کے کلام کو بدل دیا ہے۔‏

37 تُم نبی سے کہنا:‏ ”‏یہوواہ نے تمہیں کیا جواب دیا ہے؟ یہوواہ نے کیا فرمایا ہے؟ 38 اگر تُم یہ کہتے رہو گے:‏ ”‏یہوواہ کا بوجھ!‏“‏*‏ تو یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏تُم یہ کہتے رہتے ہو:‏ ”‏یہ کلام یہوواہ کا بوجھ*‏ ہے“‏ حالانکہ مَیں نے تُم سے کہا ہے کہ ”‏تُم یہ نہ کہو:‏ ”‏یہوواہ کا بوجھ!‏“‏“‏*‏ 39 اِس لیے دیکھو!‏ مَیں تمہیں، ہاں، تمہیں اور اِس شہر کو اُٹھا کر اپنی حضوری سے دُور پھینک دوں گا جو مَیں نے تمہیں اور تمہارے باپ‌دادا کو دیا تھا۔ 40 مَیں تُم پر ہمیشہ کے لیے رُسوائی اور شرمندگی لاؤں گا جسے کبھی بُھلایا نہیں جائے گا۔“‏“‏“‏

24 پھر یہوواہ نے مجھے اِنجیر کی دو ٹوکریاں دِکھائیں جو یہوواہ کی ہیکل کے سامنے پڑی تھیں۔ یہ اُس واقعے کے بعد ہوا جب بابل کا بادشاہ نبوکدنضر*‏ یہویقیم کے بیٹے یکونیاہ*‏ کو جو یہوداہ کا بادشاہ تھا، یہوداہ کے حاکموں، کاریگروں اور دھات‌گروں*‏ کے ساتھ قیدی بنا کر یروشلم سے بابل لے گیا۔ 2 پہلی ٹوکری میں بہت عمدہ اِنجیر تھے جیسے پہلی فصل کے اِنجیر ہوں لیکن دوسری ٹوکری میں بہت خراب اِنجیر تھے، اِتنے خراب کہ اُنہیں کھایا نہیں جا سکتا تھا۔‏

3 پھر یہوواہ نے مجھ سے پوچھا:‏ ”‏یرمیاہ!‏ تمہیں کیا نظر آ رہا ہے؟“‏ اِس پر مَیں نے کہا:‏ ”‏اِنجیر۔ عمدہ اِنجیر بہت عمدہ ہیں اور خراب اِنجیر بہت خراب ہیں، اِتنے خراب کہ اُنہیں کھایا نہیں جا سکتا۔“‏

4 پھر یہوواہ کا یہ کلام مجھ تک پہنچا:‏ 5 ‏”‏اِسرائیل کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اِن عمدہ اِنجیروں کی طرح مَیں یہوداہ کے اُن لوگوں کو عمدہ خیال کروں گا جنہیں مَیں نے قیدیوں کے طور پر اِس ملک سے کسدیوں کے ملک میں بھیج دیا تھا۔ 6 مَیں اُن کی بھلائی کے لیے اُن پر نگاہ رکھوں گا اور اُنہیں اِس ملک میں واپس لاؤں گا۔ مَیں اُنہیں بناؤں گا اور ڈھاؤں گا نہیں؛ مَیں اُنہیں لگاؤں گا اور اُکھاڑوں گا نہیں۔ 7 مَیں اُنہیں ایسا دل عطا کروں گا کہ وہ مجھے جانیں کہ مَیں یہوواہ ہوں۔ وہ میری قوم بن جائیں گے اور مَیں اُن کا خدا کیونکہ وہ پورے دل سے میرے پاس لوٹ آئیں گے۔‏

8 لیکن جہاں تک خراب اِنجیروں کی بات ہے جو اِتنے خراب ہیں کہ اُنہیں کھایا نہیں جا سکتا، یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ، اُس کے حاکموں، اِس ملک میں یروشلم کے لوگوں کے باقی بچے ہوئے حصے اور ملک مصر میں رہنے والوں کو ایسا ہی خیال کروں گا۔ 9 مَیں اُنہیں زمین کی سب بادشاہتوں کے لیے دہشت اور مصیبت کی علامت بنا دوں گا اور اُنہیں اُن ساری جگہوں میں جہاں مَیں اُنہیں تتربتر کروں گا، رُسوائی کی علامت، کہاوت، مذاق اور لعنت بنا دوں گا۔ 10 مَیں تب تک اُن کے خلاف تلوار، قحط اور وبا*‏ بھیجوں گا جب تک وہ اُس ملک سے فنا نہیں ہو جاتے جو مَیں نے اُنہیں اور اُن کے باپ‌دادا کو دیا تھا۔“‏“‏“‏

25 یہوداہ کے بادشاہ اور یوسیاہ کے بیٹے یہویقیم کی حکمرانی کے چوتھے سال میں جو کہ بابل کے بادشاہ نبوکدنضر*‏ کی حکمرانی کا پہلا سال تھا، یرمیاہ کو یہوداہ کے سب لوگوں کے بارے میں ایک پیغام ملا۔ 2 یرمیاہ نبی نے یہوداہ کے سب لوگوں اور یروشلم کے سب باشندوں کے بارے میں *‏یہ کہا:‏

3 ‏”‏یہوداہ کے بادشاہ اور امون کے بیٹے یوسیاہ کی حکمرانی کے 13ویں سال سے آج تک یعنی اِن 23 سالوں میں یہوواہ کا کلام مجھ تک پہنچتا رہا اور مَیں بار بار*‏ آپ کو بتاتا رہا لیکن آپ نے میری نہیں سنی۔ 4 یہوواہ اپنے سب بندوں یعنی نبیوں کو بار بار*‏ آپ کے پاس بھیجتا رہا لیکن آپ نے اُن کی نہیں سنی اور اُن کی بات پر کان نہیں لگایا۔ 5 وہ کہتے رہے:‏ ”‏مہربانی سے تُم میں سے ہر ایک اپنی بُری راہوں اور اپنے بُرے کاموں کو چھوڑ دے۔ پھر تُم اُس ملک میں ایک لمبے عرصے تک بسے رہو گے جو یہوواہ نے بہت پہلے تمہیں اور تمہارے باپ‌دادا کو دیا تھا۔ 6 دوسرے خداؤں کی پرستش اور خدمت نہ کرو اور اُن کے سامنے نہ جھکو اور اِس طرح اپنے ہاتھوں کے کام سے مجھے غصہ نہ دِلاؤ ورنہ مَیں تُم پر مصیبت نازل کروں گا۔“‏

7 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏لیکن تُم نے میری نہیں سنی بلکہ تُم اپنے ہاتھوں کے کام سے مجھے غصہ دِلاتے رہے اور اِس طرح خود پر تباہی لائے۔“‏

8 فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏”‏تُم نے میری بات نہیں مانی 9 اِس لیے مَیں شمال کے سب خاندانوں کو بُلا رہا ہوں۔ مَیں اپنے خادم بابل کے بادشاہ نبوکدنضر*‏ کو بُلا رہا ہوں۔ مَیں اُن لوگوں کو اِس ملک اور اِس کے سب باشندوں اور آس‌پاس کی سب قوموں پر حملہ کرنے کے لیے لاؤں گا۔ مَیں اُنہیں تباہ کر دوں گا اور دہشت کی علامت اور ایک ایسی چیز بنا دوں گا جسے دیکھ کر لوگ سیٹی بجائیں گے۔ مَیں اُنہیں ہمیشہ کے لیے اُجاڑ دوں گا۔“‏ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔ 10 ‏”‏مَیں اُن کے بیچ سے خوشی اور جشن کی آواز، دُلہے اور دُلہن کی آواز، چکی کی آواز اور چراغ کی روشنی ختم کر دوں گا۔ 11 یہ پورا ملک کھنڈر اور دہشت کی علامت بن جائے گا اور اِن قوموں کو 70 سال تک بابل کے بادشاہ کی خدمت کرنی پڑے گی۔“‏“‏

12 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏لیکن جب 70 سال پورے ہو جائیں گے تو مَیں بابل کے بادشاہ اور اُس قوم سے اُن کے گُناہ کا حساب لوں گا*‏ اور مَیں کسدیوں کے ملک کو ہمیشہ کے لیے اُجاڑ دوں گا۔ 13 مَیں اُس ملک پر وہ سب کچھ نازل کروں گا جو مَیں نے اُس کے خلاف کہا ہے، ہاں، اِس کتاب میں لکھی سب باتیں جن کی یرمیاہ نے سب قوموں کے خلاف پیش‌گوئی کی ہے 14 کیونکہ بہت سی قومیں اور بڑے بڑے بادشاہ اُنہیں غلام بنائیں گے اور مَیں اُنہیں اُن کی حرکتوں اور اُن کے ہاتھوں کے کام کے مطابق بدلہ دوں گا۔“‏“‏

15 اِسرائیل کے خدا یہوواہ نے مجھ سے کہا:‏ ”‏میرے ہاتھ سے غضب کی مے کا یہ پیالہ لو اور اُن سب قوموں کو پلاؤ جن کے پاس مَیں تمہیں بھیجوں گا۔ 16 وہ اِسے پئیں گی اور لڑکھڑائیں گی اور پاگلوں جیسی حرکتیں کریں گی کیونکہ مَیں اُن کے بیچ تلوار بھیجوں گا۔“‏

17 اِس لیے مَیں نے یہوواہ کے ہاتھ سے پیالہ لیا اور اُن سب قوموں کو پلایا جن کے پاس یہوواہ نے مجھے بھیجا۔ 18 مَیں نے یروشلم اور یہوداہ کے شہروں سے، ہاں، اُس کے بادشاہوں اور حاکموں سے شروع کِیا تاکہ وہ کھنڈر، دہشت کی علامت، لعنت اور ایک ایسی چیز بن جائیں جسے دیکھ کر لوگ سیٹی بجائیں جیسا کہ آج کے دن نظر آ رہا ہے۔ 19 اِس کے بعد مصر کا بادشاہ فِرعون اور اُس کے خادم، حاکم اور اُس کے سب لوگ 20 اور اُن کی ساری ملی‌جُلی آبادیاں، ملک عُوض کے سب بادشاہ، فِلِستیوں کے ملک کے سب بادشاہ، اسقلون، غزہ اور عِقرون اور اشدود کے بچے ہوئے لوگ؛ 21 ادوم، موآب اور عمونی؛ 22 صُور کے سب بادشاہ، صیدا کے سب بادشاہ اور سمندر کے جزیروں کے بادشاہ؛ 23 دِدان، تیما، بُوز اور وہ سب جن کی قلموں*‏ کے بال کٹے ہوئے ہیں؛ 24 عربیوں کے سب بادشاہ اور ویرانے میں بسنے والی ملی‌جُلی آبادیوں کے سب بادشاہ؛ 25 زِمری کے سب بادشاہ، عِیلام کے سب بادشاہ اور مادیوں کے سب بادشاہ 26 اور شمال کے دُور اور نزدیک کے سب بادشاہ ایک ایک کر کے اور زمین کی سطح پر موجود دوسری سب بادشاہتیں پئیں گی اور اُن کے بعد شیشک*‏ کا بادشاہ پیے گا۔‏

27 ‏”‏تُم اُن سے کہنا:‏ ”‏فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، یہ فرماتا ہے:‏ ”‏پیو اور نشے میں دُھت ہو جاؤ اور اُلٹی کرو اور گِر جاؤ تاکہ تُم اُٹھ نہ سکو کیونکہ مَیں تمہارے بیچ تلوار بھیج رہا ہوں۔“‏“‏ 28 اور اگر وہ تمہارے ہاتھ سے پیالہ لے کر پینے سے اِنکار کر دیں تو اُن سے کہنا:‏ ”‏فوجوں کے خدا یہوواہ نے یہ فرمایا ہے:‏ ”‏تمہیں اِسے پینا ہوگا!‏ 29 کیونکہ دیکھو!‏ اگر مَیں پہلے اُس شہر پر آفت لا رہا ہوں جو میرے نام سے کہلاتا ہے تو کیا تُم بے‌سزا رہو گے؟“‏“‏

‏”‏تُم بے‌سزا نہیں رہو گے کیونکہ مَیں زمین کے سب باشندوں کے خلاف تلوار بھیج رہا ہوں۔“‏ یہ بات فوجوں کا خدا یہوواہ فرما رہا ہے۔‏

30 تُم اُن کے سامنے اِن سب باتوں کی پیش‌گوئی کرنا اور اُن سے کہنا:‏

‏”‏یہوواہ بلندی سے گرجے گا؛‏

وہ اپنی مُقدس رہائش‌گاہ سے اپنی آواز سنوائے گا۔‏

وہ اپنی زمینی رہائش‌گاہ کے خلاف زور سے گرجے گا۔‏

وہ انگور روندنے والوں کی طرح چلّاتے ہوئے

زمین کے سب باشندوں کے خلاف فتح کا گیت گائے گا۔“‏

31 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏زمین کے کونے کونے تک ایک شور سنائی دے گا

کیونکہ یہوواہ کا قوموں کے ساتھ ایک مُقدمہ ہے۔‏

وہ خود سب اِنسانوں کی عدالت کرے گا

اور بُرے لوگوں کو تلوار کے حوالے کرے گا۔“‏

32 فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏دیکھو!‏ ایک کے بعد ایک قوم پر تباہی آ رہی ہے۔‏

زمین کے دُوردراز علاقوں سے ایک تیز طوفان کو چھوڑا جائے گا۔‏

33 اُس دن یہوواہ کے ہاتھ سے ہلاک ہوئے لوگ زمین کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پڑے ہوں گے۔ نہ تو اُن پر ماتم کِیا جائے گا، نہ اُنہیں اِکٹھا کِیا جائے گا اور نہ دفنایا جائے گا۔ وہ زمین کی سطح پر کھاد کی طرح بن جائیں گے۔“‏

34 چرواہو!‏ دھاڑیں مارمار کر رو اور چلّاؤ!‏

گلّے کی نمایاں بھیڑو!‏ راکھ میں لیٹو

کیونکہ تمہیں ذبح کرنے اور تتربتر کرنے کا وقت آ گیا ہے

اور تُم قیمتی برتن کی طرح گِر کر چُور چُور جاؤ گے۔‏

35 چرواہوں کے پاس بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہے

اور گلّے کی نمایاں بھیڑوں کے پاس بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔‏

36 چرواہوں کا رونا دھونا سنو

اور گلّے کی نمایاں بھیڑوں کا ماتم سنو

کیونکہ یہوواہ اُن کی چراگاہ کو تباہ کر رہا ہے۔‏

37 یہوواہ کے بھڑکتے ہوئے غصے کی وجہ سے

پُرسکون رہائش‌گاہیں ویران ہو گئی ہیں۔‏

38 اُس نے جوان شیر*‏ کی طرح اپنی ماند چھوڑ دی ہے

کیونکہ اُن کا ملک اُس کے بھڑکتے ہوئے غصے

اور بے‌رحم تلوار کی وجہ سے دہشت کی علامت بن گیا ہے۔“‏

26 یہوداہ کے بادشاہ اور یوسیاہ کے بیٹے یہویقیم کی حکمرانی کے شروع میں یہوواہ کا یہ کلام یرمیاہ تک پہنچا:‏ 2 ‏”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏یہوواہ کے گھر کے صحن میں کھڑے ہو اور یہوداہ کے شہروں سے آنے والے اُن سب لوگوں کے بارے میں*‏ بات کرو جو عبادت*‏ کے لیے یہوواہ کے گھر آ رہے ہیں۔ اُنہیں وہ سب کچھ بتاؤ جس کا مَیں نے تمہیں حکم دیا ہے؛ ایک بھی بات نہ چھوڑنا۔ 3 شاید وہ سنیں اور اُن میں سے ہر ایک اپنی بُری راہ چھوڑ دے اور مَیں اپنی سوچ بدل لوں*‏ اور اُن پر وہ آفت نہ لاؤں جسے مَیں نے اُن کے بُرے کاموں کی وجہ سے اُن پر لانے کا اِرادہ کِیا ہے۔ 4 اُن سے کہنا:‏ ”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اگر تُم میری بات نہیں مانو گے اور میری اُس شریعت*‏ پر عمل نہیں کرو گے جو مَیں نے تمہیں دی ہے 5 اور میرے اُن بندوں یعنی نبیوں کی نہیں سنو گے جنہیں مَیں بار بار*‏ تمہارے پاس بھیج رہا ہوں اور جن کی تُم نے نہیں سنی ہے 6 تو مَیں اِس گھر کو سیلا کی طرح بنا دوں گا اور اِس شہر کو زمین کی سب قوموں کے لیے لعنت کی علامت بنا دوں گا۔“‏“‏“‏“‏

7 کاہنوں، نبیوں اور سب لوگوں نے یرمیاہ کو یہوواہ کے گھر میں یہ باتیں کہتے سنا۔ 8 جب یرمیاہ نے وہ ساری باتیں کہہ لیں جنہیں سب لوگوں کو بتانے کا حکم یہوواہ نے اُنہیں دیا تھا تو کاہنوں، نبیوں اور سب لوگوں نے اُنہیں پکڑ لیا اور کہا:‏ ”‏تُم ضرور مرو گے۔ 9 تُم نے یہوواہ کے نام سے نبوّت کرتے ہوئے یہ کیوں کہا:‏ ”‏یہ گھر سیلا کی طرح بن جائے گا اور یہ شہر تباہ اور غیرآباد ہو جائے گا“‏؟“‏ اور سب لوگ یہوواہ کے گھر میں یرمیاہ کے اِردگِرد جمع ہو گئے۔‏

10 جب یہوداہ کے حاکموں نے یہ باتیں سنیں تو وہ بادشاہ کے محل سے یہوواہ کے گھر آئے اور یہوواہ کے گھر کے نئے دروازے کے پاس بیٹھ گئے۔ 11 کاہن اور نبی حاکموں اور سب لوگوں سے کہنے لگے:‏ ”‏یہ آدمی سزائے‌موت کے لائق ہے کیونکہ اِس نے اِس شہر کے خلاف نبوّت کی ہے جیسا کہ آپ نے اپنے کانوں سے سنا ہے۔“‏

12 اِس پر یرمیاہ نے سب حاکموں اور سب لوگوں سے کہا:‏ ”‏آپ نے میرے مُنہ سے اِس گھر اور اِس شہر کے خلاف جو باتیں سنی ہیں، اُن کے بارے میں نبوّت کرنے کے لیے مجھے یہوواہ نے بھیجا ہے۔ 13 اِس لیے اب اپنی روِش اور اپنے کاموں کو سدھاریں اور اپنے خدا یہوواہ کی بات مانیں۔ تب یہوواہ اپنی سوچ بدل لے گا*‏ اور آپ پر وہ آفت نازل نہیں کرے گا جو اُس نے کہی تھی۔ 14 لیکن جہاں تک میری بات ہے تو مَیں آپ کے ہاتھ میں ہوں۔ آپ کو جو اچھا اور مناسب لگے، آپ میرے ساتھ کر سکتے ہیں۔ 15 مگر ایک بات یاد رکھیں کہ اگر آپ مجھے مار ڈالیں گے تو آپ، یہ شہر اور اِس کے باشندے ایک بے‌قصور کے خون کے مُجرم ہوں گے کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ یہوواہ نے مجھے وہ سب باتیں کہنے کے لیے آپ کے پاس بھیجا ہے جو آپ نے سنی ہیں۔“‏

16 اِس پر حاکموں اور سب لوگوں نے کاہنوں اور نبیوں سے کہا:‏ ”‏یہ آدمی سزائے‌موت کے لائق نہیں ہے کیونکہ اِس نے ہم سے جو کچھ کہا ہے، وہ ہمارے خدا یہوواہ کے نام سے کہا ہے۔“‏

17 اِس کے علاوہ ملک کے کچھ بزرگ کھڑے ہوئے اور لوگوں کی پوری جماعت سے کہنے لگے:‏ 18 ‏”‏یہوداہ کے بادشاہ حِزقیاہ کے زمانے میں مورِسَت سے تعلق رکھنے والے میکاہ نے نبوّت کی اور یہوداہ کے سب لوگوں سے کہا:‏ ”‏فوجوں کا خدا یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏صِیّون میں ایک کھیت کی طرح ہل چلایا جائے گا؛‏

یروشلم کھنڈر بن جائے گا

اور ہیکل*‏ کا پہاڑ جنگل کی اُونچی جگہوں*‏ کی طرح بن جائے گا۔“‏“‏

19 کیا یہوداہ کے بادشاہ حِزقیاہ اور سارے یہوداہ نے اُنہیں مار ڈالا؟ کیا حِزقیاہ نے یہوواہ کا خوف نہیں رکھا اور یہوواہ سے مہربانی کی اِلتجا نہیں کی جس کی وجہ سے یہوواہ نے اپنی سوچ بدل لی*‏ اور اُن لوگوں پر وہ آفت نہیں لایا جو اُس نے کہی تھی؟ لہٰذا اگر ہم ایسا کریں گے تو ہم اپنے اُوپر*‏ ایک بہت بڑی آفت لے آئیں گے۔‏

20 ایک اَور آدمی تھے جنہوں نے یہوواہ کے نام سے نبوّت کی۔ وہ سِمعیاہ کے بیٹے اُوریاہ تھے جن کا تعلق قِریت‌یعریم سے تھا۔ اُنہوں نے اِس شہر اور اِس ملک کے خلاف نبوّت کرتے وقت ویسی ہی باتیں کہیں جیسی یرمیاہ نے کہی ہیں۔ 21 جب بادشاہ یہویقیم، اُس کے سارے طاقت‌ور آدمیوں اور اُس کے سب حاکموں نے اُن کی باتیں سنیں تو بادشاہ اُنہیں مار ڈالنے پر تُل گیا۔ جب اُوریاہ کو اِس بارے میں پتہ چلا تو وہ ایک دم سے ڈر گئے اور مصر بھاگ گئے۔ 22 پھر بادشاہ یہویقیم نے عکبور کے بیٹے اِلناتن کو اور اُس کے ساتھ کچھ اَور آدمیوں کو مصر بھیجا۔ 23 وہ اُوریاہ کو مصر سے لائے اور بادشاہ یہویقیم کے سامنے لے گئے جس نے اُنہیں تلوار سے مار ڈالا اور اُن کی لاش کو عام لوگوں کے قبرستان میں پھینک دیا۔“‏

24 لیکن سافن کے بیٹے اخی‌قام نے یرمیاہ کا ساتھ دیا۔ اِس طرح اُنہیں مار ڈالنے کے لیے لوگوں کے حوالے نہیں کِیا گیا۔‏

27 یہوداہ کے بادشاہ اور یوسیاہ کے بیٹے یہویقیم کی حکمرانی کے شروع میں یہوواہ کا یہ کلام یرمیاہ تک پہنچا:‏ 2 ‏”‏یہوواہ نے مجھ سے کہا ہے:‏ ”‏اپنے لیے جُوا اور پٹیاں بناؤ اور اُنہیں اپنی گردن پر ڈالو۔ 3 پھر اُنہیں اُن قاصدوں کے ہاتھ جو یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ کے پاس یروشلم آئے ہیں، ادوم کے بادشاہ، موآب کے بادشاہ، عمونیوں کے بادشاہ، صُور کے بادشاہ اور صیدا کے بادشاہ کے پاس بھیجو۔ 4 اُنہیں اُن کے مالکوں کے لیے یہ حکم دے کر بھیجو:‏

‏”‏فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے کہ تُم اپنے مالکوں سے یہ کہنا:‏ 5 ‏”‏مَیں ہی ہوں جس نے اپنی عظیم طاقت اور اپنے زورآور بازو*‏ سے زمین، اِنسان اور زمین کی سطح پر موجود جانور بنائے ہیں اور مَیں اِسے جسے چاہتا ہوں، دیتا ہوں۔ 6 اب مَیں نے یہ سارے ملک اپنے خادم بابل کے بادشاہ نبوکدنضر کے حوالے کر دیے ہیں، یہاں تک کہ میدان کے جنگلی جانور بھی اُسے دے دیے ہیں تاکہ وہ اُس کی خدمت کریں۔ 7 سب قومیں اُس کی، اُس کے بیٹے کی اور اُس کے پوتے کی خدمت کریں گی جب تک کہ اُس کے اپنے ملک کی باری نہیں آ جاتی۔ تب بہت سی قومیں اور بڑے بڑے بادشاہ اُسے اپنا غلام بنا لیں گے۔“‏

8 ‏”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اگر کوئی قوم یا بادشاہت بابل کے بادشاہ نبوکدنضر کی خدمت کرنے اور بابل کے بادشاہ کا جُوا اپنی گردن پر رکھنے سے اِنکار کرے گی تو مَیں اُس قوم کو تلوار، قحط اور وبا*‏ سے تب تک سزا دوں گا جب تک مَیں اُسے اُس کے ہاتھ سے ختم نہیں کروا دیتا۔“‏

9 ‏”‏اِس لیے اپنے نبیوں، غیب‌دانوں، خواب دیکھنے والوں، جادوگروں اور عاملوں کی بات نہ سنو جو تُم سے کہہ رہے ہیں:‏ ”‏آپ بابل کے بادشاہ کی خدمت نہیں کریں گے۔“‏ 10 وہ تمہارے سامنے جھوٹی نبوّت کر رہے ہیں۔ اِس لیے تمہیں تمہارے ملک سے دُور لے جایا جائے گا اور مَیں تمہیں تتربتر کر دوں گا اور تُم فنا ہو جاؤ گے۔‏

11 لیکن جو قوم بابل کے بادشاہ کا جُوا اپنی گردن پر رکھے گی اور اُس کی خدمت کرے گی، مَیں اُسے اُس کے ملک میں رہنے*‏ دوں گا تاکہ وہ اُس میں بسے اور کھیتی‌باڑی کرے۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔“‏“‏“‏

12 مَیں نے یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ سے بھی یہی کہا کہ ”‏بابل کے بادشاہ کا جُوا اپنی گردن پر رکھ لو اور اُس کی اور اُس کی قوم کی خدمت کرو پھر تُم زندہ رہو گے۔ 13 تُم اور تمہاری قوم تلوار، قحط اور وبا سے کیوں مرے کیونکہ یہوواہ نے اُس قوم کے بارے میں یہی فرمایا ہے جو بابل کے بادشاہ کی خدمت نہیں کرے گی؟ 14 اُن نبیوں کی باتیں نہ سنو جو تُم سے کہہ رہے ہیں:‏ ”‏آپ بابل کے بادشاہ کی خدمت نہیں کریں گے“‏ کیونکہ وہ تمہارے سامنے جھوٹی نبوّت کر رہے ہیں۔‏

15 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں نے اُنہیں نہیں بھیجا لیکن وہ میرے نام سے جھوٹی نبوّت کر رہے ہیں اور اِس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ مَیں تمہیں تتربتر کر دوں گا اور تُم فنا ہو جاؤ گے، تُم بھی اور وہ نبی بھی جو تمہارے سامنے نبوّت کر رہے ہیں۔“‏“‏

16 کاہنوں اور اِن سب لوگوں سے مَیں نے کہا:‏ ”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اپنے نبیوں کی باتیں نہ سنو جو تمہارے سامنے نبوّت کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں:‏ ”‏دیکھو!‏ یہوواہ کے گھر کی چیزیں بہت جلد بابل سے واپس لائی جائیں گی“‏ کیونکہ وہ تمہارے سامنے جھوٹی نبوّت کر رہے ہیں۔ 17 اُن کی بات نہ سنو۔ بابل کے بادشاہ کی خدمت کرو اور تُم زندہ رہو گے ورنہ یہ شہر کھنڈر بن جائے گا۔ 18 لیکن اگر وہ واقعی نبی ہیں اور یہوواہ کا کلام سنا رہے ہیں تو وہ فوجوں کے خدا یہوواہ سے مِنت کریں کہ یہوواہ کے گھر، یہوداہ کے بادشاہ کے محل اور یروشلم میں موجود باقی چیزیں بابل نہ لے جائی جائیں۔“‏

19 فوجوں کے خدا یہوواہ نے ستونوں، بڑے حوض،‏*‏ ہتھ‌گاڑیوں اور اِس شہر میں بچی اُن باقی چیزوں کے بارے میں ایک پیغام دیا ہے 20 جنہیں بابل کا بادشاہ نبوکدنضر اُس وقت نہیں لے کر گیا تھا جب وہ یہوداہ کے بادشاہ اور یہویقیم کے بیٹے یکونیاہ کو یہوداہ اور یروشلم کے سارے نوابوں کے ساتھ قیدی بنا کر یروشلم سے بابل لے گیا تھا، 21 ہاں، فوجوں کے خدا یہوواہ نے جو اِسرائیل کا خدا ہے، یہوواہ کے گھر، یہوداہ کے بادشاہ کے محل اور یروشلم میں باقی بچی ہوئی چیزوں کے بارے میں یہ فرمایا ہے:‏ 22 ‏”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اُنہیں بابل لے جایا جائے گا اور وہ تب تک وہاں رہیں گی جب تک مَیں اُن پر توجہ نہیں فرماتا۔ پھر مَیں اُنہیں واپس لاؤں گا اور اُنہیں اِس جگہ پر بحال کروں گا۔“‏“‏“‏

28 اُسی سال میں یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ کی حکمرانی کے شروع میں یعنی چوتھے سال کے پانچویں مہینے میں جِبعون سے تعلق رکھنے والے عزّور کے بیٹے حنانیاہ نبی نے یہوواہ کے گھر میں کاہنوں اور سب لوگوں کی موجودگی میں مجھ سے کہا:‏ 2 ‏”‏فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں بابل کے بادشاہ کا جُوا توڑ دوں گا۔ 3 دو سال کے اندر اندر مَیں یہوواہ کے گھر کی وہ سب چیزیں اِس جگہ واپس لاؤں گا جو بابل کا بادشاہ نبوکدنضر اِس جگہ سے بابل لے گیا تھا۔“‏“‏ 4 ‏”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں یہوداہ کے بادشاہ اور یہویقیم کے بیٹے یکونیاہ کو اور یہوداہ کے اُن سب لوگوں کو اِس جگہ واپس لاؤں گا جنہیں قیدی بنا کر بابل لے جایا گیا ہے کیونکہ مَیں بابل کے بادشاہ کا جُوا توڑ دوں گا۔“‏“‏

5 پھر یرمیاہ نبی نے یہوواہ کے گھر میں کھڑے کاہنوں اور سب لوگوں کے سامنے حنانیاہ نبی سے بات کی۔ 6 یرمیاہ نبی نے کہا:‏ ”‏آمین!‏*‏ یہوواہ ایسا ہی کرے!‏ یہوواہ آپ کی اُن باتوں کے مطابق جن کی آپ نے پیش‌گوئی کی ہے، یہوواہ کے گھر کی چیزوں اور اُن سب لوگوں کو بابل سے اِس جگہ واپس لائے جنہیں قیدی بنا کر لے جایا گیا ہے!‏ 7 لیکن مہربانی سے میرا یہ پیغام سنیں جو مَیں آپ کو اور اِن سب لوگوں کو سنا رہا ہوں۔ 8 مجھ سے اور آپ سے پہلے کے نبی کافی عرصہ پہلے بہت سے ملکوں اور عظیم بادشاہتوں کے بارے میں یہ پیش‌گوئی کرتے تھے کہ اُنہیں جنگ، آفت اور وبا*‏ کا سامنا ہوگا۔ 9 اگر ایک نبی امن کے بارے میں پیش‌گوئی کرے اور اُس نبی کی بات سچی ثابت ہو جائے تو یہ پتہ چل جائے گا کہ اُس نبی کو واقعی یہوواہ نے بھیجا ہے۔“‏

10 اِس پر حنانیاہ نبی نے یرمیاہ نبی کی گردن سے جُوا اُتارا اور اُسے توڑ دیا۔ 11 پھر حنانیاہ نے سب لوگو ں کی موجودگی میں کہا:‏ ”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اِسی طرح مَیں دو سال کے اندر اندر بابل کے بادشاہ نبوکدنضر کا جُوا سب قوموں کی گردن سے اُتار کر توڑ دوں گا۔“‏“‏ تب یرمیاہ نبی وہاں سے چلے گئے۔‏

12 جب حنانیاہ نبی نے یرمیاہ نبی کی گردن سے جُوا اُتار کر توڑا تو اُس کے بعد یرمیاہ تک یہوواہ کا یہ پیغام پہنچا:‏ 13 ‏”‏جاؤ اور حنانیاہ سے کہو:‏ ”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏تُم نے لکڑی کا جُوا توڑا ہے مگر اِس کی جگہ تُم لوہے کا جُوا بناؤ گے“‏ 14 کیونکہ فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اِن سب قوموں کی گردن پر لوہے کا جُوا رکھوں گا تاکہ وہ بابل کے بادشاہ نبوکدنضر کی خدمت کریں اور اُنہیں اُس کی خدمت کرنی پڑے گی۔ مَیں میدان کے جنگلی جانور تک اُسے دے دوں گا۔“‏“‏“‏

15 پھر یرمیاہ نبی نے حنانیاہ نبی سے کہا:‏ ”‏حنانیاہ!‏ مہربانی سے میری بات سنیں۔ یہوواہ نے آپ کو نہیں بھیجا ہے بلکہ آپ نے اِن لوگوں کو ایک جھوٹ پر یقین دِلایا ہے۔ 16 اِس لیے یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏ ”‏دیکھو!‏ مَیں تمہیں زمین سے مٹا دوں گا۔ اِس سال تُم مر جاؤ گے کیونکہ تُم نے یہوواہ کے خلاف بغاوت کو ہوا دی ہے۔“‏“‏

17 لہٰذا حنانیاہ نبی اُس سال ساتویں مہینے میں مر گیا۔‏

29 یہ یروشلم سے لکھے گئے اُس خط کے الفاظ ہیں جو یرمیاہ نبی نے قیدی بنا کر لے جائے گئے باقی بزرگوں، کاہنوں، نبیوں اور اُن سب لوگوں کے نام لکھا جنہیں نبوکدنضر قیدی بنا کر یروشلم سے بابل لے گیا تھا۔ 2 اُنہوں نے یہ خط بادشاہ یکونیاہ، ملکہ،‏*‏ درباریوں، یہوداہ اور یروشلم کے حاکموں، کاریگروں اور دھات‌گروں*‏ کے یروشلم سے جانے کے بعد لکھا۔ 3 اُنہوں نے یہ خط سافن کے بیٹے اِلعاسہ اور خِلقیاہ کے بیٹے جمریاہ کے ہاتھ بھیجا جنہیں یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ نے بابل کے بادشاہ نبوکدنضر کے پاس بابل بھیجا۔ اِس میں لکھا تھا:‏

4 ‏”‏فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، اُن سب قیدیوں سے جنہیں اُس نے یروشلم سے بابل کی قید میں بھیجا ہے، کہتا ہے:‏ 5 ‏”‏گھر بناؤ اور اُن میں رہو۔ باغ لگاؤ اور اُن کا پھل کھاؤ۔ 6 شادی کرو اور بیٹے بیٹیاں پیدا کرو۔ اپنے بیٹے بیٹیوں کی شادی کرو تاکہ اُن کے بھی بیٹے بیٹیاں ہوں۔ وہاں تعداد میں خوب بڑھ جاؤ اور اپنی تعداد کم نہ ہونے دو۔ 7 اُس شہر کی سلامتی چاہو جس میں مَیں نے تمہیں قیدی بنا کر بھیجا ہے اور اُس کی خاطر یہوواہ سے دُعا کرو کیونکہ اُس کی سلامتی میں تمہاری سلامتی ہے۔ 8 فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏ ”‏اپنے نبیوں اور اپنے غیب‌دانوں سے دھوکا نہ کھاؤ جو تمہارے بیچ موجود ہیں اور اُن کے وہ خواب نہ سنو جو وہ دیکھتے ہیں 9 کیونکہ ”‏وہ میرے نام سے جھوٹی نبوّت کر رہے ہیں۔ مَیں نے اُنہیں نہیں بھیجا۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔“‏“‏“‏

10 ‏”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏جب بابل میں 70 سال پورے ہو جائیں گے تو مَیں تُم پر دھیان دوں گا اور تمہیں اِس جگہ واپس لا کر اپنا وعدہ پورا کروں گا۔“‏

11 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں تمہارے بارے میں اپنے خیالات سے اچھی طرح واقف ہوں۔ یہ خیالات تمہیں امن‌وسکون بخشنے کے ہیں، تُم پر آفت لانے کے نہیں تاکہ مَیں تمہیں ایک اچھا مستقبل اور ایک اُمید دوں۔ 12 تُم مجھے پکارو گے اور آ کر مجھ سے دُعا کرو گے اور مَیں تمہاری سنوں گا۔“‏

13 ‏”‏تُم مجھے ڈھونڈو گے اور مَیں تمہیں مل جاؤں گا کیونکہ تُم پورے دل سے میری تلاش کرو گے۔ 14 مَیں تمہیں مل جاؤں گا۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔ یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں تمہارے اُن لوگوں کو اِکٹھا کروں گا جو قید میں ہیں اور تمہیں سب قوموں اور اُن جگہوں سے جمع کروں گا جہاں مَیں نے تمہیں تتربتر کِیا ہے۔ مَیں تمہیں اُس جگہ واپس لاؤں گا جہاں سے مَیں نے تمہیں قید میں بھیجا تھا۔“‏

15 لیکن تُم نے کہا ہے:‏ ”‏یہوواہ نے ہمارے لیے بابل میں نبی مقرر کیے ہیں۔“‏

16 یہوواہ داؤد کے تخت پر بیٹھنے والے بادشاہ اور اِس شہر میں رہنے والے سب لوگوں سے، ہاں، تمہارے بھائیوں سے جو تمہارے ساتھ قید میں نہیں گئے، یہ کہتا ہے:‏ 17 ‏”‏فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اُن کے خلاف تلوار، قحط اور وبا*‏ بھیج رہا ہوں اور مَیں اُنہیں گلے سڑے*‏ اِنجیروں کی طرح بنا دوں گا جو اِتنے خراب ہوں گے کہ اُنہیں کھایا نہیں جا سکے گا۔“‏“‏

18 ‏”‏مَیں تلوار، قحط اور وبا سے اُن کا پیچھا کروں گا۔ مَیں اُنہیں زمین کی سب بادشاہتوں کے لیے دہشت کی علامت بنا دوں گا اور اُن سب قوموں کے بیچ جن میں مَیں اُنہیں تتربتر کروں گا، لعنت، رُسوائی کی علامت اور ایک ایسی چیز بنا دوں گا جسے دیکھ کر لوگ حیران ہوں گے اور سیٹی بجائیں گے 19 کیونکہ اُنہوں نے میری وہ باتیں نہیں سنیں جو مَیں نے اپنے بندوں یعنی نبیوں کو باربار*‏ اُن کے پاس بھیج کر اُن تک پہنچائیں۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏لیکن تُم نے میری نہیں سنی۔“‏

20 اِس لیے قید میں موجود سب لوگو جنہیں مَیں نے یروشلم سے بابل بھیج دیا ہے، یہوواہ کا کلام سنو۔ 21 فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، قولایاہ کے بیٹے اخی‌اب اور معسیاہ کے بیٹے صِدقیاہ کے بارے میں جو تمہارے سامنے میرے نام سے جھوٹی نبوّت کر رہے ہیں، یہ فرماتا ہے:‏ ”‏دیکھو!‏ مَیں اُنہیں بابل کے بادشاہ نبوکدنضر*‏ کے حوالے کر رہا ہوں اور وہ اُنہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے مار ڈالے گا۔ 22 اُن کے ساتھ جو کچھ ہوگا، اُس کی مثال دیتے ہوئے بابل میں قید یہوداہ کے سب لوگ یہ بددُعا دیں گے:‏ ”‏یہوواہ تمہارا وہی حال کرے جو صِدقیاہ اور اخی‌اب کا ہوا تھا جنہیں بابل کے بادشاہ نے آگ میں بھونا تھا!‏“‏ 23 کیونکہ اُنہوں نے اپنے پڑوسیوں کی بیویوں سے زِناکاری کی اور میرے نام سے جھوٹی باتیں کہیں جن کا مَیں نے اُنہیں حکم نہیں دیا تھا اور اِس طرح اِسرائیل میں شرم‌ناک کام کیے۔‏

‏”‏مَیں یہ سب کچھ جانتا ہوں اور اِس کا گواہ ہوں۔“‏ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔“‏“‏

24 ‏”‏اور سِمعیاہ نخلامی سے یہ کہنا:‏ 25 ‏”‏فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏ ”‏تُم نے اپنے نام سے یروشلم میں موجود سب لوگوں، معسیاہ کے بیٹے کاہن صِفَنیاہ اور سب کاہنوں کے نام خط بھیجے اور اُن میں کہا:‏ 26 ‏”‏یہوواہ نے کاہن یہویدع کی جگہ آپ کو کاہن بنایا ہے تاکہ آپ یہوواہ کے گھر کے نگران ہوں اور ایسے پاگل شخص کو گِرفتار کریں جو نبی جیسا برتاؤ کرے اور اُسے کاٹھ*‏ میں جکڑ دیں۔ 27 تو پھر آپ یرمیاہ عنتوتی سے سختی سے پیش کیوں نہیں آئے جو آپ کے سامنے نبی جیسا برتاؤ کر رہا ہے؟ 28 اُس نے تو ہمیں بابل میں یہ پیغام تک بھیجا ہے:‏ ”‏آپ لمبے عرصے تک وہاں رہیں گے۔ گھر بنائیں اور اُن میں رہیں۔ باغ لگائیں اور اُن کا پھل کھائیں .‏.‏.‏“‏“‏“‏“‏“‏

29 جب کاہن صِفَنیاہ نے یرمیاہ نبی کے سامنے یہ خط پڑھا 30 تو یہوواہ کا یہ کلام یرمیاہ تک پہنچا:‏ 31 ‏”‏قید میں موجود سب لوگوں کو یہ پیغام بھیجو:‏ ”‏یہوواہ سِمعیاہ نخلامی کے بارے میں فرماتا ہے:‏ ”‏سِمعیاہ نے تمہارے سامنے نبوّت کی حالانکہ مَیں نے اُسے نہیں بھیجا اور اُس نے تمہیں جھوٹی باتوں پر یقین دِلانے کی کوشش کی۔ 32 اِس لیے یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں سِمعیاہ نخلامی اور اُس کی اولاد کو سزا دوں گا۔ اُس کی نسل میں سے ایک بھی شخص اِس قوم کے بیچ زندہ نہیں بچے گا اور وہ اُس اچھائی کو نہیں دیکھ پائے گا جو مَیں اپنے بندوں کے لیے کروں گا کیونکہ اُس نے یہوواہ کے خلاف بغاوت کو ہوا دی ہے۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔“‏“‏“‏

30 یہوواہ کا یہ کلام یرمیاہ تک پہنچا:‏ 2 ‏”‏اِسرائیل کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏وہ سب باتیں ایک کتاب میں لکھو جو مَیں تُم سے کہہ رہا ہوں 3 کیونکہ یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏دیکھو!‏ وہ دن آ رہے ہیں جب مَیں اپنے بندوں یعنی اِسرائیل اور یہوداہ کو اِکٹھا کروں گا جنہیں قیدی بنا کر لے جایا گیا ہے اور اُنہیں اُس ملک میں واپس لاؤں گا جو مَیں نے اُن کے باپ‌دادا کو دیا تھا اور وہ ایک بار پھر اُس کے مالک ہوں گے۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔“‏“‏

4 یہ وہ باتیں ہیں جو یہوواہ نے اِسرائیل اور یہوداہ سے کہیں۔‏

 5 یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏ہم نے خوف سے کانپتے لوگوں کی آوازیں سنی ہیں؛‏

دہشت چھائی ہے اور کوئی امن نہیں ہے۔‏

 6 مہربانی سے پوچھو کہ کیا کوئی آدمی بچے کو جنم دے سکتا ہے؟‏

تو پھر مجھے ہر طاقت‌ور آدمی اپنے پیٹ*‏ پر ایسے ہاتھ رکھے کیوں نظر آ رہا ہے

جیسے بچے کو جنم دینے والی عورت رکھتی ہے؟‏

ہر ایک چہرہ پیلا کیوں پڑ گیا ہے؟‏

 7 افسوس کیونکہ وہ دن بہت بھیانک*‏ ہے!‏

ویسا دن کوئی اَور نہیں ہے؛‏

وہ یعقوب کے لیے پریشانی کا وقت ہے۔‏

لیکن اُسے بچا لیا جائے گا۔“‏

8 فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اُس دن مَیں تمہاری گردن کا جُوا توڑ دوں گا اور تمہاری پٹیوں*‏ کے دو ٹکڑے کر دوں گا اور پھر کبھی اجنبی*‏ اُسے*‏ اپنا غلام نہیں بنائیں گے۔ 9 وہ اپنے خدا یہوواہ اور اپنے بادشاہ داؤد کی خدمت کریں گے جسے مَیں اُن کے لیے مقرر کروں گا۔“‏

10 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏میرے بندے یعقوب!‏ نہ ڈر؛‏

اَے اِسرائیل!‏ خوف‌زدہ نہ ہو

کیونکہ مَیں تجھے دُوردراز ملک سے اور تیری نسل کو اُس ملک سے بچا لاؤں گا

جہاں اُسے قیدی بنا کر لے جایا گیا ہے۔‏

یعقوب لوٹے گا اور امن‌وسکون سے رہے گا

اور کوئی اُسے نہیں ڈرائے گا۔“‏

11 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏کیونکہ مَیں تجھے بچانے کے لیے تیرے ساتھ ہوں۔‏

لیکن مَیں اُن سب قوموں کا نام‌ونشان مٹا دوں گا جن میں مَیں نے تجھے تتربتر کِیا ہے؛‏

مگر مَیں تجھے نہیں مٹاؤں گا۔‏

مَیں مناسب حد تک تیری اِصلاح*‏ کروں گا

اور تجھے سزا دیے بغیر ہرگز نہیں چھوڑوں گا“‏

12 کیونکہ یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏تیرے زخم کا کوئی علاج نہیں ہے۔‏

تیرا گھاؤ لاعلاج ہے۔‏

13 تیرا مُقدمہ لڑنے والا کوئی نہیں ہے؛‏

تیرا ناسور کسی بھی طرح ٹھیک نہیں ہو سکتا۔‏

تیرے لیے کوئی علاج نہیں ہے۔‏

14 تجھے شدت سے چاہنے والے سب تجھے بھول گئے ہیں۔‏

اب وہ تجھے نہیں ڈھونڈتے

کیونکہ تیری سنگین غلطی اور تیرے بہت سے گُناہوں کی وجہ سے

مَیں نے ایک دُشمن کی طرح تجھے مارا ہے

اور ایک ظالم کی طرح تجھے سزا دی ہے۔‏

15 تُو اپنے زخم کی وجہ سے کیوں چلّا رہی ہے؟‏

تیرا درد لاعلاج ہے!‏

تیری سنگین غلطی اور تیرے بہت سے گُناہوں کی وجہ سے

مَیں نے تیرے ساتھ ایسا کِیا ہے۔‏

16 اِس لیے تجھے نگلنے والے سب لوگوں کو نگل لیا جائے گا؛‏

تیرے سب دُشمنوں کو بھی قیدی بنا کر لے جایا جائے گا۔‏

تجھے لُوٹنے والوں کو لُوٹا جائے گا

اور تیرا مال چھیننے والے سب لوگوں سے اُن کا مال چھینا جائے گا۔“‏

17 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏لیکن مَیں تیری صحت بحال کروں گا اور تیرے زخم بھروں گا

حالانکہ اُنہوں نے تجھے ٹھکرایا اور کہا:‏

‏”‏یہ صِیّون ہے جسے کوئی نہیں ڈھونڈتا۔“‏“‏

18 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏دیکھ!‏ مَیں یعقوب کے خیمے کے قیدیوں کو جمع کر رہا ہوں

اور مَیں اُس کے خیموں پر ترس کھاؤں گا۔‏

شہر کو دوبارہ اُس کے ٹیلے پر بنایا جائے گا

اور مضبوط بُرج کو اُس کی جگہ پر کھڑا کِیا جائے گا۔‏

19 وہاں سے شکرگزاری اور خوشی کی آوازیں سنائی دیں گی۔‏

مَیں اُن کی تعداد بہت بڑھاؤں گا اور وہ کم نہیں ہوں گے؛‏

مَیں اُنہیں بہت بڑھاؤں گا*‏

اور وہ معمولی نہیں ہوں گے۔‏

20 اُس کے بیٹے پہلے کی طرح ہو جائیں گے

اور اُس کی جماعت میرے حضور مضبوطی سے قائم کی جائے گی۔‏

مَیں اُس پر ظلم ڈھانے والے سب لوگوں سے نمٹوں گا۔‏

21 اُس کا عظیم شخص اُسی میں سے نکلے گا

اور اُس کا حاکم اُس کے بیچ میں سے آئے گا۔‏

مَیں اُسے اپنے قریب آنے دوں گا اور وہ میرے پاس آئے گا“‏

‏”‏ورنہ کون میرے پاس آنے کی جُرأت کر سکتا ہے؟“‏ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔‏

22 ‏”‏تُم میری قوم بنو گے اور مَیں تمہارا خدا ہوں گا۔“‏

23 دیکھو!‏ یہوواہ کے غضب کی آندھی چلے گی؛‏

یہ طوفانی بگولے کی طرح بُرے لوگوں کے سر پر منڈلائے گی۔‏

24 یہوواہ کا بھڑکتا ہوا غصہ تب تک نہیں ٹلے گا

جب تک وہ اپنے دل کا اِرادہ پورا نہ کر لے اور اِسے انجام تک نہ پہنچا لے۔‏

تُم آخری دنوں میں*‏ اِس بات کو سمجھو گے۔‏

31 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اُس وقت مَیں اِسرائیل کے سارے گھرانوں کا خدا بنوں گا اور وہ میرے بندے بنیں گے۔“‏

 2 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏جب اِسرائیل اپنی آرام‌گاہ کی طرف جا رہا تھا

تو تلوار سے بچ جانے والے لوگوں کو ویرانے میں میری خوشنودی حاصل ہوئی۔“‏

 3 یہوواہ دُور سے مجھ پر ظاہر ہوا اور کہا:‏

‏”‏مَیں نے تجھ سے محبت کی ہے، ایسی محبت جو ہمیشہ قائم رہتی ہے۔‏

اِسی لیے مَیں نے اٹوٹ محبت سے تجھے اپنے پاس کھینچ لیا ہے۔‏*‏

 4 اَے اِسرائیل کی کنواری!‏ مَیں تجھے پھر سے بحال کروں گا اور تُو بحال ہو جائے گی۔‏

تُو دوبارہ سے اپنے دف لے گی اور خوشی سے ناچتی ہوئی جائے گی۔‏*‏

 5 تُو پھر سے سامریہ کے پہاڑوں پر انگور کے باغ لگائے گی؛‏

باغ لگانے والے باغ لگائیں گے اور اُن کے پھل کا مزہ لیں گے

 6 کیونکہ وہ دن آئے گا جب اِفرائیم کے پہاڑوں پر پہرےدار یہ آواز لگائیں گے:‏

‏”‏اُٹھو، صِیّون پر اپنے خدا یہوواہ کے پاس چلیں“‏“‏

 7 کیونکہ یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏یعقوب کے لیے خوشی سے گاؤ۔‏

خوشی سے للکارو کیونکہ تُم قوموں کے رہنما ہو۔‏

اِس کا اِعلان کرو؛ خدا کی بڑائی کرو اور کہو:‏

‏”‏اَے یہوواہ!‏ اپنے بندوں کو، ہاں، اِسرائیل کے بچے ہوئے حصے کو بچا۔“‏

 8 مَیں اُنہیں شمال کے ملک سے واپس لاؤں گا۔‏

مَیں اُنہیں زمین کے دُوردراز علاقوں سے اِکٹھا کروں گا۔‏

اُن میں اندھے، لنگڑے، حاملہ عورتیں

اور وہ عورتیں شامل ہوں گی جنہیں بچے کی پیدائش کی دردیں لگی ہوں گی۔‏

وہ ایک بڑی جماعت کے طور پر یہاں لوٹیں گے۔‏

 9 وہ روتے ہوئے آئیں گے۔‏

جب وہ مہربانی کی بھیک مانگیں گے تو مَیں اُن کی پیشوائی کروں گا۔‏

مَیں اُنہیں پانی کی ندیوں*‏ کے پاس اور ایک ایسے ہموار راستے پر لے جاؤں گا

جس پر اُنہیں ٹھوکر نہیں لگے گی

کیونکہ مَیں اِسرائیل کا باپ ہوں اور اِفرائیم میرا پہلوٹھا ہے۔“‏

10 اَے قومو!‏ یہوواہ کا کلام سنو

اور دُوردراز کے جزیروں میں اِس کا اِعلان کرتے ہوئے کہو:‏

‏”‏جس نے اِسرائیل کو تتربتر کِیا تھا، وہی اُسے اِکٹھا کرے گا۔‏

وہ اُس کا ویسے ہی خیال رکھے گا جیسے ایک چرواہا اپنے گلّے کا رکھتا ہے

11 کیونکہ یہوواہ یعقوب کو چھڑائے گا

اور اُسے اُس کے ہاتھ سے بچائے گا جو اُس سے طاقت‌ور ہے۔‏

12 وہ آئیں گے اور صِیّون کی چوٹی پر خوشی سے للکاریں گے؛‏

یہوواہ کی اچھائی*‏ کی وجہ سے یعنی اناج، نئی مے، تیل

اور گلّوں اور ریوڑوں کے بچوں کی وجہ سے اُن کے چہرے چمکیں گے۔‏

وہ*‏ ایسے باغ کی طرح بن جائیں گے جسے خوب پانی مل رہا ہو

اور وہ پھر کبھی نہیں مُرجھائیں گے۔“‏

13 ‏”‏اُس وقت کنواری خوشی سے ناچے گی

اور جوان آدمی اور بوڑھے آدمی بھی مل کر ناچیں گے۔‏

مَیں اُن کے ماتم کو جشن میں بدل دوں گا۔‏

مَیں اُنہیں تسلی دوں گا اور اُن کے غم کو دُور کر کے اُنہیں خوشی بخشوں گا۔‏

14 مَیں کاہنوں*‏ کو عمدہ چیزوں*‏ سے سیر کروں گا

اور میرے بندے میری اچھائی سے سیر ہوں گے۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

15 ‏”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏رامہ میں ماتم کرنے اور زارزار رونے کی آواز سنائی دے رہی ہے؛‏

راخل اپنے بیٹوں*‏ کے لیے رو رہی ہے۔‏

وہ اپنے بیٹوں کے حوالے سے تسلی قبول کرنے کو تیار نہیں ہے

کیونکہ وہ اب نہیں رہے۔“‏“‏

16 یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏”‏رونا دھونا بند کر دو؛ اَور آنسو نہ بہاؤ

کیونکہ تمہیں تمہارے کام کا اجر ملے گا۔‏

وہ دُشمن کے ملک سے لوٹیں گے۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

17 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏تمہارے مستقبل کے لیے ایک اُمید ہے۔‏

تمہارے بیٹے اپنے علاقے میں لوٹیں گے۔“‏“‏

18 ‏”‏بے‌شک مَیں نے اِفرائیم کا یہ کراہنا سنا ہے:‏

‏”‏مَیں ایک ایسے بچھڑے کی طرح تھا جسے سدھایا نہ گیا ہو۔‏

تُو نے میری اِصلاح کی اور مَیں نے اِصلاح کو قبول کِیا۔‏

مجھے واپس لا اور مَیں فوراً واپس مُڑ جاؤں گا

کیونکہ تُو میرا خدا یہوواہ ہے۔‏

19 جب مَیں لوٹا تو مجھے پشیمانی محسوس ہوئی؛‏

جب مجھے سمجھایا گیا تو مَیں نے غم کے مارے اپنی ران پر ہاتھ مارا۔‏

مَیں نے اپنی جوانی میں جو کچھ کِیا،‏

اُس کی وجہ سے مجھے شرمندگی اور ذِلت محسوس ہوتی تھی۔“‏“‏

20 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏کیا اِفرائیم میرا انمول اور پیارا بیٹا نہیں ہے؟‏

کیونکہ مَیں جب بھی اُس کے خلاف بولتا ہوں، مَیں اُسے یاد بھی کرتا ہوں۔‏

اِس لیے اُس کے لیے میرے جذبات*‏ جوش مار رہے ہیں

اور مَیں ضرور اُس پر ترس کھاؤں گا۔“‏

21 ‏”‏اپنے لیے راستے میں نشانیاں لگا اور ستون کھڑے کر۔‏

شاہراہ پر دھیان دے، ہاں، اُس راستے پر جس پر تجھے جانا ہے۔‏

اَے اِسرائیل کی کنواری!‏ لوٹ آ؛ اپنے اِن شہروں میں لوٹ آ۔‏

22 اَے بے‌وفا بیٹی!‏ تُو کب تک بھٹکتی پھرے گی؟‏

کیونکہ یہوواہ نے زمین پر کچھ نیا کِیا*‏ ہے؛‏

ایک عورت بے‌تابی سے ایک آدمی کے پیچھے جائے گی۔“‏

23 فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏ ”‏جب مَیں اُن لوگوں کو واپس لاؤں گا جنہیں قیدی بنا کر لے جایا گیا ہے تو وہ یہوداہ کے ملک اور اُس کے شہروں میں پھر سے یہ کہیں گے:‏ ”‏اَے نیک رہائش‌گاہ!‏ اَے مُقدس پہاڑ!‏ یہوواہ تجھے برکت دے۔“‏ 24 یہوداہ اور اُس کے سب شہر یہاں آباد ہوں گے۔ کسان اور گلّوں کی پیشوائی کرنے والے سب ساتھ رہیں گے۔ 25 مَیں تھکے ہارے شخص*‏ کو تازہ‌دم کروں گا اور ہر کمزور شخص*‏ کو سیر کروں گا۔“‏

26 اِس پر مَیں جاگ گیا اور اپنی آنکھیں کھولیں۔ میری نیند بہت میٹھی تھی۔‏

27 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏دیکھو!‏ وہ دن آ رہے ہیں جب مَیں اِسرائیل کے گھرانے اور یہوداہ کے گھرانے میں اِنسان کا بیج*‏ اور مویشیوں کا بیج بوؤں گا۔“‏

28 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏جیسے مَیں نے اُن پر نظر رکھی تاکہ اُنہیں جڑ سے اُکھاڑوں، گِراؤں، ڈھاؤں، تباہ کروں اور نقصان پہنچاؤں ویسے ہی مَیں اُن پر نظر رکھوں گا تاکہ اُنہیں بناؤں اور لگاؤں۔ 29 اُن دنوں میں لوگ پھر یہ نہیں کہیں گے:‏ ”‏باپ‌دادا نے کھٹے انگور کھائے لیکن دانت بیٹوں کے کھٹے ہوئے“‏ 30 بلکہ تب ہر شخص اپنی ہی غلطی کی وجہ سے مرے گا۔ جو شخص کھٹے انگور کھائے گا اُسی کے دانت کھٹے ہوں گے۔“‏

31 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏دیکھو!‏ وہ دن آ رہے ہیں جب مَیں اِسرائیل کے گھرانے اور یہوداہ کے گھرانے سے ایک نیا عہد باندھوں گا۔ 32 یہ اُس عہد کی طرح نہیں ہوگا جو مَیں نے اُن کے باپ‌دادا سے اُس دن باندھا جس دن مَیں نے اُن کا ہاتھ تھاما تاکہ اُنہیں ملک مصر سے نکال لاؤں۔ یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏حالانکہ مَیں اُن کا اصلی مالک*‏ تھا لیکن اُنہوں نے میرا عہد توڑ دیا۔“‏“‏

33 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏کیونکہ اُن دنوں کے بعد مَیں اِسرائیل کے گھرانے سے یہ عہد باندھوں گا:‏ مَیں اپنی شریعت اُن کے اندر ڈالوں گا اور اِسے اُن کے دل پر لکھوں گا۔ مَیں اُن کا خدا بنوں گا اور وہ میری قوم بنیں گے۔“‏

34 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏پھر اُن میں سے کوئی بھی کبھی اپنے پڑوسی اور اپنے بھائی کو یہ تعلیم نہیں دے گا:‏ ”‏یہوواہ کو جانو!‏“‏ کیونکہ وہ سب مجھے جانیں گے، ہاں، چھوٹے سے لے کر بڑے تک سب کیونکہ مَیں اُن کی غلطی معاف کر دوں گا اور اُن کے گُناہ کو پھر کبھی یاد نہیں کروں گا۔“‏

35 یہوواہ جس نے دن میں روشنی کے لیے سورج بنایا

اور رات میں روشنی کے لیے چاند اور ستاروں کے قوانین بنائے؛‏

جو سمندر میں ہلچل مچاتا ہے اور اُس کی لہروں کو اُچھالتا ہے

اور جس کا نام فوجوں کا خدا یہوواہ ہے، فرماتا ہے:‏

36 ‏”‏”‏اگر یہ قوانین کبھی مٹ سکتے ہیں

تو پھر ہی اِسرائیل کی نسل ایک قوم کے طور پر میرے سامنے سے مٹ سکتی ہے۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔“‏

37 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏”‏اگر آسمان کو ناپا جا سکتا ہے اور زمین کی بنیادوں کا پتہ لگایا جا سکتا ہے تو پھر ہی مَیں اِسرائیل کی ساری اولاد کو اُس کے کاموں کی وجہ سے رد کر سکتا ہوں۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔“‏

38 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏دیکھو!‏ وہ دن آ رہے ہیں جب حنن‌ایل کے بُرج سے کونے کے دروازے تک یہ شہر یہوواہ کے لیے بنایا جائے گا۔ 39 وہاں سے ناپنے کی ڈوری سیدھی جریب کی پہاڑی تک جائے گی اور وہاں سے جوعہ کی طرف مُڑ جائے گی۔ 40 لاشوں اور راکھ*‏ کی ساری وادی، وادیِ‌قِدرون تک کی ساری ڈھلانیں اور مشرق کی طرف گھوڑا دروازے کے کونے تک کا سارا علاقہ یہوواہ کے لیے پاک ہوگا۔ اُسے پھر کبھی اُکھاڑا یا ڈھایا نہیں جائے گا۔“‏

32 یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ کی حکمرانی کے 10ویں سال میں جو کہ نبوکدنضر*‏ کی حکمرانی کا 18واں سال تھا، یہوواہ کا کلام یرمیاہ تک پہنچا۔ 2 اُس وقت بابل کے بادشاہ کی فوجوں نے یروشلم کو گھیرا ہوا تھا اور یرمیاہ نبی یہوداہ کے بادشاہ کے محل میں محافظوں کے صحن میں قید تھے۔ 3 یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ نے یہ کہتے ہوئے اُنہیں قید میں ڈالا تھا:‏ ”‏تُم اِس طرح کی پیش‌گوئی کیوں کر رہے ہو؟ تُم کہہ رہے ہو:‏ ”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اِس شہر کو بابل کے بادشاہ کے حوالے کر دوں گا اور وہ اِس پر قبضہ کر لے گا 4 اور یہوداہ کا بادشاہ صِدقیاہ کسدیوں سے نہیں بچ پائے گا کیونکہ اُسے ضرور بابل کے بادشاہ کے حوالے کِیا جائے گا اور وہ آمنے سامنے اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اُس سے بات کرے گا۔“‏“‏ 5 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏وہ صِدقیاہ کو بابل لے جائے گا اور وہ تب تک وہاں رہے گا جب تک مَیں اُس پر دھیان نہیں دیتا۔ تُم کسدیوں سے لڑ رہے ہو لیکن تُم کامیاب نہیں ہو گے۔“‏“‏

6 یرمیاہ نے کہا:‏ ”‏یہوواہ کا یہ کلام مجھ تک پہنچا ہے:‏ 7 ‏”‏تمہارے تایا*‏ سلّوم کا بیٹا حنم‌ایل تمہارے پاس آئے گا اور تُم سے کہے گا:‏ ”‏اپنے لیے میرا عنتوت والا کھیت خرید لو کیونکہ اِسے واپس خریدنے کا پہلا حق آپ کا بنتا ہے۔“‏“‏“‏

8 میرے تایا کا بیٹا حنم‌ایل محافظوں کے صحن میں میرے پاس آیا جیسے کہ یہوواہ نے کہا تھا اور مجھ سے کہا:‏ ”‏مہربانی سے میرا عنتوت والا کھیت خرید لو جو بِنیامین کے علاقے میں ہے کیونکہ اِس کی ملکیت حاصل کرنے اور اِسے واپس خریدنے کا حق آپ کا ہے۔ اِسے اپنے لیے خرید لو۔“‏ تب مَیں جان گیا کہ یہ یہوواہ کے کلام کے مطابق ہوا ہے۔‏

9 اِس لیے مَیں نے اپنے تایا کے بیٹے حنم‌ایل سے عنتوت والا کھیت خرید لیا اور اُسے قیمت کے طور پر سات مِثقال*‏ اور دس ٹکڑے چاندی تول کر دی۔ 10 پھر مَیں نے ایک دستاویز تیار کی، اُس پر مُہر لگائی، گواہوں کو بُلایا اور پیسے ترازو میں تولے۔ 11 مَیں نے وہ خریدنامہ لیا، وہ والا بھی جس پر قانون اور قانونی شرائط کے مطابق مُہر لگائی گئی تھی اور وہ والا بھی جس پر مُہر نہیں لگائی گئی تھی 12 اور مَیں نے وہ خریدنامہ محسیاہ کے بیٹے نِیریاہ کے بیٹے بارُوک کو دیا۔ مَیں نے اپنے تایا کے بیٹے حنم‌ایل، خریدنامے پر دستخط کرنے والے گواہوں اور اُن سب یہودیوں کی موجودگی میں ایسا کِیا جو محافظوں کے صحن میں بیٹھے تھے۔‏

13 اِس کے بعد مَیں نے اُن کے سامنے بارُوک کو یہ حکم دیا:‏ 14 ‏”‏فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏ ”‏یہ دستاویزات یعنی یہ خریدنامہ لو، مُہر والا بھی اور بغیر مُہر والا بھی اور اِنہیں مٹی کے ایک برتن میں رکھ دو تاکہ یہ ایک لمبے عرصے تک محفوظ رہیں“‏ 15 کیونکہ فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏ ”‏اِس ملک میں گھر، کھیت اور انگور کے باغ پھر سے خریدے جائیں گے۔“‏“‏

16 نِیریاہ کے بیٹے بارُوک کو خریدنامہ دینے کے بعد مَیں نے یہوواہ سے یہ دُعا کی:‏ 17 ‏”‏افسوس اَے حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ!‏ دیکھ!‏ تُو نے اپنی عظیم طاقت اور اپنے زورآور بازو*‏ سے آسمان اور زمین کو بنایا۔ تیرے لیے کوئی بھی کام ناممکن نہیں ہے۔ 18 تُو ہزاروں کے لیے اٹوٹ محبت ظاہر کرتا ہے لیکن باپ‌دادا کے گُناہ کی سزا بیٹوں کو دیتا ہے۔‏*‏ تُو سچا، عظیم اور طاقت‌ور خدا ہے جس کا نام فوجوں کا خدا یہوواہ ہے۔ 19 تیرا اِرادہ عظیم ہے*‏ اور تیرے کام زبردست ہیں۔ تیری آنکھیں اِنسانوں کی سب راہوں پر لگی رہتی ہیں تاکہ اُن میں سے ہر ایک کو اُس کی روِش اور اُس کے کاموں کے مطابق بدلہ دے۔ 20 تُو نے ملک مصر میں نشانیاں دِکھائیں اور معجزے کیے جو آج تک یاد کیے جاتے ہیں اور اِس طرح تُو نے اِسرائیل میں اور اِنسانوں کے بیچ اپنا نام مشہور کِیا اور یہ آج تک قائم ہے۔ 21 تُو اپنی قوم اِسرائیل کو نشانیاں دِکھا کر اور معجزے اور حیرت‌انگیز کام کر کے اور طاقت‌ور ہاتھ اور زورآور بازو*‏ سے ملک مصر سے نکال لایا۔‏

22 وقت آنے پر تُو نے اُنہیں یہ ملک دیا جسے دینے کی قسم تُو نے اُن کے باپ‌دادا سے کھائی تھی اور جس میں دودھ اور شہد بہتا ہے۔ 23 وہ اِس ملک میں آئے اور اِس کے مالک بن گئے لیکن اُنہوں نے تیری بات نہیں مانی اور تیری شریعت کے مطابق نہیں چلے۔ تُو نے اُنہیں جو بھی حکم دیے، اُنہوں نے اُن میں سے ایک بھی نہیں مانا اِس لیے تُو نے اُن پر یہ ساری آفت آنے دی۔ 24 دیکھو!‏ آدمیوں نے شہر میں آ کر اِس پر قبضہ کرنے کے لیے ڈھلانیں بنائی ہیں۔ تلوار، قحط اور وبا*‏ کی وجہ سے یہ شہر ضرور کسدیوں کے حوالے کِیا جائے گا جو اِس کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ اور جیسے کہ تُو دیکھ رہا ہے، تیری کہی ہر بات پوری ہوئی ہے۔ 25 لیکن اَے حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ!‏ تُو نے مجھ سے کہا ہے:‏ ”‏اپنے لیے پیسوں سے ایک کھیت خریدو اور گواہوں کو بُلاؤ“‏ حالانکہ یہ شہر ضرور کسدیوں کے حوالے کِیا جائے گا۔“‏

26 تب یہوواہ کا یہ کلام یرمیاہ تک پہنچا:‏ 27 ‏”‏مَیں یہوواہ ہوں جو سب اِنسانوں کا خدا ہوں۔ کیا میرے لیے کوئی بھی کام ناممکن ہے؟ 28 اِس لیے یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اِس شہر کو کسدیوں اور بابل کے بادشاہ نبوکدنضر*‏ کے حوالے کر رہا ہوں اور وہ اِس پر قبضہ کر لے گا۔ 29 اِس شہر کے خلاف لڑنے والے کسدی آئیں گے اور اِس شہر کو اور اُن گھروں کو آگ سے جلا دیں گے جن کی چھتوں پر لوگ بعل کے لیے قربانیاں پیش کرتے ہیں اور دوسرے خداؤں کے لیے مے کے نذرانے اُنڈیلتے ہیں اور اِس طرح مجھے غصہ دِلاتے ہیں۔“‏

30 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اِسرائیل اور یہوداہ کے لوگوں نے اپنی کم‌عمری سے صرف وہی کام کیے ہیں جو میری نظر میں بُرے ہیں؛ اِسرائیل کے لوگ اپنے ہاتھوں کے کام سے مجھے غصہ دِلاتے رہتے ہیں 31 کیونکہ جس دن سے اِس شہر کو بنایا گیا ہے، اُس دن سے آج تک اِس نے صرف میرا غصہ اور غضب ہی بھڑکایا ہے تاکہ اِسے میرے سامنے سے دُور کر دیا جائے 32 کیونکہ اِسرائیل اور یہوداہ کے لوگوں یعنی اُن کے بادشاہوں، اُن کے حاکموں، اُن کے کاہنوں، اُن کے نبیوں اور یہوداہ کے آدمیوں اور یروشلم کے باشندوں نے اپنے سب بُرے کاموں کے ذریعے مجھے غصہ دِلایا ہے۔ 33 وہ میری طرف اپنا چہرہ کرنے کی بجائے اپنی پیٹھ کرتے رہے۔ مَیں نے اُنہیں بار بار*‏ سکھانے کی کوشش کی لیکن اُن میں سے کسی نے میری نہیں سنی اور تربیت کو قبول نہیں کِیا۔ 34 اُنہوں نے اپنے گھناؤنے بُت اُس گھر میں رکھے جو میرے نام سے کہلاتا ہے تاکہ اُسے ناپاک کریں۔ 35 اِس کے علاوہ اُنہوں نے ہِنّوم کے بیٹے کی وادی*‏ میں بعل کے لیے اُونچی جگہیں بنائیں تاکہ اپنے بیٹوں اور اپنی بیٹیوں کو مولک کے لیے آگ میں قربان کریں۔‏*‏ مَیں نے اُنہیں ایسا کرنے کا حکم نہیں دیا تھا اور نہ ہی کبھی میرے دل میں یہ خیال آیا تھا کہ مَیں اُنہیں ایسا گھناؤنا کام کرنے کو کہوں۔ اُنہوں نے یہ کام کر کے یہوداہ سے گُناہ کرایا۔“‏

36 اِس لیے جس شہر کے بارے میں تُم کہہ رہے ہو کہ اُسے تلوار، قحط اور وبا کے ذریعے بابل کے بادشاہ کے حوالے کر دیا جائے گا، اِسرائیل کا خدا یہوواہ اُس شہر کے بارے میں فرماتا ہے:‏ 37 ‏”‏دیکھو، مَیں اُن لوگوں کو اُن سب ملکوں سے اِکٹھا کروں گا جہاں مَیں نے اُنہیں اپنے غصے، غضب اور شدید قہر میں تتربتر کر دیا تھا اور اُنہیں اِس جگہ واپس لاؤں گا اور سلامتی سے بساؤں گا۔ 38 وہ میرے بندے ہوں گے اور مَیں اُن کا خدا ہوں گا۔ 39 مَیں اُنہیں ایک ہی دل اور ایک ہی راہ عطا کروں گا تاکہ وہ ہمیشہ میرا خوف رکھیں جس سے اُن کا اور اُن کے بعد اُن کے بچوں کا بھلا ہوگا۔ 40 مَیں اُن کے ساتھ ایک ابدی عہد باندھوں گا یعنی یہ کہ مَیں اُن کے ساتھ اچھائی کرنے سے باز نہیں آؤں گا۔ مَیں اُن کے دلوں میں اپنا خوف ڈالوں گا تاکہ وہ مجھ سے مُنہ نہ موڑ لیں۔ 41 اُن کے ساتھ بھلائی کر کے مجھے خوشی ملے گی اور مَیں اُنہیں اپنے پورے دل اور اپنی پوری جان*‏ سے مضبوطی سے اِس ملک میں لگاؤں گا۔“‏“‏

42 ‏”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏جیسے مَیں اِن لوگوں پر یہ بڑی آفت لایا ویسے ہی مَیں اُن پر وہ ساری اچھائی*‏ نچھاور کروں گا جس کا مَیں اُن سے وعدہ کر رہا ہوں۔ 43 اِس ملک میں کھیت پھر سے خریدے جائیں گے حالانکہ تُم کہتے ہو:‏ ”‏یہ ملک ویران ہے اور یہاں کوئی اِنسان یا جانور نہیں ہے اور اِسے کسدیوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔“‏“‏

44 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏بِنیامین کے علاقے میں، یروشلم کے اِردگِرد کے علاقوں میں، یہوداہ کے شہروں میں، پہاڑی علاقے کے شہروں میں، نشیبی علاقے کے شہروں میں اور جنوب کے شہروں میں پیسوں سے کھیت خریدے جائیں گے اور خریدنامے تیار کر کے اُن پر مُہر لگائی جائے گی اور گواہوں کو بُلایا جائے گا کیونکہ مَیں اُن کے قیدی بنا کر لے جائے گئے لوگوں کو واپس لاؤں گا۔“‏“‏

33 یرمیاہ محافظوں کے صحن میں قید میں ہی تھے جب یہوواہ کا کلام دوسری بار اُن تک پہنچا اور اُس نے کہا:‏ 2 ‏”‏زمین کا خالق یہوواہ، ہاں، یہوواہ جس نے اِسے بنایا اور مضبوطی سے قائم کِیا جس کا نام یہوواہ ہے، فرماتا ہے:‏ 3 ‏”‏مجھے پکارو اور مَیں تمہیں جواب دوں گا اور تمہیں ایسی بڑی بڑی باتیں ضرور بتاؤں گا جو تمہاری سمجھ سے باہر ہیں اور جن کے بارے میں تُم نہیں جانتے۔“‏“‏

4 ‏”‏اِسرائیل کا خدا یہوواہ یہ بات اِس شہر کے گھروں اور یہوداہ کے بادشاہوں کے محلوں کے بارے میں فرما رہا ہے جنہیں حملہ کرنے کے لیے بنائی گئی ڈھلانوں اور تلوار کی وجہ سے ڈھا دیا گیا ہے 5 اور اُن لوگوں کے بارے میں بھی جو کسدیوں سے لڑنے کے لیے آ رہے ہیں اور جو اِن جگہوں کو اُن لوگوں کی لاشوں سے بھر رہے ہیں جنہیں مَیں نے اپنے غصے اور اپنے قہر میں مار ڈالا ہے اور جن کی بُرائی کی وجہ سے مَیں نے اِس شہر سے اپنا چہرہ چھپا لیا ہے:‏ 6 ‏”‏مَیں اُس کی صحت بحال کروں گا اور اُسے تندرستی بخشوں گا؛ مَیں اُنہیں شفا دوں گا؛ مَیں اُنہیں کثرت سے امن‌وسکون دوں گا اور اُن پر سچائی ظاہر کروں گا۔ 7 مَیں یہوداہ اور اِسرائیل کے قیدی بنا کر لے جائے گئے لوگوں کو واپس لاؤں گا اور اُنہیں پہلے جیسا بناؤں گا۔ 8 مَیں اُن کے سر سے اُن گُناہوں کا ذمہ ہٹا کر اُنہیں پاک کر دوں گا جو اُنہوں نے میرے خلاف کیے ہیں۔ مَیں اُن کے وہ سارے گُناہ اور ساری غلطیاں معاف کر دوں گا جو اُنہوں نے میرے خلاف کی ہیں۔ 9 وہ زمین کی اُن سب قوموں کے سامنے میرے لیے خوشی، تعریف اور خوب‌صورتی کا باعث ہوگا جو اُس ساری اچھائی کے بارے میں سنیں گی جو مَیں اپنے بندوں پر نچھاور کروں گا۔ وہ اُس ساری اچھائی اور امن‌وسکون کی وجہ سے خوف‌زدہ ہوں گی اور تھرتھر کانپیں گی جو مَیں اُس پر نچھاور کروں گا۔“‏“‏

10 ‏”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏تُم اِس جگہ کے بارے میں کہو گے کہ یہ ویران ہے اور یہاں کوئی اِنسان یا مویشی نہیں ہے اور یہوداہ کے شہر اور یروشلم کی گلیاں سنسان ہیں جہاں کوئی نہیں رہتا اور جہاں کوئی اِنسان یا مویشی نہیں ہے۔ 11 لیکن وہاں پھر سے خوشی اور جشن کی آواز، دُلہے اور دُلہن کی آواز اور اُن لوگوں کی آواز سنائی دے گی جو کہیں گے:‏ ”‏فوجوں کے خدا یہوواہ کا شکر کرو کیونکہ یہوواہ اچھا ہے؛ اُس کی اٹوٹ محبت ہمیشہ قائم رہتی ہے!‏“‏“‏

یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏وہ یہوواہ کے گھر میں شکرگزاری کے نذرانے لائیں گے کیونکہ مَیں اِس ملک کے قیدی بنا کر لے جائے گئے لوگوں کو واپس لاؤں گا اور وہ پہلے کی طرح ہو جائیں گے۔“‏“‏

12 ‏”‏فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اِس ویران ملک میں جہاں کوئی اِنسان یا مویشی نہیں ہے اور اِس کے تمام شہروں میں پھر سے چراگاہیں ہوں گی جہاں چرواہے اپنے گلّوں کو آرام کرائیں گے۔“‏

13 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏پہاڑی علاقے کے شہروں میں، نشیبی علاقے کے شہروں میں، جنوب کے شہروں میں، بِنیامین کے علاقے میں، یروشلم کے اِردگِرد کے علاقوں میں اور یہوداہ کے شہروں میں گلّے پھر سے چرواہوں کے ہاتھ کے نیچے سے گزریں گے اور وہ اُنہیں گنیں گے۔“‏“‏

14 ‏”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏دیکھو!‏ وہ دن آ رہے ہیں جب مَیں اپنا وہ نیک وعدہ پورا کروں گا جو مَیں نے اِسرائیل کے گھرانے اور یہوداہ کے گھرانے کے حوالے سے کِیا ہے۔ 15 مَیں اُن دنوں میں اور اُس وقت داؤد کے لیے ایک نیک کونپل اُگاؤں گا*‏ اور وہ ملک میں اِنصاف اور نیکی کو قائم کرے گی۔ 16 اُن دنوں میں یہوداہ کو بچایا جائے گا اور یروشلم سلامتی سے بسے گا۔ اور اُسے اِس نام سے پکارا جائے گا:‏ یہوواہ ہماری نیکی ہے۔“‏“‏

17 ‏”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏داؤد کی نسل میں ہمیشہ کوئی ایسا شخص رہے گا جو اِسرائیل کے گھرانے کے تخت پر بیٹھے گا 18 اور لاوی کاہنوں میں ہمیشہ کوئی ایسا شخص رہے گا جو میرے حضور کھڑے ہو کر بھسم ہونے والی سالم قربانیاں اور دوسری قربانیاں پیش کرے گا اور اناج کے نذرانے جلائے گا۔“‏“‏

19 یہوواہ کا کلام ایک بار پھر یرمیاہ تک پہنچا اور اُس نے کہا:‏ 20 ‏”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اگر تُم دن اور رات کے حوالے سے میرا عہد توڑ سکتے ہو تاکہ مقررہ وقت پر دن اور رات نہ ہوں 21 تو پھر ہی میرے بندے داؤد کے ساتھ میرا عہد ٹوٹ سکتا ہے تاکہ بادشاہ کے طور پر اُس کے تخت پر بیٹھنے کے لیے اُس کا کوئی بیٹا نہ ہو اور میرا وہ عہد بھی ٹوٹ سکتا ہے جو مَیں نے اپنے خادموں یعنی لاوی کاہنوں کے ساتھ باندھا ہے۔ 22 جیسے آسمان کے ستاروں*‏ اور ساحل کی ریت کے ذرّوں کو گنا نہیں جا سکتا ویسے ہی مَیں اپنے بندے داؤد کی نسل*‏ کو بہت بڑھاؤں گا اور لاویوں کو بھی جو میری خدمت کرتے ہیں۔“‏“‏

23 یہوواہ کا کلام ایک بار پھر یرمیاہ تک پہنچا اور اُس نے کہا:‏ 24 ‏”‏کیا تُم نے غور نہیں کِیا کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں کہ ”‏یہوواہ اُن دو گھرانوں کو رد کر دے گا جنہیں اُس نے چُنا تھا“‏؟ وہ میرے بندوں کو بے‌عزت کرتے ہیں اور اب اُنہیں ایک قوم نہیں سمجھتے۔‏

25 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏جیسے مَیں نے دن اور رات کے حوالے سے پکا عہد کِیا ہے اور آسمان اور زمین کے قوانین بنائے ہیں 26 ویسے ہی مَیں یعقوب اور اپنے بندے داؤد کی نسل*‏ کو کبھی ترک نہیں کروں گا تاکہ ایسا نہ ہو کہ مَیں اَبراہام، اِضحاق اور یعقوب کی اولاد*‏ پر حکمرانی کرنے کے لیے اُس کی نسل*‏ میں سے کوئی حکمران نہ لوں۔ مَیں اُن کے قیدی بنا کر لے جائے گئے لوگوں کو اِکٹھا کروں گا اور اُن پر ترس کھاؤں گا۔“‏“‏

34 جب بابل کا بادشاہ نبوکدنضر،‏*‏ اُس کی ساری فوج، زمین کی سب بادشاہتیں جو اُس کے ماتحت تھیں اور سب قومیں یروشلم اور اُس کے سب شہروں کے خلاف لڑنے آئیں تو یہوواہ کا یہ کلام یرمیاہ تک پہنچا:‏

2 ‏”‏اِسرائیل کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏جاؤ اور یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ سے بات کرو اور اُسے بتاؤ:‏ ”‏یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اِس شہر کو بابل کے بادشاہ کے حوالے کر رہا ہوں اور وہ اِسے آگ سے جلا دے گا۔ 3 تُم اُس کے ہاتھ سے بچ نہیں پاؤ گے کیونکہ تمہیں پکڑ کر ضرور اُس کے حوالے کِیا جائے گا۔ تُم آمنے سامنے اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بابل کے بادشاہ سے بات کرو گے اور تمہیں بابل لے جایا جائے گا۔“‏ 4 لیکن یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ!‏ یہوواہ کا کلام سنو:‏ ”‏یہوواہ تمہارے بارے میں فرماتا ہے:‏ ”‏تُم تلوار سے نہیں مرو گے۔ 5 تُم سکون سے مرو گے اور تمہارے لیے ویسی آگ جلائی جائے گی جیسی تمہارے باپ‌دادا، ہاں، تُم سے پہلے آنے والے بادشاہوں کے لیے جلائی گئی تھی اور لوگ تمہارے لیے ماتم کرتے ہوئے کہیں گے:‏ ”‏ہائے ہمارے مالک!‏“‏ ایسا ضرور ہوگا کیونکہ ”‏مَیں نے یہ کہا ہے۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔“‏“‏“‏“‏“‏

6 اِس کے بعد یرمیاہ نبی نے یہ سب باتیں یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ کو یروشلم میں اُس وقت بتائیں 7 جب بابل کے بادشاہ کی فوجیں یروشلم اور یہوداہ کے اُن سب شہروں کے خلاف لڑ رہی تھیں جو باقی بچے تھے یعنی لکیس اور عزیقہ کے خلاف کیونکہ یہوداہ کے یہی قلعہ‌بند شہر باقی بچے تھے۔‏

8 یہوواہ کا یہ کلام اُس عہد کے بعد یرمیاہ تک پہنچا جو بادشاہ صِدقیاہ نے رِہائی کا اِعلان کرتے ہوئے یروشلم میں سب لوگوں سے باندھا تھا 9 کہ ہر شخص اپنے عبرانی غلام کو رِہا کر دے پھر چاہے وہ مرد ہو یا عورت تاکہ کوئی یہودی دوسرے یہودی کو اپنا غلام بنا کر نہ رکھے۔ 10 اِس لیے سب حاکموں اور سب لوگوں نے اُس کی بات مانی۔ وہ اِس عہد میں شامل ہو گئے کہ ہر شخص اپنے غلام مرد اور غلام عورت کو رِہا کر دے اور اُسے غلام بنا کر نہ رکھے۔ اُنہوں نے یہ بات مانی اور غلاموں کو جانے دیا۔ 11 لیکن بعد میں وہ اُن غلام مردوں اور عورتوں کو واپس لے آئے جنہیں اُنہوں نے رِہا کِیا تھا اور اُن سے دوبارہ زبردستی غلامی کرانے لگے۔ 12 اِس کے بعد یہوواہ کی طرف سے یہوواہ کا یہ کلام یرمیاہ تک پہنچا:‏

13 ‏”‏اِسرائیل کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏جس دن مَیں تمہارے باپ‌دادا کو ملک مصر سے یعنی غلامی کے گھر سے نکال لایا، اُس دن مَیں نے اُن سے یہ عہد باندھا:‏ 14 ‏”‏سات سال کے آخر پر تُم میں سے ہر ایک اپنے اُس عبرانی بھائی کو آزاد کر دے جسے تُم نے خریدا تھا اور جس نے چھ سال تمہاری خدمت کی۔ تُم ضرور اُسے رِہا کر دینا۔“‏ لیکن تمہارے باپ‌دادا نے میری نہیں سنی اور میری بات پر کان نہیں لگایا۔ 15 کچھ وقت پہلے*‏ تُم نے اپنے آپ کو بدلا اور اپنے بھائیوں کی آزادی کا اِعلان کر کے میری نظر میں صحیح کام کِیا اور اُس گھر میں میرے سامنے ایک عہد باندھا جو میرے نام سے کہلاتا ہے۔ 16 لیکن پھر تُم بدل گئے اور اپنے اُن غلام مردوں اور غلام عورتوں کو جنہیں تُم نے اُن کی خواہش*‏ کے مطابق رِہا کر دیا تھا، واپس لے آئے اور اُن سے زبردستی غلامی کرائی اور اِس طرح میرے نام کی توہین کی۔“‏

17 اِس لیے یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏تُم نے میری بات نہیں مانی کہ ہر ایک اپنے بھائی اور ساتھی کے لیے آزادی کا اِعلان کرے۔“‏ یہوواہ فرما رہا ہے:‏ ”‏اِس لیے اب مَیں تمہارے لیے آزادی کا اِعلان کروں گا یعنی تمہیں تلوار، وبا*‏ اور قحط کے حوالے کر دوں گا اور مَیں تمہیں زمین کی سب بادشاہتوں کے لیے دہشت کی علامت بنا دوں گا۔ 18 جن لوگوں نے میرے عہد کی باتیں نہ مان کر میرے اُس عہد کی خلاف‌ورزی کی جو اُنہوں نے تب باندھا تھا جب اُنہوں نے بچھڑے کے دو ٹکڑے کیے اور اُن کے بیچ سے گزرے، اُن کے ساتھ 19 یعنی یہوداہ کے حاکموں، یروشلم کے حاکموں، درباریوں، کاہنوں اور ملک کے سب لوگوں کے ساتھ جو بچھڑے کے ٹکڑوں کے بیچ سے گزرے، یہ ہوگا:‏ 20 مَیں اُنہیں اُن کے دُشمنوں اور اُن لوگوں کے حوالے کر دوں گا جو اُن کی جان لینے پر تُلے ہیں اور اُن کی لاشیں آسمان کے پرندوں اور زمین کے درندوں کے لیے خوراک بن جائیں گی۔ 21 مَیں یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ اور اُس کے حاکموں کو اُس کے دُشمنوں اور اُن لوگوں کے حوالے کر دوں گا جو اُن کی جان لینے پر تُلے ہیں اور بابل کے بادشاہ کی فوجوں کے حوالے بھی جو تمہارے خلاف لڑنے سے پیچھے ہٹ رہی ہیں۔“‏

22 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏دیکھو، مَیں حکم دوں گا اور وہ اِس شہر میں واپس آئیں گے اور اِس کے خلاف لڑیں گے اور اِس پر قبضہ کر کے اِسے آگ سے جلا دیں گے اور مَیں یہوداہ کے شہروں کو ویران اور غیرآباد کر دوں گا۔“‏“‏

35 یہوداہ کے بادشاہ اور یوسیاہ کے بیٹے یہویقیم کے زمانے میں یہوواہ کا یہ کلام یرمیاہ تک پہنچا:‏ 2 ‏”‏ریکابیوں کے گھر جاؤ اور اُن سے بات کرو اور اُنہیں یہوواہ کے گھر میں کھانے کے ایک کمرے*‏ میں لاؤ اور پھر اُنہیں پینے کے لیے مے پیش کرو۔“‏

3 اِس لیے مَیں حبَضّیناہ کے بیٹے یرمیاہ کے بیٹے یازنیاہ، اُس کے بھائیوں، اُس کے سب بیٹوں اور ریکابیوں کے پورے گھرانے کو 4 یہوواہ کے گھر میں لایا۔ مَیں اُنہیں سچے خدا کے بندے اور اِجدلیاہ کے بیٹے حنان کے بیٹوں کے کھانے کے کمرے میں لایا۔ یہ کمرا حاکموں کے کھانے کے اُس کمرے کے ساتھ تھا جو دربان سلّوم کے بیٹے معسیاہ کے کھانے کے کمرے کے اُوپر تھا۔ 5 پھر مَیں نے ریکابیوں کے گھرانے کے آدمیوں کے سامنے مے سے بھرے پیالے اور جام رکھے اور اُن سے کہا:‏ ”‏مے پئیں۔“‏

6 لیکن اُنہوں نے کہا:‏ ”‏ہم مے نہیں پئیں گے کیونکہ ریکاب کے بیٹے یہوناداب*‏ نے جو ہمارے بڑے بزرگ تھے، ہمیں یہ حکم دیا تھا:‏ ”‏نہ تو تُم کبھی مے پینا اور نہ تمہارے بیٹے۔ 7 تُم گھر نہ بنانا، بیج نہ بونا، پودے نہ لگانا اور انگور کے باغ نہ رکھنا بلکہ تُم ہمیشہ خیموں میں رہنا تاکہ تُم اُس ملک میں لمبے عرصے تک رہ سکو جس میں تُم پردیسیوں کے طور پر رہ رہے ہو۔“‏ 8 اِس لیے ہم اپنے بڑے بزرگ ریکاب کے بیٹے یہوناداب کی ہر وہ بات مانتے آ رہے ہیں جس کا اُنہوں نے ہمیں حکم دیا تھا۔ ہم، ہماری بیویاں، ہمارے بیٹے اور ہماری بیٹیاں کبھی مے نہیں پیتے۔ 9 ہم رہنے کے لیے گھر نہیں بناتے اور نہ ہی ہمارے پاس انگور کے باغ، کھیت یا بیج ہیں۔ 10 ہم خیموں میں رہتے ہیں اور اپنے بڑے بزرگ یہوناداب*‏ کی ہر اُس بات پر عمل کرتے ہیں جس کا اُنہوں نے حکم دیا تھا۔ 11 لیکن جب بابل کا بادشاہ نبوکدنضر*‏ اِس ملک پر حملہ کرنے آیا تو ہم نے کہا:‏ ”‏آؤ، کسدیوں اور سُوریانیوں کی فوج سے بچنے کے لیے یروشلم چلیں۔“‏ اور اب ہم یروشلم میں رہ رہے ہیں۔“‏

12 یہوواہ کا یہ کلام یرمیاہ تک پہنچا:‏ 13 ‏”‏فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏ ”‏جاؤ اور یہوداہ کے آدمیوں اور یروشلم کے باشندوں سے کہو کہ یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏کیا تمہیں باربار میری باتوں پر عمل کرنے کی تاکید نہیں کی گئی؟ 14 ریکاب کے بیٹے یہوناداب نے اپنی اولاد کو مے نہ پینے کا حکم دیا اور اُنہوں نے اُس کی بات پر عمل کرتے ہوئے آج تک مے نہیں پی ہے اور اِس طرح اپنے بڑے بزرگ کی بات پر عمل کِیا ہے۔ مَیں نے تُم سے باربار*‏ بات کی لیکن تُم نے میری بات نہیں مانی۔ 15 مَیں اپنے سب بندوں یعنی اپنے نبیوں کو باربار*‏ تمہارے پاس بھیجتا رہا اور کہتا رہا:‏ ”‏مہربانی سے تُم میں سے ہر ایک اپنی بُری راہوں کو چھوڑ دے اور صحیح کام کرے۔ تُم دوسرے خداؤں کی پرستش اور خدمت نہ کرو۔ پھر تُم اُس ملک میں آباد رہو گے جو مَیں نے تمہیں اور تمہارے باپ‌دادا کو دیا تھا۔“‏ لیکن تُم نے میری بات پر کان نہیں لگایا اور میری نہیں سنی۔ 16 ریکاب کے بیٹے یہوناداب کی اولاد نے اُس حکم پر عمل کِیا ہے جو اُن کے بڑے بزرگ نے اُنہیں دیا تھا لیکن اِس قوم نے میری نہیں سنی ہے۔“‏“‏“‏

17 ‏”‏اِس لیے فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏ ”‏دیکھو، مَیں یہوداہ اور یروشلم کے سب باشندوں پر وہ ساری آفت لاؤں گا جس سے مَیں نے اُنہیں آگاہ کِیا تھا کیونکہ مَیں نے اُن سے بات کی لیکن اُنہوں نے میری نہیں سنی۔ مَیں اُنہیں بُلاتا رہا لیکن اُنہوں نے جواب نہیں دیا۔“‏“‏

18 یرمیاہ نے ریکابیوں کے گھرانے سے کہا:‏ ”‏فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏ ”‏تُم نے اپنے بڑے بزرگ یہوناداب کے حکم پر عمل کِیا ہے اور تُم اُس کے سب حکموں پر عمل کرتے ہو اور بالکل وہی کرتے ہو جو اُس نے کہا تھا۔ 19 اِس لیے فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏ ”‏ریکاب کے بیٹے یہوناداب*‏ کی نسل میں سے ہمیشہ کوئی نہ کوئی رہے گا جو میرے حضور خدمت کرے گا۔“‏“‏“‏

36 یہوداہ کے بادشاہ اور یوسیاہ کے بیٹے یہویقیم کی حکمرانی کے چوتھے سال میں یہوواہ کا یہ کلام یرمیاہ تک پہنچا:‏ 2 ‏”‏ایک طُومار*‏ لو اور اُس میں وہ ساری باتیں لکھو جو مَیں نے تُم سے اِسرائیل اور یہوداہ اور ساری قوموں کے خلاف کہی ہیں، ہاں، وہ ساری باتیں جو مَیں نے یوسیاہ کے زمانے میں تُم سے پہلی بار بات کرنے سے لے کر آج تک کہی ہیں۔ 3 شاید جب یہوداہ کے گھرانے کے لوگ اُس ساری آفت کے بارے میں سنیں جو مَیں نے اُن پر لانے کا اِرادہ کِیا ہے تو وہ اپنی بُری روِش سے باز آئیں تاکہ مَیں اُن کی غلطی اور اُن کا گُناہ معاف کر دوں۔“‏

4 پھر یرمیاہ نے نِیریاہ کے بیٹے بارُوک کو بُلایا اور اُنہیں وہ ساری باتیں بتاتے گئے جو یہوواہ نے اُن سے کہی تھیں اور بارُوک اُنہیں طُومار*‏ میں لکھتے گئے۔ 5 اِس کے بعد یرمیاہ نے بارُوک کو یہ حکم دیا:‏ ”‏مجھ پر پابندی لگی ہے۔ اِس لیے مَیں یہوواہ کے گھر میں نہیں جا سکتا۔ 6 لہٰذا آپ کو وہاں جانا ہوگا اور طُومار میں لکھی یہوواہ کی اُن باتوں کو اُونچی آواز میں پڑھنا ہوگا جو مَیں نے آپ کو لکھوائی ہیں۔ اِنہیں یہوواہ کے گھر میں روزے والے دن لوگوں کے سامنے پڑھنا، ہاں، یہوداہ کے اُن سب لوگوں کے سامنے جو اپنے اپنے شہروں سے آئے ہوں گے۔ 7 شاید مہربانی کے لیے اُن کی درخواست یہوواہ تک پہنچے اور اُن میں سے ہر ایک اپنی بُری روِش سے باز آئے کیونکہ یہوواہ نے اِس قوم پر شدید غصہ اور غضب نازل کرنے کا اِعلان کِیا ہے۔“‏

8 نِیریاہ کے بیٹے بارُوک نے وہ سب کِیا جس کا یرمیاہ نبی نے اُنہیں حکم دیا تھا۔ اُنہوں نے یہوواہ کے گھر میں طُومار*‏ میں لکھی یہوواہ کی باتیں اُونچی آواز میں پڑھیں۔‏

9 یہوداہ کے بادشاہ اور یوسیاہ کے بیٹے یہویقیم کی حکمرانی کے پانچویں سال کے نویں مہینے میں یروشلم کے سب لوگوں اور یہوداہ کے شہروں سے یروشلم آئے سب لوگوں نے یہوواہ کے حضور روزے کا اِعلان کِیا۔ 10 پھر بارُوک نے یہوواہ کے گھر میں سب لوگوں کے سامنے طُومار*‏ میں لکھی یرمیاہ کی باتیں اُونچی آواز میں پڑھیں۔ اُس وقت وہ نقل‌نویس سافن کے بیٹے جمریاہ کے کمرے*‏ میں تھے جو یہوواہ کے گھر کے نئے دروازے کے پاس اُوپر والے صحن میں تھا۔‏

11 جب سافن کے بیٹے جمریاہ کے بیٹے میکایاہ نے طُومار*‏ میں لکھی یہوواہ کی سب باتیں سنیں 12 تو وہ بادشاہ کے محل میں مُنشی کے کمرے میں گئے۔ وہاں یہ سب حاکم*‏ بیٹھے تھے:‏ مُنشی اِلی‌سمع، سِمعیاہ کے بیٹے دِلایاہ، عکبور کے بیٹے اِلناتن، سافن کے بیٹے جمریاہ، حنانیاہ کے بیٹے صِدقیاہ اور باقی سارے حاکم۔ 13 میکایاہ نے اُنہیں وہ سب باتیں بتائیں جو اُنہوں نے اُس وقت سنی تھیں جب بارُوک نے لوگوں کو طُومار*‏ پڑھ کر سنایا تھا۔‏

14 پھر سب حاکموں نے کُوشی کے بیٹے سِلمیاہ کے بیٹے نِتنیاہ کے بیٹے یہودی کو بارُوک کے پاس یہ کہہ کر بھیجا:‏ ”‏اپنے ساتھ وہ طُومار لے کر آؤ جو تُم نے لوگوں کے سامنے پڑھا ہے۔“‏ نِیریاہ کے بیٹے بارُوک نے اپنے ہاتھ میں وہ طُومار لیا اور اُن کے پاس گئے۔ 15 اُنہوں نے بارُوک سے کہا:‏ ”‏مہربانی سے بیٹھ جاؤ اور اِسے اُونچی آواز میں پڑھ کر ہمیں سناؤ۔“‏ اِس پر بارُوک نے اُن کے سامنے وہ طُومار پڑھا۔‏

16 اُنہوں نے یہ سب باتیں سنتے ہی خوف کے مارے ایک دوسرے کو دیکھا اور بارُوک سے کہا:‏ ”‏ہمیں بادشاہ کو لازمی یہ سب باتیں بتانی ہوں گی۔“‏ 17 اُنہوں نے بارُوک سے پوچھا:‏ ”‏مہربانی سے ہمیں بتاؤ کہ تُم نے یہ سب باتیں کیسے لکھی ہیں؟ کیا یہ یرمیاہ نے تُم سے لکھوائی ہیں؟“‏ 18 بارُوک نے اُنہیں جواب دیا:‏ ”‏وہ مجھے یہ ساری باتیں بتاتے گئے اور مَیں سیاہی سے اِنہیں اِس طُومار*‏ پر لکھتا گیا۔“‏ 19 حاکموں نے بارُوک سے کہا:‏ ”‏جاؤ اور تُم اور یرمیاہ کہیں چھپ جاؤ اور کسی کو نہ بتانا کہ تُم کہاں ہو۔“‏

20 اِس کے بعد وہ صحن میں بادشاہ کے پاس گئے اور طُومار مُنشی اِلی‌سمع کے کمرے میں رکھ دیا۔ اُنہوں نے بادشاہ کو وہ سب کچھ بتایا جو اُنہوں نے سنا تھا۔‏

21 بادشاہ نے یہودی کو طُومار لینے بھیجا اور وہ مُنشی اِلی‌سمع کے کمرے سے طُومار لائے۔ پھر یہودی نے بادشاہ اور اُن سب حاکموں کے سامنے اُسے پڑھنا شروع کِیا جو بادشاہ کے پاس کھڑے تھے۔ 22 یہ نواں مہینہ*‏ تھا اور بادشاہ اُس گھر میں بیٹھا تھا جو سردیوں کے لیے بنایا گیا تھا۔ اُس کے سامنے انگیٹھی میں آگ جل رہی تھی۔ 23 جب یہودی نے طُومار کے تین چار حصے پڑھ لیے تو بادشاہ نے مُنشی کی چُھری سے وہ حصے کاٹ کر انگیٹھی میں جلتی آگ میں پھینک دیے۔ کرتے کرتے سارا طُومار انگیٹھی کی آگ میں جلا دیا گیا۔ 24 اُن لوگوں کو بالکل بھی ڈر نہیں لگا۔ یہ سب باتیں سُن کر نہ تو بادشاہ نے اور نہ ہی اُس کے سب خادموں نے اپنے کپڑے پھاڑے۔ 25 اِلناتن، دِلایاہ اور جمریاہ نے بادشاہ کی مِنت کی کہ وہ طُومار نہ جلائے مگر بادشاہ نے اُن کی نہیں سنی۔ 26 اِس کے علاوہ بادشاہ نے بادشاہ کے بیٹے یرحمیل، عزری‌ایل کے بیٹے سِرایاہ اور عبدایل کے بیٹے سِلمیاہ کو مُنشی بارُوک اور یرمیاہ نبی کو گِرفتار کرنے کا حکم دیا۔ لیکن یہوواہ نے اُنہیں چھپائے رکھا۔‏

27 جب بادشاہ نے وہ طُومار جلا دیا جس میں بارُوک نے وہ باتیں لکھی تھیں جو یرمیاہ نے بتائی تھیں تو اُس کے بعد ایک بار پھر یہوواہ کا کلام یرمیاہ تک پہنچا اور اُس نے کہا:‏ 28 ‏”‏ایک اَور طُومار لو اور اُس میں وہی سب باتیں لکھو جو پہلے طُومار میں تھیں جسے یہوداہ کے بادشاہ یہویقیم نے جلا دیا ہے۔ 29 تُم یہوداہ کے بادشاہ یہویقیم کے خلاف یہ پیغام سناؤ:‏ ”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏تُم نے یہ طُومار جلا دیا اور کہا:‏ ”‏تُم نے اِس پر یہ کیوں لکھا کہ ”‏بابل کا بادشاہ ضرور آئے گا اور اِس ملک کو تباہ کر دے گا اور اِس میں ایک بھی اِنسان یا جانور نہیں چھوڑے گا“‏؟“‏ 30 اِس لیے یہوواہ یہوداہ کے بادشاہ یہویقیم کے خلاف یہ فرماتا ہے:‏ ”‏اُس کی اولاد میں سے کوئی نہیں ہوگا جو داؤد کے تخت پر بیٹھے اور اُس کی لاش دن میں دھوپ میں اور رات میں پالے*‏ میں پڑی رہے گی۔ 31 مَیں اُس سے، اُس کی اولاد سے اور اُس کے خادموں سے اُن کے گُناہ کا حساب لوں گا اور مَیں اُن پر، یروشلم کے باشندوں پر اور یہوداہ کے آدمیوں پر وہ سب آفتیں لاؤں گا جو مَیں نے کہیں لیکن اُنہوں نے میری نہیں سنی۔“‏“‏“‏“‏

32 پھر یرمیاہ نے ایک اَور طُومار لیا اور اُسے نِیریاہ کے بیٹے مُنشی بارُوک کو دیا اور اُنہیں وہ ساری باتیں لکھواتے گئے جو اُس طُومار*‏ میں لکھی تھیں جسے یہوداہ کے بادشاہ یہویقیم نے آگ میں جلا دیا تھا۔ اُس میں اِس طرح کی اَور بھی بہت سی باتیں شامل کی گئیں۔‏

37 یوسیاہ کے بیٹے صِدقیاہ نے یہویقیم کے بیٹے کونیاہ*‏ کی جگہ حکمرانی شروع کی کیونکہ بابل کے بادشاہ نبوکدنضر*‏ نے اُسے ملک یہوداہ کا بادشاہ بنایا تھا۔ 2 لیکن اُس نے اور اُس کے خادموں اور ملک کے لوگوں نے یہوواہ کی وہ باتیں نہیں سنیں جو اُس نے یرمیاہ نبی کے ذریعے فرمائی تھیں۔‏

3 بادشاہ صِدقیاہ نے سِلمیاہ کے بیٹے یہوکل اور کاہن معسیاہ کے بیٹے صِفَنیاہ کو یہ پیغام دے کر یرمیاہ نبی کے پاس بھیجا:‏ ”‏مہربانی سے ہمارے خدا یہوواہ سے ہماری خاطر دُعا کریں۔“‏ 4 یرمیاہ کو اب تک قید میں نہیں ڈالا گیا تھا اِس لیے وہ آزادی سے لوگوں کے بیچ گھوم پھر رہے تھے۔ 5 اُس وقت فِرعون کی فوج مصر سے نکل چُکی تھی جبکہ کسدیوں نے یروشلم کو گھیرا ہوا تھا۔ جب کسدیوں نے اِس بارے میں سنا تو وہ یروشلم کو چھوڑ کر چلے گئے۔ 6 تب یہوواہ کا یہ کلام یرمیاہ نبی تک پہنچا:‏ 7 ‏”‏اِسرائیل کا خدا یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏ ”‏تُم یہوداہ کے بادشاہ سے جس نے تمہیں مجھ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے میرے پاس بھیجا ہے، یہ کہنا:‏ ”‏دیکھو!‏ فِرعون کی فوج کو جو تمہاری مدد کرنے آ رہی ہے، اپنے ملک مصر واپس جانا پڑے گا۔ 8 کسدی لوٹیں گے اور اِس شہر کے خلاف لڑیں گے اور اِس پر قبضہ کریں گے اور اِسے آگ سے جلا دیں گے۔“‏ 9 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏خود کو*‏ یہ کہہ کر دھوکا نہ دو:‏ ”‏کسدی ضرور ہمارا پیچھا چھوڑ دیں گے“‏ کیونکہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ 10 اگر تُم کسدیوں کی پوری فوج کو بھی جو تمہارے خلاف لڑ رہی ہے، ہرا دو گے اور صرف اُن کے زخمی سپاہی باقی بچیں گے تو بھی وہ اپنے خیموں سے اُٹھیں گے اور اِس شہر کو آگ سے جلا دیں گے۔“‏“‏“‏

11 جب کسدی فوج فِرعون کی فوج کی وجہ سے یروشلم کو چھوڑ کر چلی گئی 12 تو یرمیاہ اپنے لوگوں کے بیچ اپنا حصہ لینے یروشلم سے بِنیامین کے علاقے کے لیے روانہ ہوئے۔ 13 لیکن جب وہ بِنیامینی دروازے پر پہنچے تو حنانیاہ کے بیٹے سِلمیاہ کے بیٹے اِریاہ نے جو محافظوں کا سربراہ تھا، یرمیاہ نبی کو پکڑ لیا اور کہا:‏ ”‏تُم جا کر کسدیوں کے ساتھ مل جاؤ گے!‏“‏ 14 لیکن یرمیاہ نے کہا:‏ ”‏یہ سچ نہیں ہے!‏ مَیں کسدیوں کا ساتھ دینے نہیں جا رہا۔“‏ مگر اِریاہ نے اُن کی نہیں سنی۔ اُس نے اُنہیں گِرفتار کر لیا اور حاکموں کے پاس لے آیا۔ 15 حاکموں کو یرمیاہ پر شدید غصہ آیا۔ اُنہوں نے اُنہیں مارا پیٹا اور مُنشی یہونتن کے گھر میں قید کر دیا*‏ کیونکہ اُس کے گھر کو ایک قیدخانہ بنا دیا گیا تھا۔ 16 یرمیاہ کو اُس تہ‌خانے*‏ میں ڈال دیا گیا جس میں کئی کال کوٹھڑیاں تھیں اور وہ بہت دنوں تک وہاں رہے۔‏

17 پھر بادشاہ صِدقیاہ نے اُنہیں بُلایا اور اپنے محل میں علیٰحدگی میں اُن سے سوال پوچھے۔ اُس نے پوچھا:‏ ”‏کیا آپ تک یہوواہ کی طرف سے کوئی کلام پہنچا ہے؟“‏ یرمیاہ نے کہا:‏ ”‏جی!‏“‏ پھر اُنہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:‏ ”‏آپ کو بابل کے بادشاہ کے حوالے کر دیا جائے گا!‏“‏

18 یرمیاہ نے بادشاہ صِدقیاہ سے یہ بھی کہا:‏ ”‏مَیں نے آپ کے، آپ کے خادموں کے اور اِس قوم کے خلاف کیا گُناہ کِیا ہے جو آپ نے مجھے قید میں ڈال دیا ہے؟ 19 آپ کے وہ نبی اب کہاں ہیں جنہوں نے آپ سے بات کرتے ہوئے یہ پیش‌گوئی کی تھی کہ ”‏بابل کا بادشاہ آپ پر اور اِس ملک پر حملہ کرنے نہیں آئے گا“‏؟ 20 میرے مالک بادشاہ سلامت!‏ مہربانی سے میری بات سنیں۔ مہربانی سے مجھ پر رحم کریں اور میری ایک گزارش قبول کر لیں۔ مجھے مُنشی یہونتن کے گھر واپس نہ بھیجیں ورنہ مَیں وہاں مر جاؤں گا۔“‏ 21 اِس پر بادشاہ صِدقیاہ نے حکم دیا کہ یرمیاہ کو محافظوں کے صحن میں حراست میں رکھا جائے۔ اُنہیں ہر روز باورچیوں کی گلی سے ایک گول روٹی دی جاتی تھی جب تک کہ شہر میں ساری روٹی ختم نہیں ہو گئی۔ اور یرمیاہ محافظوں کے صحن میں ہی رہے۔‏

38 متان کے بیٹے سِفطیاہ، فشحور کے بیٹے جدلیاہ، سِلمیاہ کے بیٹے یُوکل اور مَلکیاہ کے بیٹے فشحور نے یرمیاہ کی یہ باتیں سنیں جو وہ سب لوگوں سے کہہ رہے تھے:‏ 2 ‏”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏جو کوئی اِس شہر میں رہے گا، وہ تلوار، قحط اور وبا*‏ سے مر جائے گا۔ لیکن جو کوئی کسدیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دے گا،‏*‏ وہ زندہ رہے گا اور اُس کی جان بچ جائے گی۔“‏*‏ 3 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اِس شہر کو بابل کے بادشاہ کی فوج کے حوالے ضرور کِیا جائے گا اور وہ اِس پر قبضہ کر لے گا۔“‏“‏

4 حاکموں نے بادشاہ سے کہا:‏ ”‏مہربانی سے اِس آدمی کو مروا دیں کیونکہ یہ اِس طرح کی باتیں کر کے اِس شہر میں بچے ہوئے سپاہیوں اور سب لوگوں کا حوصلہ توڑ رہا ہے۔‏*‏ یہ آدمی اِن لوگوں کی سلامتی نہیں بلکہ بربادی چاہتا ہے۔“‏ 5 بادشاہ صِدقیاہ نے جواب دیا:‏ ”‏دیکھو!‏ مَیں اُسے تمہارے حوالے کر رہا ہوں کیونکہ بادشاہ تمہیں روکنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔“‏

6 اِس لیے اُنہوں نے یرمیاہ کو پکڑ لیا اور بادشاہ کے بیٹے مَلکیاہ کے حوض میں پھینک دیا جو محافظوں کے صحن میں تھا۔ اُنہوں نے یرمیاہ کو رسیوں کے ذریعے نیچے اُتارا۔ حوض میں کوئی پانی نہیں تھا؛ صرف کیچڑ تھی۔ یرمیاہ کیچڑ میں دھنسنے لگے۔‏

7 بادشاہ کے محل کے ایک خواجہ‌سرا*‏ یعنی عبدمَلِک اِیتھیوپیائی نے سنا کہ یرمیاہ کو حوض میں ڈال دیا گیا ہے۔ اُس وقت بادشاہ بِنیامینی دروازے پر بیٹھا تھا۔ 8 عبدمَلِک بادشاہ کے محل سے نکل کر بادشاہ کے پاس گئے اور اُس سے کہا:‏ 9 ‏”‏میرے مالک بادشاہ سلامت!‏ اُن آدمیوں نے یرمیاہ نبی کے ساتھ بہت بُرا کِیا ہے!‏ اُنہوں نے اُنہیں حوض میں ڈال دیا ہے اور وہ قحط کی وجہ سے وہاں مر جائیں گے کیونکہ شہر میں کوئی روٹی نہیں بچی۔“‏

10 بادشاہ نے عبدمَلِک اِیتھیوپیائی کو حکم دیا:‏ ”‏اپنے ساتھ یہاں سے 30 آدمی لو اور اِس سے پہلے کہ یرمیاہ نبی مر جائے، اُسے حوض سے باہر نکالو۔“‏ 11 اِس پر عبدمَلِک آدمیوں کو اپنے ساتھ لے کر بادشاہ کے محل سے اُس جگہ گئے جو خزانہ‌گھر کے نیچے تھی۔ اُنہوں نے وہاں سے کچھ چتھڑے اور پھٹے پُرانے کپڑے لیے اور اِنہیں رسیوں سے حوض میں یرمیاہ کے پاس نیچے اُتارا۔ 12 پھر عبدمَلِک اِیتھیوپیائی نے یرمیاہ سے کہا:‏ ”‏مہربانی سے اپنی بغلوں اور رسیوں کے بیچ یہ چتھڑے اور کپڑے رکھیں۔“‏ یرمیاہ نے ایسا ہی کِیا 13 اور اُن لوگوں نے یرمیاہ کو رسیوں سے کھینچ کر حوض سے باہر نکال لیا۔ اور یرمیاہ محافظوں کے صحن میں ہی رہے۔‏

14 بادشاہ صِدقیاہ نے یرمیاہ نبی کو یہوواہ کے گھر میں تیسرے دروازے کے پاس بُلایا اور اُن سے کہا:‏ ”‏مَیں تُم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ مجھ سے کچھ چھپانا مت۔“‏ 15 یرمیاہ نے صِدقیاہ سے کہا:‏ ”‏اگر مَیں آپ کو کچھ بتاؤں گا تو آپ ضرور مجھے مار ڈالیں گے اور اگر مَیں آپ کو کوئی مشورہ دوں گا تو آپ میری نہیں سنیں گے۔“‏ 16 تب بادشاہ صِدقیاہ نے علیٰحدگی میں قسم کھاتے ہوئے یرمیاہ سے کہا:‏ ”‏زندہ خدا یہوواہ کی قسم جس نے ہمیں یہ زندگی دی ہے،‏*‏ مَیں تمہیں نہیں ماروں گا اور نہ ہی تمہیں اِن آدمیوں کے حوالے کروں گا جو تمہاری جان لینے پر تُلے ہیں۔“‏

17 پھر یرمیاہ نے صِدقیاہ سے کہا:‏ ”‏فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏ ”‏اگر تُم بابل کے بادشاہ کے حاکموں کے سامنے ہتھیار ڈال دو گے*‏ تو تمہاری جان بخش دی جائے گی اور یہ شہر آگ سے نہیں جلایا جائے گا اور تُم اور تمہارا گھرانہ بچ جائے گا۔ 18 لیکن اگر تُم بابل کے بادشاہ کے حاکموں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالو گے*‏ تو یہ شہر کسدیوں کے حوالے کر دیا جائے گا اور وہ اِسے آگ سے جلا دیں گے اور تُم اُن کے ہاتھ سے نہیں بچو گے۔“‏“‏

19 بادشاہ صِدقیاہ نے یرمیاہ سے کہا:‏ ”‏مجھے اُن یہودیوں کا خوف ہے جو کسدیوں کے ساتھ مل گئے ہیں کیونکہ اگر مجھے اُن کے حوالے کر دیا گیا تو وہ میرے ساتھ بڑی بے‌رحمی سے پیش آئیں گے۔“‏ 20 مگر یرمیاہ نے کہا:‏ ”‏آپ کو اُن کے حوالے نہیں کِیا جائے گا۔ مہربانی سے یہوواہ کی وہ بات مانیں جو مَیں آپ کو بتا رہا ہوں۔ اِس طرح آپ کا بھلا ہوگا اور آپ*‏ زندہ رہیں گے۔ 21 لیکن اگر آپ ہتھیار ڈالنے*‏ سے اِنکار کر دیں گے تو یہوواہ نے مجھ پر یہ بات ظاہر کی ہے:‏ 22 دیکھو!‏ یہوداہ کے بادشاہ کے محل میں بچنے والی عورتوں کو بابل کے بادشاہ کے حاکموں کے پاس باہر لایا جا رہا ہے اور وہ کہہ رہی ہیں:‏

‏”‏جن آدمیوں پر آپ نے بھروسا کِیا تھا، اُنہوں نے آپ کو دھوکا دیا ہے اور آپ پر حاوی ہو گئے ہیں۔‏

اُنہوں نے آپ کے پاؤں کیچڑ میں دھنسا دیے ہیں

اور اب وہ اُلٹے پاؤں بھاگ گئے ہیں۔“‏

23 وہ تمہاری سب بیویوں اور بیٹوں کو کسدیوں کے پاس باہر لا رہے ہیں۔ تُم اُن کے ہاتھ سے نہیں بچ پاؤ گے بلکہ بابل کا بادشاہ تمہیں پکڑ لے گا اور تمہاری وجہ سے اِس شہر کو آگ سے جلا دیا جائے گا۔“‏

24 اِس پر صِدقیاہ نے یرمیاہ سے کہا:‏ ”‏یہ باتیں کسی کو نہ بتانا ورنہ تمہیں مار ڈالا جائے گا۔ 25 اور اگر حاکم یہ سنیں کہ مَیں نے تُم سے بات کی ہے اور آ کر تُم سے کہیں:‏ ”‏مہربانی سے ہمیں بتاؤ کہ تُم نے بادشاہ سے کیا کہا ہے۔ ہم سے کچھ مت چھپاؤ اور ہم تمہاری جان نہیں لیں گے۔ بادشاہ نے تُم سے کیا کہا ہے؟“‏ 26 تو تُم اُنہیں جواب دینا:‏ ”‏مَیں بادشاہ سے یہ درخواست کر رہا تھا کہ وہ مجھے یہونتن کے گھر واپس نہ بھیجیں تاکہ مَیں وہاں مر نہ جاؤں۔“‏“‏

27 کچھ وقت بعد سارے حاکم یرمیاہ کے پاس آئے اور اُن سے سوال جواب کیے۔ یرمیاہ نے اُن سے وہ سب کہا جو بادشاہ نے اُنہیں کہنے کا حکم دیا تھا۔ تب حاکموں نے کوئی اَور بات نہیں کی کیونکہ کسی نے اُن کی بات‌چیت نہیں سنی تھی۔ 28 جس دن تک یروشلم پر قبضہ نہیں کِیا گیا، یرمیاہ محافظوں کے صحن میں ہی رہے۔ جب یروشلم پر قبضہ کِیا گیا تو وہ وہیں تھے۔‏

39 یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ کی حکمرانی کے نویں سال کے دسویں مہینے میں بابل کا بادشاہ نبوکدنضر*‏ اور اُس کی ساری فوج یروشلم آئی اور اُسے گھیر لیا۔‏

2 صِدقیاہ کی حکمرانی کے 11ویں سال کے چوتھے مہینے کے نویں دن اُنہوں نے شہر کی دیوار میں شگاف ڈال دیا۔ 3 بابل کے بادشاہ کے سارے حاکم یعنی سَمگر*‏ نِیرگَل‌سراضر، ربسارِس*‏ نبوسرسکیم،‏*‏ ربماگ*‏ نِیرگَل‌سراضر اور بابل کے بادشاہ کے باقی سارے حاکم اندر چلے گئے اور درمیانی دروازے پر بیٹھ گئے۔‏

4 جب یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ اور سب سپاہیوں نے اُنہیں دیکھا تو وہ شہر سے بھاگ گئے۔ وہ راتوں رات بادشاہ کے باغ کے راستے دوہری دیوار کے دروازے سے نکل گئے اور اراباہ کے راستے آگے بڑھتے گئے۔ 5 لیکن کسدی فوج نے اُن کا پیچھا کِیا اور یریحو کے بنجر میدانوں میں صِدقیاہ تک پہنچ گئے۔ اُنہوں نے اُسے پکڑ لیا اور حمات کے علاقے رِبلہ میں بابل کے بادشاہ نبوکدنضر*‏ کے پاس لائے جہاں نبوکدنضر نے اُسے سزا سنائی۔ 6 بابل کے بادشاہ نے رِبلہ میں صِدقیاہ کی آنکھوں کے سامنے اُس کے بیٹوں کو قتل کرا دیا اور یہوداہ کے سب نوابوں کو بھی مروا دیا۔ 7 پھر اُس نے صِدقیاہ کو اندھا کر دیا اور اُسے تانبے کی بیڑیوں میں جکڑ کر بابل لے گیا۔‏

8 اِس کے بعد کسدیوں نے بادشاہ کا محل اور لوگوں کے گھر جلا دیے اور یروشلم کی دیواریں ڈھا دیں۔ 9 محافظوں کا سربراہ نبوزرادان شہر میں باقی بچے لوگوں، اُس کے ساتھ مل جانے والے لوگوں اور باقی لوگوں کو قیدی بنا کر بابل لے گیا۔‏

10 لیکن محافظوں کے سربراہ نبوزرادان نے کچھ غریب‌ترین لوگوں کو یہوداہ میں چھوڑ دیا جن کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ اُس دن اُس نے اُنہیں انگور کے باغ اور کھیت بھی دیے تاکہ وہ اُن میں کام*‏ کریں۔‏

11 بابل کے بادشاہ نبوکدنضر*‏ نے محافظوں کے سربراہ نبوزرادان کو یرمیاہ کے حوالے سے یہ حکم دیا:‏ 12 ‏”‏اُسے لے جاؤ اور اُس کا خیال رکھو؛ اُسے کوئی نقصان نہ پہنچانا اور وہ جو کچھ بھی مانگے، اُسے دینا۔“‏

13 اِس پر محافظوں کے سربراہ نبوزرادان، ربسارِس*‏ نبوشزبان، ربماگ*‏ نِیرگَل‌سراضر اور بابل کے بادشاہ کے سب اہم آدمیوں نے کچھ لوگوں کو بھیجا 14 جنہوں نے یرمیاہ کو محافظوں کے صحن سے نکالا اور اُنہیں سافن کے بیٹے اخی‌قام کے بیٹے جدلیاہ کے حوالے کر دیا تاکہ وہ اُنہیں اپنے گھر لے جائے۔ اِس طرح یرمیاہ لوگوں کے بیچ رہنے لگے۔‏

15 جب یرمیاہ محافظوں کے صحن میں قید تھے تو یہوواہ کا یہ کلام اُن تک پہنچا:‏ 16 ‏”‏جاؤ اور عبدمَلِک اِیتھیوپیائی کو بتاؤ:‏ ”‏فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اِس شہر کی بھلائی کے لیے نہیں بلکہ اِس پر آفت لانے کے لیے اپنی باتیں پوری کرنے والا ہوں اور اُس دن تُم ایسا ہوتے دیکھو گے۔“‏“‏

17 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏لیکن اُس دن مَیں تمہیں بچا لوں گا اور تمہیں اُن آدمیوں کے حوالے نہیں کِیا جائے گا جن سے تُم ڈرتے ہو۔“‏

18 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں ضرور تمہاری حفاظت کروں گا اور تُم تلوار سے ہلاک نہیں ہو گے۔ تمہاری جان بچ جائے گی*‏ کیونکہ تُم نے مجھ پر بھروسا کِیا ہے۔“‏“‏

40 جب محافظوں کے سربراہ نبوزرادان نے یرمیاہ کو رامہ سے رِہا کر دیا تو اِس کے بعد یہوواہ کا کلام یرمیاہ تک پہنچا۔ اُنہیں ہتھکڑیاں پہنا کر وہاں لے جایا گیا تھا اور وہ یروشلم اور یہوداہ کے اُن سب لوگوں میں شامل تھے جنہیں قیدی بنا کر بابل لے جایا گیا تھا۔ 2 پھر محافظوں کا سربراہ یرمیاہ کو ایک طرف لے گیا اور اُن سے کہا:‏ ”‏تمہارے خدا یہوواہ نے پہلے سے بتا دیا تھا کہ وہ اِس جگہ پر تباہی لائے گا 3 اور یہوواہ اپنی بات کے عین مطابق تباہی لایا بھی کیونکہ تُم لوگوں نے یہوواہ کے خلاف گُناہ کِیا اور اُس کی بات نہیں مانی۔ اِسی لیے تمہارے ساتھ ایسا ہوا۔ 4 مَیں آج تمہارے ہاتھ سے ہتھکڑیاں کھول کر تمہیں آزاد کر رہا ہوں۔ اگر تُم میرے ساتھ بابل آنا چاہو تو آ جاؤ۔ مَیں تمہارا خیال رکھوں گا۔ لیکن اگر تُم میرے ساتھ بابل نہ آنا چاہو تو نہ آؤ۔ دیکھو!‏ پورا ملک تمہارے سامنے ہے۔ جہاں جانا چاہتے ہو، جاؤ۔“‏

5 اِس سے پہلے کہ یرمیاہ جانے کے لیے مُڑتے، نبوزرادان نے اُن سے کہا:‏ ”‏سافن کے بیٹے اخی‌قام کے بیٹے جدلیاہ کے پاس لوٹ جاؤ جسے بابل کے بادشاہ نے یہوداہ کے شہروں کا حاکم مقرر کِیا ہے اور اُس کے ساتھ لوگوں کے بیچ رہو یا جہاں تمہارا دل کرے وہاں جاؤ۔“‏

محافظوں کے سربراہ نے اُنہیں کچھ کھانا اور ایک تحفہ دیا اور جانے دیا۔ 6 پھر یرمیاہ اخی‌قام کے بیٹے جدلیاہ کے پاس مِصفاہ چلے گئے اور اُس کے ساتھ اُن لوگوں کے بیچ رہے جو ملک میں باقی بچے تھے۔‏

7 کچھ وقت بعد فوج کے اُن سب سربراہوں نے جو اپنے آدمیوں کے ساتھ میدان میں تھے، سنا کہ بابل کے بادشاہ نے اخی‌قام کے بیٹے جدلیاہ کو یہوداہ کا حاکم مقرر کِیا ہے اور اُسے ملک کے اُن غریب لوگوں یعنی مردوں، عورتوں اور بچوں کا نگران ٹھہرایا ہے جنہیں قیدی بنا کر بابل نہیں لے جایا گیا تھا۔ 8 اِس لیے وہ مِصفاہ میں جدلیاہ کے پاس آئے۔ اُن میں نِتنیاہ کا بیٹا اِسماعیل، قریح کے بیٹے یوحنان اور یونتن، تنحومت کا بیٹا سِرایاہ، عیفی نطوفاتی کے بیٹے، ایک معکاتی کا بیٹا یزنیاہ اور اُن سب کے آدمی شامل تھے۔ 9 سافن کے بیٹے اخی‌قام کے بیٹے جدلیاہ نے اُن سے اور اُن کے آدمیوں سے قسم کھاتے ہوئے کہا:‏ ”‏کسدیوں کی خدمت کرنے سے نہ ڈرو۔ ملک میں رہو اور بابل کے بادشاہ کی خدمت کرو۔ اِس میں آپ کی بھلائی ہے۔ 10 جہاں تک میری بات ہے، مَیں اُن کسدیوں کے سامنے آپ کی نمائندگی کرنے*‏ کے لیے مِصفاہ میں رہوں گا جو ہمارے پاس آتے ہیں۔ لیکن آپ مے، موسمِ‌گرما کے پھل اور تیل جمع کرو اور اِنہیں اپنے مرتبانوں میں رکھو اور اُن شہروں میں بس جاؤ جن پر آپ نے قبضہ کِیا ہے۔“‏

11 موآب، عمون، ادوم اور باقی سب علاقوں میں رہنے والے سارے یہودیوں نے بھی سنا کہ بابل کے بادشاہ نے یہوداہ میں لوگوں کا ایک بچا ہوا حصہ چھوڑ دیا ہے اور سافن کے بیٹے اخی‌قام کے بیٹے جدلیاہ کو اُن کا حاکم مقرر کِیا ہے۔ 12 سارے یہودی اُن سب جگہوں سے لوٹنے لگے جہاں اُنہیں تتربتر کر دیا گیا تھا۔ وہ ملک یہوداہ میں جدلیاہ کے پاس مِصفاہ آئے اور اُنہوں نے بہت بڑی تعداد میں مے اور موسمِ‌گرما کے پھل جمع کیے۔‏

13 قریح کا بیٹا یوحنان اور فوج کے سب سربراہ جو میدان میں تھے، جدلیاہ کے پاس مِصفاہ آئے۔ 14 اُنہوں نے جدلیاہ سے کہا:‏ ”‏کیا آپ کو پتہ ہے کہ عمونیوں کے بادشاہ بعلیس نے نِتنیاہ کے بیٹے اِسماعیل کو آپ*‏ کو قتل کرنے کے لیے بھیجا ہے؟“‏ لیکن اخی‌قام کے بیٹے جدلیاہ نے اُن کی بات کا یقین نہیں کِیا۔‏

15 پھر قریح کے بیٹے یوحنان نے مِصفاہ میں علیٰحدگی میں جدلیاہ سے کہا:‏ ”‏مَیں جا کر نِتنیاہ کے بیٹے اِسماعیل کو مار ڈالنا چاہتا ہوں اور کسی کو اِس بارے میں پتہ نہیں چلے گا۔ وہ آپ*‏ کو کیوں مار ڈالے؟ یہوداہ کے سب لوگ جو آپ کے پاس جمع ہوئے ہیں، تتربتر کیوں ہو جائیں اور یہوداہ کا بچا ہوا حصہ کیوں مٹ جائے؟“‏ 16 لیکن اخی‌قام کے بیٹے جدلیاہ نے قریح کے بیٹے یوحنان سے کہا:‏ ”‏ایسا مت کرنا کیونکہ آپ اِسماعیل کے بارے میں جو کچھ کہہ رہے ہو، وہ جھوٹ ہے۔“‏

41 ساتویں مہینے میں اِلی‌سمع کے بیٹے نِتنیاہ کا بیٹا اِسماعیل جو شاہی نسل سے تھا اور بادشاہ کے اہم آدمیوں میں سے ایک تھا، دس اَور آدمیوں کے ساتھ اخی‌قام کے بیٹے جدلیاہ کے پاس مِصفاہ آیا۔ جب وہ لوگ مِصفاہ میں ساتھ کھانا کھا رہے تھے 2 تو نِتنیاہ کا بیٹا اِسماعیل اور اُس کے ساتھ آئے دس آدمی کھڑے ہوئے اور سافن کے بیٹے اخی‌قام کے بیٹے جدلیاہ کو تلوار سے مار ڈالا۔ اِس طرح اُس نے اُس آدمی کو قتل کر دیا جسے بابل کے بادشاہ نے ملک کا حاکم مقرر کِیا تھا۔ 3 اِسماعیل نے اُن سب یہودیوں کو بھی مار ڈالا جو مِصفاہ میں جدلیاہ کے ساتھ تھے اور اُن کسدی سپاہیوں کو بھی جو وہاں تھے۔‏

4 جدلیاہ کی موت کے دوسرے دن جبکہ کسی کو ابھی تک اِس بارے میں نہیں پتہ تھا، 5 سِکم، سیلا اور سامریہ سے 80 آدمی آئے۔ اُن کی داڑھی مُنڈی ہوئی تھی، اُن کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور اُنہوں نے اپنے جسم کو چیرا ہوا تھا۔ وہ اپنے ہاتھ میں اناج کے نذرانے اور لوبان لائے تاکہ اِنہیں یہوواہ کے گھر میں پیش کر سکیں۔ 6 نِتنیاہ کا بیٹا اِسماعیل اُن سے ملنے کے لیے مِصفاہ سے نکلا۔ وہ راستے میں روتا ہوا جا رہا تھا۔ جب وہ اُن کے پاس پہنچا تو اُس نے اُن سے کہا:‏ ”‏اخی‌قام کے بیٹے جدلیاہ کے پاس آؤ۔“‏ 7 لیکن جب وہ شہر میں آئے تو نِتنیاہ کے بیٹے اِسماعیل اور اُس کے آدمیوں نے اُنہیں قتل کر دیا اور اُن کی لاشیں حوض میں پھینک دیں۔‏

8 لیکن اُن میں سے دس آدمیوں نے اِسماعیل سے کہا:‏ ”‏ہمیں نہ ماریں کیونکہ ہم نے کھیت میں گندم، جَو، تیل اور شہد کے ذخیرے چھپائے ہوئے ہیں۔“‏ اِس لیے اِسماعیل نے اُنہیں اور اُن کے بھائیوں کو نہیں مارا۔ 9 اِسماعیل نے اُن سب آدمیوں کی لاشیں ایک بڑے حوض میں پھینک دیں جنہیں اُس نے قتل کِیا تھا۔ وہ حوض بادشاہ آسا نے اِسرائیل کے بادشاہ بعشا کی وجہ سے بنوایا تھا۔ نِتنیاہ کے بیٹے اِسماعیل نے اُس حوض کو قتل کیے گئے آدمیوں کی لاشوں سے بھر دیا۔‏

10 اِسماعیل نے مِصفاہ میں موجود باقی سب لوگوں کو قیدی بنا لیا جن میں بادشاہ کی بیٹیاں اور مِصفاہ میں بچے باقی سب لوگ شامل تھے جنہیں محافظوں کے سربراہ نبوزرادان نے اخی‌قام کے بیٹے جدلیاہ کی نگرانی میں چھوڑا تھا۔ نِتنیاہ کے بیٹے اِسماعیل نے اُن لوگوں کو قیدی بنایا اور اُس پار عمونیوں کی طرف جانے کے لیے نکل پڑا۔‏

11 جب قریح کے بیٹے یوحنان اور فوج کے اُن سب سربراہوں نے جو اُس کے ساتھ تھے، اُن بُرے کاموں کے بارے میں سنا جو نِتنیاہ کے بیٹے اِسماعیل نے کیے تھے 12 تو اُنہوں نے سب آدمیوں کو ساتھ لیا اور نِتنیاہ کے بیٹے اِسماعیل سے لڑنے گئے اور وہ اُنہیں جِبعون کے بڑے پانیوں*‏ کے پاس ملا۔‏

13 جب اِسماعیل کے ساتھ موجود سب لوگوں نے قریح کے بیٹے یوحنان اور فوج کے اُن سب سربراہوں کو دیکھا جو اُس کے ساتھ تھے تو وہ خوش ہو گئے۔ 14 پھر وہ سب لوگ جنہیں اِسماعیل مِصفاہ سے قیدی بنا کر لایا تھا، مُڑے اور قریح کے بیٹے یوحنان کے پاس چلے گئے۔ 15 لیکن نِتنیاہ کا بیٹا اِسماعیل اور اُس کے آٹھ آدمی یوحنان کے ہاتھ سے بچ کر عمونیوں کے پاس بھاگ گئے۔‏

16 نِتنیاہ کے بیٹے اِسماعیل نے اخی‌قام کے بیٹے جدلیاہ کو مارنے کے بعد مِصفاہ میں بچے جن لوگوں کو قیدی بنا لیا تھا، اُنہیں قریح کے بیٹے یوحنان اور اُس کے ساتھ موجود فوج کے سب سربراہوں نے چھڑا لیا۔ اُنہوں نے اُن سب لوگوں یعنی مردوں، سپاہیوں، عورتوں، بچوں اور درباریوں کو ساتھ لیا اور اُنہیں جِبعون سے واپس لائے۔ 17 وہ وہاں سے چلے اور کِمہام کے مسافرخانے میں رُکے جو بیت‌لحم کے پاس ہے۔ اُن کا اِرادہ مصر جانے کا تھا۔ 18 اصل میں وہ کسدیوں سے ڈرے ہوئے تھے کیونکہ نِتنیاہ کے بیٹے اِسماعیل نے اخی‌قام کے بیٹے جدلیاہ کو قتل کر دیا تھا جسے بابل کے بادشاہ نے ملک کا حاکم مقرر کِیا تھا۔‏

42 پھر فوج کے سب سربراہ، قریح کا بیٹا یوحنان، ہوسعیاہ کا بیٹا یزنیاہ اور چھوٹے سے لے کر بڑے تک سب لوگ گئے 2 اور یرمیاہ نبی سے کہنے لگے:‏ ”‏مہربانی سے ہماری بات سنیں اور ہماری ایک گزارش قبول کر لیں۔ اپنے خدا یہوواہ سے ہماری خاطر دُعا کریں یعنی اِس سارے بچے ہوئے حصے کی خاطر کیونکہ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، ہمارے بہت سارے لوگوں میں سے بس تھوڑے سے بچے ہیں۔ 3 آپ کا خدا یہوواہ ہمیں بتائے کہ ہمیں کس راستے پر چلنا چاہیے اور کیا کرنا چاہیے۔“‏

4 یرمیاہ نبی نے اُنہیں جواب دیا:‏ ”‏مَیں نے آپ کی بات سنی ہے اور مَیں آپ کی درخواست کے مطابق آپ کے خدا یہوواہ سے دُعا کروں گا اور یہوواہ جواب میں جو بھی کہے گا، مَیں وہ سب آپ کو بتاؤں گا۔ مَیں آپ سے ایک بھی لفظ نہیں چھپاؤں گا۔“‏

5 اُنہوں نے یرمیاہ سے کہا:‏ ”‏اگر ہم اُس ہدایت پر ہوبہو عمل نہ کریں جو آپ کا خدا یہوواہ ہمیں آپ کے ذریعے دے تو یہوواہ ہمارے خلاف سچا اور وفادار گواہ ہو۔ 6 چاہے وہ ہدایت ہمارے لیے اچھی ہو یا بُری، ہم اپنے خدا یہوواہ کی بات مانیں گے جس کے پاس ہم آپ کو بھیج رہے ہیں تاکہ اپنے خدا یہوواہ کی بات ماننے کی وجہ سے ہمارا بھلا ہو۔“‏

7 دس دن بعد یہوواہ کا کلام یرمیاہ تک پہنچا۔ 8 اِس لیے اُنہوں نے قریح کے بیٹے یوحنان کو، فوج کے سب سربراہوں کو جو اُس کے ساتھ تھے اور چھوٹے سے لے کر بڑے تک سب لوگوں کو بُلایا۔ 9 یرمیاہ نے اُن سے کہا:‏ ”‏اِسرائیل کا خدا یہوواہ جس کے پاس آپ نے مجھے بھیجا تھا تاکہ مَیں مہربانی کے لیے آپ کی درخواست اُس کے حضور پیش کروں، یہ فرماتا ہے:‏ 10 ‏”‏اگر تُم اِس ملک میں رہو گے تو مَیں تمہیں بناؤں گا اور ڈھاؤں گا نہیں؛ مَیں تمہیں لگاؤں گا اور اُکھاڑوں گا نہیں کیونکہ مجھے اِس بات پر افسوس*‏ ہوگا کہ مَیں تُم پر آفت لایا ہوں۔ 11 تُم بابل کے بادشاہ سے ڈرتے ہو لیکن اُس سے نہ ڈرو۔“‏

یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اُس کی وجہ سے خوف‌زدہ نہ ہو کیونکہ مَیں تمہارے ساتھ ہوں تاکہ تمہیں بچاؤں اور اُس کے ہاتھ سے چھڑاؤں۔ 12 مَیں تُم پر رحم کروں گا اِس لیے وہ تُم پر رحم کرے گا اور تمہیں تمہارے ملک واپس بھیج دے گا۔‏

13 لیکن اگر تُم کہو گے:‏ ”‏نہیں، ہم اِس ملک میں نہیں رہیں گے“‏ اور اپنے خدا یہوواہ کی نافرمانی کرو گے 14 اور کہو گے:‏ ”‏نہیں، ہم تو مصر جائیں گے جہاں ہمیں نہ تو جنگ دیکھنی پڑے گی، نہ نرسنگے*‏ کی آواز سننی پڑے گی اور نہ روٹی کے لیے ترسنا پڑے گا؛ ہم وہیں جا کر رہیں گے“‏ 15 تو یہوداہ کے بچے ہوئے حصے!‏ یہوواہ کا کلام سنو۔ فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، یہ فرماتا ہے:‏ ”‏اگر تُم لوگوں نے مصر جانے کا پکا اِرادہ کر لیا ہے اور تُم وہاں جا کر بسو گے*‏ 16 تو جس تلوار سے تُم ڈر رہے ہو، وہ ملک مصر میں تُم تک پہنچ جائے گی اور جس قحط سے تُم خوف‌زدہ ہو، وہ تمہارے پیچھے پیچھے مصر آ جائے گا اور تُم وہاں مر جاؤ گے۔ 17 جن لوگوں نے مصر جا کر وہاں بسنے کی ٹھانی ہوئی ہے، وہ سب تلوار، قحط اور وبا*‏ سے مر جائیں گے۔ اُن میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا اور اُس آفت سے بچ نہیں پائے گا جو مَیں اُن پر لاؤں گا۔“‏“‏

18 فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏ ”‏اگر تُم مصر جاؤ گے تو جیسے میرا غصہ اور غضب یروشلم کے باشندوں پر نازل ہوا تھا ویسے ہی میرا غضب تُم پر نازل ہوگا اور تُم لعنت، بددُعا اور دہشت اور رُسوائی کی علامت بن جاؤ گے اور اِس جگہ کو پھر کبھی نہیں دیکھ پاؤ گے۔“‏

19 یہوداہ کے بچے ہوئے حصے!‏ یہوواہ نے آپ لوگوں کے بارے میں یہ فرمایا ہے کہ مصر نہ جائیں۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ مَیں نے آج آپ کو خبردار کر دیا ہے 20 کہ آپ کو اپنی غلطی کی قیمت اپنی جان دے کر چُکانی پڑے گی کیونکہ آپ نے مجھے یہ کہہ کر اپنے خدا یہوواہ کے پاس بھیجا:‏ ”‏ہمارے خدا یہوواہ سے ہماری خاطر دُعا کریں اور ہمیں وہ سب کچھ بتائیں جو ہمارا خدا یہوواہ کہے اور ہم اُس پر عمل کریں گے۔“‏ 21 مَیں نے آج آپ کو بتا دیا ہے کہ خدا نے کیا کہا ہے۔ لیکن آپ اپنے خدا یہوواہ کی فرمانبرداری نہیں کریں گے اور اُن باتوں میں سے کسی پر عمل نہیں کریں گے جو اُس نے مجھے آپ کو بتانے کے لیے بھیجا ہے۔ 22 اِس لیے یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ آپ جس جگہ جانا اور بسنا چاہتے ہیں، وہاں آپ تلوار، قحط اور وبا سے مارے جائیں گے۔“‏

43 جب یرمیاہ نے سب لوگوں کو یہ ساری باتیں بتا لیں جو اُن لوگوں کے خدا یہوواہ کی طرف سے تھیں یعنی ہر وہ بات جسے بتانے کے لیے اُن کے خدا یہوواہ نے اُنہیں بھیجا تھا 2 تو ہوسعیاہ کا بیٹا عزریاہ، قریح کا بیٹا یوحنان اور سب گستاخ*‏ آدمی یرمیاہ سے کہنے لگے:‏ ”‏تُم جھوٹ بول رہے ہو!‏ ہمارے خدا یہوواہ نے تمہیں یہ کہنے کے لیے نہیں بھیجا کہ ”‏مصر جا کر وہاں نہ بسو۔“‏ 3 اصل میں نِیریاہ کا بیٹا بارُوک تمہیں ہمارے خلاف اُکسا رہا ہے تاکہ ہمیں کسدیوں کے حوالے کر دیا جائے اور وہ ہمیں مار ڈالیں یا قیدی بنا کر بابل لے جائیں۔“‏

4 اِس لیے قریح کے بیٹے یوحنان، فوج کے سب سربراہوں اور سب لوگوں نے یہوواہ کی یہ بات نہیں مانی کہ وہ ملک یہوداہ میں ہی رہیں۔ 5 اِس کی بجائے قریح کے بیٹے یوحنان اور فوج کے سب سربراہوں نے یہوداہ کے لوگوں کے بچے ہوئے سارے حصے کو ساتھ لیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو اُن سب قوموں سے ملک یہوداہ میں بسنے کے لیے لوٹ آئے تھے جن میں اُنہیں تتربتر کِیا گیا تھا۔ 6 اُنہوں نے مردوں، عورتوں، بچوں، بادشاہ کی بیٹیوں اور ہر اُس شخص*‏ کو ساتھ لیا جسے محافظوں کا سربراہ نبوزرادان سافن کے بیٹے اخی‌قام کے بیٹے جدلیاہ کی نگرانی میں چھوڑ گیا تھا۔ اُنہوں نے یرمیاہ نبی اور نِیریاہ کے بیٹے بارُوک کو بھی ساتھ لیا۔ 7 وہ یہوواہ کی نافرمانی کرتے ہوئے مصر چلے گئے اور تحفنیس تک پہنچ گئے۔‏

8 تحفنیس میں یہوواہ کا یہ کلام یرمیاہ تک پہنچا:‏ 9 ‏”‏اپنے ہاتھ میں بڑے پتھر لو اور اُنہیں یہودی آدمیوں کے سامنے تحفنیس میں فِرعون کے محل کے دروازے پر اینٹوں کے چبوترے میں گارے میں چھپا دو۔ 10 پھر تُم اُن سے کہنا:‏ ”‏فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اپنے خادم یعنی بابل کے بادشاہ نبوکدنضر*‏ کو بُلا رہا ہوں اور مَیں اُس کا تخت اِن پتھروں کے بالکل اُوپر لگاؤں گا جنہیں مَیں نے چھپایا ہے اور وہ اپنا شاہی خیمہ اِن پر تانے گا۔ 11 وہ آئے گا اور ملک مصر پر حملہ کرے گا۔ جن کے لیے جان‌لیوا وبا ہے، اُنہیں جان‌لیوا وبا لگے گی؛ جن کے لیے قید ہے، وہ قید میں جائیں گے اور جن کے لیے تلوار ہے، وہ تلوار سے مریں گے۔ 12 مَیں مصر کے خداؤں کے مندروں*‏ کو آگ لگا دوں گا اور وہ اُنہیں جلا دے گا اور اُنہیں قیدی بنا کر لے جائے گا۔ وہ ملک مصر کو اپنے گِرد ایسے لپیٹ لے گا جیسے چرواہا اپنی چادر کو لپیٹتا ہے اور وہ صحیح سلامت وہاں سے نکل جائے گا۔ 13 وہ مصر میں بیت‌شمس*‏ کے ستونوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور مصر کے خداؤں کے مندروں*‏ کو آگ سے جلا دے گا۔“‏“‏“‏

44 ملک مصر میں مِجدال، تحفنیس، نوف*‏ اور فتروس کے علاقے میں رہنے والے سب یہودیوں کے لیے یہ کلام یرمیاہ تک پہنچا:‏ 2 ‏”‏فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏ ”‏تُم نے وہ ساری آفتیں دیکھی ہیں جو مَیں یروشلم اور یہوداہ کے سب شہروں پر لایا۔ آج وہ کھنڈر بن چُکے ہیں اور اُن میں کوئی نہیں رہتا۔ 3 ایسا اُن کے بُرے کاموں کی وجہ سے ہوا جن کے ذریعے اُنہوں نے مجھے غصہ دِلایا۔ اُنہوں نے جا کر دوسرے خداؤں کے سامنے قربانیاں پیش کیں اور اُن کی خدمت کی جنہیں وہ نہیں جانتے تھے، ہاں، جنہیں نہ تو تُم جانتے ہو اور نہ تمہارے باپ‌دادا جانتے تھے۔ 4 مَیں اپنے بندوں یعنی نبیوں کو باربار*‏ تمہارے پاس بھیجتا رہا اور کہتا رہا:‏ ”‏مہربانی سے یہ گھناؤنا کام نہ کرو جس سے مَیں نفرت کرتا ہوں۔“‏ 5 لیکن اُنہوں نے میری بات نہیں سنی اور اُس پر دھیان نہیں دیا۔ وہ اپنی بُرائی سے باز نہیں آئے اور دوسرے خداؤں کے سامنے قربانیاں پیش کرنی نہیں چھوڑیں۔ 6 اِس لیے میرا غضب اور غصہ نازل ہوا اور یہوداہ کے شہروں اور یروشلم کی گلیوں میں بھڑکا اور وہ کھنڈر بن گئے اور ویران ہو گئے اور آج تک ایسے ہی ہیں۔“‏

7 اب فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏ ”‏تُم اپنے اُوپر*‏ اِتنی بڑی آفت کیوں لانا چاہتے ہو کہ یہوداہ سے ہر مرد اور عورت اور بچہ اور دودھ پیتا بچہ مٹ جائے اور تُم میں کوئی بھی باقی نہ بچے؟ 8 تُم ملک مصر میں جہاں تُم بسنے کے لیے گئے ہو، دوسرے خداؤں کے سامنے قربانیاں پیش کر کے مجھے اپنے ہاتھوں کے کام سے غصہ کیوں دِلا رہے ہو؟ تُم مٹ جاؤ گے اور زمین کی سب قوموں کے بیچ لعنت اور رُسوائی کی علامت بن جاؤ گے۔ 9 کیا تُم اُن بُرے کاموں کو بھول گئے ہو جو تمہارے باپ‌دادا، یہوداہ کے بادشاہوں اور اُن کی بیویوں اور تُم نے اور تمہاری بیویوں نے ملک یہوداہ اور یروشلم کی گلیوں میں کیے تھے؟ 10 آج تک اُنہوں نے خود کو خاکسار نہیں بنایا،‏*‏ نہ ہی میرا خوف رکھا اور نہ ہی میری شریعت اور قوانین پر چلے جو مَیں نے تمہیں اور تمہارے باپ‌دادا کو دیے۔“‏

11 اِس لیے فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں نے تُم پر مصیبت لانے کا پکا اِرادہ کر لیا ہے تاکہ سارے یہوداہ کو تباہ کر دوں۔ 12 مَیں یہوداہ کے بچے ہوئے حصے کو جس نے ملک مصر جا کر وہاں بسنے کی ٹھانی ہوئی ہے، پکڑ لوں گا اور وہ سب لوگ ملک مصر میں فنا ہو جائیں گے۔ وہ تلوار کا نوالہ بن جائیں گے اور قحط سے مٹ جائیں گے۔ چھوٹے سے لے کر بڑے تک وہ سب تلوار اور قحط سے مارے جائیں گے۔ وہ لعنت‌اور بددُعا اور دہشت اور رُسوائی کی علامت بن جائیں گے۔ 13 مَیں مصر میں رہنے والوں کو سزا دوں گا جیسے مَیں نے یروشلم کو تلوار، قحط اور وبا*‏ سے سزا دی۔ 14 یہوداہ کا بچا ہوا حصہ جو ملک مصر میں بسنے کے لیے گیا ہے، ملک یہوداہ لوٹنے کے لیے نہیں بچے گا اور زندہ نہیں رہے گا۔ وہ لوگ وہاں لوٹنے اور بسنے کے لیے ترسیں گے لیکن لوٹ نہیں پائیں گے، سوائے کچھ لوگوں کے جو بچ جائیں گے۔“‏“‏

15 اُن سب آدمیوں نے جو جانتے تھے کہ اُن کی بیویاں دوسرے خداؤں کے لیے قربانیاں پیش کرتی ہیں اور وہاں کھڑی سب بیویوں نے یعنی ایک بڑے گروہ نے اور اُن سب لوگوں نے جو ملک مصر کے علاقے فتروس میں رہ رہے تھے، یرمیاہ سے کہا:‏ 16 ‏”‏تُم نے یہوواہ کے نام سے ہم سے جو کچھ کہا ہے، ہم وہ نہیں کریں گے۔ 17 اِس کی بجائے ہم وہ سب ضرور کریں گے جو ہم نے کہا ہے۔ ہم آسمان کی ملکہ*‏ کے لیے قربانیاں پیش کریں گے اور اُس کے سامنے مے کے نذرانے اُنڈیلیں گے جیسے ہم، ہمارے باپ‌دادا، ہمارے بادشاہ اور ہمارے حاکم یہوداہ کے شہروں اور یروشلم کی گلیوں میں کرتے تھے۔ اُس وقت ہم پیٹ بھر کر روٹی کھاتے تھے اور خوش‌حال تھے اور ہمیں کسی آفت کا مُنہ نہیں دیکھنا پڑتا تھا۔ 18 جب سے ہم نے آسمان کی ملکہ*‏ کے لیے قربانیاں پیش کرنا اور اُس کے سامنے مے کے نذرانے اُنڈیلنا چھوڑا ہے تب سے ہمیں ہر چیز کی کمی رہی ہے اور ہم تلوار اور قحط سے فنا ہو رہے ہیں۔“‏

19 پھر عورتوں نے کہا:‏ ”‏جب ہم آسمان کی ملکہ*‏ کے لیے قربانیاں پیش کرتی تھیں اور اُس کے سامنے مے کے نذرانے اُنڈیلتی تھیں تو کیا ہم اپنے شوہروں کی مرضی کے بغیر ہی اُس کی صورت والی ٹکیاں بنا کر اُس کے سامنے پیش کرتی تھیں اور اُس کے سامنے مے کے نذرانے اُنڈیلتی تھیں؟“‏

20 اِس کے بعد یرمیاہ نے سب لوگوں یعنی مردوں، اُن کی بیویوں اور اُن سب لوگوں سے جو اُن سے بات کر رہے تھے، کہا:‏ 21 ‏”‏آپ نے، آپ کے باپ‌دادا نے، آپ کے بادشاہوں نے، آپ کے حاکموں نے اور ملک کے لوگوں نے یہوداہ کے شہروں اور یروشلم کی گلیوں میں جو قربانیاں پیش کیں، یہوواہ نے اُنہیں یاد کِیا اور وہ اُس کے ذہن*‏ میں آئیں۔ 22 آخر یہوواہ آپ کے بُرے کاموں اور گھناؤنی حرکتوں کو اَور برداشت نہیں کر پایا اور آپ کا ملک ویران اور غیرآباد ہو گیا اور دہشت اور لعنت کی علامت بن گیا اور آج تک ایسا ہی ہے۔ 23 ایسا اِس لیے ہوا کیونکہ آپ نے یہ قربانیاں پیش کیں اور یہوواہ کی بات نہ مان کر اور اُس کے حکموں، قوانین اور یاددہانیوں پر عمل نہ کر کے یہوواہ کے خلاف گُناہ کِیا۔ اِسی لیے آپ پر یہ آفت آئی اور آج تک ہے۔“‏

24 یرمیاہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے سب لوگوں اور سب عورتوں سے کہا:‏ ”‏یہوداہ کے سب لوگو جو ملک مصر میں ہو، یہوواہ کا کلام سنو۔ 25 فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏ ”‏تُم نے اور تمہاری بیویوں نے اپنے مُنہ سے جو باتیں کہیں، اُنہیں اپنے ہاتھوں سے پورا بھی کِیا کیونکہ تُم نے کہا:‏ ”‏ہم ضرور اپنی منتیں پوری کرتے ہوئے آسمان کی ملکہ*‏ کے لیے قربانیاں پیش کریں گے اور اُس کے سامنے مے کے نذرانے اُنڈیلیں گے۔“‏ تُم عورتیں ضرور اپنی منتیں پوری کرو گی اور اُنہیں ادا کرو گی۔“‏

26 اِس لیے یہوداہ کے سب لوگو جو ملک مصر میں رہ رہے ہو، یہوواہ کا کلام سنو:‏ ”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اپنے عظیم نام کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ملک مصر میں رہنے والا یہوداہ کا کوئی بھی آدمی آئندہ میرا نام لے کر قسم نہیں کھائے گا اور یہ نہیں کہے گا:‏ ”‏زندہ خدا اور حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ کی قسم!‏“‏ 27 اب میری نظریں اُن کے ساتھ بھلائی کرنے کے لیے نہیں بلکہ اُن پر آفت لانے کے لیے اُن پر ہیں۔ ملک مصر میں رہنے والے یہوداہ کے سب آدمی تلوار اور قحط سے ہلاک ہوتے جائیں گے جب تک کہ وہ مٹ نہیں جاتے۔ 28 صرف چند لوگ تلوار سے بچیں گے اور مصر سے یہوداہ لوٹیں گے۔ پھر یہوداہ کا سارا بچا ہوا حصہ جو مصر میں بسنے کے لیے آیا تھا، جان جائے گا کہ کس کی بات سچی ثابت ہوئی ہے، میری یا اُن کی!‏“‏“‏“‏

29 ‏”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں تمہیں اِس بات کی نشانی دیتا ہوں کہ مَیں تمہیں اِس جگہ سزا دوں گا تاکہ تُم جان جاؤ کہ مَیں نے تُم پر مصیبت لانے کے حوالے سے جو کچھ کہا ہے، وہ ضرور پورا ہوگا۔ 30 یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں مصر کے بادشاہ فِرعون حفرع کو اُس کے دُشمنوں اور اُن لوگوں کے حوالے کر دوں گا جو اُس کی جان لینے پر تُلے ہیں جیسے مَیں نے یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ کو بابل کے بادشاہ نبوکدنضر*‏ کے حوالے کر دیا تھا جو اُس کا دُشمن تھا اور اُس کی جان لینے پر تُلا تھا۔“‏“‏“‏

45 یہوداہ کے بادشاہ اور یوسیاہ کے بیٹے یہویقیم کی حکمرانی کے چوتھے سال میں جب نِیریاہ کے بیٹے بارُوک کتاب میں وہ باتیں لکھتے تھے جو یرمیاہ نبی اُنہیں بتاتے تھے تو یرمیاہ نے اُنہیں یہ کلام سنایا:‏

2 ‏”‏بارُوک!‏ اِسرائیل کا خدا یہوواہ آپ کے بارے میں فرماتا ہے:‏ 3 ‏”‏تُم نے کہا:‏ ”‏مجھ پر افسوس کیونکہ یہوواہ نے میری تکلیف میں غم بھی شامل کر دیا ہے!‏ مَیں کراہتے کراہتے نڈھال ہو گیا ہوں اور مجھے کہیں سکون نہیں مل رہا۔“‏“‏

4 تُم اُس سے کہنا:‏ ”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏دیکھو!‏ مَیں نے جو بنایا ہے، مَیں اُسے ڈھا رہا ہوں اور مَیں نے جو لگایا ہے، مَیں اُسے اُکھاڑ رہا ہوں۔ مَیں پورے ملک میں ایسا کر رہا ہوں۔ 5 لیکن تُم بڑی بڑی چیزوں کے پیچھے بھاگ رہے ہو۔‏*‏ ایسی چیزوں کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دو۔“‏“‏

یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں سب اِنسانوں پر ایک آفت لانے والا ہوں۔ لیکن تُم جہاں کہیں بھی جاؤ گے، مَیں تمہاری جان بخش دوں گا۔“‏“‏*‏

46 قوموں کے بارے میں یہوواہ کا یہ کلام یرمیاہ نبی تک پہنچا:‏ 2 یعنی مصر کے بارے میں، ہاں، مصر کے بادشاہ فِرعون نِکوہ کی فوج کے بارے میں جسے بابل کے بادشاہ نبوکدنضر*‏ نے یہوداہ کے بادشاہ اور یوسیاہ کے بیٹے یہویقیم کی حکمرانی کے چوتھے سال میں دریائے‌فرات کے پاس کرکِمیس میں شکست دی:‏

 3 ‏”‏اپنی چھوٹی ڈھالیں*‏ اور بڑی ڈھالیں تیار کرو

اور جنگ کے لیے آگے بڑھو۔‏

 4 گُھڑسوارو!‏ گھوڑے تیار کرو اور اُن پر سوار ہو جاؤ۔‏

اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہو جاؤ اور اپنے ہیلمٹ پہن لو۔‏

اپنے نیزے چمکاؤ اور اپنے بکتر پہن لو۔‏

 5 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏وہ دہشت‌زدہ کیوں نظر آ رہے ہیں؟‏

وہ اُلٹے پاؤں بھاگ رہے ہیں؛ اُن کے جنگجو کچلے جا چُکے ہیں۔‏

وہ ہڑبڑاہٹ میں بھاگ رہے ہیں؛ اُن کے جنگجو مُڑ کر بھی نہیں دیکھ رہے۔‏

ہر طرف دہشت چھائی ہوئی ہے۔“‏

 6 ‏”‏تیزرفتار لوگ بھاگ نہیں سکتے اور جنگجو بچ نہیں سکتے۔‏

وہ شمال میں دریائے‌فرات کے کنارے ٹھوکر کھا کر گِر گئے ہیں۔“‏

 7 کون دریائے‌نیل کی طرح آ رہا ہے،‏

اُن دریاؤں کی طرح جن کا پانی ٹھاٹھیں مار رہا ہے؟‏

 8 مصر دریائے‌نیل کی طرح آ رہا ہے،‏

اُن دریاؤں کی طرح جن کا پانی ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔‏

وہ کہتا ہے:‏ ”‏مَیں اُوپر اُٹھوں گا اور زمین کو ڈھانک دوں گا۔‏

مَیں شہر اور اُس کے باشندوں کو تباہ کر دوں گا۔“‏

 9 گھوڑو!‏ آگے بڑھو!‏

رتھو!‏ اندھادُھند دوڑو!‏

جنگجو آگے بڑھیں

یعنی کُوش اور فُوط جو ڈھالیں اُٹھاتے ہیں

اور لُودیم جو تیرانداز ہیں۔‏

10 وہ حاکمِ‌اعلیٰ یعنی فوجوں کے خدا یہوواہ کا دن ہے، ہاں، اِنتقام کا وہ دن جس میں وہ اپنے مخالفوں سے بدلہ لے گا۔ تلوار تب تک اُنہیں نگلتی جائے گی جب تک اپنی بھوک نہ مٹا لے اور اُن کے خون سے اپنی پیاس نہ بجھا لے کیونکہ حاکمِ‌اعلیٰ یعنی فوجوں کے خدا یہوواہ نے شمال کے ملک میں دریائے‌فرات کے پاس ایک قربانی تیار کی ہے۔‏

11 مصر کی کنواری بیٹی!‏

بلسان لینے کے لیے اُوپر جِلعاد جا۔‏

تُو نے فضول میں علاج کے لیے اِتنی ترکیبیں آزمائی ہیں

کیونکہ تیرا مرض لاعلاج ہے۔‏

12 قوموں نے تیری رُسوائی کے بارے میں سنا ہے

اور تیری چیخ‌وپکار پورے ملک میں گُونج رہی ہے

کیونکہ جنگجو جنگجو سے ٹکراتا ہے

اور وہ دونوں اِکٹھے گِر جاتے ہیں۔“‏

13 یہوواہ کا یہ کلام یرمیاہ نبی تک پہنچا جو بابل کے بادشاہ نبوکدنضر*‏ کے آنے اور مصر پر حملہ کرنے کے بارے میں ہے:‏

14 ‏”‏مصر میں یہ بتاؤ؛ مِجدال میں اِس کا اِعلان کرو۔‏

نوف*‏ اور تحفنیس میں اِس کی مُنادی کرو۔‏

کہو:‏ ”‏اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہو جاؤ اور خود کو تیار کر لو

کیونکہ تلوار تمہارے اِردگِرد سب کو کھا جائے گی۔‏

15 تمہارے طاقت‌ور آدمیوں کا صفایا کیوں ہو گیا ہے؟‏

وہ اپنی جگہ پر کھڑے نہیں رہ سکے

کیونکہ یہوواہ نے اُنہیں نیچے گِرا دیا ہے۔‏

16 اُن کی ایک بڑی تعداد ٹھوکر کھا رہی اور گِر رہی ہے۔‏

وہ ایک دوسرے سے کہہ رہے ہیں:‏

‏”‏اُٹھو!‏ بے‌رحم تلوار کی وجہ سے اپنی قوم کے پاس

اور اپنے وطن لوٹ چلیں۔“‏“‏

17 اُنہوں نے وہاں اِعلان کِیا ہے:‏

‏”‏مصر کا بادشاہ فِرعون محض باتیں کرتا ہے؛‏

اُس نے موقع گنوا دیا ہے۔“‏*‏

18 وہ بادشاہ جس کا نام فوجوں کا خدا یہوواہ ہے، فرماتا ہے:‏

‏”‏مَیں جو زندہ ہوں، اپنی قسم کھا کر کہتا ہوں:‏

وہ*‏ ایسے آئے گا جیسے پہاڑوں کے بیچ تبور ہے،‏

جیسے سمندر کے پاس کرمِل ہے۔‏

19 مصر میں بسنے والی بیٹی!‏

قید میں جانے کے لیے سامان باندھ لے

کیونکہ نوف*‏ دہشت کی علامت بن جائے گا؛‏

اِسے آگ لگا دی جائے گی*‏ اور اِس میں بسنے والا کوئی نہیں ہوگا۔‏

20 مصر ایک خوب‌صورت بچھیا کی طرح ہے

لیکن شمال سے ڈنک مارنے والی مکھیاں آ کر اُس پر ٹوٹ پڑیں گی۔‏

21 اُس کے کرائے کے سپاہی بھی موٹے تازے بچھڑوں کی طرح ہیں

لیکن وہ سب بھی مُڑ کر بھاگ گئے ہیں۔‏

وہ اپنی جگہ پر کھڑے نہیں رہ سکے

کیونکہ اُن کی تباہی کا دن آ گیا ہے؛‏

اُن سے حساب لینے کا وقت آ گیا ہے۔“‏

22 ‏”‏اُس کی آواز سرکتے ہوئے سانپ کی طرح ہے

کیونکہ وہ درخت کاٹنے والے*‏ آدمیوں کی طرح

کلہاڑوں کے ساتھ پوری شدت سے اُس کے پیچھے آ رہے ہیں۔‏

23 وہ اُس کے جنگل کو کاٹ دیں گے

پھر چاہے وہ کتنا ہی گھنا کیوں نہ ہو

کیونکہ اُن کی تعداد ٹڈیوں سے بھی زیادہ ہے؛ وہ اَن‌گنت ہیں۔“‏

یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔‏

24 ‏”‏مصر کی بیٹی کو رُسوا کِیا جائے گا۔‏

اُسے شمال کے لوگوں کے حوالے کر دیا جائے گا۔“‏

25 فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏ ”‏اب مَیں نو*‏ کے خدا امون، فِرعون، مصر، اُس کے خداؤں اور اُس کے بادشاہوں، ہاں، فِرعون اور اُن سب کو جو اُس پر بھروسا کرتے ہیں، سزا دوں گا۔“‏

26 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اُنہیں اُن لوگوں کے حوالے کروں گا جو اُن کی جان لینے پر تُلے ہیں یعنی بابل کے بادشاہ نبوکدنضر*‏ اور اُس کے خادموں کے حوالے۔ لیکن اِس کے بعد وہ ماضی کی طرح پھر سے آباد ہوگی۔“‏

27 ‏”‏مگر تُو میرے بندے یعقوب!‏ نہ ڈر۔‏

اَے اِسرائیل!‏ خوف‌زدہ نہ ہو

کیونکہ مَیں تجھے دُوردراز ملک سے اور تیری نسل کو اُس ملک سے بچا لاؤں گا

جہاں اُسے قیدی بنا کر لے جایا گیا ہے۔‏

یعقوب لوٹے گا اور امن‌وسکون سے رہے گا

اور کوئی اُسے نہیں ڈرائے گا۔‏

28 اِس لیے میرے بندے یعقوب!‏ ڈر نہیں کیونکہ مَیں تیرے ساتھ ہوں۔‏

مَیں اُن سب قوموں کا نام‌ونشان مٹا دوں گا جن میں مَیں نے تجھے تتربتر کِیا تھا

لیکن مَیں تجھے نہیں مٹاؤں گا۔‏

مَیں مناسب حد تک تیری اِصلاح*‏ کروں گا

مگر تجھے سزا دیے بغیر ہرگز نہیں چھوڑوں گا۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔“‏

47 یہ فِلِستیوں کے حوالے سے یہوواہ کا وہ کلام ہے جو فِرعون کے غزہ پر حملہ کرنے سے پہلے یرمیاہ نبی تک پہنچا۔ 2 یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏دیکھو!‏ شمال سے پانی آ رہا ہے۔‏

وہ سیلابی ریلے کی شکل اِختیار کر لے گا

اور ملک اور اُس کی ہر چیز کو ڈبو دے گا،‏

ہاں، شہر اور اُس کے باشندوں کو۔‏

آدمی چلّائیں گے

اور ملک میں بسنے والا ہر شخص دھاڑیں مار مار کر روئے گا۔‏

 3 اُس کے طاقت‌ور گھوڑوں کے دوڑنے کی آواز،‏

اُس کے رتھوں کی کھڑکھڑاہٹ

اور اُس کے پہیوں کی گڑگڑاہٹ کی وجہ سے

باپ اپنے بیٹوں کو مُڑ کر بھی نہیں دیکھیں گے

کیونکہ اُن کے ہاتھوں میں جان نہیں رہے گی

 4 اِس لیے کہ جو دن آ رہا ہے، اُس پر سب فِلِستیوں کو تباہ کر دیا جائے گا

اور صُور اور صیدا میں سے بچے ہوئے سب اِتحادیوں کو مٹا دیا جائے گا۔‏

یہوواہ اُن فِلِستیوں کو تباہ کر دے گا

جو جزیرہ کفتور*‏ کے بچے ہوئے لوگوں میں سے ہیں۔‏

 5 غزہ گنجا ہو جائے گا۔‏*‏

اسقلون کو چپ کرا دیا گیا ہے۔‏

اُن کی وادی کے بچے ہوئے حصے!‏

تُو کب تک خود کو چیرتا رہے گا؟‏

 6 اَے یہوواہ کی تلوار!‏

تُو کب خاموش ہوگی؟‏

میان میں لوٹ جا۔‏

آرام کر اور چپ رہ۔‏

 7 یہ خاموش کیسے ہو سکتی ہے

جبکہ یہوواہ نے اِسے حکم دیا ہے؟‏

اُس نے اِسے اسقلون اور ساحل کے خلاف مقرر کِیا ہے۔“‏

48 فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، موآب کے بارے میں یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏نبو پر افسوس کیونکہ اُسے تباہ کر دیا گیا ہے!‏

قِریتائم کو شرمندہ کِیا گیا ہے اور اُس پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔‏

محفوظ پناہ‌گاہ*‏ کو رُسوا اور چُور چُور کر دیا گیا ہے۔‏

 2 اب موآب کی تعریف نہیں کی جاتی۔‏

حِسبون میں دُشمنوں نے اُسے گِرانے کے لیے یہ سازش رچی:‏

‏”‏آؤ، اُس قوم کا نام‌ونشان مٹا دیں۔“‏

مدمین!‏ تُو بھی خاموش رہ کیونکہ تلوار تیرا پیچھا کر رہی ہے۔‏

 3 حورونایم سے چیخ‌وپکار سنائی دے رہی ہے،‏

ہاں، تباہی اور بڑی بربادی کی آواز۔‏

 4 موآب کو تباہ کر دیا گیا ہے۔‏

اُس کے چھوٹے بچے چلّا رہے ہیں۔‏

 5 وہ لُوحیت کی چڑھائی چڑھتے ہوئے مسلسل رو رہے ہیں۔‏

وہ حورونایم سے نیچے اُترتے ہوئے تباہی کی وجہ سے درد بھری آوازیں سُن رہے ہیں۔‏

 6 بھاگو!‏ اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگو!‏

ویرانے کے صنوبر کے درخت کی طرح بن جاؤ۔‏

 7 اَے موآب!‏ تُو اپنے کاموں اور اپنے خزانوں پر بھروسا کرتا ہے

اِس لیے تجھے بھی پکڑ لیا جائے گا۔‏

کموس اپنے کاہنوں اور حاکموں کے ساتھ قید میں جائے گا۔‏

 8 تباہ کرنے والا ہر شہر پر حملہ کرے گا؛‏

ایک بھی شہر نہیں بچے گا۔‏

وادی فنا ہو جائے گی

اور میدانی علاقہ*‏ برباد ہو جائے گا، ٹھیک ویسے ہی جیسے یہوواہ نے فرمایا ہے۔‏

 9 موآب کے لیے ایک نشان کھڑا کرو

کیونکہ جب وہ تباہ ہوگا تو وہ بھاگے گا

اور اُس کے شہر دہشت کی علامت بن جائیں گے

اور اُن میں ایک بھی شخص نہیں بسے گا۔‏

10 اُس شخص پر لعنت ہے جو یہوواہ کا کام لاپروائی سے کرتا ہے!‏

اُس شخص پر لعنت ہے جو اپنی تلوار کو خون بہانے سے روکتا ہے!‏

11 موآبیوں کو کم‌عمری سے ہی کسی نے نہیں چھیڑا؛‏

وہ اُس مے کی طرح ہیں جس کی میل نیچے بیٹھی ہو۔‏

اُنہیں ایک برتن سے دوسرے برتن میں نہیں اُنڈیلا گیا

اور وہ کبھی قید میں نہیں گئے۔‏

اِس لیے اُن کا ذائقہ ویسے کا ویسا ہے

اور اُن کی خوشبو نہیں بدلی۔‏

12 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اِس لیے دیکھو!‏ وہ دن آ رہے ہیں جب مَیں آدمی بھیج کر اُن کا تختہ اُلٹ دوں گا۔ وہ اُنہیں اُلٹ دیں گے اور اُن کے برتن خالی کر دیں گے اور اُن کے بڑے مٹکوں کو چکناچُور کر دیں گے۔ 13 موآبی کموس کی وجہ سے شرمندہ ہوں گے جیسے اِسرائیل کا گھرانہ بیت‌ایل کی وجہ سے شرمندہ ہے جس پر اُسے بھروسا تھا۔‏

14 تُم نے یہ کہنے کی جُرأت کیسے کی:‏ ”‏ہم طاقت‌ور جنگجو ہیں اور جنگ کے لیے تیار ہیں“‏؟“‏

15 وہ بادشاہ جس کا نام فوجوں کا خدا یہوواہ ہے، فرماتا ہے:‏

‏”‏موآب تباہ ہو گیا ہے؛‏

اُس کے شہروں پر قبضہ کر لیا گیا ہے

اور اُس کے بہترین جوانوں کو ذبح کر دیا گیا ہے۔“‏

16 موآبیوں پر مصیبت ٹوٹنے ہی والی ہے

اور اُن کی تباہی تیزی سے قریب آ رہی ہے۔‏

17 اُن کے اِردگِرد کے سب لوگ،‏

ہاں، وہ سب لوگ جو اُن کے نام سے واقف ہیں، اُن سے ہمدردی کریں گے۔‏

اُن سے کہو:‏ ”‏ہائے!‏ طاقت‌ور چھڑی، ہاں، خوب‌صورت لاٹھی کیسے توڑ دی گئی ہے!‏“‏

18 دِیبون میں رہنے والی بیٹی!‏

اپنے عالی‌شان مقام سے نیچے اُتر کر پیاسی*‏ بیٹھ جا

کیونکہ موآب کو تباہ کرنے والا تجھ پر حملہ کرنے آ گیا ہے

اور وہ تیری قلعہ‌بند جگہوں کو تباہ کر دے گا۔‏

19 عروعیر کے باشندے!‏ راستے کے کنارے کھڑا ہو اور دیکھ۔‏

بھاگنے والے آدمی اور بچ نکلنے والی عورت سے پوچھ کہ ”‏کیا ہوا ہے؟“‏

20 موآب کو شرمندہ اور دہشت‌زدہ کر دیا گیا ہے۔‏

ماتم کرو اور چلّاؤ۔‏

ارنون میں یہ اِعلان کرو کہ موآب تباہ ہو چُکا ہے۔‏

21 میدانی علاقے*‏ کی عدالت کی گئی ہے، ہاں، حولون، یہض اور مِفَعت کی؛ 22 دِیبون، نبو اور بیت‌دِبلا‌تایم کی؛ 23 قِریتائم، بیت‌جمول اور بیت‌معون کی؛ 24 قِریوت اور بصراہ کی اور موآب کے سب شہروں کی جو دُور یا نزدیک ہیں۔‏

25 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏موآب کا سینگ*‏ کاٹ دیا گیا ہے؛‏

اُس کا بازو توڑ دیا گیا ہے۔‏

26 اُسے مے کے نشے میں دُھت کرو کیونکہ اُس نے خود کو یہوواہ کے سامنے بلند کِیا ہے۔‏

موآب اپنی اُلٹی میں لوٹ‌پوٹ ہوتا ہے

اور مذاق بن گیا ہے۔‏

27 کیا تُم نے اِسرائیل کو مذاق کا نشانہ نہیں بنایا تھا؟‏

کیا اُسے چوروں کے بیچ پکڑا گیا تھا

جو تُم اُسے دیکھ کر سر ہلاتے تھے اور اُس کے خلاف بولتے تھے؟‏

28 موآب کے باشندو!‏ شہروں کو چھوڑ کر چٹانوں پر رہو؛‏

اُس کبوتر کی طرح بن جاؤ جو تنگ گھاٹیوں کے کناروں پر گھونسلا بناتا ہے۔“‏“‏

29 ‏”‏ہم نے موآب کے غرور کے بارے میں سنا ہے؛ وہ بہت گھمنڈی ہے۔‏

ہم نے اُس کی اکڑ، غرور،تکبّر اور گھمنڈی دل کے بارے میں سنا ہے۔“‏

30 ‏”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اُس کے قہر سے واقف ہوں۔‏

لیکن اُس کی کھوکھلی باتیں بے‌کار ثابت ہوں گی۔‏

اُن سے کچھ نہیں ہوگا۔‏

31 اِس لیے مَیں موآب کے لیے ماتم کروں گا؛‏

مَیں سارے موآب کے لیے اُونچی اُونچی روؤں گا

اور قیرحرِس کے آدمیوں کے لیے آہیں بھروں گا۔‏

32 سِبماہ کی انگور کی بیل!‏ مَیں یعزیر کے لیے جتنا رویا،‏

اُس سے زیادہ تیرے لیے روؤں گا۔‏

تیری پھلتی پھولتی شاخیں سمندر پار تک چلی گئی ہیں؛‏

وہ سمندر، ہاں، یعزیر تک پہنچ گئی ہیں۔‏

تباہ کرنے والا تیرے موسمِ‌گرما کے پھل

اور تیری انگور کی فصل پر ٹوٹ پڑا ہے۔‏

33 باغ اور موآب کی سرزمین جشن اور خوشی سے محروم ہو گئی ہے۔‏

مَیں نے انگور کے حوضوں سے مے کا بہاؤ روک دیا ہے۔‏

کوئی بھی شخص خوشی کی للکار کے ساتھ انگور نہیں روندے گا۔‏

وہ للکار ایک فرق للکار ہوگی۔“‏“‏

34 ‏”‏”‏حِسبون سے اِلیعالہ تک چیخ‌وپکار سنائی دے رہی ہے۔‏

اُن کی آوازیں یہض تک گُونج رہی ہیں؛‏

وہ ضُغر سے حورونایم اور عِجلت‌شلیشیاہ تک پہنچ رہی ہیں۔‏

نِمریم کے پانی بھی خشک ہو جائیں گے۔“‏

35 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں موآب سے اُس شخص کو مٹا دوں گا

جو اُونچی جگہ پر نذرانہ لاتا ہے

اور اپنے دیوتا کے سامنے قربانیاں پیش کرتا ہے۔‏

36 اِس لیے میرے دل سے موآب کے لیے بانسری*‏ کی طرح درد بھری*‏ آوازیں نکلیں گی؛‏

میرے دل سے قیرحرِس کے لوگوں کے لیے بانسری*‏ کی طرح درد بھری*‏ آوازیں نکلیں گی

کیونکہ اُس کی کمائی ہوئی دولت مٹ جائے گی۔‏

37 ہر سر گنجا ہے

اور ہر داڑھی کٹی ہوئی ہے۔‏

ہر ایک کے ہاتھ میں چیرے لگے ہیں

اور اُن کی کمر پر ٹاٹ لپٹے ہیں!‏“‏“‏

38 ‏”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏موآب کی سب چھتوں پر

اور اُس کے سب چوکوں میں ماتم کے سوا کچھ نہیں ہے

کیونکہ مَیں نے موآب کو اُس مرتبان کی طرح توڑ دیا ہے جو کسی کام کا نہیں ہوتا۔‏

39 وہ کتنا خوف‌زدہ ہے!‏ ماتم کرو!‏

موآب نے شرم کے مارے اپنی پیٹھ پھیر لی ہے!‏

موآب ایک مذاق بن گیا ہے؛‏

وہ اپنے اِردگِرد کے سب لوگوں کے لیے دہشت کی علامت بن گیا ہے۔“‏“‏

40 ‏”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏دیکھو!‏ جیسے عقاب شکار پر جھپٹتا ہے

ویسے ہی وہ پَر پھیلا کر موآب پر جھپٹے گا۔‏

41 قصبوں پر قبضہ کر لیا جائے گا

اور اُس کے قلعے لے لیے جائیں گے۔‏

اُس دن موآب کے جنگجوؤں کے دل

اُس عورت کے دل جیسے ہوں گے جسے بچے کی پیدائش کی دردیں لگی ہوں۔“‏“‏

42 ‏”‏”‏موآب کو ایک قوم کے طور پر مٹا دیا جائے گا

کیونکہ اُس نے خود کو یہوواہ کے سامنے بلند کِیا ہے۔‏

43 موآب کے باشندے!‏

دہشت، گڑھا اور پھندا تیرے سامنے ہیں۔“‏ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔‏

44 ‏”‏جو بھی دہشت سے بھاگے گا، وہ گڑھے میں گِر جائے گا

اور جو بھی گڑھے سے نکلے گا، وہ پھندے میں پھنس جائے گا۔“‏

یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏کیونکہ مَیں مقررہ سال میں موآب کو سزا دوں گا۔‏

45 بھاگنے والے حِسبون کے سائے میں بے‌بس کھڑے ہوتے ہیں

کیونکہ حِسبون سے ایک آگ نکلے گی

اور سیحون سے ایک شعلہ

جو موآب کے ماتھے اور فساد کے بیٹوں کی کھوپڑی کو بھسم کر دے گا۔“‏

46 ‏”‏اَے موآب!‏ تجھ پر افسوس!‏

کموس کے لوگ فنا ہو گئے ہیں۔‏

تیرے بیٹوں کو قیدی بنا کر لے جایا گیا ہے

اور تیری بیٹیاں قید میں چلی گئی ہیں۔‏

47 لیکن مَیں آخری دنوں میں*‏ موآب کے قیدی بنائے گئے لوگوں کو جمع کروں گا۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

‏”‏یہاں موآب کی سزا کا پیغام ختم ہوتا ہے۔“‏“‏

49 عمونیوں کے بارے میں یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏کیا اِسرائیل کا کوئی بیٹا نہیں ہے؟‏

کیا اُس کا کوئی وارث نہیں ہے؟‏

مَلکام نے جد پر قبضہ کیوں کر لیا ہے

اور اُس کے لوگ اِسرائیل کے شہروں میں کیوں رہ رہے ہیں؟“‏

 2 ‏”‏یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اِس لیے دیکھو!‏ وہ دن آ رہے ہیں

جب مَیں عمونیوں کے شہر رَبّہ کے خلاف جنگ کا اِعلان کروں گا۔‏*‏

وہ ایک ویران ٹیلا بن جائے گا

اور اُس کے آس‌پاس کے*‏ قصبوں کو آگ سے جلا دیا جائے گا۔“‏

یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اِسرائیل اُن کے ملک پر قبضہ کر لے گا جنہوں نے اُس کا ملک لے لیا تھا۔‏

 3 اَے حِسبون!‏ ماتم کر کیونکہ عی تباہ ہو گیا ہے!‏

رَبّہ کے ماتحت قصبو!‏ اُونچی اُونچی رو۔‏

ٹاٹ پہنو۔‏

ماتم کرو اور پتھر کے*‏ باڑوں میں اِدھر اُدھر گھومو

کیونکہ مَلکام کو اُس کے کاہنوں اور حاکموں سمیت قیدی بنا کر لے جایا جائے گا۔‏

 4 اَے بے‌وفا بیٹی!‏ تُو اپنی وادیوں اور اپنے زرخیز*‏ میدانوں پر شیخی کیوں مارتی ہے؟‏

تُو اپنے خزانوں پر بھروسا کرتی ہے

اور کہتی ہے:‏ ”‏کون مجھ پر حملہ کرنے آئے گا؟“‏“‏“‏

 5 ‏”‏حاکمِ‌اعلیٰ یعنی فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏مَیں تیرے اِردگِرد رہنے والے سب لوگوں کی طرف سے

تجھ پر ایک بھیانک مصیبت لانے والا ہوں۔‏

تجھے ہر سمت میں تتربتر کر دیا جائے گا

اور کوئی بھی بھاگنے والوں کو جمع نہیں کرے گا۔“‏“‏

 6 ‏”‏”‏لیکن بعد میں مَیں عمونیوں کے قیدی بنا کر لے جائے گئے لوگوں کو جمع کروں گا۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔“‏

7 ادوم کے بارے میں فوجوں کا خدا یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏کیا تیمان میں کوئی دانش‌مندی باقی نہیں رہی؟‏

کیا سمجھ‌دار لوگوں کے اچھے مشورے ختم ہو گئے ہیں؟‏

کیا اُن کی دانش‌مندی کو زنگ لگ گیا ہے؟‏

 8 دِدان کے باشندو!‏ بھاگو، واپس مُڑو!‏

جاؤ اور گہرائیوں میں بسو

کیونکہ جب عیسُو کو سزا دینے کا وقت آئے گا

تو مَیں اُس پر تباہی لاؤں گا۔‏

 9 اگر تیرے ہاں انگور جمع کرنے والے آ جائیں

تو کیا وہ کچھ انگور پیچھے نہیں چھوڑ جائیں گے؟‏

اگر تیرے ہاں چور آ جائیں

تو وہ صرف اُتنا ہی نقصان کریں گے جتنا وہ چاہتے ہیں۔‏

10 لیکن مَیں عیسُو کو بالکل ننگا کر دوں گا۔‏

مَیں اُس کی پوشیدہ جگہوں کو سامنے لے آؤں گا

تاکہ وہ چھپ نہ سکے۔‏

اُس کے بچے، اُس کے بھائی اور اُس کے پڑوسی سب ہلاک ہو جائیں گے

اور اُس کا نام‌ونشان مٹ جائے گا۔‏

11 اپنے یتیم بچوں کو چھوڑ دے

اور مَیں اُنہیں زندہ رکھوں گا؛‏

تیری بیوائیں مجھ پر بھروسا کریں گی۔“‏

12 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏دیکھ!‏ اگر اُن لوگوں کو غضب کا پیالہ پینا پڑے گا جنہیں اِسے پینے کی سزا نہیں سنائی گئی تو کیا تُو سزا سے بالکل بچ جائے گا؟ تُو سزا سے نہیں بچے گا کیونکہ تجھے یہ پیالہ پینا ہی پڑے گا۔“‏

13 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں نے اپنی قسم کھائی ہے کہ بصراہ دہشت، رُسوائی اور تباہی کی علامت اور لعنت بن جائے گا اور اُس کے سب شہر ہمیشہ کے لیے کھنڈر بن جائیں گے۔“‏

14 مَیں نے یہوواہ کی طرف سے ایک خبر سنی ہے؛‏

قوموں کے بیچ ایک قاصد*‏ بھیجا گیا ہے جو یہ پیغام سنا رہا ہے:‏

‏”‏جمع ہو اور اُس پر حملہ کرو؛‏

جنگ کی تیاری کرو۔“‏

15 ‏”‏کیونکہ دیکھ!‏ مَیں نے تجھے قوموں کی نظر میں ناچیز بنا دیا ہے،‏

ہاں، ایک ایسی چیز جسے اِنسانوں کے بیچ دُھتکار دیا گیا ہے۔‏

16 چٹان کے شگافوں میں بسنے والے!‏

سب سے اُونچی پہاڑی پر رہنے والے!‏

تیرے پھیلائے ہوئے خوف اور تیرے گستاخ*‏ دل نے تجھے دھوکا دیا ہے۔‏

تُو نے عقاب کی طرح اپنا گھونسلا بلندی پر بنایا ہے

لیکن مَیں تجھے وہاں سے نیچے گِرا دوں گا۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

17 ‏”‏ادوم ضرور دہشت کی علامت بن جائے گا۔ اُس کے پاس سے گزرنے والا ہر شخص اُس پر آنے والی سب آفتوں کی وجہ سے اُسے دہشت کے مارے گھورے گا اور سیٹی بجائے گا۔ 18 اُس کا بھی وہی حال ہوگا جو سدوم، عمورہ اور اُن کے آس‌پاس کے قصبوں کی تباہی کے بعد اُن کا ہوا تھا؛ وہاں نہ تو کوئی بسے گا اور نہ کوئی آباد ہوگا۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

19 ‏”‏دیکھ!‏ کوئی ادوم کی محفوظ چراگاہوں پر حملہ کرنے آئے گا، بالکل ویسے ہی جیسے اُردن*‏ کی گھنی جھاڑیوں سے شیر آتا ہے۔ لیکن مَیں ایک لمحے میں اُسے دُور بھگا دوں گا۔ مَیں ایک چُنے ہوئے شخص کو اُس پر مقرر کروں گا۔ مجھ جیسا کون ہے؟ کون مجھے للکار سکتا ہے؟ کون سا چرواہا میرے سامنے کھڑا رہ سکتا ہے؟ 20 اِس لیے اَے آدمیو!‏ سنو کہ یہوواہ نے ادوم کے خلاف کیا فیصلہ*‏ کِیا ہے اور تیمان کے باشندوں کے خلاف کیا سوچا ہے:‏

گلّے کی چھوٹی بھیڑوں کو ضرور گھسیٹ کر لے جایا جائے گا۔‏

وہ اُن کی رہائش‌گاہ کو اُن کی وجہ سے اُجاڑ دے گا۔‏

21 اُن کے گِرنے کی آواز سے زمین لرز گئی ہے۔‏

چیخ‌وپکار مچ گئی ہے!‏

یہ آواز بحیرۂ‌احمر*‏ تک سنائی دی ہے۔‏

22 دیکھو!‏ وہ عقاب کی طرح اُوپر اُٹھے گا اور اپنے شکار پر جھپٹے گا؛‏

وہ پَر پھیلا کر بصراہ پر جھپٹے گا۔‏

‏”‏اُس دن ادوم کے جنگجوؤں کے دل

اُس عورت کے دل جیسے ہوں گے جسے بچے کی پیدائش کی دردیں لگی ہوں۔“‏

23 دمشق کے لیے پیغام:‏

‏”‏حمات اور ارفاد کو شرمندہ کِیا گیا ہے

کیونکہ اُنہوں نے ایک بُری خبر سنی ہے۔‏

وہ خوف سے دہل گئے ہیں۔‏

سمندر میں اِتنی ہلچل مچی ہے کہ اُسے پُرسکون نہیں کِیا جا سکتا۔‏

24 دمشق کی ہمت جواب دے گئی ہے۔‏

وہ بھاگنے کے لیے مُڑا ہے لیکن اُس پر گھبراہٹ طاری ہو گئی ہے۔‏

اُس پر اُس عورت کی طرح پریشانی اور تکلیف حاوی ہو گئی ہے

جسے بچے کی پیدائش کی دردیں لگی ہوں۔‏

25 آخر اِس قابلِ‌تعریف اور خوشیوں بھرے شہر کو کیوں نہیں چھوڑا گیا؟‏

26 اُس کے جوان آدمی چوکوں میں گِر جائیں گے

اور اُس کے سب سپاہی اُس دن مارے جائیں گے۔“‏ یہ بات فوجوں کے خدا یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

27 ‏”‏مَیں دمشق کی دیوار کو آگ لگا دوں گا

جو بِن‌ہدد کے مضبوط بُرجوں کو بھسم کر دے گی۔“‏

28 یہوواہ قیدار کے بارے میں اور حصور کی بادشاہتوں کے بارے میں جنہیں بابل کے بادشاہ نبوکدنضر*‏ نے شکست دی، یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏اُٹھو، قیدار جاؤ

اور مشرق کے بیٹوں کو ہلاک کر دو۔‏

29 اُن کے خیمے اور اُن کے گلّے لے لیے جائیں گے

اور اُن کے خیموں کے کپڑے اور اُن کی سب چیزیں بھی۔‏

اُن کے اُونٹوں کو لے جایا جائے گا

اور لوگ چلّا چلّا کر اُن سے کہیں گے:‏ ”‏ہر طرف دہشت چھائی ہے!‏“‏“‏

30 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏حصور کے باشندو!‏ دُور بھاگ جاؤ!‏

جاؤ اور گہرائیوں میں بسو

کیونکہ بابل کے بادشاہ نبوکدنضر*‏ نے تمہارے خلاف ایک فوجی منصوبہ بنایا ہے

اور تمہارے خلاف ایک تدبیر سوچی ہے۔“‏

31 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اُٹھو، ایک ایسی قوم پر حملہ کرو

جو امن‌وسلامتی سے بس رہی ہے!‏“‏

‏”‏اُس کے کوئی دروازے یا کُنڈے نہیں ہیں اور وہ الگ تھلگ رہ رہی ہے۔‏

32 اُن لوگوں کے اُونٹ لُوٹ لیے جائیں گے

اور اُن کے بے‌شمار مویشی لُوٹ کا مال بن جائیں گے۔‏

جن لوگوں کی قلموں*‏ کے بال کٹے ہوئے ہیں،‏

مَیں اُنہیں ہر سمت*‏ میں بکھیر دوں گا

اور اُن پر ہر طرف سے تباہی لاؤں گا۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

33 ‏”‏حصور گیدڑوں کا ٹھکانا بن جائے گا

اور ہمیشہ کے لیے ویران ہو جائے گا۔‏

وہاں نہ تو کوئی بسے گا

اور نہ کوئی آباد ہوگا۔“‏

34 یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ کی حکمرانی کے شروع میں عِیلام کے بارے میں یہوواہ کا یہ کلام یرمیاہ نبی تک پہنچا:‏ 35 ‏”‏فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں عِیلام کی کمان توڑنے والا ہوں جو اُس کی طاقت کا ذریعہ*‏ ہے۔ 36 مَیں عِیلام پر آسمان کے چاروں سِروں سے چار ہوائیں بھیجوں گا اور اُسے اِن سب ہواؤں کی سمتوں میں بکھیر دوں گا۔ کوئی بھی ایسی قوم نہیں ہوگی جس میں عِیلام کے لوگ تتربتر نہیں ہوں گے۔“‏“‏

37 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں عِیلامیوں کو اُن کے دُشمنوں اور اُن لوگوں کے سامنے چُور چُور کر دوں گا جو اُن کی جان لینے پر تُلے ہیں۔ مَیں اُن پر آفت، ہاں، اپنا بھڑکتا ہوا غصہ نازل کروں گا۔ مَیں تب تک اُن کے پیچھے تلوار بھیجتا رہوں گا جب تک مَیں اُن کا نام‌ونشان نہیں مٹا دیتا۔“‏

38 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں عِیلام میں اپنا تخت لگاؤں گا اور وہاں کے بادشاہ اور حاکموں کو مٹا دوں گا۔“‏

39 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏لیکن آخری دنوں میں*‏ مَیں عِیلام کے قیدی بنائے گئے لوگوں کو جمع کروں گا۔“‏

50 یہوواہ نے بابل یعنی کسدیوں کے ملک کے بارے میں یرمیاہ نبی کے ذریعے یہ فرمایا:‏

 2 ‏”‏قوموں کے بیچ اِس کے بارے میں بتاؤ اور اِس کی مُنادی کرو۔‏

جھنڈا کھڑا کرو اور اِس کا اِعلان کرو۔‏

کچھ بھی نہ چھپاؤ!‏

کہو:‏ ”‏بابل پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔‏

بیل*‏ کو رُسوا کِیا گیا ہے۔‏

مرودک دہشت‌زدہ ہو گیا ہے۔‏

بابل کی مورتوں کو شرمندہ کِیا گیا ہے۔‏

اُس کے گھناؤنے بُت*‏ دہشت‌زدہ ہو گئے ہیں“‏

 3 کیونکہ شمال سے ایک قوم نے اُس پر حملہ کر دیا ہے۔‏

اُس نے اُس کے ملک کو دہشت کی علامت بنا دیا ہے؛‏

وہاں کوئی نہیں رہ رہا۔‏

اِنسان اور جانور دونوں بھاگ گئے ہیں؛‏

وہ دُور چلے گئے ہیں۔“‏

4 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اُن دنوں میں اور اُس وقت اِسرائیل کے لوگ اور یہوداہ کے لوگ اِکٹھے آئیں گے۔ وہ چلتے چلتے روئیں گے اور مل کر اپنے خدا یہوواہ کی رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ 5 وہ صِیّون کا راستہ پوچھیں گے اور اُس کی طرف رُخ کر کے کہیں گے:‏ ”‏آؤ ایک ابدی عہد کے ذریعے جسے بُھلایا نہیں جائے گا، یہوواہ کے ساتھ جُڑ جائیں۔“‏ 6 میرے بندے گُم‌شُدہ بھیڑوں کا گلّہ بن گئے ہیں۔ اُن کے اپنے چرواہوں نے اُنہیں گمراہ کر دیا ہے۔ وہ اُنہیں پہاڑوں پر لے گئے ہیں اور وہ ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ پر بھٹکتی پھر رہی ہیں۔ وہ اپنی آرام‌گاہ کو بھول گئی ہیں۔ 7 وہ جن جن کو بھی ملی ہیں، اُنہوں نے اُنہیں نگل لیا ہے اور اُن کے دُشمنوں نے کہا ہے:‏ ”‏ہم قصوروار نہیں ہیں کیونکہ اُنہوں نے یہوواہ کے خلاف گُناہ کِیا، ہاں، یہوواہ کے خلاف جس میں نیکی بستی ہے اور جو اُن کے باپ‌دادا کی اُمید تھا۔“‏“‏

 8 ‏”‏بابل کے بیچ سے بھاگ جاؤ؛‏

کسدیوں کے ملک سے نکل جاؤ

اور گلّے کے آگے آگے چلنے والے جانوروں کی طرح بن جاؤ

 9 کیونکہ مَیں شمال کے ملک سے بڑی بڑی قوموں کا ایک مجمع کھڑا کر رہا ہوں

اور اُسے بابل پر حملہ کرنے لا رہا ہوں۔‏

وہ لوگ صفیں باندھ کر اُس کے خلاف لڑیں گے؛‏

وہاں سے اُس پر قبضہ کر لیا جائے گا۔‏

اُن کے تیر ایک جنگجو کے تیروں جیسے ہیں

جو والدین کو بچوں سے محروم کر دیتے ہیں؛‏

اُن کا نشانہ نہیں چُوکتا۔‏

10 کسدستان لُوٹ کا مال بن جائے گا۔‏

اُسے لُوٹنے والے سب لوگ پوری طرح سیر ہوں گے۔“‏ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔‏

11 ‏”‏کیونکہ جب تُم نے میری وراثت کو لُوٹا

تو تُم خوشی اور جشن مناتے رہے۔‏

تُم ایک بچھیا کی طرح گھاس میں پاؤں مارتے رہے

اور طاقت‌ور گھوڑوں کی طرح ہنہناتے رہے۔‏

12 تمہاری ماں کو شرمندہ کِیا گیا ہے۔‏

تمہیں جنم دینے والی کو مایوس کر دیا گیا ہے۔‏

دیکھو!‏ وہ قوموں میں سب سے کم‌تر ہے؛‏

وہ ایک خشک ویرانہ اور ریگستان ہے۔‏

13 یہوواہ کے غصے کی وجہ سے وہ آباد نہیں ہوگا؛‏

وہ پوری طرح سے اُجڑ جائے گا۔‏

بابل کے پاس سے گزرنے والا ہر شخص اُس پر آنے والی ساری آفتوں کی وجہ سے

اُسے دہشت کے مارے گھورے گا اور سیٹی بجائے گا۔‏

14 تیراندازو!‏ تُم سب صفیں باندھ کر ہر طرف سے بابل پر حملہ کرو۔‏

اُس پر تیر چلاؤ؛ کوئی بھی تیر بچا کر نہ رکھو

کیونکہ اُس نے یہوواہ کے خلاف گُناہ کِیا ہے۔‏

15 ہر طرف سے اُس کے خلاف جنگ کا نعرہ مارو۔‏

اُس نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔‏*‏

اُس کے ستون گِر گئے ہیں اور اُس کی دیواریں ڈھا دی گئی ہیں۔‏

یہ یہوواہ کا اِنتقام ہے۔‏

اُس سے اپنا اِنتقام لو۔‏

اُس کے ساتھ وہی کرو جو اُس نے کِیا ہے۔‏

16 بابل سے بیج بونے والے کو کاٹ دو

اور اُس کو بھی جو کٹائی کے موسم میں درانتی چلاتا ہے۔‏

بے‌رحم تلوار کی وجہ سے ہر کوئی اپنے لوگوں کے پاس لوٹ جائے گا،‏

ہاں، اپنے ملک بھاگ جائے گا۔‏

17 اِسرائیل کے لوگ بکھری ہوئی بھیڑیں ہیں۔ شیروں نے اُنہیں تتربتر کر دیا ہے۔ پہلے اسور کے بادشاہ نے اُنہیں کھایا؛ پھر بابل کے بادشاہ نبوکدنضر*‏ نے اُن کی ہڈیاں چبائیں۔ 18 اِس لیے فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں بابل کے بادشاہ اور اُس کے ملک سے ویسے ہی نمٹوں گا جیسے مَیں اسور کے بادشاہ سے نمٹا تھا۔ 19 مَیں اِسرائیل کو اُس کی چراگاہ میں واپس لاؤں گا اور وہ کرمِل اور بسن پر چرے گا۔ وہ*‏ اِفرائیم اور جِلعاد کے پہاڑوں پر جی بھر کر کھائے گا۔“‏“‏

20 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اُن دنوں میں اور اُس وقت

اِسرائیل کا قصور تلاش کِیا جائے گا

لیکن اُس کا کوئی قصور نہیں ملے گا؛‏

یہوداہ میں کوئی گُناہ نہیں پایا جائے گا

کیونکہ مَیں اُنہیں معاف کر دوں گا جنہیں مَیں باقی چھوڑ دوں گا۔“‏

21 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مِراتایم کی سرزمین اور فقود کے باشندوں پر حملہ کرو۔‏

اُن کا قتلِ‌عام کرو اور اُنہیں پوری طرح تباہ کر دو۔“‏

‏”‏وہ سب کرو جس کا مَیں نے تمہیں حکم دیا ہے۔‏

22 ملک میں جنگ کا، ہاں، ایک بڑی تباہی کا شور ہے۔‏

23 دیکھو، ساری زمین کو چُور چُور کرنے والے ہتھوڑے کو کیسے کاٹ کر توڑ دیا گیا ہے!‏

دیکھو، بابل قوموں کے بیچ کیسے دہشت کی علامت بن گیا ہے!‏

24 اَے بابل!‏ مَیں نے تیرے لیے پھندا بچھایا اور تُو اُس میں پھنس گیا؛‏

تجھے اِس کا پتہ بھی نہیں چلا۔‏

تجھے ڈھونڈ کر پکڑ لیا گیا

کیونکہ تُو نے یہوواہ کی مخالفت کی۔‏

25 یہوواہ نے اپنا گودام کھولا ہے

اور اپنے قہر کے ہتھیار باہر نکالے ہیں

کیونکہ حاکمِ‌اعلیٰ یعنی فوجوں کے خدا یہوواہ کو

کسدیوں کے ملک میں ایک کام کرنا ہے۔‏

26 دُوردراز علاقوں سے اُس پر حملہ کرو۔‏

اُس کے اناج کے گودام کھول دو۔‏

اناج کے ڈھیروں کی طرح اُس کا ڈھیر لگا دو۔‏

اُسے پوری طرح تباہ کر دو۔‏

اُس کا کوئی بھی شخص باقی نہ بچے۔‏

27 اُس کے سب جوان بیلوں کو قتل کر دو؛‏

اُنہیں ذبح ہونے کے لیے بھیج دو۔‏

اُن پر افسوس کیونکہ اُن کا دن آ گیا ہے!‏

اُن کے حساب کتاب کا وقت آ پہنچا ہے!‏

28 بھاگنے والوں کی آواز آ رہی ہے،‏

ہاں، بابل سے بچ کر نکلنے والوں کی آواز

تاکہ صِیّون میں اپنے خدا یہوواہ کے اِنتقام کا اِعلان کریں،‏

ہاں، اُس کی ہیکل کے اِنتقام کا۔‏

29 بابل پر حملہ کرنے کے لیے تیراندازوں کو بُلاؤ،‏

ہاں، اُن سب کو جو تیر چلاتے ہیں۔‏

اُس کی چاروں طرف خیمے لگاؤ؛ کسی کو بھی بچ کر نہ نکلنے دو۔‏

اُسے اُس کے کاموں کے حساب سے بدلہ دو۔‏

اُس کے ساتھ وہی کرو جو اُس نے کِیا ہے

کیونکہ اُس نے یہوواہ کے سامنے،‏

ہاں، اِسرائیل کے پاک خدا کے سامنے تکبّر سے کام لیا ہے۔‏

30 اِس لیے اُس دن اُس کے جوان آدمی اُس کے چوکوں میں گِر جائیں گے

اور اُس کے سب سپاہی فنا*‏ ہو جائیں گے۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

31 حاکمِ‌اعلیٰ یعنی فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اَے سرکش بابل!‏ دیکھ!‏ مَیں تیرے خلاف ہوں

کیونکہ تیرا دن ضرور آئے گا، ہاں، وہ وقت جب مَیں تجھ سے حساب لوں گا۔‏

32 اَے سرکش بابل!‏ تُو ٹھوکر کھا کر گِر جائے گا

اور تجھے اُٹھانے والا کوئی نہیں ہوگا۔‏

مَیں تیرے شہروں کو آگ لگا دوں گا

جو تیرے اِردگِرد ہر چیز کو بھسم کر دے گی۔“‏

33 فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏اِسرائیل اور یہوداہ کے لوگوں پر ظلم ڈھایا گیا ہے؛‏

اُنہیں قیدی بنا کر لے جانے والوں نے اُنہیں پکڑ کر رکھا ہے

اور اُنہیں جانے نہیں دے رہے۔‏

34 لیکن اُنہیں چھڑانے والا*‏ طاقت‌ور ہے۔‏

اُس کا نام فوجوں کا خدا یہوواہ ہے۔‏

وہ ضرور اُن کا مُقدمہ لڑے گا

تاکہ ملک کو آرام ملے

اور بابل کے باشندوں میں ہلچل مچ جائے۔“‏

35 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏کسدیوں، بابل کے باشندوں، اُس کے حاکموں

اور اُس کے دانش‌مندوں کے خلاف ایک تلوار آئے گی۔‏

36 کھوکھلی باتیں کرنے والوں*‏ کے خلاف ایک تلوار آئے گی اور وہ بے‌وقوفی سے کام لیں گے۔‏

اُس کے جنگجوؤں کے خلاف ایک تلوار آئے گی اور وہ خوف‌زدہ ہو جائیں گے۔‏

37 اُن کے گھوڑوں، اُن کے جنگی رتھوں

اور اُس کے بیچ موجود ساری ملی‌جُلی آبادیوں کے خلاف ایک تلوار آئے گی

اور وہ عورتوں کی طرح بن جائیں گے۔‏

اُس کے خزانوں کے خلاف ایک تلوار آئے گی

اور اُنہیں لُوٹ لیا جائے گا۔‏

38 اُس کے پانیوں پر تباہی ٹوٹ پڑے گی اور وہ سُوکھ جائیں گے

کیونکہ وہ تراشی ہوئی مورتوں کا ملک ہے

اور لوگ خوف‌ناک رُویات کی وجہ سے پاگلوں جیسی حرکتیں کرتے ہیں۔‏

39 اِس لیے ریگستان کے جانور رونے والے جانوروں*‏ کے ساتھ رہیں گے

اور اُس میں شُترمُرغ بسیں گے۔‏

وہ کبھی آباد نہیں ہوگا

اور نہ اُس میں نسل‌درنسل کوئی بسے گا۔“‏

40 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اُس کا بھی وہی حال ہوگا جو خدا نے سدوم، عمورہ اور اُن کے آس‌پاس کے قصبوں کو تباہ کر کے اُن کا کِیا تھا؛ وہاں نہ تو کوئی بسے گا اور نہ کوئی آباد ہوگا۔‏

41 دیکھو!‏ شمال سے ایک قوم آ رہی ہے؛‏

زمین کے دُوردراز علاقوں سے ایک بڑی قوم

اور عظیم بادشاہوں کو کھڑا کِیا جائے گا۔‏

42 وہ کمان اور برچھی سے لیس ہیں۔‏

وہ ظالم ہیں اور کسی پر رحم نہیں کرتے۔‏

جب وہ گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں

تو اُن کی آواز گرجتے ہوئے سمندر جیسی ہوتی ہے۔‏

بابل کی بیٹی!‏ اُن سب نے مل کر تیرے خلاف لڑنے کے لیے صفیں باندھ لی ہیں۔‏

43 بابل کے بادشاہ نے اُن کے بارے میں خبر سنی ہے

اور اُس کی ہمت جواب دے گئی ہے۔‏*‏

پریشانی نے اُسے جکڑ لیا ہے؛‏

اُس پر اُس عورت کی طرح تکلیف حاوی ہو گئی ہے

جسے بچے کی پیدائش کی دردیں لگی ہوں۔‏

44 دیکھ!‏ کوئی ادوم کی محفوظ چراگاہوں پر حملہ کرنے آئے گا، بالکل ویسے ہی جیسے اُردن*‏ کی گھنی جھاڑیوں سے شیر آتا ہے۔ لیکن مَیں ایک لمحے میں اُنہیں*‏ دُور بھگا دوں گا۔ مَیں ایک چُنے ہوئے شخص کو اُس پر مقرر کروں گا۔ مجھ جیسا کون ہے؟ کون مجھے للکار سکتا ہے؟ کون سا چرواہا میرے سامنے کھڑا رہ سکتا ہے؟ 45 اِس لیے اَے آدمیو!‏ سنو کہ یہوواہ نے بابل کے خلاف کیا فیصلہ*‏ کِیا ہے اور کسدیوں کے ملک کے خلاف کیا سوچا ہے۔‏

گلّے کی چھوٹی بھیڑوں کو ضرور گھسیٹ کر لے جایا جائے گا۔‏

وہ اُن کی رہائش‌گاہ کو اُن کی وجہ سے اُجاڑ دے گا۔‏

46 جب بابل پر قبضہ کِیا جائے گا تو شور سے زمین لرز جائے گی

اور قوموں کے بیچ چیخ‌وپکار سنائی دے گی۔“‏

51 یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏مَیں بابل کے خلاف اور لیب‌قامائی*‏ کے باشندوں کے خلاف

ایک تباہ‌کُن ہوا چلانے والا ہوں۔‏

 2 مَیں اناج پھٹکنے والوں کو بابل بھیجوں گا

اور وہ اُسے پھٹکیں گے اور اُس کے ملک کو خالی کر دیں گے؛‏

وہ مصیبت کے دن ہر طرف سے اُس پر حملہ کریں گے۔‏

 3 تیرانداز اپنی کمان نہ تانے

اور کوئی بھی شخص بکتر پہن کر کھڑا نہ ہو۔‏

اُس کے جوانوں پر کوئی رحم نہ کرنا۔‏

اُس کی ساری فوج کو تباہ کر دینا۔‏

 4 اُنہیں کسدیوں کے ملک میں قتل کِیا جائے گا

اور اُس کی گلیوں میں چھلنی کر دیا جائے گا

 5 کیونکہ اِسرائیل اور یہوداہ کے خدا یعنی فوجوں کے خدا یہوواہ نے اُنہیں چھوڑا نہیں ہے؛ وہ بیوہ کی طرح نہیں ہیں۔‏

لیکن اِسرائیل کے پاک خدا کی نظر میں اُن کا ملک*‏ پوری طرح قصوروار ہے۔‏

 6 بابل کے بیچ سے بھاگ جاؤ؛‏

اپنی جان بچانے کے لیے بھاگو۔‏

اُس کے گُناہ کی وجہ سے ہلاک نہ ہو جانا

کیونکہ یہ یہوواہ کے اِنتقام کا وقت ہے۔‏

وہ اُسے اُس کے کیے کا بدلہ دے رہا ہے۔‏

 7 بابل یہوواہ کے ہاتھ میں سونے کا پیالہ تھا؛‏

اُس نے ساری زمین کو نشے میں دُھت کر دیا۔‏

قوموں نے اُس کی مے پی

اِس لیے وہ پاگل ہو گئی ہیں۔‏

 8 بابل اچانک گِر گیا ہے اور چُور چُور ہو گیا ہے۔‏

اُس پر ماتم کرو!‏

اُس کی تکلیف دُور کرنے کے لیے بلسان لاؤ؛ شاید وہ ٹھیک ہو جائے۔“‏

 9 ‏”‏ہم نے بابل کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ٹھیک نہیں ہو سکا۔‏

اُسے چھوڑ دو اور آؤ، سب اپنے اپنے ملک چلیں

کیونکہ اُس کی سزا کا معاملہ آسمان تک، ہاں، بادلوں تک پہنچ گیا ہے۔‏

10 یہوواہ نے ہماری خاطر اِنصاف کِیا ہے۔‏

آؤ، صِیّون میں اپنے خدا یہوواہ کے کاموں کے بارے میں بتائیں۔“‏

11 ‏”‏تیر چمکاؤ؛ گول ڈھالیں اُٹھاؤ۔‏*‏

یہوواہ نے مادیوں کے بادشاہوں کے دل*‏ کو اُبھارا ہے

کیونکہ اُس نے بابل کو تباہ کرنے کا اِرادہ کِیا ہے۔‏

یہ یہوواہ کا اِنتقام ہے، ہاں، اُس کی ہیکل کا اِنتقام۔‏

12 بابل کی دیواروں پر حملہ کرنے کے لیے جھنڈا کھڑا کرو۔‏

پہرا سخت کرو؛ پہرےدار تعینات کرو۔‏

گھات لگا کر حملہ کرنے والوں کو تیار کرو

کیونکہ یہوواہ نے منصوبہ بنا لیا ہے

اور وہ اپنی اُن باتوں کو پورا کرے گا جو اُس نے بابل کے باشندوں کے خلاف کہی ہیں۔“‏

13 ‏”‏بہت سے پانیوں پر بسنے والی عورت

جس کے پاس ڈھیر سارے خزانے ہیں،‏

تیرا خاتمہ آ گیا ہے؛ منافع کمانے کی تیری حد اپنی اِنتہا کو پہنچ گئی ہے۔‏*‏

14 فوجوں کے خدا یہوواہ نے اپنی*‏ قسم کھا کر کہا ہے:‏

‏”‏مَیں تجھے آدمیوں سے بھر دوں گا جو ٹڈیوں کی طرح بے‌شمار ہوں گے

اور وہ تجھے ہرا کر جیت کے نعرے ماریں گے۔“‏

15 اُسی نے اپنی طاقت سے زمین کو بنایا ہے؛‏

اُسی نے اپنی دانش‌مندی سے زرخیز زمین کو تیار کِیا ہے

اور اُسی نے اپنی سمجھ‌داری سے آسمان کو پھیلایا ہے۔‏

16 جب وہ اپنی آواز بلند کرتا ہے

تو آسمان کے پانیوں میں ہلچل مچ جاتی ہے۔‏

وہ زمین کے کونے کونے سے بادلوں*‏ کو اُوپر اُٹھاتا ہے۔‏

وہ بارش کے لیے بجلی*‏ بناتا ہے

اور اپنے گوداموں سے ہوا باہر لاتا ہے۔‏

17 ہر اِنسان بغیر سمجھ اور علم کے کام کرتا ہے۔‏

ہر دھات‌گر کو اُس کی تراشی ہوئی مورتوں کی وجہ سے شرمندہ کِیا جائے گا

کیونکہ اُس کے دھات کے بُت محض جھوٹ ہیں

اور اُن میں کوئی سانس*‏ نہیں ہے۔‏

18 وہ محض دھوکا*‏ ہیں اور تمسخر کے لائق ہیں۔‏

جب اُن کی سزا کا دن آئے گا تو وہ فنا ہو جائیں گے۔‏

19 وہ ہستی جو یعقوب کا حصہ ہے، اِن چیزوں جیسی نہیں ہے

کیونکہ اُسی نے سب کچھ بنایا ہے

اور وہ اپنی وراثت کی لاٹھی ہے۔‏*‏

اُس کا نام فوجوں کا خدا یہوواہ ہے۔“‏

20 ‏”‏تُو میرے لیے جنگی لاٹھی، ہاں، جنگ کا ہتھیار ہے

کیونکہ مَیں تیرے ذریعے قوموں کو چکناچُور کر دوں گا

اور بادشاہتوں کو تباہ کر دوں گا۔‏

21 مَیں تیرے ذریعے گھوڑے اور اُس کے سوار کو چکناچُور کر دوں گا۔‏

مَیں تیرے ذریعے جنگی رتھ اور اُس کے سوار کو چکناچُور کر دوں گا۔‏

22 مَیں تیرے ذریعے آدمی اور عورت کو چکناچُور کر دوں گا۔‏

مَیں تیرے ذریعے بوڑھے اور بچے کو چکناچُور کر دوں گا۔‏

مَیں تیرے ذریعے جوان آدمی اور عورت کو چکناچُور کر دوں گا۔‏

23 مَیں تیرے ذریعے چرواہے اور اُس کے گلّے کو چکناچُور کر دوں گا۔‏

مَیں تیرے ذریعے کسان اور اُس کے بیلوں کی جوڑی کو چکناچُور کر دوں گا۔‏

مَیں تیرے ذریعے ناظموں اور نائب حاکموں کو چکناچُور کر دوں گا۔‏

24 مَیں بابل اور کسدستان کے سارے باشندوں کو اُس ساری بُرائی کا بدلہ دوں گا

جو اُنہوں نے میری نظروں کے سامنے صِیّون میں کی ہے۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

25 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اَے تباہ کرنے والے پہاڑ!‏ اَے ساری زمین کو برباد کرنے والے!‏

مَیں تیرے خلاف ہوں۔‏

مَیں تیرے خلاف اپنا ہاتھ بڑھاؤں گا اور تجھے چٹانوں سے نیچے لُڑھکا دوں گا

اور تجھے ایک جلا ہوا پہاڑ بنا دوں گا۔“‏

26 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏لوگ تجھ میں سے کونے کا پتھر یا بنیاد کا پتھر نہیں لیں گے

کیونکہ تُو ہمیشہ کے لیے اُجڑ جائے گا۔“‏

27 ‏”‏ملک میں جھنڈا کھڑا کرو۔‏

قوموں کے بیچ نرسنگا*‏ بجاؤ۔‏

اُس کے خلاف قوموں کو مقرر*‏ کرو۔‏

اُس کے خلاف اراراط، مِنّی اور اشکناز کی بادشاہتوں کو بُلاؤ۔‏

اُس کے خلاف سپاہی بھرتی کرنے والا افسر مقرر کرو۔‏

گھوڑوں کے ذریعے حملہ کرو جو کھڑے بالوں والی ٹڈیوں کی طرح اُس پر ٹوٹ پڑیں۔‏

28 اُس کے خلاف قوموں اور مادی کے بادشاہوں، ناظموں، سب نائب حاکموں

اور اُن سب علاقوں کو مقرر*‏ کرو جن پر اُن کی حکومت ہے۔‏

29 زمین کانپے گی اور لرزے گی

کیونکہ یہوواہ بابل کے حوالے سے اپنا اِرادہ پورا کرے گا

تاکہ بابل کو دہشت کی علامت اور غیرآباد بنا دے۔‏

30 بابل کے جنگجوؤں نے لڑنا چھوڑ دیا ہے۔‏

وہ اپنے قلعوں میں بیٹھے ہیں۔‏

اُن کی ہمت جواب دے گئی ہے۔‏

وہ عورتوں کی طرح بن گئے ہیں۔‏

اُس کے گھروں کو آگ لگا دی گئی ہے۔‏

اُس کے کُنڈوں کو توڑ دیا گیا ہے۔‏

31 ایک قاصد بھاگ کر دوسرے قاصد کے پاس جاتا ہے؛‏

ایک پیغام‌رساں بھاگ کر دوسرے پیغام‌رساں کے پاس جاتا ہے

تاکہ بابل کے بادشاہ تک یہ خبر پہنچائی جائے کہ اُس کے شہر پر چاروں طرف سے قبضہ کر لیا گیا ہے،‏

32 گھاٹوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے،‏

آبی نرسل*‏ کی کشتیوں کو آگ سے جلا دیا گیا ہے

اور سپاہی دہشت‌زدہ ہیں۔“‏

33 فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے:‏

‏”‏بابل کی بیٹی ایک کھلیان*‏ کی طرح ہے۔‏

اب وقت آ گیا ہے کہ اُسے روند روند کر سخت کِیا جائے۔‏

بہت جلد اُس کی کٹائی کا وقت آ جائے گا۔“‏

34 ‏”‏بابل کا بادشاہ نبوکدنضر*‏ مجھے کھا گیا ہے؛‏

اُس نے مجھے اُلجھن میں ڈال دیا ہے۔‏

اُس نے مجھے خالی برتن کی طرح رکھ دیا ہے۔‏

وہ ایک بڑے سانپ کی طرح مجھے نگل گیا ہے؛‏

اُس نے اپنا پیٹ میری عمدہ چیزوں سے بھر لیا ہے۔‏

اُس نے مجھے پانی سے بہا دیا ہے۔‏

35 صِیّون کا باشندہ کہتا ہے:‏ ”‏بابل پر وہی ظلم کِیا جائے جو مجھ پر اور میرے جسم پر کِیا گیا ہے۔“‏

یروشلم کہتا ہے:‏ ”‏میرا خون کسدستان کے باشندوں کے سر پر ہو۔“‏“‏

36 اِس لیے یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏مَیں تمہارا مُقدمہ لڑوں گا

اور تمہارا بدلہ لوں گا۔‏

مَیں اُس کے سمندر کو سُکھا دوں گا اور اُس کے کنوئیں خشک کر دوں گا۔‏

37 بابل پتھروں کا ڈھیر، گیدڑوں کا ٹھکانا،‏

دہشت کی علامت اور ایک ایسی چیز بن جائے گا

جسے دیکھ کر لوگ سیٹی بجائیں گے۔‏

اور اُس میں کوئی نہیں بسے گا۔‏

38 وہ سب مل کر جوان شیروں*‏ کی طرح دھاڑیں گے۔‏

وہ شیر کے بچوں کی طرح غُرائیں گے۔“‏

39 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏جب اُن کی خواہشیں بھڑک رہی ہوں گی

تو مَیں اُن کے لیے ضیافت تیار کروں گا

اور اُنہیں مے کے نشے میں دُھت کروں گا

تاکہ وہ جشن منائیں؛‏

پھر وہ ہمیشہ کی نیند سو جائیں گے

اور کبھی نہیں جاگیں گے۔“‏

40 ‏”‏مَیں اُنہیں میمنوں، بکروں اور مینڈھوں کی طرح

ذبح کرنے کے لیے لے جاؤں گا۔“‏

41 ‏”‏شیشک*‏ پر کیسے قبضہ کر لیا گیا ہے!‏

اُس پر کیسے اِختیار جما لیا گیا ہے جس کی ساری زمین پر تعریف کی جاتی ہے!‏

بابل کیسے قوموں کے بیچ دہشت کی علامت بن گیا ہے!‏

42 سمندر بابل پر چڑھ آیا ہے۔‏

اُس کی بے‌شمار لہروں نے اُسے ڈھک لیا ہے۔‏

43 اُس کے شہر دہشت کی علامت، خشک زمین اور ریگستان بن گئے ہیں۔‏

وہ ایک ایسا ملک بن گئے ہیں جہاں کوئی نہیں رہے گا اور جہاں سے کوئی نہیں گزرے گا۔‏

44 مَیں بابل میں بیل*‏ کو سزا دوں گا

اور اُس کے مُنہ سے وہ سب نکال لوں گا جو اُس نے نگلا ہے۔‏

قومیں ندی کی طرح اُس کی طرف نہیں آئیں گی

اور بابل کی دیوار گِر جائے گی۔‏

45 میرے بندو!‏ اُس کے بیچ سے نکل آؤ!‏

یہوواہ کے غضب کی آگ سے اپنی جان بچا کر بھاگو!‏

46 ملک میں جو خبر سنائی جانے والی ہے، اُس کی وجہ سے دل نہ چھوڑنا اور خوف‌زدہ نہ ہونا۔‏

ایک سال ایک خبر آئے گی

اور اگلے سال ایک اَور خبر،‏

ہاں، ملک میں ظلم‌وتشدد کی خبر اور ایک حکمران کے دوسرے حکمران کے خلاف کھڑا ہونے کی خبر۔‏

47 اِس لیے دیکھو!‏ وہ دن آ رہے ہیں

جب مَیں بابل کی تراشی ہوئی مورتوں کو تباہ کر دوں گا۔‏

اُس کے سارے ملک کو شرمندہ کِیا جائے گا

اور اُس کے قتل ہونے والے سب لوگوں کی لاشیں اُس کے بیچ پڑی رہیں گی۔‏

48 آسمان اور زمین اور اُن میں موجود ساری چیزیں

بابل کی شکست پر خوشی سے للکاریں گی

کیونکہ شمال سے تباہ کرنے والے اُس پر حملہ کرنے آئیں گے۔“‏ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔‏

49 ‏”‏بابل نے صرف اِسرائیل کے لوگوں کی لاشیں نہیں گِرائیں

بلکہ بابل میں زمین کے سب لوگوں کی لاشیں گِری ہیں۔‏

50 تُم جو تلوار سے بچ نکلے ہو، چلتے رہو؛ کھڑے مت ہو۔‏

تُم جو دُور ہو، یہوواہ کو یاد کرو

اور تمہارے دل میں یروشلم کی یاد تازہ ہو۔“‏

51 ‏”‏ہمیں شرمندہ کِیا گیا ہے کیونکہ ہمیں طعنے مارے گئے ہیں۔‏

رُسوائی نے ہمارے چہروں کو ڈھک لیا ہے

کیونکہ پردیسیوں*‏ نے یہوواہ کے گھر کی مُقدس جگہوں پر حملہ کر دیا ہے۔“‏

52 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اِس لیے دیکھو!‏ وہ دن آ رہے ہیں

جب مَیں اُس کی تراشی ہوئی مورتوں کو تباہ کر دوں گا

اور اُس کے سارے ملک میں زخمی کراہیں گے۔“‏

53 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏چاہے بابل آسمان پر چڑھ جائے؛‏

چاہے وہ اپنے اُونچے اُونچے قلعوں کو مضبوط کرے،‏

مَیں اُسے تباہ کرنے والوں کو بھیجوں گا۔“‏

54 ‏”‏سنو!‏ بابل سے چیخ‌وپکار سنائی دے رہی ہے؛‏

کسدیوں کے ملک سے بڑی تباہی کی آواز آ رہی ہے

55 کیونکہ یہوواہ بابل کو تباہ کر رہا ہے؛‏

وہ اُس کی زوردار آواز کو خاموش کرا دے گا

اور اُس کے دُشمن ٹھاٹھیں مارتی لہروں کی طرح گرجیں گے؛‏

اُن کا شور سنائی دے گا

56 کیونکہ حملہ کرنے والا بابل پر ٹوٹ پڑے گا؛‏

اُس کے جنگجوؤں کو پکڑ لیا جائے گا؛‏

اُس کی کمانیں چکناچُور کر دی جائیں گی

کیونکہ یہوواہ بدلہ دینے والا خدا ہے؛‏

وہ بدلہ ضرور دے گا۔‏

57 مَیں اُس کے حاکموں اور اُس کے دانش‌وروں کو نشے میں دُھت کر دوں گا

اور اُس کے ناظموں، اُس کے نائب حاکموں اور اُس کے جنگجوؤں کو بھی۔‏

وہ ہمیشہ کی نیند سو جائیں گے اور کبھی نہیں جاگیں گے۔“‏

یہ بات اُس بادشاہ نے فرمائی ہے جس کا نام فوجوں کا خدا یہوواہ ہے۔‏

58 فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏حالانکہ بابل کی دیوار چوڑی ہے لیکن اُسے مکمل طور پر ڈھا دیا جائے گا؛‏

حالانکہ اُس کے دروازے اُونچے ہیں لیکن اُنہیں آگ لگا دی جائے گی۔‏

قومیں فضول میں محنت کریں گی؛‏

وہ تھک کر چُور ہو جائیں گی لیکن محض آگ کی بھوک مٹانے کے لیے۔“‏

59 یہ وہ باتیں ہیں جن کا حکم یرمیاہ نبی نے محسیاہ کے بیٹے نِیریاہ کے بیٹے سِرایاہ کو اُس وقت دیا جب وہ یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ کی حکمرانی کے چوتھے سال میں اُس کے ساتھ بابل گئے۔ سِرایاہ شاہی منتظم تھے۔ 60 یرمیاہ نے ایک کتاب میں اُس ساری آفت کے بارے میں لکھا جو بابل پر آنی تھی یعنی یہ سب کچھ جو بابل کے بارے میں تھا۔ 61 یرمیاہ نے سِرایاہ سے یہ بھی کہا:‏ ”‏جب آ پ بابل پہنچیں اور اُسے دیکھیں تو یہ ساری باتیں اُونچی آواز میں پڑھنا۔ 62 پھر یہ کہنا:‏ ”‏اَے یہوواہ!‏ تُو نے اِس جگہ کے بارے میں فرمایا تھا کہ یہ تباہ ہو جائے گی اور اِس میں نہ تو کوئی اِنسان رہے گا اور نہ جانور اور یہ ہمیشہ کے لیے اُجڑ جائے گی۔“‏ 63 یہ کتاب پڑھنے کے بعد اِس کے ساتھ ایک پتھر باندھ کر اِسے دریائے‌فرات کے بیچ میں پھینک دینا۔ 64 پھر کہنا:‏ ”‏بابل بھی اِسی طرح ڈوب جائے گا اور پھر کبھی نہیں اُبھرے گا۔ ایسا اُس تباہی کی وجہ سے ہوگا جو مَیں یعنی خدا اُس پر لانے والا ہوں۔ اُس کے باشندے نڈھال ہو جائیں گے۔“‏“‏

یرمیاہ کی باتیں یہاں ختم ہوتی ہیں۔‏

52 جب صِدقیاہ بادشاہ بنا تو وہ 21 سال کا تھا اور اُس نے 11 سال یروشلم میں حکمرانی کی۔ اُس کی والدہ کا نام حموطل تھا جو لِبناہ سے تعلق رکھنے والے یرمیاہ کی بیٹی تھیں۔ 2 وہ یہویقیم کی طرح وہ سارے کام کرتا رہا جو یہوواہ کی نظر میں بُرے تھے۔ 3 یروشلم اور یہوداہ میں یہ سب کچھ یہوواہ کے قہر کی وجہ سے ہوتا رہا اور آخرکار اُس نے اُنہیں اپنی نظروں سے دُور کر دیا۔ پھر صِدقیاہ نے بابل کے بادشاہ کے خلاف بغاوت کر دی۔ 4 صِدقیاہ کی حکمرانی کے نویں سال کے دسویں مہینے کے دسویں دن بابل کا بادشاہ نبوکدنضر*‏ اپنی ساری فوج کے ساتھ یروشلم پر حملہ کرنے آیا۔ اُن لوگوں نے شہر کے باہر پڑاؤ ڈالا اور اِسے گھیرنے کے لیے اِس کے گِرد ایک دیوار کھڑی کر دی۔ 5 اُنہوں نے بادشاہ صِدقیاہ کی حکمرانی کے 11ویں سال تک شہر کے گِرد گھیرا ڈالے رکھا۔‏

6 چوتھے مہینے کے نویں دن تک شہر میں قحط شدت اِختیار کر چُکا تھا اور ملک کے لوگوں کے پاس کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔ 7 آخر کسدیوں نے شہر کی دیوار میں شگاف ڈال دیا اور جب اُنہوں نے شہر کو گھیرا ہوا تھا تو بادشاہ صِدقیاہ کے سب سپاہی راتوں رات شہر سے دوہری دیوار کے دروازے سے بھاگ گئے جو بادشاہ کے باغ کے پاس تھا اور اراباہ کے راستے آگے بڑھتے گئے۔ 8 لیکن کسدی فوج نے بادشاہ کا پیچھا کِیا اور یریحو کے بنجر میدانوں میں صِدقیاہ کو گھیر لیا اور اُس کے سارے فوجی اُسے چھوڑ کر اِدھر اُدھر بھاگ گئے۔ 9 پھر اُنہوں نے بادشاہ صِدقیاہ کو پکڑ لیا اور اُسے حمات کے علاقے رِبلہ میں بابل کے بادشاہ کے پاس لائے اور اُس نے اُسے سزا سنائی۔ 10 بابل کے بادشاہ نے صِدقیاہ کے بیٹوں کو اُس کی آنکھوں کے سامنے ذبح کر دیا۔ اُس نے رِبلہ میں یہوداہ کے سب حاکموں کو بھی ذبح کر دیا۔ 11 اِس کے بعد بابل کے بادشاہ نے صِدقیاہ کو اندھا کر دیا اور اُسے تانبے کی بیڑیوں میں جکڑ کر بابل لے گیا اور اُسے اُس کی موت تک قید میں رکھا۔‏

12 پانچویں مہینے کے دسویں دن یعنی بابل کے بادشاہ نبوکدنضر*‏ کی حکمرانی کے 19ویں سال میں بابل کے بادشاہ کا ایک خادم یعنی محافظوں کا سربراہ نبوزرادان یروشلم آیا۔ 13 اُس نے یہوواہ کے گھر، بادشاہ کے محل اور یروشلم کے سب گھروں کو جلا دیا۔ اُس نے ہر بڑے گھر کو بھی جلا دیا۔ 14 محافظوں کے سربراہ کے ساتھ آئی پوری کسدی فوج نے یروشلم کے گِرد موجود دیواریں گِرا دیں۔‏

15 محافظوں کا سربراہ نبوزرادان کچھ ادنیٰ لوگوں اور شہر میں باقی بچے لوگوں کو قیدی بنا کر لے گیا۔ وہ بابل کے بادشاہ کے ساتھ مل جانے والے لوگوں اور باقی بچے ماہر کاریگروں کو بھی ساتھ لے گیا۔ 16 لیکن محافظوں کے سربراہ نبوزرادان نے ملک کے کچھ غریب‌ترین لوگوں کو چھوڑ دیا تاکہ وہ انگور کے باغوں میں کام کریں اور اُن سے جبری مشقت کرائی جائے۔‏

17 کسدیوں نے یہوواہ کے گھر میں موجود تانبے کے ستونوں اور یہوواہ کے گھر میں موجود ہتھ‌گاڑیوں اور بڑے حوض کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور سارا تانبا بابل لے گئے۔ 18 وہ راکھ‌دان، بیلچے، بتی کاٹنے والی قینچیاں، کٹورے، پیالے اور تانبے کی وہ ساری چیزیں لے گئے جو ہیکل میں خدمت کے لیے اِستعمال کی جاتی تھیں۔ 19 محافظوں کا سربراہ وہ حوض، کوئلے‌دان، کٹورے، راکھ‌دان، شمع‌دان، پیالے اور نذرانوں کے لیے اِستعمال ہونے والے کٹورے بھی لے گیا جو خالص سونے اور چاندی سے بنے تھے۔ 20 بادشاہ سلیمان نے یہوواہ کے گھر کے لیے جو دو ستون، بڑا حوض،‏*‏ بڑے حوض کے نیچے تانبے کے 12 بیل اور ہتھ‌گاڑیاں بنوائی تھیں، اُن سب کے تانبے کا وزن اِتنا زیادہ تھا کہ اُسے تولا نہیں جا سکتا تھا۔‏

21 ہر ستون کی لمبائی 18 ہاتھ*‏ تھی، گھیرا 12 ہاتھ تھا،‏*‏ موٹائی چار اُنگل*‏ تھی اور وہ اندر سے کھوکھلا تھا۔ 22 ایکک ستون کے اُوپر تانبے کا تاج بنا تھا جس کی اونچائی پانچ ہاتھ تھی اور تاج کے گِرد بنی جالی اور انار بھی تانبے کے تھے۔ دوسرا ستون اور انار بھی بالکل ایسے ہی تھے۔ 23 اُس کے اِردگِرد 96 انار تھے؛ جالی کے گِرد کُل 100 انار تھے۔‏

24 محافظوں کا سربراہ کاہنِ‌اعظم سِرایااہ، اُن کے مددگار کاہن صِفَنیاہ اور تین دربانوں کو بھی لے گیا۔ 25 وہ شہر سے ایک درباری کو جو سپاہیوں کا سربراہ تھا، شہر میں ملنے والے بادشاہ کے سات قریبی ساتھیوں کو، فوج کے سربراہ کے مُنشی کو جو ملک کے لوگوں کو فوج میں بھرتی کرتا تھا اور شہر میں ملنے والے ملک کے 60 عام آدمیوں کو لے گیا۔ 26 محافظوں کا سربراہ نبوزرادان اُنہیں رِبلہ میں بابل کے بادشاہ کے پاس لایا۔ 27 بابل کے بادشاہ نے حمات کے علاقے رِبلہ میں اُن سب لوگوں کو مار ڈالا۔ اِس طرح یہوداہ اپنے ملک سے بابل کی غلامی میں چلا گیا۔‏

28 نبوکدنضر*‏ اِن لوگوں کو قیدی بنا کر لے گیا:‏ ساتویں سال میں 3023 یہودیوں کو۔‏

29 نبوکدنضر*‏ کی حکمرانی کے 18ویں سال میں 832 لوگوں*‏ کو یروشلم سے لے جایا گیا۔‏

30 نبوکدنضر*‏ کی حکمرانی کے 23ویں سال میں محافظوں کا سربراہ نبوزرادان 745 یہودی لوگوں*‏ کو قیدی بنا کر لے گیا۔‏

کُل 4600 لوگوں*‏ کو قیدی بنا کر لے جایا گیا۔‏

31 پھر یہوداہ کے بادشاہ یہویاکین کی قید کے 37ویں سال کے 12ویں مہینے کے 25ویں دن بابل کے بادشاہ اِویل‌مرودک نے یہوداہ کے بادشاہ یہویاکین کو قیدخانے سے نکالا اور رِہا کر دیا۔‏*‏ یہ وہی سال تھا جس میں اِویل‌مرودک بادشاہ بنا تھا۔ 32 اِویل‌مرودک نے یہویاکین سے نرمی سے بات کی اور اُسے اُن بادشاہوں سے اُونچا رُتبہ دیا جو اُس کے ساتھ بابل میں تھے۔ 33 یہویاکین نے قیدیوں والے کپڑے بدل لیے اور وہ عمر بھر بادشاہ کی میز پر کھانا کھاتا رہا۔ 34 اُسے اُس کی موت تک ساری زندگی ہر روز بابل کے بادشاہ کی طرف سے کھانا ملتا رہا۔‏

شاید اِس کا معنی ہے:‏ ”‏یہوواہ سرفراز کرتا ہے۔“‏

یا ”‏مَیں نے تمہیں چُنا۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تمہارے کوکھ سے باہر آنے سے پہلے ہی“‏

یا ”‏الگ“‏

یا ”‏نوجوان“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏جاگنے والے“‏

یا ”‏تمہیں ہرا نہیں پائیں گے“‏

اِس باب میں کچھ جگہوں پر یہوواہ نے اپنی قوم کو ایک عورت کے طور پر مخاطب کِیا ہے۔‏

یا ”‏کے جزیروں“‏

شاید یہ حوض چٹان کو کاٹ کر بنائے گئے تھے۔‏

یا ”‏جوان ببر شیر“‏

یا ”‏میمفِس“‏

یعنی دریائے‌نیل کی ایک شاخ

یعنی دریائے‌فرات

یا ”‏اجنبی“‏

یا ”‏الکلی“‏

یا ”‏سجی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اپنی جان کی طلب پر“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏مہینے“‏

یا ”‏دوسرے خداؤں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏جانوں“‏

یہاں صِیّون یا یروشلم کو ایک عورت کے طور پر مخاطب کِیا گیا ہے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏عربی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تیرا ماتھا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اپنی جان کو“‏

یا ”‏دوسرے خداؤں“‏

یا ”‏کے پیچھے بھاگتی رہی“‏

یا شاید ”‏تمہارا شوہر“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میرے دل“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏قوموں کی فوجوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏ساتھی“‏

یا ”‏شرم‌ناک خدا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏سینگ“‏

یا ”‏اپنی چھاتی پیٹو“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏ہماری جانوں“‏

یہ شاعرانہ تشبیہ شاید رحم یا ہمدردی ظاہر کرنے کے لیے اِستعمال کی گئی ہے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نظر رکھنے والے“‏ یعنی وہ آدمی جو شہر پر نظر رکھتے تھے کہ کب اُس پر حملہ کرنا ہے

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میری آنتیں!‏“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏دل کی دیواروں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میری جان نے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏سینگ“‏

یا شاید ”‏جنگ کی للکار“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏سینگ“‏

یا ”‏دانش‌مند“‏

یا ”‏مَیں پچھتاؤں گا نہیں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میری جان“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏وہ کمزور نہیں ہوئے۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میری جان کو“‏

یا شاید ”‏اُس کا وجود نہیں ہے۔“‏

تیر رکھنے کا خول

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اَے بے‌وقوف قوم جس کے پاس دل نہیں ہے!‏“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میری جان کو“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏سینگ“‏

یا ”‏پاک“‏

یا ”‏ٹھنڈا“‏

یا ”‏ٹھنڈا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میری جان“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏غیرمختون“‏

یا ”‏کی ٹوٹی ہڈی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تمہاری جانوں کو“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏سینگ“‏

یا ”‏ہدایت“‏

یعنی یرمیاہ کو

دھونکنی آگ بھڑکانے کے لیے اِستعمال ہونے والا ایک آلہ ہے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏یہ ہیں۔“‏ یہاں ہیکل کی سب عمارتوں کی طرف اِشارہ کِیا گیا ہے۔‏

یا ”‏ازل سے ابد تک“‏

یا ”‏قربانیاں پیش کرتے ہو تاکہ اِن کا دُھواں اُٹھے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏صبح سویرے اُٹھ کر“‏

ایک دیوی کا لقب جسے برگشتہ اِسرائیلی پوجتے تھے۔ شاید یہ بارآوری کی ایک دیوی تھی۔‏

یا ”‏غصہ دِلا“‏

یا ”‏مشورے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏ہر دن صبح سویرے اُٹھ کر“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُنہوں نے اپنی گردن اکڑا لی“‏

یا ”‏وقف‌شُدہ“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏وادیِ‌ہِنّوم“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏وادیِ‌ہِنّوم“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏فوج“‏

یا شاید ”‏کُونج“‏

یا ”‏ہجرت“‏

یا ”‏ہدایت“‏

یا ”‏مُنشیوں“‏

یا ”‏کی ٹوٹی ہڈی“‏

یا ”‏سکون‌بخش مرہم“‏

یا ”‏معالج“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میری جان کو“‏

یا ”‏ہدایت“‏

ایک قسم کا پودا جس میں زہریلا اور کڑوا مادہ ہوتا ہے

یا ”‏کنپٹیوں“‏

یا ”‏فضول“‏

یا ”‏فضول“‏

یہ آیت اَرامی زبان میں لکھی گئی تھی۔‏

یا ”‏بُخارات“‏

یا شاید ”‏دروازے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏روح“‏

یا ”‏فضول“‏

یا ”‏فلاخن میں رکھ کر پھینکنے“‏

یا ”‏میری ٹوٹی ہڈی“‏

غالباً یہاں یرمیاہ کو مخاطب کِیا گیا ہے۔‏

یا ”‏ایسا ہی ہو!‏“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏صبح سویرے اُٹھ کر“‏

یا ”‏قربانیاں پیش کرتے ہیں تاکہ اِن کا دُھواں اُٹھے“‏

یا ”‏شرم‌ناک خدا“‏

یعنی یرمیاہ

یعنی ہیکل میں پیش کی جانے والی قربانیوں

لفظی ترجمہ:‏ ”‏زندوں کی زمین“‏

یا ”‏گہرائیوں میں موجود احساسات۔“‏ لفظی ترجمہ:‏ ”‏گُردوں“‏

یا ”‏نیک“‏

یا ”‏گہرائیوں میں موجود احساسات۔“‏ لفظی ترجمہ:‏ ”‏گُردے“‏

یا ”‏یردن“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اپنی جان کی“‏

یا ”‏چتکبرے“‏

یا شاید ”‏وہ ماتم کرتا ہے؛“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میری جان“‏

یا ”‏مادر ملکہ“‏

یا ”‏گھیر لیے گئے“‏

یا ”‏اِیتھیوپیائی“‏

یا ”‏ادنیٰ لوگوں“‏

یا ”‏حوضوں“‏

یا ”‏بیماری“‏

یا ”‏سکون“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تیری جان کو“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میری جان اِس قوم کی طرف نہ ہوتی۔“‏

یا شاید ”‏چار قسم کی سزا۔“‏ لفظی ترجمہ:‏ ”‏چار خاندان“‏

یا شاید ”‏تُو پیچھے کی طرف چلتا رہا۔“‏

یا ”‏مَیں پچھتاتے پچھتاتے“‏

ایک بڑا سا کانٹا جو گندم کو بھوسے سے الگ کرنے کے لیے اِستعمال ہوتا ہے

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُس کی جان کو“‏

یا شاید ”‏وہ شرمندہ اور بے‌عزت ہوا ہے۔“‏

یا ”‏سزا کا پیغام“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میرا مُنہ“‏

یا ”‏تمہیں ہرا نہیں پائیں گے“‏

ایسا لگتا ہے کہ خدا سے برگشتہ اِسرائیلیوں نے بُت‌پرستوں کے یہ ماتمی رسم‌ورواج اپنا لیے تھے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُن کی ہر راہ کو“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏لاشوں“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ میں ”‏مُقدس بَلّی“‏ کو دیکھیں۔‏

یا شاید ”‏میرے غصے کی وجہ سے تُم لوگوں کو آگ کی طرح جلایا گیا ہے۔“‏

یا ”‏طاقت‌ور شخص“‏

یا ”‏اِنسان کو اپنا بازو بناتا ہے“‏

یا ”‏طاقت‌ور شخص“‏

یا ”‏اِعتماد رکھتا“‏

یا شاید ”‏لاعلاج“‏

یا ”‏گہرائیوں میں موجود احساسات۔“‏ لفظی ترجمہ:‏ ”‏گُردوں“‏

یا ”‏نااِنصافی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏مجھ سے۔“‏ ایسا لگتا ہے کہ یہاں یہوواہ کی بات ہو رہی ہے۔‏

یا ”‏دو بار“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تمہاری جانیں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُنہوں نے اپنی گردن اکڑا لی“‏

یا ”‏جنوب“‏

یا ”‏پچھتاؤں گا“‏

یا ”‏پچھتاؤں گا“‏

یا ”‏قربانیاں پیش کرتے ہیں تاکہ اِن کا دُھواں اُٹھے؛“‏

یا ”‏جو بنے ہوئے نہیں ہیں۔“‏

یا ”‏ہدایت دیتے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُسے زبان سے ماریں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏فوج“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏گردن اکڑا کر“‏

یا ”‏گہرائیوں میں موجود احساسات۔“‏ لفظی ترجمہ:‏ ”‏گُردوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏غریب شخص کی جان کو“‏

یا ”‏پچھتاوے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

یا ”‏پیچھے کی طرف موڑ دوں گا۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏پھیلائے ہوئے ہاتھ“‏

یا ”‏بیماری“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُس کی جان اُس کے لیے لُوٹ کا مال ہوگی۔“‏

یا ”‏الگ“‏

جسے یہوآخز بھی کہا گیا ہے

ایسا لگتا ہے کہ یہاں یروشلم کو ایک عورت کے طور پر مخاطب کِیا گیا ہے۔‏

اِسے یہویاکین اور یکونیاہ بھی کہا گیا ہے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

یا ”‏ملک،“‏

یا ”‏وارث کھڑا کروں گا۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏مَیں نے“‏

یا ”‏برگشتہ“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں“‏

ایک قسم کا پودا جس میں زہریلا اور کڑوا مادہ ہوتا ہے

یا ”‏تمہیں کھوکھلی اُمیدیں دِلا رہے ہیں۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏دنوں کے آخری حصے میں“‏

یا ”‏بھاری پیغام۔“‏ یہاں اِستعمال ہونے والے عبرانی لفظ کے دو مطلب ہیں:‏ ”‏خدا کی طرف سے بھاری پیغام“‏ یا ”‏کوئی بھاری چیز۔“‏

یا ”‏بھاری پیغام“‏

یا ”‏بھاری پیغام“‏

یا ”‏بھاری پیغام“‏

یا ”‏بھاری پیغام!‏“‏

یا ”‏بھاری پیغام“‏

یا ”‏بھاری پیغام!‏“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

جسے یہویاکین اور کونیاہ بھی کہا گیا ہے۔‏

یا شاید ”‏حفاظتی دیوار بنانے والوں“‏

یا ”‏بیماری“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر “‏جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

یا ”‏سب باشندوں سے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏صبح سویرے اُٹھ کر“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏صبح سویرے اُٹھ کر“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

یا ”‏کو اُن کے گُناہ کی سزا دوں گا“‏

یا ”‏کنپٹیوں“‏

ایسا لگتا ہے کہ یہ بابل کا ایک خفیہ نام تھا۔‏

یا ”‏جوان ببر شیر“‏

یا ”‏سب لوگوں سے“‏

یا ”‏جھکنے“‏

یا ”‏پچھتاؤں“‏

یا ”‏ہدایت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏صبح سویرے اُٹھ کر“‏

یا ”‏پچھتائے گا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏گھر“‏

یا ”‏گھنی پہاڑی“‏

یا ”‏یہوواہ پچھتایا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اپنی جانوں پر“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏پھیلائے ہوئے بازو“‏

یا ”‏بیماری“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏آرام کرنے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏سمندر۔“‏ یہاں ہیکل میں موجود تانبے کے بڑے حوض کی بات ہو رہی ہے۔‏

یا ”‏ایسا ہی ہو!‏“‏

یا ”‏بیماری“‏

یا ”‏مادر ملکہ،“‏

یا شاید ”‏حفاظتی دیوار بنانے والوں“‏

یا ”‏بیماری“‏

یا شاید ”‏پھٹے ہوئے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏صبح سویرے اُٹھ کر“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

عبرانی زبان میں یہاں دو لفظ اِستعمال کیے گئے ہیں، ایک اُس کاٹھ کے لیے جس میں پاؤں جکڑے جاتے تھے اور ایک اُس کے لیے جس میں سر اور ہاتھ۔‏

یا ”‏کمر“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بڑا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تمہارے بندھنوں“‏

یا ”‏پردیسی“‏

یا ”‏اُنہیں“‏

یا ”‏تربیت“‏

یا شاید ”‏اُنہیں عزت بخشوں گا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏دنوں کے آخری حصے میں“‏

یا ”‏مَیں تیرے لیے اٹوٹ محبت ظاہر کرتا آیا ہوں۔“‏

یا ”‏اور ہنسنے والوں کے ساتھ ناچتی ہوئی نکلے گی۔“‏

یا ”‏وادیوں“‏

یا ”‏یہوواہ کی طرف سے اچھی چیزوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُن کی جانیں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کاہنوں کی جانوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کو چربی“‏

یا ”‏بچوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏آنتیں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بنایا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تھکی‌ہاری جان“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏جان“‏

یا ”‏کی نسل“‏

یا شاید ”‏اُن کا شوہر“‏

یا ”‏چربی ملی راکھ“‏ یعنی قربان کیے جانے والے جانوروں کی چربی سے گیلی ہو جانے والی راکھ

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

یا ”‏چچا“‏

ایک مِثقال 4.‏11 گرام (‏367.‏0 اونس)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏پھیلائے ہوئے بازو“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بیٹوں کی گود میں ڈال دیتا ہے۔“‏

یا ”‏تُو اپنے مقصد کے حوالے سے عظیم ہے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏پھیلائے ہوئے بازو“‏

یا ”‏بیماری“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

لفظی ترجمہ:‏ ”‏صبح سویرے اُٹھ کر“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏وادیِ‌ہِنّوم“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏آگ میں سے گزاریں۔“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏اچھی چیزیں“‏

یا ”‏وارث کھڑا کروں گا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کی فوج“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بیج“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بیج“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بیج“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بیج“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

لفظی ترجمہ:‏ ”‏آج“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏جان“‏

یا ”‏بیماری“‏

یا ”‏گھر کے ایک کمرے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏یوناداب“‏ جو یہوناداب کا مخفف ہے

لفظی ترجمہ:‏ ”‏یوناداب“‏ جو یہوناداب کا مخفف ہے

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

لفظی ترجمہ:‏ ”‏صبح سویرے اُٹھ کر“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏صبح سویرے اُٹھ کر“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏یوناداب“‏ جو یہوناداب کا مخفف ہے

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کتاب کا طُومار“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کتاب کے طُومار“‏

یا ”‏کتاب“‏

یا ”‏کتاب“‏

یا ”‏کھانے کے کمرے“‏

یا ”‏کتاب“‏

یا ”‏درباری“‏

یا ”‏کتاب“‏

یا ”‏کتاب“‏

نومبر کے بیچ سے دسمبر کے بیچ کا وقت۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 15.‏2 کو دیکھیں۔‏

پالا برف کی قلموں کی وہ تہہ ہوتی ہے جو شدید سردی میں کسی سطح پر جم جاتی ہے۔‏

یا ”‏کتاب“‏

اِسے یہویاکین اور یکونیاہ بھی کہا گیا ہے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اپنی جانوں کو“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میں بیڑیوں کے گھر میں ڈال دیا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏حوض کے گھر“‏

یا ”‏بیماری“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے پاس باہر جائے گا،“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُس کی جان اُس کے لیے لُوٹ کا مال ہوگی۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ہاتھ کمزور کر رہا ہے۔“‏

یا ”‏درباری“‏

لفظی ترجمہ:‏”‏ہمارے لیے یہ جان بنائی ہے،“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے پاس باہر جاؤ گے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے پاس باہر نہیں جاؤ گے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏آپ کی جان“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏باہر جانے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

غالباً یہ ایک خطاب تھا۔‏

یا ”‏درباریوں کا سربراہ“‏

عبرانی میں اِن لفظوں کو اِس طرح سے بھی تقسیم کِیا جا سکتا ہے:‏ ”‏نِیرگَل‌سراضر، سَمگرنبو، سرسکیم، ربسارِس“‏

یا ”‏جادوگروں (‏نجومیوں)‏ کا سربراہ“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

یا شاید ”‏جبری مشقت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

یا ”‏درباریوں کے سربراہ“‏

یا ”‏جادوگروں (‏نجومیوں)‏ کے سربراہ“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تمہاری جان تمہارے لیے لُوٹ کا مال ہوگی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے سامنے کھڑا ہونے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏آپ کی جان“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏آپ کی جان“‏

یا شاید ”‏بڑے تالاب“‏

یا ”‏پچھتاوا؛ غم“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏سینگ“‏

یا ”‏جا کر کچھ وقت کے لیے بسو گے“‏

یا ”‏بیماری“‏

‏1سم 17:‏28 کے فٹ‌نوٹ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏جان“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

لفظی ترجمہ:‏ ”‏گھروں“‏

یا ”‏سورج کے گھر (‏مندر)‏“‏ یعنی ہیلیوپُلِس

لفظی ترجمہ:‏ ”‏گھروں“‏

یا ”‏میمفِس“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏صبح سویرے اُٹھ کر“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اپنی جانوں پر“‏

یا ”‏کچلا ہوا محسوس نہیں کِیا،“‏

یا ”‏بیماری“‏

ایک دیوی کا لقب جسے برگشتہ اِسرائیلی پوجتے تھے۔ شاید یہ بارآوری کی ایک دیوی تھی۔‏

ایک دیوی کا لقب جسے برگشتہ اِسرائیلی پوجتے تھے۔ شاید یہ بارآوری کی ایک دیوی تھی۔‏

ایک دیوی کا لقب جسے برگشتہ اِسرائیلی پوجتے تھے۔ شاید یہ بارآوری کی ایک دیوی تھی۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏دل“‏

ایک دیوی کا لقب جسے برگشتہ اِسرائیلی پوجتے تھے۔ شاید یہ بارآوری کی ایک دیوی تھی۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

یا ”‏کی توقع کر رہے ہو۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تمہاری جان تمہیں لُوٹ کے مال کے طور پر دوں گا۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

یہ ایسی ڈھالیں تھیں جو اکثر تیرانداز اُٹھاتے تھے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

یا ”‏میمفِس“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏مقررہ وقت گزرنے دیا ہے۔“‏

یعنی مصر کو فتح کرنے والا

یا ”‏میمفِس“‏

یا شاید ”‏یہ ویرانہ بن جائے گا“‏

یا ”‏لکڑیاں جمع کرنے والے“‏

یعنی تھیبس

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

یا ”‏تربیت“‏

یعنی کرِیٹ

یعنی لوگ ماتم اور شرمندگی کی وجہ سے اپنے سر مُنڈوائیں گے۔‏

یا ”‏محفوظ اُونچی جگہ“‏

یا ”‏سطح‌مُرتفع“‏

یا شاید ”‏سُوکھی زمین پر“‏

یا ”‏سطح‌مُرتفع“‏

یا ”‏طاقت“‏

یہاں اُس بانسری کی بات ہو رہی ہے جو جنازے پر ماتم کے لیے بجائی جاتی تھی۔‏

یا ”‏تیز“‏

یہاں اُس بانسری کی بات ہو رہی ہے جو جنازے پر ماتم کے لیے بجائی جاتی تھی۔‏

یا ”‏تیز“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏دنوں کے آخری حصے میں“‏

یا شاید ”‏جنگ کی للکار سناؤں گا۔“‏

یا ”‏اُس کے ماتحت“‏

یا ”‏بھیڑوں کے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بہتے“‏

یا ”‏نمائندہ“‏

‏1سم 17:‏28 کے فٹ‌نوٹ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏یردن“‏

یا ”‏اِرادہ“‏

یا ”‏بحیرۂ‌قلزم“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

یا ”‏کنپٹیوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏ہوا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏آغاز“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏دنوں کے آخری حصے میں“‏

بابلیوں کا ایک دیوتا

یہاں اِستعمال ہونے والی عبرانی اِصطلا‌ح کا تعلق شاید اُس لفظ سے ہے جس کا مطلب ”‏گوبر“‏ ہے۔ اِسے حقارت ظاہر کرنے کے لیے اِستعمال کِیا گیا ہے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اپنا ہاتھ دے دیا ہے۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُس کی جان“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏خاموش“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏واپس خریدنے والا“‏

یا ”‏جھوٹے نبیوں“‏

شاید یہاں لگڑبھگے، گیدڑ اور بھیڑیے جیسے جانوروں کی بات ہو رہی ہے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ہاتھ ڈھیلے پڑ گئے ہیں۔“‏

یا ”‏یردن“‏

غالباً یہاں بابلیوں کی بات ہو رہی ہے۔‏

یا ”‏اِرادہ“‏

ایسا لگتا ہے کہ یہ کسدستان کا ایک خفیہ نام تھا۔‏

یعنی کسدیوں کا ملک

یا شاید ”‏ترکش بھرو۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏روح“‏

یا ”‏منافع کمانے کا تیرا پیمانہ بھر گیا ہے۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اپنی جان کی“‏

یا ”‏بُخارات“‏

یا شاید ”‏دروازے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏روح“‏

یا ”‏فضول“‏

یا شاید ”‏اور اُسی نے اپنی وراثت کی لاٹھی کو بھی بنایا ہے۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏سینگ“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏پاک“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏پاک“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

یا ”‏جوان ببر شیروں“‏

ایسا لگتا ہے کہ یہ بابل کا ایک خفیہ نام تھا۔‏

بابلیوں کا ایک دیوتا

یا ”‏اجنبیوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

لفظی ترجمہ:‏ ”‏سمندر،“‏

ایک ہاتھ 5.‏44 سینٹی‌میٹر (‏5.‏17 اِنچ)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

یا ”‏اُس کا گھیرا ناپنے کے لیے 12 ہاتھ لمبی ڈوری لگتی تھی،“‏

ایک اُنگل 85.‏1 سینٹی‌میٹر (‏73.‏0 اِنچ)‏ کے برابر تھی۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

لفظی ترجمہ:‏ ”‏جانوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبوکدرضر“‏ جو کہ اِسی نام کے فرق ہجے ہیں

لفظی ترجمہ:‏ ”‏جانوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏جانوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اور اُس کا سر اُونچا کِیا۔“‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں