یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ت‌ن‌د یسعیاہ 1:‏1-‏66:‏24
  • یسعیاہ

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • یسعیاہ
  • کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
یسعیاہ

یسعیاہ

1 آموص کے بیٹے یسعیاہ*‏ نے یہوداہ کے بادشاہوں عُزّیاہ، یوتام، آخز اور حِزقیاہ کے زمانوں میں یہوداہ اور یروشلم کے بارے میں یہ رُویا دیکھی:‏

 2 اَے آسمان!‏ سُن؛ اَے زمین!‏ دھیان دے

کیونکہ یہوواہ نے فرمایا ہے:‏

‏”‏جن بیٹوں کو مَیں نے پال‌پوس کر بڑا کِیا،‏

اُنہوں نے میرے خلاف بغاوت کر دی۔‏

 3 ایک بیل اپنے مالک کو اچھی طرح جانتا ہے

اور ایک گدھا اپنے مالک کی چرنی*‏ کو پہچانتا ہے

لیکن اِسرائیل مجھے*‏ نہیں جانتا؛‏

میری اپنی قوم سمجھ‌داری سے کام نہیں لیتی۔“‏

 4 گُناہ‌گار قوم!‏ بُرائی سے لدے ہوئے لوگو!‏

بُرے لوگوں کی نسل اور بگڑی ہوئی اولاد!‏

افسوس ہے تُم پر!‏

تُم نے یہوواہ کو ترک کر دیا ہے؛‏

تُم نے اِسرائیل کے پاک خدا کی توہین کی ہے؛‏

تُم نے اُس سے پیٹھ پھیر لی ہے۔‏

 5 اب جبکہ تُم بغاوت پر بغاوت کرتے جا رہے ہو

تو تمہیں اَور کہاں مارا جائے؟‏

تمہارا پورا سر زخمی*‏ ہے اور پورا دل بیمار ہے۔‏

 6 پاؤں کے تلوے سے سر تک کچھ بھی تندرست نہیں ہے۔‏

جگہ جگہ زخم، نیل اور کُھلے ہوئے گھاؤ ہیں

جن کا نہ علاج کِیا گیا ہے،‏*‏ جنہیں نہ باندھا گیا ہے اور نہ ہی تیل سے نرم کِیا گیا ہے۔‏

 7 تمہارا ملک اُجڑا ہوا ہے۔‏

تمہارے شہر آگ سے جلے ہوئے ہیں۔‏

پردیسی تمہارے سامنے تمہاری زمین ہڑپ رہے ہیں۔‏

یہ ایک ایسا ویرانہ بن گئی ہے جسے پردیسیوں نے تباہ کر دیا ہو۔‏

 8 صِیّون کی بیٹی کو ایسے چھوڑ دیا گیا ہے جیسے انگور کے باغ میں ایک چھپر*‏ کو؛‏

جیسے کھیرے کے کھیت میں ایک جھونپڑی کو؛‏

جیسے گِھرے ہوئے ایک شہر کو۔‏

 9 اگر فوجوں کا خدا یہوواہ ہم میں سے کچھ لوگوں کو باقی نہ چھوڑتا

تو ہم سدوم کی طرح بن گئے ہوتے؛‏

ہم عمورہ کی طرح ہو گئے ہوتے۔‏

10 سدوم کے آمرو!‏*‏ یہوواہ کا کلام سنو۔‏

عمورہ کے لوگو!‏ ہمارے خدا کی شریعت*‏ پر دھیان دو۔‏

11 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏تمہاری ڈھیروں ڈھیر قربانیاں میرے کس کام کی ہیں؟‏

تمہارے مینڈھوں کی بھسم ہونے والی قربانیوں اور تمہارے موٹے تازے جانوروں کی چربی سے میرا جی بھر چُکا ہے؛‏

مجھے تمہارے جوان بیلوں اور میمنوں اور بکروں کے خون سے کوئی خوشی نہیں ملتی۔‏

12 تُم سے کس نے کہا ہے

کہ تُم میرے حضور آ کر میرے صحنوں کو روندو؟‏

13 اناج کے بے‌کار نذرانے لانا بند کر دو۔‏

مجھے تمہارے بخور سے گِھن آتی ہے۔‏

تُم نئے چاند اور سبت مناتے ہو اور اِجتماع بُلاتے ہو۔‏

لیکن مَیں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ تُم خاص اِجتماع رکھنے کے ساتھ ساتھ جادوٹونا بھی کرو۔‏

14 مجھے*‏ تمہارے نئے چاندوں اور تمہاری عیدوں سے نفرت ہے۔‏

یہ میرے لیے بوجھ بن گئے ہیں،‏

ایسا بوجھ جسے اُٹھاتے اُٹھاتے مَیں تھک گیا ہوں۔‏

15 جب تُم ہاتھ پھیلاؤ گے

تو مَیں تُم سے نظریں پھیر لوں گا۔‏

چاہے تُم بہت سی دُعائیں کرو،‏

مَیں نہیں سنوں گا

کیونکہ تمہارے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔‏

16 غسل کرو اور خود کو پاک کرو؛‏

اپنے بُرے کاموں کو میری نظروں سے دُور کر دو؛‏

بُرائی کرنا چھوڑ دو۔‏

17 اچھائی کرنا سیکھو؛ اِنصاف کرنے کی پوری کوشش کرو؛‏

ظالم کی درستی کرو؛‏

یتیم کے حقوق کا دِفاع کرو

اور بیوہ کا مُقدمہ لڑو۔“‏

18 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اب آؤ، ہم آپس میں معاملہ نمٹائیں۔‏

چاہے تمہارے گُناہ گہرے سُرخ رنگ کے ہوں،‏

وہ برف کی طرح سفید کر دیے جائیں گے؛‏

چاہے وہ گہرے لال رنگ کے ہوں،‏

وہ اُون کی طرح ہو جائیں گے۔‏

19 اگر تُم میری بات سننے پر راضی ہو

تو تُم ملک کی اچھی اچھی چیزیں کھاؤ گے۔‏

20 لیکن اگر تُم اِنکار کرو گے اور بغاوت کرو گے

تو تُم تلوار کا نوالہ بن جاؤ گے

کیونکہ یہ بات یہوواہ نے اپنے مُنہ سے فرمائی ہے۔“‏

21 دیکھو، وفادار شہر کیسے ایک فاحشہ بن گیا ہے!‏

اُس میں اِنصاف کا بول‌بالا تھا

اور نیکی کا بسیرا تھا۔‏

لیکن اب اُس میں قاتل بستے ہیں۔‏

22 تمہاری چاندی دھات کی میل بن گئی ہے

اور تمہاری شراب*‏ میں پانی مل گیا ہے۔‏

23 تمہارے حاکم ڈھیٹھ اور چوروں کے ساتھی ہیں۔‏

اُن میں سے ہر ایک کو رشوت پسند ہے اور وہ تحفوں کے پیچھے بھاگتا ہے۔‏

وہ یتیم کو اِنصاف نہیں دیتے

اور بیوہ کا مُقدمہ کبھی اُن تک نہیں پہنچتا۔‏

24 اِس لیے سچا مالک یعنی فوجوں کا خدا یہوواہ

جو اِسرائیل کا طاقت‌ور خدا ہے، فرماتا ہے:‏

‏”‏دیکھو!‏ مَیں اپنے مخالفوں سے چھٹکارا حاصل کروں گا

اور اپنے دُشمنوں سے بدلہ لوں گا۔‏

25 مَیں تمہارے خلاف اپنا ہاتھ اُٹھاؤں گا۔‏

جیسے سجی*‏ سے دھات کی میل کو الگ کِیا جاتا ہے

ویسے ہی مَیں تمہاری میل دُور کر دوں گا

اور تمہیں ساری ناپاکیوں سے پاک کر دوں گا۔‏

26 مَیں پُرانے زمانے کی طرح تمہارے لیے پھر سے قاضی

اور پہلے کی طرح تمہارے لیے مُشیر مقرر کروں گا۔‏

اِس کے بعد تمہیں نیکی کا شہر، ہاں، وفادار قصبہ کہا جائے گا۔‏

27 صِیّون کو اِنصاف کے ذریعے چھڑایا جائے گا

اور اُس کے لوٹنے والے لوگوں کو نیکی کے ذریعے۔‏

28 باغیوں اور گُناہ‌گاروں کو ایک ساتھ ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا

اور یہوواہ کو چھوڑ دینے والے مٹ جائیں گے

29 کیونکہ وہ اُن بڑے بڑے درختوں کی وجہ سے شرمندہ ہوں گے جنہیں تُم چاہتے تھے

اور تُم اُن باغوں*‏ کی وجہ سے رُسوا ہو گے جنہیں تُم نے چُنا تھا۔‏

30 تُم ایک بڑے درخت کی طرح ہو جاؤ گے جس کے پتے مُرجھا رہے ہوں

اور ایک ایسے باغ کی طرح جس میں پانی نہ ہو۔‏

31 طاقت‌ور آدمی سَن*‏ کی طرح بن جائے گا

اور اُس کے کام چنگاری کی طرح؛‏

وہ دونوں اِکٹھے آگ میں جلیں گے

جسے بجھانے والا کوئی نہیں ہوگا۔“‏

2 آموص کے بیٹے یسعیاہ نے یہوداہ اور یروشلم کے بارے میں یہ رُویا دیکھی:‏

 2 آخری دنوں میں*‏ یہوواہ کے گھر کا پہاڑ

پہاڑوں کی چوٹی کے اُوپر مضبوطی سے قائم ہوگا؛‏

اِسے ٹیلوں سے اُونچا کِیا جائے گا

اور سب قومیں ندی کی طرح اِس کی طرف آئیں گی۔‏

 3 بہت سی قومیں آئیں گی اور کہیں گی:‏

‏”‏آؤ، یہوواہ کے پہاڑ پر،‏

ہاں، یعقوب کے خدا کے گھر چلیں۔‏

وہ ہمیں اپنی راہوں کے بارے میں سکھائے گا

اور ہم اُس کے راستوں پر چلیں گے“‏

کیونکہ شریعت*‏ صِیّون سے جاری ہوگی

اور یہوواہ کا کلام یروشلم سے۔‏

 4 وہ قوموں کے درمیان عدالت کرے گا

اور بہت سی قوموں کے معاملے نمٹائے گا۔‏*‏

وہ اپنی تلواروں کو پِیٹ کر پھالے*‏ بنا لیں گے

اور اپنے نیزوں کو درانتیاں۔‏

ایک قوم دوسری قوم کے خلاف تلوار نہیں اُٹھائے گی

اور نہ ہی وہ لوگ پھر کبھی جنگ کرنا سیکھیں گے۔‏

 5 اَے یعقوب کے گھرانے!‏

آ، ہم یہوواہ کی روشنی میں چلیں۔‏

 6 اَے خدا!‏ تُو نے اپنی قوم یعنی یعقوب کے گھرانے کو ترک کر دیا ہے

کیونکہ وہ مشرق کی چیزوں میں ڈوبے ہوئے ہیں؛‏

وہ فِلِستیوں کی طرح جادوٹونا کرتے ہیں

اور اُن کے بیچ پردیسیوں کے بچوں کی بھرمار ہے۔‏

 7 اُن کے ملک میں بے‌شمار چاندی اور سونا ہے

اور اُن کے خزانوں کی کوئی حد نہیں ہے۔‏

اُن کا ملک گھوڑوں سے بھرا ہوا ہے

اور اُن کے رتھوں کا کوئی شمار نہیں ہے۔‏

 8 اُن کا ملک فضول خداؤں سے بھرا ہوا ہے۔‏

وہ اپنے ہاتھوں کے کام،‏

ہاں، اپنی اُنگلیوں کی کاریگری کے سامنے جھکتے ہیں۔‏

 9 اِنسان جھکتے ہیں اور اپنی عزت گھٹاتے ہیں۔‏

شاید ہی تُو اُنہیں معاف کرے۔‏

10 یہوواہ کی خوف‌ناک موجودگی

اور عالی‌شان عظمت کی وجہ سے

چٹان میں چلے جاؤ اور خاک میں چھپ جاؤ۔‏

11 اِنسان کی گھمنڈ بھری آنکھیں نیچی کی جائیں گی

اور اِنسانوں کا غرور خاک میں ملا دیا جائے گا۔‏

اُس دن صرف یہوواہ ہی سرفراز ہوگا۔‏

12 وہ فوجوں کے خدا یہوواہ کا دن ہے۔‏

اُس دن وہ ہر اُس شخص کے خلاف کارروائی کرے گا

جو مغرور اور گھمنڈی ہے،‏

ہر شخص کے خلاف پھر چاہے وہ خاص ہو یا عام؛‏

13 لبنان کے سارے دیوداروں کے خلاف جو اُونچے اور بلند ہیں

اور بسن کے سارے بلوطوں کے خلاف؛‏

14 سب بلند پہاڑوں کے خلاف

اور سب اُونچے ٹیلوں کے خلاف؛‏

15 ہر اُونچے بُرج اور ہر مضبوط دیوار کے خلاف؛‏

16 ترسیس کے سارے جہازوں کے خلاف

اور سب دل‌پسند کشتیوں کے خلاف۔‏

17 اِنسان کا گھمنڈ توڑا جائے گا

اور اِنسانوں کا غرور خاک میں ملا دیا جائے گا۔‏

اُس دن صرف یہوواہ ہی سرفراز ہوگا۔‏

18 فضول خدا پوری طرح مٹ جائیں گے۔‏

19 جب خدا زمین کو دہشت سے لرزانے کے لیے اُٹھے گا

تو یہوواہ کی خوف‌ناک موجودگی

اور عالی‌شان عظمت کی وجہ سے

لوگ چٹانوں کے غاروں

اور زمین کے گڑھوں میں گُھس جائیں گے۔‏

20 اُس دن اِنسان چاندی اور سونے کے اپنے فضول خداؤں کو لے کر

جنہیں اُنہوں نے پوجنے کے لیے بنایا تھا،‏

چھچھوندروں اور چمگادڑوں کے آگے پھینک دیں گے

21 تاکہ جب خدا زمین کو دہشت سے لرزانے کے لیے اُٹھے

تو یہوواہ کی خوف‌ناک موجودگی

اور عالی‌شان عظمت کی وجہ سے

وہ چٹانوں کے شگافوں اور دراڑوں میں گُھس جائیں۔‏

22 بھلائی اِسی میں ہے کہ اِنسان پر بھروسا کرنا چھوڑ دیں

جو بس اپنے نتھنوں کی سانس کی طرح ہے۔‏*‏

اُسے خاطر میں لانے کی کیا ضرورت ہے؟‏

3 دیکھو!‏ سچا مالک یعنی فوجوں کا خدا یہوواہ

یروشلم اور یہوداہ سے ہر قسم کا سہارا اور چیزیں دُور کر رہا ہے

یعنی روٹی اور پانی؛‏

 2 طاقت‌ور آدمی اور جنگجو؛‏

قاضی اور نبی، غیب‌دان اور بزرگ؛‏

 3 50 آدمیوں کے سربراہ، مُعزز آدمی اور مُشیر؛‏

ماہر جادوگر اور ماہر سپیرے۔‏*‏

 4 مَیں لڑکوں کو اُن کے حاکم بناؤں گا

اور ڈانوانڈول لوگ اُن پر حکمرانی کریں گے۔‏

 5 لوگ ایک دوسرے پر،‏

ہاں، ہر کوئی اپنے ساتھی پر ظلم ڈھائے گا۔‏

لڑکے بوڑھے آدمیوں کے ساتھ بدسلوکی کریں گے

اور معمولی لوگ عزت‌داروں سے گستاخی کریں گے۔‏

 6 ہر کوئی اپنے والد کے گھرانے میں اپنے بھائی کو پکڑ کر کہے گا:‏

‏”‏تمہارے پاس چوغہ ہے، تُم ہمارے حاکم بن جاؤ

اور کھنڈروں کے اِس ڈھیر کی ذمے‌داری سنبھالو۔“‏

 7 لیکن وہ اُس دن اِنکار کرتے ہوئے کہے گا:‏

‏”‏مَیں تمہارے زخموں کی مرہم‌پٹی کرنے والا*‏ نہیں بنوں گا؛‏

میرے گھر میں نہ تو کھانا ہے اور نہ ہی کپڑے۔‏

مجھے لوگوں کا حاکم نہ بناؤ۔“‏

 8 یروشلم نے ٹھوکر کھائی ہے

اور یہوداہ گِر گیا ہے

کیونکہ وہ اپنی باتوں اور کاموں سے یہوواہ کی مخالفت کرتے ہیں؛‏

وہ اُس کی عالی‌شان موجودگی میں*‏ گستاخی سے کام لیتے ہیں۔‏

 9 اُن کے چہرے کے تاثرات اُن کے خلاف گواہی دیتے ہیں؛‏

وہ سدوم کی طرح اپنے گُناہ کا اِعلان کرتے ہیں؛‏

وہ اُسے چھپانے کی کوشش نہیں کرتے۔‏

اُن پر*‏ افسوس کیونکہ وہ خود پر تباہی لا رہے ہیں!‏

10 نیک لوگوں کو بتاؤ کہ اُن کے ساتھ اچھا ہوگا؛‏

اُنہیں اُن کے کاموں کا اجر ملے گا۔‏*‏

11 بُرے شخص پر افسوس!‏

اُس پر تباہی آئے گی

کیونکہ اُس نے اپنے ہاتھوں سے جو کچھ کِیا ہے،‏

اُس کے ساتھ بھی وہی کِیا جائے گا۔‏

12 جہاں تک میرے لوگوں کی بات ہے،‏

اُن سے کام کروانے والے اُن کے ساتھ سختی سے پیش آتے ہیں

اور عورتیں اُن پر حکمرانی کرتی ہیں۔‏

میرے لوگو!‏ تمہارے حاکم تمہیں گمراہ کر رہے ہیں

اور تمہیں اُلجھا کر تمہارے راستے سے بھٹکا رہے ہیں۔‏

13 یہوواہ مُقدمہ لڑنے کے لیے تیار ہو رہا ہے؛‏

وہ قوموں کو سزا سنانے کے لیے کھڑا ہو رہا ہے۔‏

14 یہوواہ اپنی قوم کے حاکموں اور بزرگوں کی عدالت کرے گا۔‏

وہ کہتا ہے:‏ ”‏تُم نے انگور کا باغ جلا دیا ہے

اور تُم نے غریبوں سے جو کچھ لُوٹا ہے، وہ تمہارے گھروں میں ہے۔‏

15 حاکمِ‌اعلیٰ یعنی فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏تمہاری جُرأت کیسے ہوئی کہ تُم میرے بندوں کو کچلو

اور غریبوں کے چہروں کو کیچڑ میں روندو؟“‏

16 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏صِیّون کی بیٹیاں گھمنڈی ہیں؛‏

وہ گردن اکڑا کر چلتی ہیں، آنکھیں مٹکاتی ہیں

اور اپنی پائل چھنکاتی ہوئی مٹک مٹک کر چلتی ہیں۔‏

17 اِس لیے یہوواہ صِیّون کی بیٹیوں کے سر کُھرنڈوں*‏ سے بھر دے گا

اور یہوواہ اُن کے ماتھے ننگے کر دے گا۔‏

18 اُس دن یہوواہ اُن کے بناؤسنگھار کی یہ سب چیزیں لے لے گا:‏

کڑے، ماتھاپٹی اور نئے چاند کی شکل کے زیور؛‏

19 جھمکے،‏*‏ کنگن اور نقاب؛‏

20 دوپٹے، پائل اور سینہ‌بند؛‏

عطردان*‏ اور تعویذ؛‏*‏

21 انگوٹھیاں اور نتھ؛‏

22 نفیس چوغے، کُرتے، چادریں اور بٹوے؛‏

23 ہاتھ والے شیشے اور لینن کے کپڑے*‏

اور پگڑیاں اور بُرقعے۔‏

24 بلسان کے تیل کی جگہ بدبُو ہوگی؛‏

کمربند کی جگہ رسی ہوگی؛‏

خوب‌صورتی سے بنے بالوں کی جگہ گنجاپن ہوگا؛‏

نفیس لباس کی جگہ ٹاٹ کا لباس ہوگا

اور خوب‌صورتی کی جگہ داغ ہوگا۔‏

25 تیرے آدمی تلوار سے گِر جائیں گے

اور تیرے زورآور آدمی جنگ میں مارے جائیں گے۔‏

26 شہر کے داخلی دروازے ماتم کریں گے اور روئیں گے

اور وہ لُٹ کر زمین پر بیٹھ جائے گا۔“‏

4 اُس دن سات عورتیں ایک آدمی کو پکڑ کر کہیں گی:‏

‏”‏ہم اپنی روٹی کھائیں گی

اور اپنے کپڑے پہنیں گی۔‏

ہمیں بس اِتنی اِجازت دے دیں کہ ہم آپ کے نام سے کہلائیں

تاکہ ہماری رُسوائی*‏ دُور ہو جائے۔“‏

2 اُس دن یہوواہ جو کچھ اُگائے گا، وہ شان‌دار اور زبردست ہوگا۔ زمین کا پھل اِسرائیل کے بچے ہوئے لوگوں کے لیے فخر اور خوب‌صورتی کا باعث ہوگا۔ 3 جو صِیّون میں باقی بچے گا اور جو یروشلم میں رہ جائے گا، اُسے پاک کہا جائے گا یعنی یروشلم کے اُن سب لوگوں کو جن کے نام زندگی کے لیے لکھے ہیں۔‏

4 جب یہوواہ عدالت*‏ اور بھڑکتے ہوئے قہر*‏ کے ذریعے صِیّون کی بیٹیوں کی گندگی*‏ دھوئے گا اور یروشلم کے بیچ سے بہائے ہوئے خون کو صاف کرے گا 5 تو یہوواہ یہ بھی کرے گا کہ کوہِ‌صِیّون کی ساری جگہ اور اُس کے اِجتماعوں کی جگہ کو دن میں بادل اور دُھوئیں سے اور رات میں بھڑکتی ہوئی روشن آگ سے ڈھک دے کیونکہ ساری شان‌دار چیزوں پر ایک سائبان ہوگا۔ 6 وہاں ایک چھپر*‏ ہوگا جو دن کی تپش میں سایہ اور طوفان اور بارش میں پناہ اور آسرا دے گا۔‏

5 مَیں اپنے محبوب کے لیے ایک گیت گاؤں گا۔‏

یہ گیت میرے محبوب اور اُس کے انگور کے باغ کے بارے میں ہے۔‏

میرے محبوب کا ایک زرخیز پہاڑی پر انگور کا باغ تھا۔‏

 2 اُس نے اُسے کھودا اور اُس میں سے پتھر نکالے۔‏

اُس نے اُس میں بہترین لال انگور کی بیل لگائی؛‏

اُس نے اُس کے بیچ میں ایک بُرج بنایا

اور انگور روندنے کے لیے ایک حوض تراشا۔‏

پھر وہ اُس میں انگور لگنے کا اِنتظار کرنے لگا

لیکن اُس میں صرف جنگلی انگور لگے۔‏

 3 ‏”‏اب یروشلم کے رہنے والو اور یہوداہ کے آدمیو!‏

مہربانی سے میرے اور میرے انگور کے باغ کے بیچ فیصلہ کرو۔‏

 4 مَیں نے اپنے انگور کے باغ کے لیے کیا کچھ نہیں کِیا؟‏

تو پھر ایسا کیوں ہوا کہ جب مَیں نے اُس میں اچھے انگور لگنے کی اُمید کی

تو اُس میں صرف جنگلی انگور لگے؟‏

 5 اب مَیں تمہیں بتاتا ہوں

کہ مَیں اپنے انگور کے باغ کے ساتھ کیا کروں گا:‏

مَیں اُس کی باڑ ہٹا دوں گا

اور اُسے جلا دیا جائے گا۔‏

مَیں اُس کی پتھر کی دیوار توڑ دوں گا

اور اُسے روندا جائے گا۔‏

 6 مَیں اُسے اُجاڑ دوں گا؛‏

اُس کی نہ تو کانٹ چھانٹ کی جائے گی اور نہ گوڈی۔‏

وہ کانٹے‌دار جھاڑیوں اور جنگلی پودوں سے بھر جائے گا

اور مَیں بادلوں کو حکم دوں گا کہ وہ اُس پر بالکل بارش نہ برسائیں۔‏

 7 فوجوں کے خدا یہوواہ کا انگور کا باغ اِسرائیل کا گھرانہ ہے؛‏

یہوداہ کے آدمی وہ باغ*‏ ہیں جو اُسے بہت عزیز تھا۔‏

وہ اِنصاف کی اُمید کرتا رہا

لیکن دیکھو!‏ وہاں نااِنصافی تھی؛‏

وہ نیکی کی اُمید کرتا رہا

لیکن دیکھو!‏ وہاں دُکھ بھری پکار تھی۔“‏

 8 اُن پر افسوس جو ایک گھر کو دوسرے گھر سے جوڑ لیتے ہیں

اور ایک کھیت کو دوسرے کھیت سے ملا لیتے ہیں،‏

یہاں تک کہ کوئی جگہ نہیں بچتی

اور وہ اکیلے زمین کے مالک بن جاتے ہیں!‏

 9 فوجوں کے خدا یہوواہ نے میرے کان میں قسم کھائی ہے

کہ بہت سے گھر پھر چاہے وہ بڑے اور خوب‌صورت ہی کیوں نہ ہوں،‏

دہشت کی علامت بن جائیں گے

اور اُن میں کوئی نہیں بسے گا۔‏

10 دس ایکڑ*‏ پر پھیلے انگور کے باغ میں صرف ایک بت*‏ پیداوار ہوگی

اور ایک خومر*‏ بیج سے صرف ایک اِیفہ*‏ پیداوار ہوگی۔‏

11 اُن پر افسوس جو شراب پینے کے لیے صبح سویرے اُٹھ جاتے ہیں

اور شام کی تاریکی میں تب تک مے پیتے رہتے ہیں جب تک دُھت نہیں ہو جاتے!‏

12 اُن کے پاس اُن کی دعوتوں پر

بربط،‏*‏ تاردار ساز، دف، بانسری اور مے ہوتی ہے

لیکن وہ یہوواہ کے کاموں پر غور نہیں کرتے

اور اُس کے ہاتھوں کے کام پر دھیان نہیں دیتے۔‏

13 اِس لیے میرے لوگ علم کی کمی کی وجہ سے

قید میں جائیں گے؛‏

اُن کے مُعزز آدمی بھوک سے بے‌حال ہو جائیں گے

اور اُن کی ساری عوام پیاس سے مُرجھا جائے گی۔‏

14 قبر*‏ نے خود کو*‏ بڑا کر لیا ہے

اور اپنا مُنہ بے‌اِنتہا کھول لیا ہے؛‏

شہر کی شان‌وشوکت،‏*‏ اُس کی شور مچاتی بِھیڑ

اور اُس کے موج مستی کرنے والے لوگ

ضرور اُس میں اُتر جائیں گے۔‏

15 اِنسان جھک جائے گا؛‏

اِنسان کو پست کِیا جائے گا

اور گھمنڈی شخص کی آنکھیں نیچی کی جائیں گی۔‏

16 فوجوں کا خدا یہوواہ اپنے اِنصاف*‏ کی وجہ سے سرفراز ہوگا؛‏

سچا خدا یعنی پاک خدا نیکی کے ذریعے خود کو پاک ثابت کرے گا۔‏

17 میمنے ایسے چریں گے جیسے وہ اپنی چراگاہ میں ہوں؛‏

پردیسی موٹے تازے جانوروں کی ویران ہو چُکی جگہوں پر اپنا پیٹ بھریں گے۔‏

18 اُن پر افسوس جو اپنے قصور کو دھوکے کی رسیوں سے کھینچتے ہیں

اور اپنے گُناہ کو اُس گاڑی کی رسیوں سے جسے جانور ڈھوتے ہیں؛‏

19 جو کہتے ہیں:‏ ”‏خدا تیزی سے اپنا کام کرے؛‏

اُس کا کام جلدی جلدی ہو تاکہ ہم اِسے دیکھ سکیں؛‏

اِسرائیل کے پاک خدا کا مقصد*‏ پورا ہو

تاکہ ہمیں اِس کا پتہ چلے!‏“‏

20 اُن پر افسوس جو اچھے کو بُرا اور بُرے کو اچھا کہتے ہیں؛‏

جو تاریکی کو روشنی اور روشنی کو تاریکی کی جگہ دیتے ہیں

اور جو کڑوے کی جگہ میٹھا اور میٹھے کی جگہ کڑوا رکھتے ہیں!‏

21 اُن پر افسوس جو اپنی نظر میں دانش‌مند ہیں

اور اپنی نگاہ میں سمجھ‌دار ہیں!‏

22 اُن پر افسوس جو مے پینے میں شیر ہیں

اور جو مے کے اندر مصالحے ملانے میں ماہر ہیں؛‏

23 جو رشوت لے کر بُرے شخص کو بَری کر دیتے ہیں

اور نیک شخص کو اِنصاف دینے سے اِنکار کر دیتے ہیں!‏

24 اِس لیے جیسے آگ کی لپٹیں بھوسے کو چٹ کر جاتی ہیں

اور سُوکھی گھاس شعلوں سے جُھلس جاتی ہے

ویسے ہی اُن کی جڑیں سڑ جائیں گی

اور اُن کے پھول گرد کی طرح بکھر جائیں گے

کیونکہ اُنہوں نے فوجوں کے خدا یہوواہ کی شریعت*‏ کو ترک کر دیا ہے

اور اِسرائیل کے پاک خدا کے کلام کی بے‌حُرمتی کی ہے۔‏

25 اِس وجہ سے یہوواہ کا قہر اپنے بندوں پر بھڑک رہا ہے

اور وہ اُن کے خلاف اپنا ہاتھ بڑھا کر اُنہیں سزا دے گا۔‏

پہاڑ لرز اُٹھیں گے

اور اُن کی لاشیں گلیوں میں کچرے کی طرح پڑی ہوں گی۔‏

اِس سب کی وجہ سے اُس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا ہے

بلکہ اُس کا ہاتھ سزا دینے کے لیے ابھی بھی بڑھا ہوا ہے۔‏

26 اُس نے دُور کی ایک قوم کے لیے جھنڈا کھڑا کِیا ہے؛‏

اُس نے سیٹی بجا کر اُنہیں زمین کے کونے کونے سے بُلایا ہے

اور دیکھو!‏ وہ بڑی تیزی سے آ رہے ہیں۔‏

27 اُن میں سے نہ تو کوئی تھکا ہوا ہے اور نہ لڑکھڑا رہا ہے؛‏

نہ کوئی اُونگھ رہا ہے اور نہ کوئی سو رہا ہے؛‏

نہ اُن کی کمر کی پیٹیاں*‏ ڈھیلی ہیں

اور نہ اُن کے جُوتوں کے تسمے ٹوٹے ہیں۔‏

28 اُن کے سارے تیر تیز ہیں

اور اُن کی سب کمانیں تنی ہوئی ہیں۔‏

اُن کے گھوڑوں کے کُھر سنگِ‌چقماق کی طرح ہیں

اور اُن کے رتھوں کے پہیے طوفانی ہوا کی طرح ہیں۔‏

29 اُن کی دھاڑ شیر جیسی ہے؛‏

وہ جوان شیروں*‏ کی طرح گرجتے ہیں۔‏

وہ غُرائیں گے اور اپنے شکار کو پکڑ کر لے جائیں گے

اور اُسے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔‏

30 اُس دن وہ اپنے شکار پر ایسے گرجیں گے

جیسے سمندر گرجتا ہے۔‏

جو کوئی ملک کو دیکھے گا، اُسے بھیانک تاریکی نظر آئے گی؛‏

بادلوں کی وجہ سے روشنی بھی تاریکی میں بدل جائے گی۔‏

6 جس سال میں بادشاہ عُزّیاہ فوت ہوئے، مَیں نے یہوواہ کو ایک اُونچے اور بلند تخت پر بیٹھے دیکھا اور اُس کے چوغے کے گھیرے سے ہیکل بھری ہوئی تھی۔ 2 اُس کے آس‌پاس*‏ سرافیم کھڑے تھے جن میں سے ہر ایک کے چھ پَر تھے۔ ہر ایک نے*‏ دو پَروں سے اپنا چہرہ ڈھکا ہوا تھا اور دو پَروں سے اپنے پاؤں اور ہر ایک دو پَروں سے اُڑ رہا تھا۔‏

 3 سرافیم ایک دوسرے سے اُونچی آواز میں کہہ رہے تھے:‏

‏”‏فوجوں کا خدا یہوواہ پاک، پاک اور پاک ہے۔‏

ساری زمین اُس کی شان سے بھری ہوئی ہے۔“‏

4 اُن کی اُونچی آواز*‏ سے دہلیز کے قبضے ہل گئے اور گھر دُھوئیں سے بھر گیا۔‏

 5 پھر مَیں نے کہا:‏ ”‏مجھ پر افسوس!‏

مَیں تقریباً مرنے والا ہوں*‏

کیونکہ میرے ہونٹ ناپاک ہیں

اور مَیں ناپاک ہونٹوں والے لوگوں کے بیچ رہتا ہوں

اور میری آنکھوں نے بادشاہ یعنی فوجوں کے خدا یہوواہ کو دیکھا ہے!‏“‏

6 تب سرافیم میں سے ایک اُڑتا ہوا میرے پاس آیا۔ اُس کے ہاتھ میں ایک سلگتا ہوا کوئلہ تھا جو اُس نے چمٹے سے قربان‌گاہ سے اُٹھایا تھا۔ 7 اُس نے میرے مُنہ کو چُھوا اور کہا:‏

‏”‏دیکھیں!‏ اِس نے آپ کے ہونٹوں کو چُھو لیا ہے۔‏

آپ کا قصور مٹا دیا گیا ہے

اور آپ کے گُناہ کا کفارہ ہو گیا ہے۔“‏

8 پھر مَیں نے یہوواہ کو یہ کہتے سنا:‏ ”‏مَیں کسے بھیجوں اور ہماری طرف سے کون جائے گا؟“‏ اِس پر مَیں نے کہا:‏ ”‏مَیں حاضر ہوں!‏ مجھے بھیج!‏“‏

 9 اُس نے جواب دیا:‏ ”‏جاؤ اور اِس قوم سے کہو:‏

‏”‏تُم بار بار سنو گے

لیکن سمجھو گے نہیں؛‏

تُم بار بار دیکھو گے

لیکن کچھ سیکھو گے نہیں۔“‏

10 اِس قوم کے دل کو بے‌حس کر دو؛‏

اُن کے کانوں کو بہرہ کر دو

اور اُن کی آنکھوں کو بند کر دو

تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ سکیں

اور اپنے کانوں سے سُن نہ سکیں؛‏

تاکہ اُن کا دل سمجھ نہ سکے

اور وہ لوٹ نہ سکیں اور شفا نہ پا سکیں۔“‏

11 تب مَیں نے کہا:‏ ”‏اَے یہوواہ!‏ کب تک؟“‏ اُس نے جواب دیا:‏

‏”‏جب تک شہر کھنڈر نہ بن جائے اور غیرآباد نہ ہو جائے؛‏

جب تک گھر لوگوں سے خالی نہ ہو جائیں؛‏

جب تک ملک تباہ اور ویران نہ ہو جائے؛‏

12 جب تک یہوواہ اِنسان کو دُور نہ کر دے

اور جب تک ملک کی بدحالی اِنتہا کو نہ پہنچ جائے۔‏

13 لیکن وہاں دسواں حصہ رہے گا اور اُسے پھر سے جلایا جائے گا جیسے ایک بڑے درخت اور بلوط کے درخت کو جلایا جاتا ہے جنہیں کاٹ ڈالنے کے بعد بھی مُڈھ*‏ باقی رہتا ہے۔ ایک مُقدس بیج*‏ اُس کا مُڈھ ہوگا۔“‏

7 آخز کے زمانے میں جو یہوداہ کے بادشاہ اور عُزّیاہ کے بیٹے یوتام کے بیٹے تھے، سُوریہ کا بادشاہ رِضین اور اِسرائیل کے بادشاہ رِملیاہ کا بیٹا فِقح یروشلم کے خلاف جنگ لڑنے آئے۔ لیکن وہ اُس پر قبضہ نہیں کر پائے۔‏*‏ 2 داؤد کے گھرانے کو یہ خبر دی گئی:‏ ”‏سُوریہ اِفرائیم کے ساتھ مل گیا ہے۔“‏

اِس پر آخز کا دل اور اُس کے لوگوں کا دل خوف سے ایسے لرزنے لگا جیسے جنگل میں درخت ہوا سے لرزتے ہیں۔‏

3 پھر یہوواہ نے یسعیاہ سے کہا:‏ ”‏مہربانی سے تُم اور تمہارا بیٹا شیاریاشوب*‏ اُوپر والے تالاب کے نالے کے سِرے پر جو دھوبی گھاٹ کے پاس ہے، آخز سے ملنے جاؤ۔ 4 تُم اُس سے کہنا:‏ ”‏دھیان رکھو کہ تُم گھبراؤ نہیں۔ سلگتی لکڑی کے اِن دو مُڈھوں*‏ کی وجہ سے، ہاں، رِضین اور سُوریہ اور رِملیاہ کے بیٹے کے شدید غضب کی وجہ سے خوف‌زدہ نہ ہو اور دل نہ چھوڑو۔ 5 سُوریہ نے اِفرائیم اور رِملیاہ کے بیٹے کے ساتھ مل کر تمہیں نقصان پہنچانے کی سازش گھڑی ہے۔ اُنہوں نے کہا ہے:‏ 6 ‏”‏آؤ یہوداہ پر حملہ کریں، اُسے ٹکڑے ٹکڑے*‏ کر دیں اور اُس پر قبضہ کر لیں*‏ اور طابِیل کے بیٹے کو اُس کا بادشاہ مقرر کریں۔“‏

 7 حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏ایسا نہیں ہوگا؛‏

وہ کامیاب نہیں ہوں گے

 8 کیونکہ سُوریہ کا سربراہ دمشق ہے

اور دمشق کا سربراہ رِضین ہے۔‏

صرف 65 سال کے اندر اندر اِفرائیم ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور ایک قوم کے طور پر اُس کا وجود مٹ جائے گا۔‏

 9 اِفرائیم کا سربراہ سامریہ ہے

اور سامریہ کا سربراہ رِملیاہ کا بیٹا ہے۔‏

جب تک تمہارا ایمان مضبوط نہیں ہوگا،‏

تُم مضبوطی سے قائم نہیں رہ پاؤ گے۔“‏“‏“‏

10 یہوواہ نے آخز سے یہ بھی کہا:‏ 11 ‏”‏اپنے خدا یہوواہ سے ایک نشانی مانگو؛ یہ نشانی قبر*‏ جتنی گہری یا آسمان جتنی اُونچی ہو سکتی ہے۔“‏ 12 لیکن آخز نے کہا:‏ ”‏مَیں کوئی نشانی نہیں مانگوں گا اور نہ ہی مَیں یہوواہ کا اِمتحان کروں گا۔“‏

13 پھر یسعیاہ نے کہا:‏ ”‏داؤد کے گھرانے!‏ مہربانی سے میری بات سنیں۔ کیا یہ کافی نہیں ہے کہ آپ اِنسانوں کا صبر آزماتے ہیں؟ کیا اب آپ خدا کا صبر بھی آزمائیں گے؟ 14 اِس لیے یہوواہ خود آپ کو ایک نشانی دے گا۔ دیکھیں!‏ ایک جوان لڑکی حاملہ ہوگی اور ایک بیٹے کو جنم دے گی اور اُس کا نام عمانوایل*‏ رکھے گی۔ 15 جب تک وہ بُرائی کو ٹھکرانا اور اچھائی کو چُننا سیکھے گا، وہ مکھن اور شہد کھائے گا 16 کیونکہ اِس سے پہلے کہ وہ لڑکا بُرائی کو ٹھکرانا اور اچھائی کو چُننا سیکھے، اُن دو بادشاہوں کا ملک بالکل ویران ہو چُکا ہوگا جن سے آپ دہشت کھاتے ہیں۔ 17 یہوواہ آپ پر، آپ کے لوگوں پر اور آپ کے والد کے گھرانے پر ایک ایسا وقت لائے گا جیسا تب سے کبھی نہیں آیا جب سے اِفرائیم یہوداہ سے الگ ہوا ہے۔ وہ اسور کے بادشاہ کو آپ کے خلاف بھیجے گا۔‏

18 اُس دن یہوواہ سیٹی بجا کر مصر کے دریائے‌نیل کی دُوردراز ندیوں سے مکھیوں کو اور اسور کے ملک سے شہد کی مکھیوں کو بُلائے گا۔ 19 وہ سب آئیں گی اور گہری گھاٹیوں، چٹانوں کی دراڑوں، سب کانٹے‌دار جھاڑیوں اور پانی کے سب ذخیروں پر بیٹھ جائیں گی۔‏

20 اُس دن یہوواہ بڑے دریا*‏ کے علاقے سے کرائے کے اُسترے یعنی اسور کے بادشاہ کے ذریعے آپ کے سر اور ٹانگوں کے بال اُتروا دے گا اور آپ کی داڑھی بھی صاف کر دے گا۔‏

21 اُس دن ایک آدمی ریوڑ میں سے ایک جوان گائے اور دو بھیڑوں کو زندہ رکھے گا۔ 22 اُس کے پاس بہت زیادہ دودھ ہوگا۔ اِس لیے وہ مکھن کھائے گا کیونکہ ملک میں باقی بچے ہوئے سب لوگ مکھن اور شہد ہی کھائیں گے۔‏

23 اُس دن ہر اُس جگہ صرف کانٹے‌دار جھاڑیاں اور جنگلی پودے ہوں گے جہاں انگور کی 1000 بیلیں ہوا کرتی تھیں جن کی قیمت چاندی کے 1000 ٹکڑے تھی۔ 24 آدمی وہاں تیر کمان کے ساتھ جائیں گے کیونکہ پورا ملک کانٹے‌دار جھاڑیوں اور جنگلی پودوں سے بھرا ہوگا۔ 25 آپ اُن سب پہاڑوں کے پاس جنہیں پھاوڑے*‏ سے صاف کِیا جاتا تھا، کانٹے‌دار جھاڑیوں اور جنگلی پودوں کے خوف سے نہیں جائیں گے۔ وہ بیلوں کے لیے چرنے کی جگہ اور بھیڑوں کے لیے روندنے کی جگہ بن جائیں گے۔“‏

8 یہوواہ نے مجھ سے کہا:‏ ”‏ایک بڑی تختی لو اور اُس پر ایک عام قلم*‏ سے ”‏مہیرشالال‌حاش‌بز“‏*‏ لکھو۔ 2 مَیں چاہتا ہوں کہ وفادار گواہ یعنی کاہن اُوریاہ اور یبرکیاہ کا بیٹا زکریاہ لکھ کر اِس کی تصدیق کریں۔“‏*‏

3 اِس کے بعد مَیں نے نبِیّہ*‏ سے تعلق قائم کِیا*‏ اور وہ حاملہ ہوئی اور اُس نے ایک بیٹے کو جنم دیا۔ پھر یہوواہ نے مجھ سے کہا:‏ ”‏اِس کا نام مہیرشالال‌حاش‌بز رکھو 4 کیونکہ اِس سے پہلے کہ یہ لڑکا ”‏ابو!‏“‏ اور ”‏امی!‏“‏ کہنا سیکھے، دمشق کا مال‌ودولت اور سامریہ کا لُوٹ کا مال اسور کے بادشاہ کے سامنے لے جایا جائے گا۔“‏

5 یہوواہ نے دوبارہ مجھ سے بات کرتے ہوئے کہا:‏

 6 ‏”‏اِن لوگوں نے شیلوخ*‏ کے سکون سے بہتے پانیوں کو رد کر دیا ہے

اور وہ رِضین اور رِملیاہ کے بیٹے کی وجہ سے خوش ہیں۔‏

 7 اِس لیے دیکھو!‏ یہوواہ بڑے دریا*‏ کے زورآور اور وسیع پانیوں کو،‏

ہاں، اسور کے بادشاہ کو اُس کی ساری شان‌وشوکت سمیت اُن کے خلاف لائے گا۔‏

وہ اپنی سب ندیوں کو اُوپر تک بھر دے گا

اور اپنے سب کناروں سے باہر بہنے لگے گا۔‏

 8 وہ یہوداہ کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔‏

وہ سیلاب کی طرح بہے گا اور اُس کی گردن تک پہنچ جائے گا۔‏

اَے عمانوایل!‏*‏ اُس کے پھیلے ہوئے پَروں سے تمہارا پورا ملک ڈھک جائے گا۔“‏

 9 اَے لوگو!‏ اُنہیں نقصان پہنچاؤ لیکن تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا۔‏

زمین کے دُوردراز علاقوں کے سب لوگو!‏ سنو!‏

جنگ کے لیے کمر کَس لو لیکن تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا!‏

جنگ کے لیے کمر کَس لو لیکن تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا!‏

10 سازش گھڑو لیکن وہ کامیاب نہیں ہوگی!‏

جو کہنا چاہتے ہو، کہو لیکن وہ پورا نہیں ہوگا

کیونکہ خدا ہمارے ساتھ ہے!‏*‏

11 یہوواہ نے اپنا زورآور ہاتھ مجھ پر رکھا اور مجھے اِس قوم کی راہ پر چلنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا:‏

12 ‏”‏تُم اُسے سازش نہ کہو جسے یہ لوگ سازش کہتے ہیں!‏

تُم اُس سے نہ ڈرو جس سے یہ لوگ ڈرتے ہیں

اور نہ اُس کی وجہ سے کانپو۔‏

13 تمہیں صرف فوجوں کے خدا یہوواہ کو پاک سمجھنا چاہیے؛‏

صرف اُسی سے ڈرنا چاہیے

اور صرف اُسی کی وجہ سے کانپنا چاہیے۔“‏

14 وہ ایک مُقدس مقام بنے گا۔‏

لیکن اِسرائیل کے دونوں گھرانوں کے لیے

وہ ایک ایسا پتھر ہوگا جس سے ٹھوکر لگے

اور ایک ایسی چٹان جس سے چوٹ پہنچے؛‏

وہ یروشلم کے باشندوں کے لیے

ایک جال اور ایک پھندا ہوگا۔‏

15 اُن میں سے بہت سے ٹھوکر کھائیں گے اور گِر کر ٹوٹ جائیں گے؛‏

وہ پھندے میں پھنسیں گے اور پکڑے جائیں گے۔‏

16 تصدیق‌نامے کو لپیٹ لیں؛‏

میرے شاگردوں کے بیچ شریعت*‏ پر مُہر لگا دیں!‏

17 مَیں یہوواہ سے اُمید لگائے رکھوں گا*‏ جس نے یعقوب کے گھرانے سے اپنا چہرہ چھپایا ہوا ہے اور اُس پر آس لگاؤں گا۔‏

18 دیکھیں!‏ مَیں اور یہ بچے جو یہوواہ نے مجھے دیے ہیں، اِسرائیل میں فوجوں کے خدا یہوواہ کی طرف سے جو کوہِ‌صِیّون پر رہتا ہے، نشانیاں اور معجزے ہیں۔‏

19 اگر وہ آپ سے کہیں:‏ ”‏مُردوں سے رابطہ کرنے والوں یا مستقبل کا حال بتانے والوں سے پوچھیں جو پُھسپُھساتے اور بڑبڑاتے ہیں“‏ تو کیا ایسا کرنا صحیح ہوگا؟ کیا ایک قوم کو اپنے خدا سے رہنمائی نہیں مانگنی چاہیے؟ کیا زندوں کی خاطر مُردوں سے سوال پوچھنا صحیح ہوگا؟ 20 اُنہیں شریعت اور تصدیق‌نامے سے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔‏

جب وہ اِس کلام کے مطابق بات نہیں کرتے تو اُن کے پاس کوئی روشنی*‏ نہیں ہوتی۔ 21 ہر شخص ملک سے مصیبت اور بھوک کی حالت میں گزرے گا؛ بھوک اور غصے کی وجہ سے وہ اُوپر کی طرف دیکھ کر اپنے بادشاہ اور اپنے خدا کو بُرا بھلا کہے گا۔ 22 پھر وہ زمین کی طرف دیکھے گا اور اُسے پریشانی اور تاریکی، دُھندلاپن اور مشکل وقت اور اندھیرا نظر آئے گا اور کوئی روشنی نہیں دِکھے گی۔‏

9 لیکن یہ تاریکی ویسی نہیں ہوگی جیسی اُس زمانے میں تھی جب ملک میں پریشانی تھی، ہاں، اُس پُرانے زمانے جیسی جب زِبُولون کے علاقے اور نفتالی کے علاقے سے حقارت بھرا سلوک کِیا جاتا تھا۔لیکن بعد میں خدا اِسے عزت بخشے گا جو سمندر کی طرف جانے والا راستہ، اُردن*‏ کا علاقہ اور غیرقوموں کا گلیل ہے۔‏

 2 جو لوگ اندھیرے میں چل رہے تھے،‏

اُنہوں نے بڑی روشنی دیکھی ہے۔‏

جو لوگ گہرے سائے کے ملک میں رہ رہے تھے،‏

اُن پر روشنی چمکی ہے۔‏

 3 تُو نے اِس قوم کی آبادی بڑھائی ہے؛‏

تُو نے اِن لوگوں کی خوشی میں بہت اِضافہ کِیا ہے۔‏

وہ تیرے حضور خوشی مناتے ہیں،‏

بالکل ویسے ہی جیسے لوگ کٹائی کے موسم میں خوش ہوتے ہیں،‏

جیسے لوگ لُوٹ کا مال بانٹتے ہوئے خوشی مناتے ہیں

 4 کیونکہ تُو نے اُن کے بھاری جُوئے کو، اُن کے کندھوں پر رکھے ڈنڈے کو

اور اُن سے کام کرانے والے کی چھڑی کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے

جیسے تُو نے مِدیان کی شکست کے دن کِیا تھا۔‏

 5 اپنی دھمک سے زمین کو لرزا دینے والا ہر جُوتا

اور خون سے لت‌پت ہر کپڑا

آگ کے لیے ایندھن بن جائے گا

 6 کیونکہ ہمارے لیے ایک بچہ پیدا ہوا ہے؛‏

ہمیں ایک لڑکا دیا گیا ہے۔‏

حکمرانی اُس کے کندھے پر ہوگی۔‏

اُس کا نام شان‌دار مُشیر، طاقت‌ور خدا، ابدی باپ اور امن کا شہزادہ ہوگا۔‏

 7 اُس کی حکمرانی کے پھیلاؤ

اور امن کی کوئی حد نہیں ہوگی۔‏

وہ داؤد کے تخت پر بیٹھے گا اور اُس کی بادشاہت سنبھالے گا

تاکہ اِسے اِنصاف اور نیکی کے ذریعے

اب سے ہمیشہ تک

مضبوطی سے قائم کرے اور برقرار رکھے۔‏

فوجوں کا خدا یہوواہ اپنی غیرت کی وجہ سے ایسا کرے گا۔‏

 8 یہوواہ نے یعقوب کے خلاف پیغام بھیجا ہے؛‏

یہ پیغام اِسرائیل کے خلاف آیا ہے۔‏

 9 سب لوگ یہ جانیں گے

یعنی اِفرائیم اور سامریہ کے باشندے

جو غرور اور ڈھیٹھ دل کے ساتھ کہتے ہیں:‏

10 ‏”‏اینٹوں کا گھر گِر گیا ہے

لیکن ہم تراشے ہوئے پتھروں سے اِسے دوبارہ بنائیں گے۔‏

گُولر*‏ کے درختوں کو کاٹ دیا گیا ہے

لیکن ہم اِن کی جگہ دیودار کے درخت لگائیں گے۔“‏

11 یہوواہ رِضین کے مخالفوں کو اُس کے خلاف کھڑا کرے گا

اور اُس کے دُشمنوں کو حملہ کرنے کے لیے اُبھارے گا

12 یعنی مشرق سے سُوریہ کو اور مغرب سے*‏ فِلِستیوں کو۔‏

وہ مُنہ پھاڑ کر اِسرائیل کو ہڑپ جائیں گے۔‏

اِس سب کی وجہ سے اُس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا ہے

بلکہ اُس کا ہاتھ سزا دینے کے لیے ابھی بھی بڑھا ہوا ہے

13 کیونکہ لوگ اُس ہستی کے پاس نہیں لوٹے جو اُنہیں سزا دیتی ہے؛‏

اُنہوں نے فوجوں کے خدا یہوواہ کی رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔‏

14 یہوواہ ایک ہی دن میں اِسرائیل سے

سر اور دُم اور شاخ اور لمبی گھاس*‏ کاٹ دے گا۔‏

15 بزرگ اور اِنتہائی مُعزز شخص سر ہے

اور جھوٹی تعلیم دینے والا نبی دُم ہے۔‏

16 اِس قوم کی پیشوائی کرنے والے اِسے گمراہ کر رہے ہیں

اور جن کی پیشوائی کی جا رہی ہے، وہ اُلجھن میں ہیں۔‏

17 اِس لیے یہوواہ اُن کے جوان آدمیوں سے خوش نہیں ہوگا

اور اُن کے یتیموں اور اُن کی بیواؤں پر بالکل رحم نہیں کرے گا

کیونکہ وہ سب برگشتہ اور بُرے ہیں

اور ہر مُنہ سے بے‌تُکی باتیں نکلتی ہیں۔‏

اِس سب کی وجہ سے اُس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا ہے

بلکہ اُس کا ہاتھ سزا دینے کے لیے ابھی بھی بڑھا ہوا ہے

18 کیونکہ بُرائی آگ کی طرح بھڑکتی ہے

اور کانٹے‌دار جھاڑیوں اور جنگلی پودوں کو بھسم کر دیتی ہے۔‏

یہ جنگل کی گھنی جھاڑیوں کو جلا دے گی

اور وہ دُھوئیں کے بادل بن کر اُڑ جائیں گی۔‏

19 فوجوں کے خدا یہوواہ کے قہر سے

ملک میں آگ لگ گئی ہے

اور لوگ اِس آگ کا ایندھن بن جائیں گے۔‏

کوئی بھی شخص اپنے بھائی تک کو نہیں بخشے گا۔‏

20 کوئی اپنی دائیں طرف سے گوشت کاٹے گا

لیکن پھر بھی بھوکا رہے گا

اور کوئی اپنی بائیں طرف سے گوشت کھائے گا

لیکن پھر بھی اُس کی بھوک نہیں مٹے گی۔‏

ہر شخص اپنے ہی بازو کا گوشت کھائے گا۔‏

21 منسّی اِفرائیم کو ہڑپ جائے گا

اور اِفرائیم منسّی کو۔‏

وہ دونوں یہوداہ کے خلاف ہو جائیں گے۔‏

اِس سب کی وجہ سے اُس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا ہے

بلکہ اُس کا ہاتھ سزا دینے کے لیے ابھی بھی بڑھا ہوا ہے۔‏

10 اُن پر افسوس جو نقصان‌دہ معیار بناتے ہیں،‏

جو ظالمانہ فرمان لکھتے رہتے ہیں

 2 تاکہ غریبوں کو اُن کے قانونی حق سے محروم رکھ سکیں

اور میری قوم کے ادنیٰ لوگوں کو اِنصاف نہ مل سکے!‏

وہ بیواؤں اور یتیموں کو اپنا لُوٹ کا مال بنا لیتے ہیں۔‏

 3 تُم اُس دن کیا کرو گے جب تُم سے حساب لیا جائے گا،‏*‏

جب تُم پر دُور سے تباہی آئے گی؟‏

تُم مدد کے لیے کس کے پاس بھاگو گے

اور اپنی دولت*‏ کہاں چھوڑو گے؟‏

 4 لوگوں کے پاس اِس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا

کہ وہ قیدیوں کے بیچ گُھٹنوں کے بل بیٹھیں

یا پھر لاشوں کے بیچ گِر پڑیں۔‏

اِس سب کی وجہ سے اُس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوا ہے

بلکہ اُس کا ہاتھ سزا دینے کے لیے ابھی بھی بڑھا ہوا ہے۔‏

 5 ‏”‏اسور*‏ کو دیکھو

جو میرے قہر کی چھڑی ہے

اور جس کے ہاتھ میں وہ لاٹھی ہے جس سے مَیں سزا دوں گا!‏

 6 مَیں اُسے ایک برگشتہ قوم کے خلاف بھیجوں گا،‏

ایک ایسی قوم کے خلاف جس نے میرا قہر بھڑکایا ہے؛‏

مَیں اُسے حکم دوں گا کہ وہ بہت سارا مال لُوٹے

اور اُن لوگوں کو گلیوں کی کیچڑ کی طرح روندے۔‏

 7 لیکن اُس کا جھکاؤ اِس طرف نہیں ہوگا

اور اُس کے دل کا یہ اِرادہ نہیں ہوگا

کیونکہ اُس کے دل میں یہ ہے کہ وہ تباہ کرے

اور چند ایک قوموں کو نہیں بلکہ بہت سی قوموں کو کاٹ ڈالے۔‏

 8 وہ کہتا ہے:‏

‏”‏کیا میرے سب حاکم بادشاہ نہیں ہیں؟‏

 9 کیا کلنو کرکِمیس کی طرح نہیں ہے؟‏

کیا حمات ارفاد کی طرح نہیں ہے؟‏

کیا سامریہ دمشق کی طرح نہیں ہے؟‏

10 مَیں نے فضول خداؤں کی بادشاہتوں کو اپنے ہاتھ میں کر لیا ہے

جن کی تراشی ہوئی مورتیں یروشلم اور سامریہ سے زیادہ تھیں!‏

11 کیا مَیں یروشلم اور اُس کے بُتوں کا بھی وہی حال نہیں کروں گا

جو مَیں نے سامریہ اور اُس کے فضول خداؤں کا کِیا ہے؟“‏

12 جب یہوواہ کوہِ‌صِیّون پر اور یروشلم میں اپنا سارا کام ختم کر لے گا تو وہ*‏ اسور کے بادشاہ کو اُس کے ڈھیٹھ دل، اُس کے غرور اور اُس کی گھمنڈ بھری نظروں کی وجہ سے سزا دے گا 13 کیونکہ وہ کہتا ہے:‏

‏”‏مَیں اپنے ہاتھ کی طاقت اور اپنی دانش‌مندی سے ایسا کروں گا

کیونکہ مَیں دانش‌مند ہوں۔‏

مَیں قوموں کی سرحدیں مٹا دوں گا

اور اُن کے خزانے لُوٹ لوں گا

اور ایک طاقت‌ور شخص کی طرح اُن کے رہائشیوں کو اپنے تابع کر لوں گا۔‏

14 جیسے کوئی شخص گھونسلے میں ہاتھ ڈالتا ہے

ویسے ہی میرا ہاتھ قوموں کے مال‌ودولت پر قبضہ کر لے گا؛‏

جیسے کوئی شخص لاوارث انڈوں کو جمع کرتا ہے

ویسے ہی مَیں پوری زمین کو جمع کروں گا!‏

کوئی بھی اپنے پَر نہیں پھڑپھڑائے گا، اپنا مُنہ نہیں کھولے گا اور چِیں‌چِیں نہیں کرے گا۔“‏“‏

15 کیا کلہاڑا خود کو اُس شخص سے بڑا بنا سکتا ہے جو اِس سے کاٹتا ہے؟‏

کیا آرا خود کو اُس شخص سے بڑا بنا سکتا ہے جو اِس سے چیرتا ہے؟‏

کیا لاٹھی اُس شخص کو لہرا سکتی ہے جو اِسے اُٹھاتا ہے؟‏

کیا چھڑی اُسے اُوپر اُٹھا سکتی ہے جو لکڑی سے نہیں بنا؟‏

16 اِس لیے سچا مالک یعنی فوجوں کا خدا یہوواہ

اُس کے موٹے تازے لوگوں کو مریل بنا دے گا

اور اُس کی شان‌وشوکت کے نیچے بھڑکتی ہوئی آگ لگا دے گا۔‏

17 اِسرائیل کا نور آگ بن جائے گا،‏

ہاں، اُس کا پاک خدا ایک شعلہ بن جائے گا؛‏

یہ آگ بھڑک اُٹھے گی اور ایک ہی دن میں اُس کے جنگلی پودوں اور کانٹے‌دار جھاڑیوں کو بھسم کر دے گی۔‏

18 وہ اُس کے جنگل اور اُس کے باغ کی شان کو بالکل*‏ مٹا دے گا؛‏

وہ ایسے مٹ جائے گی جیسے ایک بیمار شخص مٹتا جاتا ہے۔‏

19 اُس کے جنگل کے بچے ہوئے درخت اِتنے کم ہوں گے

کہ ایک بچہ اُن کی تعداد لکھ سکے گا۔‏

20 اُس دن اِسرائیل کے باقی بچے ہوئے لوگ

اور یعقوب کے گھرانے کے زندہ بچ جانے والے لوگ

اُس کا سہارا نہیں لیں گے جس نے اُنہیں مارا تھا

بلکہ وہ پوری وفاداری سے اِسرائیل کے پاک خدا یہوواہ کا سہارا لیں گے۔‏

21 صرف ایک بچا ہوا حصہ واپس آئے گا؛‏

یعقوب کا بچا ہوا حصہ طاقت‌ور خدا کی طرف لوٹے گا۔‏

22 اَے اِسرائیل!‏ حالانکہ تیرے لوگ سمندر کی ریت کے ذرّوں کی طرح ہیں

لیکن اُن میں سے صرف ایک بچا ہوا حصہ واپس آئے گا۔‏

لوگوں کو مٹانے کا فیصلہ ہو چُکا ہے

اور اُن پر سزا*‏ کا سیلاب آئے گا۔‏

23 ہاں، حاکمِ‌اعلیٰ یعنی فوجوں کے خدا یہوواہ نے لوگوں کو مٹانے کا جو فیصلہ کِیا ہے،‏

وہ پورے ملک پر لاگو ہوگا۔‏

24 اِس لیے حاکمِ‌اعلیٰ یعنی فوجوں کا خدا یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏ ”‏صِیّون میں بسنے والے میرے بندو!‏ اسور کی وجہ سے ڈرو نہیں جو مصر کی طرح تمہیں چھڑی سے مارتا تھا اور تمہارے خلاف اپنی لاٹھی اُٹھاتا تھا 25 کیونکہ تھوڑی ہی دیر میں ملامت ختم ہو جائے گی اور میرے غصے کا رُخ اُس کی تباہی کی طرف مُڑ جائے گا۔ 26 فوجوں کا خدا یہوواہ اُسے کوڑے سے مارے گا جیسے اُس نے اُس وقت کِیا تھا جب اُس نے عوریب کی چٹان کے پاس مِدیان کو شکست دی تھی۔ اُس کی لاٹھی سمندر کے اُوپر ہوگی اور وہ اِسے ویسے ہی اُٹھائے گا جیسے اُس نے اِسے مصر کے خلاف اُٹھایا تھا۔‏

27 اُس دن اُس کا بوجھ تمہارے کندھے سے

اور اُس کا جُوا تمہاری گردن سے اُتر جائے گا

اور تیل کی وجہ سے وہ جُوا ٹوٹ جائے گا۔“‏

28 وہ عیات آیا؛‏

وہ مِجرون سے گزرا

اور اُس نے مِکماس میں اپنا سامان چھوڑا۔‏

29 اُنہوں نے گھاٹ پار کِیا؛‏

اُنہوں نے جبع میں رات گزاری؛‏

رامہ کانپ رہا ہے اور ساؤل کا شہر جِبعہ بھاگ گیا ہے۔‏

30 اَے جلّیم کی بیٹی!‏ چیخ چلّا!‏

اَے لَیسہ!‏ دھیان دے!‏

ہائے بے‌چارہ عنتوت!‏

31 مدمینہ بھاگ گیا ہے۔‏

جیبیم کے لوگوں نے پناہ ڈھونڈ لی ہے۔‏

32 آج کے دن ہی وہ نوب میں رُکے گا۔‏

وہ صِیّون کی بیٹی کے پہاڑ،‏

ہاں، یروشلم کی پہاڑی کے خلاف مُکا لہرا رہا ہے۔‏

33 دیکھو!‏ سچا مالک یعنی فوجوں کا خدا یہوواہ

شاخیں کاٹ رہا ہے جس سے بھیانک شور ہو رہا ہے؛‏

سب سے لمبے درخت کاٹے جا رہے ہیں

اور اُونچے درختوں کو نیچا کِیا جا رہا ہے۔‏

34 وہ لوہے کے ایک اوزار*‏ سے جنگل کی گھنی جھاڑیوں کو کاٹ رہا ہے

اور لبنان ایک طاقت‌ور کے ہاتھوں گِر جائے گا۔‏

11 یسی کے مُڈھ*‏ سے ایک ٹہنی اُگے گی

اور اُس کی جڑوں سے ایک کونپل پھوٹے گی جو پھل لائے گی۔‏

 2 یہوواہ کی روح اُس پر رہے گی،‏

ہاں، دانش‌مندی اور سمجھ‌داری کی روح،‏

ہدایت اور طاقت کی روح،‏

علم اور یہوواہ کے خوف کی روح۔‏

 3 اُسے یہوواہ کے خوف کی وجہ سے خوشی ملے گی۔‏

وہ صرف اُس بات کی بِنا پر فیصلہ نہیں کرے گا جو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھے گا

اور نہ ہی صرف اُس بات کی بِنا پر اِصلاح کرے گا جو وہ اپنے کانوں سے سنے گا۔‏

 4 وہ بغیر طرف‌داری کیے*‏ ادنیٰ لوگوں کا اِنصاف کرے گا

اور زمین کے حلیم لوگوں کی خاطر راستی سے اِصلاح کرے گا۔‏

وہ اپنے مُنہ کی لاٹھی سے زمین کو مارے گا

اور اپنے لبوں کے دم*‏ سے بُرے لوگوں کو مار ڈالے گا۔‏

 5 نیکی اُس کا کمربند ہوگی

اور وفاداری اُس کی پیٹی۔‏*‏

 6 بھیڑیا میمنے کے ساتھ رہا کرے گا

اور تیندوا بکری کے بچے کے ساتھ لیٹے گا

اور بچھڑا اور شیر*‏ اور موٹاتازہ جانور سب ساتھ ہوں گے*‏

اور چھوٹا لڑکا اُن کی پیشوائی کرے گا۔‏

 7 گائے اور ریچھنی مل کر چریں گی

اور اُن کے بچے اِکٹھے لیٹیں گے۔‏

شیر بیل کی طرح بھوسا کھائے گا۔‏

 8 دودھ پیتا بچہ ناگ کے بِل کے پاس کھیلے گا

اور جس بچے کا دودھ چھڑایا گیا ہوگا، وہ زہریلے سانپ کے بِل میں ہاتھ ڈالے گا۔‏

 9 وہ میرے سارے مُقدس پہاڑ پر نہ تو کوئی نقصان پہنچائیں گے

اور نہ کوئی تباہی مچائیں گے

کیونکہ زمین یہوواہ کے علم سے بھر جائے گی

جیسے سمندر پانی سے بھرا ہے۔‏

10 اُس دن یسی کی جڑ قوموں کے لیے ایک جھنڈے کی طرح کھڑی ہوگی۔‏

قومیں رہنمائی کے لیے اُس سے رُجوع*‏ کریں گی

اور اُس کی آرام‌گاہ عالی‌شان بن جائے گی۔‏

11 اُس دن یہوواہ دوسری بار اپنا ہاتھ بڑھائے گا اور اپنی قوم کے بچے ہوئے حصے کو اسور،مصر، فتروس، کُوش، عِیلام، سِنعار،‏*‏ حمات اور سمندر کے جزیروں سے واپس لائے گا۔ 12 وہ قوموں کے لیے ایک جھنڈا کھڑا کرے گا اور اِسرائیل کے بکھرے ہوئے لوگوں کو جمع کرے گا۔ وہ زمین کے چاروں کونوں سے یہوداہ کے بکھرے ہوئے لوگوں کو اِکٹھا کرے گا۔‏

13 اِفرائیم کا حسد ختم ہو جائے گا

اور یہوداہ سے دُشمنی کرنے والوں کو مٹا دیا جائے گا۔‏

اِفرائیم یہوداہ سے حسد نہیں کرے گا

اور نہ ہی یہوداہ اِفرائیم سے دُشمنی کرے گا۔‏

14 وہ مغرب میں فِلِستیوں کی ڈھلانوں*‏ پر جھپٹیں گے؛‏

وہ مل کر مشرق کے لوگوں کو لُوٹیں گے۔‏

وہ ادوم اور موآب کے خلاف اپنا ہاتھ*‏ بڑھائیں گے

اور عمونی اُن کی رعایا بن جائیں گے۔‏

15 یہوواہ مصر کے سمندر کی خلیج*‏ کو تقسیم کر دے گا*‏

اور بڑے دریا*‏ پر اپنا ہاتھ لہرائے گا۔‏

وہ اپنی جھلسا دینے والی سانس*‏ سے اِس کی سات ندیوں کو مارے گا*‏

اور یہ ممکن بنائے گا کہ لوگ اپنے جُوتوں میں پار جائیں۔‏

16 اُس کی قوم کے بچے ہوئے حصے کے لیے اسور سے ایک شاہراہ نکلے گی

جیسی اُس دن اِسرائیلیوں کے لیے تھی جس دن وہ مصر سے نکلے تھے۔‏

12 اُس دن آپ ضرور کہیں گے:‏

‏”‏اَے یہوواہ!‏ مَیں تیرا شکر ادا کرتا ہوں۔‏

تجھے مجھ پر غصہ تھا

مگر تیرا غصہ آہستہ آہستہ ٹھنڈا ہو گیا

اور تُو نے مجھے تسلی دی۔‏

 2 دیکھو!‏ خدا میری نجات ہے۔‏

مَیں اُس پر بھروسا کروں گا اور بالکل نہیں ڈروں گا

کیونکہ یاہ*‏ یہوواہ میری طاقت اور میری قوت ہے

اور وہ میری نجات بن گیا ہے۔“‏

 3 آپ خوشی خوشی نجات کے چشموں سے پانی بھریں گے۔‏

 4 اُس دن آپ کہیں گے:‏

‏”‏یہوواہ کا شکر کرو؛ اُس کا نام لو؛‏

قوموں کو اُس کے کاموں کے بارے میں بتاؤ!‏

اِعلان کرو کہ اُس کا نام بلند ہے۔‏

 5 یہوواہ کی تعریف میں گیت گاؤ*‏ کیونکہ اُس نے شان‌دار کام کیے ہیں۔‏

ساری زمین میں اِس بات کا چرچا کِیا جائے۔‏

 6 صِیّون کی رہنے والی!‏*‏ للکار اور خوشی سے نعرے مار

کیونکہ تیرے بیچ اِسرائیل کا پاک خدا عظیم ہے۔“‏

13 بابل کے خلاف ایک پیغام جو آموص کے بیٹے یسعیاہ کو رُویا میں ملا:‏

 2 بنجر چٹانوں کے پہاڑ پر جھنڈا کھڑا کرو۔‏

سپاہیوں کو پکارو اور اپنا ہاتھ لہراؤ

تاکہ وہ نوابوں کے دروازوں سے داخل ہوں۔‏

 3 مَیں نے اُن کے لیے حکم جاری کِیا ہے جنہیں مَیں نے مقرر*‏ کِیا ہے۔‏

مَیں نے اپنے جنگجوؤں، ہاں، فخر سے خوشی منانے والے اپنے لوگوں کو بُلایا ہے

تاکہ اُن کے ذریعے اپنا غصہ ظاہر کروں۔‏

 4 سنو!‏ پہاڑوں میں ایک بِھیڑ ہے؛‏

ایسا لگ رہا ہے کہ بہت سے لوگوں کی آواز ہے!‏

سنو!‏ بادشاہتوں کا شور،‏

ہاں، قوموں کا شور جو ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہیں!‏

فوجوں کا خدا یہوواہ جنگ کے لیے فوج اِکٹھی کر رہا ہے۔‏

 5 وہ دُوردراز ملک سے،‏

ہاں، آسمان کے سِرے سے آ رہے ہیں؛‏

یہوواہ اور اُس کے قہر کے ہتھیار

ساری زمین پر تباہی لانے آ رہے ہیں۔‏

 6 ماتم کرو کیونکہ یہوواہ کا دن قریب ہے!‏

وہ دن لامحدود قدرت کے مالک کی طرف سے تباہی لائے گا۔‏

 7 اِس لیے سارے ہاتھ کمزور پڑ جائیں گے

اور ہر شخص کا دل خوف سے پگھل جائے گا۔‏

 8 لوگ گھبراہٹ کا شکار ہیں۔‏

وہ تکلیف اور درد سے تڑپ رہے ہیں

جیسے ایک عورت بچے کی پیدائش کی دردوں سے تڑپتی ہے۔‏

وہ خوف کے مارے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں

اور تکلیف کے مارے اُن کے چہرے دہک رہے ہیں۔‏

 9 دیکھو!‏ یہوواہ کا دن آ رہا ہے،‏

ہاں، قہر اور بھڑکتے ہوئے غصے سے بھرا بے‌رحم دن

جو ملک کو دہشت کی علامت بنا دے گا

اور ملک کے گُناہ‌گاروں کو اُس میں سے مٹا دے گا۔‏

10 آسمان کے ستارے اور اُن کے جُھرمٹ*‏

اپنی روشنی نہیں دیں گے؛‏

جب سورج نکلے گا تو وہ تاریک ہوگا

اور چاند اپنی روشنی نہیں چمکائے گا۔‏

11 مَیں دُنیا کو اُس کی بُرائی کا

اور بُرے لوگوں کو اُن کے گُناہوں کا حساب دینے کے لیے بُلاؤں گا۔‏

مَیں گستاخ*‏ لوگوں کا غرور توڑ دوں گا

اور ظالموں کا گھمنڈ خاک میں ملا دوں گا۔‏

12 مَیں فانی اِنسان کو خالص سونے سے،‏

ہاں، اِنسانوں کو اوفیر کے سونے سے زیادہ نایاب بنا دوں گا۔‏

13 اِس لیے مَیں آسمان کو لرزا دوں گا

اور فوجوں کے خدا یہوواہ کے بھڑکتے ہوئے غصے کے دن

اُس کے قہر سے زمین اپنی جگہ سے ہلا دی جائے گی۔‏

14 اُس غزال*‏ کی طرح جو شکاری سے بھاگتا ہے

اور اُس گلّے کی طرح جسے جمع کرنے والا کوئی نہیں ہوتا،‏

ہر شخص اپنی قوم کے پاس لوٹ جائے گا

اور ہر شخص اپنے ملک بھاگ جائے گا۔‏

15 جو کوئی بھی ملے گا، اُسے چھلنی کر دیا جائے گا

اور جو کوئی بھی پکڑا جائے گا، وہ تلوار کا نشانہ بنے گا۔‏

16 اُن کی آنکھوں کے سامنے اُن کے بچوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا؛‏

اُن کے گھر لُوٹ لیے جائیں گے

اور اُن کی بیویوں کی عزت لُوٹی جائے گی۔‏

17 مَیں اُن کے خلاف مادیوں کو کھڑا کر رہا ہوں

جو چاندی کو کچھ نہیں سمجھتے

اور سونے سے خوش نہیں ہوتے۔‏

18 اُن کے تیر جوان آدمیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے؛‏

وہ پیٹ کے پھل پر کوئی ترس نہیں کھائیں گے

اور نہ بچوں پر رحم کریں گے۔‏

19 بابل جو بادشاہتوں میں سب سے عالی‌شان*‏ ہے،‏

جو کسدیوں کا حسن اور غرور ہے،‏

سدوم اور عمورہ کی طرح ہو جائے گا جنہیں خدا نے تہس‌نہس کر دیا۔‏

20 وہ کبھی آباد نہیں ہوگا

اور نہ اُس میں نسل‌درنسل کوئی بسے گا۔‏

نہ عربی وہاں اپنے خیمے لگائیں گے

اور نہ چرواہے وہاں اپنے گلّوں کو بٹھائیں گے۔‏

21 ریگستان کے جانور وہاں لیٹیں گے؛‏

اُن کے گھر عقابی اُلّوؤں سے بھر جائیں گے؛‏

شُترمُرغ وہاں بسیں گے

اور جنگلی بکرے*‏ وہاں اُچھل کُود کریں گے۔‏

22 اُس کے بُرجوں میں جانور روئیں گے

اور اُس کے عالی‌شان محلوں میں گیدڑ۔‏

اُس کا وقت نزدیک ہے اور اُسے اَور مہلت نہیں دی جائے گی۔‏

14 یہوواہ یعقوب پر رحم کرے گا اور پھر سے اِسرائیل کو چُنے گا۔ وہ اُن لوگوں کو اُن کے ملک میں بسائے گا*‏ اور پردیسی اُن کے ساتھ ہوں گے اور یعقوب کے گھرانے سے جُڑ جائیں گے۔ 2 غیرقوموں کے لوگ اُنہیں لے کر اُن کی جگہ پر پہنچائیں گے اور اِسرائیل کا گھرانہ اُنہیں یہوواہ کے ملک میں نوکر نوکرانیاں بنائے گا۔ وہ اُن لوگوں کو قیدی بنائیں گے جنہوں نے اُنہیں قیدی بنایا تھا؛ وہ لوگ اُن کے تابع ہوں گے جنہوں نے اُن سے زبردستی کام کرایا تھا۔‏*‏

3 جس دن یہوواہ آپ کو آپ کی تکلیف، آپ کی پریشانی اور اُس سخت غلامی سے آرام دے گا جو آپ سے کرائی گئی، 4 اُس دن آپ بابل کے بادشاہ کے خلاف یہ کہاوت کہیں گے:‏*‏

‏”‏دیکھو!‏ دوسروں سے زبردستی کام کرانے والا*‏ اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے!‏

دیکھو!‏ ظلم کا خاتمہ ہو گیا ہے!‏

 5 یہوواہ نے بُرے لوگوں کی لاٹھی

اور حکمرانوں کے عصا کو توڑ دیا ہے،‏

 6 ہاں، اُس کو جو طیش سے قوموں پر مسلسل وار کر رہا تھا،‏

ہاں، اُس کو جو قوموں کو مسلسل اذیت دے کر اُنہیں غصے سے اپنے ماتحت کر رہا تھا۔‏

 7 اب ساری زمین کو آرام ملا ہے، ہر طرف سکون ہے۔‏

لوگ خوشی سے للکار رہے ہیں۔‏

 8 صنوبر کے درخت بھی لبنان کے درختوں کے ساتھ مل کر

تیرے حال پر خوشی مناتے ہیں۔‏

وہ کہتے ہیں:‏ ”‏جب سے تُو گِرا ہے،‏

ہمیں کاٹنے کے لیے کوئی لکڑہارا نہیں آیا۔“‏

 9 نیچے قبر*‏ میں بھی ہلچل مچی ہوئی ہے

تاکہ تیرے آنے پر تیرا اِستقبال کرے۔‏

تیری وجہ سے یہ مُردوں کو جگاتی ہے،‏

ہاں، زمین کے سب ظالم حکمرانوں*‏ کو۔‏

یہ قوموں کے بادشاہوں کو اُن کے تخت سے اُٹھا دیتی ہے۔‏

10 وہ سب بول اُٹھتے ہیں اور تجھ سے کہتے ہیں:‏

‏”‏کیا تُو بھی ہماری طرح کمزور ہو گیا ہے؟‏

کیا تُو بھی ہم جیسا بن گیا ہے؟‏

11 تیرا غرور اور تیرے تاردار سازوں کی آواز

نیچے قبر*‏ میں اُتاری گئی ہے۔‏

تیرے نیچے کیڑوں کا بستر بچھا ہے

اور تیرے اُوپر کینچوؤں کی چادر ہے۔“‏

12 اَے چمکتے ستارے!‏ صبح کے بیٹے!‏

تجھے آسمان سے کیسے گِرا دیا گیا ہے!‏

اَے قوموں کو شکست دینے والے!‏

تجھے کاٹ کر کیسے زمین پر پھینک دیا گیا ہے!‏

13 تُو نے اپنے دل میں کہا :‏ ”‏مَیں آسمان پر چڑھ جاؤں گا۔‏

مَیں اپنا تخت خدا کے ستاروں سے اُونچا کروں گا۔‏

مَیں شمال کے دُوردراز علاقوں میں

اِجتماع کے پہاڑ پر بیٹھوں گا۔‏

14 مَیں بادلوں سے بھی اُوپر جاؤں گا؛‏

مَیں خود کو خدا تعالیٰ جیسا بناؤں گا۔“‏

15 لیکن تجھے قبر*‏ میں اُتارا جائے گا،‏

ہاں، گڑھے کے سب سے گہرے حصوں میں۔‏

16 تجھے دیکھنے والے تجھے گھوریں گے؛‏

وہ باریکی سے تیرا جائزہ لیں گے اور کہیں گے:‏

‏”‏یہ وہی آدمی ہے نا جو زمین کو ہلا رہا تھا،‏

جس نے بادشاہتوں کو لرزا دیا تھا،‏

17 جس نے دُنیا کو ویرانہ بنا دیا تھا

اور اُس کے شہروں کو تہس‌نہس کر دیا تھا

اور جس نے قیدیوں کو گھر نہیں جانے دیا تھا؟“‏

18 قوموں کے باقی سب بادشاہ،‏

ہاں، وہ سب کے سب شان کے ساتھ

اپنے اپنے مقبرے*‏ میں لیٹ جاتے ہیں۔‏

19 مگر تجھے قبر میں دفنانے کی بجائے

ایک ایسی کونپل*‏ کی طرح پھینک دیا گیا ہے جس سے گِھن آتی ہو؛‏

تُو اُن لوگوں کی لاشوں سے ڈھکا ہوا ہے جنہیں تلوار سے چھیدا گیا تھا

اور جو پتھروں والے گڑھے میں اُتر گئے ہیں؛‏

تُو اُس لاش کی طرح ہو گیا ہے جسے پیروں تلے کچلا گیا ہو۔‏

20 تجھے اُن کے ساتھ قبر میں نہیں دفنایا جائے گا

کیونکہ تُو نے اپنے ہی ملک کو تباہ کِیا؛‏

تُو نے اپنے ہی لوگوں کو مار ڈالا۔‏

بُرے لوگوں کی نسل کا پھر کبھی نام نہیں لیا جائے گا۔‏

21 اُس کے بیٹوں کے لیے

اُن کے باپ‌دادا کے گُناہ کی وجہ سے ایک ذبح‌خانہ تیار کرو

تاکہ وہ اُٹھ کر زمین پر قبضہ نہ کر لیں

اور اِسے اپنے شہروں سے نہ بھر دیں۔“‏

22 فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اُن کے خلاف اُٹھوں گا۔“‏

یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں بابل سے نام، لوگوں کا بچا ہوا حصہ، اولاد اور آنے والی نسلیں مٹا دوں گا۔“‏

23 فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اُسے خارپُشتوں*‏ کی ملکیت اور دَلدلی علاقہ بنا دوں گا اور تباہی کے جھاڑو سے اُس کا صفایا کر دوں گا۔“‏

24 فوجوں کے خدا یہوواہ نے یہ قسم کھائی ہے:‏

‏”‏مَیں نے جو طے کِیا ہے، وہ ہو کر رہے گا

اور مَیں نے جو فیصلہ کِیا ہے، وہ پورا ہوگا۔‏

25 مَیں اسور*‏ کو اپنے ملک میں کچل دوں گا

اور اُسے اپنے پہاڑوں پر روند دوں گا۔‏

اُس کا جُوا میرے بندوں سے ہٹا دیا جائے گا

اور اُس کا بوجھ اُن کے کندھوں سے اُتار دیا جائے گا۔“‏

26 یہ وہ فیصلہ ہے جو ساری زمین کے خلاف کِیا گیا ہے

اور یہ وہ ہاتھ ہے جو ساری قوموں کے خلاف بڑھا ہوا ہے۔‏*‏

27 یہ فیصلہ فوجوں کے خدا یہوواہ نے کِیا ہے۔‏

کون اِسے پورا ہونے سے روک سکتا ہے؟‏

اُس کا ہاتھ بڑھا ہوا ہے۔‏

کون اِسے پیچھے ہٹا سکتا ہے؟‏

28 جس سال میں بادشاہ آخز فوت ہوا، یہ پیغام دیا گیا:‏

29 ‏”‏اَے فِلِستیہ!‏ تجھ میں سے کوئی بھی اِس بات سے خوش نہ ہو

کہ تجھ پر وار کرنے والے کا عصا ٹوٹ گیا ہے

کیونکہ سانپ کی جڑ سے ایک زہریلا سانپ آئے گا

اور اُس کی نسل اُڑنے والا آتشی سانپ*‏ ہوگی۔‏

30 ادنیٰ شخص کا پہلوٹھا جی بھر کر کھائے گا

اور غریب بے‌خوف ہو کر لیٹے گا؛‏

مگر مَیں تیری جڑ کو قحط سے مار ڈالوں گا

اور تیرے بچے ہوئے حصے کو قتل کر دیا جائے گا۔‏

31 اَے دروازے!‏ ماتم کر، اَے شہر!‏ چلّا!‏

اَے فِلِستیہ!‏ تیرے سب لوگ دل چھوڑ دیں گے

کیونکہ شمال سے ایک دُھواں آ رہا ہے

اور اُس کے دستوں میں ایک بھی سپاہی سُست نہیں ہے۔“‏

32 وہ قوم کے قاصدوں کو کیا جواب دیں گے؟‏

یہ کہ یہوواہ نے صِیّون کی بنیاد ڈالی ہے

اور اُس کی قوم کے ادنیٰ لوگ صِیّون میں پناہ لیں گے۔‏

15 موآب کے خلاف ایک پیغام:‏

موآب کو ایک ہی رات میں تباہ کر دیا گیا ہے

اِس لیے موآب کے عار کو خاموش کرا دیا گیا ہے۔‏

موآب کو ایک ہی رات میں تباہ کر دیا گیا ہے

اِس لیے موآب کے قیر کو خاموش کرا دیا گیا ہے۔‏

 2 وہ رونے کے لیے اُوپر مندر،‏*‏ دِیبون اور اُونچی جگہوں پر گیا ہے۔‏

موآب نبو اور میدبا پر ماتم کر رہا ہے۔‏

ہر سر کو گنجا کر دیا گیا ہے اور ہر داڑھی کاٹ دی گئی ہے۔‏

 3 اُس کی گلیوں میں لوگوں نے ٹاٹ پہن لیا ہے۔‏

وہ سب اپنی چھتوں پر اور اپنے چوکوں میں ماتم کر رہے ہیں؛‏

وہ روتے ہوئے نیچے جا رہے ہیں۔‏

 4 حِسبون اور اِلیعالہ چلّا رہے ہیں؛‏

اُن کی آواز دُور یہض تک سنائی دے رہی ہے۔‏

اِس لیے موآب کے ہتھیاروں سے لیس آدمی مسلسل شور مچا رہے ہیں۔‏

وہ*‏ کانپ رہا ہے۔‏

 5 میرا دل موآب کے لیے رو رہا ہے۔‏

اُس کے مفرور دُور ضُغر اور عِجلت‌شلیشیاہ تک بھاگ گئے ہیں۔‏

وہ لُوحیت کی چڑھائی پر روتے ہوئے اُوپر جا رہے ہیں؛‏

وہ حورونایم کے راستے پر تباہی کی وجہ سے رو رہے ہیں

 6 کیونکہ نِمریم کے پانی بالکل خشک ہو گئے ہیں؛‏

ہری گھاس سُوکھ گئی ہے؛‏

گھاس ختم ہو گئی ہے اور کوئی ہریالی نہیں بچی۔‏

 7 اِس لیے وہ اپنے گوداموں اور اپنے مال‌ودولت میں سے بچی‌کھچی چیزیں لے جا رہے ہیں

اور پاپولر کے درختوں کی وادی کو پار کر رہے ہیں۔‏

 8 چلّانے کی آواز پورے موآب میں گُونج رہی ہے۔‏

ماتم اِجلائم تک پہنچ گیا ہے؛‏

ماتم بِیراِیلیم تک پہنچ گیا ہے۔‏

 9 دِیمون کے پانی خون سے بھرے ہوئے ہیں۔‏

مَیں دِیمون پر اَور مصیبت لاؤں گا:‏

مَیں موآب کے بچ کر بھاگنے والے لوگوں

اور ملک میں باقی رہ جانے والے لوگوں کے خلاف ایک شیر بھیجوں گا۔‏

16 ملک کے حاکم کے لیے ایک مینڈھا بھیجو؛‏

اُسے سِلع سے ویرانے کے راستے

صِیّون کی بیٹی کے پہاڑ پر بھیجو۔‏

 2 ارنون کے گھاٹوں پر موآب کی بیٹیاں ایسے ہوں گی

جیسے ایک پرندے کو اُس کے گھونسلے سے بھگا دیا جاتا ہے۔‏

 3 ‏”‏مشورہ دو، فیصلے پر عمل کرو۔‏

بھری دوپہر میں اپنی چھاؤں رات جیسی بناؤ۔‏

بکھرے ہوئے لوگوں کو چھپاؤ اور بھاگنے والوں کو دھوکا نہ دو۔‏

 4 اَے موآب!‏ میرے بکھرے ہوئے لوگ تجھ میں بسیں۔‏

تباہ کرنے والے کی وجہ سے اُن کے لیے چھپنے کی جگہ بن جا۔‏

ظالم ختم ہو جائے گا؛‏

تباہی کا خاتمہ ہو جائے گا

اور دوسروں کو روندنے والے زمین سے مٹ جائیں گے۔‏

 5 پھر اٹوٹ محبت کی بنیاد پر ایک تخت مضبوطی سے قائم کِیا جائے گا۔‏

داؤد کے خیمے میں اُس تخت پر بیٹھنے والا وفادار ہوگا؛‏

وہ اِنصاف سے عدالت کرے گا اور فوراً نیکی کو عمل میں لائے گا۔“‏

 6 ہم نے موآب کے غرور کے بارے میں سنا ہے، وہ بہت مغرور ہے؛‏

ہم نے اُس کے گھمنڈ، اُس کے غرور اور اُس کے قہر کے بارے میں سنا ہے۔‏

لیکن اُس کی کھوکھلی باتیں بے‌فائدہ ثابت ہوں گی۔‏

 7 اِس لیے موآب موآب کے لیے ماتم کرے گا؛‏

وہ سب ماتم کریں گے۔‏

مار کھانے والے لوگ قیرحراست کی کشمش کی ٹکیوں کے لیے آہیں بھریں گے

 8 کیونکہ حِسبون کے باغ سُوکھ گئے ہیں؛‏

سِبماہ کی انگور کی بیل مُرجھا گئی ہے؛‏

قوموں کے حاکموں نے اُس کی لال لال شاخوں*‏ کو روند دیا ہے؛‏

وہ دُور یعزیر تک پہنچ گئی تھیں؛‏

وہ ویرانے تک چلی گئی تھیں؛‏

وہ پھیل گئی تھیں اور دُور سمندر تک پہنچ گئی تھیں۔‏

 9 اِس لیے مَیں سِبماہ کی انگور کی بیل پر ویسے ہی روؤں گا جیسے مَیں یعزیر کے لیے روتا ہوں۔‏

اَے حِسبون اور اِلیعالہ!‏ مَیں تمہیں اپنے آنسوؤں سے بھگو دوں گا

کیونکہ تمہارے گرمیوں کے پھل اور تمہاری فصل کی کٹائی پر ہونے والا شور ختم ہو گیا ہے۔‏*‏

10 باغ سے خوشی اور شادمانی چھین لی گئی ہے؛‏

انگور کے باغوں میں خوشی کے کوئی گیت اور کوئی شور نہیں رہا۔‏

انگور روندنے والے اب حوضوں میں انگور نہیں روندتے

کیونکہ مَیں نے اُن کا شور بند کر دیا ہے۔‏

11 اِس لیے میرے دل میں موآب کے لیے ایسے ہلچل مچی ہوئی ہے

جیسے کسی نے بربط*‏ کے تار چھیڑے ہوں؛‏

مَیں اندر سے قیرحراست کے لیے تڑپ رہا ہوں۔‏

12 چاہے موآب اُونچی جگہ پر جا کر خود کو تھکا لے اور دُعا کرنے کے لیے اپنی مُقدس جگہ پر چلا جائے، اُسے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔‏

13 یہ وہ پیغام ہے جو یہوواہ نے موآب کے حوالے سے پہلے دیا تھا۔ 14 اب یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏تین سال کے اندر اندر جو کہ مزدور کے سالوں کی طرح ہوگا،‏*‏ موآب کی شان ہر طرح کی بدامنی کے ساتھ مٹی میں مل جائے گی اور جو لوگ باقی بچیں گے، وہ بہت کم اور کمزور ہوں گے۔“‏

17 دمشق کے خلاف ایک پیغام:‏

‏”‏دیکھو!‏ دمشق ایک شہر نہیں رہے گا؛‏

وہ کھنڈروں کا شہر بن جائے گا۔‏

 2 عروعیر کے شہر ویران ہو جائیں گے؛‏

وہ گلّوں کے لیٹنے کی جگہ بن جائیں گے

اور کوئی اُنہیں نہیں ڈرائے گا۔‏

 3 اِفرائیم کے قلعہ‌بند شہر مٹ جائیں گے

اور دمشق کی بادشاہت بھی؛‏

سُوریہ کے بچ جانے والے لوگوں کا وہی حال ہوگا

جو بنی‌اِسرائیل کی شان کا ہوا تھا۔“‏ یہ بات فوجوں کے خدا یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

 4 ‏”‏اُس دن یعقوب کی شان گھٹ جائے گی

اور اُس کا صحت‌مند جسم*‏ دُبلا ہو جائے گا۔‏

 5 یہ ایسے ہوگا جیسے کٹائی کرنے والا کھڑی فصل جمع کر رہا ہو

اور اپنے ہاتھ سے اناج کی بالیں کاٹ رہا ہو،‏

ہاں، جیسے کوئی وادیِ‌رِفائیم میں بچی ہوئی بالیں جمع کر رہا ہو۔‏

 6 صرف بچاکھچا حصہ باقی رہے گا

جیسے زیتون کے درخت کو جھاڑنے پر ہوتا ہے:‏

سب سے اُونچی شاخوں پر صرف دو یا تین پکے ہوئے زیتون بچتے ہیں

اور پھل‌دار شاخوں پر صرف چار یا پانچ۔“‏ یہ بات اِسرائیل کے خدا یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

7 اُس دن اِنسان کی نظر اپنے خالق پر لگی ہوگی اور اُس کی نگاہیں اِسرائیل کے پاک خدا پر ٹکی ہوں گی۔ 8 وہ قربان‌گاہوں کو نہیں دیکھے گا جو اُس کے ہاتھوں کا کام ہیں اور اُس کی نگاہیں مُقدس بَلّیوں*‏ یا بخور کی قربان‌گاہوں پر نہیں ٹکی ہوں گی جنہیں اُس نے اپنی اُنگلیوں سے بنایا ہے۔‏

 9 اُس دن اُس کے قلعہ‌بند شہر جنگل میں ویران چھوڑی ہوئی جگہ

اور اُس شاخ کی طرح بن جائیں گے جسے اِسرائیلیوں کے سامنے چھوڑ دیا گیا تھا؛‏

وہاں ویرانی چھا جائے گی

10 کیونکہ تُو اُس خدا کو بھول گیا ہے جو تجھے نجات دِلاتا ہے؛‏

تُو نے اپنے قلعے کی چٹان کو یاد نہیں رکھا۔‏

اِس لیے تُو خوب‌صورت*‏ پودے لگاتا ہے

اور اُن میں اجنبی*‏ کی قلم لگاتا ہے۔‏

11 اُس دن تُو اپنے پودوں کے گِرد بڑی احتیاط سے باڑ لگائے گا؛‏

صبح میں تیرے بیج سے کونپلیں پھوٹیں گی

لیکن بیماری اور ناقابلِ‌علاج درد کے دن تیری فصل مٹ جائے گی۔‏

12 سنو!‏ بہت سی قوموں کا شورشرابہ ہے

جو سمندر کی طرح بپھری ہوئی ہیں!‏

قوموں کی چیخ‌وپکار ہے

جن کی آواز زوردار پانیوں کی دھاڑ جیسی ہے!‏

13 قومیں بہت سے پانیوں کی دھاڑ جیسی آواز نکالیں گی۔‏

خدا اُنہیں ڈانٹے گا اور وہ دُور بھاگ جائیں گی

جیسے پہاڑوں پر موجود بھوسا ہوا سے اُڑ جاتا ہے،‏

جیسے کانٹے‌دار جھاڑی طوفانی ہوا کے آگے یہاں وہاں لُڑھکتی ہے۔‏

14 شام میں وہاں دہشت چھا جاتی ہے۔‏

صبح ہونے سے پہلے وہ مٹ جاتے ہیں۔‏

ہمیں لُوٹنے والوں کے حصے میں یہی آتا ہے

اور ہمارا مال چھیننے والوں کو یہی ملتا ہے۔‏

18 بھنبھناتے کیڑے مکوڑوں کے ملک پر افسوس

جو اِیتھیوپیا کے دریاؤں کی سرزمین میں ہے!‏

 2 وہ سمندر کے راستے آبی نرسل*‏ کی کشتیوں میں

پانیوں کے پار قاصد بھیجتا ہے اور کہتا ہے:‏

‏”‏تیزرفتار قاصدو!‏

ایک لمبی تڑنگی اور نرم‌وملائم جِلد والی قوم کے پاس جاؤ،‏

اُس قوم کے پاس جس کا ڈر ہر جگہ پھیلا ہوا ہے،‏

ہاں، اُس قوم کے پاس جو طاقت‌ور ہے اور فتح پر فتح حاصل کر رہی ہے*‏

اور جس کا ملک دریا بہا لے گئے ہیں۔“‏

 3 ملک کے سب باشندو اور زمین کے رہنے والو!‏

جو تُم دیکھو گے، وہ پہاڑوں پر کھڑے کیے گئے جھنڈے کی طرح ہوگا

اور تُم ایک آواز سنو گے جو نرسنگے*‏ کی آواز کی طرح ہوگی

 4 کیونکہ یہوواہ نے مجھ سے یہ کہا ہے:‏

‏”‏مَیں پُرسکون رہوں گا اور اپنی مستقل جگہ کو*‏ دیکھوں گا

جیسے دھوپ کے ساتھ چِلچِلا‌تی گرمی ہو،‏

جیسے کٹائی کے موسم کی تپش میں اوس کا بادل ہو۔‏

 5 کٹائی سے پہلے جب کلیاں پھوٹ چُکی ہوں گی

اور پھول پکے ہوئے انگور بن رہے ہوں گے

تو شاخوں کو درانتی سے کاٹ دیا جائے گا

اور ڈالیوں کو کاٹ کر پھینک دیا جائے گا۔‏

 6 اُن سب کو پہاڑوں کے شکاری پرندوں

اور زمین کے درندوں کے لیے چھوڑ دیا جائے گا۔‏

گرمی کے موسم میں شکاری پرندے اُنہیں کھائیں گے

اور کٹائی کے موسم میں زمین کے سب درندے۔‏

 7 اُس وقت فوجوں کے خدا یہوواہ کے لیے ایک نذرانہ لایا جائے گا

جو ایک لمبی‌تڑنگی اور نرم‌وملائم جِلد والی قوم کی طرف سے ہوگا،‏

اُس قوم کی طرف سے جس کا ڈر ہر طرف پھیلا ہوا ہے،‏

ہاں، اُس قوم کی طرف سے جو طاقت‌ور ہے اور فتح پر فتح حاصل کر رہی ہے*‏

اور جس کا ملک دریا بہا لے گئے ہیں۔‏

یہ نذرانہ اُس جگہ لایا جائے گا جو فوجوں کے خدا یہوواہ کے نام سے جانی جاتی ہے یعنی کوہِ‌صِیّون پر۔‏

19 مصر کے خلاف ایک پیغام:‏

دیکھو!‏ یہوواہ ایک تیزرفتار بادل پر سوار ہے اور مصر آ رہا ہے۔‏

مصر کے فضول خدا اُس کے حضور تھرتھر کانپیں گے

اور مصر کا دل پگھل جائے گا۔‏

 2 ‏”‏مَیں مصریوں کو مصریوں کے خلاف اُکساؤں گا

اور وہ ایک دوسرے سے لڑیں گے؛‏

ہر کوئی اپنے بھائی اور اپنے پڑوسی سے لڑے گا؛‏

شہر شہر کے خلاف لڑے گا اور بادشاہت بادشاہت کے خلاف۔‏

 3 مصر*‏ بوکھلا جائے گا

اور مَیں اُس کے منصوبے ناکام کر دوں گا۔‏

وہ فضول خداؤں، منتر پڑھنے والوں، مُردوں سے رابطہ کرنے کا دعویٰ کرنے والوں

اور مستقبل کا حال بتانے والوں سے رُجوع کریں گے۔‏

 4 مَیں مصر کو ایک سخت مالک کے حوالے کر دوں گا

اور ایک ظالم بادشاہ اُس پر حکمرانی کرے گا۔“‏ یہ بات سچے مالک یعنی فوجوں کے خدا یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

 5 سمندر کا پانی سُوکھ جائے گا

اور دریا خشک ہو کر خالی ہو جائے گا۔‏

 6 دریاؤں سے بدبو آئے گی؛‏

مصر کے دریائے‌نیل کی نہروں کا پانی کم ہو جائے گا اور وہ سُوکھ جائیں گی۔‏

سرکنڈے اور نرسل*‏ مُرجھا جائیں گے۔‏

 7 دریائے‌نیل کے کنارے، ہاں، اُس کے دہانے پر موجود ہریالی

اور اُس کے آس‌پاس کی وہ ساری زمین سُوکھ جائے گی جس میں بیج بوئے گئے ہیں۔‏

وہ ختم ہو جائے گی اور باقی نہیں رہے گی۔‏

 8 مچھیرے ماتم کریں گے؛‏

دریائے‌نیل میں مچھلی پکڑنے کے کانٹے لگانے والے سوگ منائیں گے

اور پانی پر جال پھیلانے والوں کی تعداد کم ہو جائے گی۔‏

 9 سَن کے ریشوں سے کام کرنے والوں

اور کھڈی سے سفید کپڑا بنانے والوں کو شرمندہ کِیا جائے گا۔‏

10 اُس کے جُلا‌ہے بالکل ٹوٹ جائیں گے؛‏

سب مزدور غم کریں گے۔‏

11 ضُعن کے حاکم بے‌وقوف ہیں۔‏

فِرعون کے سب سے دانش‌مند مُشیر بے‌وقوفی سے بھرے مشورے دیتے ہیں۔‏

تو پھر تُم فِرعون سے کیسے کہہ سکتے ہو:‏

‏”‏مَیں دانش‌مندوں کی اولاد ہوں؛‏

مَیں قدیم بادشاہوں کی نسل سے ہوں“‏؟‏

12 اب تیرے دانش‌مند آدمی کہاں ہیں؟‏

اگر وہ جانتے ہیں کہ فوجوں کے خدا یہوواہ نے مصر کے بارے میں کیا فیصلہ کِیا ہے تو وہ تجھے بتائیں۔‏

13 ضُعن کے حاکموں نے بے‌وقوفی سے کام لیا ہے؛‏

نوف*‏ کے حاکموں کو دھوکا دیا گیا ہے؛‏

مصر کو اُس کے قبیلوں کے سرداروں نے گمراہ کر دیا ہے۔‏

14 یہوواہ نے اُس پر بوکھلاہٹ کی روح اُنڈیلی ہے؛‏

اُنہوں نے اُسے ہر کام میں ایسے گمراہ کر دیا ہے

جیسے ایک شرابی اپنی ہی اُلٹی میں لڑکھڑا رہا ہو۔‏

15 مصر کے پاس کوئی کام نہیں ہوگا،‏

نہ تو اُس کے سر اور دم کے پاس اور نہ ہی اُس کی شاخ اور لمبی گھاس*‏ کے پاس۔‏

16 اُس دن مصر عورتوں کی طرح بن جائے گا۔ وہ تھرتھر کانپے گا اور خوف‌زدہ ہو جائے گا کیونکہ فوجوں کا خدا یہوواہ اُس کے خلاف اپنا ہاتھ چلائے گا۔ 17 یہوداہ کا ملک مصر کے لیے دہشت کی علامت بن جائے گا۔ وہ اُس فیصلے کی وجہ سے اُس کا نام سنتے ہی خوف‌زدہ ہو جائیں گے جو فوجوں کے خدا یہوواہ نے اُن کے خلاف کِیا ہے۔‏

18 اُس دن مصر کے پانچ شہر کنعان کی زبان بولیں گے اور فوجوں کے خدا یہوواہ سے وفاداری کی قسم کھائیں گے۔ اُن میں سے ایک شہر ڈھا دینے والا شہر کہلائے گا۔‏

19 اُس دن مصر کے بیچ میں یہوواہ کے لیے ایک قربان‌گاہ ہوگی اور اُس کی سرحد پر یہوواہ کے لیے ایک ستون۔ 20 یہ مصر میں فوجوں کے خدا یہوواہ کے بارے میں ایک نشانی اور ایک گواہی ہوگی کیونکہ وہ ظالموں کی وجہ سے یہوواہ کے حضور دُہائی دیں گے اور وہ اُن کے لیے ایک نجات‌دہندہ، ہاں، ایک عظیم ہستی بھیجے گا جو اُنہیں بچائے گی۔ 21 اُس دن یہوواہ مصریوں پر ظاہر کرے گا کہ وہ کیسی ہستی ہے اور مصری یہوواہ کو جان جائیں گے۔ وہ یہوواہ کے حضور قربانیاں اور نذرانے پیش کریں گے اور منت مانیں گے اور اُسے پورا کریں گے۔ 22 یہوواہ مصر کو مارے گا، ہاں، وہ اُسے مارے گا اور شفا دے گا۔ وہ یہوواہ کی طرف لوٹیں گے اور وہ اُن کی اِلتجائیں سنے گا اور اُنہیں شفا دے گا۔‏

23 اُس دن مصر سے اسور تک ایک شاہراہ ہوگی۔ پھر اسور مصر آئے گا اور مصر اسور جائے گا اور مصر اسور کے ساتھ مل کر خدا کی عبادت کرے گا۔ 24 اُس دن اِسرائیل مصر اور اسور کے ساتھ تیسرا فریق ہوگا اور زمین کے لیے ایک برکت ہوگا 25 کیونکہ فوجوں کا خدا یہوواہ یہ کہتے ہوئے اُنہیں برکت دے گا:‏ ”‏میری قوم مصر، میرے ہاتھوں کے کام اسور اور میری وراثت اِسرائیل کو برکت ملے۔“‏

20 جس سال میں اسور کے بادشاہ سرجون نے ترتان*‏ کو اشدود بھیجا، وہ اشدود کے خلاف لڑا اور اُس پر قبضہ کر لیا۔ 2 اُس وقت یہوواہ نے آموص کے بیٹے یسعیاہ کے ذریعے یہ فرمایا:‏ ”‏جاؤ، اپنی کمر سے ٹاٹ اور اپنے پاؤں سے جُوتے اُتارو۔“‏ یسعیاہ نے ایسا ہی کِیا اور ننگے*‏ اور بغیر جُوتوں کے گھومتے رہے۔‏

3 پھر یہوواہ نے کہا:‏ ”‏جیسے میرا بندہ یسعیاہ تین سال تک ننگا اور بغیر جُوتوں کے گھومتا رہا تاکہ مصر اور اِیتھیوپیا کے لیے ایک نشانی اور آگاہی ہو 4 ویسے ہی اسور کا بادشاہ مصر اور اِیتھیوپیا کے لوگوں کو، ہاں، لڑکوں اور بوڑھے آدمیوں کو قیدی بنا کر لے جائے گا۔ وہ ننگے اور بغیر جُوتوں کے ہوں گے اور اُن کے کُولھوں پر کپڑے نہیں ہوں گے، ہاں، مصر کو ننگا*‏ کِیا جائے گا۔ 5 اِیتھیوپیا سے اُمید لگانے والے اور مصر پر فخر کرنے والے*‏ خوف‌زدہ اور شرمندہ ہوں گے۔ 6 اُس دن اِس ساحلی علاقے پر رہنے والے کہیں گے:‏ ”‏دیکھو!‏ ہماری اُمید کے ساتھ کیا ہوا جس کے پاس ہم مدد اور اسور کے بادشاہ سے بچنے کے لیے بھاگتے تھے!‏ اب ہم کیسے بچیں گے؟“‏“‏

21 سمندر کے ویرانے*‏ کے خلاف ایک پیغام:‏

جس طرح جنوب کی طوفانی ہوائیں سب کچھ اُڑا لے جاتی ہیں

اُسی طرح ویرانے سے، ہاں، ایک خوف‌ناک سر زمین سے کچھ آ رہا ہے۔‏

 2 مجھے ایک سنگین رُویا دِکھائی گئی ہے:‏

دھوکے‌باز شخص دھوکے‌بازی کر رہا ہے

اور تباہ کرنے والا شخص تباہی مچا رہا ہے۔‏

اَے عِیلام!‏ آگے بڑھ!‏ اَے مادی!‏ شہر کو گھیر لے!‏

مَیں اُن سب آہوں کو ختم کر دوں گا جو اُس*‏ کی وجہ سے بھری گئی ہیں۔‏

 3 اِس لیے مَیں شدید تکلیف میں ہوں۔‏*‏

مَیں درد سے تڑپ رہا ہوں

جیسے وہ عورت تڑپتی ہے جو بچے کو جنم دے رہی ہوتی ہے۔‏

مَیں اِتنا دُکھی ہوں کہ کچھ سُن نہیں سکتا؛‏

مَیں اِتنا پریشان ہوں کہ کچھ دیکھ نہیں سکتا۔‏

 4 میرا دل زور زور سے دھڑکتا ہے؛ مَیں خوف سے کانپتا ہوں۔‏

مجھے شام ڈھلنے کا اِنتظار رہتا تھا لیکن اب وہ مجھے خوف‌زدہ کر دیتی ہے۔‏

 5 میز سجائیں اور بیٹھنے کا اِنتظام کریں!‏

کھائیں پئیں!‏

حاکمو!‏ اُٹھیں اور ڈھال کو مسح کریں!‏*‏

 6 کیونکہ یہوواہ نے مجھ سے کہا ہے:‏

‏”‏جاؤ، ایک پہرےدار تعینات کرو اور وہ اُس سب کی خبر دے جو وہ دیکھے۔“‏

 7 اُس نے دو گھوڑوں والا ایک جنگی رتھ دیکھا؛‏

گدھوں والا ایک جنگی رتھ دیکھا

اور اُونٹوں والا ایک جنگی رتھ دیکھا۔‏

اُس نے بڑے دھیان سے دیکھا، ہاں، پوری توجہ سے دیکھا۔‏

 8 پھر اُس نے شیر کی طرح اُونچی آواز میں کہا:‏

‏”‏اَے یہوواہ!‏ مَیں دن میں مسلسل پہرےداروں کے بُرج پر کھڑا رہتا ہوں

اور ہر رات اپنی چوکی پر تعینات رہتا ہوں۔‏

 9 دیکھو، وہ آ رہے ہیں:‏

دو گھوڑوں والے جنگی رتھ پر آدمی سوار ہیں!‏“‏

پھر اُس نے کہا:‏

‏”‏وہ گِر پڑا ہے!‏ بابل گِر پڑا ہے!‏

اُس نے اُس کے خداؤں کی سب تراشی ہوئی مورتیں زمین پر چکناچُور کر دی ہیں!‏“‏

10 اَے میری گاہی*‏ ہوئی قوم!‏

میرے کھلیان*‏ کی پیداوار!‏*‏

مَیں نے آپ کو وہ سب بتا دیا ہے جو مَیں نے اِسرائیل کے خدا یعنی فوجوں کے خدا یہوواہ سے سنا ہے۔‏

11 دُومہ*‏ کے خلاف ایک پیغام:‏

کوئی شعیر سے مجھے پکار کر کہہ رہا ہے:‏

‏”‏پہرےدار!‏ رات کتنی باقی ہے؟‏

پہرےدار!‏ رات کتنی باقی ہے؟“‏

12 پہرےدار نے کہا:‏

‏”‏صبح ہونے والی ہے اور رات بھی آنے والی ہے۔‏

اگر آپ کچھ پوچھنا چاہتے ہیں تو پوچھیں۔‏

دوبارہ آئیں!‏“‏

13 بنجر میدان*‏ کے خلاف ایک پیغام:‏

دِدان کے قافلو!‏

تُم بنجر میدان میں جنگل میں رات گزارو گے۔‏

14 تیما کے رہنے والو!‏

پانی لے کر پیاسوں سے ملنے جاؤ

اور بھاگنے والوں کے لیے روٹی لاؤ

15 کیونکہ وہ تلواروں سے، ہاں، ننگی تلوار سے،‏

تنی ہوئی کمان سے اور جنگ کی شدت سے بھاگے ہیں۔‏

16 یہوواہ نے مجھ سے یہ کہا ہے:‏ ”‏ایک سال کے اندر اندر جو کہ مزدور کے سالوں کی طرح ہوگا،‏*‏ قیدار کی ساری شان ختم ہو جائے گی۔ 17 قیدار کے جنگجوؤں کے تھوڑے سے تیرانداز باقی رہیں گے کیونکہ اِسرائیل کے خدا یہوواہ نے یہ فرمایا ہے۔“‏

22 رُویا کی وادی*‏ کے بارے میں ایک پیغام:‏

تجھے کیا ہوا ہے کہ تیرے سب لوگ چھتوں پر چڑھ گئے ہیں؟‏

 2 تجھ میں افراتفری مچی ہوئی تھی؛‏

تُو ایک شورشرابے والا شہر اور خوشیاں منانے والا قصبہ تھی۔‏

تیرے جو لوگ مارے گئے، وہ تلوار سے نہیں مارے گئے

اور نہ وہ جنگ میں مرے۔‏

 3 تیرے سب آمر اِکٹھے بھاگ گئے۔‏

اُنہیں بغیر کمان کے قیدی بنا لیا گیا۔‏

جو بھی لوگ ملے، اُنہیں قیدی بنا لیا گیا

حالانکہ وہ دُور بھاگ گئے تھے۔‏

 4 اِس لیے مَیں نے کہا:‏ ”‏اپنی نظریں مجھ سے ہٹا لو

اور مَیں پھوٹ پھوٹ کر روؤں گا۔‏

میری قوم کی بیٹی*‏ کی تباہی پر مجھے تسلی دینے کی کوشش نہ کرو

 5 کیونکہ رُویا کی وادی میں

حاکمِ‌اعلیٰ یعنی فوجوں کے خدا یہوواہ کی طرف سے

یہ اُلجھن، شکست اور گھبراہٹ کا دن ہے۔‏

دیوار گِرائی جا رہی ہے

اور پکار پہاڑ تک سنائی دے رہی ہے۔‏

 6 عِیلام نے ترکش*‏ اُٹھا لیا ہے؛‏

اُس کے ساتھ رتھوں پر سوار آدمی اور گھوڑے*‏ ہیں

اور قیر نے ڈھال تیار*‏ کر لی ہے۔‏

 7 تیری بہترین وادیاں جنگی رتھوں سے بھر جائیں گی

اور گھوڑے*‏ دروازے پر اپنی اپنی جگہ سنبھال لیں گے

 8 اور یہوداہ کا حفاظتی پردہ ہٹا دیا جائے گا۔‏

‏”‏‏”‏اُس دن تُم جنگل کے گھر کے اسلحہ‌خانے کی طرف دیکھو گے 9 اور تمہیں داؤد کے شہر میں بہت سے شگاف دِکھائی دیں گے اور تُم نیچے والے تالاب کا پانی جمع کرو گے۔ 10 تُم یروشلم کے گھروں کی گنتی کرو گے اور دیوار کو مضبوط کرنے کے لیے گھروں کو گِرا دو گے۔ 11 تُم پُرانے تالاب کے پانی کے لیے دو دیواروں کے بیچ ایک حوض بناؤ گے۔ لیکن تُم اُس عظیم خدا پر توجہ نہیں کرو گے جس نے اُسے بنایا اور نہ اُس ہستی کو دیکھو گے جس نے بہت پہلے اُس کا منصوبہ بنایا۔‏

12 اُس دن حاکمِ‌اعلیٰ یعنی فوجوں کا خدا یہوواہ

رونے دھونے، ماتم کرنے،‏

سر کے بال اُتارنے اور ٹاٹ پہننے کو کہے گا۔‏

13 لیکن جشن اور خوشی منائی جا رہی ہے؛‏

گائے بیل اور بھیڑیں ذبح کی جا رہی ہیں؛‏

گوشت کھایا جا رہا ہے اور مے پی جا رہی ہے۔‏

تُم کہہ رہے ہو:‏ ”‏آؤ کھائیں پئیں کیونکہ کل تو ہم مر ہی جائیں گے۔“‏“‏

14 پھر فوجوں کے خدا یہوواہ نے میرے کان میں کہا:‏ ”‏”‏جب تک تُم لوگ مر نہیں جاتے، تمہارے اِس گُناہ کا کفارہ نہیں ہوگا۔“‏ یہ بات حاکمِ‌اعلیٰ یعنی فوجوں کے خدا یہوواہ نے فرمائی ہے۔“‏

15 حاکمِ‌اعلیٰ یعنی فوجوں کے خدا یہوواہ نے یہ کہا ہے:‏ ”‏اُس مختار یعنی شِبناہ کے پاس جاؤ جو محل کا نگران ہے اور کہو:‏ 16 ‏”‏تمہارا یہاں کیا کام ہے؟ تمہارا یہاں کون ہے جو تُم نے اپنے لیے یہاں ایک قبر تراشی ہے؟“‏ وہ اپنے لیے ایک اُونچی جگہ پر قبر تراش رہا ہے۔ وہ ایک چٹان میں اپنے لیے آرام‌گاہ*‏ کھدوا رہا ہے۔ 17 ‏”‏دیکھو، اَے آدمی!‏ یہوواہ تمہیں زور سے پٹخ دے گا اور مضبوطی سے پکڑ لے گا۔ 18 وہ تمہیں کَس کر لپیٹے گا اور ایک کُھلے میدان میں گیند کی طرح پھینک دے گا۔ وہاں تُم مر جاؤ گے اور وہاں تمہارے عالی‌شان رتھ بھی ہوں گے جس سے تمہارے مالک کے گھر کی رُسوائی ہوگی۔ 19 مَیں تمہیں تمہارے عہدے سے ہٹا دوں گا اور تمہارے مقام سے گِرا دوں گا۔‏

20 اُس دن مَیں اپنے بندے اِلیاقیم کو بُلاؤں گا جو خِلقیاہ کا بیٹا ہے۔ 21 مَیں تمہارا چوغہ اُسے پہناؤں گا اور تمہارا کمربند مضبوطی سے اُس کی کمر پر باندھوں گا اور تمہارا اِختیار اُس کے ہاتھ میں سونپ دوں گا۔ وہ یروشلم میں رہنے والوں اور یہوداہ کے گھرانے کا باپ بنے گا۔ 22 مَیں داؤد کے گھرانے کی چابی اُس کے کندھے پر رکھوں گا۔ جو وہ کھولے گا، اُسے کوئی بند نہیں کرے گا اور جو وہ بند کرے گا، اُسے کوئی نہیں کھولے گا۔ 23 مَیں اُسے کیل کی طرح ایک پائیدار جگہ میں ٹھونکوں گا اور وہ اپنے باپ کے گھرانے کے لیے شان کا تخت بنے گا۔ 24 وہ اُس کے باپ کے گھرانے کی ساری شان*‏ کو اُس پر لٹکا دیں گے یعنی اولاد، نسل،‏*‏ سارے چھوٹے برتنوں، کٹورانما برتنوں اور سارے بڑے مٹکوں کو۔‏

25 فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اُس دن وہ کیل نکال دی جائے گی جسے پائیدار جگہ میں ٹھونکا گیا تھا۔ اُسے توڑ کر گِرا دیا جائے گا اور اُس پر لٹکی سب چیزیں گِر کر تباہ ہو جائیں گی کیونکہ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔“‏“‏“‏

23 صُور کے بارے میں ایک پیغام:‏

ترسیس کے جہازو!‏ ماتم کرو

کیونکہ بندرگاہ تباہ ہو گئی ہے؛ اِس میں داخل نہیں ہوا جا سکتا۔‏

اُنہیں یہ خبر کِتّیم کی سرزمین سے ملی ہے۔‏

 2 ساحلی علاقے کے رہنے والو!‏ خاموش ہو جاؤ۔‏

سمندر پار کرنے والے صیدانی تاجروں نے تمہیں مالامال کر دیا ہے۔‏

 3 سِیحور*‏ کا اناج*‏ اور دریائے‌نیل کی پیداوار

بہت سے پانیوں کے اُوپر سے ہو کر جاتی تھی

جس سے صُور کو آمدنی ملتی تھی اور قوموں کو منافع ملتا تھا۔‏

 4 اَے صیدا!‏ سمندر کے قلعے!‏ شرمندہ ہو

کیونکہ سمندر نے کہا ہے:‏

‏”‏مجھے بچے کی پیدائش کی دردیں نہیں لگی ہیں اور مَیں نے کسی کو جنم نہیں دیا ہے

اور نہ ہی مَیں نے کسی لڑکے یا لڑکی*‏ کو پال پوس کر بڑا کِیا ہے۔“‏

 5 جیسے مصر کے بارے میں خبر سُن کر لوگ بہت پریشان ہوئے تھے

ویسے ہی صُور کے بارے میں سُن کر بہت پریشان ہو جائیں گے۔‏

 6 اُس پار ترسیس جاؤ!‏

ساحلی علاقے کے رہنے والو!‏ ماتم کرو!‏

 7 یہ تمہارا وہی شہر ہے نا جو مُدتوں سے، ہاں، اپنی شروعات سے خوشیاں مناتا آیا ہے؟‏

اُس کے باشندے دُوردراز علاقوں میں بسنے کے لیے جایا کرتے تھے۔‏

 8 صُور کے خلاف یہ فیصلہ کس نے کِیا

جو دوسروں کو تاج پہنایا کرتا تھا،‏

جس کے تاجر حاکم تھے

اور جس کے تاجروں کی پوری زمین پر عزت کی جاتی تھی؟‏

 9 یہ فیصلہ خود فوجوں کے خدا یہوواہ نے کِیا ہے

تاکہ اُس کا وہ غرور توڑے جو اُسے اپنی ساری خوب‌صورتی پر ہے

اور اُن سب کو بے‌عزت کرے جن کی پوری زمین پر عزت کی جاتی تھی۔‏

10 اَے ترسیس کی بیٹی!‏ دریائے‌نیل کی طرح اپنے علاقے میں پھیل جا

کیونکہ اب جہازوں کے لیے کوئی جگہ*‏ باقی نہیں رہی۔‏

11 اُس نے سمندر پر اپنا ہاتھ بڑھایا ہے؛‏

اُس نے بادشاہتوں کو ہلا دیا ہے۔‏

یہوواہ نے فینیکے کے قلعوں کو تباہ کرنے کا حکم دیا ہے۔‏

12 وہ کہتا ہے:‏ ”‏اَے صیدا کی مظلوم کنواری بیٹی!‏ تُو اَور خوشیاں نہیں منائے گی۔‏

اُٹھ، اُس پار کِتّیم جا۔‏

لیکن تجھے وہاں بھی آرام نہیں ملے گا۔“‏

13 کسدیوں کے ملک کو دیکھ!‏

اسوریوں نے نہیں بلکہ اِس قوم نے خود

اُسے ریگستان میں رہنے والے جانوروں کا ٹھکانا بنا دیا ہے۔‏

کسدیوں نے حملہ کرنے کے لیے اپنے بُرج کھڑے کیے ہیں؛‏

اُنہوں نے اُس کے مضبوط بُرج ڈھا دیے ہیں

اور اُسے ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے۔‏

14 ترسیس کے جہازو!‏ ماتم کرو

کیونکہ تمہارا قلعہ تباہ کر دیا گیا ہے۔‏

15 اُس دن صُور کو 70 سال کے لیے بُھلا دیا جائے گا، ہاں، اُتنے سال کے لیے جتنی ایک بادشاہ کی عمر*‏ ہوتی ہے۔ 70 سال کے اِختتام پر صُور کی حالت اُس فاحشہ جیسی ہوگی جس کا اِس گیت میں ذکر ہے:‏

16 ‏”‏اَے بُھلائی گئی فاحشہ!‏ بربط*‏ لے اور شہر میں گھوم۔‏

مہارت سے اپنا بربط بجا۔‏

بہت سے گانے گا تاکہ وہ تجھے یاد کریں۔“‏

17 70 سال کے اِختتام پر یہوواہ صُور پر توجہ کرے گا۔ صُور ایک فاحشہ کی طرح پھر سے کمانے لگے گا اور زمین پر موجود ساری بادشاہتوں سے حرام‌کاری کرے گا۔ 18 لیکن اُس کا منافع اور اُس کی کمائی یہوواہ کے لیے پاک بن جائے گی۔ اُسے نہ جمع کِیا جائے گا اور نہ بچا کر رکھا جائے گا کیونکہ اُس کی کمائی یہوواہ کے حضور رہنے والوں کے لیے ہوگی تاکہ وہ جی بھر کر کھائیں اور شان‌دار لباس پہنیں۔‏

24 دیکھو!‏ یہوواہ ملک*‏ کو خالی کر رہا ہے اور اُسے ویران بنا رہا ہے۔‏

وہ اُسے اُلٹ رہا ہے*‏ اور اُس کے لوگوں کو تتربتر کر رہا ہے۔‏

 2 سب کا ایک جیسا حال ہوگا:‏

جیسا لوگوں کا ویسا کاہن کا؛‏

جیسا خادم کا ویسا مالک کا؛‏

جیسا خادمہ کا ویسا مالکن کا؛‏

جیسا خریدنے والے کا ویسا بیچنے والے کا؛‏

جیسا قرض دینے والا کا ویسا قرض لینے والے کا

اور جیسا اُدھار دینے والے کا ویسا اُدھار لینے والے کا۔‏

 3 ملک بالکل خالی ہو جائے گا؛‏

اُسے پوری طرح لُوٹ لیا جائے گا

کیونکہ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

 4 ملک ماتم کر رہا*‏ ہے؛ یہ ختم ہو رہا ہے۔‏

زرخیز زمین سُوکھ رہی ہے؛ یہ مٹ رہی ہے۔‏

ملک کے بااثر لوگ مُرجھا رہے ہیں۔‏

 5 ملک کے لوگوں نے اُسے آلودہ کر دیا ہے

کیونکہ اُنہوں نے قوانین کو نظرانداز کر دیا ہے؛‏

معیاروں کو بدل دیا ہے

اور ابدی*‏ عہد کو توڑ دیا ہے۔‏

 6 اِس وجہ سے لعنت ملک کو کھا رہی ہے

اور اُس کے باشندے قصوروار ٹھہرے ہیں۔‏

اِس لیے ملک کے باشندوں کی تعداد کم ہو گئی ہے

اور بہت تھوڑے آدمی بچے ہیں۔‏

 7 نئی مے ماتم کر رہی*‏ ہے؛ انگور کی بیل مُرجھا رہی ہے

اور وہ سب آہیں بھر رہے ہیں جن کے دل خوش ہیں۔‏

 8 دف کی خوش‌گوار دُھنیں بند ہو گئی ہیں؛‏

موج مستی کرنے والوں کا شور ختم ہو گیا ہے؛‏

بربط*‏ کی خوش‌کُن آواز بند ہو گئی ہے۔‏

 9 وہ گیتوں کے بغیر مے پیتے ہیں

اور شراب پینے والوں کو شراب کڑوی لگتی ہے۔‏

10 ویران قصبے کو ڈھا دیا گیا ہے؛‏

ہر گھر بند ہے تاکہ کوئی اُس میں داخل نہ ہو سکے۔‏

11 وہ گلیوں میں مے کے لیے دُہائی دے رہے ہیں؛‏

سارا جشن ختم ہو گیا ہے؛‏

ملک کی خوشی چلی گئی ہے۔‏

12 شہر کھنڈر بن چُکا ہے؛‏

دروازے کو توڑ کر ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔‏

13 قوموں کے بیچ ملک میں میرے بندوں کا حال ایسا ہوگا

جیسے زیتون کے درخت کو جھاڑنے پر ہوتا ہے؛‏

جیسے انگور کی کٹائی کے بعد جمع کرنے کے لیے بچاکھچا حصہ رہ جاتا ہے۔‏

14 وہ اپنی آواز بلند کریں گے؛‏

وہ خوشی سے للکاریں گے۔‏

وہ سمندر*‏ سے یہوواہ کی عظمت کا اِعلان کریں گے۔‏

15 اِس لیے وہ روشنی کے علاقے میں*‏ یہوواہ کی بڑائی کریں گے؛‏

وہ سمندر کے جزیروں میں اِسرائیل کے خدا یہوواہ کے نام کی بڑائی کریں گے۔‏

16 ہم زمین کے کونے کونے سے یہ گیت سنتے ہیں:‏

‏”‏نیک خدا کی بڑائی ہو!‏“‏

لیکن مَیں کہتا ہوں:‏ ”‏مَیں ختم ہوتا جا رہا ہوں!‏ مَیں ختم ہوتا جا رہا ہوں!‏

مجھ پر افسوس!‏ دھوکے‌بازوں نے دھوکا دیا ہے،‏

ہاں، دھوکے‌بازوں نے دغابازی سے دھوکا دیا ہے۔“‏

17 ملک کے باشندے!‏ دہشت، گڑھے اور پھندے تیرا اِنتظار کر رہے ہیں۔‏

18 جو بھی دہشت کی آواز سے بھاگے گا، وہ گڑھے میں گِر جائے گا

اور جو بھی گڑھے سے نکلے گا، وہ پھندے میں پھنس جائے گا

کیونکہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے

اور زمین کی بنیادیں ہل جائیں گی۔‏

19 زمین پھٹ گئی ہے؛‏

زمین کو ہلایا گیا ہے؛‏

زمین بُری طرح کانپ رہی ہے۔‏

20 زمین ایک شرابی آدمی کی طرح ڈگمگا رہی ہے؛‏

یہ آگے پیچھے جُھول رہی ہے جیسے ایک جھونپڑی ہوا میں جُھولتی ہے۔‏

یہ اپنے گُناہوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے؛‏

یہ گِر جائے گی اور دوبارہ نہیں اُٹھے گی۔‏

21 اُس دن یہوواہ اُوپر اُونچائیوں کی فوج

اور زمین پر زمین کے بادشاہوں کی طرف توجہ کرے گا۔‏

22 اُنہیں ایسے اِکٹھا کِیا جائے گا

جیسے قیدیوں کو گڑھے میں اِکٹھا کِیا جاتا ہے۔‏

اُنہیں کال کوٹھڑی میں بند کر دیا جائے گا

اور بہت دن بعد اُن پر توجہ کی جائے گی۔‏

23 پورا چاند شرم‌سار ہوگا

اور چمکتا سورج شرمندہ ہوگا

کیونکہ فوجوں کا خدا یہوواہ کوہِ‌صِیّون پر اور یروشلم میں بادشاہ بن گیا ہے؛‏

وہ اپنی قوم کے بزرگوں*‏ کے سامنے شان سے حکمرانی کرتا ہے۔‏

25 اَے یہوواہ!‏ تُو میرا خدا ہے۔‏

مَیں تیری تعظیم کرتا ہوں، مَیں تیرے نام کی تعریف کرتا ہوں

کیونکہ تُو نے حیرت‌انگیز کام کیے ہیں،‏

ہاں، تُو نے ایسے کام کیے ہیں جن کا تُو نے قدیم زمانے سے اِرادہ کِیا تھا*‏

اور ظاہر کِیا ہے کہ تُو وفادار اور قابلِ‌بھروسا ہے۔‏

 2 تُو نے ایک شہر کو پتھروں کے ڈھیر میں بدل دیا ہے،‏

ہاں، ایک مضبوط قصبے کو ملبے کے ڈھیر میں۔‏

پردیسیوں کا قلعہ اب ایک شہر نہیں رہا؛‏

اِسے پھر کبھی نہیں بنایا جائے گا۔‏

 3 اِس لیے ایک طاقت‌ور قوم تیری بڑائی کرے گی؛‏

بے‌رحم قوموں کا شہر تیرا خوف رکھے گا

 4 کیونکہ تُو ادنیٰ شخص کے لیے ایک قلعہ بن گیا ہے،‏

ہاں، غریب کے لیے مصیبت کی گھڑی میں ایک قلعہ،‏

طوفانی بارش میں پناہ‌گاہ

اور گرمی میں چھاؤں۔‏

جب بے‌رحم لوگوں کا قہر ایسے ٹوٹتا ہے جیسے ایک دیوار پر بارش کی بوچھاڑ ہوتی ہے

 5 تو تُو اجنبیوں کے شور کو ایسے دُور کر دیتا ہے

جیسے سُوکھی زمین سے گرمی کو۔‏

تُو بے‌رحم لوگوں کے گیت کو ایسے روک دیتا ہے

جیسے بادل کا سایہ گرمی کو۔‏

 6 فوجوں کا خدا یہوواہ اِس پہاڑ پر سب قوموں کے لیے

ایک ضیافت تیار کرے گا،‏

ہاں، بہترین کھانوں اور عمدہ مے کی ضیافت،‏*‏

ایسے بہترین کھانوں کی جن میں گودا بھرا ہو

اور ایسی عمدہ مے کی جسے چھانا گیا ہو۔‏

 7 وہ اِس پہاڑ سے اُس چادر کو ہٹا دے گا*‏ جس نے سب لوگوں کو ڈھکا ہوا ہے

اور اُس نقاب کو بھی جس نے سب قوموں کو لپیٹا ہوا ہے۔‏

 8 وہ موت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گا؛‏*‏

حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ سب کے چہروں سے آنسو پونچھ دے گا۔‏

وہ ساری زمین سے اپنے بندوں کی رُسوائی دُور کر دے گا

کیونکہ یہوواہ نے خود یہ فرمایا ہے۔‏

 9 اُس دن وہ کہیں گے:‏

‏”‏دیکھو!‏ یہ ہمارا خدا ہے!‏

ہم نے اُس سے اُمید لگائی ہے

اور وہ ہمیں بچائے گا۔‏

یہ یہوواہ ہے!‏

ہم نے اُس سے اُمید لگائی ہے۔‏

آؤ اُس کی طرف سے ملنے والی نجات کی وجہ سے خوش ہوں اور جشن منائیں۔“‏

10 یہوواہ کا ہاتھ اِس پہاڑ پر رہے گا

اور موآب کو اُس کی جگہ پر ایسے روندا جائے گا

جیسے بھوسے کو گوبر کے ڈھیر میں۔‏

11 وہ اپنے ہاتھ سے موآب کو ایسے مارے گا

جیسے ایک تیراک تیراکی کرتے ہوئے اپنے ہاتھ مارتا ہے۔‏

وہ مہارت سے اپنے ہاتھ چلا کر اُس کا گھمنڈ توڑ دے گا۔‏

12 وہ تیرے مضبوط شہر کو اُس کی اُونچی اُونچی حفاظتی دیواروں کے ساتھ ڈھا دے گا؛‏

وہ اُسے زمین پر گِرا دے گا اور مٹی میں ملا دے گا۔‏

26 اُس دن ملک یہوداہ میں یہ گیت گایا جائے گا:‏

‏”‏ہمارا شہر بہت مضبوط ہے۔‏

خدا نجات کو اِس کی دیواریں اور پُشتے*‏ بناتا ہے۔‏

 2 دروازے کھولو تاکہ نیک قوم داخل ہو سکے،‏

وہ قوم جو وفاداری کی راہ پر چل رہی ہے۔‏

 3 تُو اُن کی حفاظت کرے گا جن کا مکمل اِعتماد تجھ پر ہے؛‏*‏

تُو اُنہیں ہمیشہ سکون دے گا

کیونکہ وہ تجھ پر بھروسا رکھتے ہیں۔‏

 4 ہمیشہ یہوواہ پر بھروسا رکھو

کیونکہ یاہ*‏ یہوواہ ابدی چٹان ہے۔‏

 5 اُس نے بلندیوں پر رہنے والوں، ہاں، اُونچے شہر کو گِرا دیا ہے۔‏

اُس نے اُسے گِرا دیا ہے؛‏

اُس نے اُسے زمین پر گِرا دیا ہے؛‏

اُس نے اُسے خاک میں ملا دیا ہے۔‏

 6 وہ پیروں تلے روندا جائے گا،‏

ہاں، مصیبت‌زدہ اور ادنیٰ لوگوں کے پیروں تلے۔“‏

 7 نیک شخص کی راہ راست*‏ ہے

کیونکہ تُو راست ہے۔‏

تُو نیک شخص کا راستہ ہموار کرے گا۔‏

 8 اَے یہوواہ!‏ ہم تیرے اِنصاف کی راہ پر چلتے ہوئے

تجھ سے اُمید لگاتے ہیں۔‏

ہم*‏ تیرے نام اور تیری یادگار کے لیے*‏ ترستے ہیں۔‏

 9 رات کو میرا روم روم*‏ تیرے لیے ترستا ہے،‏

ہاں، میری روح تجھے ڈھونڈتی رہتی ہے؛‏

جب تُو زمین کے لیے فیصلے کرتا ہے

تو زمین کے رہنے والے نیکی کا درس پاتے ہیں۔‏

10 اگر بُرے شخص پر مہربانی بھی کی جائے

تو بھی وہ نیکی کا درس حاصل نہیں کرے گا۔‏

وہ راستی کے ملک میں بھی بُرے کام کرے گا

اور یہوواہ کی عظمت نہیں دیکھے گا۔‏

11 اَے یہوواہ!‏ تیرا ہاتھ اُٹھا ہے لیکن وہ اِسے نہیں دیکھتے۔‏

وہ تیرے بندوں کے لیے تیری غیرت دیکھیں گے اور اُنہیں شرمندہ کِیا جائے گا،‏

ہاں، تیری آگ تیرے مخالفوں کو بھسم کر دے گی۔‏

12 اَے یہوواہ!‏ تُو ہمیں امن‌وسکون بخشے گا

کیونکہ ہم جو کچھ کر پائے ہیں،‏

تیری وجہ سے کر پائے ہیں۔‏

13 اَے ہمارے خدا یہوواہ!‏ تیرے علاوہ دوسرے مالکوں نے بھی ہم پر حکمرانی کی ہے

لیکن ہم صرف تیرے نام کا ذکر کرتے ہیں۔‏

14 وہ مر چُکے ہیں؛ وہ زندہ نہیں ہوں گے۔‏

وہ موت کی وجہ سے بے‌بس ہیں؛ وہ نہیں اُٹھیں گے

کیونکہ تُو نے اُن کی طرف توجہ کی ہے کہ اُنہیں تباہ کر دے

اور اُن کا نام‌ونشان مٹا دے۔‏

15 اَے یہوواہ!‏ تُو نے قوم کو بڑھایا ہے،‏

ہاں، تُو نے قوم کو بڑھایا ہے؛‏

تُو نے اپنی شان ظاہر کی ہے؛‏

تُو نے ملک کی ساری سرحدیں دُور دُور تک بڑھائی ہیں۔‏

16 اَے یہوواہ!‏ اُنہوں نے مصیبت میں تجھ سے رُجوع کِیا؛‏

جب تُو نے اُنہیں سزا دی تو اُنہوں نے دل کھول*‏ کر دھیمی آواز میں دُعا کی۔‏

17 اَے یہوواہ!‏ تیری وجہ سے ہماری حالت اُس حاملہ عورت جیسی ہے

جو بچے کو جنم دینے والی ہو؛‏

جسے دردیں لگی ہوں اور جو درد سے چلّا رہی ہو۔‏

18 ہم حاملہ ہوئے، ہمیں دردیں لگیں

لیکن ہم نے صرف ہوا کو جنم دیا۔‏

ہم ملک کو نجات نہیں دِلا پائے

اور ملک کو آباد کرنے کے لیے کوئی پیدا نہیں ہوا۔‏

19 ‏”‏تمہارے جو لوگ مر چُکے ہیں، وہ زندہ ہو جائیں گے۔‏

میرے بندوں کی لاشیں اُٹھ کھڑی ہوں گی۔‏

مٹی میں بسنے والو!‏

جاگو اور خوشی سے للکارو

کیونکہ تمہاری اوس صبح کی اوس*‏ کی طرح ہے؛‏

زمین موت کی وجہ سے بے‌بس پڑے لوگوں کو زندہ ہونے دے گی۔‏*‏

20 میرے بندو!‏ جاؤ، اپنے اندر والے کمروں میں داخل ہو

اور اپنے پیچھے دروازے بند کر لو۔‏

تھوڑی دیر کے لیے چھپ جاؤ

جب تک کہ قہر*‏ ختم نہیں ہو جاتا

21 کیونکہ دیکھو!‏ یہوواہ اپنی جگہ سے آ رہا ہے

تاکہ ملک کے لوگوں سے اُن کے گُناہوں کا حساب لے؛‏

ملک وہ خون سامنے لائے گا جو اِس میں بہایا گیا ہے

اور اُن لوگوں کو اَور نہیں چھپائے گا جنہیں اِس میں قتل کِیا گیا ہے۔“‏

27 اُس دن یہوواہ اپنی خطرناک، بڑی اور مضبوط تلوار سے

تیزی سے کھسکتے سانپ یعنی لِویاتان،‏*‏

ہاں، بل کھاتے سانپ لِویاتان پر وار کرے گا۔‏

وہ بڑے سمندری جان‌دار کو مار ڈالے گا۔‏

 2 اُس دن تُم اُس عورت*‏ کے لیے یہ گیت گانا:‏

‏”‏تُم انگور کا ایک باغ ہو جس میں جھاگ والی مے بن رہی ہے!‏

 3 مَیں یہوواہ اُس کی حفاظت کر رہا ہوں۔‏

مَیں ہر لمحہ اُسے پانی دیتا ہوں۔‏

مَیں دن رات اُس کی حفاظت کرتا ہوں

تاکہ کوئی اُسے نقصان نہ پہنچا سکے۔‏

 4 اب مَیں غصے میں نہیں ہوں۔‏

کون جنگ میں کانٹے‌دار جھاڑیوں اور جنگلی پودوں سے میرا مقابلہ کرے گا؟‏

مَیں اُنہیں روند دوں گا اور اُنہیں ایک ساتھ آگ لگا دوں گا۔‏

 5 اِس لیے وہ میرے قلعے میں پناہ لے

اور میرے ساتھ صلح کرے،‏

ہاں، میرے ساتھ صلح کرے۔“‏

 6 آنے والے دنوں میں یعقوب جڑ پکڑے گا؛‏

اِسرائیل کِھلے گا اور اُس میں کونپلیں نکلیں گی

اور وہ لوگ زمین کو پیداوار سے بھر دیں گے۔‏

 7 کیا اُسے ویسے مارا جانا چاہیے جیسے اُسے مارنے والا اُسے مار رہا ہے؟‏

یا کیا اُسے ویسے قتل کِیا جانا چاہیے جیسے اُس کے لوگوں کو قتل کِیا جا رہا ہے؟‏

 8 اُسے دُور بھیجتے وقت تُو چونکا دینے والی آواز سے چلّا کر اُس کا مقابلہ کرے گا۔‏

مشرقی ہوا کے دن وہ اُسے اپنے تیز جھونکے سے اُڑا دے گا۔‏

 9 اِس طرح یعقوب کے گُناہ کا کفارہ ادا ہوگا۔‏

جب اُس کا گُناہ دُور کِیا جائے گا تو اُس کا سارا پھل یہ ہوگا:‏

وہ قربان‌گاہ کے سارے پتھروں کو اُن چُوناپتھروں کی طرح بنا دے گا

جنہیں چُور چُور کِیا گیا ہو

اور کوئی مُقدس بَلّی*‏ یا بخور کی کوئی قربان‌گاہ نہیں بچے گی

10 کیونکہ اُس کے قلعہ‌بند شہروں کو خالی کر دیا جائے گا؛‏

اُس کی چراگاہوں کو ترک کر دیا جائے گا اور ویرانے کی طرح چھوڑ دیا جائے گا۔‏

بچھڑے وہاں چریں گے اور لیٹیں گے

اور اُس کی شاخیں کھائیں گے۔‏

11 جب اُس کی ٹہنیاں سُوکھ جائیں گی

تو عورتیں آ کر اُنہیں توڑیں گی

اور اُن سے آگ جلائیں گی

کیونکہ اُن لوگوں میں کوئی سمجھ نہیں ہے۔‏

اِس لیے اُن کا خالق اُن پر ترس نہیں کھائے گا

اور اُنہیں بنانے والا اُن پر رحم نہیں کرے گا۔‏

12 اَے اِسرائیل کے لوگو!‏ اُس دن یہوواہ بڑے دریا*‏ کی بہتی ندیوں سے لے کر مصر کی وادی*‏ تک پھل جھاڑے گا اور تمہیں ایک ایک کر کے جمع کِیا جائے گا۔ 13 اُس دن ایک بڑا نرسنگا*‏ بجایا جائے گا اور جو لوگ ملک اسور میں مر مٹ رہے ہیں اور جو لوگ ملک مصر میں تتربتر ہیں، آئیں گے اور یروشلم میں مُقدس پہاڑ پر یہوواہ کے حضور جھکیں گے۔‏

28 اِفرائیم کے شرابیوں کے نمائشی*‏ تاج*‏ پر افسوس

اور اُس کی عالی‌شان خوب‌صورتی کے مُرجھاتے پھول پر بھی

جو مے کے نشے میں دُھت لوگوں کی زرخیز وادی کے سر پر ہے!‏

 2 دیکھو!‏ یہوواہ کسی کو بھیجے گا جو طاقت‌ور اور زورآور ہے۔‏

وہ اَولوں کی طوفانی بارش اور تباہ‌کُن آندھی کی طرح،‏

ہاں، طوفانی بارش اور طاقت‌ور سیلابی پانیوں کی طرح

اُس تاج کو زور سے زمین پر پٹخ دے گا۔‏

 3 اِفرائیم کے شرابیوں کے نمائشی*‏ تاجوں کو پیروں تلے روندا جائے گا۔‏

 4 اُس کی عالی‌شان خوب‌صورتی کا مُرجھاتا پھول

جو زرخیز وادی کے سر پر ہے،‏

اِنجیر کی اُس پہلی فصل کی طرح بن جائے گا

جو گرمیوں سے پہلے ہوتی ہے۔‏

جب کوئی اُسے دیکھتا ہے تو ہاتھ میں پکڑتے ہی نگل جاتا ہے۔‏

5 اُس دن فوجوں کا خدا یہوواہ اپنی قوم کے بچے ہوئے لوگوں کے لیے شان‌دار تاج اور پھولوں کا خوب‌صورت تاج بنے گا۔ 6 جو عدالت کرنے بیٹھے ہیں، وہ اُن میں اِنصاف کا جذبہ پیدا کرے گا*‏ اور جو شہر کے دروازے پر حملہ‌آوروں کا مقابلہ کرتے ہیں، وہ اُن کے لیے طاقت کا سرچشمہ بنے گا۔‏

 7 کاہن اور نبی مے کی وجہ سے گمراہ ہو جاتے ہیں؛‏

وہ شراب کی وجہ سے لڑکھڑاتے ہیں؛

وہ شراب کی وجہ سے بھٹک جاتے ہیں؛‏

مے کی وجہ سے اُن کا دماغ کام نہیں کرتا؛‏

وہ شراب کی وجہ سے ڈگمگاتے ہیں؛‏

اُن کی رُویا اُنہیں بھٹکا دیتی ہے

اور وہ فیصلے کرتے وقت ٹھوکر کھاتے ہیں

 8 کیونکہ اُن کی میزیں غلیظ اُلٹیوں سے بھری ہیں،‏

کوئی بھی جگہ اِن سے خالی نہیں۔‏

 9 وہ کہتے ہیں:‏ ”‏وہ کسے تعلیم دے گا؟‏

وہ کسے اپنا پیغام سمجھائے گا؟‏

کیا اُنہیں جن کا ابھی ابھی دودھ چھڑایا گیا ہے،‏

جنہیں ابھی ابھی ماؤں کی چھاتیوں سے الگ کِیا گیا ہے؟‏

10 کیونکہ یہاں تو ”‏حکم پر حکم، حکم پر حکم؛‏

قانون پر قانون، قانون پر قانون ہے؛‏*‏

تھوڑا یہاں ہے، تھوڑا وہاں ہے۔“‏“‏

11 وہ اِس قوم سے اُن کے ذریعے بات کرے گا جو ہکلاتے ہیں اور غیرزبان بولتے ہیں۔ 12 ایک بار اُس نے اُن لوگوں سے کہا:‏ ”‏یہ آرام کرنے کی جگہ ہے۔ تھکا ہوا شخص یہاں آرام کرے؛ یہ تازہ‌دم کرنے والی جگہ ہے۔“‏ لیکن اُنہوں نے اُس کی نہیں سنی۔ 13 اِس لیے یہوواہ اُن سے کہے گا:‏

‏”‏حکم پر حکم، حکم پر حکم؛‏

قانون پر قانون، قانون پر قانون ہے؛‏*‏

تھوڑا یہاں ہے، تھوڑا وہاں ہے“‏

تاکہ جب وہ چلیں تو ٹھوکر کھا کر پیچھے گِر جائیں،‏

گھایل ہو جائیں اور پھنس کر پکڑے جائیں۔‏

14 اِس لیے شیخی‌بازو!‏ یروشلم کی اِس قوم کے حاکمو!‏

یہوواہ کا کلام سنو

15 کیونکہ تُم لوگ کہتے ہو:‏

‏”‏ہم نے موت کے ساتھ عہد باندھا ہے

اور قبر*‏ کے ساتھ معاہدہ کِیا ہے۔‏*‏

جب اچانک تیز رفتار سیلاب آئے گا

تو وہ ہم تک نہیں پہنچے گا

کیونکہ ہم نے جھوٹ کو اپنی پناہ‌گاہ بنایا ہے

اور خود کو غلط‌بیانی کی آڑ میں چھپایا ہے۔“‏

16 اِس لیے حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏مَیں صِیّون میں بنیاد کے طور پر پرکھا ہوا پتھر رکھ رہا ہوں،‏

ہاں، مضبوط بنیاد کے لیے کونے کا قیمتی پتھر۔‏

جو کوئی ایمان ظاہر کرے گا، گھبرائے گا نہیں۔‏

17 مَیں اِنصاف کو ناپنے کی ڈوری بناؤں گا

اور نیکی کو ساہول۔‏*‏

اَولے جھوٹ کی پناہ‌گاہ کو ڈھا دیں گے

اور پانی چھپنے کی جگہ کو ڈبو دیں گے۔‏

18 موت کے ساتھ تمہارا عہد ختم ہو جائے گا

اور قبر*‏ کے ساتھ تمہارا معاہدہ قائم نہیں رہے گا۔‏

جب اچانک تیز رفتار سیلاب آئے گا

تو تُم تہس‌نہس ہو جاؤ گے۔‏

19 وہ جب جب آئے گا،‏

تمہیں بہا لے جائے گا

کیونکہ وہ ہر صبح اور دن اور رات میں آئے گا۔‏

وہ اُس پیغام کو دہشت‌زدہ ہو کر ہی سمجھیں گے جو سنایا گیا تھا“‏*‏

20 کیونکہ پلنگ پاؤں پھیلانے کے لیے بہت چھوٹا ہے

اور چادر اوڑھنے کے لیے بہت چھوٹی ہے۔‏

21 یہوواہ اُٹھے گا جیسے وہ کوہِ‌پِراضیم پر اُٹھا تھا؛‏

وہ اُٹھ کھڑا ہوگا جیسے جِبعون کے قریب وادی میں ہوا تھا

تاکہ اپنا کام کرے جو کہ عجیب ہوگا

اور اپنا کام پورا کرے جو کہ غیرمعمولی ہوگا۔‏

22 مذاق مت اُڑاؤ

تاکہ تمہاری زنجیریں اَور نہ کَسی جائیں

کیونکہ مَیں نے حاکمِ‌اعلیٰ یعنی فوجوں کے خدا یہوواہ سے سنا ہے

کہ پورے ملک*‏ کو تباہ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔‏

23 میری بات پر کان لگاؤ؛‏

دھیان دو اور سنو کہ مَیں کیا کہہ رہا ہوں۔‏

24 کیا ہل چلانے والا بیج بونے سے پہلے سارا دن ہل چلاتا رہتا ہے؟‏

کیا وہ مسلسل مٹی کے ڈھیلے توڑتا اور اِس پر سہاگا*‏ چلاتا ہے؟‏

25 جب وہ زمین کو ہموار کر لیتا ہے

تو کیا وہ کالا زیرہ نہیں بکھیرتا اور زیرہ نہیں بوتا؟‏

کیا وہ گندم، باجرے اور جَو کو اُن کی جگہ پر

اور چینا*‏ کو کناروں پر نہیں بوتا؟‏

26 خدا اِنسان کو صحیح طریقے سے سکھاتا ہے؛‏*‏

اُس کا خدا اُسے تعلیم دیتا ہے

27 کیونکہ کالے زیرے کو ہینگے*‏ سے نہیں مسلا جاتا

اور زیرے پر گاڑی کا پہیا نہیں چلایا جاتا

بلکہ کالے زیرے کو ڈنڈے سے

اور زیرے کو چھڑی سے کوٹا جاتا ہے۔‏

28 کیا ایک شخص روٹی کے لیے اناج کو مسلسل پیستا ہے؟‏

نہیں وہ اِسے مسلسل نہیں گاہتا۔‏*‏

اور جب وہ اِس پر گھوڑوں سے اناج گاہنے والی گاڑی کا پہیا چلاتا ہے

تو وہ اِسے کچل نہیں ڈالتا۔‏

29 یہ باتیں بھی فوجوں کے خدا یہوواہ کی طرف سے ہیں

جس کا مقصد*‏ شان‌دار ہے اور جس کی کامیابیاں عظیم ہیں۔‏*‏

29 ‏”‏اَری‌ایل*‏ پر افسوس، ہاں، اُس شہر اَری‌ایل پر جہاں داؤد نے پڑاؤ ڈالا تھا!‏

عیدوں کا سلسلہ جاری رہے،‏

ہاں، سال‌درسال جاری رہے۔‏

 2 لیکن مَیں اَری‌ایل پر مصیبت لاؤں گا؛‏

وہاں رونا دھونا اور ماتم ہوگا

اور وہ میرے لیے خدا کی قربان‌گاہ کے آتش‌دان کی طرح بن جائے گا۔‏

 3 مَیں تجھ سے لڑنے کے لیے تیری چاروں طرف پڑاؤ ڈالوں گا؛‏

مَیں نوکیلی لکڑیوں کی باڑ لگا کر تجھے گھیر لوں گا

اور تجھ تک پہنچنے کے لیے ڈھلانیں بناؤں گا۔‏

 4 تجھے نیچے گِرا دیا جائے گا؛‏

تُو زمین پر سے بولے گا

اور تیری آواز مٹی میں دب جائے گی۔‏

زمین سے تیری آواز ایسے آئے گی

جیسے کوئی مُردوں سے رابطہ کرنے کا دعویٰ کرنے والا بول رہا ہو۔‏

مٹی میں سے تیرا پُھسپُھسانا سنائی دے گا۔‏

 5 تیرے دُشمنوں*‏ کی بِھیڑ باریک گرد کی طرح بن جائے گی؛‏

ظالموں کی بِھیڑ اُڑتے بھوسے کی طرح ہو جائے گی۔‏

ایسا پلک جھپکتے، ہاں، اچانک سے ہوگا۔‏

 6 فوجوں کا خدا یہوواہ تجھ پر دھیان دے گا۔‏

اُس وقت گرج ہوگی، زلزلہ آئے گا اور بڑا شور سنائی دے گا؛‏

آندھی اور طوفان آئے گا اور بھسم کرنے والی آگ کی لپٹیں اُٹھیں گی۔“‏

 7 پھر سب قوموں کی وہ بِھیڑ جو اَری‌ایل سے جنگ لڑتی ہے،‏

ہاں، وہ سب جو اُس سے جنگ لڑتے ہیں

اور اُس پر حملہ کرنے کے لیے بُرج بناتے ہیں

اور اُس کے لیے مشکلیں کھڑی کرتے ہیں،‏

ایک خواب کی طرح بن جائیں گے، ہاں، رات کی رُویا کی طرح۔‏

 8 یہ بالکل ایسے ہی ہوگا جیسے کوئی بھوکا شخص خواب میں کھانا کھا رہا ہو

لیکن جب وہ اُٹھے تو بھوکا*‏ ہی ہو

اور جیسے کوئی پیاسا شخص خواب میں پانی پی رہا ہو

لیکن جب وہ اُٹھے تو تھکا ہوا اور پیاسا*‏ ہی ہو۔‏

سب قوموں کی اُس بِھیڑ کے ساتھ ایسا ہی ہوگا

جو کوہِ‌صِیّون کے خلاف جنگ لڑتی ہے۔‏

 9 دنگ رہ جاؤ، حیرت میں پڑ جاؤ؛‏

اندھے ہو جاؤ، نابینا ہو جاؤ۔‏

وہ نشے میں تو ہیں لیکن مے کی وجہ سے نہیں؛‏

وہ لڑکھڑا تو رہے ہیں لیکن شراب کی وجہ سے نہیں

10 کیونکہ یہوواہ نے تُم پر گہری نیند طاری کر دی ہے؛‏

اُس نے تمہاری آنکھوں کو اندھا کر دیا ہے یعنی تمہارے نبیوں کو؛‏

اُس نے تمہارے سروں کو ڈھک دیا ہے یعنی تمہارے رُویات دیکھنے والوں کو۔‏

11 تمہارے لیے ہر رُویا ایک مُہربند کتاب کے لفظوں کی طرح بن جاتی ہے۔ جب وہ اِسے کسی پڑھے لکھے شخص کو دیتے ہیں اور کہتے ہیں:‏ ”‏مہربانی سے اِسے اُونچی آواز میں پڑھو“‏ تو وہ کہتا ہے:‏ ”‏مَیں اِسے نہیں پڑھ سکتا کیونکہ یہ مُہربند ہے۔“‏ 12 اور جب وہ اِسے کسی اَن‌پڑھ شخص کو دیتے ہیں اور کہتے ہیں:‏ ”‏مہربانی سے اِسے پڑھو“‏ تو وہ کہتا ہے:‏ ”‏مجھے پڑھنا نہیں آتا۔“‏

13 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏یہ لوگ مُنہ سے تو میرے قریب آتے ہیں

اور ہونٹوں سے میری تعظیم کرتے ہیں

لیکن اِن کے دل مجھ سے بہت دُور ہیں؛‏

یہ لوگ صرف اِنسانوں کے سکھائے ہوئے حکموں کی وجہ سے میرا خوف رکھتے ہیں۔‏

14 اِس لیے مَیں اِن لوگوں کے حوالے سے ایک بار پھر حیران‌کُن کام کروں گا،‏

ایک کے بعد ایک حیرت‌انگیز کام کروں گا۔‏

اُن کے دانش‌مند آدمیوں کی دانش‌مندی فنا ہو جائے گی

اور اُن کے سمجھ‌دار آدمیوں کی سمجھ غائب ہو جائے گی۔“‏

15 اُن لوگوں پر افسوس جو یہوواہ سے اپنے منصوبے چھپانے کے لیے کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں!‏

وہ تاریک جگہوں میں چھپ کر کام کرتے ہیں

اور کہتے ہیں:‏ ”‏کون ہمیں دیکھتا ہے؟‏

کس کو ہمارے بارے میں پتہ ہے؟“‏

16 تُم لوگ چیزوں کو کتنا توڑتے مروڑتے ہو!‏*‏

کیا کُمہار کو مٹی کے برابر سمجھا جانا چاہیے؟‏

کیا مخلوق کو اپنے خالق کے بارے میں کہنا چاہیے:‏

‏”‏اُس نے مجھے نہیں بنایا“‏؟‏

کیا بنائی گئی چیز کو اپنے بنانے والے کے بارے میں کہنا چاہیے:‏

‏”‏اُس میں کوئی سمجھ نہیں ہے“‏؟‏

17 تھوڑی ہی دیر میں لبنان ایک باغ بن جائے گا

اور وہ باغ ایک جنگل کی طرح لگے گا۔‏

18 اُس دن بہرے اُس کتاب کی باتیں سنیں گے

اور اندھوں کی آنکھیں اندھیرے اور تاریکی سے آزاد ہو جائیں گی۔‏

19 حلیم لوگ یہوواہ کی وجہ سے بے‌اِنتہا خوشی منائیں گے

اور غریب لوگ اِسرائیل کے پاک خدا کی وجہ سے باغ باغ ہوں گے

20 کیونکہ ظالم شخص نہیں رہے گا؛‏

شیخی‌باز شخص ختم ہو جائے گا

اور وہ سب لوگ مٹا دیے جائیں گے جو دوسروں کو نقصان پہنچانے کی تاک میں رہتے ہیں،‏

21 جو جھوٹی باتوں سے دوسروں کو قصوروار ٹھہراتے ہیں،‏

جو شہر کے دروازے پر دِفاع*‏ کرنے والے کے لیے پھندے بچھاتے ہیں

اور جو کھوکھلی دلیلیں دے کر نیک شخص کو اِنصاف سے محروم رکھتے ہیں۔‏

22 اِس لیے اَبراہام کو چھڑانے والا خدا یہوواہ یعقوب کے گھرانے سے کہتا ہے:‏

‏”‏یعقوب اَور شرمندہ نہیں ہوگا

اور نہ ہی اُس کا چہرہ پھر کبھی زرد پڑے گا*‏

23 کیونکہ جب وہ اپنے بچوں کو اپنے آس‌پاس دیکھے گا

جنہیں مَیں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے

تو وہ میرے نام کی تعظیم کریں گے،‏

ہاں، وہ یعقوب کے پاک خدا کی تعظیم کریں گے

اور اِسرائیل کے خدا کے احترام میں*‏ کھڑے ہوں گے۔‏

24 جن کا ذہن*‏ بھٹکا ہوا ہے، وہ سمجھ حاصل کریں گے

اور جو شکایت کرتے ہیں، وہ ہدایت کو قبول کریں گے۔“‏

30 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اُن ڈھیٹھ بیٹوں پر افسوس

جو ایسے منصوبے انجام دیتے ہیں جو میری طرف سے نہیں؛‏

جو ایسے اِتحاد کرتے ہیں*‏ جو میری روح کی ہدایت سے نہیں

اور اِس طرح گُناہ پر گُناہ کرتے ہیں!‏

 2 وہ مجھ سے پوچھے بغیر نیچے مصر جاتے ہیں

تاکہ فِرعون کے پاس*‏ پناہ لیں،‏

ہاں، مصر کے سائے میں پناہ لیں۔‏

 3 لیکن تحفظ کے لیے فِرعون پر بھروسا کرنا تمہارے لیے شرمندگی کا باعث بنے گا

اور مصر کے سائے میں پناہ لینا تمہاری رُسوائی کا باعث بنے گا

 4 کیونکہ اُس کے حاکم ضُعن میں ہیں

اور اُس کے قاصد حنیس پہنچ گئے ہیں۔‏

 5 وہ سب مصریوں کے ہاتھوں شرمندہ ہوں گے،‏

ہاں، ایک ایسی قوم کے ہاتھوں جو اُنہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی،‏

جو اُنہیں کوئی مدد یا فائدہ دینے کی بجائے

صرف شرمندہ اور رُسوا کرتی ہے۔“‏

6 جنوب کے درندوں کے خلاف ایک پیغام:‏

پریشانی اور مصیبت کے ملک کے راستے

جہاں شیر، ہاں، دھاڑتا ہوا شیر رہتا ہے،‏

جہاں زہریلا سانپ، ہاں، اُڑتا ہوا آتشی سانپ*‏ رہتا ہے؛‏

وہ گدھوں کی پیٹھ پر اپنی دولت لاتے ہیں

اور اُونٹوں کے کوہان پر اپنا سامان۔‏

لیکن یہ چیزیں لوگوں کے کسی کام نہیں آئیں گی

 7 کیونکہ مصر کی طرف سے ملنے والی مدد بالکل بے‌کار ہے۔‏

اِس لیے مَیں نے اُسے یہ نام دیا ہے:‏ ”‏رہب*‏ جو بس پڑا رہتا ہے۔“‏

 8 ‏”‏اب جاؤ، یہ باتیں اُن کے سامنے ایک تختی پر لکھو

اور ایک کتاب میں درج کرو

تاکہ یہ مستقبل میں ہمیشہ تک گواہی دیں

 9 کیونکہ وہ باغی لوگ اور دھوکے‌باز بیٹے ہیں،‏

ایسے بیٹے جو یہوواہ کی شریعت*‏ کو سننا نہیں چاہتے۔‏

10 وہ بصیروں*‏ سے کہتے ہیں:‏ ”‏رُویات مت دیکھو“‏

اور رُویات دیکھنے والوں سے کہتے ہیں:‏ ”‏ہمیں سچی رُویات مت بتاؤ۔‏

ہم سے میٹھی میٹھی باتیں کرو؛ دھوکا دینے والی رُویات دیکھو۔‏

11 صحیح راستے سے ہٹ جاؤ؛ درست راہ کو چھوڑ دو۔‏

ہمارے سامنے اِسرائیل کے پاک خدا کا ذکر کرنا بند کر دو۔“‏“‏

12 اِس لیے اِسرائیل کا پاک خدا فرماتا ہے:‏

‏”‏تُم میرے کلام کو ٹھکراتے ہو

اور فریب اور دھوکے پر بھروسا کرتے ہو

اور اِن پر آس لگاتے ہو۔‏

13 اِس لیے یہ گُناہ تمہارے لیے ایک ایسی دیوار کی طرح بن جائے گا جس میں دراڑیں پڑ گئی ہوں،‏

پھولی ہوئی ایک اُونچی دیوار کی طرح جو گِرنے والی ہو۔‏

یہ اچانک سے، ہاں، لمحہ بھر میں گِر جائے گی۔‏

14 یہ کُمہار کے ایک بڑے مٹکے کی طرح ٹوٹ جائے گی،‏

ایسے چکناچُور ہو جائے گی کہ اِس کا ایک ٹکڑا بھی نہیں بچے گا

جس سے آگ سے کوئلہ اُٹھایا جا سکے

یا گڑھے*‏ سے پانی لیا جا سکے۔“‏

15 حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ جو اِسرائیل کا پاک خدا ہے، فرماتا ہے:‏

‏”‏میرے پاس لوٹ آنے اور خاموش بیٹھے رہنے سے تمہیں نجات ملے گی؛‏

پُرسکون رہنے اور مجھ پر بھروسا ظاہر کرنے سے تمہیں طاقت ملے گی۔“‏

لیکن تمہیں یہ منظور نہیں تھا

16 بلکہ تُم نے کہا:‏ ”‏نہیں، ہم گھوڑوں پر بھاگیں گے!‏“‏

بھاگو گے تو تُم ضرور۔‏

تُم نے کہا:‏ ”‏ہم تیزرفتار گھوڑوں پر سوار ہوں گے!‏“‏

لیکن تمہارا پیچھا کرنے والے بھی تیزرفتار ہوں گے۔‏

17 ایک شخص کے دھمکانے پر ایک ہزار لوگ کانپ اُٹھیں گے؛‏

پانچ لوگوں کے دھمکانے پر تُم بھاگ جاؤ گے

اور تُم میں سے جو بچیں گے، وہ پہاڑ کی چوٹی پر ایک مستول*‏ کی طرح ہوں گے،‏

ہاں، پہاڑی پر ایک جھنڈے کی طرح۔‏

18 لیکن یہوواہ تُم پر مہربانی کرنے کے لیے صبر سے اِنتظار کر رہا ہے؛‏

وہ تُم پر رحم کرنے کے لیے اُٹھے گا

کیونکہ یہوواہ اِنصاف کا خدا ہے۔‏

وہ سب لوگ خوش رہتے ہیں جو اُس سے اُمید لگائے رکھتے ہیں۔‏*‏

19 جب لوگ صِیّون میں، ہاں، یروشلم میں بسیں گے تو تُم ہرگز نہیں روؤ گے۔ مدد کے لیے تمہاری پکار سنتے ہی وہ ضرور تُم پر مہربانی کرے گا؛ وہ جیسے ہی اِسے سنے گا، تمہیں جواب دے گا۔ 20 اگرچہ یہوواہ تمہیں روٹی کے طور پر مصیبت اور پانی کے طور پر دُکھ دے گا لیکن تمہارا عظیم اُستاد اب خود کو چھپائے گا نہیں۔ تُم اپنی آنکھوں سے اپنے عظیم اُستاد کو دیکھو گے۔ 21 اور اگر تُم دائیں یا بائیں مُڑو گے تو تمہارے کان تمہارے پیچھے سے یہ آواز سنیں گے:‏ ”‏راہ یہ ہے، اِس پر چلو۔“‏

22 تُم اپنی تراشی ہوئی مورتوں کو ناپاک کرو گے جن پر چاندی کی پرت لگی ہے اور اپنی دھات کی مورتوں کو بھی جن پر سونے کی پرت لگی ہے۔ تُم اُنہیں ماہواری کے کپڑے کی طرح پھینک دو گے اور اُن سے کہو گے:‏ ”‏دُور ہو جاؤ!‏“‏*‏ 23 وہ زمین میں بوئے ہوئے تمہارے بیجوں کے لیے بارش برسائے گا اور زمین سے بھرپور اور عمدہ*‏ خوراک پیدا ہوگی۔ اُس دن تمہارے مویشی بڑی بڑی چراگاہوں میں چریں گے۔ 24 جن بیلوں اور گدھوں سے کھیتوں میں کام لیا جاتا ہے، وہ عمدہ*‏ چارا کھائیں گے جسے بیلچے اور ترنگلی*‏ سے پھٹکا گیا ہوگا۔ 25 جس دن بڑا خون‌خرابہ ہوگا اور بُرج گِر جائیں گے، اُس دن ہر بلند پہاڑ اور ہر اُونچی پہاڑی پر ندی نالے بہیں گے۔ 26 جس دن یہوواہ اپنے بندوں کا زخم باندھے گا*‏ اور اُس سنگین گھاؤ کو ٹھیک کرے گا جو اُس کے وار کی وجہ سے اُنہیں لگا، اُس دن پورے چاند کی روشنی سورج کی روشنی کی طرح ہو جائے گی اور سورج کی روشنی سات گُنا بڑھ کر سات دنوں کی روشنی کی طرح ہو جائے گی۔‏

27 دیکھو!‏ یہوواہ*‏ دُور سے آ رہا ہے،‏

وہ غصے سے بھڑکا ہوا ہے اور گھنے بادلوں کے ساتھ آ رہا ہے۔‏

اُس کے ہونٹ قہر سے بھرے ہوئے ہیں

اور اُس کی زبان بھسم کرنے والی آگ کی طرح ہے۔‏

28 اُس کی روح*‏ ایک سیلابی ریلے کی طرح ہے جو گردن تک پہنچ جاتا ہے؛‏

وہ قوموں کو تباہی کی چھلنی میں ہلائے گا؛‏

قوموں کے مُنہ میں ایک لگام ہوگی جو اُنہیں گمراہی کی طرف لے جائے گی۔‏

29 لیکن تمہارا گیت اُس گیت کی طرح ہوگا

جو عید کی تیاری*‏ کرتے وقت رات میں گایا جاتا ہے

اور تمہارا دل اُس شخص کے دل کی طرح خوش ہوگا

جو بانسری بجاتے ہوئے*‏ اِسرائیل کی چٹان یہوواہ کے پہاڑ کی طرف جا رہا ہوتا ہے۔‏

30 یہوواہ اپنی زبردست آواز سنائے گا

اور جب وہ غصے سے بھڑکا ہوا بھسم کرنے والی آگ،‏

طوفانی بارش،گرج چمک اور اَولوں کے ساتھ اپنا بازو نیچے لائے گا

تو وہ اپنے بازو کی طاقت دِکھائے گا

31 کیونکہ یہوواہ کی آواز کی وجہ سے اسور پر دہشت طاری ہو جائے گی؛‏

وہ اُسے ڈنڈے سے مارے گا۔‏

32 جب یہوواہ جنگ میں اسوریوں کے خلاف اپنا ہاتھ بڑھائے گا

اور اُنہیں سزا کے ڈنڈے سے مارے گا

تو اُس کے ہر وار پر دف اور بربط*‏ بجیں گے

33 کیونکہ اسور کی توفت*‏ پہلے سے ہی تیار ہے؛‏

اُسے بادشاہ کے لیے بھی تیار کِیا جا چُکا ہے۔‏

اُس نے لکڑیوں کا ڈھیر لگانے کے لیے ایک گہری اور چوڑی جگہ تیار کی ہے جہاں بہت زیادہ آگ اور لکڑی ہے۔‏

یہوواہ کی پھونک گندھک کے ریلے کی طرح اُس جگہ کو آگ لگا دے گی۔‏

31 اُن پر افسوس جو مدد کے لیے مصر کے پاس جاتے ہیں؛‏

جو گھوڑوں پر بھروسا کرتے ہیں؛‏

جو جنگی رتھوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے

اور جنگی گھوڑوں*‏ کی طاقت کی وجہ سے اُن پر آس لگاتے ہیں!‏

لیکن وہ اِسرائیل کے پاک خدا کی طرف نگاہ نہیں کرتے

اور یہوواہ کی تلاش نہیں کرتے۔‏

 2 مگر وہ بھی دانش‌مند ہے؛ وہ آفت نازل کرے گا

اور اپنی بات سے نہیں مُکرے گا۔‏

وہ بُرے لوگوں کے گھرانے کے خلاف اُٹھے گا

اور اُن لوگوں کے خلاف بھی جو بُرے کام کرنے والوں کی مدد کرتے ہیں۔‏

 3 مصری اِنسان ہیں، خدا نہیں؛‏

اُن کے گھوڑے گوشت پوست ہیں، روحیں نہیں۔‏

جب یہوواہ اپنا ہاتھ بڑھائے گا

تو مدد کرنے والا ہر کوئی لڑکھڑا جائے گا

اور مدد لینے والا ہر کوئی گِر جائے گا؛‏

وہ سب ایک ہی وقت میں فنا ہو جائیں گے

 4 کیونکہ یہوواہ نے مجھ سے یہ کہا ہے:‏

‏”‏جیسے ایک شیر، ہاں، ایک طاقت‌ور جوان شیر*‏ اپنے شکار پر غُراتا ہے

اور جب بہت سے چرواہوں کو اُسے بھگانے کے لیے بُلایا جاتا ہے

تو وہ اُن کی آواز سے ڈرتا نہیں

اور اُن کے شورشرابے سے گھبراتا نہیں

ویسے ہی فوجوں کا خدا یہوواہ کوہِ‌صِیّون اور اُس کی پہاڑی کے لیے جنگ لڑنے نیچے آئے گا۔‏

 5 فوجوں کا خدا یہوواہ منڈلاتے ہوئے پرندوں کی طرح یروشلم کا دِفاع کرے گا۔‏

وہ اُس کا دِفاع کرے گا اور اُسے بچائے گا۔‏

وہ اُس کی حفاظت کرے گا اور اُسے چھڑائے گا۔“‏

6 ‏”‏اِسرائیل کے لوگو!‏ اُس ہستی کے پاس لوٹ آؤ جس کے خلاف تُم نے بے‌شرمی سے بغاوت کی ہے 7 کیونکہ اُس دن ہر شخص چاندی کے اپنے فضول خداؤں اور سونے کے اپنے بے‌کار خداؤں کو ٹھکرا دے گا جنہیں تُم نے اپنے ہاتھوں سے بنا کر گُناہ کِیا تھا۔‏

 8 اسور*‏ تلوار سے مارا جائے گا لیکن کسی اِنسان کی تلوار سے نہیں؛‏

وہ اُس تلوار کا نوالہ بنے گا جو کسی اِنسان کی نہیں ہوگی۔‏

وہ تلوار کی وجہ سے بھاگ جائے گا

اور اُس کے جوان آدمیوں سے زبردستی مشقت کرائی جائے گی۔‏

 9 شدید خوف کی وجہ سے اُس کی چٹان غائب ہو جائے گی

اور جھنڈے کی وجہ سے اُس کے حاکم ڈر جائیں گے۔“‏

یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے جس کی روشنی*‏ صِیّون میں اور جس کی بھٹی یروشلم میں ہے۔‏

32 دیکھو!‏ ایک بادشاہ نیکی سے حکومت کرے گا

اور حاکم اِنصاف سے حکمرانی کریں گے۔‏

 2 اُن میں سے ہر ایک آندھی سے چھپنے کی جگہ کی طرح ہوگا،‏

طوفانی بارش میں پناہ‌گاہ کی طرح،‏

خشک زمین پر پانی کی ندیوں کی طرح

اور تپتی زمین پر بڑی چٹان کے سائے کی طرح۔‏

 3 پھر دیکھنے والوں کی آنکھیں بند نہیں ہوں گی

اور سننے والوں کے کان دھیان سے سنیں گے۔‏

 4 جلدباز دل علم کی باتوں پر غور کرے گا

اور ہکلاتی زبان روانی سے اور صاف‌صاف بولے گی۔‏

 5 احمق شخص کو آئندہ دریادل نہیں کہا جائے گا

اور بے‌اصول شخص کو نواب نہیں کہا جائے گا

 6 کیونکہ احمق شخص فضول باتیں کہے گا

اور اُس کا دل نقصان‌دہ منصوبے گھڑے گا

تاکہ برگشتگی کو فروغ دے*‏ اور یہوواہ کے خلاف غلط باتیں بولے

تاکہ بھوکے شخص*‏ کو خالی پیٹ رکھے

اور پیاسے شخص کو پانی سے محروم رکھے۔‏

 7 بے‌اصول شخص کے منصوبے بُرے ہیں؛‏

وہ شرم‌ناک چال‌چلن کو فروغ دیتا ہے

تاکہ مصیبت کے مارے اور غریب شخص کو جھوٹی باتوں سے تباہ کرے

پھر چاہے وہ شخص سچا ہی کیوں نہ ہو۔‏

 8 لیکن دریادل شخص دریادلی سے دینے کا اِرادہ رکھتا ہے

اور وہ دریادلی سے دیتا بھی رہتا ہے۔‏*‏

 9 ‏”‏لاپروا عورتو!‏ اُٹھو اور میری بات سنو!‏

بے‌فکر بیٹیو!‏ جو مَیں کہتا ہوں، اُس پر دھیان دو!‏

10 تُم جو بے‌فکر رہتی ہو، ایک سال سے تھوڑا زیادہ عرصے بعد کانپو گی

کیونکہ انگور توڑنے کا وقت ختم ہو جائے گا لیکن کوئی انگور جمع نہیں ہوئے ہوں گے۔‏

11 لاپروا عورتو!‏ کانپو!‏

اَے بے‌فکرو!‏ تھرتھر کانپو!‏

اپنے کپڑے اُتارو اور اپنی کمر پر ٹاٹ باندھ لو۔‏

12 دل‌پسند کھیتوں اور انگور کی پھل‌دار بیلوں پر چھاتی پِیٹ‌پِیٹ کر ماتم کرو

13 کیونکہ میرے بندوں کی زمین کانٹوں اور کانٹے‌دار جھاڑیوں سے بھر جائے گی

اور وہ سب خوش‌باش گھروں کو، ہاں، خوشیوں کے شہر کو ڈھک لیں گی

14 کیونکہ مضبوط بُرج ویران ہو گیا ہے؛‏

شورشرابے والے شہر کو چھوڑ دیا گیا ہے۔‏

عوفلِ اور پہرےداروں کا بُرج ہمیشہ کے لیے اُجڑ گیا ہے؛‏

وہ جنگلی گدھوں کے لیے مزے کرنے کی جگہ

اور گلّوں کے لیے چراگاہ بن گیا ہے۔‏

15 ایسا تب تک رہے گا جب تک اُوپر سے ہم پر روح*‏ نازل نہیں ہوتی

پھر ویرانہ ایک باغ بن جائے گا

اور یہ باغ ایک جنگل کی طرح لگے گا۔‏

16 تب ویرانے میں اِنصاف کا بسیرا ہوگا

اور باغ نیکی کا آشیانہ ہوگا۔‏

17 سچی نیکی کے نتیجے میں امن قائم ہوگا

اور سچی نیکی کا پھل ابدی اِطمینان اور تحفظ ہوگا۔‏

18 میرے لوگ پُرامن جگہوں میں بسیں گے،‏

ہاں، محفوظ رہائش‌گاہوں اور پُرسکون آرام‌گاہوں میں۔‏

19 لیکن اَولے جنگل کو تہس‌نہس کر دیں گے

اور شہر پوری طرح مٹی میں مل جائے گا۔‏

20 تُم لوگ خوش رہتے ہو جو پانی کے پاس بیج بوتے ہو؛‏

جو بیل اور گدھے کو کُھلا چھوڑ دیتے*‏ ہو۔“‏

33 تباہ کرنے والے جسے تباہ نہیں کِیا گیا!‏

دھوکا دینے والے جسے دھوکا نہیں دیا گیا!‏ تجھ پر افسوس!‏

جب تُو تباہ کر لے گا تو تجھے تباہ کر دیا جائے گا۔‏

جب تُو دھوکا دے لے گا تو تجھے دھوکا دیا جائے گا۔‏

 2 اَے یہوواہ!‏ ہم پر مہربانی کر۔‏

ہم نے تجھ سے اُمید لگائی ہوئی ہے۔‏

ہر صبح ہمارا بازو*‏ بن،‏

ہاں، پریشانی کے وقت ہماری نجات بن۔‏

 3 تیری گرج سُن کر قومیں بھاگ جاتی ہیں۔‏

جب تُو اُٹھتا ہے تو قومیں تتربتر ہو جاتی ہیں۔‏

 4 جیسے بھوکی ٹڈیاں اِکٹھی ہوتی ہیں ویسے ہی تمہارا لُوٹ کا مال اِکٹھا کِیا جائے گا؛‏

لوگ ٹڈی‌دَلوں کی طرح اُس پر ٹوٹ پڑیں گے۔‏

 5 یہوواہ سرفراز ہوگا

کیونکہ وہ بلندیوں پر رہتا ہے۔‏

وہ صِیّون کو اِنصاف اور نیکی سے بھر دے گا۔‏

 6 وہ تمہارے زمانے میں مضبوطی بخشے گا

اور بڑے پیمانے پر نجات، دانش‌مندی، علم اور یہوواہ کا خوف ہوگا۔‏

یہی اُس کا خزانہ ہے۔‏

 7 دیکھو!‏ اُن کے سُورما گلیوں میں چلّاتے ہیں؛‏

امن کے قاصد پھوٹ پھوٹ کر روتے ہیں۔‏

 8 شاہراہیں ویران پڑی ہیں؛‏

راستوں پر کوئی سفر نہیں کرتا۔‏

اُس*‏ نے عہد توڑ دیا ہے؛‏

اُس نے شہروں کو ٹھکرا دیا ہے؛‏

وہ فانی اِنسان کو کچھ نہیں سمجھتا۔‏

 9 ملک ماتم کر رہا*‏ ہے اور مُرجھا رہا ہے۔‏

لبنان شرمندہ ہے؛ وہ گل‌سڑ گیا ہے۔‏

شارون ریگستان بن گیا ہے

اور بسن اور کرمِل اپنے پتّے جھاڑ رہے ہیں۔‏

10 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اب مَیں اُٹھوں گا؛‏

اب مَیں خود کو سرفراز کروں گا؛‏

اب مَیں اپنی عظمت ظاہر کروں گا۔‏

11 تمہارے پیٹ میں سُوکھی گھاس کا حمل ٹھہرا اور تُم نے بھوسے کو جنم دیا۔‏

تمہاری اپنی سوچ*‏ تمہیں آگ کی طرح بھسم کر دے گی۔‏

12 قومیں جلے ہوئے چُونے کی طرح ہو جائیں گی۔‏

اُنہیں کانٹے‌دار جھاڑیوں کی طرح کاٹ کر جلا دیا جائے گا۔‏

13 دُوردراز علاقوں میں رہنے والو!‏ سنو کہ مَیں کیا کروں گا!‏

آس‌پاس کے علاقوں میں رہنے والو!‏ میری طاقت کو تسلیم کرو!‏

14 صِیّون میں گُناہ‌گار خوف‌زدہ ہیں؛‏

برگشتہ لوگوں پر کپکپی طاری ہے:‏

‏”‏ہم میں سے کون وہاں رہ سکتا ہے جہاں بھسم کرنے والی آگ ہے؟‏

ہم میں سے کون نہ بُجھنے والے شعلوں کے بیچ رہ سکتا ہے؟“‏

15 جو مسلسل نیکی کی راہ پر چلتا رہتا ہے؛‏

جو سچ بولتا ہے؛‏

جو بے‌ایمانی اور بددیانتی کی کمائی کو ٹھکراتا ہے؛‏

جس کے ہاتھ رشوت پر جھپٹنے کی بجائے اِسے لینے سے اِنکار کر دیتے ہیں؛‏

جو خون‌خرابے کی باتوں پر اپنے کان بند کر لیتا ہے

اور جو اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے تاکہ بُرائی کو نہ دیکھے،‏

16 وہ بلندیوں پر بسے گا؛‏

چٹان پر بنے قلعے اُس کی محفوظ پناہ‌گاہ*‏ ہوں گے؛‏

اُسے روٹی مہیا کی جائے گی

اور اُسے کبھی پانی کی کمی نہیں ہوگی۔“‏

17 تمہاری آنکھیں ایک بادشاہ کو اُس کی شان‌وشوکت کے ساتھ دیکھیں گی؛‏

وہ ایک دُوردراز ملک کو دیکھیں گی۔‏

18 تُم اپنے دل میں اُس خوف کو یاد کر کے*‏ کہو گے:‏

‏”‏مُنشی کہاں ہے؟‏

خراج تولنے والا کہاں ہے؟‏

بُرجوں کو گننے والا کہاں ہے؟“‏

19 تمہیں گستاخ لوگ پھر نظر نہیں آئیں گے،‏

ایسے لوگ جو ناقابلِ‌سمجھ*‏ زبان بولتے ہیں

اور جن کے ہکلانے کی وجہ سے تُم اُن کی بات نہیں سمجھ سکتے۔‏

20 صِیّون کو دیکھو جو ہماری عیدوں کا شہر ہے!‏

تمہاری آنکھیں یروشلم کو ایک پُرسکون رہائش‌گاہ کے طور پر دیکھیں گی،‏

ایک ایسے خیمے کے طور پر جسے ہٹایا نہیں جائے گا۔‏

اُس کی کیلوں کو کبھی اُکھاڑا نہیں جائے گا

اور اُس کی رسیوں کو کبھی توڑا نہیں جائے گا۔‏

21 لیکن وہاں عظیم خدا یہوواہ ہمارے لیے

دریاؤں اور بڑی بڑی نہروں والے علاقے کی طرح ہوگا

جہاں چپّوؤں والے جنگی جہاز نہیں جائیں گے

اور نہ ہی بڑے بڑے جہاز وہاں سے گزریں گے

22 کیونکہ یہوواہ ہمارا منصف ہے؛‏

یہوواہ ہمیں شریعت دینے والا ہے؛‏

یہوواہ ہمارا بادشاہ ہے؛‏

وہی ہمیں بچائے گا۔‏

23 تمہاری رسیاں ڈھیلی ہو جائیں گی؛‏

نہ تو مستول*‏ کھڑا رہ پائے گا اور نہ ہی بادبان پھیلایا جا سکے گا۔‏

اُس وقت بڑی مقدار میں لُوٹ کا مال تقسیم کِیا جائے گا،‏

یہاں تک کہ لنگڑے بھی بہت سا مال لے جائیں گے۔‏

24 وہاں رہنے والا کوئی بھی شخص نہیں کہے گا:‏ ”‏مَیں بیمار ہوں۔“‏

ملک میں رہنے والے لوگوں کے گُناہ معاف کیے جائیں گے۔‏

34 اَے قومو!‏ قریب آ کر سنو؛‏

اَے لوگو!‏ دھیان دو۔‏

دُنیا اور جو کچھ اُس میں ہے، سنے؛‏

زمین اور اُس کی ساری پیداوار سنے

 2 کیونکہ یہوواہ کو سب قوموں پر غصہ ہے

اور اُس کا غضب اُن کی ساری فوج کے خلاف بھڑکا ہوا ہے۔‏

وہ اُنہیں تباہ کر دے گا؛‏

وہ اُنہیں ذبح ہونے کے لیے دے دے گا۔‏

 3 اُن کے قتل ہوئے لوگوں کو باہر پھینک دیا جائے گا

اور اُن کی لاشوں سے بدبُو اُٹھے گی؛‏

اُن کے خون کی وجہ سے پہاڑ پگھل جائیں گے۔‏*‏

 4 آسمانوں کی ساری فوج سڑ جائے گی

اور آسمانوں کو طُومار کی طرح لپیٹ دیا جائے گا۔‏

اُن کی ساری فوج ایسے مُرجھا جائے گی

جیسے انگور کی بیل سے مُرجھایا ہوا پتّا گِر جاتا ہے

اور جیسے اِنجیر کے درخت سے سُوکھا ہوا اِنجیر جھڑ جاتا ہے

 5 ‏”‏کیونکہ آسمانوں میں میری تلوار تر ہوگی۔‏

وہ ادوم کو سزا دینے کے لیے اُترے گی،‏

ہاں، اُن لوگوں کو جنہیں مَیں نے تباہ کرنے کا فیصلہ کِیا ہے۔‏

 6 یہوواہ کے پاس ایک تلوار ہے؛ وہ خون سے تر ہوگی۔‏

وہ چربی، جوان مینڈھوں اور بکروں کے خون

اور مینڈھوں کے گُردوں کی چربی سے ڈھکی ہوگی

کیونکہ یہوواہ نے بصراہ میں ایک قربانی تیار کی ہے

اور ادوم کے علاقے میں بڑے خون‌خرابے کی تیاری کی ہے۔‏

 7 جنگلی سانڈوں کو اُن کے ساتھ نیچے گِرایا جائے گا،‏

ہاں، جوان بیلوں کو طاقت‌وروں کے ساتھ۔‏

اُن کا ملک خون سے لت‌پت ہو جائے گا

اور اُن کی مٹی چربی سے بھیگ جائے گی“‏

 8 کیونکہ یہوواہ نے بدلہ لینے کا ایک دن مقرر کِیا ہے،‏

ہاں، صِیّون کے مُقدمے میں سزا دینے کے لیے ایک سال ٹھہرایا ہے۔‏

 9 اُس*‏ کی ندیاں رال*‏ میں بدل جائیں گی

اور اُس کی مٹی گندھک میں؛‏

اُس کا ملک جلتی ہوئی رال کی طرح بن جائے گا

10 جو دن اور رات سلگتی رہے گی؛‏

اُس کا دُھواں ہمیشہ اُٹھتا رہے گا؛‏

وہ نسل‌درنسل تباہ پڑا رہے گا

اور اُس میں سے کبھی کوئی نہیں گزرے گا۔‏

11 حواصل*‏ اور خارپُشت*‏ اُس کے مالک بن جائیں گے

اور لمبے کانوں والے اُلّو اور کوّے اُس میں بسیں گے۔‏

وہ اُس پر خالی‌پن کی ڈوری تانے گا

اور اُسے ویرانی کے ساہول*‏ سے ناپے گا۔‏

12 اُس کے نوابوں میں سے کسی کو بادشاہت کے لیے نہیں بُلایا جائے گا

اور اُس کے سارے حاکموں کا خاتمہ ہو جائے گا۔‏

13 اُس کے مضبوط بُرجوں میں کانٹے‌دار جھاڑیاں اُگیں گی

اور اُس کے قلعوں میں بچھوبُوٹی اور کانٹے‌دار جنگلی پودے۔‏

وہ گیدڑوں کا ٹھکانا اور شُترمُرغوں کا گھر بن جائے گا۔‏

14 ریگستان کے جانور رونے والے جانوروں*‏ کے ساتھ مل جائیں گے

اور جنگلی بکرا*‏ اپنے ساتھی کو بُلائے گا،‏

ہاں، لیلیت*‏ وہاں بسے گا اور آرام کرے گا۔‏

15 وہاں تیزرفتار مادہ سانپ اپنا گھونسلا بنائے گی اور انڈے دے گی؛‏

وہ اُنہیں سیے گی اور اُنہیں اپنے سائے میں اِکٹھا کرے گی۔‏

وہاں چیلیں اپنے اپنے ساتھیوں کے ساتھ جمع ہوں گی۔‏

16 یہوواہ کی کتاب میں ڈھونڈو اور اِسے اُونچی آواز میں پڑھو:‏

اُن میں سے ایک بھی کم نہیں ہوگا؛‏

اُن میں سے کوئی بھی ساتھی سے محروم نہیں ہوگا

کیونکہ یہ حکم یہوواہ نے اپنے مُنہ سے دیا ہے

اور اُس نے اُنہیں اپنی روح*‏ کے ذریعے جمع کِیا ہے۔‏

17 اُس نے خود اُن کے لیے قُرعہ ڈالا ہے

اور اُس نے اپنے ہاتھ سے اُن کی مقررہ جگہ کو ناپا ہے۔‏*‏

وہ ہمیشہ کے لیے اِس کے مالک ہوں گے؛‏

وہ نسل‌درنسل اِس میں بسیں گے۔‏

35 ویرانہ اور خشک زمین خوش ہوں گے

اور بنجر میدان خوشی منائے گا اور زعفران*‏ کی طرح کِھل اُٹھے گا۔‏

 2 وہ ضرور کِھل اُٹھے گا؛‏

وہ خوش ہوگا اور خوشی سے للکارے گا۔‏

لبنان کی عظمت اور کرمِل اور شارون کی شان‌وشوکت اُسے دی جائے گی۔‏

لوگ یہوواہ کی عظمت، ہاں، ہمارے خدا کی شان دیکھیں گے۔‏

 3 کمزور ہاتھوں کو توانائی دو

اور لرزتے گُھٹنوں کو مضبوط کرو۔‏

 4 جن کے دل پریشان ہیں، اُن سے کہو:‏

‏”‏مضبوط بنو، ڈرو نہیں۔‏

دیکھو!‏ تمہارا خدا بدلہ لینے آئے گا؛‏

خدا سزا دینے آئے گا۔‏

وہ آئے گا اور تمہیں بچائے گا۔“‏

 5 اُس وقت اندھوں کی آنکھیں کھول دی جائیں گی

اور بہروں کے کان کھول دیے جائیں گے۔‏

 6 اُس وقت لنگڑے ہِرن کی طرح چھلانگیں ماریں گے

اور گونگوں کی زبان خوشی سے للکارے گی

کیونکہ ویرانے میں پانی کے چشمے اور بنجر میدان میں ندیاں پھوٹ نکلیں گی۔‏

 7 جھلسی ہوئی زمین سرکنڈوں والا تالاب بن جائے گی

اور پیاسی زمین سے پانی کے چشمے پھوٹیں گے۔‏

گیدڑوں کے ٹھکانوں میں جہاں وہ آرام کِیا کرتے تھے،‏

ہری گھاس، سرکنڈے اور آبی نرسل*‏ اُگیں گے۔‏

 8 وہاں ایک شاہراہ ہوگی،‏

ہاں، ایک ایسا راستہ جو مُقدس راستہ کہلائے گا۔‏

کوئی ناپاک شخص اُس پر سفر نہیں کرے گا۔‏

وہ راستہ صرف اُن لوگوں کے لیے مخصوص ہے جو اُس پر چلتے ہیں؛‏

کوئی بے‌وقوف شخص اُس پر پھٹک نہیں پائے گا۔‏

 9 اُس راستے پر کوئی شیر نہیں ہوگا

اور نہ ہی وہاں کوئی وحشی درندہ آئے گا۔‏

وہ وہاں نہیں ملیں گے؛‏

صرف وہ لوگ اُس راستے پر چلیں گے جنہیں چھڑایا*‏ گیا ہے۔‏

10 جن لوگوں کو یہوواہ چھڑائے گا، وہ لوٹیں گے اور خوشی سے للکارتے ہوئے صِیّون آئیں گے۔‏

کبھی نہ ختم ہونے والی خوشی اُن کے سر کا تاج ہوگی۔‏

اُنہیں خوشی اور شادمانی ملے گی

اور غم اور آہیں بھاگ جائیں گے۔‏

36 بادشاہ حِزقیاہ کی حکمرانی کے 14ویں سال میں اسور کا بادشاہ سِنّحیرِب یہوداہ کے تمام قلعہ‌بند شہروں پر حملہ کرنے آیا اور اُن پر قبضہ کر لیا۔ 2 پھر اسور کے بادشاہ نے ربشاقی*‏ کو لکیس سے ایک بڑی فوج کے ساتھ یروشلم میں بادشاہ حِزقیاہ کے پاس بھیجا۔ وہ لوگ اُوپر والے تالاب کے نالے کے پاس کھڑے ہو گئے جو دھوبی گھاٹ کی شاہراہ پر ہے۔ 3 پھر شاہی گھرانے کے نگران یعنی خِلقیاہ کے بیٹے اِلیاقیم، مُنشی شِبناہ اور شاہی تاریخ‌نویس یعنی آسَف کے بیٹے یوآخ باہر اُس کے پاس آئے۔‏

4 تب ربشاقی نے اُن سے کہا:‏ ”‏مہربانی سے حِزقیاہ سے کہو:‏ ”‏عظیم بادشاہ یعنی اسور کے بادشاہ نے یہ کہا ہے:‏ ”‏تُم کس کے بھروسے بیٹھے ہو؟ 5 تُم کہہ رہے ہو:‏ ”‏میرے پاس پورا فوجی منصوبہ ہے اور جنگ لڑنے کی طاقت بھی۔“‏ لیکن یہ سب کھوکھلی باتیں ہیں۔ تُم کس کے بھروسے میرے خلاف بغاوت کرنے کی جُرأت کر رہے ہو؟ 6 دیکھو، تُم ایک کچلے ہوئے سرکنڈے یعنی مصر کی مدد پر بھروسا کر رہے ہو۔ اگر کوئی آدمی ایسے سرکنڈے کا سہارا لینے کے لیے اُسے پکڑے گا تو یہ اُس کی ہتھیلی میں گُھس کر آر پار ہو جائے گا۔ مصر کا بادشاہ فِرعون بھی اُن سب کے لیے ایسا ہی ہے جو اُس پر بھروسا کرتے ہیں۔ 7 اور اگر تُم مجھ سے کہو:‏ ”‏ہم اپنے خدا یہوواہ پر بھروسا کرتے ہیں“‏ تو کیا یہ وہی خدا نہیں جس کی اُونچی جگہیں اور قربان‌گاہیں حِزقیاہ نے ڈھا دی ہیں اور اب وہ یہوداہ اور یروشلم سے کہہ رہا ہے:‏ ”‏آپ کو اِس قربان‌گاہ کے سامنے جھکنا چاہیے“‏؟“‏“‏ 8 اِس لیے اب ذرا میرے مالک یعنی اسور کے بادشاہ سے یہ شرط لگاؤ:‏ مَیں تمہیں 2000 گھوڑے دوں گا بشرطیکہ تُم اُن کے لیے سوار ڈھونڈ لو۔ 9 جب تُم یہ نہیں کر سکتے تو پھر تُم میرے مالک کے خادموں میں سے سب سے معمولی ناظم کو بھی یہاں سے نہیں بھگا سکتے کیونکہ تُم رتھوں اور گُھڑسواروں کے لیے مصر پر بھروسا کرتے ہو۔ 10 تمہیں کیا لگتا ہے کہ مَیں یہوواہ کی اِجازت کے بغیر ہی اِس ملک پر حملہ کرنے اور اِسے تباہ کرنے آیا ہوں؟ یہوواہ نے خود مجھ سے کہا تھا:‏ ”‏جاؤ اور اُس ملک پر حملہ کر کے اُسے تباہ کر دو۔“‏“‏

11 اِس پر اِلیاقیم، شِبناہ اور یوآخ نے ربشاقی سے کہا:‏ ”‏مہربانی سے اپنے خادموں سے اَرامی*‏ زبان میں بات کریں کیونکہ ہم یہ زبان سمجھ سکتے ہیں۔ ہم سے یہودیوں کی زبان میں بات نہ کریں کیونکہ شہر کی دیوار پر موجود لوگ یہ باتیں سُن رہے ہیں۔“‏ 12 لیکن ربشاقی نے کہا:‏ ”‏تمہیں کیا لگتا ہے کہ میرے مالک نے مجھے صرف تمہارے مالک اور تُم سے یہ باتیں کہنے کے لیے بھیجا ہے؟ یہ باتیں دیوار پر بیٹھے لوگوں کے لیے بھی ہیں کیونکہ تمہارے ساتھ ساتھ وہ بھی اپنا فضلہ کھائیں گے اور اپنا پیشاب پئیں گے۔“‏

13 پھر ربشاقی نے کھڑے ہو کر اُونچی آواز میں یہودیوں کی زبان میں کہا:‏ ”‏عظیم بادشاہ یعنی اسور کے بادشاہ کا پیغام سنو۔ 14 بادشاہ نے یہ کہا ہے:‏ ”‏حِزقیاہ سے دھوکا نہ کھاؤ کیونکہ وہ تمہیں نہیں بچا سکتا۔ 15 اور حِزقیاہ کی اِن باتوں میں آ کر یہوواہ پر بھروسا نہ کرو کہ ”‏یہوواہ ضرور ہمیں بچائے گا اور یہ شہر اسور کے بادشاہ کے حوالے نہیں کِیا جائے گا۔“‏ 16 حِزقیاہ کی بات نہ سنو کیونکہ اسور کے بادشاہ نے یہ کہا ہے:‏ ”‏مجھ سے صلح کر لو اور ہتھیار ڈال دو۔‏*‏ تب تُم میں سے ہر ایک اپنی انگور کی بیل اور اپنے اِنجیر کے درخت کا پھل کھائے گا اور اپنے حوض سے پانی پیے گا 17 اور پھر مَیں آ کر تمہیں اُس ملک میں لے جاؤں گا جو تمہارے ملک جیسا ہے جہاں اناج، نئی مے، روٹی اور انگور کے باغ ہیں۔ 18 حِزقیاہ کی اِس بات میں آ کر گمراہ نہ ہو کہ ”‏یہوواہ ہمیں بچا لے گا۔“‏ کیا قوموں کا کوئی بھی خدا اپنے ملک کو اسور کے بادشاہ کے ہاتھ سے بچا سکا ہے؟ 19 حمات اور ارفاد کے خدا کہاں ہیں؟ سِفروائم کے خدا کہاں ہیں؟ کیا وہ سامریہ کو میرے ہاتھ سے بچا پائے؟ 20 اِن ملکوں کے سب خداؤں میں سے کون سا خدا اپنے ملک کو میرے ہاتھ سے بچا پایا جو یہوواہ یروشلم کو میرے ہاتھ سے بچا پائے گا؟“‏“‏“‏

21 لیکن وہ خاموش رہے اور جواب میں ایک لفظ بھی نہیں کہا کیونکہ بادشاہ نے حکم دیا تھا:‏ ”‏اُسے کوئی جواب نہ دینا۔“‏ 22 مگر شاہی گھرانے کے نگران یعنی خِلقیاہ کے بیٹے اِلیاقیم، مُنشی شِبناہ اور شاہی تاریخ‌نویس یعنی آسَف کے بیٹے یوآخ اپنے کپڑے پھاڑ کر حِزقیاہ کے پاس آئے اور اُنہیں ربشاقی کی باتیں بتائیں۔‏

37 جیسے ہی بادشاہ حِزقیاہ نے یہ باتیں سنیں، اُنہوں نے اپنے کپڑے پھاڑے اور ٹاٹ اوڑھ کر یہوواہ کے گھر میں گئے۔ 2 پھر اُنہوں نے شاہی گھرانے کے نگران اِلیاقیم، مُنشی شِبناہ اور کاہنوں کے سربراہوں کو آموص کے بیٹے یسعیاہ نبی کے پاس بھیجا۔ اُن سب نے ٹاٹ اوڑھے ہوئے تھے۔ 3 اُنہوں نے یسعیاہ سے کہا:‏ ”‏حِزقیاہ نے کہا ہے:‏ ”‏یہ پریشانی، لعن‌طعن*‏ اور رُسوائی کا دن ہے کیونکہ بچوں کی پیدائش کا وقت آ گیا ہے*‏ لیکن اُنہیں پیدا کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ 4 شاید آپ کا خدا یہوواہ ربشاقی کی باتوں پر دھیان دے جسے اُس کے مالک اسور کے بادشاہ نے زندہ خدا کی توہین کرنے کے لیے بھیجا ہے اور ربشاقی سے اُن باتوں کا حساب لے جو آپ کے خدا یہوواہ نے سنی ہیں۔ اِس لیے لوگوں کے بچے ہوئے حصے کی خاطر دُعا کریں جو ابھی بھی موجود ہے۔“‏“‏

5 جب بادشاہ حِزقیاہ کے خادم یسعیاہ کے پاس گئے 6 تو یسعیاہ نے اُن سے کہا:‏ ”‏اپنے مالک سے یہ کہیں:‏ ”‏یہوواہ نے فرمایا ہے:‏ ”‏اُن باتوں کی وجہ سے خوف‌زدہ نہ ہو جو تُم نے سنی ہیں یعنی اُن باتوں کی وجہ سے جن کے ذریعے اسور کے بادشاہ کے خادموں نے میری توہین کی ہے۔ 7 مَیں اُس کے ذہن میں ایک خیال*‏ ڈالوں گا اور وہ ایک خبر سُن کر اپنے ملک لوٹ جائے گا اور مَیں اُسے اُسی کے ملک میں تلوار سے مروا دوں گا۔“‏“‏“‏

8 جب ربشاقی نے سنا کہ اسور کا بادشاہ لکیس سے چلا گیا ہے تو وہ اُس کے پاس واپس گیا اور دیکھا کہ وہ لِبناہ کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ 9 اسور کے بادشاہ نے اِیتھیوپیا کے بادشاہ تِرہاقہ کے بارے میں یہ خبر سنی:‏ ”‏وہ آپ سے جنگ لڑنے آیا ہے۔“‏ یہ سُن کر اُس نے قاصدوں کو دوبارہ حِزقیاہ کے پاس بھیجا اور کہا:‏ 10 ‏”‏تُم یہوداہ کے بادشاہ حِزقیاہ سے یہ کہنا:‏ ”‏جس خدا پر تمہارا بھروسا ہے، اُس کی اِس بات سے دھوکا مت کھاؤ:‏ ”‏یروشلم اسور کے بادشاہ کے حوالے نہیں کِیا جائے گا۔“‏ 11 تُم نے سنا تو ہوگا کہ اسور کے بادشاہوں نے سب ملکوں کو تباہ کر کے اُن کا کیا حشر کِیا۔ تو کیا تُم بچ جاؤ گے؟ 12 کیا اُن قوموں کے خداؤں نے اُنہیں بچا لیا جنہیں میرے باپ‌دادا نے تباہ کِیا؟ جوزان، حاران، رِصِف اور عدن کے لوگ کہاں ہیں جو تِل‌اسّار میں تھے؟ 13 حمات، ارفاد اور شہر سِفروائم، ہینع اور عِوّاہ کے بادشاہ کہاں ہیں؟“‏“‏

14 حِزقیاہ نے قاصدوں کے ہاتھ سے خط لے کر پڑھے۔ اِس کے بعد وہ یہوواہ کے گھر میں گئے اور اِنہیں*‏ یہوواہ کے حضور پھیلا دیا۔ 15 پھر وہ یہوواہ سے دُعا کرنے اور کہنے لگے:‏ 16 ‏”‏اِسرائیل کے خدا، ہاں، فوجوں کے خدا یہوواہ!‏ تُو جو کروبیوں کے اُوپر*‏ تخت‌نشین ہے، صرف تُو ہی زمین کی سب بادشاہتوں کا خدا ہے۔ تُو نے آسمان اور زمین کو بنایا ہے۔ 17 اَے یہوواہ!‏ توجہ فرما اور سُن!‏ اَے یہوواہ!‏ اپنی آنکھیں کھول اور دیکھ!‏ اُن سب باتوں پر دھیان دے جو سِنّحیرِب نے زندہ خدا کی توہین کرنے کے لیے لکھ کر بھیجی ہیں۔ 18 اَے یہوواہ!‏ یہ سچ ہے کہ اسور کے بادشاہوں نے سب ملکوں اور اپنے ملک کو بھی تہس‌نہس کِیا ہے۔ 19 اُنہوں نے اُن کے خداؤں کو آگ میں جھونک دیا کیونکہ وہ خدا نہیں تھے بلکہ لکڑی اور پتھر اور اِنسانوں کے ہاتھ کا کام تھے۔ اِسی لیے وہ اُنہیں تباہ کر پائے۔ 20 لیکن اب اَے ہمارے خدا یہوواہ!‏ ہمیں اُس کے ہاتھ سے بچا لے تاکہ زمین کی سب بادشاہتیں جان لیں کہ اَے یہوواہ!‏ صرف تُو ہی خدا ہے۔“‏

21 تب آموص کے بیٹے یسعیاہ نے حِزقیاہ کو یہ پیغام بھجوایا:‏ ”‏اِسرائیل کے خدا یہوواہ نے فرمایا ہے:‏ ”‏تُم نے اسور کے بادشاہ سِنّحیرِب کے حوالے سے دُعا کی ہے 22 اِس لیے یہوواہ نے اُس کے خلاف یہ فرمایا ہے:‏

‏”‏صِیّون کی کنواری بیٹی تمہاری حقارت کرتی ہے؛ وہ تمہارا مذاق اُڑاتی ہے۔‏

یروشلم کی بیٹی سر ہلا ہلا کر تُم پر ہنستی ہے۔‏

23 تُم نے کس کی توہین کی ہے اور کس کے خلاف کُفر بکا ہے؟‏

تُم نے کس کے خلاف آواز بلند کی ہے؟‏

تُم کس کو غرور سے بھری آنکھیں دِکھا رہے ہو؟‏

اِسرائیل کے پاک خدا کو!‏

24 تُم نے اپنے خادموں کے ذریعے یہوواہ کی توہین کی ہے اور کہا ہے:‏

‏”‏مَیں اپنے بے‌شمار جنگی رتھوں کو لے کر

پہاڑوں کی اُونچائیوں پر چڑھ جاؤں گا

اور لبنان کے دُوردراز حصوں تک پہنچ جاؤں گا۔‏

مَیں اُس کے اُونچے اُونچے دیوداروں اور صنوبر کے بہترین درختوں کو کاٹ دوں گا۔‏

مَیں اُس کے بلندترین ٹھکانوں، ہاں، اُس کے گھنے جنگلوں میں داخل ہو جاؤں گا۔‏

25 مَیں کنوئیں کھودوں گا اور پانی پیوں گا؛‏

مَیں اپنے پاؤں کے تلووں سے مصر کی ندیاں*‏ سُکھا دوں گا۔“‏

26 کیا تُم نے سنا نہیں ہے؟ مَیں نے صدیوں پہلے یہ فیصلہ کر لیا تھا*‏

اور بیتے دنوں سے اِس کی تیاری کر لی تھی۔‏*‏

اب مَیں اِسے انجام تک پہنچاؤں گا۔‏

تُم قلعہ‌بند شہروں کو ملبے کا ڈھیر اور کھنڈر بنا دو گے۔‏

27 اُن کے باشندے بے‌سہارا ہو جائیں گے؛‏

وہ خوف‌زدہ اور رُسوا ہوں گے۔‏

وہ میدان کی گھاس اور ہریالی کی طرح ہو جائیں گے،‏

ہاں، چھتوں پر اُگنے والی اُس گھاس کی طرح جو مشرقی ہوا سے جُھلس جاتی ہے۔‏

28 جب تُم بیٹھتے ہو، کہیں آتے ہو، کہیں جاتے ہو

اور مجھ پر بھڑکتے ہو تو مَیں یہ سب اچھی طرح جانتا ہوں

29 کیونکہ تمہارا میرے خلاف بھڑکنا اور دھاڑنا میرے کانوں تک پہنچا ہے۔‏

اِس لیے مَیں تمہاری ناک میں اپنی نکیل اور تمہارے مُنہ میں اپنی لگام ڈالوں گا

اور تمہیں اُس راستے سے واپس لے جاؤں گا جس سے تُم آئے ہو۔“‏

30 تمہارے لیے*‏ اِس کی یہ نشانی ہوگی:‏ اِس سال تُم وہ اناج کھاؤ گے جو خودبخود اُگے گا؛‏*‏ دوسرے سال تُم وہ اناج کھاؤ گے جو پہلی پیداوار سے اُگے گا لیکن تیسرے سال تُم بیج بوؤ گے اور فصل کاٹو گے اور تُم انگور کے باغ لگاؤ گے اور اُن کا پھل کھاؤ گے۔ 31 لیکن یہوداہ کے گھرانے کے زندہ بچے ہوئے لوگ گہرائی تک*‏ جڑ پکڑیں گے اور بے‌شمار*‏ پھل پیدا کریں گے 32 کیونکہ لوگوں کا بچا ہوا حصہ یروشلم سے باہر آئے گا اور جو زندہ بچیں گے، وہ کوہِ‌صِیّون سے آئیں گے۔ فوجوں کا خدا یہوواہ اپنی غیرت کی وجہ سے ایسا کرے گا۔‏

33 اِس لیے یہوواہ نے اسور کے بادشاہ کے بارے میں یہ فرمایا ہے:‏

‏”‏وہ اِس شہر میں نہیں آئے گا؛‏

نہ یہاں تیر چلائے گا؛‏

نہ ڈھال سے اِس کا مقابلہ کرے گا

اور نہ اِس تک پہنچنے کے لیے ڈھلان بنائے گا۔“‏“‏

34 ‏”‏وہ جس راستے سے آیا ہے، اُسی سے لوٹ جائے گا؛‏

وہ اِس شہر میں نہیں آئے گا۔“‏ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔‏

35 ‏”‏مَیں اِس شہر کا دِفاع کروں گا اور اپنی خاطر

اور اپنے بندے داؤد کی خاطر اِسے بچاؤں گا۔“‏“‏

36 یہوواہ کے فرشتے نے اسوریوں کی خیمہ‌گاہ میں جا کر 1 لاکھ 85 ہزار آدمیوں کو مار ڈالا۔ جب لوگ صبح سویرے اُٹھے تو اُنہوں نے دیکھا کہ ہر طرف لاشیں پڑی ہیں۔ 37 تب اسور کا بادشاہ سِنّحیرِب وہاں سے چلا گیا اور نِینوہ لوٹ گیا اور وہیں رہا۔ 38 ایک دن جب وہ اپنے خدا نِسروک کے مندر*‏ میں اُس کے سامنے جھک رہا تھا تو اُس کے اپنے بیٹوں ادرم‌مَلِک اور شراضر نے تلوار سے وار کر کے اُسے مار ڈالا اور اراراط کے علاقے میں بھاگ گئے۔ پھر اُس کا بیٹا اِسرحدّون اُس کی جگہ بادشاہ بنا۔‏

38 اُن دنوں میں حِزقیاہ بیمار پڑ گئے۔ اُن کی حالت اِتنی خراب ہو گئی کہ وہ مرنے والے تھے۔ تب آموص کے بیٹے یسعیاہ اُن کے پاس آئے اور اُن سے کہا:‏ ”‏یہوواہ نے فرمایا ہے:‏ ”‏اپنے گھرانے کو ضروری ہدایتیں دو کیونکہ تُم ٹھیک نہیں ہو گے بلکہ مر جاؤ گے۔“‏“‏ 2 اِس پر حِزقیاہ نے اپنا مُنہ دیوار کی طرف کر لیا اور یہوواہ سے یہ دُعا کرنے لگے:‏ 3 ‏”‏اَے یہوواہ!‏ مَیں تجھ سے مِنت کرتا ہوں کہ مہربانی سے یاد فرما کہ مَیں وفاداری اور پورے دل سے تیری راہوں پر چلتا رہا ہوں اور مَیں نے وہی کام کیے ہیں جو تیری نظر میں صحیح ہیں۔“‏ اِس کے بعد حِزقیاہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔‏

4 پھر یہوواہ کا یہ کلام یسعیاہ تک پہنچا:‏ 5 ‏”‏واپس جاؤ اور حِزقیاہ سے کہو:‏ ”‏تمہارے بڑے بزرگ داؤد کے خدا یہوواہ نے فرمایا ہے:‏ ”‏مَیں نے تمہاری دُعا سنی ہے۔ مَیں نے تمہارے آنسو دیکھے ہیں۔ مَیں تمہاری عمر 15 سال اَور بڑھا رہا ہوں۔ 6 مَیں تمہیں اور اِس شہر کو اسور کے بادشاہ کے ہاتھ سے بچا لوں گا اور اِس شہر کا دِفاع کروں گا۔ 7 یہوواہ نے آپ کو یہ دِکھانے کے لیے کہ یہوواہ اپنی بات پوری کرے گا، یہ نشانی دی ہے:‏ 8 مَیں آخز کی سیڑھیوں*‏ پر سورج کے ڈھلتے سائے کو دس قدم پیچھے کر دوں گا۔“‏“‏“‏ اِس پر سورج کا وہ سایہ جو سیڑھیوں پر آگے جا چُکا تھا، دس قدم پیچھے آ گیا۔‏

9 یہوداہ کے بادشاہ حِزقیاہ کی ایک تحریر جو اُنہوں نے بیمار ہونے اور بیماری سے ٹھیک ہونے کے بعد لکھی:‏

10 مَیں نے کہا:‏ ”‏مَیں اپنی آدھی عمر جی کر

قبر*‏ کے دروازوں سے اندر داخل ہو جاؤں گا۔‏

مجھے میری زندگی کے بچے ہوئے سالوں سے محروم کر دیا جائے گا۔“‏

11 مَیں نے کہا:‏ ”‏مَیں یاہ*‏ کو، ہاں، زمین پر*‏ یاہ کو نہیں دیکھوں گا۔‏

مَیں اِنسانوں کو پھر نہیں دیکھ پاؤں گا

کیونکہ مَیں اُس جگہ کے باشندوں کے ساتھ ہوں گا جہاں سب کچھ مٹ جاتا ہے۔‏

12 چرواہے کے خیمے کی طرح

میری رہائش‌گاہ کو اُکھاڑ کر مجھ سے دُور کر دیا گیا ہے۔‏

جیسے جُلا‌ہا کپڑا بُن کر اُسے لپیٹتا ہے

ویسے ہی مَیں نے اپنی زندگی کو لپیٹ لیا ہے؛‏

خدا میری زندگی کو تانے*‏ کی طرح کاٹ دیتا ہے۔‏

صبح سے رات تک وہ مجھے ختم کرتا رہتا ہے۔‏

13 مَیں صبح تک خود کو پُرسکون کرتا ہوں۔‏

وہ ایک شیر کی طرح میری ساری ہڈیوں کو توڑتا رہتا ہے؛‏

صبح سے رات تک وہ مجھے ختم کرتا رہتا ہے۔‏

14 مَیں کوہی ابابیل اور بلبل*‏ کی طرح چِیں چِیں کرتا رہتا ہوں؛‏

مَیں کبوتر کی طرح غُوں غُوں کرتا رہتا ہوں۔‏

میری آنکھیں اُوپر دیکھتے دیکھتے تھک گئی ہیں:‏

‏”‏اَے یہوواہ!‏ مَیں بڑی تکلیف میں ہوں؛‏

میرا سہارا*‏ بن!‏“‏

15 مَیں کیا کہہ سکتا ہوں؟‏

اُس نے مجھ سے جو کہا، وہ کِیا۔‏

مَیں اپنے تلخ تجربے*‏ کو یاد رکھتے ہوئے

ساری زندگی خاکساری*‏ سے چلوں گا۔‏

16 ‏”‏اَے یہوواہ!‏ اِنہی چیزوں*‏ کی وجہ سے ہر اِنسان زندہ رہتا ہے

اور اِنہی کی وجہ سے مجھ میں زندہ رہنے کی قوت ہے۔‏*‏

تُو میری صحت ٹھیک کرے گا اور مجھے زندہ رکھے گا۔‏

17 دیکھ!‏ میرے اندر سکون کی بجائے کڑواہٹ بھری تھی

لیکن تجھے مجھ سے*‏ گہرا لگاؤ تھا

اِس لیے تُو نے مجھے تباہی کے گڑھے سے بچا لیا۔‏

تُو نے میرے سارے گُناہوں کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا۔‏*‏

18 قبر*‏ تیری ستائش نہیں کر سکتی؛‏

موت تیری بڑائی نہیں کر سکتی۔‏

جو گڑھے میں اُتر جاتے ہیں، وہ تیری وفاداری پر آس نہیں لگا سکتے۔‏

19 زندہ، ہاں، زندہ اِنسان تیری بڑائی کر سکتے ہیں

جیسے آج مَیں کر رہا ہوں۔‏

ایک باپ اپنے بیٹوں کو تیری وفاداری کے بارے میں سکھا سکتا ہے۔‏

20 اَے یہوواہ!‏ مجھے بچا

تاکہ ہم ساری زندگی یہوواہ کے گھر میں

تاردار سازوں پر میرے گیتوں کی دُھنیں بجا سکیں۔“‏“‏

21 پھر یسعیاہ نے بادشاہ کے خادموں سے کہا:‏ ”‏خشک اِنجیروں کی ایک ٹکی لاؤ اور اِسے پھوڑے پر لگاؤ تاکہ حِزقیاہ ٹھیک ہو جائیں۔“‏ 22 حِزقیاہ نے پوچھا تھا:‏ ”‏اِس بات کی کیا نشانی ہے کہ مَیں یہوواہ کے گھر جاؤں گا؟“‏

39 اُس وقت بابل کے بادشاہ مِرودک‌بَلدان نے جو بَلدان کا بیٹا تھا، حِزقیاہ کو ایک تحفہ اور خط بھیجے کیونکہ اُس نے سنا تھا کہ حِزقیاہ بیمار تھے اور ٹھیک ہو گئے تھے۔ 2 حِزقیاہ نے خوشی سے اُس کے قاصدوں کا خیرمقدم کِیا*‏ اور اُنہیں اپنا خزانہ‌گھر دِکھایا یعنی چاندی، سونا، بلسان کا تیل، دوسرے قیمتی تیل، سارا اسلحہ‌خانہ اور باقی سب چیزیں بھی جو اُن کے خزانوں میں موجود تھیں۔ حِزقیاہ کے محل اور اُن کی پوری سلطنت میں ایسی کوئی چیز نہیں تھی جو اُنہوں نے قاصدوں کو نہ دِکھائی ہو۔‏

3 اِس کے بعد یسعیاہ نبی بادشاہ حِزقیاہ کے پاس آئے اور اُن سے پوچھا:‏ ”‏یہ آدمی کہاں سے آئے تھے اور کیا کہہ رہے تھے؟“‏ حِزقیاہ نے جواب دیا:‏ ”‏وہ ایک دُوردراز ملک بابل سے آئے تھے۔“‏ 4 پھر یسعیاہ نے پوچھا:‏ ”‏اُنہوں نے آپ کے محل میں کیا کچھ دیکھا؟“‏ حِزقیاہ نے جواب دیا:‏ ”‏اُنہوں نے میرے محل میں سب کچھ دیکھا۔ میرے خزانوں میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو مَیں نے اُنہیں نہ دِکھائی ہو۔“‏

5 اِس پر یسعیاہ نے حِزقیاہ سے کہا:‏ ”‏فوجوں کے خدا یہوواہ کا فرمان سنیں:‏ 6 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏دیکھو!‏ وہ دن آ رہے ہیں جب وہ سب کچھ جو تمہارے محل میں ہے اور وہ سب کچھ جو تمہارے باپ‌دادا نے آج کے دن تک جمع کِیا ہے، بابل لے جایا جائے گا۔ ایک بھی چیز نہیں چھوڑی جائے گی۔ 7 اور تمہارے جو بیٹے پیدا ہوں گے، اُن میں سے کچھ کو بابل لے جایا جائے گا اور وہ بابل کے بادشاہ کے محل میں درباری ہوں گے۔“‏“‏

8 اِس پر حِزقیاہ نے یسعیاہ سے کہا:‏ ”‏آپ نے یہوواہ کا جو کلام سنایا ہے، وہ صحیح ہے۔“‏ پھر اُنہوں نے کہا:‏ ”‏کیونکہ میری زندگی کے دوران ملک میں امن اور سلامتی*‏ رہے گی۔“‏

40 آپ کا خدا فرماتا ہے:‏ ”‏میرے بندوں کو تسلی دو، ہاں، تسلی دو۔‏

 2 یروشلم کو دِلاسا دو

اور اُسے بتاؤ کہ اُس کی جبری مشقت پوری ہو گئی ہے؛‏

اُس نے اپنے گُناہ کی قیمت چُکا دی ہے۔‏

اُسے یہوواہ کے ہاتھ سے اپنے سب گُناہوں کی پوری*‏ سزا مل چُکی ہے۔“‏

 3 ویرانے میں کوئی پکار رہا ہے:‏

‏”‏یہوواہ کا راستہ تیار*‏ کرو!‏

ہمارے خدا کے لیے ریگستان کے راستے ایک سیدھی شاہراہ بناؤ۔‏

 4 ہر وادی اُونچی کی جائے

اور ہر پہاڑ اور ٹیلا نیچا کِیا جائے۔‏

ناہموار زمین کو ہموار کِیا جائے

اور اُونچی نیچی زمین کو میدان بنا دیا جائے۔‏

 5 یہوواہ کی شان ظاہر ہوگی

اور سارے اِنسان اِسے دیکھیں گے

کیونکہ یہ بات یہوواہ نے اپنے مُنہ سے فرمائی ہے۔“‏

 6 سُن!‏ کوئی کہہ رہا ہے:‏ ”‏اُونچی آواز میں کہو!‏“‏

دوسرا پوچھ رہا ہے:‏ ”‏مَیں اُونچی آواز میں کیا کہوں؟“‏

‏”‏سب اِنسان ہری گھاس کی طرح ہیں۔‏

اُن کی ساری اٹوٹ محبت میدان کے پھول کی طرح ہے۔‏

 7 جب یہوواہ کی پھونک*‏ پڑتی ہے

تو ہری گھاس سُوکھ جاتی ہے

اور پھول مُرجھا جاتا ہے۔‏

بے‌شک لوگ بس ہری گھاس کی طرح ہیں۔‏

 8 ہری گھاس سُوکھ جاتی ہے

اور پھول مُرجھا جاتا ہے۔‏

لیکن ہمارے خدا کا کلام ہمیشہ قائم رہتا ہے۔“‏

 9 صِیّون کے لیے خوش‌خبری لانے والی عورت!‏

اُونچے پہاڑ پر جا۔‏

یروشلم کے لیے خوش‌خبری لانے والی عورت!‏

اُونچی آواز میں پکار،‏

ہاں، اُونچی آواز میں پکار، ڈر نہیں۔‏

یہوداہ کے شہروں میں یہ اِعلان کر:‏ ”‏وہ رہا تمہارا خدا!‏“‏

10 دیکھ!‏ حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ بڑی طاقت کے ساتھ آئے گا

اور اُس کا بازو اُس کی طرف سے حکمرانی کرے گا۔‏

دیکھ!‏ اجر اُس کے ہاتھ میں ہے

اور جو مزدوری وہ دیتا ہے، وہ اُس کے پاس ہے۔‏

11 وہ ایک چرواہے کی طرح اپنے گلّے کی دیکھ‌بھال*‏ کرے گا۔‏

وہ میمنوں کو اپنے بازو سے اِکٹھا کرے گا

اور اُنہیں اپنی بانہوں میں اُٹھائے گا۔‏

وہ اُن کو جو اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں، آہستہ آہستہ لے کر جائے گا۔‏

12 کس نے پانیوں کو اپنی ہتھیلی میں لے کر ناپا ہے

اور کس نے اپنی بالشت*‏ سے آسمان کی پیمائش کی ہے؟‏

کس نے زمین کی مٹی کو پیمانے میں جمع کِیا ہے

یا پہاڑوں کو پلڑوں میں

اور پہاڑیوں کو ترازو میں تولا ہے؟‏

13 کس نے یہوواہ کی قوت*‏ کو ناپا*‏ ہے

اور کون اُس کا مُشیر بن کر اُسے مشورہ دے سکتا ہے؟‏

14 اُس نے سمجھ حاصل کرنے کے لیے کس سے مشورہ کِیا

یا کون اُسے اِنصاف کی راہ کی تعلیم دیتا ہے

یا کون اُسے علم دیتا ہے

یا سچی سمجھ کا راستہ دِکھاتا ہے؟‏

15 دیکھ!‏ قومیں بالٹی کے پانی کے ایک قطرے کی طرح ہیں

اور اُنہیں ترازو پر پڑی گرد کی باریک تہہ کی طرح سمجھا جاتا ہے۔‏

دیکھ!‏ وہ جزیروں کو مٹی کے ذرّوں کی طرح اُٹھا لیتا ہے۔‏

16 لبنان کے سارے درخت بھی آگ جلائے رکھنے کے لیے کافی نہیں ہیں*‏

اور اُس کے جنگلی جانور بھسم ہونے والی قربانی کے لیے کافی نہیں ہیں۔‏

17 اُس کے سامنے ساری قومیں ایسے ہیں جیسے اُن کا وجود نہ ہو؛‏

وہ اُس کے لیے ناچیز ہیں، ہاں، اُن کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔‏

18 تُم خدا کا موازنہ کس سے کر سکتے ہو؟‏

تُم اُسے کس سے تشبیہ دے سکتے ہو؟‏

19 کاریگر دھات کا ایک بُت بناتا ہے؛‏

دھات‌گر اُس پر سونے کی پرت چڑھاتا ہے

اور اُس کے لیے چاندی کی زنجیریں بناتا ہے۔‏

20 ایک شخص عطیہ کرنے کے لیے ایک درخت چُنتا ہے،‏

ہاں، ایک ایسا درخت جو خراب نہیں ہوگا۔‏

وہ ایک ماہر کاریگر ڈھونڈتا ہے

تاکہ وہ ایک تراشی ہوئی مورت بنائے جو گِرے نہیں۔‏

21 کیا تُم نہیں جانتے؟‏

کیا تُم نے نہیں سنا؟‏

کیا تمہیں شروع سے نہیں بتایا گیا؟‏

کیا تُم تب سے نہیں سمجھے جب سے زمین کی بنیادیں ڈالی گئیں؟‏

22 ایک ہستی ہے جو زمین کے دائرے*‏ کے اُوپر رہتی ہے

اور زمین کے باشندے ٹڈوں کی طرح ہیں۔‏

وہ آسمان کو ایک باریک پردے کی طرح اور ایک خیمے کی طرح پھیلاتا ہے

تاکہ اُس میں رہ سکے۔‏

23 وہ اعلیٰ عہدےداروں کے اِختیار کو مٹی میں ملا دیتا ہے

اور زمین کے منصفوں*‏ کو ایسے بنا دیتا ہے جیسے اُن کی کوئی حقیقت نہ ہو۔‏

24 وہ ابھی لگائے ہی گئے ہوتے ہیں؛‏

وہ ابھی بوئے ہی گئے ہوتے ہیں؛‏

اُن کے تنے نے ابھی زمین میں جڑ پکڑی ہی ہوتی ہے

کہ اُن پر پھونک ماری جاتی ہے اور وہ سُوکھ جاتے ہیں

اور ہوا اُنہیں بھوسے کی طرح اُڑا لے جاتی ہے۔‏

25 پاک خدا فرماتا ہے:‏ ”‏تُم مجھے کس سے تشبیہ دو گے کہ مجھے اُس کے برابر ٹھہرا سکو؟‏

26 اپنی نظریں آسمان کی طرف اُٹھاؤ اور دیکھو۔‏

اِن چیزوں کو کس نے بنایا ہے؟‏

اُس نے جو اُن کی فوج کو گن کر باہر لاتا ہے۔‏

وہ اُن سب کو نام سے بُلاتا ہے۔‏

اُس کی بے‌پناہ توانائی اور حیرت‌انگیز طاقت کی وجہ سے

اُن میں سے ایک بھی غیرحاضر نہیں ہوتا۔‏

27 اَے یعقوب!‏ تُو کیوں یہ کہتا ہے

اور اَے اِسرائیل!‏ تُو کیوں یہ اِعلان کرتا ہے:‏

‏”‏میری راہ یہوواہ سے چھپی ہے

اور مجھے خدا سے کوئی اِنصاف نہیں ملتا“‏؟‏

28 کیا تُو نہیں جانتا؟ کیا تُو نے نہیں سنا؟‏

یہوواہ جو زمین کے کونے کونے کا خالق ہے، ہمیشہ ہمیشہ تک خدا ہے۔‏

وہ کبھی تھکتا نہیں اور کبھی نڈھال نہیں ہوتا۔‏

اُس کی سمجھ‌داری کی تہہ تک کوئی نہیں پہنچ سکتا۔‏*‏

29 وہ تھکے ہوئے شخص کو قوت دیتا ہے

اور اُن کو بھرپور توانائی سے نوازتا ہے جن کی طاقت کم ہے۔‏

30 لڑکے تھک جائیں گے اور نڈھال ہو جائیں گے؛‏

جوان آدمی لڑکھڑائیں گے اور گِر جائیں گے۔‏

31 لیکن یہوواہ سے اُمید لگانے والے پھر سے طاقت پائیں گے۔‏

وہ عقابوں کی طرح پَر پھیلا کر اُونچا اُڑیں گے۔‏

وہ بھاگیں گے اور نڈھال نہیں ہوں گے؛‏

وہ چلیں گے اور تھکیں گے نہیں۔“‏

41 ‏”‏جزیرو!‏ خاموشی سے میری بات سنو!‏*‏

قوموں کی طاقت بحال ہو۔‏

وہ قریب آئیں اور پھر بات کریں۔‏

آؤ عدالت کے لیے اِکٹھے ہوں۔‏

 2 کس نے کسی کو مشرق سے*‏ اُٹھایا ہے

اور نیکی کرنے کے لیے اپنے قدموں میں*‏ بُلایا ہے

تاکہ قوموں کو اُس کے حوالے کرے

اور بادشاہوں کو اُس کے تابع کرے؟‏

کون اُنہیں اُس کی تلوار کے سامنے مٹی میں ملا دیتا ہے

اور اُس کی کمان کے سامنے اُڑتے بھوسے کی طرح بکھیر دیتا ہے؟‏

 3 وہ اُن کا پیچھا کرتا ہے اور بِنا رُکاوٹ اُن راستوں پر آگے نکل جاتا ہے

جن پر پہلے کبھی اُس کے قدم نہیں پڑے ہوتے۔‏

 4 کس نے کارروائی کی ہے اور یہ سب کِیا ہے؟‏

کس نے شروعات سے پُشتوں کو بُلایا ہے؟‏

مَیں نے، ہاں، یہوواہ نے جو اوّل ہوں

اور مَیں آخری پُشتوں کے لیے بھی ایسا ہی رہوں گا۔“‏

 5 جزیروں نے یہ دیکھا ہے اور ڈر گئے ہیں۔‏

زمین کا کونا کونا کانپنے لگا ہے۔‏

وہ اِکٹھے ہو کر آگے بڑھتے ہیں۔‏

 6 ہر کوئی اپنے ساتھی کی مدد کرتا ہے

اور اپنے بھائی سے کہتا ہے:‏ ”‏مضبوط بنو۔“‏

 7 کاریگر دھات‌گر کی ہمت بڑھاتا ہے

اور ہتھوڑے سے ہموار کرنے والا اُس کا حوصلہ بڑھاتا ہے

جو سندان*‏ پر ہتھوڑے مارتا ہے۔‏

وہ ٹانکوں کے بارے میں کہتا ہے:‏ ”‏یہ بالکل صحیح لگے ہیں۔“‏

پھر وہ اُس چیز کو کیل ٹھونک کر مضبوط کرتا ہے تاکہ وہ گِر نہ جائے۔‏

 8 ‏”‏لیکن اَے اِسرائیل!‏ تُو میرا خادم ہے؛‏

اَے یعقوب!‏ مَیں نے تجھے چُنا ہے؛‏

تُو میرے دوست اَبراہام کی نسل ہے؛‏

 9 مَیں تجھے زمین کے کونے کونے سے لایا ہوں

اور مَیں نے تجھے اِس کے دُوردراز علاقوں سے بُلایا ہے۔‏

مَیں نے تجھ سے کہا:‏ ”‏تُو میرا خادم ہے؛‏

مَیں نے تجھے چُنا ہے؛ مَیں نے تجھے ترک نہیں کِیا ہے۔‏

10 ڈر نہیں کیونکہ مَیں تیرے ساتھ ہوں۔‏

پریشان نہ ہو کیونکہ مَیں تیرا خدا ہوں۔‏

مَیں تجھے مضبوط کروں گا، ہاں، مَیں تیری مدد کروں گا؛‏

مَیں نیکی کے اپنے دائیں ہاتھ سے ضرور تجھے تھامے رکھوں گا۔“‏

11 دیکھ!‏ تجھ پر بھڑکنے والے سب لوگوں کو شرمندہ اور رُسوا کِیا جائے گا۔‏

تجھ سے لڑنے والوں کو مٹا دیا جائے گا اور ہلاک کر دیا جائے گا۔‏

12 تُو ایسے آدمیوں کو ڈھونڈے گا جو تجھ سے لڑتے ہیں لیکن وہ تجھے نہیں ملیں گے؛‏

تجھ سے جنگ کرنے والے آدمی ایسے ہو جائیں گے جیسے اُن کا وجود نہ ہو، ہاں، وہ مٹ جائیں گے

13 کیونکہ مَیں تیرا خدا یہوواہ تیرا دایاں ہاتھ پکڑ رہا ہوں؛‏

مَیں تجھ سے کہہ رہا ہوں:‏ ”‏ڈر نہیں۔ مَیں تیری مدد کروں گا۔“‏

14 اَے کیڑے*‏ یعقوب!‏ ڈر نہیں۔‏

اِسرائیل کے آدمیو!‏ مَیں تمہاری مدد کروں گا۔“‏

یہ بات تمہیں چھڑانے والا*‏ یعنی اِسرائیل کا خدا یہوواہ فرما رہا ہے۔‏

15 ‏”‏دیکھ!‏ مَیں نے تجھے ہینگا*‏ بنایا ہے،‏

ہاں، ایک نیا گاہنے کا آلہ جس کے دونوں طرف دندانے ہوں۔‏

تُو پہاڑوں کو روندے گا اور اُنہیں کچل دے گا

اور پہاڑیوں کو بھوسے کی طرح بنا دے گا۔‏

16 تُو اُنہیں پھٹکے گا

اور ہوا اُنہیں اُڑا کر لے جائے گی؛‏

آندھی اُنہیں بکھیر دے گی۔‏

تُو یہوواہ کی وجہ سے خوش ہوگا

اور اِسرائیل کے پاک خدا پر فخر کرے گا۔“‏

17 ‏”‏ضرورت‌مند اور غریب لوگ پانی کی تلاش میں ہیں لیکن پانی نہیں ہے۔‏

اُن کی زبان پیاس کے مارے خشک ہو گئی ہے۔‏

مَیں یہوواہ اُنہیں جواب دوں گا۔‏

مَیں اِسرائیل کا خدا اُنہیں ترک نہیں کروں گا۔‏

18 مَیں بنجر پہاڑیوں پر دریا بہاؤں گا

اور وادیوں میں چشمے۔‏

مَیں ویرانے کو سرکنڈوں والے تالاب میں بدل دوں گا

اور خشک زمین کو پانی کے چشموں میں۔‏

19 مَیں ریگستان میں دیودار،‏

کیکر، مہندی اور چیڑ کے درخت لگاؤں گا۔‏

مَیں بنجر میدان میں صنوبر،‏

ایش اور سرو کے درخت لگاؤں گا

20 تاکہ سب لوگ دیکھ سکیں، جان سکیں،‏

دھیان دے سکیں اور سمجھ سکیں

کہ یہ یہوواہ کے ہاتھ کا کام ہے

اور یہ اِسرائیل کے پاک خدا نے کِیا*‏ ہے۔“‏

21 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اپنا مُقدمہ پیش کرو۔“‏

یعقوب کا بادشاہ کہتا ہے:‏ ”‏اپنی دلیلیں دو۔‏

22 ثبوت پیش کرو اور ہمیں بتاؤ کہ آگے کیا ہوگا۔‏

ہمیں گزری*‏ باتوں کے بارے میں بتاؤ

تاکہ ہم اُن پر غور کر سکیں اور جان سکیں کہ اُن کا انجام کیا ہوگا

یا ہمیں اُن باتوں کے بارے میں بتاؤ جو ہونے والی ہیں۔‏

23 ہمیں بتاؤ کہ مستقبل میں کیا ہوگا

تاکہ ہمیں پتہ چلے کہ تُم خدا ہو،‏

ہاں، کچھ کرو پھر چاہے وہ اچھا ہو یا بُرا

تاکہ ہم اُسے دیکھ کر حیران رہ جائیں۔‏

24 دیکھو!‏ تمہارا کوئی وجود نہیں ہے

اور تمہارے کام بے‌کار ہیں۔‏

جو بھی شخص تمہیں چُنتا ہے، وہ گھناؤنا ہے۔‏

25 مَیں نے شمال سے کسی کو کھڑا کِیا ہے اور وہ آئے گا،‏

ہاں، اُسے جو مشرق سے*‏ آئے گا اور میرا نام لے گا۔‏

وہ حکمرانوں*‏ کو ایسے روندے گا جیسے وہ مٹی ہوں،‏

ہاں، ویسے ہی جیسے کُمہار گیلی مٹی کو روندتا ہے۔‏

26 کس نے شروع سے اِس بارے میں بتایا تاکہ ہم جان سکیں؟‏

کس نے قدیم زمانے سے اِس بارے میں بتایا تاکہ ہم کہہ سکیں کہ ”‏وہ صحیح ہے“‏؟‏

کسی نے بھی اِس کا اِعلان نہیں کِیا!‏

کسی نے بھی اِس بارے میں نہیں بتایا!‏

کسی نے بھی تُم سے اِس بارے میں نہیں سنا!‏“‏

27 سب سے پہلے مَیں نے صِیّون سے کہا:‏ ”‏دیکھ!‏ یہ سب ہونے والا ہے!‏“‏

اور مَیں یروشلم میں ایک خوش‌خبری سنانے والے کو بھیجوں گا۔‏

28 مَیں دیکھتا رہا مگر وہاں کوئی نہیں تھا؛‏

اُن میں سے مشورہ دینے والا کوئی نہیں تھا۔‏

مَیں اُن سے جواب مانگتا رہا۔‏

29 دیکھو!‏ وہ سب محض دھوکا ہیں۔‏*‏

اُن کے کام فضول ہیں۔‏

اُن کے دھات کے بُت ہوا کی طرح ہیں اور اُن کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔‏

42 دیکھو!‏ میرا خادم جس کی مَیں مدد کرتا ہوں!‏

میرا چُنا ہوا بندہ جس سے مَیں*‏ خوش ہوں!‏

مَیں نے اپنی روح*‏ اُس پر نازل کی ہے؛‏

وہ قوموں میں اِنصاف قائم کرے گا۔‏

 2 وہ نہ تو چلّائے گا اور نہ اپنی آواز بلند کرے گا؛‏

اُس کی آواز گلیوں میں سنائی نہیں دے گی۔‏

 3 وہ کسی کچلے ہوئے سرکنڈے کو نہیں توڑے گا

اور کسی ٹمٹماتی ہوئی بتی کو نہیں بجھائے گا۔‏

وہ وفاداری سے اِنصاف قائم کرے گا۔‏

 4 وہ مدھم نہیں پڑے گا اور نہ ہی کچلا جائے گا جب تک کہ وہ زمین پر اِنصاف قائم نہ کر دے

اور جزیرے اُس کی شریعت*‏ کے اِنتظار میں رہیں گے۔‏

 5 سچا خدا یہوواہ جو آسمان کا خالق اور اِسے پھیلانے والا عظیم خدا ہے؛‏

جس نے زمین اور اِس کی پیداوار کو پھیلایا ہے؛‏

جو اِس پر رہنے والے اِنسانوں کو سانس دیتا ہے

اور اِس پر چلنے والوں میں دم*‏ پھونکتا ہے، فرماتا ہے:‏

 6 ‏”‏مَیں نے یعنی یہوواہ نے تمہیں نیکی کی وجہ سے بُلایا ہے؛‏

مَیں نے تمہارا ہاتھ تھاما ہے۔‏

مَیں تمہیں محفوظ رکھوں گا اور تمہیں لوگوں کے لیے ایک عہد کے طور پر

اور قوموں کی روشنی کے طور پر دوں گا

 7 تاکہ تُم اندھوں کی آنکھیں کھولو؛‏

قیدیوں کو کال کوٹھڑی سے آزاد کرو

اور تاریکی میں بیٹھے لوگوں کو قیدخانے سے باہر نکالو۔‏

 8 مَیں یہوواہ ہوں۔ یہی میرا نام ہے؛‏

مَیں نہ تو اپنی شان کسی کو دوں گا*‏

اور نہ اپنی حمد تراشی ہوئی مورتوں کو۔‏

 9 دیکھو، پہلی باتیں ہو چُکی ہیں؛‏

اب مَیں نئی باتوں کا اِعلان کر رہا ہوں۔‏

مَیں اُن کے ہونے سے پہلے تمہیں اُن کے بارے میں بتا رہا ہوں۔“‏

10 سمندر اور اُس کی سب چیزوں کے پاس جانے والو!‏

جزیرو اور اُن پر رہنے والو!‏

یہوواہ کے لیے ایک نیا گیت گاؤ،‏

ہاں، زمین کے کونے کونے سے اُس کی بڑائی کرو۔‏

11 ویرانہ اور اِس کے شہر اپنی آواز بلند کریں،‏

ہاں، وہ بستیاں جہاں قیدار بستا ہے۔‏

چٹان کے باشندے خوشی سے للکاریں،‏

ہاں، وہ پہاڑوں کی چوٹی سے اُونچی آواز میں للکاریں۔‏

12 وہ یہوواہ کی تعظیم کریں

اور جزیروں میں اُس کی بڑائی کریں۔‏

13 یہوواہ ایک زورآور آدمی کی طرح نکلے گا۔‏

وہ ایک جنگجو کی طرح اپنا جوش*‏ جگائے گا۔‏

وہ للکارے گا، ہاں، وہ جنگ کا نعرہ مارے گا؛‏

وہ دِکھائے گا کہ وہ اپنے دُشمنوں سے زیادہ طاقت‌ور ہے۔‏

14 ‏”‏مَیں کافی عرصے سے چپ رہا ہوں۔‏

مَیں خاموش رہا ہوں اور مَیں نے خود پر قابو رکھا ہے۔‏

مَیں بچے کو جنم دینے والی عورت کی طرح کراہوں گا،‏

ہانپوں گا اور زور زور سے سانس لوں گا۔‏

15 مَیں پہاڑوں اور پہاڑیوں کو برباد کر دوں گا

اور اُن کے سارے پودے سُکھا دوں گا۔‏

مَیں دریاؤں کو جزیرے*‏ بنا دوں گا

اور سرکنڈوں والے تالابوں کو خشک کر دوں گا۔‏

16 مَیں اندھوں کو ایسے راستے پر لے جاؤں گا جس کے بارے میں وہ نہیں جانتے

اور اُنہیں انجانے راستوں پر چلاؤں گا۔‏

مَیں اُن کے سامنے تاریکی کو روشنی سے بدل دوں گا

اور ناہموار زمین کو ہموار بنا دوں گا۔‏

مَیں اُن کے لیے یہ سب کروں گا اور اُنہیں ترک نہیں کروں گا۔“‏

17 جو تراشی ہوئی مورتوں پر بھروسا کرتے ہیں

اور دھات کے بُتوں سے کہتے ہیں:‏ ”‏تُم ہمارے خدا ہو،“‏

اُنہیں اُلٹے پاؤں بھاگنا پڑے گا اور وہ بُری طرح شرمندہ ہوں گے۔‏

18 بہرو!‏ سنو؛‏

اندھو!‏ دیکھو اور دھیان دو۔‏

19 میرے خادم کے سوا اندھا کون ہے،‏

ہاں، اُس قاصد جیسا بہرا کون ہے جسے مَیں نے بھیجا ہے؟‏

اُس جیسا اندھا کون ہے جسے اِنعام دیا گیا ہے،‏

ہاں، یہوواہ کے خادم جیسا اندھا کون ہے؟‏

20 تُم بہت سی چیزیں دیکھتے ہو مگر تُم دھیان نہیں دیتے ہو۔‏

تُم اپنے کان کھولتے ہو مگر تُم سنتے نہیں ہو۔‏

21 اپنی نیکی کی خاطر یہوواہ کو یہ پسند آیا

کہ وہ اپنی شریعت*‏ کو عظمت اور شان بخشے۔‏

22 لیکن یہ لُٹے‌پِٹے لوگ ہیں؛‏

یہ سب گڑھوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور قیدخانوں میں بند ہیں۔‏

اُنہیں لُوٹ لیا گیا ہے لیکن اُنہیں بچانے والا کوئی نہیں ہے؛‏

وہ لُٹ گئے ہیں لیکن یہ کہنے والا کوئی نہیں ہے کہ ”‏اُنہیں واپس لاؤ۔“‏

23 تُم میں سے کون اِس پر کان لگائے گا؟‏

کون اِس پر دھیان دے گا اور آنے والے وقت کو ذہن میں رکھ کر اِسے سنے گا؟‏

24 کس نے یعقوب کو لُٹنے دیا

اور اِسرائیل کو لُٹیروں کے حوالے کِیا؟‏

کیا یہوواہ نے نہیں جس کے خلاف ہم نے گُناہ کِیا؟‏

اُنہوں نے اُس کی راہوں پر چلنے سے اِنکار کر دیا

اور اُس کی شریعت*‏ پر عمل نہیں کِیا۔‏

25 اِس لیے وہ اُس پر اپنا غضب،‏

قہر اور جنگ کی شدت اُنڈیلتا رہا۔‏

اِس آگ نے اُس کے اِردگِرد سب کچھ بھسم کر دیا لیکن اُس نے کوئی دھیان نہیں دیا۔‏

اِس نے اُسے جھلسا دیا لیکن اُس کے دل پر کوئی اثر نہیں ہوا۔‏

43 اَے یعقوب!‏ تیرا خالق اور اَے اِسرائیل!‏ تجھے ڈھالنے والا

یعنی یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏ڈر نہیں کیونکہ مَیں نے تجھے واپس خرید لیا ہے۔‏

مَیں نے تجھے تیرا نام لے کر بُلایا ہے۔‏

تُو میرا ہے۔‏

 2 جب تُو پانیوں میں سے گزرے گا تو مَیں تیرے ساتھ ہوں گا؛‏

جب تُو دریاؤں میں سے گزرے گا تو وہ تجھے نہیں ڈبوئیں گے۔‏

جب تُو آگ میں سے گزرے گا تو وہ تجھے نہیں جھلسائے گی

اور نہ ہی شعلہ تجھے چُھوئے گا

 3 کیونکہ مَیں تیرا خدا یہوواہ ہوں؛‏

مَیں اِسرائیل کا پاک خدا اور تیرا نجات‌دہندہ ہوں۔‏

مَیں نے مصر کو تیرے لیے فدیے کے طور پر دیا ہے؛‏

مَیں نے اِیتھیوپیا اور سیبا کو تیرے بدلے میں دیا ہے

 4 کیونکہ تُو میری نظروں میں بیش‌قیمت بن گیا؛‏

تجھے عزت دی گئی اور مَیں نے تجھ سے محبت کی۔‏

اِس لیے مَیں تیرے بدلے میں لوگ

اور تیری جان کے بدلے میں قومیں دوں گا۔‏

 5 ڈر نہیں کیونکہ مَیں تیرے ساتھ ہوں۔‏

مَیں تیری نسل کو مشرق سے لاؤں گا

اور تجھے مغرب سے اِکٹھا کروں گا۔‏

 6 مَیں شمال سے کہوں گا:‏ ”‏اُنہیں چھوڑ دے!‏“‏

اور جنوب سے کہوں گا:‏ ”‏اُنہیں روک کر نہ رکھ!‏

میرے بیٹوں کو دُور سے اور میری بیٹیوں کو زمین کے کونے کونے سے لا

 7 یعنی اُن سب کو جو میرے نام سے کہلاتے ہیں

اور جنہیں مَیں نے اپنی بڑائی کے لیے خلق کِیا،‏

ہاں، جنہیں مَیں نے ڈھالا اور بنایا۔“‏

 8 اُن لوگوں کو لا جو آنکھیں ہونے کے باوجود اندھے ہیں

اور جو کان ہونے کے باوجود بہرے ہیں۔‏

 9 سب قومیں ایک جگہ اِکٹھی ہوں

اور فرق فرق قوموں کے لوگ جمع ہوں۔‏

اُن*‏ میں سے کون یہ باتیں بتا سکتا ہے؟‏

کیا وہ ہمیں پہلی باتیں*‏ سنا سکتے ہیں؟‏

وہ خود کو صحیح ثابت کرنے کے لیے اپنے گواہ پیش کریں

تاکہ وہ سنیں اور کہیں:‏ ”‏یہ سچ ہے!‏“‏“‏

10 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏تُم میرے گواہ ہو،‏

ہاں، میرے خادم ہو جسے مَیں نے چُنا ہے

تاکہ تُم جانو اور مجھ پر ایمان لاؤ*‏

اور سمجھو کہ مَیں وہی ہوں۔‏

نہ مجھ سے پہلے کوئی خدا وجود میں آیا

اور نہ میرے بعد آئے گا۔‏

11 مَیں، ہاں، مَیں ہی یہوواہ ہوں اور میرے علاوہ کوئی نجات‌دہندہ نہیں ہے۔“‏

12 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏جب تمہارے درمیان کوئی دوسرا خدا نہیں تھا

تو مَیں نے ہی تمہیں بتایا، تمہیں بچایا اور تُم پر ظاہر کِیا۔‏

اِس لیے تُم میرے گواہ ہو اور مَیں خدا ہوں۔‏

13 اور مَیں ہمیشہ سے وہی ہوں؛‏

کوئی میرے ہاتھ سے کچھ بھی چھین نہیں سکتا۔‏

جب مَیں کچھ کرتا ہوں تو کون اُسے روک سکتا ہے؟“‏

14 تمہیں چھڑانے والا*‏ اور اِسرائیل کا پاک خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏مَیں تمہاری خاطر کسی کو بابل بھیجوں گا اور اُس کے دروازوں کے سب کُنڈے گِرا دوں گا

اور کسدی اپنے جہازوں میں پریشانی کے مارے روئیں گے۔‏

15 مَیں یہوواہ ہوں، تمہارا پاک خدا، اِسرائیل کا خالق اور تمہارا بادشاہ۔“‏

16 یہوواہ جو سمندر کے بیچ سے راستہ بناتا ہے،‏

یہاں تک کہ طوفانی پانیوں میں سے راستہ نکالتا ہے؛‏

17 جو جنگی رتھوں اور گھوڑوں کو

فوج اور طاقت‌ور جنگجوؤں سمیت نکالتا ہے، یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏وہ لیٹ جائیں گے اور نہیں اُٹھیں گے۔‏

اُنہیں ایسے بجھا دیا جائے گا جیسے جلتی ہوئی بتی کو بجھا دیا جاتا ہے۔“‏

18 گزری باتوں کو یاد نہ کرو

اور ماضی میں نہ جیو۔‏

19 دیکھو!‏ مَیں کچھ نیا کر رہا ہوں

بلکہ اُس کی شروعات ابھی ہو رہی ہے۔‏

کیا وہ تمہیں دِکھائی نہیں دے رہا؟‏

مَیں ویرانے میں سے ایک راستہ بناؤں گا

اور ریگستان میں سے دریا بہاؤں گا۔‏

20 گیدڑ اور شُترمُرغ،‏

ہاں، میدان کے جنگلی جانور میری تعظیم کریں گے

کیونکہ مَیں ویرانے میں پانی مہیا کروں گا

اور ریگستان میں دریا بناؤں گا

تاکہ میرے بندے، ہاں، میرے چُنے ہوئے لوگ پانی پئیں،‏

21 ہاں، وہ لوگ جنہیں مَیں نے اپنے لیے بنایا

تاکہ وہ میری بڑائی کریں۔‏

22 لیکن اَے یعقوب!‏ تُو نے مجھے نہیں پکارا

کیونکہ اَے اِسرائیل!‏ تُو مجھ سے تنگ آ گیا تھا۔‏

23 تُو میرے حضور بھسم ہونے والی سالم قربانی کے لیے بھیڑ نہیں لایا

اور نہ ہی اپنی قربانیوں سے میری تعظیم کی۔‏

مَیں نے تجھے مجبور نہیں کِیا کہ میرے لیے تحفہ لا

اور نہ ہی مَیں نے تجھ سے لوبان کا مطالبہ کر کر کے تجھے تنگ کِیا۔‏

24 تُو نے میرے لیے اپنے پیسوں سے خوشبودار سرکنڈا نہیں خریدا

اور اپنی قربانیوں کی چربی سے مجھے خوش نہیں کِیا۔‏

اِس کی بجائے تُو نے مجھ پر اپنے گُناہوں کا بوجھ لاد دیا

اور اپنے گُناہوں سے مجھے تھکا دیا۔‏

25 مَیں، ہاں، مَیں ہی ہوں جو اپنی خاطر تیرے گُناہوں*‏ کو مٹا رہا ہوں

اور مَیں تیرے گُناہوں کو یاد نہیں کروں گا۔‏

26 مجھے یاد دِلا؛ آ ایک دوسرے کے خلاف مُقدمہ لڑیں؛‏

اپنی طرف کی کہانی بتا کر ثابت کر کہ تُو صحیح ہے۔‏

27 تیرے پہلے والد نے گُناہ کِیا تھا

اور تیرے اپنے نمائندوں*‏ نے میرے خلاف بغاوت کی ہے۔‏

28 اِس لیے مَیں مُقدس جگہ کے حاکموں کو ناپاک ٹھہراؤں گا؛‏

مَیں یعقوب کو تباہی کے حوالے کر دوں گا

اور اِسرائیل کو رُسوائی بھری باتوں کے۔‏

44 ‏”‏اب اَے یعقوب!‏ میرے خادم

اور اَے اِسرائیل جسے مَیں نے چُنا ہے، سُن!‏

 2 یہوواہ تیرا خالق اور تجھے ڈھالنے والا

جس نے ماں کی کوکھ سے ہی*‏ تیری مدد کی، یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏میرے خادم یعقوب اور یسورون*‏ جسے مَیں نے چُنا ہے، ڈر نہیں

 3 کیونکہ مَیں پیاسے شخص*‏ پر پانی اُنڈیلوں گا

اور سُوکھی زمین پر ندیاں بہاؤں گا۔‏

مَیں تیری نسل پر اپنی روح*‏ نازل کروں گا

اور تیری اولاد پر اپنی برکت۔‏

 4 وہ ہری گھاس کے بیچ ایسے بڑھیں گے

جیسے پاپولر کے درخت پانی کی ندیوں کے پاس بڑھتے ہیں۔‏

 5 کوئی کہے گا:‏ ”‏مَیں یہوواہ کا ہوں۔“‏

کوئی خود کو یعقوب کے نام سے بُلائے گا

اور کوئی اپنے ہاتھ پر لکھے گا:‏ ”‏مَیں یہوواہ کا ہوں“‏

اور وہ اِسرائیل کا نام اپنا لے گا۔“‏

 6 اِسرائیل کا بادشاہ اور اُسے چھڑانے والا*‏ خدا یہوواہ

یعنی فوجوں کا خدا یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏مَیں اوّل ہوں اور مَیں آخر ہوں۔‏

میرے سوا کوئی اَور خدا نہیں ہے۔‏

 7 مجھ جیسا کون ہے؟‏

اگر کوئی ہے تو وہ بولے اور بتائے اور میرے سامنے ثابت کرے!‏

جیسے مَیں تب سے کرتا آیا ہوں جب مَیں نے قدیم زمانے کے لوگوں کی بنیاد رکھی

ویسے ہی وہ یہ بتائیں کہ کیا ہونے والا ہے

اور مستقبل میں کیا ہوگا۔‏

 8 خوف‌زدہ نہ ہو

اور خوف کے مارے سُن نہ پڑ جاؤ۔‏

کیا مَیں نے تُم میں سے ہر ایک کو یہ پہلے نہیں بتایا تھا اور اِس کا اِعلان نہیں کِیا تھا؟‏

تُم میرے گواہ ہو۔‏

کیا میرے سوا کوئی اَور خدا ہے؟‏

نہیں، میرے سوا کوئی اَور چٹان نہیں ہے؛ مَیں تو کسی کو نہیں جانتا۔“‏“‏

 9 مورتیں تراشنے والے سب لوگ بے‌کار ہیں

اور جو چیزیں اُنہیں عزیز ہیں، وہ کسی کام نہیں آئیں گی۔‏

اُن کے گواہوں کے طور پر نہ تو وہ*‏ کچھ دیکھتے ہیں اور نہ جانتے ہیں۔‏

اِس لیے اُنہیں بنانے والوں کو شرمندہ کِیا جائے گا۔‏

10 کون ایسا خدا یا دھات کا بُت بنائے گا

جس سے کوئی فائدہ نہ ہو؟‏

11 دیکھو!‏ اُس کے سب ساتھیوں کو شرمندہ کِیا جائے گا!‏

کاریگر محض اِنسان ہیں۔‏

وہ سب جمع ہو کر کھڑے ہو جائیں۔‏

وہ خوف‌زدہ ہوں گے اور اُن سب کو شرمندہ کِیا جائے گا۔‏

12 لوہار اپنے اوزار سے لوہے کو کوئلوں پر رکھتا ہے۔‏

وہ اِسے ہتھوڑوں سے شکل دیتا ہے

اور اپنے طاقت‌ور بازو سے اِسے گھڑتا ہے۔‏

پھر اُسے بھوک لگ جاتی ہے اور اُس کی طاقت جواب دے جاتی ہے؛‏

وہ پانی بھی نہیں پیتا اور تھک جاتا ہے۔‏

13 بڑھئی ناپنے کی ڈوری سے لکڑی ناپتا ہے اور لال رنگ کے چاک سے خاکہ بناتا ہے۔‏

وہ رندے سے اُس پر کام کرتا ہے اور پرکار سے اُس پر نشان لگاتا ہے۔‏

وہ اُسے اِنسان جیسی شکل دیتا ہے

اور اُسے اِنسان جیسا خوب‌صورت بناتا ہے

تاکہ اُسے گھر*‏ میں رکھا جا سکے۔‏

14 ایک شخص دیودار کے درخت کاٹنے کا کام کرتا ہے۔‏

وہ ایک خاص قسم کا درخت چُنتا ہے یعنی بلوط کا درخت؛‏

وہ اُسے جنگل کے درختوں کے بیچ پھلنے پھولنے دیتا ہے۔‏

وہ غار کا درخت*‏ لگاتا ہے اور بارش اُسے بڑھاتی ہے۔‏

15 پھر وہ اِنسان کے لیے آگ جلانے کے کام آتا ہے۔‏

وہ اُس کا کچھ حصہ لے کر آگ سینکتا ہے؛‏

وہ آگ جلاتا ہے اور روٹی بناتا ہے۔‏

لیکن وہ اُس سے ایک خدا بھی بناتا ہے اور اُسے پوجتا ہے۔‏

وہ اُس سے ایک تراشی ہوئی مورت بناتا ہے اور اُس کے سامنے جھکتا ہے۔‏

16 وہ اُس کے آدھے حصے سے آگ جلاتا ہے

اور اُسی آدھے حصے پر گوشت بھونتا ہے اور جی بھر کر کھاتا ہے۔‏

وہ آگ بھی سینکتا ہے اور کہتا ہے:‏

‏”‏واہ!‏ آگ سے مجھے گرمائش پہنچ رہی ہے۔“‏

17 لیکن باقی لکڑی سے وہ ایک خدا، ہاں، اپنے لیے ایک تراشی ہوئی مورت بناتا ہے۔‏

وہ اُس کے سامنے جھکتا ہے اور اُس کی پرستش کرتا ہے۔‏

وہ اُس سے دُعا کرتا ہے اور کہتا ہے:‏

‏”‏مجھے بچا لے کیونکہ تُو میرا خدا ہے۔“‏

18 وہ کچھ نہیں جانتے، وہ کچھ نہیں سمجھتے

کیونکہ اُن کی آنکھیں بالکل بند ہیں اور وہ دیکھ نہیں سکتے؛‏

اُن کے دل گہری سمجھ سے بالکل خالی ہیں۔‏

19 کوئی اپنے دل میں نہیں سوچتا؛‏

نہ کسی کے پاس اِتنا علم یا سمجھ ہے کہ کہے:‏

‏”‏آدھی لکڑی سے مَیں نے آگ جلائی

اور اُس کے کوئلوں پر مَیں نے روٹی پکائی اور گوشت بھونا اور اِسے کھایا۔‏

اب کیا مجھے باقی لکڑی سے ایک گھناؤنی چیز بنانی چاہیے؟‏

کیا مجھے درخت کی لکڑی کے ایک ٹکڑے*‏ کی پرستش کرنی چاہیے؟“‏

20 وہ راکھ کھاتا ہے۔‏

اُس کے دھوکے‌باز دل نے اُسے گمراہ کِیا ہے۔‏

وہ اپنی جان نہیں بچا سکتا اور نہ ہی وہ کہتا ہے:‏

‏”‏میرے دائیں ہاتھ میں تو ایک جھوٹی چیز ہے۔“‏

21 اَے یعقوب اور اَے اِسرائیل!‏ اِن باتوں کو یاد رکھ

کیونکہ تُو میرا خادم ہے۔‏

مَیں نے تجھے ڈھالا ہے اور تُو میرا خادم ہے۔‏

اَے اِسرائیل!‏ مَیں تجھے نہیں بھولوں گا۔‏

22 مَیں تیرے گُناہوں کو ایسے مٹا دوں گا جیسے اُنہیں ایک بادل سے ڈھکا گیا ہو،‏

ہاں، ایسے جیسے تیرے گُناہوں کو گھنے بادل سے ڈھکا گیا ہو۔‏

میری طرف لوٹ آ کیونکہ مَیں تجھے چھڑاؤں*‏ گا۔‏

23 اَے آسمان!‏ خوشی سے للکار

کیونکہ یہوواہ نے کارروائی کی ہے!‏

اَے زمین کی گہرائیو!‏ جیت کے نعرے مارو!‏

اَے پہاڑو!‏ اَے جنگل اور اُس کے سب درختو!‏

خوشی سے للکارو

کیونکہ یہوواہ نے یعقوب کو چھڑا*‏ لیا ہے

اور وہ اِسرائیل پر اپنی شان ظاہر کرتا ہے۔‏

24 تجھے چھڑانے والا*‏ یہوواہ

جس نے تجھے ماں کی کوکھ میں ڈھالا، یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏مَیں یہوواہ ہوں جس نے سب کچھ بنایا۔‏

مَیں نے خود آسمان اور زمین کو پھیلایا۔‏

اُس وقت کون میرے ساتھ تھا؟‏

25 مَیں کھوکھلی باتیں کرنے والوں*‏ کی نشانیوں کو جھوٹا ثابت کر رہا ہوں؛‏

مَیں ہی غیب‌دانوں سے بے‌وقوفی کراتا ہوں؛‏

مَیں ہی دانش‌مند آدمیوں کو اُلجھن میں ڈال رہا ہوں

اور اُن کے علم کو بے‌وقوفی میں بدل رہا ہوں؛‏

26 مَیں ہی اپنے خادم کی بات کو سچ ثابت کر رہا ہوں

اور اپنے قاصدوں کی پیش‌گوئیوں کو ہوبہو پورا کر رہا ہوں؛‏

مَیں ہی یروشلم کے بارے میں کہہ رہا ہوں:‏ ”‏وہ آباد ہوگا“‏

اور یہوداہ کے شہروں کے بارے میں کہہ رہا ہوں:‏ ”‏اُنہیں دوبارہ تعمیر کِیا جائے گا

اور مَیں اُس کے کھنڈروں کو پھر سے بناؤں گا؛“‏

27 مَیں ہی گہرے پانیوں سے کہہ رہا ہوں:‏ ”‏اُڑ جاؤ

اور مَیں تمہارے سب دریاؤں کو سُکھا دوں گا؛“‏

28 مَیں ہی خورس کے بارے میں کہہ رہا ہوں:‏ ”‏وہ میرا چرواہا ہے

اور وہ پوری طرح سے میری مرضی پر عمل کرے گا؛“‏

مَیں ہی یروشلم کے بارے میں کہہ رہا ہوں:‏ ”‏اُسے دوبارہ تعمیر کِیا جائے گا“‏

اور ہیکل سے کہہ رہا ہوں:‏ ”‏تیری بنیاد ڈالی جائے گی۔“‏“‏

45 مَیں یہوواہ جس نے اپنے مسح‌شُدہ*‏ بندے خورس کا دایاں ہاتھ تھاما ہے

تاکہ قوموں کو اُس کے تابع کروں،‏

بادشاہوں کے ہتھیار چھین لوں*‏

اور دو پلّوں والے دروازوں کو اُس کے سامنے کھول دوں

تاکہ شہر کے دروازے بند نہ کیے جائیں، خورس سے کہتا ہوں:‏

 2 ‏”‏مَیں تمہارے آگے جاؤں گا

اور پہاڑیوں کو ہموار کر دوں گا۔‏

مَیں تانبے کے دروازوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا

اور لوہے کے کُنڈوں کو کاٹ دوں گا۔‏

 3 مَیں تمہیں تاریکی میں خزانے دوں گا

اور پوشیدہ جگہوں میں چھپے ہوئے خزانے

تاکہ تُم جان جاؤ کہ مَیں اِسرائیل کا خدا یہوواہ ہوں

جو تمہیں تمہارا نام لے کر بُلا رہا ہوں۔‏

 4 اپنے بندے یعقوب اور اپنے چُنے ہوئے بندے اِسرائیل کی خاطر

مَیں تمہیں تمہارا نام لے کر بُلا رہا ہوں۔‏

حالانکہ تُم مجھے نہیں جانتے تھے لیکن مَیں تمہیں ایک باعزت نام بخش رہا ہوں۔‏

 5 مَیں یہوواہ ہوں اور میرے سوا کوئی اَور نہیں ہے۔‏

میرے علاوہ کوئی اَور خدا نہیں ہے۔‏

حالانکہ تُم مجھے نہیں جانتے تھے لیکن مَیں تمہیں طاقت بخشوں گا*‏

 6 تاکہ مشرق سے مغرب تک*‏ لوگ جان جائیں

کہ میرے علاوہ کوئی اَور نہیں ہے۔‏

مَیں یہوواہ ہوں اور میرے سوا کوئی اَور نہیں ہے۔‏

 7 مَیں روشنی کو بناتا اور تاریکی کو خلق کرتا ہوں؛‏

مَیں امن‌وسکون بخشتا اور مصیبت لاتا ہوں؛‏

مَیں یہوواہ یہ سب کچھ کرتا ہوں۔‏

 8 اَے آسمان!‏ اُوپر سے برس؛‏

بادل نیکی کی برسات کریں۔‏

زمین کُھل جائے اور نجات کا پھل پیدا کرے

اور ساتھ ہی ساتھ نیکی کی پیداوار ہو۔‏

مَیں نے یعنی یہوواہ نے یہ سب کِیا*‏ ہے۔“‏

 9 اُس پر افسوس جو اپنے خالق کے ساتھ بحث*‏ کرتا ہے

کیونکہ وہ بس مٹی کے برتن کا ایک ٹکڑا ہے

جو مٹی کے برتن کے باقی ٹکڑوں کے ساتھ زمین پر پڑا ہے!‏

کیا مٹی کو کُمہار*‏ سے کہنا چاہیے:‏ ”‏تُو یہ کیا بنا رہا ہے؟“‏

یا کیا تمہاری بنائی ہوئی چیز کو کہنا چاہیے:‏ ”‏تیرے تو ہاتھ ہی نہیں ہیں“‏؟‏*‏

10 اُس پر افسوس جو ایک باپ سے کہتا ہے:‏ ”‏تُم کسے پیدا کر رہے ہو؟“‏

اور جو ایک ماں سے کہتا ہے:‏ ”‏تُم کسے جنم دے رہی ہو؟“‏*‏

11 اِسرائیل کا پاک خدا یہوواہ جس نے اُسے بنایا ہے، فرماتا ہے:‏

‏”‏کیا تُم مجھ سے آنے والی چیزوں کے بارے میں سوال کرو گے؟‏

کیا تُم مجھے میرے بیٹوں اور میرے ہاتھوں کے کاموں کے حوالے سے حکم دو گے؟‏

12 مَیں نے زمین کو بنایا اور اِس پر اِنسان کو خلق کِیا۔‏

مَیں نے اپنے ہاتھوں سے آسمان کو پھیلایا

اور مَیں اُس کی ساری چیزوں*‏ کو حکم دیتا ہوں۔“‏

13 فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏مَیں نے نیکی کی خاطر ایک آدمی کو کھڑا کِیا ہے

اور مَیں اُس کے سب راستوں کو سیدھا کروں گا۔‏

وہی میرے شہر کو بنائے گا

اور میرے قیدیوں کو بغیر کسی قیمت یا رشوت کے آزاد کرے گا۔“‏

14 یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏مصر کا منافع،‏*‏ اِیتھیوپیا کا مال*‏ اور سبا کے لمبے‌تڑنگے لوگ

تیرے پاس آئیں گے اور تیرے خادم بن جائیں گے۔‏

وہ بیڑیوں میں تیرے پیچھے پیچھے چلیں گے۔‏

وہ تیرے پاس آئیں گے اور تیرے سامنے جھکیں گے۔‏

وہ بڑے احترام سے تجھ سے کہیں گے:‏ ”‏بے‌شک خدا آپ کے ساتھ ہے؛‏

اُس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے، ہاں، کوئی بھی نہیں ہے۔“‏“‏

15 اَے اِسرائیل کے خدا!‏ اَے نجات دِلانے والے!‏

تُو سچ میں وہ خدا ہے جو خود کو چھپاتا ہے۔‏

16 بُت بنانے والے سب لوگ شرمندہ اور رُسوا ہوں گے؛‏

وہ سب بے‌عزت ہو کر چلے جائیں گے۔‏

17 لیکن یہوواہ اِسرائیل کو ہمیشہ کے لیے نجات دِلائے گا۔‏

تُم ہمیشہ تک شرمندہ اور رُسوا نہیں ہو گے۔‏

18 سچا خدا یہوواہ جو آسمان کا خالق ہے؛‏

جس نے زمین کو بنایا ہے اور اِسے مضبوطی سے قائم کِیا ہے؛‏

جس نے اِسے بِلامقصد*‏ خلق نہیں کِیا بلکہ آباد ہونے کے لیے بنایا ہے، یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏مَیں یہوواہ ہوں اور میرے سوا اَور کوئی نہیں ہے۔‏

19 مَیں نے پوشیدہ جگہ، ہاں، تاریکی کے ملک میں بات نہیں کی؛‏

مَیں نے یعقوب کی نسل سے یہ نہیں کہا:‏

‏”‏میری رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کر لیکن تیری کوششیں بے‌کار جائیں گی۔“‏

مَیں یہوواہ ہوں جو صحیح*‏ اور سچی باتیں کہتا ہوں۔‏

20 قوموں سے بچے ہوئے لوگو!‏ اِکٹھے ہو کر آؤ،‏

ہاں، ایک ساتھ آؤ۔‏

وہ لوگ کچھ نہیں جانتے جو تراشی ہوئی مورتوں کو اُٹھائے پھرتے ہیں؛‏

وہ ایسے خدا سے دُعا کرتے ہیں جو اُنہیں بچا نہیں سکتا۔‏

21 اپنا بیان دو؛ اپنا مُقدمہ پیش کرو۔‏

آپس میں صلاح مشورہ کرو۔‏

کس نے مُدتوں پہلے اِس کے بارے میں بتا دیا تھا؟‏

کس نے قدیم زمانے سے اِس کا اِعلان کر دیا تھا؟‏

کیا مَیں نے یعنی یہوواہ نے نہیں؟‏

میرے علاوہ اَور کوئی خدا نہیں ہے؛‏

مَیں نیک خدا اور نجات‌دہندہ ہوں؛ میرے سوا اَور کوئی نہیں ہے۔‏

22 زمین کے کونے کونے میں رہنے والے سب لوگو!‏

میری طرف رُجوع کرو اور نجات پاؤ

کیونکہ مَیں خدا ہوں اور میرے سوا اَور کوئی نہیں ہے۔‏

23 مَیں نے اپنی قسم کھائی ہے؛‏

میرے مُنہ سے نکلی یہ بات سچی*‏ ہے

اور مَیں اِسے واپس نہیں لوں گا:‏

ہر گُھٹنا میرے سامنے جھکے گا

اور ہر زبان وفاداری کی قسم کھائے گی

24 اور کہے گی:‏ ”‏بے‌شک یہوواہ صحیح معنوں میں نیک اور طاقت‌ور ہے۔‏

وہ سب جو اُس کے خلاف بھڑکتے ہیں، شرمندہ ہو کر اُس کے حضور آئیں گے۔‏

25 اِسرائیل کی ساری نسل یہوواہ کی وجہ سے صحیح ثابت ہوگی

اور اُس پر فخر کرے گی۔“‏“‏

46 بیل*‏ گُھٹنے ٹیکتا ہے؛ نبو*‏ جھکتا ہے۔‏

اُن کے بُت جانوروں پر، ہاں، مال‌بردار جانوروں پر ایسے سامان کی طرح لدے ہیں

جو نڈھال جانوروں کے لیے بوجھ بن جاتا ہے۔‏

 2 وہ ایک ساتھ جھکتے اور گُھٹنے ٹیکتے ہیں؛‏

وہ لدے ہوئے بوجھ کو*‏ بچا نہیں سکتے

اور وہ خود ہی*‏ قید میں چلے جاتے ہیں۔‏

 3 اَے یعقوب کے گھرانے اور اِسرائیل کے گھرانے کے باقی بچے ہوئے سب لوگو!‏ میری سنو!‏

ہاں، تُم سب جنہیں مَیں نے پیدائش سے سنبھالا اور کوکھ سے ہی اُٹھائے پھرا۔‏

 4 مَیں تمہارے بڑھاپے تک ایسا ہی رہوں گا؛‏

مَیں تمہارے بال سفید ہونے تک تمہیں اُٹھائے رکھوں گا۔‏

جیسے مَیں نے اب تک کِیا ہے، مَیں تمہیں اُٹھائے پھروں گا، تمہیں سنبھالوں گا اور تمہیں بچاؤں گا۔‏

 5 تُم مجھے کس سے تشبیہ دو گے یا مجھے کس کے برابر ٹھہراؤ گے یا کس سے میرا موازنہ کرو گے

تاکہ ہم ایک جیسے لگیں؟‏

 6 ایسے لوگ ہیں جو اپنی تھیلی سے سونا نکال نکال کر دیتے ہیں؛‏

وہ ترازو میں چاندی تولتے ہیں۔‏

وہ دھات‌گر کو مزدوری پر رکھتے ہیں جو اُس سے ایک بُت بناتا ہے۔‏

پھر وہ اُس کے سامنے مُنہ کے بل جھکتے ہیں، ہاں، اُس کی پرستش کرتے ہیں۔‏

 7 وہ اُسے اپنے کندھوں پر اُٹھاتے ہیں؛‏

وہ اُسے لے جا کر اُس کی جگہ پر رکھتے ہیں اور وہ وہیں کھڑا رہتا ہے۔‏

وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلتا۔‏

وہ اُسے پکارتے ہیں لیکن وہ جواب نہیں دیتا؛‏

وہ کسی کو مصیبت سے بچا نہیں سکتا۔‏

 8 اِن باتوں کو یاد رکھو اور ہمت کرو۔‏

اَے گُناہ‌گارو!‏ اِن باتوں کو دل میں بٹھا لو۔‏

 9 قدیم زمانے کی گزری*‏ باتوں کو یاد رکھو

کہ مَیں خدا ہوں اور میرے سوا کوئی نہیں ہے۔‏

مَیں خدا ہوں اور میرے جیسا کوئی نہیں ہے۔‏

10 مَیں شروع سے ہی انجام کے بارے میں بتا دیتا ہوں

اور قدیم زمانے سے ہی اُن باتوں کے بارے میں جو ابھی تک نہیں ہوئیں۔‏

مَیں کہتا ہوں:‏ ”‏میرا فیصلہ*‏ قائم رہے گا

اور مَیں وہی کروں گا جو مَیں چاہتا ہوں۔“‏

11 مَیں مشرق سے*‏ ایک شکاری پرندے کو بُلا رہا ہوں،‏

ہاں، دُوردراز ملک سے ایک آدمی کو جو میرے فیصلے*‏ پر عمل کرے گا۔‏

مَیں نے جو کہا ہے، وہ کروں گا۔‏

مَیں نے جو مقصد ٹھہرایا ہے، مَیں اُسے بھی پورا کروں گا۔‏

12 اَے ڈھیٹھ*‏ دل لوگو!‏ تُم جو نیکی سے دُور ہو،‏

میری سنو!‏

13 مَیں اپنی نیکی کو نزدیک لایا ہوں؛‏

وہ دُور نہیں ہے؛‏

مَیں نجات دِلانے میں دیر نہیں کروں گا۔‏

مَیں صِیّون کو نجات دِلاؤں گا اور اِسرائیل کو اپنی شان بخشوں گا۔‏

47 اَے بابل کی کنواری بیٹی!‏

نیچے آ اور خاک میں بیٹھ۔‏

اَے کسدیوں کی بیٹی!‏ نیچے زمین پر بیٹھ جہاں کوئی تخت نہیں ہے

کیونکہ لوگ پھر کبھی تجھے نازک اور لاڈلی نہیں کہیں گے۔‏

 2 ہاتھ والی چکی لے اور آٹا پیس۔‏

اپنا نقاب اُتار۔‏

اپنا دامن ہٹا کر اپنی ٹانگیں ننگی کر۔‏

دریاؤں کو پار کر۔‏

 3 تیرا ننگاپن سب کے سامنے لایا جائے گا۔‏

تجھے شرم‌ناک حالت میں دیکھا جائے گا۔‏

مَیں بدلہ لوں گا اور کوئی اِنسان میرے راستے میں کھڑا نہیں ہوگا۔‏*‏

 4 ‏”‏جو ہمیں چھڑا*‏ رہا ہے، وہ اِسرائیل کا پاک خدا ہے۔‏

اُس کا نام فوجوں کا خدا یہوواہ ہے۔“‏

 5 اَے کسدیوں کی بیٹی!‏

چپ کر کے بیٹھ جا اور اندھیرے میں چلی جا؛‏

اب سے تجھے بادشاہتوں کی مالکن*‏ نہیں کہا جائے گا۔‏

 6 مجھے اپنے بندوں پر غصہ آیا۔‏

مَیں نے اپنی وراثت کو ناپاک ہونے دیا؛‏

مَیں نے اُنہیں تیرے حوالے کر دیا۔‏

لیکن تُو نے اُن پر رحم نہیں کِیا۔‏

تُو نے بوڑھوں پر بھی بھاری جُوا رکھا۔‏

 7 تُو نے کہا:‏ ”‏مَیں ہمیشہ ہمیشہ تک مالکن*‏ رہوں گی۔“‏

تُو نے اپنے کاموں پر غور نہیں کِیا؛‏

تُو نے نہیں سوچا کہ اِس سب کا کیا انجام ہوگا۔‏

 8 اَے عیاش عورت!‏ سُن،‏

ہاں، تُو جو خود کو محفوظ سمجھ کر بیٹھی ہے اور اپنے دل میں کہتی ہے:‏

‏”‏مَیں عظیم ہوں اور مجھ جیسا کوئی نہیں۔‏

مَیں بیوہ نہیں ہوں گی۔‏

مجھے کبھی اپنے بچوں کو کھونا نہیں پڑے گا۔“‏

 9 لیکن تجھے اِن دونوں چیزوں کا اچانک، ہاں، ایک ہی دن میں سامنا ہوگا:‏

تُو اپنے بچوں کو کھو دے گی اور بیوہ ہو جائے گی۔‏

تیرے بے‌اِنتہا جادوٹونے اور سارے طاقت‌ور منتروں کی وجہ سے*‏

یہ آفتیں پوری شدت سے تجھ پر آ پڑیں گی۔‏

10 تُو نے اپنے بُرے کاموں پر بھروسا کِیا۔‏

تُو نے کہا:‏ ”‏کوئی مجھے نہیں دیکھتا۔“‏

تیری دانش‌مندی اور علم نے تجھے گمراہ کِیا

اور تُو نے اپنے دل میں کہا:‏ ”‏مَیں عظیم ہوں اور مجھ جیسا کوئی نہیں۔“‏

11 لیکن آفت تجھ پر ٹوٹ پڑے گی

اور تیرا کوئی بھی جادومنتر اُسے روک نہیں پائے گا۔‏*‏

تجھ پر مصیبت آئے گی اور تُو اُسے ٹال نہیں پائے گی۔‏

تُو اچانک ایسی تباہی کا شکار ہوگی جس کے بارے میں تُو نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا۔‏

12 اِس لیے منتر پھونکتی رہ اور خوب جادوٹونا کرتی رہ

جو تُو اپنی جوانی سے بڑی محنت سے کرتی آئی ہے۔‏

شاید تجھے کچھ فائدہ ہو

اور شاید تُو لوگوں میں اپنا خوف پیدا کر سکے۔‏

13 تُو اپنے ڈھیر سارے مُشیروں کی سُن سُن کر تھک گئی ہے۔‏

اب وہ آگے آئیں اور تجھے بچائیں،‏

ہاں، وہ جو آسمان کی پوجا کرتے ہیں؛‏*‏ جو ستاروں کو غور سے دیکھتے ہیں؛‏

جو نئے چاند کو دیکھ کر یہ بتاتے ہیں کہ تیرے ساتھ کیا کیا ہوگا۔‏

14 دیکھ!‏ وہ بھوسے کی طرح ہیں۔‏

آگ اُنہیں جلا دے گی۔‏

وہ خود کو*‏ شعلے کی شدت سے بچا نہیں سکیں گے۔‏

وہ کوئلے نہیں ہیں جن سے گرمائش ملے

اور نہ ہی آگ ہیں جس کے سامنے بیٹھا جائے۔‏

15 تیرے منتر پڑھنے والوں کا بھی یہی حال ہوگا،‏

جن کے ساتھ تُو جوانی سے محنت کرتی آئی ہے۔‏

وہ بھٹک جائیں گے، ہر کوئی اِدھر اُدھر*‏ بھاگ جائے گا۔‏

تجھے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔‏

48 اَے یعقوب کے گھرانے!‏ یہ بات سنو،‏

ہاں، تُم جو اِسرائیل کے نام سے کہلاتے ہو،‏

جو یہوداہ کے پانیوں*‏ سے آئے ہو،‏

جو یہوواہ کا نام لے کر قسم کھاتے ہو

اور اِسرائیل کے خدا کو پکارتے ہو

لیکن سچائی اور نیکی سے نہیں۔‏

 2 وہ خود کو پاک شہر کے لوگ کہتے ہیں

اور اِسرائیل کے خدا سے مدد مانگتے ہیں

جس کا نام فوجوں کا خدا یہوواہ ہے۔‏

 3 ‏”‏مَیں نے تجھے گزری*‏ باتوں کے بارے میں بہت پہلے بتا دیا تھا۔‏

وہ باتیں میرے ہی مُنہ سے نکلی تھیں

اور مَیں نے ہی بتائی تھیں۔‏

مَیں نے اچانک قدم اُٹھایا اور وہ پوری ہوئیں۔‏

 4 مَیں جانتا تھا کہ تُو کتنا ڈھیٹھ ہے؛‏

تیری گردن کی نس لوہے کی ہے اور تیرا ماتھا تانبے کا۔‏

 5 اِس لیے مَیں نے وہ باتیں بہت پہلے ہی تجھے بتا دی تھیں۔‏

مَیں نے اُن کے پورا ہونے سے پہلے ہی تجھے بتا دیا تھا

تاکہ تُو یہ نہ کہہ سکے کہ ”‏میرے بُت نے یہ کِیا تھا؛‏

میری تراشی ہوئی مورت اور میرے دھات کے بُت نے یہ حکم دیا تھا۔“‏

 6 تُو نے یہ سب سنا اور دیکھا ہے۔‏

کیا تُم لوگ اِس کا اِعلان نہیں کرو گے؟‏

مَیں اب سے تجھے نئی باتیں بتا رہا ہوں،‏

ہاں، چھپے ہوئے راز جن کے بارے میں تُو نہیں جانتا۔‏

 7 یہ باتیں بہت پہلے نہیں بلکہ ابھی وجود میں آئی ہیں۔‏

یہ ایسی باتیں ہیں جو تُو نے آج سے پہلے کبھی نہیں سنیں

تاکہ تُو یہ نہ کہہ سکے:‏ ”‏دیکھو!‏ یہ تو مجھے پہلے سے پتہ تھیں۔“‏

 8 نہیں، تُو نے یہ باتیں نہیں سنیں، تُو اِن کے بارے میں نہیں جانتا؛‏

پُرانے زمانے میں تُو نے اپنے کان کُھلے نہیں رکھے۔‏

مَیں جانتا ہوں کہ تُو بہت دھوکے‌باز ہے

اور تجھے پیدائش سے ہی گُناہ‌گار کہا گیا ہے۔‏

 9 لیکن مَیں اپنے نام کی خاطر اپنے غصے کو روکے رکھوں گا؛‏

مَیں اپنی بڑائی کی خاطر تیرے خلاف کارروائی کرنے سے باز رہوں گا

اور تجھے ہلاک نہیں کروں گا۔‏

10 دیکھ!‏ مَیں نے تجھے خالص کِیا ہے لیکن چاندی کی طرح نہیں۔‏

مَیں نے تجھے مصیبت کی بھٹی میں پرکھا*‏ ہے۔‏

11 مَیں اپنی خاطر، ہاں، اپنی خاطر کارروائی کروں گا

کیونکہ مَیں اپنی توہین کیسے ہونے دے سکتا ہوں؟‏

مَیں اپنی شان کسی کو نہیں دوں گا۔‏*‏

12 اَے یعقوب اور اَے اِسرائیل جسے مَیں نے بُلایا ہے!‏ میری سُن۔‏

مَیں وہی ہوں۔ مَیں اوّل ہوں اور مَیں ہی آخر ہوں۔‏

13 مَیں نے اپنے ہاتھ سے زمین کی بنیاد ڈالی

اور اپنے دائیں ہاتھ سے آسمان کو پھیلایا۔‏

جب مَیں اُنہیں بُلاتا ہوں تو وہ ایک ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔‏

14 تُم سب جمع ہو اور سنو۔‏

اُن میں سے کس نے اِن باتوں کا اِعلان کِیا ہے؟‏

جس شخص سے یہوواہ پیار کرتا ہے،‏

وہ بابل کے خلاف اُس کی خواہش پوری کرے گا

اور اُس کا بازو کسدیوں کے خلاف اُٹھے گا۔‏

15 مَیں نے ہی یہ کہا ہے اور اُسے بُلایا ہے۔‏

مَیں اُسے لایا ہوں اور وہ کامیاب ہوگا۔‏

16 میرے قریب آؤ اور سنو۔‏

مَیں نے شروع سے ہی پوشیدگی میں بات نہیں کی۔‏

جب ایسا ہوا تو مَیں وہیں تھا۔“‏

اب حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ نے مجھے اور اپنی روح کو*‏ بھیجا ہے۔‏

17 تجھے چھڑانے والا*‏ اور اِسرائیل کا پاک خدا یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏مَیں ہی تیرا خدا یہوواہ ہوں

جو تیرے فائدے کے لیے تجھے تعلیم دیتا ہوں،‏

جو اُس راستے پر چلنے میں تیری رہنمائی کرتا ہوں جس پر تجھے چلنا چاہیے۔‏

18 کاش تُو میرے حکموں پر دھیان دے!‏

پھر تیرا سکون دریا کی طرح

اور تیری نیکی سمندر کی لہروں کی طرح ہوگی۔‏

19 تیری نسل ریت کی طرح

اور تیری اولاد اُس کے ذرّوں کی طرح بے‌شمار ہوگی۔‏

اُن کا نام میرے سامنے سے کبھی بھی کاٹا یا مٹایا نہیں جائے گا۔“‏

20 بابل سے نکل جاؤ!‏

کسدیوں سے دُور بھاگ جاؤ!‏

خوشی سے اِس کا اِعلان کرو!‏ ہاں، اِس کا اِعلان کرو!‏

زمین کے کونے کونے تک یہ بات مشہور کرو۔‏

یہ کہو:‏ ”‏یہوواہ نے اپنے بندے یعقوب کو چھڑایا*‏ ہے۔‏

21 جب وہ اُن لوگوں کو ویران جگہوں سے لے جا رہا تھا تو اُنہیں پیاس نہیں لگی۔‏

اُس نے اُن کے لیے چٹان سے پانی بہایا؛‏

اُس نے چٹان کو چیر ڈالا اور پانی پھوٹ نکلا۔“‏

22 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏بُرے لوگوں کے لیے کوئی سکون نہیں۔“‏

49 اَے جزیرو!‏ میری بات سنو؛‏

اَے دُوردراز کی قومو!‏ دھیان دو۔‏

یہوواہ نے مجھے میری پیدائش سے پہلے بُلایا۔‏*‏

اُس نے اُس وقت میرے نام کا ذکر کِیا جب مَیں اپنی ماں کی کوکھ میں تھا۔‏

 2 اُس نے میرے مُنہ کو تیز تلوار جیسا بنا دیا؛‏

اُس نے مجھے اپنے ہاتھ کے سائے میں چھپا لیا۔‏

اُس نے مجھے چمکیلا تیر بنا دیا؛‏

اُس نے مجھے اپنے ترکش*‏ میں چھپا لیا۔‏

 3 اُس نے مجھ سے کہا:‏ ”‏اَے اِسرائیل!‏ تُو میرا خادم ہے

جس کے ذریعے مَیں اپنی شان ظاہر کروں گا۔“‏

 4 مگر مَیں نے کہا:‏ ”‏مَیں نے بِلاوجہ اِتنی محنت کی ہے۔‏

مَیں نے فضول میں اپنی طاقت ایک ایسی چیز کے لیے اِستعمال کی ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔‏

لیکن بے‌شک میرا فیصلہ یہوواہ کے ہاتھ میں ہے*‏

اور میری مزدوری*‏ میرے خدا کے پاس ہے۔“‏

 5 یہوواہ نے، ہاں، اُس ہستی نے جس نے ماں کی کوکھ میں مجھے اپنے خادم کے طور پر ڈھالا،‏*‏

یہ کہا ہے کہ مَیں یعقوب کو اُس کے پاس واپس لاؤں

تاکہ اِسرائیل اُس کے پاس جمع ہو سکے۔‏

مجھے یہوواہ کی نظروں میں عزت ملے گی

اور میرا خدا میری طاقت بن جائے گا۔‏

 6 اُس نے فرمایا:‏ ”‏مَیں نے تجھے صرف یعقوب کے قبیلوں کو کھڑا کرنے

اور اِسرائیل کے بچے ہوئے لوگوں کو واپس لانے کے لیے اپنا خادم نہیں بنایا۔‏

مَیں نے تجھے قوموں کے لیے روشنی کے طور پر بھی دیا ہے

تاکہ میری طرف سے نجات زمین کے کونے کونے تک پہنچے۔“‏

7 جسے*‏ لوگ حقیر سمجھتے ہیں، جس سے قومیں گِھن کھاتی ہیں

اور جو حاکموں کا خادم ہے، اُس سے یہوواہ جو اِسرائیل کا پاک خدا اور اُسے چھڑانے والا*‏ ہے، کہتا ہے:‏

‏”‏بادشاہ دیکھیں گے اور اُٹھیں گے؛‏

حاکم جھکیں گے۔‏

وہ یہوواہ کی وجہ سے ایسا کریں گے جو وفادار خدا ہے؛‏

جو اِسرائیل کا پاک خدا ہے اور جس نے تجھے چُنا ہے۔“‏

 8 یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏مَیں نے مہربانی*‏ کے وقت تجھے جواب دیا

اور نجات کے دن تیری مدد کی؛‏

مَیں نے مسلسل تجھے محفوظ رکھا تاکہ تُو میرے اور لوگوں کے بیچ ایک عہد کی طرح ہو؛‏

تاکہ تُو ملک کو پھر سے آباد کرے؛‏

تاکہ تُو اُن کی ویران پڑی وراثت اُنہیں دِلائے؛‏

 9 تاکہ تُو قیدیوں سے کہے:‏ ”‏باہر آؤ!‏“‏

اور اُن سے جو تاریکی میں ہیں، کہے:‏ ”‏روشنی میں آ جاؤ!‏“‏

وہ راستے کے کنارے کنارے کھائیں گے،‏

ہاں، سب ٹوٹے پھوٹے راستوں*‏ کے ساتھ ساتھ اُن کی چراگاہیں ہوں گی۔‏

10 وہ بھوکے نہیں رہیں گے اور نہ ہی پیاسے؛‏

نہ اُنہیں تپتی دھوپ جھلسائے گی اور نہ سورج

کیونکہ اُن پر رحم کرنے والا اُن کی پیشوائی کرے گا

اور اُنہیں پانی کے چشموں کے پاس لے جائے گا۔‏

11 مَیں اپنے سب پہاڑوں کو راستہ بنا دوں گا

اور اپنی شاہراہوں کو اُونچا کر دوں گا۔‏

12 دیکھو!‏ لوگ دُور دُور سے آ رہے ہیں؛‏

دیکھو!‏ وہ شمال اور مغرب سے آ رہے ہیں

اور ملک سینیم سے آ رہے ہیں۔“‏

13 اَے آسمان!‏ خوشی سے للکار!‏ اَے زمین!‏ خوشی منا!‏

پہاڑ باغ باغ ہوں اور خوشی سے نعرے ماریں

کیونکہ یہوواہ نے اپنے بندوں کو تسلی دی ہے

اور اپنے مصیبت‌زدہ بندوں پر رحم کِیا ہے۔‏

14 لیکن وہ عورت یعنی صِیّون کہتی رہی:‏

‏”‏یہوواہ نے مجھے ترک کر دیا ہے اور یہوواہ مجھے بھول گیا ہے۔“‏

15 کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک عورت اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے

یا اپنی کوکھ سے پیدا ہوئے بیٹے پر ترس نہ کھائے؟‏

شاید ایک عورت بھول بھی جائے لیکن مَیں تمہیں کبھی نہیں بھولوں گا۔‏

16 دیکھ!‏ مَیں نے تجھے اپنی ہتھیلیوں پر کھدوایا ہے۔‏

تیری دیواریں ہمیشہ میرے سامنے ہیں۔‏

17 تیرے بیٹے تیزی سے آ رہے ہیں۔‏

تجھے ڈھانے اور برباد کرنے والے تجھ سے دُور چلے جائیں گے۔‏

18 اپنی نظریں اُٹھا اور چاروں طرف دیکھ۔‏

وہ سب جمع ہو رہے ہیں۔‏

وہ تیرے پاس آ رہے ہیں۔‏

یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اپنی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تُو اُن سب کو زیور کی طرح پہنے گی

اور اُنہیں دُلہن کی طرح باندھے گی۔‏

19 حالانکہ تیری جگہیں ویران اور برباد تھیں اور تیرا ملک کھنڈر تھا

لیکن اب یہ وہاں رہنے والوں کے لیے چھوٹا پڑ جائے گا

اور تجھے نگلنے والے تجھ سے دُور ہوں گے۔‏

20 تیرے بچوں کی موت کے بعد پیدا ہونے والے تیرے بیٹے تجھ سے کہیں گے:‏

‏”‏یہ جگہ میرے لیے بہت چھوٹی ہے۔‏

میرے رہنے کے لیے اَور جگہ بنائیں۔“‏

21 تُو اپنے دل میں کہے گی:‏

‏”‏کون میری خاطر اِن کا باپ بنا

کیونکہ مَیں تو بچوں سے محروم اور بانجھ عورت ہوں

اور مجھے قیدی بنا کر لے جایا گیا تھا؟‏

کس نے اِن کی پرورش کی؟‏

دیکھو!‏ مَیں تو بالکل اکیلی رہ گئی تھی

تو پھر یہ کہاں سے آئے؟“‏“‏

22 حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏دیکھ!‏ مَیں قوموں کے لیے اپنا ہاتھ اُٹھاؤں گا

اور لوگوں کے لیے اپنا جھنڈا کھڑا کروں گا۔‏

وہ تیرے بیٹوں کو اپنے بازوؤں*‏ میں اُٹھا کر لائیں گے

اور تیری بیٹیوں کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر لائیں گے۔‏

23 بادشاہ تیری دیکھ‌بھال کریں گے

اور اُن کی شہزادیاں تیری آیا ہوں گی۔‏

وہ تیرے سامنے مُنہ کے بل زمین پر جھکیں گے

اور تیرے قدموں کی خاک چاٹیں گے۔‏

تب تُو جان لے گی کہ مَیں یہوواہ ہوں؛‏

مجھ سے اُمید لگانے والے شرمندہ نہیں ہوں گے۔“‏

24 کیا طاقت‌ور شخص کے ہاتھ سے قیدیوں کو چھڑایا جا سکتا ہے؟‏

کیا ظالم کے ہاتھ سے قیدیوں کو بچایا جا سکتا ہے؟‏

25 لیکن یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏ایک طاقت‌ور شخص سے بھی قیدیوں کو چھڑا لیا جائے گا

اور ایک ظالم شخص سے بھی قیدیوں کو بچا لیا جائے گا۔‏

مَیں تمہاری مخالفت کرنے والوں کی مخالفت کروں گا

اور مَیں تمہارے بیٹوں کو بچا لوں گا۔‏

26 مَیں تمہارے ساتھ بُرا سلوک کرنے والوں کو اُن کا اپنا گوشت کھلاؤں گا؛‏

وہ میٹھی مے کی طرح اپنا خون پی کر نشے میں دُھت ہو جائیں گے۔‏

تب سب لوگ جان جائیں گے کہ مَیں یہوواہ ہوں؛‏

مَیں تمہارا نجات‌دہندہ، تمہیں چھڑانے والا*‏

اور یعقوب کا طاقت‌ور خدا ہوں۔“‏

50 یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏تمہاری ماں کا طلاق‌نامہ کہاں ہے جسے مَیں نے دُور بھیج دیا؟‏

مَیں نے تمہیں کس ایسے شخص کے پاس بیچا جس کا مَیں نے قرض چُکانا تھا؟‏

دیکھو!‏ تمہیں تمہارے اپنے گُناہوں کی وجہ سے بیچا گیا

اور تمہاری ماں کو تمہاری غلطیوں کی وجہ سے دُور بھیجا گیا۔‏

 2 تو پھر جب مَیں آیا تو کوئی یہاں کیوں نہیں تھا؟‏

جب مَیں نے پکارا تو کسی نے جواب کیوں نہیں دیا؟‏

کیا میرا ہاتھ اِتنا چھوٹا ہے کہ تمہیں چھڑا نہ سکے؟‏

کیا مجھ میں اِتنی طاقت نہیں کہ تمہیں بچا سکوں؟‏

دیکھو!‏ مَیں اپنی ڈانٹ سے سمندر کو سُکھا دیتا ہوں؛‏

مَیں دریاؤں کو ریگستان بنا دیتا ہوں۔‏

اُن کی مچھلیاں پانی کی کمی کی وجہ سے گل‌سڑ جاتی ہیں

اور پیاس کی وجہ سے مر جاتی ہیں۔‏

 3 مَیں آسمان کو تاریکی کا لباس پہناتا ہوں

اور ٹاٹ سے اُسے ڈھک دیتا ہوں۔“‏

 4 حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ نے مجھے ایک شاگرد کی زبان*‏ بخشی ہے

تاکہ مَیں جان سکوں کہ صحیح بات کے ذریعے تھکے ہوئے شخص کو جواب*‏ کیسے دینا ہے۔‏

وہ مجھے ہر صبح جگاتا ہے؛‏

وہ میرے کان کھولتا ہے تاکہ مَیں ایک شاگرد کی طرح سُن سکوں۔‏

 5 حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ نے میرے کان کھولے

اور مَیں نے بغاوت نہیں کی۔‏

مَیں نے اُس سے مُنہ نہیں پھیرا۔‏

 6 مَیں نے مارنے والوں کی طرف اپنی کمر کر دی

اور داڑھی نوچنے والوں کی طرف اپنے گال۔‏

مَیں نے بے‌عزتی اور تھوک سے بچنے کے لیے اپنا مُنہ نہیں چھپایا۔‏

 7 لیکن حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ میری مدد کرے گا۔‏

اِس وجہ سے مَیں بے‌عزتی محسوس نہیں کروں گا۔‏

اِس لیے مَیں نے اپنا چہرہ چقماق کی چٹان کی طرح بنا لیا ہے

اور مَیں جانتا ہوں کہ مجھے شرمندہ نہیں ہونا پڑے گا۔‏

 8 مجھے نیک قرار دینے والا قریب ہے۔‏

کون مجھ پر اِلزام لگا*‏ سکتا ہے؟‏

آؤ اِکٹھے کھڑے ہوں۔‏*‏

میرے خلاف مُقدمہ لڑنے والا کون ہے؟‏

وہ میرے پاس آئے۔‏

 9 دیکھو!‏ حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ میری مدد کرے گا۔‏

کون مجھے قصوروار ٹھہرائے گا؟‏

دیکھو!‏ وہ سب کپڑے کی طرح گِھس جائیں گے۔‏

کیڑا اُنہیں کھا جائے گا۔‏

10 تُم میں سے کون یہوواہ سے ڈرتا ہے

اور اُس کے خادم کی آواز سنتا ہے؟‏

کون کسی روشنی کے بغیر گہری تاریکی میں چلا ہے؟‏

وہ یہوواہ کے نام پر بھروسا کرے اور اپنے خدا کو اپنا سہارا بنائے۔‏

11 ‏”‏دیکھو!‏ تُم سب جو آگ جلا رہے ہو

اور چنگاریاں اُڑا رہے ہو،‏

اپنی جلائی ہوئی آگ کی روشنی میں چلو،‏

ہاں، اُن چنگاریوں کے بیچ جو تُم نے بھڑکائی ہیں۔‏

تمہیں میرے ہاتھ سے یہ ملے گا:‏

تُم شدید تکلیف کا شکار ہو کر پڑے رہو گے۔‏

51 تُم جو نیکی کی جستجو میں رہتے ہو؛‏

تُم جو یہوواہ کی رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہو، میری سنو۔‏

اُس چٹان کی طرف دیکھو جس سے تمہیں کاٹا گیا تھا

اور اُس گڑھے کی طرف بھی جس سے تمہیں کھودا گیا تھا۔‏

 2 اپنے والد اَبراہام کی طرف دیکھو

اور سارہ کی طرف بھی جس نے تمہیں جنم دیا*‏

کیونکہ جب مَیں نے اُسے بُلایا تو وہ اکیلا تھا؛‏

مَیں نے اُسے برکت دی اور اُس کی تعداد بڑھائی۔‏

 3 یہوواہ صِیّون کو تسلی دے گا۔‏

وہ اُس کے تمام کھنڈروں کو دِلاسا دے گا؛‏

وہ اُس کے ویرانے کو عدن کی طرح بنا دے گا

اور اُس کے بنجر میدان کو یہوواہ کے باغ کی طرح۔‏

اُس میں خوشی اور شادمانی ہوگی

اور شکرگزاری اور سُریلے گیت بھی۔‏

 4 اَے میرے بندو!‏ میری طرف دھیان دو؛‏

اَے میری قوم!‏ میری بات پر کان لگا

کیونکہ میری طرف سے ایک قانون جاری ہوگا

اور مَیں اپنا اِنصاف قوموں کے لیے ایک روشنی کی طرح قائم کروں گا۔‏

 5 میری نیکی نزدیک آ رہی ہے؛‏

مَیں تمہیں نجات دِلانے والا ہوں؛‏

میرے بازو لوگوں کا اِنصاف کریں گے۔‏

جزیرے مجھ سے اُمید لگائیں گے

اور میری طاقت*‏ کا اِنتظار کریں گے۔‏

 6 اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اُٹھاؤ

اور نیچے زمین کو دیکھو

کیونکہ آسمان دُھوئیں کی طرح ٹکڑوں میں بکھر جائے گا؛‏

زمین ایک کپڑے کی طرح گِھس جائے گی

اور اِس پر رہنے والے مچھروں کی طرح مر جائیں گے۔‏

لیکن مَیں جو نجات دِلاؤں گا، وہ ہمیشہ کے لیے ہوگی

اور میری نیکی کبھی ختم*‏ نہیں ہوگی۔‏

 7 اَے لوگو!‏ تُم جو میری نیکی سے واقف ہو،‏

ہاں، جن کے دل میں میری شریعت*‏ بسی ہے، میری سنو۔‏

فانی اِنسان کے طعنوں کی وجہ سے نہ ڈرو

اور اُن کی بے‌عزتی بھری باتوں کی وجہ سے خوف‌زدہ نہ ہو

 8 کیونکہ کیڑا اُنہیں کپڑے کی طرح کھا جائے گا؛‏

کپڑے کھانے والا کیڑا اُنہیں اُون کی طرح چٹ کر جائے گا۔‏

لیکن میری نیکی ہمیشہ رہے گی

اور مَیں جو نجات دِلاؤں گا، وہ نسل‌درنسل رہے گی۔“‏

 9 یہوواہ کے بازو!‏ جاگ!‏

جاگ اور خود کو طاقت کا لباس پہنا۔‏

اُس طرح جاگ جس طرح تُو قدیم زمانے میں، ہاں، پُرانی پُشتوں کے زمانے میں جاگتا تھا۔‏

کیا تُو نے ہی رہب*‏ کو ٹکڑے ٹکڑے نہیں کِیا تھا

اور بڑے سمندری جان‌دار کو نہیں چھیدا تھا؟‏

10 کیا تُو نے ہی سمندر کو، ہاں، گہرے پانیوں کو نہیں سُکھایا تھا؟‏

کیا تُو نے ہی سمندر کی گہرائیوں میں اُن لوگوں کے پار گزرنے کے لیے راستہ نہیں بنایا تھا جنہیں چھڑایا*‏ گیا تھا؟‏

11 جن لوگوں کو یہوواہ چھڑائے گا، وہ لوٹیں گے۔‏

وہ خوشی سے للکارتے ہوئے صِیّون آئیں گے؛‏

کبھی نہ ختم ہونے والی خوشی اُن کے سر کا تاج ہوگی۔‏

اُنہیں خوشی اور شادمانی ملے گی

اور غم اور آہیں بھاگ جائیں گے۔‏

12 ‏”‏مَیں ہی تمہیں تسلی دیتا ہوں۔‏

تُو*‏ فانی اِنسان سے کیوں ڈرتی ہے جو مر جائے گا،‏

ہاں، اِنسان کے بیٹے سے جو ہری گھاس کی طرح مُرجھا جائے گا؟‏

13 تُو اپنے خالق یہوواہ کو کیوں بھول جاتی ہے،‏

ہاں، اُسے جس نے آسمان کو پھیلایا اور زمین کی بنیاد رکھی؟‏

تُو سارا سارا دن ظالم کے قہر سے خوف‌زدہ رہتی تھی

جیسے وہ تجھے تباہ کرنے کے لیے تیار کھڑا ہو۔‏

اب اُس ظالم کا غصہ کہاں ہے؟‏

14 زنجیروں سے جھکے ہوئے شخص کو جلد ہی آزاد کِیا جائے گا؛‏

وہ نہ تو مرے گا، نہ گڑھے میں جائے گا

اور نہ ہی اُسے روٹی کی کمی ہوگی۔‏

15 لیکن مَیں تیرا خدا یہوواہ ہوں

جو سمندر میں ہلچل مچاتا ہوں اور اُس کی لہروں کو اُچھالتا ہوں۔

میرا نام فوجوں کا خدا یہوواہ ہے۔‏

16 مَیں اپنی باتیں تیرے مُنہ میں ڈالوں گا

اور اپنے ہاتھ کے سایے سے تجھے ڈھک لوں گا

تاکہ آسمان کو قائم کروں اور زمین کی بنیاد ڈالوں

اور صِیّون سے کہوں:‏ ”‏تُو میری قوم ہے۔“‏

17 اَے یروشلم!‏ جاگ!‏ جاگ اور اُٹھ!‏

ہاں، تُو جس نے یہوواہ کے ہاتھ سے اُس کے غضب کا پیالہ پی لیا ہے۔‏

تُو نے جام پی لیا ہے؛‏

تُو نے اُس پیالے کا آخری قطرہ تک پی لیا ہے جو ڈگمگانے کا باعث بنتا ہے۔‏

18 اُس نے جتنے بھی بیٹوں کو پیدا کِیا، اُن میں سے کوئی بھی اُس کی رہنمائی کرنے والا نہیں ہے؛‏

اُس نے جتنے بھی بیٹوں کی پرورش کی، اُن میں سے کسی نے بھی اُس کا ہاتھ نہیں تھاما۔‏

19 تجھ پر یہ دو مصیبتیں آئیں گی:‏

تباہی اور بربادی؛ بھوک اور تلوار!‏

کون تجھ سے ہمدردی کرے گا؟‏

کون تجھے تسلی دے گا؟‏

20 تیرے بیٹے بے‌ہوش پڑے ہیں۔‏

وہ ہر گلی کے سِرے پر ایسے پڑے ہیں

جیسے جال میں جنگلی بھیڑ ہو۔‏

اُن پر یہوواہ کا غضب پوری طرح نازل ہوا ہے، ہاں، اُنہیں تیرے خدا کی طرف سے سزا ملی ہے۔“‏

21 اِس لیے اَے مصیبت کی ماری عورت!‏ مہربانی سے یہ بات سُن،‏

ہاں، تُو جو نشے میں دُھت ہے لیکن مے کے نشے میں نہیں۔‏

22 تیرا مالک یہوواہ، ہاں، تیرا خدا جو اپنے بندوں کا دِفاع کرتا ہے، یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏دیکھ!‏ مَیں تیرے ہاتھ سے وہ پیالہ لے لوں گا جو ڈگمگانے کا باعث بنتا ہے،‏

ہاں، وہ جام یعنی میرے غضب کا پیالہ؛‏

تُو اُسے پھر کبھی نہیں پیے گی۔‏

23 مَیں اُسے تجھے اذیت پہنچانے والوں کے ہاتھ میں دوں گا،‏

ہاں، اُن کے ہاتھ میں جنہوں نے تجھ*‏ سے کہا:‏ ”‏جھک جا تاکہ ہم تجھ پر پیر رکھ کر گزر سکیں۔“‏

اِس طرح تُو نے اپنی کمر زمین کی طرح بنا دی،‏

ہاں، ایک گلی کی طرح جس سے وہ گزر سکیں۔“‏

52 اَے صِیّون!‏ جاگ!‏ جاگ اور طاقت کا لباس پہن!‏

اَے مُقدس شہر یروشلم!‏ اپنا خوب‌صورت لباس پہن!‏

کیونکہ اب سے کوئی غیرمختون اور ناپاک شخص تجھ میں داخل نہیں ہوگا۔‏

 2 اَے یروشلم!‏ مٹی جھاڑ!‏ اُٹھ اور اُوپر آ کر بیٹھ!‏

اَے صِیّون کی قیدی بیٹی!‏ اپنی گردن سے بندھن کھول دے!‏

 3 کیونکہ یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏تمہیں مُفت میں بیچا گیا

اور تمہیں بغیر قیمت کے واپس خریدا جائے گا۔“‏

 4 حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏پہلے میرے بندے پردیسیوں کے طور پر رہنے کے لیے مصر گئے؛‏

پھر اسور نے بِلاوجہ اُن پر ظلم ڈھایا۔“‏

 5 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اب مجھے کیا کرنا چاہیے

کیونکہ میرے بندوں کو مُفت میں لے جایا گیا تھا؟“‏

یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اُن پر حکمرانی کرنے والے جیت کے نعرے مار رہے ہیں۔‏

سارا دن مسلسل میرے نام کی توہین کی جاتی ہے۔‏

 6 اِس وجہ سے میرے بندے میرا نام جان لیں گے،‏

ہاں، اِس وجہ سے اُس دن وہ جان لیں گے کہ وہ مَیں ہی ہوں جو بات کر رہا ہوں۔‏

دیکھو!‏ وہ مَیں ہی ہوں۔“‏

 7 پہاڑوں پر اُس شخص کے پاؤں کتنے خوب‌صورت ہیں جو خوش‌خبری لا رہا ہے؛‏

جو امن کا اِعلان کر رہا ہے؛‏

جو اچھی چیزوں کی خوش‌خبری لا رہا ہے؛‏

جو نجات کا اِعلان کر رہا ہے

اور جو صِیّون سے کہہ رہا ہے:‏ ”‏تیرا خدا بادشاہ بن چُکا ہے!‏“‏

 8 سُن!‏ تیرے پہرےدار اُونچی آواز میں بول رہے ہیں۔‏

وہ مل کر خوشی سے للکار رہے ہیں

کیونکہ جب یہوواہ صِیّون کو واپس جمع کرے گا تو وہ صاف صاف*‏ دیکھیں گے۔‏

 9 یروشلم کے کھنڈرو!‏ باغ باغ ہو اور مل کر خوشی سے للکارو!‏

کیونکہ یہوواہ نے اپنے بندوں کو تسلی دی ہے؛ اُس نے یروشلم کو واپس خرید لیا ہے۔‏

10 یہوواہ نے سب قوموں کے سامنے اپنا پاک بازو ننگا کِیا ہے؛‏

زمین کا ہر کونا ہمارے خدا کے نجات‌بخش کام*‏ دیکھے گا۔‏

11 یہوواہ کے گھر کا سامان اُٹھانے والو!‏

دُور ہو جاؤ، دُور ہو جاؤ؛ وہاں سے نکل آؤ؛ کسی ناپاک چیز کو نہ چھوؤ؛‏

اُس کے بیچ سے نکل آؤ؛ اپنے آپ کو پاک رکھو!‏

12 تُم ہڑبڑاہٹ میں نہیں نکلو گے

اور نہ ہی تمہیں بھاگنا پڑے گا

کیونکہ یہوواہ تمہارے آگے آگے جائے گا

اور اِسرائیل کا خدا تمہاری حفاظت کے لیے تمہارے پیچھے پیچھے چلے گا۔‏

13 دیکھو!‏ میرا خادم گہری سمجھ سے کام لے گا۔‏

اُسے سربلند کِیا جائے گا؛‏

اُسے سرفراز کِیا جائے گا اور بڑی عزت بخشی جائے گی۔‏

14 جس طرح اُسے دیکھ کر بہت سے لوگ حیران رہ گئے تھے

کیونکہ اُس کی شکل‌وصورت اِتنی بگڑی ہوئی تھی جتنی کسی اَور اِنسان کی نہیں بگڑی

اور اُس کا حُلیہ اِتنا خراب تھا جتنا اِنسانوں میں سے کسی اَور کا نہیں ہوا

15 اُسی طرح وہ بہت سی قوموں کو دنگ کر دے گا۔‏

اُس کے سامنے بادشاہ اپنے مُنہ بند کر لیں گے*‏

کیونکہ وہ کچھ ایسا دیکھیں گے جو اُنہیں نہیں بتایا گیا

اور ایسی بات پر غور کریں گے جو اُنہوں نے نہیں سنی۔‏

53 کون اُن باتوں پر ایمان لایا ہے جو اُس نے ہم سے سنی ہیں؟‏*‏

یہوواہ کی طاقت*‏ کس پر ظاہر ہوئی ہے؟‏

 2 وہ اُس*‏ کے سامنے ایک کونپل کی طرح نکلے گا اور خشک زمین سے جڑ کی طرح پھوٹے گا۔‏

نہ تو اُس کا حُلیہ اِتنا اعلیٰ ہے اور نہ اُس کی کوئی شان‌وشوکت ہے؛‏

جب ہم اُسے دیکھتے ہیں تو اُس کی شکل‌وصورت ہمیں اُس کی طرف نہیں کھینچتی۔‏

 3 لوگوں نے اُسے حقیر سمجھا اور اُس سے کنارہ کِیا؛‏

وہ تکلیف کو سمجھتا تھا*‏ اور بیماری سے واقف تھا۔‏

اُس کا چہرہ گویا ہم سے چھپا تھا۔‏*‏

اُسے حقیر سمجھا گیا اور ہم نے اُس کی کوئی قدر نہیں کی۔‏

 4 بے‌شک اُس نے ہماری بیماریاں اپنے اُوپر اُٹھا لیں

اور ہماری تکلیفیں لے لیں۔‏

لیکن ہم نے سمجھا کہ خدا نے اُسے مصیبت میں مبتلا کِیا ہے، سزا دی ہے اور تکلیف پہنچائی ہے۔‏

 5 مگر اُسے ہمارے گُناہوں کی وجہ سے چھیدا گیا؛‏

اُسے ہماری غلطیوں کی وجہ سے کچلا گیا۔‏

اُس نے خدا سے ہماری صلح*‏ کی خاطر سزا سہی

اور اُس کے زخموں کی وجہ سے ہمیں شفا ملی۔‏

 6 ہم سب بھیڑوں کی طرح بھٹک گئے؛‏

ہر کوئی اپنے اپنے راستے چل پڑا۔‏

لیکن یہوواہ نے ہم سب کے گُناہ اُس پر لاد دیے۔‏

 7 اُس پر ظلم ڈھایا گیا اور وہ تکلیف سہتا رہا

لیکن اُس نے اپنا مُنہ نہیں کھولا۔‏

اُسے بھیڑ کی طرح ذبح کرنے کے لیے لایا گیا؛‏

جس طرح بھیڑ اُون کُترنے والوں کے سامنے خاموش ہوتی ہے

اُسی طرح اُس نے بھی اپنا مُنہ نہیں کھولا۔‏

 8 اُسے ظلم*‏ اور نااِنصافی کر کے لے جایا گیا۔‏

کون اُس کے حسب‌نسب*‏ کے بارے میں تفصیل جاننا چاہے گا؟‏

کیونکہ اُسے زمین*‏ سے مٹا دیا گیا؛‏

میرے بندوں کے گُناہ کی وجہ سے اُسے مارا*‏ گیا۔‏

 9 اُسے بُرے لوگوں کے ساتھ قبر دی گئی*‏

اور اُس کی موت پر اُسے امیروں*‏ کے ساتھ دفنایا گیا

حالانکہ اُس نے کوئی بُرائی*‏ نہیں کی تھی

اور نہ ہی اُس زبان پر کوئی دھوکادہی تھی۔‏

10 لیکن یہ یہوواہ کی مرضی تھی*‏ کہ اُسے کچلے اور اُس نے اُسے تکلیف سہنے دی۔‏

اگر تُو اُس کی جان کو خطا کی قربانی کے طور پر دے گا

تو وہ اپنی نسل*‏ کو دیکھے گا، اُس کی عمر لمبی ہوگی

اور اُس کے ذریعے یہوواہ کی مرضی*‏ پوری ہوگی۔‏

11 وہ اپنے*‏ دُکھ اُٹھانے کا نتیجہ دیکھ کر مطمئن ہوگا۔‏

میرے نیک بندے، ہاں، میرے خادم کے علم کے ذریعے بہت سے لوگ نیک ٹھہریں گے

اور وہ اُن کے گُناہ اُٹھا لے گا۔‏

12 اِس وجہ سے مَیں اُسے بہت سے لوگوں کے بیچ حصہ دوں گا

اور وہ طاقت‌وروں کے ساتھ لُوٹ کا مال بانٹے گا

کیونکہ اُس نے اپنی جان قربان کر دی*‏

اور اُسے گُناہ‌گاروں میں شمار کِیا گیا۔‏

وہ بہت سے لوگوں کے گُناہ اُٹھا کر لے گیا

اور اُس نے گُناہ‌گاروں کی خاطر سفارش کی۔‏

54 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏اَے بانجھ عورت!‏ تُو جس نے بچے کو جنم نہیں دیا، خوشی سے للکار!‏

ہاں، تُو جسے کبھی بچے کی پیدائش کی دردیں نہیں لگیں، باغ باغ ہو اور خوشی سے چلّا!‏

کیونکہ اُجڑی ہوئی عورت کے بیٹے*‏ اُس عورت کے بیٹوں سے کہیں زیادہ ہیں جس کا شوہر*‏ ہے۔‏

 2 اپنے خیمے کو اَور وسیع کر۔‏

اپنے عالی‌شان خیمے کے کپڑوں کو پھیلا۔‏

کوئی کسر نہ چھوڑ، اپنے خیمے کی رسیوں کو لمبا کر

اور اپنے خیمے کی کیلوں کو مضبوط کر

 3 کیونکہ تُو دائیں اور بائیں طرف پھیل جائے گی۔‏

تیری نسل قوموں کی مالک بن جائے گی

اور ویران شہروں کو آباد کرے گی۔‏

 4 ڈر نہیں کیونکہ تجھے رُسوا نہیں کِیا جائے گا

اور شرمندگی محسوس نہ کر کیونکہ تُو مایوس نہیں ہوگی۔‏

تُو اپنی جوانی کی رُسوائی بھول جائے گی

اور تُو اپنی بیوگی کی ذِلت کو پھر کبھی یاد نہیں کرے گی۔“‏

 5 ‏”‏کیونکہ تیرا عظیم خالق تیرے لیے شوہر*‏ کی طرح ہے؛‏

اُس کا نام فوجوں کا خدا یہوواہ ہے۔‏

اِسرائیل کا پاک خدا تجھے چھڑانے والا*‏ خدا ہے۔‏

وہ پوری زمین کا خدا کہلائے گا۔‏

 6 یہوواہ نے تجھے ایسے بُلایا جیسے تُو ایک چھوڑی ہوئی بیوی اور غم کی ماری عورت*‏ ہو،‏

ہاں، ایک ایسی بیوی جس کی جوانی میں شادی ہوئی ہو اور پھر اُسے ٹھکرا دیا گیا ہو۔“‏ یہ بات تیرے خدا نے کہی ہے۔‏

 7 ‏”‏مَیں نے پَل بھر کے لیے تجھے چھوڑ دیا تھا

لیکن مَیں بڑے رحم سے تجھے واپس اِکٹھا کروں گا۔‏

 8 مَیں نے قہر کی شدت کی وجہ سے پَل بھر کے لیے تجھ سے اپنا چہرہ چھپا لیا تھا

لیکن مَیں اپنی ابدی اٹوٹ محبت کی وجہ سے تجھ پر رحم کروں گا۔“‏ یہ بات تجھے چھڑانے والے*‏ خدا یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

 9 ‏”‏یہ میرے لیے نوح کے زمانے کی طرح ہے۔‏

جیسے مَیں نے قسم کھائی کہ زمین نوح کے زمانے کی طرح پھر کبھی پانی سے نہیں ڈوبے گی

ویسے ہی مَیں قسم کھاتا ہوں کہ مَیں پھر کبھی تجھ پر غصہ نہیں کروں گا اور نہ ہی تجھے ڈانٹوں گا۔‏

10 چاہے پہاڑ مٹ جائیں

اور پہاڑیاں ہل جائیں

لیکن تیرے لیے میری اٹوٹ محبت نہیں مٹے گی اور نہ ہی صلح کا میرا عہد ڈگمگائے گا۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے جو تجھ پر رحم کرتا ہے۔‏

11 ‏”‏اَے مصیبت‌زدہ، طوفان کی ماری اور تسلی سے محروم عورت!‏

مَیں مضبوط گارے سے تیرے پتھر لگا رہا ہوں

اور نیلم سے تیری بنیاد ڈال رہا ہوں۔‏

12 مَیں تیرے بُرج یاقوت سے،‏

تیرے دروازے چمک‌دار پتھروں*‏ سے

اور تیری ساری سرحدیں قیمتی پتھروں سے بناؤں گا۔‏

13 تیرے سب بیٹے*‏ یہوواہ سے تعلیم پائیں گے

اور تیرے بیٹوں*‏ کا امن*‏ بے‌اِنتہا ہوگا۔‏

14 تُو نیکی کی وجہ سے مضبوطی سے قائم ہوگی۔‏

تُو ظلم سے کوسوں دُور ہوگی؛‏

تُو کسی چیز سے خوف‌زدہ نہیں ہوگی اور تیرے پاس ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوگی

کیونکہ کوئی ایسی چیز تیرے قریب نہیں پھٹکے گی جو تجھے خوف‌زدہ کرے۔‏

15 اگر کوئی تجھ پر حملہ کرے تو وہ میرے حکم پر نہیں ہوگا۔‏

جو کوئی تجھ پر حملہ کرے گا، وہ تیری وجہ سے گِر جائے گا۔“‏

16 ‏”‏دیکھ!‏ مَیں نے خود کاریگر کو بنایا ہے

جو پھونک مار مار کر کوئلوں سے آگ جلاتا ہے

اور ایک ہتھیار بناتا ہے۔‏

مَیں نے خود اُس آدمی کو بھی بنایا ہے جو تباہی مچاتا اور بربادی لاتا ہے۔‏

17 تیرے خلاف بنایا جانے والا کوئی بھی ہتھیار کامیاب نہیں ہوگا

اور تُو اُس زبان کو قصوروار ٹھہرائے گی جو عدالت میں تیرے خلاف چلے گی۔‏

یہ یہوواہ کے خادموں کی وراثت ہے

اور وہ میری نظر میں نیک ہیں۔“‏*‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

55 سب پیاسے لوگو!‏ آؤ، پانی کے پاس آؤ!‏

جن کے پاس پیسے نہیں ہیں، وہ آئیں، خریدیں اور کھائیں!‏

ہاں، وہ آئیں اور بغیر پیسوں اور بغیر قیمت کے مے اور دودھ خریدیں۔‏

 2 تُم ایک ایسی چیز کے لیے پیسے کیوں دے رہے ہو جو روٹی نہیں ہے؟‏

اور ایک ایسی چیز کے لیے اپنی کمائی*‏ کیوں خرچ کر رہے ہو جو سیر نہیں کرتی؟‏

میری بات دھیان سے سنو اور جو چیز اچھی ہے، وہ کھاؤ۔‏

پھر تمہیں عمدہ کھانے سے*‏ بڑی خوشی ملے گی۔‏

 3 میری بات پر کان لگاؤ اور میرے پاس آؤ۔‏

میری سنو اور تُم*‏ زندہ رہو گے۔‏

مَیں ضرور تُم سے ایک ابدی عہد باندھوں گا

جس کا تعلق اُس قابلِ‌بھروسا وعدے سے ہے

جو مَیں نے اٹوٹ محبت ظاہر کرنے کے حوالے سے داؤد سے کِیا تھا۔‏

 4 دیکھو!‏ مَیں نے اُسے قوموں کے لیے ایک گواہ بنایا ہے،‏

ہاں، قوموں کے لیے ایک رہنما اور حکمران۔‏

 5 دیکھو!‏ تُم ایک قوم کو بُلاؤ گے جسے تُم نہیں جانتے

اور ایک قوم کے لوگ جو تمہیں نہیں جانتے، بھاگ کر تمہارے پاس آئیں گے۔‏

وہ تمہارے خدا یہوواہ، ہاں، اِسرائیل کے پاک خدا کی وجہ سے آئیں گے

کیونکہ وہ تمہاری شان بڑھائے گا۔‏

 6 جب تک یہوواہ مل سکتا ہے، اُس کی تلاش کرو۔‏

جب تک وہ قریب ہے، اُسے پکارو۔‏

 7 بُرا شخص اپنی بُری راہ کو چھوڑ دے

اور دوسروں کو نقصان پہنچانے والا اپنے بُرے خیالوں کو؛‏

وہ یہوواہ کے پاس لوٹ آئے جو اُس پر رحم کرے گا،‏

ہاں، ہمارے خدا کے پاس کیونکہ وہ دل کھول کر معاف کرے گا۔‏

 8 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏میرے خیال تمہارے خیالوں جیسے نہیں ہیں

اور تمہاری راہیں میری راہوں جیسی نہیں ہیں

 9 کیونکہ جس طرح آسمان زمین سے بلند ہے

اُسی طرح میری راہیں تمہاری راہوں سے بلند ہیں

اور میرے خیال تمہارے خیالوں سے۔‏

10 جیسے آسمان سے بارش ہوتی اور برف پڑتی ہے

اور تب تک واپس نہیں جاتی جب تک زمین کو سیراب نہ کر لے اور اِس پر پودے نہ اُگا لے اور بڑھا نہ لے

تاکہ بونے والے کو بیج اور کھانے والے کو روٹی ملے

11 ویسے ہی میرا کلام ہوگا*‏ جو میرے مُنہ سے نکلتا ہے۔‏

وہ بغیر نتیجے کے میرے پاس واپس نہیں آئے گا

بلکہ میری جو بھی خواہش*‏ ہوگی، وہ اُسے ضرور پورا کرے گا

اور اُس مقصد میں ضرور کامیاب ہوگا جس کے لیے مَیں نے اُسے بھیجا ہے۔‏

12 تُم خوشی خوشی باہر نکلو گے

اور تمہیں سلامتی سے واپس لایا جائے گا۔‏

تمہارے سامنے پہاڑ اور ٹیلے باغ باغ ہوں گے اور خوشی سے للکاریں گے

اور میدان کے سب درخت تالیاں بجائیں گے۔‏

13 کانٹے‌دار جھاڑیوں کی بجائے صنوبر کے درخت اُگیں گے

اور بچھوبُوٹی کی بجائے مہندی کے درخت۔‏

اِس سے یہوواہ کا نام روشن ہوگا

اور یہ ایک ابدی نشانی ہوگی جو کبھی نہیں مٹے گی۔“‏

56 یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏اِنصاف کی راہ پر چلو اور نیک کام کرو

کیونکہ مَیں جلد ہی نجات دِلاؤں گا

اور میری نیکی ظاہر ہوگی۔‏

 2 وہ شخص خوش رہتا ہے جو ایسا کرتا ہے

اور اِنسان کا وہ بیٹا بھی جو اِن باتوں کو پلے سے باندھے رکھتا ہے؛‏

جو سبت کو مناتا ہے اور اِس کی بے‌حُرمتی نہیں کرتا

اور اپنے ہاتھوں کو ہر قسم کی بُرائی سے باز رکھتا ہے۔‏

 3 جو پردیسی یہوواہ سے جُڑ جاتا ہے، وہ یہ نہ کہے:‏

‏”‏یہوواہ ضرور مجھے اپنے بندوں سے الگ کر دے گا۔“‏

اور خواجہ‌سرا یہ نہ کہے:‏ ”‏دیکھو، مَیں تو ایک سُوکھا ہوا درخت ہوں۔“‏“‏

4 جو خواجہ‌سرا میرے سبتوں کو مناتے ہیں اور ایسے کام کرتے ہیں جن سے مجھے خوشی ملتی ہے اور میرے عہد پر قائم رہتے ہیں، اُن سے یہوواہ کہتا ہے:‏

 5 ‏”‏مَیں اُنہیں اپنے گھر اور اپنی چاردیواری میں ایک یادگار اور ایک نام بخشوں گا

جو بیٹے بیٹیاں ہونے سے کہیں بہتر ہوگا۔‏

مَیں اُنہیں ایک ابدی نام بخشوں گا،‏

ایک ایسا نام جو کبھی نہیں مٹے گا۔‏

 6 اور جو پردیسی یہوواہ سے جُڑ جاتے ہیں تاکہ اُس کی خدمت کریں

اور یہوواہ کے نام سے پیار کریں

اور اُس کے خادم بنیں،‏

ہاں، وہ سب جو سبت مناتے ہیں اور اِس کی بے‌حُرمتی نہیں کرتے

اور میرے عہد پر قائم رہتے ہیں،‏

 7 مَیں اُنہیں بھی اپنے مُقدس پہاڑ پر لاؤں گا

اور اُنہیں اپنے دُعاگھر میں خوشی بخشوں گا۔‏

میری قربان‌گاہ پر اُن کی بھسم ہونے والی سالم قربانیاں اور دوسری قربانیاں قبول کی جائیں گی

کیونکہ میرا گھر سب قوموں کے لیے دُعاگھر کہلائے گا۔“‏

8 حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ جو اِسرائیل کے بکھرے ہوئے لوگوں کو جمع کر رہا ہے، فرماتا ہے:‏

‏”‏جن لوگوں کو جمع کِیا جا چُکا ہے، مَیں اُن کے ساتھ اَور لوگوں کو بھی جمع کروں گا۔“‏

 9 میدان کے سب جنگلی جانورو، ہاں، جنگل کے سب جانورو!‏

کھانے کے لیے آؤ۔‏

10 اُس کے پہرےدار اندھے ہیں؛ اُن میں سے کسی نے دھیان نہیں دیا۔‏

وہ سب گونگے کُتے ہیں جو بھونک نہیں سکتے۔‏

وہ ہانپتے ہیں اور پڑے رہتے ہیں؛ اُنہیں نیند سے پیار ہے۔‏

11 وہ ایسے کُتے ہیں جن کی بھوک*‏ بہت شدید ہے؛‏

جن کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا۔‏

وہ ایسے چرواہے ہیں جن میں کوئی سمجھ نہیں ہے۔‏

وہ سب اپنی مرضی کی راہ پر چل پڑے ہیں؛‏

اُن میں سے ہر ایک بے‌ایمانی کی کمائی کے پیچھے بھاگتا ہے اور کہتا ہے:‏

12 ‏”‏آؤ، مَیں مے لاتا ہوں

اور ہم جی بھر کر شراب پیتے ہیں۔‏

کل کا دن آج کی طرح بلکہ آج سے بھی بہتر ہوگا!‏“‏

57 نیک شخص مٹ گیا ہے

لیکن کسی کو پروا نہیں ہے۔‏

وفادار لوگ لے لیے گئے ہیں*‏

لیکن کوئی یہ نہیں سمجھ رہا

کہ نیک شخص کو مصیبت کی وجہ سے*‏ لے لیا گیا ہے۔‏

 2 اُسے سکون مل گیا ہے۔‏

وہ سب جو سیدھی راہ پر چلتے ہیں، اپنے بستروں پر*‏ آرام کر رہے ہیں۔‏

 3 ‏”‏لیکن اَے عاملہ کے بیٹو!‏

زِناکار عورت اور فاحشہ کے بچو!‏

قریب آؤ۔‏

 4 تُم کس کا مذاق اُڑا رہے ہو؟‏

تُم کس کے خلاف مُنہ پھاڑ رہے ہو اور زبان باہر نکال رہے ہو؟‏

کیا تُم گُناہ کی اولاد اور فریب کے بچے نہیں ہو

 5 جو بڑے بڑے درختوں کے بیچ،‏

ہاں، ہر گھنے درخت کے نیچے ہوس کی آگ میں بھڑکتے ہو؛‏

جو وادیوں میں اور چٹانوں کے شگافوں میں

بچوں کو ذبح کرتے ہو؟‏

 6 تیرا*‏ حصہ وادی کے چکنے پتھروں کے ساتھ ہے،‏

ہاں، وہی تیرا حصہ ہیں۔‏

اُنہی کے آگے تُو نے مے کے نذرانے اُنڈیلے اور تحفے پیش کیے۔‏

کیا مجھے اِس سب سے خوش ہونا چاہیے؟‏*‏

 7 تُو نے ایک اُونچے اور بلند پہاڑ پر اپنا بستر تیار کِیا

اور وہاں قربانی پیش کرنے کے لیے گئی۔‏

 8 تُو نے دروازے اور چوکھٹ کے پیچھے اپنے لیے یادگار بنائی۔‏

تُو نے مجھے چھوڑ دیا اور اپنے کپڑے اُتار دیے؛‏

تُو نے اُوپر جا کر اپنا بستر بڑا کِیا

اور تُو نے اُن کے ساتھ ایک عہد باندھا۔‏

تجھے اُن کے ساتھ ہم‌بستر ہونا پسند تھا

اور تُو عضوِتناسل کو گھورتی رہی۔‏*‏

 9 تُو تیل اور ڈھیر سارا عطر لے کر مَلِک*‏ کے پاس گئی

تُو نے اپنے قاصدوں کو دُور دُور بھیجا۔‏

اِس طرح تُو نیچے قبر*‏ میں اُتر گئی۔‏

10 تُو اپنی بہت سی راہوں پر چلتے چلتے تھک گئی ہے

لیکن تُو نے یہ نہیں کہا کہ ”‏ایسا کرنا فضول ہے۔“‏

تجھے نئی طاقت مل گئی ہے

اِس لیے تُو ہار نہیں مان رہی۔‏*‏

11 تُو کس سے ڈرنے اور دہشت کھانے لگی

جو تُو نے جھوٹ بولنا شروع کر دیا؟‏

تُو نے مجھے یاد نہیں رکھا۔‏

تُو نے کسی بات پر دھیان نہیں دیا۔‏

مَیں خاموش رہا اور پیچھے ہٹ گیا*‏

اِس لیے تُو نے میرا کوئی خوف نہیں رکھا۔‏

12 مَیں تیری جھوٹی نیکی اور تیرے کاموں کا پردہ فاش کروں گا؛‏

تجھے اِن سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔‏

13 جب تُو مدد کے لیے پکارے گی

تو تیرے جمع کیے ہوئے بُت تجھے نہیں بچائیں گے۔‏

ہوا اُن سب کو اُڑا لے جائے گی؛‏

وہ ایک پھونک سے اُڑ جائیں گے۔‏

لیکن جو شخص میرے پاس پناہ لیتا ہے، وہ ملک کا وارث ہوگا

اور میرا مُقدس پہاڑ اُس کی ملکیت بنے گا۔‏

14 یہ کہا جائے گا:‏ ”‏تعمیر کرو، ہاں، ایک سڑک تعمیر کرو!‏ راہ تیار کرو!‏

میرے بندوں کے راستے سے ہر رُکاوٹ دُور کر دو۔“‏“‏

15 وہ جو بلند اور عظیم ہے،‏

جو ہمیشہ تک رہتا ہے اور جس کا نام پاک ہے، فرماتا ہے:‏

‏”‏مَیں اُونچی اور مُقدس جگہ میں بستا ہوں

لیکن مَیں اُن لوگوں کے ساتھ بھی رہتا ہوں جو کچلے ہوئے ہیں اور دل سے خاکسار*‏ ہیں

تاکہ ادنیٰ لوگوں میں نئی جان*‏ ڈال دوں

اور کچلے ہوئے لوگوں کے دلوں میں نیا جوش بھر دوں

16 کیونکہ مَیں ہمیشہ تک اُن کی مخالفت نہیں کروں گا

اور نہ ہمیشہ غصے میں رہوں گا

کیونکہ میری وجہ سے اِنسان*‏ کمزور پڑ جائیں گے،‏

ہاں، سانس لینے والے وہ سب جان‌دار جنہیں مَیں نے بنایا ہے۔‏

17 مَیں اُسے*‏ گُناہ کرتے دیکھ کر، ہاں، بے‌ایمانی کی کمائی کے پیچھے بھاگتے دیکھ کر بھڑک اُٹھا

اِس لیے مَیں نے اُسے مارا، اپنا چہرہ چھپا لیا اور طیش میں آ گیا۔‏

لیکن وہ باغی بن کر اپنے دل کی بتائی راہ پر چلتا رہا۔‏

18 مَیں نے اُس کی روِش دیکھی ہے

لیکن مَیں اُسے شفا دوں گا اور اُس کی رہنمائی کروں گا؛‏

مَیں اُسے اور اُس کے ساتھ ماتم کرنے والوں کو تسلی بخشوں گا۔“‏*‏

19 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں ہونٹوں کا پھل پیدا کر رہا ہوں۔‏

مَیں اُسے مسلسل سکون بخشوں گا جو دُور ہے اور اُسے بھی جو نزدیک ہے

اور مَیں اُسے شفا دوں گا۔“‏

20 ‏”‏لیکن بُرے لوگ بپھرے ہوئے سمندر کی طرح ہیں جو پُرسکون نہیں ہو سکتا

اور جس کا پانی کائی اور کیچڑ اُچھالتا رہتا ہے۔‏

21 بُرے لوگوں کے لیے کوئی سکون نہیں ہے۔“‏

یہ بات میرے خدا نے فرمائی ہے۔‏

58 ‏”‏گلا پھاڑ کر چلّاؤ؛ چپ نہ رہو!‏

اپنی آواز نرسنگے*‏ کی طرح اُونچی کرو۔‏

میرے بندوں کو اُن کی بغاوت کے بارے میں بتاؤ

اور یعقوب کے گھرانے کو اُس کے گُناہوں کے بارے میں۔‏

 2 وہ ہر دن میری رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں؛‏

وہ میری راہوں کے بارے میں جاننے کے لیے ایسے خوش ہوتے ہیں

جیسے وہ نیکی کی راہ پر چلنے والی قوم ہوں

اور اُنہوں نے اپنے خدا کے قوانین کو ترک نہ کِیا ہو۔‏

وہ مجھ سے کہتے ہیں کہ مَیں نیک معیاروں کے مطابق فیصلے کروں

گویا اُنہیں خدا کے قریب آنے سے خوشی ملتی ہو۔‏

 3 وہ کہتے ہیں:‏ ”‏جب ہم روزہ رکھتے ہیں تو تجھے نظر کیوں نہیں آتا؟‏

جب ہم خود کو*‏ اذیت دیتے ہیں تو تُو دھیان کیوں نہیں دیتا؟“‏

ایسا اِس لیے ہے کیونکہ تُم روزے کے دن بھی اپنی خواہشوں*‏ کے پیچھے بھاگتے ہو

اور اپنے مزدوروں پر ظلم ڈھاتے ہو۔‏

 4 تُم روزہ رکھ کر لڑائی جھگڑا کرتے ہو

اور بُرائی کے مُکے مارتے ہو۔‏

تُم آج‌کل جس طرح کے روزے رکھ رہے ہو،‏

اُن کی وجہ سے یہ توقع نہ کرو کہ آسمان پر تمہاری آواز سنی جائے گی۔‏

 5 کیا مَیں چاہتا ہوں کہ اِس طرح کا روزہ رکھا جائے

کہ اُس دن ایک شخص خود کو*‏ اذیت پہنچائے،‏

اپنا سر سرکنڈے کی طرح جھکائے

اور ٹاٹ اور راکھ کو اپنا بستر بنائے؟‏

کیا تُم اِسے ایسا روزہ اور ایسا دن کہتے ہو جس سے یہوواہ خوش ہوتا ہے؟‏

 6 مَیں چاہتا ہوں کہ اِس طرح کا روزہ رکھا جائے

کہ تُم بُرائی کی بیڑیاں توڑ ڈالو؛‏

جُوئے کے بندھن کھول ڈالو؛‏

مظلوموں کو آزاد کر دو

اور ہر جُوئے کے دو ٹکڑے کر دو؛‏

 7 اپنی روٹی بھوکوں کے ساتھ بانٹو؛‏

غریبوں اور بے‌گھر لوگوں کو اپنے گھر میں لاؤ؛‏

کسی کو ننگا دیکھ کر اُسے کپڑے پہناؤ

اور اپنے رشتے‌داروں سے مُنہ نہ موڑو۔‏

 8 پھر تمہاری روشنی صبح سویرے کی روشنی کی طرح چمکے گی

اور تُم جلدی ٹھیک ہو جاؤ گے۔‏

تمہاری نیکی تمہارے آگے آگے چلے گی

اور یہوواہ کی شان تمہاری حفاظت کے لیے تمہارے پیچھے پیچھے آئے گی۔‏

 9 تب تُم پکارو گے اور یہوواہ تمہیں جواب دے گا؛‏

تُم مدد کے لیے فریاد کرو گے اور وہ کہے گا:‏ ”‏مَیں یہیں ہوں!‏“‏

اگر تُم اپنے درمیان سے جُوا نکال دو

اور دوسروں پر اُنگلی اُٹھانا اور نقصان‌دہ باتیں کرنا چھوڑ دو؛‏

10 اگر تُم بھوکوں کو وہ چیز دے دو جس کی تُم*‏ خواہش رکھتے ہو

اور مصیبت کے مارے لوگوں*‏ کا اچھی طرح خیال رکھو

تو تمہاری روشنی تاریکی میں بھی چمکے گی

اور تمہارا اندھیرا بھری دوپہر کی طرح ہو جائے گا۔‏

11 یہوواہ ہمیشہ تمہاری رہنمائی کرے گا

اور سُوکھی زمین میں بھی تمہارا*‏ خیال رکھے گا؛‏

وہ تمہاری ہڈیوں میں جان ڈال دے گا

اور تُم ایک ایسے باغ کی طرح بن جاؤ گے جسے خوب پانی مل رہا ہو،‏

ایک ایسے چشمے کی طرح جس کا پانی کبھی خشک نہیں ہوتا۔‏

12 تمہاری خاطر قدیم کھنڈروں کو پھر سے بنایا جائے گا

اور تُم وہ بنیادیں پھر سے ڈالو گے جو کئی پُشتوں سے ویران پڑی ہیں۔‏

تمہیں ٹوٹی ہوئی دیواروں*‏ کی مرمت کرنے والا کہا جائے گا،‏

ہاں، اُن راستوں کو بحال کرنے والا جن کے آس‌پاس لوگ بسیں گے۔‏

13 اگر تُم سبت کے دن یعنی میرے پاک دن اپنی خواہشوں*‏ کے پیچھے بھاگنے سے باز رہو گے*‏

اور سبت کو بے‌اِنتہا خوشی کا دن، یہوواہ کا پاک دن اور ایک قابلِ‌احترام دن سمجھو گے

اور اپنی خواہشوں کے پیچھے بھاگنے اور فضول باتیں کرنے کی بجائے اِس کا احترام کرو گے

14 تو تمہیں یہوواہ کی وجہ سے بے‌اِنتہا خوشی ملے گی

اور مَیں زمین کی اُونچی جگہیں تمہارے حوالے کر دوں گا۔‏

مَیں تمہیں تمہارے بڑے بزرگ یعقوب کی وراثت کی پیداوار کھلاؤں گا۔‏*‏

یہ بات یہوواہ نے اپنے مُنہ سے فرمائی ہے۔“‏

59 دیکھو!‏ یہوواہ کا ہاتھ اِتنا چھوٹا نہیں ہے کہ بچا نہ سکے

اور نہ ہی اُس کا کان اِتنا کمزور*‏ ہے کہ سُن نہ سکے۔‏

 2 تمہاری اپنی غلطیوں کی وجہ سے تمہارا خدا تُم سے دُور ہو گیا ہے۔‏

تمہارے گُناہوں کی وجہ سے اُس نے اپنا چہرہ تُم سے چھپا لیا ہے

اور وہ تمہاری سننا نہیں چاہتا

 3 کیونکہ تمہارے ہاتھ خون سے آلودہ ہیں

اور تمہاری اُنگلیاں گُناہوں سے۔‏

تمہارے ہونٹ جھوٹ بولتے ہیں اور تمہاری زبان بُری باتیں پُھسپُھساتی ہے۔‏

 4 کوئی بھی نیکی کے لیے آواز نہیں اُٹھاتا

اور کوئی بھی عدالت میں سچ بولنے نہیں جاتا۔‏

وہ ایسی چیزوں پر بھروسا کرتے ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں*‏ اور فضول باتیں کہتے ہیں۔‏

اُن کی کوکھ میں فساد کا حمل ٹھہرتا ہے اور وہ بُرائی کو جنم دیتے ہیں۔‏

 5 وہ زہریلے سانپ کے انڈوں پر بیٹھتے ہیں

اور مکڑی کا جالا بُنتے ہیں۔‏

جو اُن کے انڈوں کو کھائے گا، وہ مر جائے گا

اور جو انڈا توڑا جائے گا، اُس میں سے زہریلا سانپ نکلے گا۔‏

 6 اُن کا بُنا ہوا جالا کپڑے کے طور پر کام نہیں آئے گا

اور نہ ہی وہ اپنی بنائی ہوئی چیز سے خود کو ڈھک سکیں گے۔‏

اُن کے کام نقصان‌دہ ہیں

اور اُن کے ہاتھ تشدد سے بھرے ہیں۔‏

 7 اُن کے پاؤں بُرائی کرنے کے لیے بھاگتے ہیں

اور وہ فوراً معصوموں کا خون بہا دیتے ہیں۔‏

وہ نقصان‌دہ خیال بُنتے ہیں؛‏

اُن کی راہوں میں تباہی اور مصیبت ہے۔‏

 8 وہ امن کی راہ پر چلنا نہیں جانتے

اور نہ ہی اُن کے راستوں میں اِنصاف کا کوئی وجود ہے۔‏

وہ اپنی راہوں کو ٹیڑھا میڑھا کر لیتے ہیں؛‏

اُن پر چلنے والے کسی بھی شخص کو امن حاصل نہیں ہوگا۔‏

 9 اِسی لیے اِنصاف ہم سے کوسوں دُور ہے

اور نیکی ہم تک پہنچ نہیں پاتی۔‏

ہم روشنی کا اِنتظار کرتے رہتے ہیں لیکن دیکھو!‏ تاریکی ہی ہوتی ہے؛‏

ہم اُجالے کا اِنتظار کرتے رہتے ہیں لیکن اندھیرے میں چلتے رہتے ہیں۔‏

10 ہم اندھوں کی طرح دیوار کو ٹٹولتے ہیں؛‏

ہم اُن لوگوں کی طرح ٹٹولتے رہتے ہیں جن کی آنکھیں نہیں ہیں۔‏

ہم بھری دوپہر میں ایسے ٹھوکر کھاتے ہیں جیسے شام کا اندھیرا ہو؛‏

ہم طاقت‌ور لوگوں کے بیچ مرے ہوئے لوگوں کی طرح ہیں۔‏

11 ہم سب ریچھوں کی طرح غُراتے رہتے ہیں

اور کبوتروں کی طرح کراہتے رہتے ہیں۔‏

ہم اِنصاف کی اُمید لگاتے ہیں لیکن ہمیں کوئی اِنصاف نہیں ملتا؛‏

ہم نجات کی اُمید لگاتے ہیں لیکن وہ ہم سے کوسوں دُور ہے۔‏

12 ہم نے تیرے حضور بغاوت پر بغاوت کی ہے؛‏

ہمارا ہر گُناہ ہمارے خلاف گواہی دیتا ہے

کیونکہ ہم اپنی بغاوتوں سے انجان نہیں ہیں؛‏

ہم اپنے گُناہوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔‏

13 ہم نے گُناہ کِیا ہے اور یہوواہ کا اِنکار کِیا ہے؛‏

ہم نے اپنے خدا سے پیٹھ پھیر لی ہے۔‏

ہم نے ظلم اور بغاوت کی باتیں کی ہیں؛‏

ہم نے اپنی کوکھ میں جھوٹ کو پالا ہے اور جھوٹی باتیں دل سے زبان پر لائے ہیں۔‏

14 اِنصاف کو بھگا دیا گیا ہے

اور نیکی دُور کھڑی رہتی ہے؛‏

سچائی*‏ نے چوک میں ٹھوکر کھائی ہے

اور جو صحیح ہے، وہ اندر داخل نہیں ہو سکتا۔‏

15 سچائی*‏ غائب ہو گئی ہے

اور بُرائی سے مُنہ پھیر لینے والے ہر شخص کو لُوٹ لیا جاتا ہے۔‏

یہوواہ نے یہ دیکھا اور اُس کی نظر میں یہ بات بہت بُری تھی

کہ کہیں بھی اِنصاف نہیں تھا۔‏

16 اُس نے دیکھا کہ کوئی بھی کچھ نہیں کر رہا تھا؛‏

وہ یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ کوئی بھی بیچ میں نہیں آ رہا تھا۔‏

اِس لیے اُس کے اپنے بازو نے نجات دِلائی*‏

اور اُس کی اپنی نیکی نے اُس کا ساتھ نبھایا۔‏

17 پھر اُس نے نیکی کو بکتر کی طرح پہن لیا

اور سر پر نجات*‏ کا ہیلمٹ رکھ لیا۔‏

اُس نے اِنتقام کو لباس کی طرح پہن لیا

اور جوش*‏ کو چوغے*‏ کی طرح لپیٹ لیا۔‏

18 وہ اُنہیں اُن کے کاموں کے مطابق بدلہ دے گا:‏

وہ اپنے مخالفوں پر غضب نازل کرے گا اور اپنے دُشمنوں کو سزا دے گا۔‏

وہ جزیروں کو اُن کے کیے کا پھل دے گا۔‏

19 مغرب کے لوگ یہوواہ کے نام کا خوف رکھیں گے

اور مشرق کے لوگ اُس کی شان کا

کیونکہ وہ ایک تیزرفتار دریا کی طرح آئے گا

جسے یہوواہ کی روح*‏ بہا کر لا رہی ہے۔‏

20 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏صِیّون میں چھڑانے والا*‏ آئے گا؛‏

وہ یعقوب کے اُن لوگوں کے پاس آئے گا جنہوں نے گُناہ سے مُنہ پھیر لیا ہے۔“‏

21 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں نے اُن کے ساتھ یہ عہد باندھا ہے۔ میری روح جو تُم پر ہے اور میری باتیں جو مَیں نے تمہارے مُنہ میں ڈالی ہیں، تمہارے مُنہ سے، تمہارے بچوں کے مُنہ سے اور تمہارے بچوں کے بچوں کے مُنہ سے اب سے ہمیشہ تک نہیں ہٹیں گی۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

60 ‏”‏اَے عورت!‏ اُٹھ، اپنی روشنی چمکا کیونکہ تیری روشنی آ گئی ہے۔‏

یہوواہ کی شان تجھ پر چمک رہی ہے

 2 کیونکہ دیکھ!‏ تاریکی زمین کو ڈھک لے گی

اور گھپ اندھیرا قوموں کو۔‏

لیکن یہوواہ تجھ پر روشن ہوگا

اور تجھ پر اُس کی شان ظاہر ہوگی۔‏

 3 قومیں تیری روشنی کی طرف آئیں گی

اور بادشاہ تیری چمکتی ہوئی شان‌وشوکت*‏ کی طرف۔‏

 4 اپنی نظریں اُٹھا اور اپنی چاروں طرف دیکھ!‏

وہ سب اِکٹھے ہو گئے ہیں؛ وہ تیری طرف آتے جا رہے ہیں۔‏

تیرے بیٹے دُور دُور سے آ رہے ہیں

اور تیری بیٹیوں کو گود میں اُٹھا کر لایا جا رہا ہے۔‏

 5 اُس وقت تُو دیکھے گی اور چمک اُٹھے گی؛‏

تیرا دل زور زور سے دھڑکے گا اور خوشی سے بھر جائے گا

کیونکہ سمندر کی دولت تیری طرف پھیر دی جائے گی؛‏

قوموں کا مال‌ودولت تیرے پاس آئے گا۔‏

 6 اُونٹوں کے غول تیرے ملک کو*‏ بھر دیں گے،‏

ہاں، مِدیان اور عیفہ کے جوان اُونٹوں کے غول۔‏

سبا کے سب لوگ آئیں گے؛‏

وہ سونا اور لوبان لائیں گے۔‏

وہ سب کے سامنے یہوواہ کی بڑائی کریں گے۔‏

 7 قیدار کے سب گلّے تیرے پاس جمع ہوں گے۔‏

نِبایوت کے مینڈھے تیری خدمت کریں گے۔‏

وہ میری قربان‌گاہ پر آئیں گے اور مَیں اُنہیں قبول کروں گا؛‏

مَیں اپنے عالی‌شان گھر کو خوب‌صورتی بخشوں گا۔‏

 8 یہ کون ہیں جو بادلوں کے ساتھ اُڑتے ہوئے آ رہے ہیں،‏

اُن کبوتروں کی طرح جو اپنے کبوترخانوں کی طرف آ رہے ہوں؟‏

 9 جزیرے مجھ سے اُمید لگائیں گے؛‏

ترسیس کے جہاز سب سے آگے ہیں*‏

تاکہ دُور دُور سے تیرے بیٹوں کو

اُن کے سونے اور چاندی سمیت لائیں

اور اِس طرح تیرے خدا یہوواہ اور اِسرائیل کے پاک خدا کے نام کی بڑائی ہو

کیونکہ وہ تجھے عزت*‏ بخشے گا۔‏

10 پردیسی تیری دیواریں بنائیں گے

اور اُن کے بادشاہ تیری خدمت کریں گے

کیونکہ مَیں نے طیش میں آ کر تجھے مارا

لیکن مَیں اپنی مہربانی*‏ کی وجہ سے تجھ پر رحم کروں گا۔‏

11 تیرے دروازے مسلسل کُھلے رہیں گے؛‏

اُنہیں نہ دن کو بند کِیا جائے گا اور نہ رات کو

تاکہ قوموں کا مال‌ودولت تیرے پاس لایا جائے

اور اُن کے بادشاہ اُن کے آگے آگے ہوں گے۔‏

12 جو بھی قوم اور بادشاہت تیری خدمت نہیں کرے گی، وہ مٹ جائے گی

اور قومیں پوری طرح سے برباد ہو جائیں گی۔‏

13 لبنان کی شان تیرے پاس آئے گی،‏

ہاں، صنوبر کے درخت، ایش کے درخت اور سرو کے درخت اِکٹھے تیرے پاس آئیں گے

تاکہ میرے مُقدس مقام کو خوب‌صورت بنائیں؛‏

مَیں اپنے پاؤں کی چوکی کو شان بخشوں گا۔‏

14 تجھ پر ظلم ڈھانے والوں کے بیٹے آئیں گے اور تیرے سامنے جھکیں گے؛‏

اُن سب کو تیرے قدموں میں جھکنا پڑے گا جو تیری بے‌عزتی کرتے ہیں؛‏

اُنہیں یہ کہنا پڑے گا کہ تُو یہوواہ کا شہر،‏

ہاں، اِسرائیل کے پاک خدا کا صِیّون ہے۔‏

15 حالانکہ تجھے چھوڑ دیا گیا تھا؛ تجھ سے نفرت کی گئی تھی اور کوئی تجھ میں سے نہیں گزرتا تھا

لیکن مَیں تجھے ابدی فخر کی وجہ بناؤں گا،‏

ہاں، تُو نسل‌درنسل خوشی کی وجہ ہوگی۔‏

16 تُو قوموں کا دودھ پیے گی،‏

ہاں، بادشاہوں کی چھاتی سے دودھ پیے گی؛‏

تُو جان لے گی کہ مَیں یہوواہ تیرا نجات‌دہندہ ہوں

اور یعقوب کا طاقت‌ور خدا تجھے چھڑانے والا*‏ خدا ہے۔‏

17 مَیں تانبے کے بدلے سونا لاؤں گا

اور لوہے کے بدلے چاندی

اور لکڑی کے بدلے تانبا

اور پتھروں کے بدلے لوہا۔‏

مَیں امن*‏ کو تیرا نگہبان مقرر کروں گا

اور نیکی کو تجھے کام سونپنے والا بناؤں گا۔‏

18 تیرے ملک میں پھر کبھی ظلم کا ذکر نہیں ہوگا

اور نہ ہی تیری سرحدوں میں تباہی اور بربادی کا۔‏

تُو اپنی دیواروں کا نام نجات اور اپنے دروازوں کا نام حمد رکھے گی۔‏

19 پھر دن کو سورج تجھے روشنی نہیں دے گا

اور نہ ہی چاند کی چمک سے تجھے روشنی ملے گی

کیونکہ یہوواہ تیری ابدی روشنی بن جائے گا

اور تیرا خدا تیری خوب‌صورتی ہوگا۔‏

20 تیرا سورج پھر کبھی نہیں ڈوبے گا

اور نہ ہی تیرا چاند پھیکا پڑے گا

کیونکہ یہوواہ تیرے لیے ابدی روشنی بن جائے گا

اور تیرے ماتم کے دن ختم ہو جائیں گے۔‏

21 تیرے سب لوگ نیک ہوں گے؛‏

وہ ہمیشہ کے لیے ملک کے مالک ہوں گے۔‏

وہ میری لگائی ہوئی کونپل ہیں؛‏

وہ میرے ہاتھوں کا کام ہیں جس سے میری شان بڑھے گی۔‏

22 جو چھوٹا ہے، وہ ایک ہزار بن جائے گا

اور جو معمولی ہے، وہ ایک طاقت‌ور قوم۔‏

مَیں یہوواہ عین وقت پر اِس کام میں تیزی لاؤں گا۔“‏

61 حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ کی روح مجھ پر ہے

کیونکہ یہوواہ نے مجھے حلیم لوگوں کو خوش‌خبری سنانے کے لیے مسح*‏ کِیا ہے۔‏

اُس نے مجھے بھیجا ہے تاکہ دُکھ سے چُور لوگوں کے زخموں پر پٹی باندھوں؛‏

تاکہ غلاموں کو آزادی کی خبر سناؤں

اور قیدیوں کو بتاؤں کہ اُن کی آنکھیں پوری طرح کھولی جائیں گی؛‏

 2 تاکہ یہوواہ کی خوشنودی*‏ کے سال کا اِعلان کروں

اور ہمارے خدا کے اِنتقام کے دن کے بارے میں بتاؤں؛‏

تاکہ ماتم کرنے والے سب لوگوں کو تسلی دوں؛‏

 3 تاکہ صِیّون پر ماتم کرنے والوں کا خیال رکھوں؛‏

تاکہ اُنہیں راکھ کی جگہ پگڑی دوں،‏

ماتم کی جگہ خوشی کا تیل دوں

اور مایوسی*‏ کی جگہ تعریف کا لباس دوں۔‏

اُنہیں نیکی کے بڑے درخت کہا جائے گا

جنہیں یہوواہ نے اپنی بڑائی*‏ کے لیے لگایا ہے۔‏

 4 وہ قدیم کھنڈروں کو پھر سے تعمیر کریں گے؛‏

وہ پُرانے زمانے کی ویران جگہوں کو بنائیں گے

اور برباد شہروں کی مرمت کریں گے،‏

ہاں، اُن جگہوں کی جو نسلوں سے ویران پڑی ہیں۔‏

 5 ‏”‏اجنبی کھڑے ہوں گے اور تمہارے گلّوں کی گلّہ‌بانی کریں گے

اور پردیسی تمہارے لیے کسانوں اور انگور کے باغوں کے مالیوں کے طور پر کام کریں گے۔‏

 6 لیکن تُم یہوواہ کے کاہن کہلاؤ گے؛‏

وہ تمہیں ہمارے خدا کے خادم کہیں گے۔‏

تُم قوموں کی دولت کھاؤ گے

اور اُن کی شان‌وشوکت*‏ پر فخر کرو گے۔‏

 7 تمہیں شرمندگی کی جگہ دُگنا حصہ ملے گا؛‏

وہ رُسوائی کی جگہ اپنا حصہ پا کر خوشی سے للکاریں گے،‏

ہاں، وہ اپنے ملک میں دُگنے حصے کے مالک ہوں گے۔‏

اُنہیں ابدی خوشی ملے گی

 8 کیونکہ مَیں یہوواہ اِنصاف سے محبت کرتا ہوں؛‏

مجھے چوری اور بُرائی سے نفرت ہے۔‏

مَیں وفاداری سے اُنہیں اُن کی مزدوری دوں گا

اور اُن کے ساتھ ایک ابدی عہد باندھوں گا۔‏

 9 اُن کی نسل قوموں میں مشہور ہوگی

اور اُن کی اولاد لوگوں میں۔‏

اُنہیں دیکھنے والے سب لوگ پہچان لیں گے

کہ یہ لوگ وہ نسل ہیں جسے یہوواہ نے برکت دی ہے۔“‏

10 مَیں یہوواہ کی وجہ سے بے‌اِنتہا خوش ہوں گا؛‏

میرا روم روم*‏ اپنے خدا کی وجہ سے خوشی سے جھومے گا

کیونکہ اُس نے مجھے نجات کا لباس پہنایا ہے؛‏

اُس نے مجھے نیکی کے چوغے*‏ میں لپیٹا ہے،‏

بالکل ویسے ہی جیسے ایک دُلہا کاہن کی طرح پگڑی پہنتا ہے

اور ایک دُلہن خود کو اپنے زیورات سے سجاتی ہے۔‏

11 جس طرح زمین کونپلوں کو اُگاتی ہے

اور باغ اُن بیجوں کو بڑھاتا ہے جو اُس میں بوئے گئے ہوتے ہیں

اُسی طرح حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ سب قوموں کے سامنے نیکی اور حمد کو بڑھائے گا۔‏

62 مَیں صِیّون کی خاطر چپ نہیں رہوں گا

اور یروشلم کی خاطر چین سے نہیں بیٹھوں گا

جب تک کہ اُس کی نیکی تیز روشنی کی طرح نہیں چمکتی

اور اُس کی نجات مشعل کی طرح روشن نہیں ہوتی۔‏

 2 اَے عورت!‏ قومیں تیری نیکی کو دیکھیں گی

اور سب بادشاہ تیری شان کو۔‏

تجھے ایک نئے نام سے بُلایا جائے گا

جو یہوواہ اپنے مُنہ سے تجھے دے گا۔‏

 3 تُو یہوواہ کے ہاتھ میں ایک خوب‌صورت تاج بن جائے گی،‏

ہاں، اپنے خدا کی ہتھیلی پر ایک شاہی پگڑی۔‏

 4 پھر تجھے چھوڑی ہوئی عورت نہیں کہا جائے گا

اور نہ تیرے ملک کو ویران کہا جائے گا

بلکہ تجھے یہ کہہ کر پکارا جائے گا:‏ میری خوشی اُس میں ہے

اور تیرے ملک کو شادی‌شُدہ کہا جائے گا

کیونکہ یہوواہ تیری وجہ سے خوش ہوگا

اور تیرا ملک ایک شادی‌شُدہ عورت کی طرح ہوگا۔‏

 5 جیسے ایک جوان آدمی ایک کنواری سے شادی کرتا ہے

ویسے ہی تیرے بیٹے تجھ سے شادی کریں گے۔‏

جیسے ایک دُلہا دُلہن کی وجہ سے خوش ہوتا ہے

ویسے ہی تیرا خدا تیری وجہ سے خوش ہوگا۔‏

 6 اَے یروشلم!‏ مَیں نے تیری دیواروں پر پہرےدار تعینات کیے ہیں۔‏

وہ سارا سارا دن اور ساری ساری رات خاموش نہیں ہوں گے۔‏

یہوواہ کا ذکر کرنے والو!‏ آرام سے نہ بیٹھو

 7 اور نہ اُسے آرام کرنے دو جب تک کہ وہ یروشلم کو مضبوطی سے قائم نہیں کر دیتا،‏

ہاں، جب تک کہ وہ پوری زمین پر اُس کی تعریف نہیں کراتا۔‏

 8 یہوواہ نے اپنے دائیں ہاتھ سے، ہاں، اپنے مضبوط بازو سے یہ قسم کھائی ہے:‏

‏”‏مَیں آئندہ تیرا اناج تیرے دُشمنوں کو کھانے کے لیے نہیں دوں گا

اور نہ پردیسی تیری نئی مے پئیں گے جس کے لیے تُو نے محنت کی ہے

 9 بلکہ اناج کو اِکٹھا کرنے والے ہی اُسے کھائیں گے اور یہوواہ کی بڑائی کریں گے

اور انگوروں کو جمع کرنے والے ہی میرے مُقدس صحنوں میں مے پئیں گے۔“‏

10 گزر جاؤ، دروازوں سے گزر جاؤ۔‏

لوگوں کے لیے راستہ صاف کرو۔‏

تعمیر کرو، شاہراہ تعمیر کرو۔‏

اُس پر سے پتھر ہٹا دو۔‏

قوموں کے لیے ایک جھنڈا کھڑا کرو۔‏

11 دیکھو!‏ یہوواہ نے زمین کے کونے کونے میں یہ اِعلان کِیا ہے:‏

‏”‏صِیّون کی بیٹی سے کہو:‏

‏”‏دیکھ!‏ تیری نجات آ رہی ہے۔‏

دیکھ!‏ اجر اُس کے ہاتھ میں ہے

اور جو مزدوری وہ دیتا ہے، وہ اُس کے پاس ہے۔“‏“‏

12 اُنہیں پاک لوگ، ہاں، ایسے لوگ کہا جائے گا جنہیں یہوواہ نے چھڑایا*‏ ہے

اور تجھے یہ کہہ کر پکارا جائے گا:‏ ایک پسندیدہ شہر، نہ کہ چھوڑا ہوا شہر۔‏

63 یہ کون ہے جو ادوم سے آ رہا ہے،‏

جو بصراہ سے شوخ رنگ کے*‏ کپڑوں میں

اور شان‌دار لباس پہنے ہوئے

اپنی زبردست طاقت کے ساتھ آ رہا ہے؟‏

‏”‏یہ مَیں ہوں جو نیک باتیں کہتا ہوں

اور جس کے پاس بچانے کی زبردست طاقت ہے۔“‏

 2 تیرا لباس لال کیوں ہے؟‏

تیرے کپڑے حوض میں انگور روندنے والے کی طرح کیوں ہیں؟‏

 3 ‏”‏مَیں نے اکیلے حوض میں انگور روندے ہیں۔‏

قوموں کے لوگوں میں سے کوئی بھی میرے ساتھ نہیں تھا۔‏

مَیں غصے میں اُنہیں روندتا رہا

اور قہر میں اُنہیں کچلتا رہا۔‏

میرے کپڑوں پر اُن کے خون کی چھینٹیں پڑ گئیں

اور میرے پورے لباس پر دھبے لگ گئے

 4 کیونکہ مَیں نے اِنتقام کا دن طے کر لیا ہے*‏

اور میرے بندوں کو چھڑانے*‏ کا سال آ گیا ہے۔‏

 5 مَیں نے نظر دوڑائی لیکن مدد کرنے والا کوئی نہیں تھا؛‏

مَیں حیران رہ گیا کہ کسی نے میرا ساتھ نہیں دیا۔‏

اِس لیے میرے بازو نے نجات*‏ دِلائی

اور میرے اپنے قہر نے میرا ساتھ دیا۔‏

 6 مَیں نے غصے میں قوموں کو روندا؛‏

مَیں نے اُنہیں غضب کی مے پلا کر نشے میں دُھت کر دیا

اور اُن کا خون زمین پر اُنڈیل دیا۔“‏

 7 مَیں یہوواہ کے اُن کاموں کے بارے میں بتاؤں گا جو اُس نے اٹوٹ محبت کی وجہ سے کیے ہیں،‏

ہاں، مَیں یہوواہ کے قابلِ‌تعریف کاموں کے بارے میں بتاؤں گا

کیونکہ یہوواہ نے ہمارے لیے بہت کچھ کِیا ہے۔‏

اُس نے اپنے رحم اور اپنی عظیم اٹوٹ محبت کی وجہ سے اِسرائیل کے گھرانے کے لیے بہت سے اچھے کام کیے ہیں۔‏

 8 اُس نے کہا:‏ ”‏بے‌شک وہ میرے بندے، ہاں، میرے بیٹے ہیں جو بے‌وفائی نہیں کریں گے۔“‏*‏

اِس لیے مَیں اُن کا نجات‌دہندہ بن گیا۔‏

 9 اُن کی ساری تکلیفوں کے دوران اُسے بھی تکلیف پہنچی

اور اُس کے خاص قاصد*‏ نے اُنہیں بچایا۔‏

اُس نے اپنی محبت اور ہمدردی کی وجہ سے اُنہیں چھڑا لیا

اور قدیم زمانے میں ہمیشہ اُنہیں اُٹھا کر پھرتا رہا۔‏

10 لیکن اُنہوں نے بغاوت کی اور اُس کی پاک روح*‏ کو دُکھی کِیا۔‏

اِس لیے وہ اُن کا دُشمن بن گیا

اور اُن کے خلاف لڑا۔‏

11 پھر اُنہوں نے پُرانے دنوں کو،‏

ہاں، خدا کے بندے موسیٰ کے دنوں کو یاد کِیا اور کہنے لگے:‏

‏”‏وہ کہاں ہے جو اُنہیں اپنے گلّے کے چرواہوں کے ساتھ سمندر سے نکال لایا؟‏

وہ کہاں ہے جس نے اپنی پاک روح اُن میں ڈالی؛‏

12 جس کا شان‌دار بازو موسیٰ کے دائیں ہاتھ کے ساتھ تھا؛‏

جس نے اُن کے سامنے پانیوں کو چیر دیا

تاکہ اُس کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے؛‏

13 جس نے اُنہیں ٹھاٹھیں مارتے پانیوں*‏ کے بیچ میں سے گزارا

اور وہ ٹھوکر کھائے بغیر چلتے گئے

جیسے ایک گھوڑا کُھلے میدان*‏ میں چلتا ہے؟‏

14 جس طرح مویشیوں کو وادی میں جا کر سکون ملتا ہے

اُسی طرح یہوواہ کی روح نے اُنہیں سکون بخشا۔“‏

اِس طرح تُو نے اپنے بندوں کی رہنمائی کی

تاکہ اپنے لیے ایک عظیمُ‌الشان*‏ نام بنائے۔‏

15 آسمان سے نیچے نظر کر اور دیکھ،‏

ہاں، اپنی بلند، پاک اور عظیمُ‌الشان*‏ رہائش‌گاہ سے دیکھ۔‏

اپنے بندوں کے لیے تیری فکر*‏ اور تیری طاقت کہاں ہے؟‏

تیری ہمدردی*‏ جوش کیوں نہیں مار رہی اور تُو رحم کیوں نہیں کر رہا؟‏

تُو نے مجھے اِن سے محروم رکھا ہوا ہے

16 تُو ہمارا باپ ہے۔‏

چاہے اَبراہام ہمیں نہ جانتے ہوں

اور اِسرائیل ہمیں نہ پہچانتے ہوں

لیکن تُو اَے یہوواہ!‏ ہمارا باپ ہے۔‏

تیرا نام قدیم زمانے سے ہمیں چھڑانے والا*‏ ہے۔‏

17 اَے یہوواہ!‏ تُو نے ہمیں اپنی راہوں سے کیوں بھٹکنے دیا؟‏*‏

تُو نے ہمارے دلوں کو سخت کیوں ہونے دیا*‏ کہ ہم تیرا خوف نہیں رکھتے؟‏

اپنے بندوں، ہاں، اپنے قبیلوں کی خاطر جو تیری ملکیت ہیں، لوٹ آ۔‏

18 تیرے پاک لوگ کچھ عرصے کے لیے اِس کے مالک رہے۔‏

پھر ہمارے مخالفوں نے تیرے مُقدس مقام کو روند ڈالا۔‏

19 ایک لمبے عرصے سے ہم اُن کی طرح بن گئے ہیں جن پر تُو نے کبھی حکمرانی نہیں کی،‏

ہاں، اُن کی طرح جو کبھی تیرے نام سے نہیں کہلائے۔‏

64 کاش کہ تُو آسمان کو چیر کر نیچے اُتر آئے

تاکہ پہاڑ تیری وجہ سے لرز جائیں!‏

 2 کاش کہ تُو اُس آگ کی طرح آئے جو سُوکھی ڈالیوں کو جلا دیتی ہے

اور پانی کو اُبال دیتی ہے!‏

پھر تیرے مخالف تیرا نام جان لیں گے

اور قومیں تیرے حضور کانپیں گی!‏

 3 تُو نے ایسے حیرت‌انگیز کام کیے جن کی ہمیں توقع بھی نہیں تھی؛‏

تُو نیچے آیا اور پہاڑ تیرے سامنے لرز گئے۔‏

 4 قدیم زمانے سے نہ تو کسی نے سنا، نہ کسی کے کان تک خبر پہنچی

اور نہ کسی کی آنکھ نے تیرے سوا کسی اَور خدا کو دیکھا

جو اُن کی خاطر کارروائی کرتا ہے جو اُس سے اُمید لگائے رکھتے ہیں۔‏*‏

 5 تُو اُن سے ملتا ہے جو خوشی خوشی صحیح کام کرتے ہیں،‏

جو تجھے یاد رکھتے ہیں اور تیری راہوں پر چلتے ہیں۔‏

دیکھ، تُو غصے میں آ گیا جبکہ ہم گُناہ کرتے رہے؛‏

ہم ایک لمبے عرصے تک ایسا کرتے رہے۔‏

تو کیا اب ہمیں بچایا جانا چاہیے؟‏

 6 ہم سب ناپاک شخص کی طرح ہو گئے ہیں

اور ہمارے سارے نیک کام ماہواری کے کپڑے کی طرح ہیں۔‏

ہم سب پتّے کی طرح مُرجھا جائیں گے

اور ہمارے گُناہ ہمیں ہوا کی طرح اُڑا لے جائیں گے۔‏

 7 کوئی بھی تیرا نام نہیں لے رہا،‏

نہ ہی کوئی تجھ سے لپٹے رہنے کی کوشش کر رہا ہے

کیونکہ تُو نے ہم سے اپنا چہرہ چھپا لیا ہے

اور ہمیں ہمارے گُناہ کی وجہ سے*‏ تباہ ہونے*‏ کے لیے چھوڑ دیا ہے۔‏

 8 لیکن اَے یہوواہ!‏ تُو ہمارا باپ ہے۔‏

ہم مٹی ہیں اور تُو ہمارا کُمہار*‏ ہے؛‏

ہم سب تیرے ہاتھ کا کام ہیں۔‏

 9 اَے یہوواہ!‏ ہم سے اِتنا غصہ نہ ہو؛‏

ہمارے گُناہ کو ہمیشہ تک یاد نہ رکھ۔‏

مہربانی سے ہماری طرف دیکھ کیونکہ ہم سب تیرے بندے ہیں۔‏

10 تیرے مُقدس شہر ویرانہ بن گئے ہیں۔‏

صِیّون ویرانہ بن گیا ہے

اور یروشلم اُجڑ گیا ہے۔‏

11 ہمارے پاک اور عالی‌شان*‏ گھر*‏ کو

جہاں ہمارے باپ‌دادا تیری بڑائی کرتے تھے،‏

آگ سے جلا دیا گیا ہے

اور جو چیزیں ہمیں پیاری تھیں، وہ سب تباہ ہو گئی ہیں۔‏

12 اَے یہوواہ!‏ کیا تُو یہ سب دیکھ کر بھی خود کو روکے رکھے گا؟‏

کیا تُو چپ رہے گا اور ہمیں شدید تکلیف سہنے دے گا؟‏

65 ‏”‏جن لوگوں نے میرے بارے میں نہیں پوچھا، اُنہیں مَیں نے مجھے ڈھونڈنے کا موقع دیا؛‏

جن لوگوں نے مجھے تلاش نہیں کِیا، اُنہیں مَیں نے مجھے تلاش کرنے کا موقع دیا۔‏

جو قوم میرا نام نہیں لے رہی تھی، اُس سے مَیں نے کہا:‏ ”‏مَیں یہاں ہوں!‏ مَیں یہاں ہوں!‏“‏

 2 مَیں نے ایک ڈھیٹھ قوم کے لیے سارا دن اپنے ہاتھ پھیلائے رکھے،‏

ہاں، اُن لوگوں کے لیے جو بُری راہ پر چلتے ہیں

اور اپنی ہی سوچ کے مطابق کام کرتے ہیں؛‏

 3 جو باغوں میں قربانیاں پیش کرتے ہیں اور اینٹوں پر بھی تاکہ اُن کا دُھواں اُٹھے

اور اِس طرح لگاتار میرے مُنہ پر مجھے غصہ دِلاتے ہیں۔‏

 4 وہ قبروں کے بیچ بیٹھتے ہیں

اور پوشیدہ جگہوں*‏ میں رات گزارتے ہیں؛‏

وہ سؤروں کا گوشت کھاتے ہیں

اور اُن کے برتنوں میں گھناؤنی*‏ چیزوں کا شوربا ہے۔‏

 5 وہ دوسروں سے کہتے ہیں:‏ ”‏دُور رہو؛ میرے پاس مت آؤ

کیونکہ مَیں تُم سے زیادہ پاک ہوں۔“‏*‏

یہ لوگ میری ناک میں دُھوئیں کی طرح ہیں، ایک ایسی آگ کی طرح جو سارا دن جلتی رہتی ہے۔‏

 6 دیکھو!‏ یہ سب میرے سامنے لکھا ہے؛‏

مَیں خاموش نہیں رہوں گا

بلکہ مَیں اُنہیں بدلہ دوں گا؛‏

مَیں اُنہیں پورا بدلہ دوں گا۔‏*‏

 7 مَیں اُنہیں اُن کے اور اُن کے باپ‌دادا کے گُناہوں کا بھی بدلہ دوں گا۔‏

اُنہوں نے پہاڑوں پر قربانیاں پیش کیں تاکہ اُن کا دُھواں اُٹھے

اور پہاڑیوں پر میری توہین کی

اِس لیے مَیں پہلے اُنہیں اُن کی پوری مزدوری ناپ کر دوں گا۔“‏*‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

 8 یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏جب انگور کے گچھوں میں نئی مے کے لیے رس موجود ہوتا ہے

تو لوگ کہتے ہیں:‏ ”‏اِسے برباد نہ کرو کیونکہ اِس میں ایک اچھی چیز*‏ ہے۔“‏

اُسی طرح مَیں اپنے بندوں کے لیے کروں گا؛‏

مَیں اُن سب کو برباد نہیں کروں گا۔‏

 9 مَیں یعقوب سے ایک نسل

اور یہوداہ سے اپنے پہاڑوں کے لیے ایک وارث لاؤں گا۔‏

میرے چُنے ہوئے بندے اُس ملک کے مالک ہوں گے

اور میرے خادم وہاں بسیں گے۔‏

10 شارون بھیڑوں کے لیے ایک چراگاہ بن جائے گا

اور وادیِ‌عکور گائے بیلوں کے لیے ایک آرام‌گاہ۔‏

ایسا میرے اُن بندوں کے لیے ہوگا جو میری تلاش کرتے ہیں۔‏

11 لیکن تُم اُن لوگوں میں سے ہو جو یہوواہ کو ترک کر دیتے ہیں؛‏

جو میرے مُقدس پہاڑ کو بھول جاتے ہیں؛‏

جو خوش‌قسمتی کے دیوتا کے لیے میز سجاتے ہیں

اور تقدیر کے دیوتا کے لیے مصالحے‌دار مے کے پیالے بھرتے ہیں۔‏

12 اِس لیے مَیں تلوار کو تمہارا مستقبل بنا دوں گا

اور تُم سب ذبح ہونے کے لیے جھک جاؤ گے

کیونکہ مَیں نے تمہیں بُلایا لیکن تُم نے جواب نہیں دیا؛‏

مَیں نے تُم سے بات کی لیکن تُم نے نہیں سنا؛‏

تُم ایسے کام کرتے رہے جو میری نظر میں بُرے تھے

اور تُم نے وہ چُنا جو مجھے ناپسند تھا۔“‏

13 اِس لیے حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ فرماتا ہے:‏

‏”‏دیکھو!‏ میرے بندے کھائیں گے لیکن تُم بھوکے رہو گے۔‏

دیکھو!‏ میرے بندے پئیں گے لیکن تُم پیاسے رہو گے۔‏

دیکھو!‏ میرے بندے خوشی منائیں گے لیکن تمہیں شرمندگی کا سامنا ہوگا۔‏

14 دیکھو!‏ میرے بندے خوشی سے للکاریں گے کیونکہ اُن کا دل خوش*‏ ہوگا

لیکن تُم روؤ گے کیونکہ تمہارا دل تکلیف سے بھرا ہوگا؛‏

تُم ماتم کرو گے کیونکہ تُم دُکھ سے چُور ہو گے۔‏*‏

15 تُم اپنے پیچھے ایک ایسا نام چھوڑ جاؤ گے جسے میرے چُنے ہوئے بندے ایک لعنت کے طور پر اِستعمال کریں گے

اور حاکمِ‌اعلیٰ یہوواہ تُم میں سے ہر ایک کو موت کے گھاٹ اُتار دے گا۔‏

لیکن وہ اپنے بندوں کو کسی اَور نام سے بُلائے گا۔‏

16 اِس لیے جو کوئی زمین پر اپنے لیے برکت مانگے گا،‏

وہ سچائی*‏ کے خدا سے برکت پائے گا

اور جو کوئی زمین پر قسم کھائے گا،‏

وہ سچائی*‏ کے خدا کی قسم کھائے گا

کیونکہ پُرانی مصیبتیں بُھلا دی جائیں گی؛‏

وہ میری آنکھوں سے اوجھل ہو جائیں گی

17 کیونکہ دیکھو!‏ مَیں نیا آسمان اور نئی زمین بنا رہا ہوں؛‏

پھر پُرانی باتیں یاد نہیں آئیں گی

اور نہ ہی وہ دل میں آئیں گی۔‏

18 اِس لیے جو کچھ مَیں بنا رہا ہوں، اُس کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے خوش اور شادمان ہو

کیونکہ دیکھو!‏ مَیں یروشلم کو خوشی کی وجہ بنا رہا ہوں

اور اُس کے لوگوں کو شادمانی کی وجہ۔‏

19 مَیں یروشلم کی وجہ سے خوش ہوں گا اور اپنے بندوں کی وجہ سے شادمان؛‏

وہاں نہ تو پھر کبھی رونے کی آواز سنائی دے گی اور ہی دُکھ بھری پکار۔“‏

20 ‏”‏وہاں پھر کوئی ایسا ننھا بچہ نہیں ہوگا جو تھوڑے دنوں کے لیے جیے

اور نہ ہی وہاں کوئی ایسا بوڑھا شخص ہوگا جو اپنی عمر پوری نہ کرے

کیونکہ جو بھی شخص سو سال کی عمر میں مرے گا، اُسے محض لڑکا ہی سمجھا جائے گا

اور گُناہ‌گار شخص پر لعنت بھیجی جائے گی پھر چاہے وہ سو سال کا ہی کیوں نہ ہو۔‏*‏

21 وہ گھر بنائیں گے اور اُن میں رہیں گے؛‏

وہ انگور کے باغ لگائیں گے اور اُن کا پھل کھائیں گے۔‏

22 وہ اِس لیے گھر نہیں بنائیں گے کہ کوئی اَور اُس میں رہے؛‏

وہ اِس لیے انگور کا باغ نہیں لگائیں گے کہ کوئی اَور اُس کا پھل کھائے

کیونکہ میرے بندوں کی عمر*‏ درخت کی طرح ہوگی

اور میرے چُنے ہوئے بندے اپنے ہاتھوں کے کام کا بھرپور مزہ لیں گے۔‏

23 وہ فضول میں محنت نہیں کریں گے*‏

اور نہ ہی اُن کے بچے دُکھ سہنے کے لیے پیدا ہوں گے

کیونکہ وہ ایک ایسی نسل*‏ ہیں جسے یہوواہ نے برکت دی ہے

اور اُن کے ساتھ اُن کی اولاد بھی۔‏

24 مَیں اُن کے پکارنے سے پہلے ہی اُنہیں جواب دوں گا

اور ابھی وہ بول ہی رہے ہوں گے کہ مَیں اُن کی سُن لوں گا۔‏

25 بھیڑیا اور میمنا اِکٹھے چریں گے؛‏

شیر بیل کی طرح بھوسا کھائے گا

اور سانپ کی خوراک خاک ہوگی۔‏

وہ میرے سارے مُقدس پہاڑ پر نہ تو کوئی نقصان پہنچائیں گے اور نہ کوئی تباہی مچائیں گے۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

66 یہوواہ یہ فرماتا ہے:‏

‏”‏آسمان میرا تخت ہے اور زمین میرے پاؤں کی چوکی ہے۔‏

تو پھر تُم میرے لیے کہاں گھر بناؤ گے

اور میری آرام‌گاہ کہاں ہوگی؟“‏

 2 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏میرے اپنے ہاتھ نے یہ سب چیزیں بنائی ہیں

اور اِس طرح یہ سب چیزیں وجود میں آئی ہیں۔‏

مَیں اُس شخص پر دھیان دوں گا

جو خاکسار ہے اور دُکھ سے چُور ہے*‏ اور میرے کلام پر کانپتا ہے۔‏*‏

 3 بیل کو ذبح کرنے والا شخص اُس کی طرح ہے جو کسی آدمی کو مار ڈالتا ہے۔‏

بھیڑ قربان کرنے والا شخص اُس کی طرح ہے جو کُتے کی گردن توڑ دیتا ہے۔‏

نذرانہ پیش کرنے والا شخص اُس کی طرح ہے جو سؤر کا خون پیش کرتا ہے!‏

لوبان کو یادگار کے طور پر پیش کرنے والا شخص اُس کی طرح ہے جو منتر پڑھ کر دُعا دیتا ہے۔‏*‏

اُنہوں نے اپنے راستے چُن لیے ہیں

اور وہ*‏ گھناؤنی باتوں سے خوش ہوتے ہیں۔‏

 4 اِس لیے مَیں اُنہیں سزا دینے کے طریقے چُنوں گا

اور جن باتوں سے وہ ڈرتے ہیں، مَیں وہی اُن پر لاؤں گا

کیونکہ جب مَیں نے پکارا تو کسی نے جواب نہیں دیا؛‏

جب مَیں بولا تو کسی نے نہیں سنا۔‏

وہ ایسے کام کرتے رہے جو میری نظر میں بُرے تھے

اور اُنہوں نے وہ کام کرنے کا فیصلہ کِیا جو مجھے ناپسند تھے۔“‏

 5 تُم جو یہوواہ کے کلام پر کانپتے ہو،‏*‏ اُس کی یہ بات سنو:‏

‏”‏تمہارے بھائیوں نے جو تُم سے نفرت کرتے ہیں اور جنہوں نے میرے نام کی وجہ سے تُم سے تعلق توڑ دیا ہے،کہا:‏ ”‏یہوواہ کی بڑائی ہو!‏“‏

لیکن خدا ظاہر ہوگا اور تمہیں خوشی بخشے گا

مگر اُنہیں شرمندہ کِیا جائے گا۔“‏

 6 شہر سے شورشرابہ سنائی دے رہا ہے، ہاں، ہیکل سے ایک آواز آ رہی ہے

کیونکہ یہوواہ اپنے دُشمنوں کو اُن کے کیے کا بدلہ دے رہا ہے۔‏

 7 اِس سے پہلے کہ اُسے بچے کی پیدائش کی دردیں شروع ہوتیں، اُس نے بچے کو جنم دے دیا۔‏

اِس سے پہلے کہ اُسے بچے کی پیدائش کی دردیں لگتیں، اُس نے ایک لڑکا پیدا کِیا۔‏

 8 کیا کسی نے کبھی ایسی بات سنی ہے؟‏

کیا کسی نے کبھی ایسی بات دیکھی ہے؟‏

کیا ایک دن میں ایک ملک پیدا ہو سکتا ہے؟‏

کیا ایک دم سے ایک قوم جنم لے سکتی ہے؟‏

لیکن جیسے ہی صِیّون کو دردیں لگیں، اُس نے اپنے بیٹوں کو جنم دیا۔‏

 9 یہوواہ کہتا ہے:‏ ”‏کیا مَیں بچے کو پیدائش کے وقت تک لا کر اُسے پیدا نہیں ہونے دوں گا؟“‏

تمہارا خدا فرماتا ہے:‏ ”‏کیا مَیں بچے کی پیدائش کے وقت کوکھ بند کر دوں گا؟“‏

10 تُم سب جو یروشلم سے محبت کرتے ہو، اُس کے ساتھ خوشی مناؤ اور باغ باغ ہو۔‏

تُم سب جو اُس پر ماتم کر رہے ہو، اُس کے ساتھ جشن مناؤ

11 اِس لیے کہ تُم اُس کی تسلی‌بخش چھاتی سے دودھ پیو گے اور سیر ہو گے؛‏

تُم جی بھر کر پیو گے اور اُس کی بے‌اِنتہا شان کی وجہ سے خوشی پاؤ گے

12 کیونکہ یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اُسے ایسا امن بخش رہا ہوں جو دریا کی طرح ہوگا

اور قوموں کی شان بھی جو ٹھاٹھیں مارتے پانی کی طرح ہوگی۔‏

تُم دودھ پیو گے اور تمہیں گود میں اُٹھایا جائے

اور تمہیں گُھٹنوں پر اُچھالا جائے گا۔‏

13 جیسے ایک ماں اپنے بیٹے کو تسلی دیتی ہے

ویسے ہی مَیں تمہیں تسلی دیتا رہوں گا

اور تُم یروشلم کی وجہ سے تسلی پاؤ گے۔‏

14 تُم یہ دیکھو گے اور تمہارا دل خوش ہوگا؛‏

تمہاری ہڈیاں نئی گھاس کی طرح بڑھیں گی۔‏

یہوواہ کا ہاتھ*‏ اُس کے بندوں پر ظاہر ہوگا

لیکن وہ اپنے دُشمنوں پر بھڑکے گا۔“‏

15 ‏”‏یہوواہ آگ کی طرح آئے گا

اور اُس کے رتھ تیز آندھی کی طرح ہوں گے

تاکہ وہ شدید غصے میں اُن سے بدلہ لے

اور آگ کے شعلوں کے ساتھ اُنہیں ڈانٹے

16 کیونکہ یہوواہ آگ سے، ہاں، اپنی تلوار سے

سب اِنسانوں کو سزا دے گا؛‏

یہوواہ بہت سے لوگوں کو مار ڈالے گا۔‏

17 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏جو باغوں میں*‏ داخل ہونے کے لیے خود کو پاک صاف کر رہے ہیں اور اُس کے پیچھے چل رہے ہیں جو بیچ میں ہے؛ جو سؤروں، گھناؤنی چیزوں اور چوہوں کا گوشت کھا رہے ہیں، وہ سب اِکٹھے ختم ہو جائیں گے۔ 18 مَیں اُن کے کاموں اور اُن کے خیالوں کو جانتا ہوں۔ اِس لیے مَیں سب قوموں اور زبانوں کے لوگوں کو جمع کرنے آ رہا ہوں۔ وہ آئیں گے اور میری شان دیکھیں گے۔“‏

19 ‏”‏مَیں اُن کے درمیان ایک نشانی مقرر کروں گا اور بچ جانے والے کچھ لوگوں کو اُن قوموں کے پاس بھیجوں گا جنہوں نے میرے بارے میں نہیں سنا اور میری شان نہیں دیکھی، ہاں، مَیں اُنہیں ترسیس، پُول اور لُود میں بھیجوں گا جو تیرانداز ہیں اور تُوبل، یاوان اور دُوردراز کے جزیروں میں بھی۔ وہ قوموں میں میری شان کا اِعلان کریں گے۔ 20 وہ ساری قوموں میں سے تمہارے سب بھائیوں کو گھوڑوں پر، رتھوں میں، بگھیوں میں، خچروں پر اور تیزرفتار اُونٹوں پر میرے مُقدس پہاڑ یعنی یروشلم تک یہوواہ کے لیے نذرانے کے طور پر لائیں گے، بالکل ویسے ہی جیسے اِسرائیل کے لوگ پاک برتن میں یہوواہ کے گھر میں نذرانہ لاتے ہیں۔“‏ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔‏

21 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏مَیں اُن میں سے کچھ کو کاہنوں کے طور پر اور لاویوں کے طور پر لے لوں گا۔“‏

22 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏جس طرح نیا آسمان اور نئی زمین جنہیں مَیں بنا رہا ہوں، میرے حضور قائم رہیں گے اُسی طرح تمہاری نسل*‏ اور تمہارا نام قائم رہے گا۔“‏

23 یہوواہ فرماتا ہے:‏ ”‏نئے چاند سے نئے چاند تک اور سبت سے سبت تک

سب اِنسان آ کر میرے سامنے*‏ جھکیں گے۔“‏

24 وہ باہر جائیں گے اور اُن آدمیوں کی لاشیں دیکھیں گے جنہوں نے میرے خلاف بغاوت کی

کیونکہ اُن میں پڑے کیڑے مریں گے نہیں

اور نہ ہی اُنہیں جلانے والی آگ بُجھے گی

اور سب لوگ اُن سے گِھن کھائیں گے۔“‏

معنی:‏ ”‏یہوواہ کی طرف سے نجات“‏

وہ چیز جس میں جانوروں کو چارا ڈالا جاتا ہے

یا ”‏اپنے مالک کو“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بیمار“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏جنہیں نہ دبایا گیا ہے،“‏

گھاس‌پھوس سے بنی سایہ‌دار جگہ

یا ”‏حاکمو!‏“‏

یا ”‏ہدایت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میری جان کو“‏

یا ”‏گندم سے بنی شراب“‏

یا ”‏راکھ ملے پانی“‏

ایسا لگتا ہے کہ درختوں اور باغوں کا تعلق بُت‌پرستی سے تھا۔‏

رسی جیسے ریشے جنہیں آسانی سے آگ لگ سکتی ہے

لفظی ترجمہ:‏ ”‏دنوں کے آخری حصے میں“‏

یا ”‏ہدایت“‏

یا ”‏درست کرے گا۔“‏

پھالا لوہے کا وہ نوک‌دار آلہ ہوتا ہے جو زمین جوتنے کے لیے ہل میں لگایا جاتا ہے۔‏

یا ”‏جس کی سانس اُس کے نتھنوں میں ہے۔“‏

یا ”‏مہارت سے منتر پڑھنے والے۔“‏

یا ”‏تمہیں ٹھیک کرنے والا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُس کی شان کی آنکھوں کے سامنے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُن کی جان پر“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏وہ اپنے کاموں کا پھل کھائیں گے۔“‏

کُھرنڈ زخموں پر جمنے والا چھلکا ہوتا ہے۔‏

یا ”‏ہار کی لٹکن،“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏جان کے گھر“‏

یا ”‏سیپی‌نما تعویذ؛“‏

یا ”‏نیچے پہنے جانے والے کپڑے“‏

یعنی غیرشادی‌شُدہ اور بے‌اولاد ہونے کی رُسوائی

لفظی ترجمہ:‏ ”‏عدالت کی روح“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏جلنے کی روح“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کا فضلہ“‏

گھاس‌پھوس سے بنی سایہ‌دار جگہ

یا ”‏پودا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏دس بالشت“‏

‏”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

‏”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

‏”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

ایک قسم کا تاردار ساز

عبرانی لفظ:‏ ”‏شیول۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اپنی جان کو“‏

یا ”‏کے نواب،“‏

یا ”‏عدالت“‏

یا ”‏فیصلہ؛ اِرادہ“‏

یا ”‏ہدایت“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ میں ”‏پیٹی“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏جوان ببر شیروں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُوپر“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُس نے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏پکارنے والے کی آواز“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏مجھے خاموش کرا دیا گیا ہے“‏

تنے کا نچلا حصہ

یا ”‏نسل“‏

یا شاید ”‏کر پایا۔“‏

معنی:‏ ”‏صرف بچا ہوا حصہ واپس آئے گا۔“‏

مُڈھ تنے کا نچلا حصہ ہوتا ہے۔‏

یا شاید ”‏دہشت‌زدہ“‏

یا ”‏اُس کی دیواروں میں شگاف ڈالیں۔“‏ لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُسے پھاڑ دیں“‏

عبرانی لفظ:‏ ”‏شیول۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

معنی:‏ ”‏خدا ہمارے ساتھ ہے۔“‏

یعنی دریائے‌فرات

پھاوڑا بیلچے کی طرح کا ایک آلہ ہوتا ہے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏فانی اِنسان کے قلم“‏

شاید اِس کا معنی ہے:‏ ”‏لُوٹ کے مال کی طرف جلدی جانا؛ لُوٹ کے مال کی طرف تیزی سے آنا۔“‏

یا ”‏اِس کی گواہی دیں۔“‏

یعنی یسعیاہ کی بیوی

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے پاس گیا“‏

یہ پانی کا ایک نالہ تھا۔‏

یعنی دریائے‌فرات

معنی:‏ ”‏خدا ہمارے ساتھ ہے۔“‏

‏”‏خدا ہمارے ساتھ ہے“‏ کے لیے عبرانی لفظ ”‏عمانوایل“‏ ہے۔ یس 7:‏14؛‏ 8:‏8 کو دیکھیں۔‏

یا ”‏ہدایت“‏

یا ”‏کا بے‌تابی سے اِنتظار کروں گا“‏

یا ”‏صبح سویرے کی روشنی“‏

یا ”‏یردن“‏

اِنجیر کی طرح کا ایک پھل

لفظی ترجمہ:‏ ”‏پیچھے سے“‏

یا شاید ”‏اور کھجور کی شاخ اور سرکنڈا“‏

یا ”‏تمہیں سزا دی جائے گی،“‏

یا ”‏اپنا ٹھاٹھ‌باٹھ“‏

یا ”‏اسوری“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏مَیں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏جان سے گوشت تک“‏

یا ”‏اِنصاف“‏

یا ”‏وہ ایک کلہاڑے“‏

تنے کا نچلا حصہ

یا ”‏وہ نیکی سے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کی روح“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏جوان ببر شیر“‏

یا شاید ”‏اور بچھڑا اور شیر ایک ساتھ چریں گے“‏

یا ”‏قومیں اُس کی تلاش“‏

یعنی بابلیہ

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے کندھے“‏

یا ”‏پر اپنا اِختیار“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏زبان“‏

یا شاید ”‏سُکھا دے گا“‏

یعنی دریائے‌فرات

لفظی ترجمہ:‏ ”‏روح“‏

یا شاید ”‏سے اِسے مار کر سات ندیوں میں تقسیم کر دے گا“‏

‏”‏یاہ“‏ نام یہوواہ کا مخفف ہے۔‏

یا ”‏موسیقی بجاؤ“‏

یہاں صِیّون کی آبادی کو مجموعی طور پر ایک عورت کہا گیا ہے۔‏

یا ”‏مخصوص“‏

عبرانی لفظ:‏ ”‏کیسل۔“‏ شاید یہاں جبّار (‏یعنی جوزا)‏ اور اُس کے آس‌پاس کے جُھرمٹوں کی بات ہو رہی ہے۔‏

‏1سم 17:‏28 کے فٹ‌نوٹ کو دیکھیں۔‏

ہِرن کی ایک قسم

یا ”‏بادشاہتوں کی سجاوٹ“‏

یا شاید ”‏بکرانما دیوتا“‏

یا ”‏آرام دے گا“‏

یا ”‏جو اُن سے کام کراتے تھے۔“‏

یا ”‏یہ طعنہ کسیںَ گے:‏“‏

یا ”‏دیکھو!‏ کام کرانے والا“‏

عبرانی لفظ:‏ ”‏شیول۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏سب بکروں“‏

عبرانی لفظ:‏ ”‏شیول۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

عبرانی لفظ:‏ ”‏شیول۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏گھر“‏

یا ”‏شاخ“‏

خارپُشت چوہے کی طرح کا ایک جانور ہوتا ہے جس کے جسم پر کانٹے ہوتے ہیں۔‏

یا ”‏اسوری“‏

یا ”‏پر وار کرنے کے لیے تیار ہے۔“‏

یا ”‏تیزرفتار زہریلا سانپ“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏گھر،“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُس کی جان“‏

یا ”‏اُس کی لال انگوروں سے لدی شاخوں“‏

یا شاید ”‏پر جنگ کی للکار چھا گئی ہے۔“‏

ایک قسم کا تاردار ساز

یا ”‏جو کہ مزدور کی طرح دھیان سے گنے گئے ہوں گے،“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏گوشت کی چربی“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ میں ”‏مُقدس بَلّی“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏دلکش“‏

یا ”‏دوسرے خدا“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏جو دباؤ برداشت کرنے کی طاقت رکھتی ہے اور روندتی ہے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ‏”‏سینگ“‏

یا شاید ”‏سے“‏

یا ”‏جو دباؤ برداشت کرنے کی طاقت رکھتی ہے اور روندتی ہے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏مصر کی روح“‏

ایک قسم کی لمبی گھاس

یا ”‏میمفِس“‏

یا شاید ”‏کھجور کی شاخ اور سرکنڈے“‏

یا ”‏فوج کے سربراہ“‏

یا ”‏ادھ‌ننگے“‏

یا ”‏رُسوا“‏

یا ”‏مصر کی خوب‌صورتی کی تعریفیں کرنے والے“‏

ایسا لگتا ہے کہ یہاں قدیم بابلیہ کے علاقے کی طرف اِشارہ کِیا گیا ہے۔‏

ایسا لگتا ہے کہ یہاں بابل کی بات ہو رہی ہے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میرے کُولھے درد سے بھرے ہیں۔“‏

یا ”‏پر تیل ملیں!‏“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏گاہنا“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے بیٹے!‏“‏

معنی:‏ ”‏خاموشی“‏

ایسا لگتا ہے کہ یہاں عرب کی بات ہو رہی ہے۔‏

یا ”‏جو کہ مزدور کی طرح دھیان سے‌گنے گئے ہوں گے،“‏

ایسا لگتا ہے کہ یہاں یروشلم کی بات ہو رہی ہے۔‏

یہ شاعرانہ اِصطلا‌ح شاید رحم یا ہمدردی ظاہر کرنے کے لیے اِستعمال کی گئی ہے۔‏

تیر رکھنے کا خول

یا ”‏گُھڑسوار“‏

یا ”‏ننگی“‏

یا ”‏گُھڑسوار“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏رہائش‌گاہ“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے سارے وزن“‏

یا ”‏شاخ،“‏

یعنی دریائے‌نیل کی ایک شاخ

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بیج“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کنواری“‏

یا شاید ”‏اب کوئی بندرگاہ“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏دن“‏

ایک قسم کا تاردار ساز

یا ”‏زمین“‏

یا ”‏اُس کی شکل بگا‌ڑ رہا ہے“‏

یا شاید ”‏سُوکھ رہا“‏

یا ”‏قدیم“‏

یا شاید ”‏سُوکھ رہی“‏

ایک قسم کا تاردار ساز

یا ”‏مغرب“‏

یا ”‏وہ مشرق میں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اپنے بزرگوں“‏

یا ”‏مقصد ٹھہرایا تھا“‏

یا ”‏اور ایسی مے کی ضیافت جسے میل سمیت رکھا گیا ہو،“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نگل جائے گا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نگل جائے گا؛“‏

پُشتہ کسی جگہ کے گِرد بنایا جانے والا حفاظتی بند یا دیوار ہوتی تھی۔‏

یا شاید ”‏جن کے رُجحان کو ہلایا نہیں جا سکتا؛“‏

‏”‏یاہ“‏ نام یہوواہ کا مخفف ہے۔‏

یا ”‏ہموار“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏ہم اپنی جانوں سے“‏

یعنی اِس لیے کہ خدا کو اور اُس کے نام کو یاد رکھا جائے اور اُس کے بارے میں بتایا جائے

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میری جان“‏

یا ”‏اُنڈیل“‏

یا شاید ”‏جڑی‌بُوٹیوں (‏گُلِ‌خیرو‏)‏ کی اوس“‏

یا ”‏لوگوں کو جنم دے گی۔“‏

یا ”‏سزا“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ کو دیکھیں۔‏

ایسا لگتا ہے کہ یہاں اِسرائیل کی بات ہو رہی ہے جسے انگور کے باغ سے تشبیہ دی گئی ہے۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ کو دیکھیں۔‏

یعنی دریائے‌فرات

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏سینگ“‏

یا ”‏گھمنڈی“‏

ایسا لگتا ہے کہ یہاں دارالحکومت سامریہ کی بات ہو رہی ہے۔‏

یا ”‏گھمنڈی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏وہ اُن کے لیے اِنصاف کی روح بنے گا“‏

یا ”‏ناپنے کی ڈوری پر ناپنے کی ڈوری، ناپنے کی ڈوری پر ناپنے کی ڈوری ہے؛“‏

یا ”‏ناپنے کی ڈوری پر ناپنے کی ڈوری، ناپنے کی ڈوری پر ناپنے کی ڈوری ہے؛“‏

عبرانی لفظ‏:‏ ”‏شیول۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا شاید ”‏کے ساتھ رُویا دیکھی ہے۔“‏

مستریوں کا ایک آلہ جس کے ذریعے یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک دیوار سیدھی ہے یا نہیں

عبرانی لفظ‏:‏ ”‏شیول۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا شاید ”‏جب وہ سمجھیں گے تو شدید دہشت کا شکار ہو جائیں گے“‏

یا ”‏پوری زمین“‏

اِسے مٹی کے ڈھیلے توڑنے اور زمین کو ہموار کرنے کے لیے اِستعمال کِیا جاتا تھا۔‏

ایک قسم کا معمولی اناج

یا ”‏کی صحیح طریقے سے اِصلاح کرتا ہے؛ کو صحیح طریقے سے سزا دیتا ہے؛“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏گاہنا“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏گاہنا“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏اِرادہ“‏

یا ”‏جس کی حقیقی دانش‌مندی عظیم ہے۔“‏

شاید اِس کا معنی ہے:‏ ”‏خدا کی قربان‌گاہ کا آتش‌دان۔“‏ ایسا لگتا ہے کہ یہاں یروشلم کی بات ہو رہی ہے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اجنبیوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تو اُس کی جان بھوکی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تو اُس کی جان پیاسی“‏

یا ”‏تُم کتنے ٹیڑھے ہو!‏“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اِصلاح“‏

یعنی شرمندگی اور مایوسی سے زرد نہیں پڑے گا

یا ”‏کا خوف رکھتے ہوئے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏روح“‏

یا ”‏مے کے نذرانے اُنڈیلتے ہیں۔“‏ ایسا لگتا ہے کہ یہاں معاہدہ کرنے کی بات ہو رہی ہے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے قلعے میں“‏

یا ”‏تیزرفتار زہریلا سانپ“‏

شاید ایک بڑا اور خطرناک سمندری جان‌دار

یا ”‏ہدایت“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ میں ”‏بصیر“‏ کو دیکھیں۔‏

یا شاید ”‏حوض“‏

جہاز یا کشتی کا وہ ستون جس پر بادبان باندھا جاتا ہے

یا ”‏جو بے‌تابی سے اُس کا اِنتظار کرتے ہیں۔“‏

یا شاید ”‏اُنہیں گندگی کہو گے!‏“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏چربی اور تیل والی“‏

یا ”‏کھٹا ساگ ملا“‏

ایک بڑا سا کانٹا جو گندم کو بھوسے سے الگ کرنے کے لیے اِستعمال ہوتا ہے

یا ”‏کی ٹوٹی ہڈی جوڑے گا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏یہوواہ کا نام“‏

یا ”‏پھونک“‏

یا ”‏عید کے لیے خود کو پاک“‏

یا ”‏بانسری کی دُھن پر“‏

ایک قسم کا تاردار ساز

یہاں ”‏توفت“‏ سے مُراد ایک علامتی جگہ ہے جہاں آگ جلتی ہے۔ اِس کا اِشارہ تباہی کی طرف ہے۔‏

یا ‏”‏گُھڑسواروں“‏

یا ”‏ببر شیر“‏

یا ”‏اسوری“‏

یا ”‏آگ“‏

یا ”‏گستاخی کرے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بھوکے شخص کی جان“‏

یا ”‏وہ اچھے کاموں میں لگا بھی رہتا ہے۔“‏

یا ”‏قوت“‏

یا ”‏باہر بھیج دیتے“‏

یا ”‏ہماری طاقت“‏

یہاں دُشمن کی بات ہو رہی ہے۔‏

یا شاید ”‏سُوکھ رہا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏روح“‏

یا ”‏محفوظ اُونچی جگہ“‏

یا ”‏پر سوچ بچار کر کے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏گہری“‏

جہاز یا کشتی کا وہ ستون جس پر بادبان باندھا جاتا ہے

یا ”‏اُن کا خون پہاڑوں پر بہے گا۔“‏

ایسا لگتا ہے کہ یہاں ادوم کے دارالحکومت بصراہ کی بات ہو رہی ہے۔‏

یا ”‏تارکول“‏

ایک آبی پرندہ

چوہے کی طرح کا ایک جانور جس کے جسم پر کانٹے ہوتے ہیں

لفظی ترجمہ:‏ ”‏پتھروں۔“‏ ساہول مستریوں کا ایک آلہ ہے جس کے ذریعے یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک دیوار سیدھی ہے یا نہیں۔‏

شاید یہاں لگڑبھگے،گیدڑ اور بھیڑیے جیسے جانوروں کی بات ہو رہی ہے۔‏

یا شاید ”‏بکرانما دیوتا“‏

اُلّو کی طرح کا ایک پرندہ

یا ”‏قوت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُس کے ہاتھ نے اِسے ناپنے کی ڈوری سے اُن کے لیے تقسیم کِیا ہے۔“‏

ایک قسم کا پھول

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏واپس خریدا“‏

یا ”‏ساقیوں کے سربراہ“‏

یا ”‏سُوریانی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اور نکل کر میرے پاس آ جاؤ۔“‏

یا ”‏بے‌عزتی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بیٹے بچہ‌دانی کے مُنہ پر آ گئے ہیں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُس میں ایک روح“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اِسے“‏

یا شاید ”‏بیچ“‏

یا ”‏دریائے‌نیل کی نہریں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏یہ کر لیا تھا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اِسے بنا لیا تھا۔“‏

یعنی حِزقیاہ کے لیے

یا ”‏جو بکھرے ہوئے دانوں سے اُگے گا؛“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏نیچے کی طرف“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُوپر کی طرف“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏گھر“‏

شاید اِن سیڑھیوں کو دھوپ‌گھڑی کی طرح وقت کا حساب لگانے کے لیے اِستعمال کِیا جاتا تھا۔‏

عبرانی لفظ:‏ ”‏شیول۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏یاہ“‏ نام یہوواہ کا مخفف ہے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏زندوں کی زمین پر“‏

تانا وہ دھاگا ہوتا ہے جو کپڑا بُنتے وقت لمبائی کے رُخ لگا ہوتا ہے۔‏

یا شاید ”‏کُونج“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏ضامن“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اپنی جان کی تلخی“‏

یا ”‏سنجیدگی“‏

یعنی خدا کی باتوں اور کاموں

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اِنہی میں میری روح کی زندگی ہے۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میری جان سے“‏

یا ”‏اپنی نظروں سے دُور کر دیا۔“‏

عبرانی لفظ:‏ ”‏شیول۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏حِزقیاہ قاصدوں کی وجہ سے خوش ہوئے“‏

یا ”‏سچائی“‏

یا ”‏دُگنی“‏

یا ”‏صاف“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏روح“‏

یا ”‏گلّہ‌بانی“‏

ہاتھ کو پھیلانے پر انگوٹھے کے سِرے سے لے کر چھوٹی اُنگلی کے سِرے تک کا فاصلہ۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏روح“‏

یا شاید ”‏سمجھا“‏

یا ”‏درخت بھی کافی ایندھن نہیں دے سکتے ہیں“‏

یا ”‏کی گولائی“‏

یا ”‏حاکموں“‏

یا ”‏کو کوئی تلاش نہیں کر سکتا۔“‏

یا ”‏میرے سامنے خاموش رہو!‏“‏

یا ”‏سورج نکلنے کی جگہ سے“‏

یعنی اپنی خدمت میں

لوہے کا ایک آلہ جس پر کسی دھات کو ہتھوڑے کی ضربیں لگا کر شکل دی جاتی ہے

یعنی بے‌سہارا اور ادنیٰ

لفظی ترجمہ:‏ ”‏واپس خریدنے والا“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏گاہنا“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بنایا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏پہلی“‏

یا ”‏سورج نکلنے کی جگہ سے“‏

یا ”‏نائب حکمرانوں“‏

یا ”‏ایسی چیز ہیں جس کا کوئی وجود نہیں ہے۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میری جان“‏

یا“‏ قوت“‏

یا ”‏ہدایت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏روح“‏

یا ”‏کسی کے ساتھ بانٹوں گا“‏

یا ”‏غیرت“‏

یا ”‏ساحلی علاقے“‏

یا ”‏ہدایت“‏

یا ”‏ہدایت“‏

ایسا لگتا ہے کہ یہاں جھوٹے خداؤں کی بات ہو رہی ہے۔‏

غالباً یہ اِصطلا‌ح مستقبل میں پہلے ہونے والی چیزوں کی طرف اِشارہ کرتی ہے۔‏

یا ”‏بھروسا کرو“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏واپس خریدنے والا“‏

یا ”‏تیری بغاوت“‏

غالباً یہاں شریعت کے اُستادوں کی بات ہو رہی ہے۔‏

یا ”‏تیری پیدائش سے ہی“‏

معنی:‏ ”‏سیدھی راہ پر چلنے والا۔“‏ یسورون اِسرائیل کا ایک خطاب ہے۔‏

یا ”‏پیاسی زمین“‏

یا ”‏قوت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏واپس خریدنے والا“‏

یعنی مورتیں

یا ”‏مندر“‏

ایک سدابہار درخت جو تیزپات کے خاندان سے ہے

یا ”‏سُوکھے ہوئے ٹکڑے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏واپس خریدوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏واپس خرید“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏واپس خریدنے والا“‏

یا ”‏جھوٹے نبیوں“‏

الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏مسح کرنا“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏کے کمربند کھول دوں“‏

یا ”‏مضبوطی سے تمہاری کمر کَسوں گا“‏

یا ”‏سورج کے نکلنے سے ڈوبنے تک“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بنایا“‏

یا ”‏جھگڑا“‏

یا ”‏اپنے بنانے والے“‏

یا شاید ”‏کیا مٹی کو کہنا چاہیے:‏ ”‏تیری بنائی ہوئی چیز میں تو ہتھیاں ہی نہیں ہیں“‏؟“‏

یا ”‏کس کے لیے پیدائش کی دردیں سہہ رہی ہو؟“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏فوج“‏

یا شاید ”‏کے مزدور،“‏

یا شاید ”‏کے تاجر“‏

یا شاید ”‏خالی رہنے کے لیے“‏

یا ”‏نیک“‏

یا ”‏نیک“‏

بابلیوں کا ایک دیوتا

بابلیوں کا ایک دیوتا

یعنی جانوروں پر لدے ہوئے بُتوں کو

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُن کی جانیں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏پہلی“‏

یا ”‏مقصد؛ اِرادہ“‏

یا ”‏سورج نکلنے کی جگہ سے“‏

یا ”‏مقصد؛ اِرادے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏طاقت‌ور“‏

یا شاید ”‏اور مَیں کسی شخص سے مہربانی سے نہیں ملوں گا۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏واپس خرید“‏

یا ”‏ملکہ“‏

یا ”‏ملکہ“‏

یا شاید ”‏کے باوجود“‏

یا ”‏تجھے سمجھ نہیں آئے گی کہ اِسے ٹالنے کے لیے کون سا جادومنتر کرے۔“‏

یا شاید ”‏جو آسمان کو تقسیم کرتے ہیں؛ نجومی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اپنی جان کو“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اپنے علاقے کو“‏

یا شاید ”‏یہوداہ کی نسل“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏پہلی“‏

یا ”‏آزمایا۔“‏ یا شاید ”‏چُنا“‏

یا ”‏کسی کے ساتھ نہیں بانٹوں گا۔“‏

یا ”‏مجھے اپنی روح کے ساتھ“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏واپس خریدنے والا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏واپس خریدا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کوکھ سے ہی بُلایا۔“‏

تیر رکھنے کا خول

یا ”‏یہوواہ مجھے اِنصاف دے گا“‏

یا ”‏میرا اجر“‏

یا ”‏بنایا،“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏جس کی جان کو“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏واپس خریدنے والا“‏

یا ”‏خوشنودی“‏

یا شاید ”‏بنجر پہاڑیوں“‏

یا ”‏اپنی گود“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏واپس خریدنے والا“‏

یا ”‏تربیت‌یافتہ زبان“‏

یا شاید ”‏حوصلہ“‏

یا ”‏مجھ سے لڑ“‏

یا ”‏ایک دوسرے کا سامنا کریں۔“‏

یا ”‏پیدائش کی دردوں کے ساتھ پیدا کِیا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بازو“‏

یا ”‏ٹکڑے ٹکڑے“‏

یا ”‏ہدایت“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏واپس خریدا“‏

یہاں صِیّون کو ایک عورت کے طور پر مخاطب کِیا گیا ہے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تیری جان“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏ایک دوسرے کی آنکھوں میں“‏

یا ”‏خدا کی جیت“‏

یا ”‏بے‌زبان ہو جائیں گے“‏

یا شاید ”‏جو ہم نے سنی ہیں؟“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بازو“‏

‏”‏اُس“‏ سے مُراد خدا یا کوئی اَور دیکھنے والا ہو سکتا ہے۔‏

یا ”‏اُسے تکلیف سے گزرنا تھا“‏

یا شاید ”‏وہ ایسا شخص تھا جس سے لوگ مُنہ پھیر لیتے تھے۔“‏

یا ”‏اُس نے ہمارے امن“‏

یا ”‏اُسے رُکاوٹ ڈال کر“‏

یا ”‏اُس کی زندگی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏زندوں کی زمین“‏

یا ”‏مار ڈالا“‏

یا ”‏کوئی اُسے بُرے لوگوں کے ساتھ اپنی قبر دے گا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏ایک امیر آدمی“‏

یا ”‏ظلم“‏

یا ”‏لیکن یہوواہ کو اِس سے خوشی ملی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بیج“‏

یا ”‏خوشی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اپنی جان کے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏موت تک اپنی جان اُنڈیل دی“‏

یا ”‏بچے“‏

یا ”‏مالک“‏

یا ”‏مالک“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏واپس خریدنے والا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏زخمی روح“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏واپس خریدنے والے“‏

یا ”‏آتشی پتھروں“‏

یا ”‏بچے“‏

یا ”‏بچوں“‏

یا ”‏صلح؛ اِطمینان“‏

یا ”‏اُن کی نیکی میری طرف سے ہے۔“‏

یا ”‏محنت کی کمائی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تمہاری جان کو چربی سے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تمہاری جان“‏

یا ”‏میرا کلام ثابت ہوگا“‏

یا ”‏مرضی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏جان“‏

یعنی موت نے اُنہیں لے لیا ہے

یا شاید ”‏مصیبت کے ہاتھ سے“‏

یعنی قبر میں

یہاں صِیّون یا یروشلم کو ایک عورت کے طور پر مخاطب کِیا گیا ہے۔‏

یا ”‏اِس سب سے خود کو تسلی دینی چاہیے؟“‏

غالباً یہاں بُت‌پرستی کی بات ہو رہی ہے۔‏

یا شاید ”‏بادشاہ“‏

عبرانی لفظ:‏ ”‏شیول۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تھک نہیں رہی۔“‏

یا ”‏اور معاملات کو چھپائے رکھا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏روح کے ادنیٰ“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏روح“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اِنسان کی روح“‏

ایسا لگتا ہے کہ یہاں بنی‌اِسرائیل کی بات کی جا رہی ہے۔‏

یا ”‏کو تسلی دے کر بھرپائی کروں گا۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏سینگ“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اپنی جان کو“‏

یا ”‏خوشی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اپنی جان کو“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تمہاری جان“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏مصیبت کی ماری جانوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تمہاری جان کا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تمہیں دراڑوں“‏

یا ”‏خوشیوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏سے اپنے قدم موڑ لو گے“‏

یا ”‏سے لطف اُٹھانے دوں گا۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بھاری“‏

یا ”‏جو کھوکھلی ہیں“‏

یا ”‏ایمان‌داری“‏

یا ”‏ایمان‌داری“‏

یا ”‏اُسے جیت دِلائی“‏

یا ”‏جیت“‏

یا ”‏غیرت“‏

یا ”‏بغیر بازوؤں والے چوغے“‏

یا ”‏قوت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏واپس خریدنے والا“‏

یا ”‏تیری صبح کی روشنی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تجھے“‏

یا ”‏پہلے کی طرح آ رہے ہیں“‏

یا ”‏خوب‌صورتی“‏

یا ”‏اپنے نیک اِرادے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏واپس خریدنے والا“‏

یا ”‏صلح“‏

الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏مسح کرنا“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏مہربانی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏مایوس روح“‏

یا ”‏شان“‏

یا ”‏دولت“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏میری جان“‏

یا ”‏بغیر بازوؤں والے چوغے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏واپس خریدا“‏

یا شاید ”‏شوخ لال“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اِنتقام کا دن میرے دل میں ہے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏واپس خریدنے“‏

یا ”‏جیت“‏

یا ”‏جھوٹے ثابت نہیں ہوں گے۔“‏

یا ”‏اُس کے حضور رہنے والے فرشتے“‏

یا ”‏قوت“‏

یا ”‏گہرے پانیوں“‏

یا ”‏گھوڑا ویرانے“‏

یا ”‏خوب‌صورت“‏

یا ”‏خوب‌صورت“‏

یا ”‏غیرت؛ جوش“‏

یا ”‏گہرے احساسات“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏واپس خریدنے والا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بھٹکا دیا؟“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بنا دیا“‏

یا ”‏جو صبر سے اُس کا اِنتظار کرتے ہیں۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ہاتھوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏پگھلنے“‏

یا ”‏ہمیں بنانے والا“‏

یا ”‏خوب‌صورت“‏

یا ”‏ہیکل“‏

یا شاید ”‏پہرےداروں کی جھونپڑیوں“‏

یا ”‏ناپاک“‏

یا شاید ”‏کیونکہ مَیں اپنی پاکیزگی تمہیں دے دوں گا۔“‏

یا ”‏اُن کی گود میں بدلہ ڈال دوں گا۔“‏

یا ”‏پہلے اُن کی پوری مزدوری ناپ کر اُن کی گود میں ڈال دوں گا۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏ایک برکت“‏

یا ”‏اچھا“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تمہاری روح ٹوٹی ہوئی ہوگی۔“‏

یا ”‏وفاداری۔“‏ لفظی ترجمہ:‏ ”‏آمین“‏

یا ”‏وفاداری۔“‏ لفظی ترجمہ:‏ ”‏آمین“‏

یا شاید ”‏جو شخص سو سال نہیں جی پائے گا، اُسے لعنتی سمجھا جائے گا۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏دن“‏

یا ”‏اُن کی محنت ضائع نہیں ہوگی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بیج“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اور جس کی روح ٹوٹی ہوئی ہے“‏

یا ”‏کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔“‏

یا شاید ”‏جو بُت کی بڑائی کرتا ہے۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُن کی جان“‏

یا ”‏کو سنجیدگی سے لیتے ہو،“‏

یا ”‏طاقت“‏

یعنی اُن خاص باغوں میں جو بُت‌پرستی کے لیے اِستعمال ہوتے تھے

لفظی ترجمہ:‏ ”‏بیج“‏

یا ”‏میری عبادت کے لیے“‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں