نحمیاہ
1 حکلیاہ کے بیٹے نحمیاہ* کی باتیں: مَیں 20ویں سال میں* کِسلیو* کے مہینے میں سُوسن* کے قلعے* میں تھا۔ 2 اُس وقت میرا ایک بھائی حنانی یہوداہ سے کچھ آدمیوں کے ساتھ آیا۔ مَیں نے اُن سے یروشلم اور اُن باقی یہودیوں کے بارے میں پوچھا جو قید سے چُھوٹ گئے تھے۔ 3 اُنہوں نے جواب دیا: ”جو لوگ قید سے چُھوٹ کر صوبے* میں رہ رہے ہیں، اُن کی حالت بہت بُری ہے اور وہ ذِلت سہہ رہے ہیں۔ یروشلم کی دیواریں ٹوٹی ہوئی ہیں اور اُس کے دروازے آگ سے جلے ہوئے ہیں۔“
4 جیسے ہی مَیں نے یہ باتیں سنیں، مَیں بیٹھ گیا اور رونے لگا۔ مَیں کئی دنوں تک ماتم کرتا رہا اور روزہ رکھتا رہا اور آسمان کے خدا سے دُعا کرتا رہا۔ 5 مَیں نے کہا: ”اَے آسمان کے خدا یہوواہ! تُو عظیم ہے اور تیرا گہرا احترام کِیا* جانا چاہیے۔ تُو ہمیشہ اپنے عہد پر قائم رہتا ہے اور اُن لوگوں کے لیے اٹوٹ محبت ظاہر کرتا ہے جو تجھ سے محبت کرتے ہیں اور تیرے حکموں پر عمل کرتے ہیں۔ 6 مہربانی سے اپنے اِس بندے کی اُس دُعا کو سُن اور اُس اِلتجا پر توجہ فرما جو مَیں آج اور دن رات تیرے بندوں یعنی بنیاِسرائیل کے حوالے سے کر رہا ہوں۔ مَیں اُن گُناہوں کا اِقرار کرتا ہوں جو اِسرائیل کے لوگوں نے تیرے خلاف کیے ہیں۔ مَیں نے اور میرے باپ کے گھرانے نے گُناہ کِیا ہے۔ 7 ہم نے بُرے کام کر کے تجھے غصہ دِلایا اور تیرے اُن حکموں، معیاروں اور فیصلوں کو نہیں مانا جو تُو نے اپنے بندے موسیٰ کے ذریعے دیے تھے۔
8 مہربانی سے اپنے اِس حکم* کو یاد فرما جو تُو نے اپنے بندے موسیٰ کو دیا تھا: ”اگر تُم نے مجھ سے بےوفائی کی تو مَیں تمہیں قوموں کے درمیان تتربتر کر دوں گا۔ 9 لیکن اگر تُم میری طرف لوٹو گے اور میرے حکموں کو مانو گے اور اُن پر عمل کرو گے تو پھر چاہے تُم زمین کے کونے کونے* میں ہی کیوں نہ بکھرے ہو، مَیں تمہیں اِکٹھا کروں گا اور اُس جگہ لاؤں گا جسے مَیں نے اپنے نام کی بڑائی کے لیے چُنا ہے۔“ 10 وہ تیرے بندے اور تیری قوم ہیں جنہیں تُو نے اپنی عظیم طاقت اور زورآور ہاتھ کے ذریعے چھڑایا تھا۔ 11 اَے یہوواہ! مہربانی سے اپنے اِس بندے کی دُعا پر توجہ فرما اور اپنے اُن بندوں کی دُعا پر بھی جنہیں تیرے نام کا خوف رکھنے سے خوشی ملتی ہے۔ مہربانی سے آج اپنے بندے کو کامیابی عطا فرما اور بادشاہ کے دل میں میرے لیے رحم پیدا کر۔“
اُن دنوں مَیں بادشاہ کا ساقی تھا۔
2 بادشاہ ارتخششتا کی حکمرانی کے 20ویں سال میں نیسان* کے مہینے میں بادشاہ کے سامنے مے رکھی گئی اور مَیں نے معمول کے مطابق مے لی اور بادشاہ کو پیش کی۔ اُس وقت مَیں بہت اُداس تھا۔ لیکن بادشاہ نے مجھے پہلے کبھی اُداس نہیں دیکھا تھا۔ 2 اِس لیے بادشاہ نے مجھ سے کہا: ”تُم بیمار تو نہیں ہو تو پھر تُم اِتنے اُداس کیوں لگ رہے ہو؟ ضرور کوئی بات تمہیں اندر ہی اندر کھائے جا رہی ہے۔“ اِس پر مَیں بہت ڈر گیا۔
3 پھر مَیں نے بادشاہ سے کہا: ”بادشاہ سدا سلامت رہے! مَیں بھلا اُداس کیوں نہ ہوں؟ وہ شہر، وہ جگہ جہاں میرے باپدادا دفن ہیں، کھنڈر بن چُکی ہے اور اُس کے دروازے آگ سے جل چُکے ہیں۔“ 4 اِس پر بادشاہ نے مجھ سے کہا: ”بتاؤ تُم کیا چاہتے ہو؟“ مَیں نے فوراً آسمان کے خدا سے دُعا کی۔ 5 اِس کے بعد مَیں نے بادشاہ سے کہا: ”اگر بادشاہ سلامت چاہیں اور اگر آپ کے خادم پر آپ کی نظرِکرم ہو تو مجھے یہوداہ بھیج دیں؛ مجھے اُس شہر بھیج دیں جہاں میرے باپدادا دفن ہیں تاکہ مَیں اِسے دوبارہ بنا سکوں۔“ 6 اُس وقت ملکہ بھی بادشاہ کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھیں۔ بادشاہ نے مجھ سے پوچھا: ”تمہارا سفر کتنا لمبا ہوگا اور تُم کب تک لوٹو گے؟“ بادشاہ مجھے بھیجنے کے لیے راضی ہو گئے اور مَیں نے اُنہیں بتایا کہ مَیں کب تک لوٹوں گا۔
7 پھر مَیں نے بادشاہ سے کہا: ”اگر آپ مناسب سمجھیں تو مجھے بڑے دریا کے پار* کے علاقے کے ناظموں کے لیے خط دیں تاکہ وہ مجھے اپنے علاقے سے گزرنے دیں اور مَیں صحیح سلامت یہوداہ پہنچ جاؤں۔ 8 مجھے شاہی باغ* کے نگران آسَف کے لیے بھی ایک خط دے دیں تاکہ وہ مجھے ہیکل* کے قلعے کے دروازوں، شہر کی دیواروں اور اُس گھر کے شہتیروں کے لیے لکڑی دیں جس میں مَیں رہوں گا۔“ بادشاہ نے مجھے یہ خط دے دیے کیونکہ میرے خدا کا شفقت بھرا ہاتھ مجھ پر تھا۔
9 جب مَیں بڑے دریا کے پار کے علاقے کے ناظموں کے پاس آیا تو مَیں نے اُنہیں بادشاہ کے خط دیے۔ بادشاہ نے میرے ساتھ فوج کے سربراہ اور گُھڑسوار بھی بھیجے تھے۔ 10 جب سَنبلّط حورونی اور عمونی افسر* طوبیاہ کو اِس بارے میں پتہ چلا تو وہ اِس بات سے سخت ناخوش ہوئے کہ کوئی اِسرائیل کے لوگوں کی بھلائی کے لیے کچھ کرنے آیا ہے۔
11 ایک لمبے سفر کے بعد مَیں یروشلم پہنچا اور تین دن وہاں رہا۔ 12 مَیں رات کو اُٹھا اور مَیں نے کچھ آدمیوں کو اپنے ساتھ لیا۔ مَیں نے کسی کو نہیں بتایا تھا کہ میرے خدا نے یروشلم کے حوالے سے میرے دل میں کیا بات ڈالی ہے۔ میرے پاس صرف ایک ہی جانور تھا جس پر مَیں سوار تھا۔ 13 مَیں رات کو وادی دروازے سے نکل کر اژدہا چشمے کے سامنے سے گزرا اور کچرا دروازے* تک پہنچا اور مَیں نے یروشلم کی ٹوٹی ہوئی دیواروں اور جلے ہوئے دروازوں کا معائنہ کِیا۔ 14 پھر مَیں چشمہ دروازے سے گزر کر بادشاہ کے تالاب کی طرف گیا۔ وہاں پر اُس جانور کے گزرنے کے لیے جگہ نہیں تھی جس پر مَیں سوار تھا۔ 15 لیکن پھر بھی مَیں رات میں وادی سے اُوپر کی طرف بڑھتا گیا اور دیوار کا معائنہ کرتا گیا۔ اِس کے بعد مَیں مُڑا اور وادی دروازے سے گزر کر واپس آ گیا۔
16 نائب حاکموں کو نہیں پتہ تھا کہ مَیں کہاں گیا تھا اور کیا کر رہا تھا کیونکہ مَیں نے ابھی تک یہودیوں، کاہنوں، نوابوں، نائب حاکموں اور مرمت کا کام کرنے والے باقی لوگوں کو کچھ نہیں بتایا تھا۔ 17 آخر مَیں نے اُن سے کہا: ”آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہماری صورتحال کتنی خراب ہے؛ یروشلم کھنڈر بن چُکا ہے اور اِس کے دروازے آگ سے جل چُکے ہیں۔ آئیں یروشلم کی دیواروں کو دوبارہ سے بنائیں تاکہ یہ ذِلت ختم ہو جائے۔“ 18 پھر مَیں نے اُنہیں بتایا کہ میرے خدا کا شفقت بھرا ہاتھ کس طرح مجھ پر رہا ہے اور یہ بھی کہ بادشاہ نے مجھ سے کیا کیا کہا ہے۔ اِس پر اُنہوں نے کہا: ”آئیں اُٹھ کر تعمیر کا کام کریں۔“ اِس طرح اُنہوں نے اِس اچھے کام کے لیے ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھایا۔*
19 جب سَنبلّط حورونی، عمونی افسر* طوبیاہ اور جشم عربی نے یہ سنا تو وہ ہمارا مذاق اُڑانے لگے، ہمیں نیچا دِکھانے لگے اور کہنے لگے: ”یہ تُم لوگ کیا کر رہے ہو؟ کیا تُم لوگ بادشاہ کے خلاف بغاوت کر رہے ہو؟“ 20 لیکن مَیں نے اُن سے کہا: ”آسمان کا خدا ہی ہمیں کامیابی عطا کرے گا۔ ہم اُس کے بندے ہیں۔ ہم اُٹھیں گے اور دیوار بنائیں گے۔ لیکن تمہارا یروشلم میں نہ کوئی حصہ ہے اور نہ کوئی حق اور نہ ہی تُم نے اِس کے لیے کچھ کِیا ہے کہ تمہیں یاد رکھا جائے۔“
3 کاہنِاعظم اِلیاسب اپنے بھائیوں یعنی کاہنوں کے ساتھ بھیڑ دروازہ بنانے کے لیے اُٹھے۔ اُنہوں نے اُسے پاک* کِیا اور اُس کے دروازے لگائے۔ اُنہوں نے اُسے بُرجِمیاہ سے لے کر بُرجِحننایل تک پاک کِیا۔ 2 اُس سے آگے والا حصہ یریحو کے آدمی بنا رہے تھے اور اُس سے آگے والا حصہ اِمری کے بیٹے زکُور بنا رہے تھے۔
3 ہسناہ کے بیٹوں نے مچھلی دروازہ بنایا۔ اُنہوں نے لکڑی سے اُس کی چوکھٹ بنائی اور اُس کے دروازے، چٹخنیاں اور کُنڈے لگائے۔ 4 اُس سے آگے والے حصے کی مرمت مِریموت نے کی جو کہ اُوریاہ کے بیٹے اور ہقّوض کے پوتے تھے؛ اُس سے آگے والے حصے کی مرمت مِسُلّام نے کی جو مِشیزبیل کے بیٹے بِرکیاہ کے بیٹے تھے اور اُس سے آگے والے حصے کی مرمت بعنہ کے بیٹے صدوق نے کی۔ 5 اُس سے آگے والے حصے کی مرمت تقوعیوں نے کی لیکن اُن کے مُعزز آدمی اپنے مالکوں کے تحت کام کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔*
6 فاسح کے بیٹے یویدع اور بسودیاہ کے بیٹے مِسُلّام نے پُرانے شہر کے دروازے کی مرمت کی۔ اُنہوں نے لکڑی سے اُس کی چوکھٹ بنائی اور پھر اُس کے دروازے، چٹخنیاں اور کُنڈے لگائے۔ 7 اُس سے آگے والے حصے کی مرمت مِلَطیاہ جِبعونی اور یدون مِرونوتی نے کی۔ یہ آدمی جِبعون اور مِصفاہ سے تھے جو کہ بڑے دریا کے پار* کے علاقے کے ناظم کے تحت تھے۔ 8 اُس سے آگے والے حصے کی مرمت حرہیاہ کے بیٹے عُزّیایل نے کی جو کہ ایک سُنار تھے۔ اُس سے آگے والے حصے کی مرمت حنانیاہ نے کی جو خوشبودار تیل* بناتے تھے۔ اُن دونوں نے یروشلم میں چوڑی دیوار تک پکا راستہ* بنایا۔ 9 اُس سے آگے والے حصے کی مرمت حُور کے بیٹے رِفایاہ نے کی جو یروشلم کے آدھے ضلعے کے ایک حاکم تھے۔ 10 اُس سے آگے حرومف کے بیٹے یدایاہ نے اُس حصے کی مرمت کی جو اُن کے گھر کے سامنے تھا اور اُس سے آگے حسَبنیاہ کے بیٹے حطّوش نے مرمت کی۔
11 حارِم کے بیٹے مَلکیاہ اور پختموآب کے بیٹے حسوب نے ایک اَور حصے اور بُرجِتنور کی مرمت کی۔ 12 اُس سے آگے والے حصے کی مرمت ہلوحیش کے بیٹے سلّوم نے اپنی بیٹیوں کے ساتھ مل کر کی۔ سلّوم یروشلم کے آدھے ضلعے کے ایک حاکم تھے۔
13 حنون نے زنوح کے لوگوں کے ساتھ مل کر وادی دروازے کی مرمت کی۔ اُنہوں نے اُسے بنایا اور پھر اُس کے دروازے، چٹخنیاں اور کُنڈے لگائے۔ اُنہوں نے کچرا دروازے* تک دیوار کی مرمت کی جو کہ 1000 ہاتھ* لمبی تھی۔ 14 ریکاب کے بیٹے مَلکیاہ نے جو کہ ضلع بیتہکرِم کے ایک حاکم تھے، کچرا دروازے* کی مرمت کی۔ اُنہوں نے اُسے بنایا اور پھر اُس کے دروازے، چٹخنیاں اور کُنڈے لگائے۔
15 کُلحوزہ کے بیٹے سلّون نے جو کہ ضلع مِصفاہ کے ایک حاکم تھے، چشمہ دروازے کی مرمت کی۔ اُنہوں نے اُسے اور اُس کی چھت کو بنایا اور اُس کے دروازے، چٹخنیاں اور کُنڈے لگائے۔ اُنہوں نے شاہی باغ کے تالابِسِلح* کی دیوار کی بھی اُن سیڑھیوں تک مرمت کی جو داؤد کے شہر سے نیچے کی طرف جاتی ہیں۔
16 اُس سے آگے عزبُوق کے بیٹے نحمیاہ نے جو کہ بیتصُور کے آدھے ضلعے کے ایک حاکم تھے، داؤد کے قبرستان کے سامنے سے لے کر مصنوعی تالاب اور سُورماؤں کے گھر تک مرمت کی۔
17 اُس سے آگے والے حصے کی مرمت لاویوں نے کی۔ اُنہوں نے بانی کے بیٹے رِحوم کی نگرانی میں کام کِیا۔ اُس سے آگے قعیلہ کے آدھے ضلعے کے ایک حاکم حسَبیاہ نے اپنے ضلعے کی مرمت کی۔ 18 اُس سے آگے اُن کے بھائیوں نے حنداد کے بیٹے بوّی کی نگرانی میں مرمت کی جو قعیلہ کے آدھے ضلعے کے ایک حاکم تھے۔
19 اُس سے آگے یشوع کے بیٹے عزر جو کہ ضلع مِصفاہ کے ایک حاکم تھے، ایک اَور حصے کی مرمت کر رہے تھے۔ وہ پُشتے* کے پاس اسلحہخانے کی چڑھائی کے سامنے والے حصے کی مرمت کر رہے تھے۔
20 اُس سے آگے زبّی کے بیٹے بارُوک نے ایک اَور حصے کی مرمت کی جو کہ پُشتے سے لے کر کاہنِاعظم اِلیاسب کے گھر کی دہلیز تک تھا۔ اُنہوں نے بڑے جوش سے کام کِیا۔
21 اُس سے آگے مِریموت نے جو کہ اُوریاہ کے بیٹے اور ہقّوض کے پوتے تھے، ایک اَور حصے کی مرمت کی۔ اُنہوں نے اِلیاسب کے گھر کی دہلیز سے لے کر اُس حصے تک مرمت کی جہاں اِلیاسب کا گھر ختم ہوتا تھا۔
22 اُس سے آگے اُردن* کے علاقے* کے کاہنوں نے مرمت کی۔ 23 اُس سے آگے بِنیامین اور حسوب نے اُس حصے کی مرمت کی جو اُن کے گھر کے سامنے تھا۔ اُس سے آگے عننیاہ کے پوتے اور معسیاہ کے بیٹے عزریاہ نے اپنے گھر کے قریب والے حصے کی مرمت کی۔ 24 اُس سے آگے حنداد کے بیٹے بِنوی نے ایک اَور حصے کی مرمت کی جو کہ عزریاہ کے گھر سے لے کر پُشتے تک اور دیوار کے کونے تک تھا۔
25 اُس سے آگے اُوزی کے بیٹے فالال نے اُس حصے کی مرمت کی جو پُشتے اور اُس بُرج کے سامنے ہے جو بادشاہ کے محل سے نکلتا ہے اور جس کا اُوپر والا حصہ محافظوں کے صحن میں ہے۔ اُس سے آگے والے حصے کی مرمت پَرعوس کے بیٹے فِدایاہ نے کی۔
26 عوفِل میں رہنے والے ہیکل کے خدمتگاروں* نے مشرق میں پانی دروازے کے سامنے والے حصے اور اُس بُرج تک مرمت کی جو باہر کو نکلا ہوا ہے۔
27 اُس سے آگے تقوعیوں نے ایک اَور حصے کی مرمت کی جو باہر کو نکلے ہوئے بڑے بُرج کے سامنے سے لے کر عوفِل کی دیوار تک ہے۔
28 کاہنوں نے گھوڑا دروازے کے اُوپر اپنے اپنے گھر کے سامنے والے حصے کی مرمت کی۔
29 اُس سے آگے اِمّیر کے بیٹے صدوق نے اُس حصے کی مرمت کی جو اُن کے گھر کے سامنے تھا۔
اُس سے آگے سِکنیاہ کے بیٹے سِمعیاہ نے جو کہ مشرقی دروازے کے پہرےدار تھے، مرمت کی۔
30 اُس سے آگے سِلمیاہ کے بیٹے حنانیاہ اور صَلَف کے چھٹے بیٹے حنون نے ایک اَور حصے کی مرمت کی۔
اُس سے آگے بِرکیاہ کے بیٹے مِسُلّام نے اُس حصے کی مرمت کی جو اُن کے بڑے کمرے کے سامنے تھا۔
31 اُس سے آگے سُناروں کی تنظیم کے رُکن مَلکیاہ نے ہیکل کے خدمتگاروں* اور تاجروں کے گھر تک اور معائنہ دروازے کے سامنے والے حصے اور دیوار کے سِرے پر موجود اُوپر والے کمرے تک مرمت کی۔
32 دیوار کے سِرے پر موجود اُوپر والے کمرے اور بھیڑ دروازے کے درمیان والے حصے کی مرمت سُناروں اور تاجروں نے کی۔
4 جیسے ہی سَنبلّط نے سنا کہ ہم دوبارہ سے دیوار بنا رہے ہیں، وہ سخت ناخوش ہوا اور بہت غصے میں آ گیا اور یہودیوں کا مذاق اُڑانے لگا۔ 2 اُس نے اپنے بھائیوں اور سامریہ کی فوج کے سامنے کہا: ”یہ کمزور سے یہودی کر کیا رہے ہیں؟ کیا وہ اپنے دم پر یہ کام کر لیں گے؟ کیا وہ قربانیاں پیش کریں گے؟ کیا وہ ایک دن میں کام ختم کر لیں گے؟ کیا وہ ملبے کے ڈھیر سے جلے ہوئے پتھروں کو نکالیں گے اور اُنہیں نیا بنا کر لگائیں گے؟“
3 تب طوبیاہ عمونی نے جو اُس کے پاس ہی کھڑا تھا، کہا: ”اگر ایک لومڑی بھی پتھر کی اُس دیوار پر چڑھ گئی جو وہ بنا رہے ہیں تو وہ دیوار ڈھیر ہو جائے گی۔“
4 مَیں نے دُعا کی: ”اَے ہمارے خدا! ہماری سُن کیونکہ ہمارے ساتھ حقارت بھرا سلوک کِیا جا رہا ہے۔ وہ ہمیں ذلیل کر رہے ہیں مگر تُو اِس ذِلت کو اُنہی کے سر پر ڈال دے۔ اُن کے ساتھ لُوٹ کے مال جیسا سلوک کِیا جائے اور اُنہیں قیدی بنا کر کسی اَور ملک میں لے جایا جائے۔ 5 اُن کی غلطی کو نظرانداز نہ کر* اور اُن کا گُناہ تیرے حضور سے مٹایا نہ جائے کیونکہ اُنہوں نے دیوار بنانے والوں کی بےعزتی کی ہے۔“
6 ہم دیوار بناتے رہے۔ ہم نے پوری دیوار جوڑ لی اور اِس کی آدھی اُونچائی تک اِسے دوبارہ بنا لیا۔ اور لوگ دل لگا کر کام کرتے رہے۔
7 لیکن جیسے ہی سَنبلّط، طوبیاہ، عربیوں، عمونیوں اور اشدودیوں کو پتہ چلا کہ یروشلم کی دیواروں کی مرمت کا کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور دراڑیں بھری جا رہی ہیں تو وہ شدید غصے میں آ گئے۔ 8 اُنہوں نے مل کر سازش کی کہ وہ آ کر یروشلم پر حملہ کریں گے اور اِس میں افراتفری مچا دیں گے۔ 9 مگر ہم نے اپنے خدا سے دُعا کی اور دُشمنوں سے محفوظ رہنے کے لیے دن رات پہرا لگائے رکھا۔
10 لیکن یہوداہ کے لوگ کہہ رہے تھے: ”مزدوروں* کی ہمت جواب دے گئی ہے اور اِتنا زیادہ ملبہ پڑا ہوا ہے؛ ہم کبھی دیوار نہیں بنا پائیں گے۔“
11 دوسری طرف ہمارے دُشمن کہہ رہے تھے: ”اِس سے پہلے کہ اُنہیں پتہ چلے یا وہ ہمیں دیکھیں، ہم اُن کے بیچ میں گُھس کر اُنہیں مار ڈالیں گے اور کام روک دیں گے۔“
12 اُن کے آسپاس رہنے والے یہودی جب بھی شہر میں آتے تھے تو ہم سے بار بار* کہتے تھے: ”وہ ہم پر چاروں طرف سے حملہ کریں گے۔“
13 اِس لیے مَیں نے دیوار کی پچھلی طرف سب سے نچلی اور کُھلی جگہوں پر آدمی تعینات کر دیے۔ مَیں نے اُنہیں خاندانوں کے حساب سے تعینات کِیا اور اُن کے پاس اُن کی تلواریں، نیزے اور کمانیں تھیں۔ 14 جب مَیں نے دیکھا کہ وہ ڈرے ہوئے ہیں تو مَیں فوراً اُٹھا اور مَیں نے نوابوں، نائب حاکموں اور باقی لوگوں سے کہا: ”اُن سے نہ ڈریں۔ یہوواہ کو یاد رکھیں جو عظیم ہے اور جس کا خوف رکھا* جانا چاہیے۔ اپنے بھائیوں، اپنے بیٹے بیٹیوں، اپنی بیویوں اور اپنے گھروں کے لیے لڑیں۔“
15 جب ہمارے دُشمنوں کو پتہ چلا کہ ہمیں اُن کے منصوبے کا علم ہو گیا ہے اور سچے خدا نے اُن کے منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے تو ہم سب دوبارہ سے دیوار بنانے لگے۔ 16 اُس دن کے بعد سے میرے آدھے آدمی کام کرتے تھے اور آدھے آدمی نیزے، ڈھالیں اور کمانیں پکڑے رہتے تھے اور بکتر پہنے رہتے تھے۔ اور حاکم اُن یہودیوں* کے پیچھے کھڑے رہتے تھے 17 جو دیوار بنا رہے تھے۔ جو لوگ سامان ڈھوتے تھے، وہ ایک ہاتھ سے کام کرتے تھے اور دوسرے ہاتھ میں ہتھیار پکڑے رہتے تھے۔ 18 تعمیر کا کام کرنے والے ہر شخص نے کام کرتے وقت اپنی کمر پر تلوار باندھی ہوتی تھی اور نرسنگا* بجانے والا میرے ساتھ کھڑا ہوتا تھا۔
19 تب مَیں نے نوابوں، نائب حاکموں اور باقی لوگوں سے کہا: ”کام بہت بڑا اور بہت زیادہ ہے اور ہم دیوار پر ایک دوسرے سے کافی دُور دُور ہیں۔ 20 جب آپ نرسنگے* کی آواز سنیں تو ہمارے پاس آ کر اِکٹھے ہو جائیں۔ ہمارا خدا ہمارے لیے لڑے گا۔“
21 اِس طرح ہم پَو پھٹنے سے لے کر ستارے نکلنے تک کام کرتے رہتے تھے اور آدھے لوگ نیزے پکڑ کر کھڑے رہتے تھے۔ 22 اُس وقت مَیں نے لوگوں سے کہا: ”ہر آدمی اپنے خادم کے ساتھ یروشلم کے اندر رات گزارے اور وہ رات کے وقت ہماری حفاظت کریں اور دن کے وقت کام کریں۔“ 23 اِس لیے نہ تو مَیں، نہ میرے بھائی، نہ میرے خادم اور نہ ہی میرے پیچھے پیچھے چلنے والے پہرےدار اپنے کپڑے بدلتے تھے۔ ہم میں سے ہر ایک اپنے دائیں ہاتھ میں اپنا ہتھیار اُٹھائے رہتا تھا۔
5 لیکن پھر کچھ آدمی اور اُن کی بیویاں اپنے یہودی بھائیوں کے خلاف دُہائی دینے لگے۔ 2 کچھ لوگ کہہ رہے تھے: ”ہمارے بہت سے بیٹے بیٹیاں ہیں۔ ہمیں کھانے اور زندہ رہنے کے لیے اناج چاہیے۔“ 3 کچھ لوگ کہہ رہے تھے: ”ہمیں اپنے کھیت، انگور کے باغ اور گھر گِروی رکھنے پڑ رہے ہیں تاکہ ہم اِس قحط کے دوران اناج حاصل کر سکیں۔“ 4 کچھ اَور لوگ کہہ رہے تھے: ”ہمیں بادشاہ کو خراج دینے کے لیے اپنے کھیتوں اور انگور کے باغوں کو گِروی رکھ کر پیسے اُدھار لینے پڑے ہیں۔ 5 ہم اور ہمارے بھائی ایک ہی خون ہیں* اور ہمارے بچے بھی اُن کے بچوں جیسے ہیں۔ لیکن پھر بھی ہمیں اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو غلامی میں دینا پڑ رہا ہے اور ہماری کچھ بیٹیاں تو پہلے ہی غلامی میں ہیں۔ لیکن اِس سب کو روکنا ہمارے بس میں نہیں ہے کیونکہ ہمارے کھیت اور انگور کے باغ دوسروں کے پاس ہیں۔“
6 جب مَیں نے اُن کی دُہائی اور یہ باتیں سنیں تو مجھے بہت غصہ آیا۔ 7 اِس لیے مَیں نے دل میں اِن باتوں کے بارے میں سوچا اور نوابوں اور نائب حاکموں کو ڈانٹا اور اُن سے کہا: ”آپ میں سے ہر ایک اپنے بھائی سے بھاری سُود مانگ رہا ہے۔“
اِس کے علاوہ مَیں نے اُن کی وجہ سے ایک بڑا مجمع اِکٹھا کِیا۔ 8 مَیں نے اُن سے کہا: ”ہمارے لیے جہاں تک ممکن تھا، ہم اپنے اُن یہودی بھائیوں کو چھڑا* لائے جنہیں غیرقوموں کے آگے بیچ دیا گیا تھا۔ لیکن کیا اب آپ اپنے بھائیوں کو بیچیں گے اور ہمیں دوبارہ سے اُنہیں چھڑانا* پڑے گا؟“ اِس پر وہ بالکل خاموش ہو گئے اور اُن کے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں تھا۔ 9 پھر مَیں نے کہا: ”آپ لوگ جو کر رہے ہیں، وہ صحیح نہیں ہے۔ کیا آپ کو اپنے خدا کا خوف رکھ کر اُس کی راہ پر نہیں چلنا چاہیے تاکہ غیرقومیں یعنی ہمارے دُشمن ہمیں ذلیل نہ کر سکیں؟ 10 مَیں، میرے بھائی اور میرے خادم لوگوں کو اُدھار پیسے اور اناج دے رہے ہیں۔ میری درخواست ہے کہ ہم سُود پر اُدھار دینا بند کر دیں۔ 11 مہربانی سے اُنہیں آج ہی اُن کے کھیت، انگور کے باغ، زیتون کے باغ اور گھر واپس کر دیں۔ اِس کے ساتھ ساتھ اُنہیں پیسوں، اناج، نئی مے اور تیل کا وہ 100واں* حصہ بھی واپس کر دیں جو آپ سُود کے طور پر اُن سے طلب کر رہے ہیں۔“
12 اِس پر اُنہوں نے کہا: ”ہم لوگوں کو یہ چیزیں واپس کر دیں گے اور بدلے میں کچھ نہیں مانگیں گے۔ جیسا آپ نے کہا ہے، ہم بالکل ویسا ہی کریں گے۔“ اِس لیے مَیں نے کاہنوں کو بُلایا اور اُن آدمیوں سے اِس وعدے کو پورا کرنے کی قسم لی۔ 13 پھر مَیں نے اپنے چوغے کی تہیں بھی جھاڑیں اور کہا: ”جو شخص اپنے اِس وعدے کو پورا نہ کرے، سچا خدا اُسے اُس کے گھر اور اُس کی ملکیت سے اِسی طرح جھاڑ دے، ہاں، وہ اُسے اِسی طرح جھاڑ دے اور خالی کر دے۔“ اِس پر پوری جماعت نے کہا: ”آمین!“* اِس کے بعد اُنہوں نے یہوواہ کی بڑائی کی اور لوگوں نے اپنا وعدہ پورا کِیا۔
14 بادشاہ ارتخششتا نے مجھے اپنی حکمرانی کے 20ویں سال میں یہوداہ کے علاقے کا ناظم بنایا اور مَیں نے اور میرے بھائیوں نے تب سے لے کر اُن کی حکمرانی کے 32ویں سال تک یعنی 12 سال تک کھانے کی وہ چیزیں نہیں کھائیں جو ناظم کے لیے مقرر ہوتی تھیں۔ 15 لیکن مجھ سے پہلے والے ناظموں نے لوگوں پر بہت زیادہ بوجھ ڈالا ہوا تھا۔ وہ اُن سے روٹی اور مے کے لیے روزانہ 40 مِثقال* چاندی لیتے تھے۔ اَور تو اَور اُن کے خادم لوگوں پر بہت زیادہ ظلم ڈھاتے تھے۔ لیکن مَیں نے ایسا نہیں کِیا کیونکہ مجھے خدا کا خوف تھا۔
16 اِس کے علاوہ مَیں نے اِس دیوار کو بنانے میں ہاتھ بٹایا۔ میرے سب خادم بھی اِس کام میں لگے رہے اور ہم نے کوئی کھیت نہیں لیا۔ 17 میری میز پر 150 یہودی اور نائب حاکم کھانا کھاتے تھے اور وہ لوگ بھی جو دوسری قوموں سے ہمارے پاس آتے تھے۔ 18 میرے خرچے پر* ہر دن ایک بیل، چھ عمدہ بھیڑیں اور پرندے پکائے جاتے تھے اور ہر دسویں دن کثرت سے ہر طرح کی مے پیش کی جاتی تھی۔ اِس سب کے باوجود مَیں نے کبھی بھی کھانے کی وہ چیزیں نہیں مانگیں جو ناظم کے لیے مقرر تھیں کیونکہ لوگوں پر پہلے ہی خدمت کا کافی بوجھ تھا۔ 19 اَے میرے خدا! مَیں نے اِن لوگوں کے لیے جو کچھ بھی کِیا ہے، اُسے یاد رکھ اور مجھ پر کرم فرما!
6 جیسے ہی سَنبلّط، طوبیاہ، جشم عربی اور ہمارے باقی دُشمنوں نے سنا کہ مَیں نے دیوار دوبارہ بنا لی ہے اور اُس میں کوئی شگاف باقی نہیں بچا (حالانکہ ابھی تک مَیں نے دروازوں کے پلّے نہیں لگائے تھے) 2 تو سَنبلّط اور جشم نے فوراً مجھے یہ پیغام بھیجا: ”آؤ اور ہم وادیِاونو کے ایک گاؤں میں ملنے کے لیے وقت طے کریں۔“ لیکن وہ مجھے نقصان پہنچانے کی سازش گھڑ رہے تھے۔ 3 اِس لیے مَیں نے اُن کے پاسقاصدوں کے ہاتھ یہ پیغام بھیجا: ”مَیں ایک بہت اہم کام میں مصروف ہوں اور تُم سے ملنے نہیں آ سکتا۔ اگر مَیں تُم سے ملنے آیا تو یہ کام رُک جائے گا۔“ 4 اُنہوں نے چار بار مجھے یہی پیغام بھیجا اور مَیں نے ہر بار اُنہیں یہی جواب دیا۔
5 پھر سَنبلّط نے اپنے خادم کے ہاتھ پانچویں بار مجھے یہی پیغام بھیجا۔ اُس خادم کے ہاتھ میں ایک کُھلا خط تھا۔ 6 اُس خط میں لکھا تھا: ”قوموں میں یہ خبر پھیلی ہے اور جشم نے بھی بتایا ہے کہ تُم اور یہودی بغاوت کرنے کی سازش کر رہے ہو۔ اِس لیے تُم یہ دیوار بنا رہے ہو اور اِن خبروں کے مطابق تُم اُن کے بادشاہ بننے والے ہو۔ 7 اِس کے علاوہ تُم نے نبیوں کو مقرر کِیا ہے تاکہ وہ پورے یروشلم میں تمہارے بارے میں یہ اِعلان کریں: ”اب یہوداہ میں ایک بادشاہ ہے!“ یہ ساری باتیں بادشاہ کو بتائی جائیں گی۔ اِس لیے آؤ، مل کر اِس معاملے پر بات کریں۔“
8 لیکن مَیں نے اُسے یہ جواب بھیجا: ”جیسا تُم کہہ رہے ہو ویسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ تُم نے خود* یہ باتیں گھڑی ہیں۔“ 9 وہ سب ہمیں ڈرانے کی کوشش کر رہے تھے اور سوچ رہے تھے: ”اُن کی ہمت جواب دے جائے گی* اور کام نہیں ہو پائے گا۔“ مگر اَے خدا! مَیں تجھ سے دُعا کرتا ہوں کہ مجھے ہمت دے۔*
10 پھر مَیں دِلایاہ کے بیٹے اور مہیطبیل کے پوتے سِمعیاہ کے گھر گیا۔ اُس نے خود کو گھر میں بند کر رکھا تھا۔ اُس نے کہا: ”آؤ سچے خدا کے گھر میں ہیکل کے اندر ملنے کے لیے وقت مقرر کریں۔ ہم ہیکل کے دروازے بند کر دیں گے کیونکہ وہ آپ کو مارنے آ رہے ہیں۔ وہ آج رات آپ کو مارنے آئیں گے۔“ 11 لیکن مَیں نے کہا: ”کیا مجھ جیسے آدمی کو بھاگ جانا چاہیے؟ کیا مجھ جیسا آدمی ہیکل میں جا کر زندہ رہ سکتا ہے؟ مَیں ہیکل میں نہیں جاؤں گا!“ 12 پھر مَیں سمجھ گیا کہ اُسے خدا نے نہیں بھیجا تھا بلکہ طوبیاہ اور سَنبلّط نے اُسے میرے خلاف پیشگوئی کرنے کے لیے پیسے دیے تھے۔ 13 اُسے مجھے ڈرانے اور مجھ سے گُناہ کرانے کے لیے پیسے دیے گئے تھے تاکہ اُنہیں مجھے بدنام اور بےعزت کرنے کا موقع مل جائے۔
14 اَے میرے خدا! طوبیاہ اور سَنبلّط اور اُن کے کاموں کو یاد رکھنا اور نوعیدیاہ نبِیّہ اور دوسرے نبیوں کو بھی جو مسلسل مجھے ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
15 اِلُول* کے مہینے کے 25ویں دن دیوار مکمل ہو گئی۔ اِسے بنانے میں 52 دن لگے۔
16 جیسے ہی ہمارے سب دُشمنوں کو اِس بارے میں پتہ چلا اور اِردگِرد کی سب قوموں نے یہ دیکھا تو وہ بہت شرمندہ ہوئیں* اور اُنہیں پتہ چل گیا کہ ہم اپنے خدا کی مدد سے ہی یہ کام مکمل کر پائے ہیں۔ 17 اُن دنوں میں یہوداہ کے نواب، طوبیاہ کو بہت سے خط بھیج رہے تھے اور طوبیاہ اُنہیں جواب دیتا تھا۔ 18 یہوداہ کے بہت سے لوگوں نے طوبیاہ کا ساتھ دینے کی قسم کھائی تھی کیونکہ وہ اَرخ کے بیٹے سِکنیاہ کا داماد تھا اور اُس کے بیٹے یہوحنان کی شادی بِرکیاہ کے بیٹے مِسُلّام کی بیٹی سے ہوئی تھی۔ 19 وہ لوگ مسلسل مجھے طوبیاہ کے بارے میں اچھی باتیں بتاتے تھے اور پھر مَیں جو کچھ کہتا تھا، وہ اُسے بتا دیتے تھے۔ اِس کے بعد طوبیاہ مجھے ڈرانے کے لیے خط بھیجتا تھا۔
7 جیسے ہی دیوار دوبارہ تعمیر ہو گئی، مَیں نے دروازے لگائے۔ پھر دربان، گلوکار اور لاوی مقرر کیے گئے۔ 2 اِس کے بعد مَیں نے اپنے بھائی حنانی اور قلعے کے سربراہ حنانیاہ کو یروشلم کا نگران مقرر کِیا۔ مَیں نے حنانیاہ کو اِس لیے چُنا کیونکہ وہ بہت بھروسےمند آدمی تھے اور بہت سے دوسرے لوگوں سے زیادہ سچے خدا کا خوف رکھتے تھے۔ 3 مَیں نے اُن سے کہا: ”یروشلم کے دروازے تب تک نہ کھولے جائیں جب تک دھوپ تیز نہ ہو جائے اور پہرےداروں کی موجودگی میں ہی دروازے بند کر دیے جائیں اور اُن پر کُنڈے لگا دیے جائیں۔ یروشلم کے رہنے والوں کو پہرےدار مقرر کریں۔ کچھ کو اُن کی چوکیوں پر اور باقیوں کو اُن کے گھروں کے سامنے تعینات کریں۔“ 4 شہر بہت وسیع اور بڑا تھا اور اُس میں بہت کم لوگ تھے اور گھر دوبارہ نہیں بنے تھے۔
5 لیکن میرے خدا نے میرے دل میں ڈالا کہ مَیں نوابوں، نائب حاکموں اور لوگوں کو اِکٹھا کروں تاکہ نسبنامے کے حساب سے اُن کی فہرست تیار کی جا سکے۔ پھر مجھے ایک کتاب ملی جس میں اُن لوگوں کا نسبنامہ تھا جو پہلے آئے تھے۔ اُس کتاب میں یہ لکھا تھا:
6 صوبے* کے یہ لوگ اُن قیدیوں میں سے تھے جنہیں بابل کا بادشاہ نبوکدنضر قیدی بنا کر لے گیا تھا اور جو بعد میں یروشلم اور یہوداہ میں اپنے اپنے شہروں کو لوٹ آئے 7 یعنی وہ لوگ جو زِرُبّابل، یشوع، نحمیاہ، عزریاہ، رعمیاہ، نحمانی، مردکی، بِلشان، مِسفرِت ، بِگوَی، نحوم اور بعناہ کے ساتھ آئے تھے:
لوٹنے والے اِسرائیلی آدمیوں کی تعداد یہ تھی: 8 پَرعوس کے 2172 بیٹے، 9 سِفطیاہ کے 372 بیٹے، 10 اَرخ کے 652 بیٹے، 11 یشوع اور یوآب کے گھرانوں سے پختموآب کے 2818 بیٹے، 12 عِیلام کے 1254 بیٹے، 13 زتُو کے 845 بیٹے، 14 زکی کے 760 بیٹے، 15 بِنوی کے 648 بیٹے، 16 ببی کے 628 بیٹے، 17 عزجاد کے 2322 بیٹے، 18 ادونِقام کے 667 بیٹے، 19 بِگوَی کے 2067 بیٹے، 20 عدین کے 655 بیٹے، 21 حِزقیاہ کے گھرانے سے اطیر کے 98 بیٹے، 22 حاشوم کے 328 بیٹے، 23 بِضی کے 324 بیٹے، 24 خارِف کے 112 بیٹے، 25 جِبعون کے 95 بیٹے، 26 بیتلحم اور نطوفہ کے 188 آدمی، 27 عنتوت کے 128 آدمی، 28 بیتعزماوِت کے 42 آدمی، 29 قِریتیعریم، کِفیرہ اور بِیروت کے 743 آدمی، 30 رامہ اور جبع کے 621 آدمی، 31 مِکماس کے 122 آدمی، 32 بیتایل اور عی کے 123 آدمی، 33 دوسرے نبو کے 52 آدمی، 34 دوسرے عِیلام کے 1254 بیٹے، 35 حارِم کے 320 بیٹے، 36 یریحو کے 345 بیٹے،* 37 لود، حادِید اور اونو کے 721 بیٹے 38 اور سِناہ کے 3930 بیٹے۔
39 لوٹنے والے کاہنوں کی تعداد یہ تھی: یشوع کے گھرانے سے یدعیاہ کے 973 بیٹے، 40 اِمّیر کے 1052 بیٹے، 41 فشحور کے 1247 بیٹے 42 اور حارِم کے 1017 بیٹے۔
43 لوٹنے والے لاویوں کی تعداد یہ تھی: ہوداوہ کے بیٹوں میں سے قدمیایل کے گھرانے سے یشوع کے 74 بیٹے۔ 44 لوٹنے والے گلوکاروں کی تعداد یہ تھی: آسَف کے 148 بیٹے۔ 45 لوٹنے والے دربان یہ تھے: سلّوم کے بیٹے، اطیر کے بیٹے، طلمون کے بیٹے، عقّوب کے بیٹے، خطیطا کے بیٹے اور شوبائی کے بیٹے یعنی 138 آدمی۔
46 لوٹنے والے ہیکل کے خدمتگار* یہ تھے: ضیحا کے بیٹے، حسوفا کے بیٹے، طبعوت کے بیٹے، 47 قِروس کے بیٹے،سیعا کے بیٹے، فدون کے بیٹے، 48 لِبانہ کے بیٹے، حجابہ کے بیٹے، شلمی کے بیٹے، 49 حنان کے بیٹے، جِدّیل کے بیٹے، جحر کے بیٹے، 50 ریایاہ کے بیٹے، رِضین کے بیٹے، نِقودا کے بیٹے، 51 جزّام کے بیٹے، عُزّا کے بیٹے، فاسح کے بیٹے، 52 بِسی کے بیٹے، معونیم کے بیٹے، نِفوشسیم کے بیٹے، 53 بقبوق کے بیٹے، حقوفا کے بیٹے، حرحور کے بیٹے، 54 بضلیت کے بیٹے، محیدا کے بیٹے، حرشا کے بیٹے، 55 برقوس کے بیٹے، سیسرا کے بیٹے، تامح کے بیٹے، 56 نِفیاہ کے بیٹے اور خطیفا کے بیٹے۔
57 سلیمان کے خادموں کے جو بیٹے لوٹے، وہ یہ تھے: سوطی کے بیٹے، سوفرت کے بیٹے، فِرِیدا کے بیٹے، 58 یعلہ کے بیٹے، درقون کے بیٹے، جِدّیل کے بیٹے، 59 سِفطیاہ کے بیٹے، خطیل کے بیٹے، فوکرِتضبائم کے بیٹے اور امون کے بیٹے۔ 60 ہیکل کے خدمتگاروں* اور سلیمان کے خادموں کے بیٹوں کی تعداد 392 تھی۔
61 تِلملح، تِلحرسا، کِرُوب، ادّون اور اِمّیر سے جو لوگ لوٹے، وہ یہ ثابت نہیں کر پائے کہ اُن کا یا اُن کے آبائی خاندان کا تعلق اِسرائیلی قوم سے ہے۔ وہ لوگ یہ تھے: 62 دِلایاہ، طوبیاہ اور نِقودا کے 642 بیٹے۔ 63 اور کاہنوں میں سے یہ لوگ تھے: حبایاہ کے بیٹے، ہقّوض کے بیٹے اور برزِلّی کے بیٹے۔ برزِلّی نے برزِلّی جِلعادی کی بیٹیوں میں سے ایک سے شادی کر کے اپنے سُسر کا نام اپنا لیا تھا۔ 64 اُن لوگوں نے اپنا سلسلۂنسب ثابت کرنے کے لیے دستاویزات میں چھانبین کی لیکن اُنہیں وہاں اپنے خاندانوں کے نام نہیں ملے۔ اِس لیے اُنہیں کہانت کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا۔* 65 ناظم* نے اُن سے کہا کہ وہ تب تک مُقدسترین چیزوں میں سے نہ کھائیں جب تک کوئی ایسا کاہن موجود نہ ہو جو اُوریموتُمّیم کے ذریعے خدا کی مرضی جان سکے۔
66 لوٹنے والی پوری جماعت کی تعداد 42 ہزار 360 تھی۔ 67 اُن کے ساتھ اُن کے 7337 غلام مرد اور عورتیں اور 245 گلوکار اور گلوکارائیں بھی لوٹیں۔ 68 اُن کے پاس 736 گھوڑے، 245 خچر، 69 435 اُونٹ اور 6720 گدھے تھے۔
70 آبائی خاندانوں کے کچھ سربراہوں نے اُس کام کے لیے عطیہ دیا جو کِیا جا رہا تھا۔ ناظم* نے خزانے میں سونے کے 1000 دِرہم،* 50کٹورے اور کاہنوں کے لیے 530 چوغے دیے۔ 71 آبائی خاندانوں کے کچھ سربراہوں نے سونے کے 20 ہزار دِرہم اور 2200 مینا* چاندی خزانے میں عطیہ کی۔ 72 باقی لوگوں نے سونے کے 20 ہزار دِرہم، 2000 مینا چاندی اور کاہنوں کے 67 چوغے دیے۔
73 کاہن، لاوی، دربان، گلوکار، ہیکل کے خدمتگار* اور کچھ اَور لوگ اور سب اِسرائیلی اپنے اپنے شہروں میں بس گئے۔ ساتویں مہینے تک اِسرائیلی اپنے اپنے شہروں میں بس چُکے تھے۔
8 پھر سب لوگ ایک دل ہو کر پانی دروازے کے سامنے چوک میں جمع ہوئے اور اُنہوں نے نقلنویس عزرا سے کہا کہ وہ موسیٰ کی شریعت کی کتاب لائیں جس میں بنیاِسرائیل کے لیے یہوواہ کے حکم لکھے تھے۔ 2 اِس پر کاہن عزرا ساتویں مہینے کے پہلے دن شریعت کی کتاب کو آدمیوں، عورتوں اور اُن سب لوگوں کی جماعت کے سامنے لائے جو سُن کر سمجھ سکتے تھے۔ 3 عزرا نے اِسے پانی دروازے کے سامنے چوک میں صبح سویرے سے لے کر بھری دوپہر تک آدمیوں، عورتوں اور اُن سب کے سامنے اُونچی آواز میں پڑھا جو اِسے سمجھ سکتے تھے اور لوگوں نے شریعت کی کتاب کی باتوں کو بہت دھیان سے سنا۔ 4 نقلنویس عزرا لکڑی کے ایک چبوترے پر کھڑے تھے جو خاص اِسی موقعے کے لیے بنایا گیا تھا اور اُن کے ساتھ اُن کی دائیں طرف متِتیاہ، سِمع، عنایاہ، اُوریاہ، خِلقیاہ اور معسیاہ کھڑے تھے اور بائیں طرف فِدایاہ، میساایل، مَلکیاہ، حاشوم، حسبدانہ، زکریاہ اور مِسُلّام کھڑے تھے۔
5 جب عزرا نے کتاب کھولی تو سب لوگ اُنہیں دیکھ سکتے تھے کیونکہ عزرا اُونچی جگہ پر کھڑے تھے۔ جیسے ہی اُنہوں نے کتاب کھولی، سب لوگ کھڑے ہو گئے۔ 6 تب عزرا نے سچے اور عظیم خدا یہوواہ کی بڑائی کی جس پر سب لوگوں نے ہاتھ اُٹھا کر کہا: ”آمین!* آمین!“ پھر سب لوگ جھکے اور یہوواہ کے حضور مُنہ کے بل زمین پر لیٹ گئے۔ 7 یشوع، بانی، سرِبیاہ، یمین، عقّوب، سبّتی، ہودیاہ، معسیاہ، قِلیتاہ، عزریاہ، یوزباد، حنان اور فِلایاہ جو کہ لاوی تھے، لوگوں کے سامنے شریعت کی باتوں کی وضاحت کر رہے تھے اور لوگ ابھی تک کھڑے ہوئے تھے۔ 8 وہ اُس کتاب کو یعنی سچے خدا کی شریعت کو اُونچی آواز میں پڑھتے رہے، اُس کی اچھی طرح وضاحت کرتے رہے اور اُس کا مطلب سمجھاتے رہے۔ یوں اُنہوں نے اُن باتوں کو سمجھنے میں لوگوں کی مدد کی جو پڑھی جا رہی تھیں۔*
9 تب اُس وقت کے ناظم* نحمیاہ، کاہن اور نقلنویس عزرا اور اُن لاویوں نے جو لوگوں کو تعلیم دے رہے تھے، سب لوگوں سے کہا: ”یہ دن آپ کے خدا یہوواہ کے لیے پاک ہے۔ ماتم نہ کریں اور نہ روئیں۔“ اصل میں جب لوگوں نے شریعت کی باتوں کو سنا تھا تو وہ سب رونے لگ گئے تھے۔ 10 نحمیاہ نے اُن سے کہا: ”جائیں اور عمدہ چیزیں* کھائیں اور میٹھی چیزیں پئیں اور اُن لوگوں کو کھانے میں سے حصہ بھیجیں جن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے۔ یہ دن ہمارے مالک کے لیے پاک ہے۔ اُداس نہ ہوں کیونکہ یہوواہ سے ملنے والی خوشی آپ کی طاقت* ہے۔“ 11 لاویوں نے سب لوگوں کو چپ کراتے ہوئے کہا: ”روئیں نہیں کیونکہ آج کا دن پاک ہے! اُداس نہ ہوں۔“ 12 اِس لیے سب لوگ چلے گئے تاکہ کھائیں پئیں، دوسروں کو کھانے کی چیزیں بھیجیں اور بڑی خوشی منائیں کیونکہ وہ اُن باتوں کو سمجھ گئے تھے جو اُنہیں بتائی گئی تھیں۔
13 دوسرے دن سب لوگوں کے آبائی خاندانوں کے سربراہ، کاہن اور لاوی نقلنویس عزرا کے پاس جمع ہوئے تاکہ شریعت کی باتوں کو اَور اچھی طرح سمجھ سکیں۔ 14 تب اُنہوں نے شریعت میں یہ لکھا ہوا دیکھا کہ یہوواہ نے موسیٰ کے ذریعے حکم دیا تھا کہ بنیاِسرائیل ساتویں مہینے میں عید کے دوران جھونپڑیوں* میں رہیں 15 اور وہ اپنے سب شہروں اور سارے یروشلم میں یہ مُنادی اور اِعلان کریں: ”پہاڑی علاقوں میں جاؤ اور جھونپڑیاں بنانے کے لیے زیتون کے درختوں، چیڑ کے درختوں، مہندی کے درختوں، کھجور کے درختوں اور دوسرے درختوں کی پتّوں والی شاخیں لاؤ جیسے کہ لکھا ہے۔“
16 اِس لیے لوگ گئے اور ہر کوئی اپنی چھت پر، اپنے صحن میں، سچے خدا کے گھر کے صحن میں، پانی دروازے کے چوک میں اور اِفرائیمی دروازے کے چوک میں جھونپڑیاں بنانے کے لیے شاخیں لایا۔ 17 اِس طرح جماعت کے اُن سب لوگوں نے جو قید سے لوٹ کر آئے تھے، جھونپڑیاں بنائیں اور اُن میں رہے۔ بنیاِسرائیل نے نُون کے بیٹے یشوع کے زمانے سے لے کر اُس دن تک ایسا نہیں کِیا تھا۔ اِس لیے بہت زیادہ خوشی منائی گئی۔ 18 پہلے دن سے لے کر آخری دن تک ہر روز سچے خدا کی شریعت کی کتاب پڑھی گئی۔ اُنہوں نے سات دن تک عید منائی اور آٹھویں دن خاص اِجتماع تھا جیسے کہ ہدایت کی گئی تھی۔
9 اُس مہینے کی 24ویں تاریخ کو اِسرائیلی اِکٹھے ہوئے۔ اُنہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا، ٹاٹ پہنے ہوئے تھے اور اپنے اُوپر خاک ڈالی ہوئی تھی۔ 2 پھر اُن لوگوں نے جو اِسرائیل کی نسل سے تھے، خود کو تمام پردیسیوں سے الگ کِیا اور کھڑے ہو کر اپنے گُناہوں اور اپنے باپدادا کی غلطیوں کا اِقرار کِیا۔ 3 اِس کے بعد وہ اپنی جگہ پر کھڑے ہوئے اور دن کے تین گھنٹے* تک اپنے خدا یہوواہ کی شریعت کی کتاب کو اُونچی آواز میں پڑھتے رہے۔ اگلے تین گھنٹے وہ اپنے خدا یہوواہ کے حضور اپنے گُناہوں کا اِقرار کرتے اور اُسے سجدہ کرتے رہے۔
4 یشوع، بانی، قدمیایل، سِبنیاہ، بُنّی، سرِبیاہ، بانی اور کنانی لاویوں کے چبوترے پر کھڑے ہوئے اور اُنہوں نے اُونچی آواز میں اپنے خدا یہوواہ کو پکارا۔ 5 لاویوں میں سے یشوع، قدمیایل، بانی، حسَبنیاہ، سرِبیاہ، ہودیاہ، سِبنیاہ اور فِتحیاہ نے کہا: ”کھڑے ہوں اور اپنے خدا یہوواہ کی ہمیشہ ہمیشہ تک* بڑائی کریں۔ اَے خدا! اُنہیں اپنے عظیمُالشان نام کی بڑائی کرنے دے جس کی جتنی بھی حمدوتعریف کی جائے، کم ہے۔
6 صرف تُو ہی یہوواہ ہے۔ تُو نے آسمانوں بلکہ آسمانوں کے آسمان اور اُس کی ساری چیزوں،* زمین اور اُس کی ساری چیزوں اور سمندروں اور اُن کی ساری چیزوں کو بنایا ہے۔ تُو ہی اُن سب کو زندہ رکھتا ہے اور آسمان کی چیزیں* تیرے سامنے جھکتی ہیں۔ 7 تُو سچا خدا یہوواہ ہے جس نے اَبرام کو چُنا اور اُنہیں کسدیوں کے شہر اُور سے نکال کر لایا اور اُن کا نام اَبراہام رکھا۔ 8 تُو نے دیکھا کہ وہ دل سے تیرے وفادار ہیں۔ اِس لیے تُو نے اُن سے یہ عہد باندھا کہ تُو اُنہیں اور اُن کی نسل کو کنعانیوں، حِتّیوں، اموریوں، فِرِزّیوں، یبوسیوں اور جِرجاسیوں کا ملک دے گا اور تُو نے اپنے وعدے پورے کیے ہیں کیونکہ تُو نیک ہے۔
9 تُو نے مصر میں ہمارے باپدادا کی تکلیف دیکھی اور بحیرۂاحمر* پر اُن کی فریاد سنی۔ 10 پھر تُو نے فِرعون، اُس کے سب خادموں اور اُس کے ملک کے سب لوگوں کے خلاف نشانیاں دِکھائیں اور معجزے کیے کیونکہ تُو جانتا تھا کہ اُنہوں نے تیرے بندوں کے خلاف گستاخی* کی۔ تُو نے اپنا نام مشہور کِیا اور یہ آج تک قائم ہے۔ 11 تُو نے اُن کے سامنے سمندر کے دو حصے کر دیے۔ اِس لیے وہ سمندر کے بیچ خشک زمین پر چل کر پار چلے گئے اور تُو نے اُن کا پیچھا کرنے والوں کو گہرائیوں میں پھینک دیا، بالکل ویسے ہی جیسے کسی پتھر کو طوفانی سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے۔ 12 تُو نے دن کے وقت بادل کے ستون سے اُن کی رہنمائی کی اور رات کے وقت آگ کے ستون سے وہ راستہ روشن کِیا جس پر اُنہیں چلنا تھا۔ 13 تُو کوہِسینا پر اُترا اور آسمان سے اُن سے بات کی۔ تُو نے اُنہیں صحیح* فیصلے سنائے اور اُنہیں سچے قوانین* اور اچھے معیار اور حکم دیے۔ 14 تُو نے اُنہیں اپنے پاک سبت کے بارے میں بتایا اور اپنے بندے موسیٰ کے ذریعے اُنہیں حکم، معیار اور شریعت دی۔ 15 جب وہ بھوکے تھے تو تُو نے آسمان سے اُنہیں روٹی دی اور جب وہ پیاسے تھے تو تُو نے چٹان سے اُن کے لیے پانی نکالا۔ تُو نے اُنہیں بتایا کہ وہ اُس ملک میں داخل ہوں اور اُس پر قبضہ کر لیں جسے اُنہیں دینے کی تُو نے قسم کھائی تھی۔*
16 لیکن اُنہوں نے یعنی ہمارے باپدادا نے گستاخی* کی اور ڈھیٹھ بن گئے* اور اُنہوں نے تیرے حکموں کو نہیں مانا۔ 17 اُنہوں نے تیری بات ماننے سے اِنکار کر دیا اور تیرے اُن حیرتانگیز کاموں کو یاد نہیں رکھا جو تُو نے اُن کے سامنے کیے تھے۔ وہ ڈھیٹھ بن گئے* اور اُنہوں نے مصر کی غلامی میں لوٹنے کے لیے ایک پیشوا مقرر کِیا۔ مگر تُو ایسا خدا ہے جو معاف کرنے کو تیار، مہربان* اور رحیم ہے۔ تُو جلدی غصہ نہیں کرتا اور تیری اٹوٹ محبت کی کوئی اِنتہا نہیں۔ تُو نے اُنہیں ترک نہیں کِیا۔ 18 یہاں تک کہ جب اُنہوں نے اپنے لیے دھات سے بچھڑے کا ایک بُت بنایا اور کہا کہ ”اَے اِسرائیل! یہ تمہارا خدا ہے جو تمہیں مصر سے نکال کر لایا ہے“ اور اپنے کاموں سے تیری بہت توہین کی 19 تو تب بھی تُو نے اُن پر بڑا رحم کِیا اور اُنہیں ویرانے میں تنہا نہیں چھوڑا۔ نہ تو دن کے وقت بادل کے ستون نے اُن کی رہنمائی کرنی چھوڑی اور نہ رات کے وقت آگ کے ستون نے اُن کا راستہ روشن کرنا چھوڑا جس پر اُنہیں جانا تھا۔ 20 تُو نے اُنہیں سمجھداری عطا کرنے کے لیے اپنی روح* دی۔ تُو اُنہیں من کھلانے سے پیچھے نہیں ہٹا اور جب وہ پیاسے تھے تو تُو نے اُنہیں پانی دیا۔ 21 تُو نے اُنہیں ویرانے میں 40 سال تک کھانا دیا۔ اُنہیں کسی چیز کی کمی نہیں ہوئی۔ نہ تو اُن کے کپڑے گِھسے اور نہ اُن کے پاؤں سُوجے۔
22 تُو نے بادشاہتوں اور قوموں کے حصے کر کے اُنہیں دے دیے۔ اِس لیے اُنہوں نے سیحون کے علاقے یعنی حِسبون کے بادشاہ کے علاقے پر اور بسن کے بادشاہ عوج کے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ 23 تُو نے اُن کے بیٹوں کو آسمان کے ستاروں کی طرح بےشمار بنا دیا۔ پھر تُو اُنہیں اُس ملک میں لے آیا جس کے بارے میں تُو نے اُن کے باپدادا سے وعدہ کِیا تھا کہ وہ اُس میں داخل ہوں گے اور اُس پر قبضہ کر لیں گے۔ 24 پھر اُن کے بیٹے اُس ملک میں گئے اور اُس پر قبضہ کر لیا۔ تُو نے اُس ملک کے باشندوں یعنی کنعانیوں کو اُن کے تابع کر دیا اور اُن کے بادشاہوں اور اُس ملک کے لوگوں کو اُن کے حوالے کر دیا تاکہ وہ اُن کے ساتھ جو چاہیں، کریں۔ 25 اُنہوں نے قلعہبند شہروں اور زرخیز زمین پر قبضہ کر لیا۔ اُنہوں نے ہر طرح کی اچھی چیزوں سے بھرے ہوئے گھروں، پہلے سے کھدے ہوئے حوضوں، انگور کے باغوں، زیتون کے درختوں اور بےشمار پھلدار درختوں کو اپنی ملکیت بنا لیا۔ اِس لیے اُنہوں نے پیٹ بھر کر کھایا اور صحتمند ہو گئے۔ اُنہوں نے تیری عظیم اچھائی سے خوب لطف اُٹھایا۔
26 لیکن اُنہوں نے تیری نافرمانی کی اور تیرے خلاف بغاوت کی۔ اُنہوں نے تیری شریعت سے مُنہ پھیر لیا۔* اُنہوں نے تیرے اُن نبیوں کو قتل کِیا جنہوں نے اُنہیں خبردار کِیا تھا تاکہ اُنہیں تیرے پاس واپس لے آئیں۔ اُنہوں نے اپنے کاموں سے تیری بہت زیادہ توہین کی۔ 27 اِس لیے تُو نے اُنہیں اُن کے مخالفوں کے حوالے کر دیا جو اُنہیں تکلیف پہنچاتے رہے۔ لیکن وہ اپنی تکلیف میں تجھے پکارتے تھے اور تُو آسمان سے اُن کی سنتا تھا۔ تُو اُنہیں اُن کے مخالفوں سے بچانے کے لیے لوگ بھیجتا رہا کیونکہ تُو بہت رحیم ہے۔
28 مگر جیسے ہی اُنہیں اپنے مخالفوں سے سکون ملتا تھا، وہ پھر سے وہی کام شروع کر دیتے تھے جو تیری نظر میں بُرے تھے اور تُو اُنہیں اُن کے دُشمنوں کے حوالے کر دیتا تھا جو اُن پر ظلم ڈھاتے تھے۔* پھر وہ تیری طرف لوٹ آتے تھے اور مدد کے لیے تجھے پکارتے تھے اور تُو آسمان سے اُن کی سنتا تھا اور اُنہیں بار بار چھڑاتا تھا کیونکہ تُو بہت رحیم ہے۔ 29 تُو نے اُنہیں خبردار کِیا تاکہ اُنہیں اپنی شریعت کی طرف واپس لے آئے۔ لیکن وہ گستاخ* بن گئے اور اُنہوں نے تیرے حکموں کو ماننے سے اِنکار کر دیا۔ اُنہوں نے تیرے اُن معیاروں کے خلاف جا کر گُناہ کِیا جن پر عمل کر کے اِنسان زندہ رہ سکتا ہے۔ اُنہوں نے ہٹدھرمی سے مُنہ پھیر لیا اور ڈھیٹھ بنے رہے* اور تیری بات ماننے سے اِنکار کر دیا۔ 30 تُو سالوں تک اُن سے صبر سے پیش آتا رہا اور اپنی روح سے اپنے نبیوں کے ذریعے اُنہیں خبردار کرتا رہا۔ لیکن اُنہوں نے سننے سے اِنکار کر دیا۔ آخرکار تُو نے اُنہیں آسپاس کی قوموں کے حوالے کر دیا۔ 31 لیکن تُو نے اپنے بےاِنتہا رحم کی وجہ سے اُن کا نامونشان نہیں مٹایا اور نہ ہی اُنہیں تنہا چھوڑا کیونکہ تُو مہربان* اور رحیم خدا ہے۔
32 اَے ہمارے خدا! تُو عظیم اور طاقتور خدا ہے اور تیرا گہرا احترام کِیا* جانا چاہیے۔ تُو نے اپنے عہد کو نبھایا ہے اور اٹوٹ محبت ظاہر کی ہے۔ اُن سب تکلیفوں کو نہ بھول* جو اسور کے بادشاہوں کے زمانے سے لے کر آج تک ہم، ہمارے بادشاہ، ہمارے حاکم، ہمارے کاہن، ہمارے نبی، ہمارے باپدادا اور تیرے باقی سب بندے برداشت کرتے آئے ہیں۔ 33 ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا، اُس میں تُو بالکل صحیح* ہے کیونکہ تُو نے وفا نبھائی ہے، بُرائی ہم نے کی ہے۔ 34 ہمارے بادشاہوں، حاکموں، کاہنوں اور باپدادا نے تیری شریعت پر عمل نہیں کِیا اور نہ ہی تیرے حکموں اور اُن یاددہانیوں* پر دھیان دیا جن کے ذریعے تُو نے اُنہیں خبردار کِیا تھا۔ 35 اپنے بادشاہوں کے دَور میں جب وہ اُن سب اچھی چیزوں سے لطف اُٹھا رہے تھے جو تُو نے اُنہیں دی تھیں اور اُس وسیع اور زرخیز ملک میں رہ رہے تھے جو تُو نے اُنہیں عطا کِیا تھا تو تب بھی اُنہوں نے تیری خدمت نہیں کی اور اپنے بُرے کاموں سے باز نہیں آئے۔ 36 اِس لیے آج ہم غلام ہیں۔ ہم اُسی ملک میں غلام ہیں جو تُو نے ہمارے باپدادا کو دیا تھا تاکہ وہ اُس کا پھل اور اُس کی اچھی چیزیں کھائیں۔ 37 اِس کی بےشمار پیداوار اُن بادشاہوں کے لیے ہے جن کے تحت تُو نے ہمیں ہمارے گُناہوں کی وجہ سے کر دیا ہے۔ وہ ہمارے جسموں اور ہمارے مویشیوں پر جیسے چاہیں، حکمرانی کرتے ہیں اور ہم بہت زیادہ تکلیف میں ہیں۔
38 اِن سب باتوں کی وجہ سے ہم لکھ کر ایک پکا عہد باندھ رہے ہیں اور ہمارے حاکم، ہمارے لاوی اور ہمارے کاہن اِس پر اپنی مُہر لگا کر اِس کی تصدیق کریں گے۔“
10 جن لوگوں نے اِس پر اپنی مُہر لگا کر تصدیق کی، اُن کے نام یہ تھے:
ناظم* نحمیاہ جو حکلیاہ کے بیٹے تھے،
صِدقیاہ، 2 سِرایاہ، عزریاہ، یرمیاہ، 3 فشحور، امریاہ، مَلکیاہ، 4 حطّوش، سِبنیاہ، مَلّوک، 5 حارِم، مِریموت، عبدیاہ، 6 دانیایل، جِنّتون، بارُوک، 7 مِسُلّام، ابییاہ، میامین، 8 معزیاہ، بِلجی اور سِمعیاہ۔ یہ سب کاہن تھے۔
9 جن لاویوں نے مُہر لگا کر تصدیق کی، اُن کے نام یہ تھے: ازنیاہ کے بیٹے یشوع، حنداد کے بیٹوں میں سے بِنوی، قدمیایل 10 اور اُن کے بھائی سِبنیاہ، ہودیاہ، قِلیتاہ، فِلایاہ، حنان، 11 میکا، رِحوب، حسَبیاہ، 12 زکُور، سرِبیاہ، سِبنیاہ، 13 ہودیاہ، بانی اور بِنِینُو۔
14 لوگوں کے جن سربراہوں نے مُہر لگا کر تصدیق کی، اُن کے نام یہ تھے: پَرعوس، پختموآب، عِیلام، زتُو، بانی، 15 بُنّی، عزجاد، ببی، 16 ادونیاہ، بِگوَی، عدین، 17 اطیر، حِزقیاہ، عزّور، 18 ہودیاہ، حاشوم، بِضی، 19 خارِف، عنتوت، نوبی، 20 مگفیعاس، مِسُلّام، حِزیر، 21 مِشیزبیل، صدوق، یدّوع، 22 فِلطیاہ، حنان، عنایاہ، 23 ہوسیع، حنانیاہ، حسوب، 24 ہلوحیش، فِلحا، سوبیق، 25 رِحوم، حسَبناہ، معسیاہ، 26 اخیاہ، حنان، عنان، 27 مَلّوک، حارِم اور بعناہ۔
28 باقی لوگوں میں کاہن، لاوی، دربان، گلوکار، ہیکل کے خدمتگار* اور وہ سب لوگ شامل تھے جنہوں نے سچے خدا کی شریعت پر عمل کرنے کے لیے اپنے آپ کو آسپاس کی قوموں سے الگ کر لیا تھا۔ اُنہوں نے، اُن کی بیویوں نے، اُن کے بیٹوں نے، اُن کی بیٹیوں نے اور اُن سب لوگوں نے جو علم اور سمجھ رکھتے تھے،* 29 اپنے بھائیوں اور اپنے مُعزز لوگوں کے ساتھ مل کر ایک قسم کھائی اور کہا کہ اگر وہ اِس قسم کو پورا نہیں کریں گے تو اُن پر لعنت ہوگی۔ وہ قسم یہ تھی کہ وہ سچے خدا کی اُس شریعت پر عمل کریں گے جو اُس نے اپنے بندے موسیٰ کے ذریعے دی تھی اور ہمارے مالک یہوواہ کے تمام حکموں، فیصلوں اور معیاروں پر پوری طرح عمل کریں گے۔ 30 اُنہوں نے یہ قسم بھی کھائی: ”ہم اپنی بیٹیاں آسپاس کی قوموں کو نہیں دیں گے اور نہ ہی اُن کی بیٹیاں اپنے بیٹوں کے لیے لیں گے۔
31 اگر آسپاس کی قومیں سبت کے دن اپنی چیزیں یا کسی بھی طرح کا اناج بیچنے آئیں گی تو ہم سبت کے دن یا کسی اَور پاک دن اُن سے کچھ نہیں خریدیں گے۔ ہم ساتویں سال کی پیداوار اور ہر طرح کا قرض بھی چھوڑ دیں گے۔
32 ہم یہ ذمےداری بھی لیتے ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے خدا کے گھر* میں ہونے والی عبادت کے لیے ہر سال مِثقال* کا تیسرا حصہ دیا کرے گا 33 جو تہہ در تہہ رکھی جانے والی روٹیوں،* باقاعدگی سے دیے جانے والے اناج کے نذرانوں، سبت اور نئے چاند پر باقاعدگی سے پیش کی جانے والی بھسم ہونے والی قربانیوں، مقرر کی گئی ضیافتوں، پاک چیزوں، اِسرائیل کے کفارے کے لیے پیش کی جانے والی گُناہ کی قربانیوں اور ہمارے خدا کے گھر میں ہونے والے سب کاموں کے لیے ہوگا۔
34 ہم قُرعہ ڈال کر یہ بھی طے کریں گے کہ ہمارے آبائی خاندانوں کے مطابق کاہن، لاوی اور لوگ ہر سال مقررہ وقت پر ہمارے خدا کے گھر میں لکڑی لے کر آئیں تاکہ اِسے ہمارے خدا یہوواہ کی قربانگاہ پر جلایا جا سکے جیسے کہ موسیٰ کی شریعت میں لکھا ہے۔ 35 ہم ہر سال اپنی زمین کی پہلی فصل اور اپنے ہر طرح کے پھلدار درختوں کے پہلے پھل یہوواہ کے گھر میں لائیں گے۔ 36 ہم اپنے پہلوٹھے بیٹوں اور اپنے مویشیوں، اپنے ریوڑوں اور اپنے گلّوں میں سے پہلوٹھے جانوروں کو بھی لے کر آئیں گے جیسے کہ موسیٰ کی شریعت میں لکھا ہے۔ ہم اُنہیں اپنے خدا کے گھر میں کاہنوں کے پاس لائیں گے جو ہمارے خدا کے گھر میں خدمت کرتے ہیں۔ 37 ہم اپنے خدا کے گھر کے گوداموں* میں کاہنوں کے پاس اپنی پہلی فصل کے دانوں کا موٹا پِسا ہوا آٹا، اپنے عطیات، ہر طرح کے درختوں کے پھل، نئی مے اور تیل بھی لائیں گے۔ اِس کے ساتھ ساتھ ہم لاویوں کے لیے اپنی زمین کا دسواں حصہ* بھی لائیں گے کیونکہ لاوی ہمارے تمام زرعی شہروں سے دسواں حصہ لیتے ہیں۔
38 جب لاوی دسواں حصہ لیں گے تو ہارون کے بیٹے یعنی کاہن اُن کے ساتھ رہیں اور لاوی ہمارے خدا کے گھر کے گودام کے کمروں* میں دسویں حصے کا دسواں حصہ لیں 39 کیونکہ بنیاِسرائیل اور لاویوں کے بیٹوں کو اناج، نئی مے اور تیل کا عطیہ گوداموں* میں لانا چاہیے کیونکہ وہیں پر مُقدس مقام کا سامان ہے اور خدمت کرنے والے کاہن، دربان اور گلوکار رہتے ہیں۔ ہم اپنے خدا کے گھر کو نظرانداز نہیں کریں گے۔“
11 لوگوں کے حاکم یروشلم میں رہتے تھے۔ لیکن باقی لوگوں نے قُرعہ ڈال کر فیصلہ کِیا کہ ہر دس میں سے کس گھرانے کو مُقدس شہر یروشلم میں رہنے کے لیے لایا جائے جبکہ باقی نو دوسرے شہروں میں رہیں۔ 2 اِس کے علاوہ جن لوگوں نے اپنی مرضی سے یروشلم میں رہنے کا فیصلہ کِیا، اُن سب کو لوگوں نے دُعا دی۔
3 صوبے* کے یہ حاکم یروشلم میں رہتے تھے: (اِسرائیل کے باقی لوگ، کاہن، لاوی، ہیکل کے خدمتگار* اور سلیمان کے خادموں کے بیٹے یہوداہ کے دوسرے شہروں میں اپنی اپنی ملکیت کے حساب سے اپنے اپنے شہروں میں رہے۔
4 اِس کے علاوہ یہوداہ اور بِنیامین کے کچھ لوگ یروشلم میں رہتے تھے۔) یہوداہ کے لوگوں میں سے عتایاہ جو عُزّیاہ کے بیٹے تھے جو زکریاہ کے بیٹے تھے جو امریاہ کے بیٹے تھے جو سِفطیاہ کے بیٹے تھے جو مہللایل کے بیٹے تھے جو فارِص کے گھرانے سے تھے 5 اور معسیاہ جو بارُوک کے بیٹے تھے جو کُلحوزہ کے بیٹے تھے جو حزایاہ کے بیٹے تھے جو عدایاہ کے بیٹے تھے جو یویریب کے بیٹے تھے جو زکریاہ کے بیٹے تھے جو سِلح کے گھرانے سے تھے۔ 6 فارِص کے گھرانے کے کُل 468 قابل آدمی یروشلم میں رہتے تھے۔
7 بِنیامین کے قبیلے میں سے یہ لوگ تھے: سَلّو جو مِسُلّام کے بیٹے تھے جو یوئید کے بیٹے تھے جو فِدایاہ کے بیٹے تھے جو قولایاہ کے بیٹے تھے جو معسیاہ کے بیٹے تھے جو اِتیایل کے بیٹے تھے جو یسعیاہ کے بیٹے تھے 8 اور سَلّو کے بعد جبّی اور سَلّی لوگ تھے یعنی کُل 928 آدمی۔ 9 زِکری کے بیٹے یُوایل اُن کے نگہبان تھے اور ہسنوآہ کے بیٹے یہوداہ، شہر کے نائب نگران تھے۔
10 کاہنوں میں سے یہ لوگ تھے: یدعیاہ جو یویریب کے بیٹے تھے، یاکن، 11 سِرایاہ جو خِلقیاہ کے بیٹے تھے جو مِسُلّام کے بیٹے تھے جو صدوق کے بیٹے تھے جو مِرایوت کے بیٹے تھے جو اخیطُوب کے بیٹے تھے جو کہ سچے خدا کے گھر* میں ایک پیشوا تھے 12 اور اُن کے بھائی جو خدا کے گھر میں خدمت کرتے تھے یعنی کُل 822 آدمی اور عدایاہ جو یروحام کے بیٹے تھے جو فِللیاہ کے بیٹے تھے جو اَمصی کے بیٹے تھے جو زکریاہ کے بیٹے تھے جو فشحور کے بیٹے تھے جو مَلکیاہ کے بیٹے تھے 13 اور اُن کے بھائی جو آبائی خاندانوں کے سربراہ تھے یعنی کُل 242 آدمی اور اَمشی جو عزرایل کے بیٹے تھے جو اخزی کے بیٹے تھے جو مِسِلّیموت کے بیٹے تھے جو اِمّیر کے بیٹے تھے 14 اور اُن کے بھائی جو طاقتور اور دلیر آدمی تھے یعنی کُل 128 آدمی۔ اور زبدیایل جو کہ ایک مُعزز گھرانے سے تھے، اُن کے نگہبان تھے۔
15 لاویوں میں سے یہ لوگ تھے: سِمعیاہ جو حسوب کے بیٹے تھے جو عزریقام کے بیٹے تھے جو حسَبیاہ کے بیٹے تھے جو بُنّی کے بیٹے تھے؛ 16 لاویوں کے سربراہوں میں سے سبّتی اور یوزباد جو کہ سچے خدا کے گھر کے باہر کے معاملات کے نگران تھے؛ 17 گلوکاروں کے ہدایتکار اور حمد کے دوران لوگوں کی پیشوائی کرنے والے متنیاہ جو میکاہ کے بیٹے تھے جو زبدی کے بیٹے تھے جو آسَف کے بیٹے تھے؛ بقبوقیاہ جو متنیاہ کے مددگار تھے اور عبدا جو سمّوع کے بیٹے تھے جو جلال کے بیٹے تھے جو یدوتون کے بیٹے تھے۔ 18 مُقدس شہر میں کُل 284 لاوی تھے۔
19 دربانوں میں سے یہ لوگ تھے: عقّوب، طلمون اور اُن کے بھائی جو دروازوں پر پہرا دیتے تھے یعنی کُل 172 آدمی۔
20 اِسرائیل کے باقی لوگ، کاہن اور لاوی یہوداہ کے دوسرے سب شہروں میں اپنی اپنی وراثت کے حساب سے رہ رہے تھے۔ 21 ہیکل کے خدمتگار* عوفِل میں رہ رہے تھے اور ضیحا اور جِسفا ہیکل کے خدمتگاروں* کے نگہبان تھے۔
22 آسَف کے گھرانے یعنی گلوکاروں میں سے عُزّی یروشلم میں لاویوں کے نگہبان تھے اور وہ بانی کے بیٹے تھے جو حسَبیاہ کے بیٹے تھے جو متنیاہ کے بیٹے تھے جو میکا کے بیٹے تھے۔ عُزّی سچے خدا کے گھر میں ہونے والے کام کے نگران تھے۔ 23 گلوکاروں کے حوالے سے ایک شاہی حکم تھا جس کے مطابق اُنہیں ہر روز اُن کی ضرورت کے حساب سے طےشُدہ چیزیں دی جاتی تھیں۔ 24 یہوداہ کے بیٹے زارح کے گھرانے سے مِشیزبیل کے بیٹے فِتحیاہ لوگوں کے ہر طرح کے معاملے کے حوالے سے بادشاہ کے مُشیر تھے۔
25 یہ بستیوں اور اُن کے کھیتوں کی فہرست ہے۔ یہوداہ کے کچھ لوگ اِن علاقوں میں رہتے تھے: قِریتاربع اور اُس کے آسپاس کے* قصبوں میں، دِیبون اور اُس کے آسپاس کے قصبوں میں، یقَبضیایل اور اُس کی بستیوں میں، 26 یشوع، مولادہ، بیتفِلِط 27 اور حصرسُوعال میں، بِیرسبع اور اُس کے آسپاس کے* قصبوں میں، 28 صِقلاج میں، مقوناہ اور اُس کے آسپاس کے* قصبوں میں، 29 عینرِمّون، صرُعہ، یرموت، 30 زنوح، عدُلّام اور اُن کی بستیوں میں، لکیس اور اُس کے کھیتوں میں اور عزیقہ اور اُس کے آسپاس کے* قصبوں میں۔ وہ بِیرسبع سے لے کر وادیِہِنّوم تک آباد ہو گئے۔*
31 بِنیامین کے لوگ اِن علاقوں میں رہتے تھے: جبع، مِکماس، عیاہ، بیتایل اور اُس کے آسپاس کے* قصبوں میں، 32 عنتوت، نوب، عننیاہ، 33 حصور، رامہ، جِتّیم، 34 حادِید، ضبوِعیم، نبلّاط، 35 لود اور اونو میں جو کاریگروں کی وادی ہے۔* 36 یہوداہ کے علاقے کے لاویوں کے کچھ گروہ بِنیامین کے علاقے میں رہنے لگے۔
12 جو کاہن اور لاوی سیالتیایل کے بیٹے زِرُبّابل اور یشوع کے ساتھ گئے، وہ یہ ہیں: سِرایاہ، یرمیاہ، عزرا، 2 امریاہ، مَلّوک، حطّوش، 3 سِکنیاہ، رِحوم، مِریموت، 4 اِدّو، جِنّتوی، ابییاہ، 5 میامین، معدیاہ، بِلجاہ، 6 سِمعیاہ، یویریب، یدعیاہ، 7 سَلّو، عموق، خِلقیاہ اور یدعیاہ۔ یہ لوگ یشوع کے زمانے میں کاہنوں اور اُن کے بھائیوں کے سربراہ تھے۔
8 یشوع، بِنوی، قدمیایل، سرِبیاہ، یہوداہ اور متنیاہ لاوی تھے۔ متنیاہ اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر شکرگزاری کے گیتوں کے دوران پیشوائی کرتے تھے۔ 9 اُن کے سامنے اُن کے بھائی بقبوقیاہ اور عُنّی پہرا دینے کے لیے* کھڑے رہتے تھے۔ 10 یشوع سے یویقیم پیدا ہوئے؛ یویقیم سے اِلیاسب پیدا ہوئے؛ اِلیاسب سے یویدع پیدا ہوئے؛ 11 یویدع سے یونتن پیدا ہوئے اور یونتن سے یدّوع پیدا ہوئے۔
12 یویقیم کے زمانے میں یہ کاہن آبائی خاندانوں کے سربراہ تھے: سِرایاہ کے گھرانے سے مِرایاہ؛ یرمیاہ کے گھرانے سے حنانیاہ؛ 13 عزرا کے گھرانے سے مِسُلّام؛ امریاہ کے گھرانے سے یہوحنان؛ 14 مَلّوکی کے گھرانے سے یونتن؛ سِبنیاہ کے گھرانے سے یوسف؛ 15 حارِم کے گھرانے سے عدنا؛ مِرایوت کے گھرانے سے خلقی؛ 16 اِدّو کے گھرانے سے زکریاہ؛ جِنّتون کے گھرانے سے مِسُلّام؛ 17 ابییاہ کے گھرانے سے زِکری؛ مِنیامین کے گھرانے سے ...؛* موعدیاہ کے گھرانے سے فِلطی؛ 18 بِلجاہ کے گھرانے سے سمّوع؛ سِمعیاہ کے گھرانے سے یہونتن؛ 19 یویریب کے گھرانے سے متّنی؛ یدعیاہ کے گھرانے سے عُزّی؛ 20 سَلّی کے گھرانے سے قلائی؛ عموق کے گھرانے سے عبر؛ 21 خِلقیاہ کے گھرانے سے حسَبیاہ؛ یدعیاہ کے گھرانے سے نِتنیایل۔
22 اِلیاسب، یویدع، یوحنان اور یدّوع کے زمانے میں لاویوں کے آبائی خاندانوں کے سربراہوں اور کاہنوں کے نام فارس کے بادشاہ دارا کی حکمرانی تک درج کیے گئے۔
23 اُن لاویوں کے نام جو آبائی خاندانوں کے سربراہ تھے، اِلیاسب کے بیٹے یوحنان کے زمانے تک اُس زمانے کی تاریخ کی کتاب میں لکھے گئے۔ 24 حسَبیاہ، سرِبیاہ اور قدمیایل کے بیٹے یشوع لاویوں کے سربراہ تھے۔ اُن کے بھائی اُن کے سامنے کھڑے ہو کر سچے خدا کے بندے داؤد کی ہدایتوں کے مطابق خدا کی حمد کرتے اور اُس کا شکر ادا کرتے تھے۔ پہرےداروں کا ایک گروہ دوسرے گروہ کے پاس کھڑا رہتا تھا۔ 25 متنیاہ، بقبوقیاہ، عبدیاہ، مِسُلّام، طلمون اور عقّوب دربان تھے اور دروازوں کے ساتھ والے گوداموں پر پہرا دیتے تھے۔ 26 یہ لوگ یشوع کے بیٹے اور یوصدق کے پوتے یویقیم، ناظم نحمیاہ اور کاہن اور نقلنویس عزرا کے زمانے میں خدمت کرتے تھے۔
27 جب یروشلم کی دیواروں کا اِفتتاح کِیا گیا تو لوگوں نے لاویوں کو ڈھونڈا اور جہاں جہاں وہ رہتے تھے، اُنہیں وہاں سے یروشلم لائے تاکہ شکرگزاری کے گیت گا کر اور جھانجھیں، تاردار ساز اور بربط* بجا کر اِس موقعے پر خوشی منائی جائے۔ 28 گلوکاروں کے بیٹے* اِن جگہوں سے اِکٹھے ہوئے: قریب کے علاقے* سے، یروشلم کی چاروں طرف سے، نطوفاتیوں کی بستیوں سے، 29 بیت جِلجال سے اور جبع اور عزماوِت کے علاقوں سے کیونکہ گلوکاروں نے یروشلم کی چاروں طرف اپنی بستیاں بنائی ہوئی تھیں۔ 30 کاہنوں اور لاویوں نے خود کو پاک صاف کِیا اور لوگوں، دروازوں اور دیوار کو بھی پاک کِیا۔
31 پھر مَیں یہوداہ کے حاکموں کو دیوار کے اُوپر لایا۔ مَیں نے شکرگزاری کے گیت گانے والوں کے دو بڑے گروہ بھی مقرر کیے اور اُن کے پیچھے پیچھے چلنے کے لیے لوگوں کے دو گروہ بنائے۔ ایک گروہ دیوار کے اُوپر دائیں طرف کچرا دروازے* کی طرف گیا۔ 32 ہوسعیاہ اور یہوداہ کے آدھے حاکم اُن کے پیچھے چل رہے تھے 33 اور ساتھ میں عزریاہ، عزرا، مِسُلّام، 34 یہوداہ، بِنیامین، سِمعیاہ اور یرمیاہ تھے۔ 35 اُن کے ساتھ کاہنوں کے کچھ بیٹے تھے جنہوں نے نرسنگے پکڑے ہوئے تھے یعنی زکریاہ جو یونتن کے بیٹے تھے جو سِمعیاہ کے بیٹے تھے جو متنیاہ کے بیٹے تھے جو میکایاہ کے بیٹے تھے جو زکُور کے بیٹے تھے جو آسَف کے بیٹے تھے 36 اور اُن کے بھائی سِمعیاہ، عزرایل، مِلَلی، جِلَلی، ماعی، نِتنیایل، یہوداہ اور حنانی جنہوں نے سچے خدا کے بندے داؤد کے ساز اُٹھائے ہوئے تھے اور نقلنویس عزرا اُن کے آگے آگے چل رہے تھے۔ 37 وہ لوگ چشمہ دروازے سے ہو کر سیدھا داؤد کے گھر کے اُوپر دیوار کی چڑھائی سے ہوتے ہوئے گئے اور داؤد کے شہر کی سیڑھیاں پار کر کے مشرق میں پانی دروازے کی طرف گئے۔
38 شکرگزاری کے گیت گانے والوں کا دوسرا گروہ دوسری طرف* گیا اور مَیں باقی آدھے لوگوں کے ساتھ اُس کے پیچھے پیچھے بُرجِتنور سے ہو کر چوڑی دیوار تک گیا۔ 39 وہاں سے ہم اِفرائیمی دروازے، پُرانے شہر کے دروازے، مچھلی دروازے، بُرجِحننایل، بُرجِمیاہ اور بھیڑ دروازے سے گزرے اور محافظوں کے دروازے پر آ کر رُک گئے۔
40 پھر شکرگزاری کے گیت گانے والوں کے دونوں گروہ سچے خدا کے گھر کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ مَیں اور میرے ساتھ موجود آدھے نائب حاکم بھی وہاں کھڑے ہو گئے۔ 41 کاہنوں میں سے اِلیاقیم، معسیاہ، مِنیامین، میکایاہ، اِلیوعینی، زکریاہ اور حنانیاہ نے نرسنگے پکڑے ہوئے تھے 42 اور معسیاہ، سِمعیاہ، اِلیعزر، عُزّی، یہوحنان، مَلکیاہ، عِیلام اور عزر بھی وہاں موجود تھے۔ گلوکاروں نے اِزراخیاہ کی نگرانی میں اُونچی آواز میں گیت گائے۔
43 اُس دن لوگوں نے بہت ساری قربانیاں پیش کیں اور جشن منایا کیونکہ سچے خدا نے اُنہیں بےحد خوشی بخشی تھی۔ عورتوں اور بچوں نے بھی خوشی منائی۔ یروشلم میں ہونے والے اِس جشن کی آواز دُور دُور تک سنائی دے رہی تھی۔
44 اُس دن کچھ آدمیوں کو اُن گوداموں کا نگران مقرر کِیا گیا جن میں عطیات، پہلی پیداوار اور دسواں حصہ* رکھا جاتا تھا۔ اِن گوداموں میں لوگوں کو شہروں کے کھیتوں سے کاہنوں اور لاویوں کے لیے اُتنا حصہ لانا تھا جتنا شریعت میں ٹھہرایا گیا تھا کیونکہ خدمت کرنے والے کاہنوں اور لاویوں کی وجہ سے یہوداہ میں بہت خوشی منائی گئی تھی۔ 45 کاہن اور لاوی اپنے خدا کے حضور اپنی ذمےداریاں اور پاک صاف کرنے کا فرض نبھانے لگے اور گلوکار اور دربان بھی اپنی ذمےداریاں نبھانے لگے جیسے داؤد اور اُن کے بیٹے سلیمان نے ہدایت کی تھی۔ 46 کافی عرصہ پہلے داؤد اور آسَف کے زمانے میں گلوکاروں کے لیے اور خدا کی حمد اور شکرگزاری کے گیتوں کے لیے ہدایتکار* ہوا کرتے تھے۔ 47 زِرُبّابل کے زمانے اور نحمیاہ کے زمانے میں سب اِسرائیلی گلوکاروں اور دربانوں کو روزانہ اُن کی ضرورت کے مطابق چیزیں دیتے تھے۔ وہ لاویوں کے لیے بھی الگ سے حصہ رکھتے تھے اور لاوی ہارون کی اولاد کے لیے الگ سے حصہ رکھتے تھے۔
13 اُس دن لوگوں کو موسیٰ کی کتاب پڑھ کر سنائی گئی۔ اُس میں لکھا تھا کہ کوئی بھی عمونی یا موآبی کبھی سچے خدا کی جماعت میں داخل نہیں ہو سکتا 2 کیونکہ اُنہوں نے اِسرائیلیوں کو روٹی اور پانی نہیں دیا تھا بلکہ بلعام کو پیسے دیے تھے تاکہ وہ اُن پر لعنت بھیجے لیکن ہمارے خدا نے اُس لعنت کو برکت میں بدل دیا۔ 3 جیسے ہی اُن لوگوں نے شریعت کی باتیں سنیں، اُنہوں نے اُن سب لوگوں کو اِسرائیلیوں سے الگ کرنا شروع کر دیا جو غیرقوم* تھے۔
4 اِس سے پہلے ہمارے خدا کے گھر* کے گوداموں* کے نگران کاہن اِلیاسب تھے جو طوبیاہ کے رشتےدار تھے۔ 5 اِلیاسب نے ایک بڑا گودام* طوبیاہ کو دے رکھا تھا جہاں پہلے اناج کا نذرانہ، لوبان، ہیکل کا سامان، اناج کا دسواں حصہ،* نئی مے اور تیل رکھا جاتا تھا جو لاویوں، گلوکاروں اور دربانوں کے لیے مقرر تھا۔ اِس کے علاوہ وہاں کاہنوں کے لیے عطیات بھی رکھے جاتے تھے۔
6 اُس سارے عرصے کے دوران مَیں یروشلم میں نہیں تھا کیونکہ مَیں بابل کے بادشاہ ارتخششتا کی حکمرانی کے 32ویں سال میں بادشاہ کے پاس چلا گیا تھا۔ کچھ وقت بعد مَیں نے بادشاہ سے چھٹی مانگی۔ 7 پھر مَیں یروشلم واپس آیا اور مَیں نے دیکھا کہ اِلیاسب نے طوبیاہ کو سچے خدا کے گھر کے صحن میں ایک گودام دے کر کتنی بُری حرکت کی ہے۔ 8 یہ بات مجھے بالکل گوارا نہیں ہوئی اِس لیے مَیں نے طوبیاہ کے گھر کا سارا سامان گودام* سے باہر پھینک دیا۔ 9 اِس کے بعد میرے حکم پر گوداموں* کی صفائی کی گئی اور مَیں نے سچے خدا کے گھر کا سامان، اناج کا نذرانہ اور لوبان واپس وہاں رکھ دیا۔
10 مجھے یہ بھی پتہ چلا کہ لاویوں کو اُن کا حصہ نہیں دیا جا رہا اِس لیے لاوی اور گلوکار اپنی خدمت چھوڑ کر اپنے اپنے کھیتوں میں چلے گئے ہیں۔ 11 تب مَیں نے نائب حاکموں کو ڈانٹا اور اُن سے کہا: ”سچے خدا کے گھر کو نظرانداز کیوں کِیا گیا؟“ پھر مَیں نے اُن لوگوں کو اِکٹھا کِیا اور اُنہیں دوبارہ اُن کی ذمےداری پر مقرر کِیا۔ 12 اِس کے بعد یہوداہ کے سب لوگ اناج کا دسواں حصہ، نئی مے اور تیل گوداموں میں لائے۔ 13 پھر مَیں نے کاہن سِلمیاہ، نقلنویس صدوق اور لاویوں میں سے فِدایاہ کو گوداموں کا نگران مقرر کِیا اور زکُور کے بیٹے اور متنیاہ کے پوتے حنان اُن کے مددگار تھے کیونکہ اِن سب آدمیوں کو بھروسےمند سمجھا جاتا تھا۔ یہ اُن کی ذمےداری تھی کہ وہ اپنے بھائیوں کو اُن کا حصہ دیں۔
14 اَے میرے خدا! اِس کام کی وجہ سے مجھے یاد رکھنا اور میرے اُن کاموں کو نہ بھولنا جو مَیں نے اٹوٹ محبت کی وجہ سے اپنے خدا کے گھر اور اُس میں کی جانے والی خدمت* کے حوالے سے کیے ہیں۔
15 اُن دنوں میں مَیں نے دیکھا کہ یہوداہ میں لوگ سبت کے دن حوض میں انگور روند رہے ہیں، اناج کے ڈھیر گدھوں پر لاد کر لا رہے ہیں اور مے، انگور، اِنجیر اور ہر طرح کی چیزیں یروشلم میں لا رہے ہیں۔ اِس لیے مَیں نے اُنہیں خبردار کِیا کہ وہ اُس دن کوئی سامان نہ بیچیں۔* 16 شہر میں رہنے والے صُوری، مچھلی اور ہر طرح کی چیزیں لا کر سبت کے دن یہوداہ کے لوگوں اور یروشلم میں رہنے والے لوگوں کو بیچ رہے تھے۔ 17 اِس لیے مَیں نے یہوداہ کے نوابوں کو ڈانٹا اور اُن سے کہا: ”آپ لوگ کتنا بُرا کام کر رہے ہو؟ آپ تو سبت کے دن کو ہی ناپاک کر رہے ہو! 18 آپ کے باپدادا نے بھی تو یہی کِیا تھا نا؟ اِسی لیے تو ہمارا خدا ہم پر اور اِس شہر پر یہ ساری مصیبت لایا ہے۔ اب آپ سبت کے دن کو ناپاک کر کے اِسرائیل کے خلاف اُس کے غصے کو اَور بھڑکا رہے ہو۔“
19 سبت کا دن شروع ہونے سے پہلے جیسے ہی یروشلم کے دروازوں پر شام کے سائے گہرے ہونے لگے، مَیں نے حکم دیا کہ دروازوں کو بند کر دیا جائے۔ مَیں نے یہ بھی کہا کہ اُنہیں سبت کا دن ختم ہونے تک نہ کھولا جائے۔ مَیں نے اپنے کچھ خادم دروازوں پر تعینات کیے تاکہ سبت کے دن کوئی بھی سامان شہر کے اندر نہ لایا جائے۔ 20 اِس لیے تاجروں اور ہر طرح کا سامان بیچنے والوں نے ایک دو راتیں یروشلم سے باہر گزاریں۔ 21 پھر مَیں نے اُنہیں خبردار کرتے ہوئے اُن سے کہا: ”تُم لوگ دیوار کے سامنے رات کیوں گزار رہے ہو؟ اگر تُم نے دوبارہ ایسا کِیا تو مجھے زبردستی تمہیں یہاں سے نکالنا پڑے گا۔“ اُس کے بعد سے وہ سبت کے دن وہاں نہیں آئے۔
22 مَیں نے لاویوں سے کہا کہ وہ باقاعدگی سے خود کو پاک کریں اور آ کر دروازوں پر پہرا دیں تاکہ سبت کے دن کو پاک رکھا جا سکے۔ اَے میرے خدا! میرے اِس کام کو بھی یاد رکھنا اور اپنی بےاِنتہا اٹوٹ محبت کی وجہ سے مجھ پر رحم کرنا۔
23 اُس زمانے میں مَیں نے یہ بھی دیکھا کہ یہودیوں نے اشدودی، عمونی اور موآبی عورتوں سے شادیاں کر لی تھیں۔* 24 اُن کے آدھے بچے اشدودی زبان بولتے تھے اور آدھے بچے فرق فرق قوموں کی زبانیں بولتے تھے۔ لیکن اُن میں سے کسی کو بھی یہودیوں کی زبان نہیں آتی تھی۔ 25 اِس لیے مَیں نے اُنہیں ڈانٹا اور اُن پر لعنت بھیجی۔ مَیں نے اُن میں سے کچھ آدمیوں کو مارا اور اُن کے بال کھینچے۔ مَیں نے اُنہیں خدا کی قسم دِلا کر کہا: ”تُم نہ تو اُن کے بیٹوں کو اپنی بیٹیاں دینا اور نہ اپنے بیٹوں کے لیے یا اپنے لیے اُن کی بیٹیاں لینا۔ 26 کیا اِسرائیل کے بادشاہ سلیمان نے بھی اِسی وجہ سے گُناہ نہیں کِیا تھا؟ کسی بھی قوم میں اُن جیسا کوئی بادشاہ نہیں تھا۔ اُن کا خدا اُن سے پیار کرتا تھا اِس لیے اُس نے اُنہیں سارے اِسرائیل کا بادشاہ بنایا لیکن اُن کی غیرقوم بیویوں نے اُن سے بھی گُناہ کرا دیا۔ 27 یقین نہیں ہوتا کہ تُم لوگ بھی غیرقوم عورتوں سے شادیاں کر کے ہمارے خدا سے بےوفائی کر رہے ہو اور اِتنا بڑا گُناہ کر رہے ہو!“
28 کاہنِاعظم اِلیاسب کے بیٹے یویدع کا ایک بیٹا سَنبلّط حورونی کا داماد تھا۔ اِس لیے مَیں نے اُسے اپنے پاس سے بھگا دیا۔
29 اَے میرے خدا! اُنہیں یاد رکھ کیونکہ اُنہوں نے کہانت اور کاہنوں اور لاویوں کے ساتھ باندھے گئے عہد کو ناپاک کِیا ہے۔
30 مَیں نے اُنہیں غیرقوموں کے ہر طرح کے اثر سے پاک کِیا۔ مَیں نے کاہنوں اور لاویوں کو خدمت کے لیے مقرر کِیا اور ہر ایک کو اُس کی ذمےداری دی 31 اور یہ اِنتظام کِیا کہ مقررہ وقت پر لکڑی اور فصل کی پہلی پیداوار لائی جائے۔
اَے میرے خدا! مجھے یاد رکھ اور مجھ پر کرم فرما!
معنی: ”یاہ تسلی دیتا ہے۔“
یعنی فارس کے بادشاہ ارتخششتا کی حکمرانی کے 20ویں سال میں
”اِضافی مواد“ میں حصہ 15.2 کو دیکھیں۔
یا ”سُوسا“
یا ”محل“
یا ”ضلعے“
یا ”تیرا خوف رکھا“
یا ”آگاہی“
لفظی ترجمہ: ”آسمان کے کنارے“
”اِضافی مواد“ میں حصہ 15.2 کو دیکھیں۔
یعنی دریائےفرات کے مغرب
یا ”جنگل“
لفظی ترجمہ: ”گھر“
لفظی ترجمہ: ”خادم“
یا ”راکھ کے ڈھیر کے دروازے“
لفظی ترجمہ: ”اپنے ہاتھوں کو مضبوط کِیا۔“
لفظی ترجمہ: ”خادم“
یا ”مخصوص“
لفظی ترجمہ: ”کے لیے گردن نہیں جھکائی۔“
یعنی دریائےفرات کے مغرب
یا ”مرہم“
یا ”پتھروں کا فرش“
یا ”راکھ کے ڈھیر کے دروازے“
تقریباً 445 میٹر (1460 فٹ)۔ ”اِضافی مواد“ میں حصہ 14.2 کو دیکھیں۔
یا ”راکھ کے ڈھیر کے دروازے“
سِلح کا معنی ہے: ”نہر۔“ یہ ایک تالاب تھا جس میں ایک نہر یا نالے کے ذریعے پانی آتا تھا۔
پُشتہ کسی جگہ کے گِرد بنایا جانے والا حفاظتی بند یا دیوار ہوتی تھی۔
یا ”یردن“
یا شاید ”قریبی علاقے“
یا ”نتنیم۔“ لفظی ترجمہ: ”دیے ہوئے لوگوں“
یا ”نتنیم۔“ لفظی ترجمہ: ”دیے ہوئے لوگوں“
لفظی ترجمہ: ”کو نہ ڈھانک“
یا ”سامان ڈھونے والوں“
لفظی ترجمہ: ”دس بار“
یا ”گہرا احترام کِیا“
لفظی ترجمہ: ”یہوداہ کے سارے گھرانے“
لفظی ترجمہ: ”سینگ“
لفظی ترجمہ: ”سینگ“
لفظی ترجمہ: ”ہمارے جسم ہمارے بھائیوں کے جسم جیسے ہیں“
لفظی ترجمہ: ”واپس خرید“
لفظی ترجمہ: ”واپس خریدنا“
یا ”1 فیصد“ یعنی ماہانہ
یا ”ایسا ہی ہو!“
ایک مِثقال 4.11 گرام (367.0 اونس) کے برابر تھا۔ ”اِضافی مواد“میں حصہ 14.2 کو دیکھیں۔
یا ”میرے لیے“
لفظی ترجمہ: ”اپنے دل سے“
لفظی ترجمہ: ”کے ہاتھ ڈھیلے پڑ جائیں گے“
لفظی ترجمہ: ”میرے ہاتھوں کو مضبوط کر۔“
”اِضافی مواد“ میں حصہ 15.2 کو دیکھیں۔
لفظی ترجمہ: ”وہ اپنی ہی نظروں میں بہت گِر گئیں“
یا ”ضلعے“
یا ”باشندے“
یا ”نتنیم۔“ لفظی ترجمہ: ”دیے ہوئے لوگ“
یا ”نتنیم۔“ لفظی ترجمہ: ”دیے ہوئے لوگوں“
یا ”ناپاک قرار دے کر کہانت سے ہٹا دیا گیا۔“
یا ”تِرشاتا۔“ یہ صوبے کے ناظم کو دیا گیا فارسی خطاب تھا۔
یا ”تِرشاتا۔“ یہ صوبے کے ناظم کو دیا گیا فارسی خطاب تھا۔
مانا جاتا ہے کہ دِرہم فارسی سونے کے سِکے درِیک کے برابر تھا جس کا وزن 4.8 گرام (27.0 اونس) تھا۔ یہ وہ دِرہم نہیں تھا جس کا یونانی صحیفوں میں ذکر ہوا ہے۔ ”اِضافی مواد“ میں حصہ 14.2 کو دیکھیں۔
عبرانی صحیفوں میں ذکرکردہ ایک مینا 570 گرام (35.18 اونس) کے برابر تھا۔ ”اِضافی مواد“میں حصہ 14.2 کو دیکھیں۔
یا ”نتنیم۔“ لفظی ترجمہ: ”دیے ہوئے لوگ“
یا ”ایسا ہی ہو!“
یا ”اُنہوں نے اِس طرح پڑھا کہ سننے والوں کو سمجھ آئے۔“
یا ”تِرشاتا۔“ یہ صوبے کے ناظم کو دیا گیا فارسی خطاب تھا۔
لفظی ترجمہ: ”چربی والی چیزیں“
لفظی ترجمہ: ”آپ کا قلعہ“
یا ”عارضی پناہگاہوں“
لفظی ترجمہ: ”دن کے ایک چوتھائی حصے“
یا ”ازل سے ابد تک“
لفظی ترجمہ: ”فوج،“
لفظی ترجمہ: ”فوج“
یا ”بحیرۂقلزم“
1سم 17:28 کے فٹنوٹ کو دیکھیں۔
یا ”نیک“
یا ”قابلِبھروسا قوانین“
لفظی ترجمہ: ”دینے کے لیے تُو نے ہاتھ اُٹھایا تھا۔“
1سم 17:28 کے فٹنوٹ کو دیکھیں۔
لفظی ترجمہ: ”اور اپنی گردن اکڑا لی“
لفظی ترجمہ: ”اُنہوں نے اپنی گردن اکڑا لی“
یا ”ہمدرد“
یا ”قوت۔“ لفظی ترجمہ: ”اچھی روح“
لفظی ترجمہ: ”کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا۔“
یا ”اُنہیں کچلتے تھے۔“
1سم 17:28 کے فٹنوٹ کو دیکھیں۔
لفظی ترجمہ: ”اور اپنی گردن اکڑا لی“
یا ”ہمدرد“
یا ”تیرا خوف رکھا“
یا ”کو معمولی نہ سمجھ“
یا ”نیک“
یا ”آگاہیوں“
یا ”تِرشاتا۔“ یہ صوبے کے ناظم کو دیا گیا فارسی خطاب تھا۔
یا ”نتنیم۔“ لفظی ترجمہ: ”دیے ہوئے لوگ“
یا شاید ”جن کی اِتنی عمر تھی کہ وہ سمجھ سکیں،“
یا ”ہیکل“
ایک مِثقال 4.11 گرام (367.0 اونس) کے برابر تھا۔ ”اِضافی مواد“ میں حصہ 14.2 کو دیکھیں۔
یعنی نذرانے کی روٹیوں
یا ”کھانے کے کمروں“
یا ”دہیکی“
یا ”کھانے کے کمروں“
یا ”کھانے کے کمروں“
یا ”ضلعے“
یا ”نتنیم۔“ لفظی ترجمہ: ”دیے ہوئے لوگ“
یا ”ہیکل“
یا ”نتنیم۔“ لفظی ترجمہ: ”دیے ہوئے لوگ“
یا ”نتنیم۔“ لفظی ترجمہ: ”دیے ہوئے لوگوں“
یا ”اُس کے ماتحت“
یا ”اُس کے ماتحت“
یا ”اُس کے ماتحت“
یا ”اُس کے ماتحت“
یا ”تک خیمے لگا لیے۔“
یا ”اُس کے ماتحت“
یا شاید ”اور اونو اور کاریگروں کی وادی میں۔“
یا شاید ”عبادت کے دوران“
ایسا لگتا ہے کہ عبرانی نسخوں میں یہاں کوئی نام نہیں ہے۔
ایک قسم کا تاردار ساز
یا ”تربیتیافتہ گلوکار“
یعنی اُردن (یردن) کے آسپاس کے علاقے
یا ”راکھ کے ڈھیر کے دروازے“
یا ”سامنے“
یا ”دہیکی“
یا ”سربراہ“
یا ”ملیجُلی نسل“
یا ”ہیکل“
یا ”کھانے کے کمروں“
یا ”کھانے کا کمرا“
یا ”دہیکی،“
یا ”کھانے کے کمرے“
یا ”کھانے کے کمروں“
یا ”اُس کی دیکھبھال“
یا شاید ”مَیں نے اُس دن اُنہیں خبردار کِیا کہ کوئی سامان نہ بیچیں۔“
یا ”کو اپنے گھروں میں لے گئے تھے۔“