یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ت‌ن‌د عزرا 1:‏1-‏10:‏44
  • عزرا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • عزرا
  • کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
عزرا

عزرا

1 فارس کے بادشاہ خورس کی حکمرانی کے پہلے سال میں*‏ یہوواہ نے اُس کے دل*‏ کو اُبھارا کہ وہ اپنی پوری سلطنت میں ایک اِعلان کروائے تاکہ یہوواہ کی وہ بات پوری ہو جو اُس نے یرمیاہ کے ذریعے فرمائی تھی۔ فارس کے بادشاہ خورس نے اُس اِعلان کو لکھوایا بھی۔ اور وہ اِعلان یہ تھا:‏

2 ‏”‏فارس کے بادشاہ خورس نے کہا ہے:‏ ”‏آسمان کے خدا یہوواہ نے زمین کی ساری سلطنتیں میرے حوالے کر دی ہیں اور مجھے حکم دیا ہے کہ مَیں یہوداہ کے شہر یروشلم میں اُس کے لیے ایک گھر بناؤں۔ 3 آپ میں سے جو بھی اُس کی قوم میں سے ہے، اُس کا خدا اُس کے ساتھ ہو اور وہ یہوداہ کے شہر یروشلم جا کر دوبارہ سے اِسرائیل کے خدا یہوواہ کا گھر بنائے۔ وہی سچا خدا ہے جس کا گھر یروشلم میں تھا۔‏*‏ 4 اِس پوری سلطنت میں جہاں کہیں یہودی پردیسیوں کے طور پر رہ رہے ہیں، وہاں اُن کے پڑوسی*‏ اُن کی مدد کرنے کے لیے اُنہیں سونا، چاندی، مویشی اور دوسری چیزیں دیں اور سچے خدا کے گھر کے لیے جو یروشلم میں تھا، اپنی خوشی سے نذرانے بھی دیں۔“‏“‏

5 پھر یہوداہ اور بِنیامین کے آبائی خاندانوں کے سربراہ اور کاہن اور لاوی یعنی وہ سب جن کے دل*‏ کو سچے خدا نے اُبھارا، تیاری کرنے لگے تاکہ یہوواہ کے گھر جائیں جو یروشلم میں تھا اور اُسے دوبارہ بنائیں۔ 6 اُن کے آس‌پاس رہنے والے سب لوگوں نے اُن کی مدد کرنے*‏ کے لیے اُنہیں چاندی اور سونے کی چیزیں، مویشی، قیمتی چیزیں اور دوسرا سامان دیا اور اپنی خوشی سے خدا کے گھر کے لیے نذرانے بھی دیے۔‏

7 بادشاہ خورس نے یہوواہ کے گھر کی اُن چیزوں کو بھی نکالا جو نبوکدنضر نے یروشلم سے لا کر اپنے خدا کے مندر میں رکھ دی تھیں۔ 8 فارس کے بادشاہ خورس نے اُنہیں خزانچی مِترِدات کی نگرانی میں نکلوایا اور مِترِدات نے اُن چیزوں کی فہرست بنا کر یہوداہ کے سردار شیس‌بضر*‏ کو دی۔‏

9 اُن چیزوں کی فہرست یہ تھی:‏ سونے کی 30 ٹوکریاں، چاندی کی 1000 ٹوکریاں، 29 دوسرے برتن 10 سونے کی 30 کٹوریاں، چاندی کی 410 کٹوریاں اور 1000 دوسری چیزیں۔ 11 سونے اور چاندی کی اِن چیزوں کی کُل تعداد 5400 تھی۔ جب قیدیوں کو بابل سے یروشلم لے جایا گیا تو شیس‌بضر اِن سب چیزوں کو ساتھ لے گئے۔‏

2 صوبے*‏ کے یہ لوگ اُن قیدیوں میں سے تھے جنہیں بابل کا بادشاہ نبوکدنضر قیدی بنا کر بابل لے گیا تھا اور جو بعد میں یروشلم اور یہوداہ میں اپنے اپنے شہروں کو لوٹ آئے 2 یعنی وہ لوگ جو زِرُبّابل، یشوع، نحمیاہ، سِرایاہ، رعلایاہ، مردکی، بِلشان، مِسفار، بِگوَی، رِحوم اور بعناہ کے ساتھ آئے تھے:‏

لوٹنے والے اِسرائیلی آدمیوں کی تعداد یہ تھی:‏ 3 پَرعوس کے 2172 بیٹے، 4 سِفطیاہ کے 372 بیٹے، 5 اَرخ کے 775 بیٹے، 6 یشوع اور یوآب کے گھرانوں سے پخت‌موآب کے 2812 بیٹے، 7 عِیلام کے 1254 بیٹے، 8 زتُو کے 945 بیٹے، 9 زکی کے 760 بیٹے، 10 بانی کے 642 بیٹے، 11 ببی کے 623 بیٹے، 12 عزجاد کے 1222 بیٹے، 13 ادونِقام کے 666 بیٹے، 14 بِگوَی کے 2056 بیٹے، 15 عدین کے 454 بیٹے، 16 حِزقیاہ کے گھرانے سے اطیر کے 98 بیٹے، 17 بِضی کے 323 بیٹے، 18 یورہ کے 112 بیٹے، 19 حاشوم کے 223 بیٹے، 20 جِبّار کے 95 بیٹے، 21 بیت‌لحم کے 123 بیٹے،‏*‏ 22 نطوفہ کے 56 آدمی، 23 عنتوت کے 128 آدمی، 24 عزماوِت کے 42 بیٹے، 25 قِریت‌یعریم، کِفیرہ اور بِیروت کے 743 بیٹے،‏*‏ 26 رامہ اور جبع کے 621 بیٹے،‏*‏ 27 مِکماس کے 122 آدمی، 28 بیت‌ایل اور عی کے 223 آدمی، 29 نبو کے 52 بیٹے، 30 مجبیس کے 156 بیٹے، 31 دوسرے عِیلام کے 1254 بیٹے، 32 حارِم کے 320 بیٹے، 33 لود، حادِید اور اونو کے 725 بیٹے، 34 یریحو کے 345 بیٹے*‏ 35 اور سِناہ کے 3630 بیٹے۔‏

36 لوٹنے والے کاہنوں کی تعداد یہ تھی:‏ یشوع کے گھرانے سے یدعیاہ کے 973 بیٹے، 37 اِمّیر کے 1052 بیٹے، 38 فشحور کے 1247 بیٹے 39 اور حارِم کے 1017 بیٹے۔‏

40 لوٹنے والے لاویوں کی تعداد یہ تھی:‏ ہوداویاہ کے گھرانے سے یشوع اور قدمی‌ایل کے 74 بیٹے۔ 41 لوٹنے والے گلوکاروں کی تعداد یہ تھی:‏ آسَف کے 128 بیٹے۔ 42 دربانوں کی نسل سے جو آدمی لوٹے، وہ یہ تھے:‏ سلّوم کے بیٹے، اطیر کے بیٹے، طلمون کے بیٹے، عقّوب کے بیٹے، خطیطا کے بیٹے اور شوبائی کے بیٹے یعنی کُل ملا کر 139 آدمی۔‏

43 لوٹنے والے ہیکل کے خدمت‌گار*‏ یہ تھے:‏ ضیحا کے بیٹے، حسوفا کے بیٹے، طبعوت کے بیٹے، 44 قِروس کے بیٹے، سیعہا کے بیٹے، فدون کے بیٹے، 45 لِبانہ کے بیٹے، حجابہ کے بیٹے، عقّوب کے بیٹے، 46 حجاب کے بیٹے، شلمی کے بیٹے، حنان کے بیٹے، 47 جِدّیل کے بیٹے، جحر کے بیٹے، ریایاہ کے بیٹے، 48 رِضین کے بیٹے، نِقودا کے بیٹے، جزّام کے بیٹے، 49 عُزّا کے بیٹے، فاسح کے بیٹے، بِسی کے بیٹے، 50 اسناہ کے بیٹے، معونیم کے بیٹے، نِفوسیم کے بیٹے، 51 بقبوق کے بیٹے، حقوفا کے بیٹے، حرحور کے بیٹے، 52 بضلوت کے بیٹے، محیدا کے بیٹے، حرشا کے بیٹے، 53 برقوس کے بیٹے، سیسرا کے بیٹے، تامح کے بیٹے، 54 نِفیاہ کے بیٹے اور خطیفا کے بیٹے۔‏

55 سلیمان کے خادموں کے جو بیٹے لوٹے، وہ یہ تھے:‏ سوطی کے بیٹے، سوفرت کے بیٹے، فرودا کے بیٹے، 56 یعلہ کے بیٹے، درقون کے بیٹے، جِدّیل کے بیٹے، 57 سِفطیاہ کے بیٹے، خطیل کے بیٹے، فوکرِت‌ضبائم کے بیٹے اور آمی کے بیٹے۔‏

58 ہیکل کے خدمت‌گاروں*‏ اور سلیمان کے خادموں کے بیٹوں کی تعداد 392 تھی۔‏

59 تِل‌ملح، تِل‌حرسا، کِرُوب، ادّون اور اِمّیر سے جو لوگ لوٹے، وہ یہ ثابت نہیں کر پائے کہ اُن کا یا اُن کے آبائی خاندان کا تعلق اِسرائیلی قوم سے ہے۔ وہ لوگ یہ تھے:‏ 60 دِلایاہ، طوبیاہ اور نِقودا کے 652 بیٹے۔ 61 اور کاہنوں کے بیٹوں میں سے یہ تھے:‏ حبایاہ کے‌بیٹے، ہقّوض کے بیٹے اور برزِلّی کے بیٹے۔ برزِلّی نے برزِلّی جِلعادی کی بیٹیوں میں سے ایک سے شادی کر کے اپنے سُسر کا نام اپنا لیا تھا۔ 62 اُن لوگوں نے اپنا سلسلۂ‌نسب ثابت کرنے کے لیے دستاویزات میں چھان‌بین کی لیکن اُنہیں وہاں اپنے خاندانوں کے نام نہیں ملے۔ اِس لیے اُنہیں کہانت کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا۔‏*‏ 63 ناظم*‏ نے اُن سے کہا کہ وہ تب تک مُقدس‌ترین چیزوں میں سے نہیں کھا سکتے جب تک کوئی ایسا کاہن موجود نہ ہو جو اُوریم‌وتُمّیم کے ذریعے خدا کی مرضی جان سکے۔‏

64 لوٹنے والی پوری جماعت کی تعداد 42 ہزار 360 تھی۔ 65 اُن کے ساتھ اُن کے 7337 غلام مرد اور عورتیں اور 200 گلوکار اور گلوکارائیں بھی لوٹیں۔ 66 اُن کے پاس 736 گھوڑے، 245 خچر، 67 435 اُونٹ اور 6720 گدھے تھے۔‏

68 جب وہ لوگ یروشلم میں موجود یہوواہ کے گھر پہنچے تو آبائی خاندانوں کے کچھ سربراہوں نے سچے خدا کے گھر کے لیے اپنی خوشی سے نذرانے پیش کیے تاکہ اِسے دوبارہ سے اُسی جگہ بنائیں جہاں یہ تھا۔ 69 اُنہوں نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق سونے کے 61 ہزار دِرہم،‏*‏ 5000 مینا*‏ چاندی اور کاہنوں کے لیے 100 چوغے خزانے میں عطیہ کیے۔ 70 کاہن، لاوی، گلوکار، دربان، ہیکل کے خدمت‌گار*‏ اور کچھ اَور لوگ اپنے اپنے شہروں میں بس گئے اور سب اِسرائیلی اپنے اپنے شہروں میں بس گئے۔‏

3 جب ساتواں مہینہ شروع ہوا تو جو اِسرائیلی اپنے اپنے شہروں میں تھے، وہ ایک ہو کر یروشلم میں جمع ہوئے۔ 2 یہوصدق کے بیٹے یشوع اور اُن کے ساتھی کاہن اور سیالتی‌ایل کے بیٹے زِرُبّابل اور اُن کے بھائی کام میں لگ گئے اور اِسرائیل کے خدا کے لیے قربان‌گاہ بنائی تاکہ اُس پر بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کریں جیسا سچے خدا کے بندے موسیٰ کی شریعت میں لکھا ہے۔‏

3 اُنہوں نے آس‌پاس کی قوموں کے ڈر کے باوجود قربان‌گاہ کو اُس کی پُرانی جگہ پر بنایا اور اُس پر یہوواہ کے حضور بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کرنے لگے یعنی صبح اور شام کی بھسم ہونے والی قربانیاں۔ 4 پھر اُنہوں نے جھونپڑیوں*‏ کی عید منائی جیسا کہ شریعت میں لکھا ہے اور ہر روز اُتنی تعداد میں بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کرنے لگے جتنی پیش کرنے کی ہدایت تھی۔ 5 اِس کے بعد سے وہ باقاعدگی سے بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کرنے لگے۔ وہ نئے چاند کے موقعے پر اور یہوواہ کی سب عیدوں کے موقعے پر بھی نذرانے پیش کرنے لگے۔ اِس کے علاوہ لوگ اپنی خوشی سے یہوواہ کے لیے نذرانے پیش کرنے لگے۔ 6 وہ ساتویں مہینے کے پہلے دن سے یہوواہ کے لیے بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کرنے لگے حالانکہ ابھی تک یہوواہ کی ہیکل کی بنیاد نہیں ڈالی گئی تھی۔‏

7 لوگوں نے پتھر کاٹنے والوں اور کاریگروں کو پیسے دیے۔ اِس کے علاوہ وہ صیدانیوں اور صُوریوں کو دیودار کی اُس لکڑی کے بدلے کھانے پینے کی چیزیں اور تیل دیتے تھے جو وہ فارس کے بادشاہ خورس کی اِجازت سے سمندر کے راستے لبنان سے یافا لاتے تھے۔‏

8 جب لوگ دوسرے سال کے دوسرے مہینے میں یروشلم میں سچے خدا کے گھر آئے تو سیالتی‌ایل کے بیٹے زِرُبّابل، یہوصدق کے بیٹے یشوع اور اُن کے باقی بھائیوں یعنی کاہنوں اور لاویوں نے اور اُن سب نے جو قید سے رِہا ہو کر یروشلم آئے تھے، کام شروع کِیا۔ اُنہوں نے 20 سال اور اِس سے اُوپر کی عمر کے لاویوں کو مقرر کِیا تاکہ وہ یہوواہ کے گھر کے کام کی نگرانی کریں۔ 9 تب یشوع اور اُن کے بیٹے اور اُن کے بھائی، قدمی‌ایل اور اُن کے بیٹے، یہوداہ کے بیٹے اور حنداد کے بیٹے اور اُن کے بیٹوں کے بیٹے اور اُن کے بھائی جو کہ لاوی تھے، مل کر اُن لوگوں کی نگرانی کرنے لگے جو سچے خدا کے گھر میں کام کر رہے تھے۔‏

10 جب مستریوں نے یہوواہ کی ہیکل کی بنیاد ڈالی تو کاہن کاہنوں والا لباس پہنے نرسنگے اُٹھا کر کھڑے ہوئے اور لاویوں میں سے آسَف کے بیٹے جھانجھیں اُٹھا کر کھڑے ہوئے تاکہ یہوواہ کی بڑائی کریں۔ اُنہوں نے ایسا اُس ہدایت کے مطابق کِیا جو اِسرائیل کے بادشاہ داؤد نے دی تھی۔ 11 وہ یہوواہ کی بڑائی کرنے اور اُس کا شکر ادا کرنے کے لیے باری باری یہ گانے لگے:‏ ”‏کیونکہ وہ اچھا ہے۔ اِسرائیل کے لیے اُس کی اٹوٹ محبت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔“‏ پھر سب لوگ اُونچی آواز میں یہوواہ کی بڑائی کرنے لگے کیونکہ یہوواہ کے گھر کی بنیاد ڈالی گئی تھی۔ 12 کاہنوں، لاویوں اور آبائی خاندانوں کے سربراہوں میں سے بہت سے بوڑھے آدمی جنہوں نے پُرانی ہیکل دیکھی تھی، اِس ہیکل کی بنیاد ڈلتے دیکھ کر اُونچی آواز میں رونے لگے جبکہ بہت سے دوسرے لوگ خوشی کے مارے اُونچی آواز میں للکارنے لگے۔ 13 یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کون خوشی کے مارے للکار رہا ہے اور کون رو رہا ہے کیونکہ لوگ اِتنی اُونچی اُونچی للکار رہے تھے کہ اُن کی آواز دُور دُور تک سنائی دے رہی تھی۔‏

4 جب یہوداہ اور بِنیامین کے دُشمنوں نے سنا کہ قید سے واپس آنے والے لوگ اِسرائیل کے خدا یہوواہ کی ہیکل بنا رہے ہیں 2 تو وہ فوراً زِرُبّابل اور آبائی خاندانوں کے سربراہوں کے پاس گئے اور اُن سے کہا:‏ ”‏ہمیں بھی اپنے ساتھ یہ کام کرنے دو کیونکہ آپ کی طرح ہم بھی آپ کے خدا کی عبادت*‏ کرتے ہیں۔ ہم اُس خدا کے حضور اسور کے بادشاہ اِسرحدّون کے زمانے سے جو ہمیں یہاں لائے تھے، قربانیاں پیش کرتے آ رہے ہیں۔“‏ 3 لیکن زِرُبّابل، یشوع اور اِسرائیل کے آبائی خاندانوں کے باقی سربراہوں نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ کو کوئی حق نہیں کہ آپ ہمارے ساتھ ہمارے خدا کے لیے گھر بنائیں۔ ہم اکیلے ہی اِسرائیل کے خدا یہوواہ کے لیے گھر بنائیں گے جیسے فارس کے بادشاہ خورس نے ہمیں حکم دیا ہے۔“‏

4 آس‌پاس کی قوموں کے لوگ لگاتار یہوداہ کے لوگوں کی ہمت توڑ رہے تھے*‏ اور اُنہیں بے‌حوصلہ کر رہے تھے تاکہ وہ خدا کا گھر نہ بنائیں۔ 5 وہ فارس کے بادشاہ خورس کے زمانے سے لے کر فارس کے بادشاہ دارا کی حکمرانی شروع ہونے تک مُشیروں کو پیسے دیتے رہے تاکہ وہ یہودیوں کے منصوبوں کو ناکام بنانے کی کوشش کرتے رہیں۔ 6 اُنہوں نے اخسویرس کی حکمرانی کے شروع میں یہوداہ اور یروشلم میں رہنے والے لوگوں کے خلاف ایک خط لکھا اور اُس میں اُن پر اِلزام لگایا۔ 7 اور فارس کے بادشاہ ارتخششتا کے زمانے میں بِشلام، مِترِدات، طابِیل اور اُس کے باقی ساتھیوں نے بادشاہ ارتخششتا کو ایک خط لکھا۔ اُنہوں نے اُس خط کا ترجمہ اَرامی زبان میں کِیا اور اُسے اَرامی حروف میں لکھا۔‏*‏

8 *‏ اعلیٰ سرکاری افسر رِحوم اور مُنشی شِمسی نے بادشاہ ارتخششتا کو یروشلم کے خلاف ایک خط لکھا جس میں لکھا تھا:‏ 9 ‏(‏یہ خط اعلیٰ سرکاری افسر رِحوم اور مُنشی شِمسی اور اُن کے باقی ساتھیوں کی طرف سے تھا یعنی قاضیوں، نائب ناظموں، مُنشیوں، اِرِک کے لوگوں، بابلیوں، سُوسا کے رہنے والوں یعنی عِیلامیوں 10 اور باقی قوموں کی طرف سے جنہیں عظیم اور مُعزز اسنفر قیدی بنا کر لے گئے تھے اور سامریہ کے شہروں میں بسا دیا تھا اور اُن لوگوں کی طرف سے جو بڑے دریا کے پار*‏ رہتے ہیں۔ 11 یہ اُس خط کی ایک نقل ہے جو اُنہوں نے بادشاہ کو بھیجا۔)‏

‏”‏بڑے دریا کے پار رہنے والے خادموں کی طرف سے بادشاہ ارتخششتا کے نام:‏ 12 بادشاہ کے علم میں یہ بات لائی جاتی ہے کہ جو یہودی آپ کے پاس سے آئے تھے، وہ یروشلم پہنچ چُکے ہیں۔ وہ اِس باغی اور بُرے شہر کو دوبارہ بنا رہے ہیں؛ وہ اِس کی دیواریں تعمیر کر رہے ہیں اور اِس کی بنیادوں کی مرمت کر رہے ہیں۔ 13 ہم بادشاہ کو یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ اگر یہ شہر دوبارہ بن گیا اور اِس کی دیواریں مکمل ہو گئیں تو یہ لوگ نہ تو آپ کو ٹیکس دیں گے، نہ خراج اور نہ راستے کا محصول۔ اِس سے شاہی خزانے کو نقصان ہوگا۔ 14 ہم بادشاہ کا نمک کھاتے ہیں*‏ اور ہم یہ نہیں دیکھ سکتے کہ بادشاہ کا نقصان ہو۔ اِس لیے ہم نے آپ کو یہ خط بھیجا ہے 15 تاکہ آپ سے درخواست کریں کہ آپ اپنے باپ‌دادا کی تاریخ کی کتاب میں تحقیق کریں۔ تاریخ کی کتاب سے آپ کو پتہ چلے گا اور آپ جان جائیں گے کہ یہ شہر باغی شہر ہے اور بادشاہوں اور صوبوں*‏ کے لیے خطرناک رہا ہے اور پُرانے زمانے سے ہی اِس کے لوگ بغاوت کو ہوا دیتے آئے ہیں۔ اِسی لیے اِس شہر کو تباہ کر دیا گیا تھا۔ 16 ہم بادشاہ کے علم میں لا رہے ہیں کہ اگر یہ شہر دوبارہ بن گیا اور اِس کی دیواریں مکمل ہو گئیں تو بڑے دریا کے پار کا علاقہ آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔“‏*‏

17 پھر بادشاہ نے اعلیٰ سرکاری افسر رِحوم اور مُنشی شِمسی اور اُن کے باقی ساتھیوں کو جو سامریہ میں رہ رہے تھے اور بڑے دریا کے پار رہنے والے باقی لوگوں کو یہ جواب بھیجا:‏

‏”‏سلام کے بعد مَیں کہنا چاہتا ہوں کہ 18 جو خط آپ لوگوں نے مجھے بھیجا ہے، اُسے میرے سامنے واضح طور پر پڑھا گیا ہے۔‏*‏ 19 میرے حکم پر تفتیش کی گئی اور یہ پتہ چلا کہ پُرانے زمانے سے ہی یہ شہر بادشاہوں کے خلاف سر اُٹھاتا رہا ہے اور سرکشی اور بغاوت کرتا رہا ہے۔ 20 یروشلم میں ایسے طاقت‌ور بادشاہ رہے ہیں جنہوں نے بڑے دریا کے پار کے پورے علاقے پر حکمرانی کی اور جنہیں ٹیکس، خراج اور راستے کا محصول ادا کِیا جاتا تھا۔ 21 اب ایک حکم جاری کر کے اُن آدمیوں کو کام کرنے سے روک دو اور جب تک مَیں حکم نہ دوں، اِس شہر کو دوبارہ تعمیر نہ کِیا جائے۔ 22 دھیان رہے کہ میرے اِس حکم پر عمل کرنے میں کوئی کوتاہی نہ ہو تاکہ بادشاہ کو مزید نقصان نہ پہنچے۔“‏

23 جب بادشاہ ارتخششتا کے خط کی نقل رِحوم، مُنشی شِمسی اور اُن کے ساتھیوں کے سامنے پڑھی گئی تو وہ فوراً یہودیوں کے پاس یروشلم گئے اور زبردستی اُن کا کام رُکوا دیا۔ 24 اُس وقت خدا کے گھر کا کام جو یروشلم میں تھا، رُک گیا اور یہ فارس کے بادشاہ دارا کی حکمرانی کے دوسرے سال تک بند رہا۔‏

5 پھر حجّی نبی اور اِدّو کے پوتے زکریاہ نبی نے یہوداہ اور یروشلم میں رہنے والے یہودیوں کو خدا کا پیغام سنایا۔ اُنہوں نے اِسرائیل کے خدا کے نام سے نبوّت کی جو اُن کے ساتھ*‏ تھا۔ 2 تب سیالتی‌ایل کے بیٹے زِرُبّابل اور یہوصدق کے بیٹے یشوع خدا کا گھر دوبارہ بنانے لگے جو یروشلم میں تھا اور خدا کے نبی اُن کے ساتھ تھے اور اُن کی مدد کر رہے تھے۔ 3 اُس وقت بڑے دریا کے پار*‏ کے علاقے کے ناظم تتنی اور شِتربوزنی اور اُن کے ساتھی اُن کے پاس آئے اور اُن لوگوں سے پوچھنے لگے:‏ ”‏تُم کس کے حکم سے اِس گھر کو بنا رہے ہو اور اِس کا ڈھانچا مکمل کر رہے ہو؟“‏ 4 پھر اُنہوں نے کہا:‏ ”‏اُن آدمیوں کے نام بتاؤ جو اِس عمارت کو بنا رہے ہیں۔“‏ 5 لیکن خدا یہودیوں کے بزرگوں کے ساتھ تھا*‏ اور اُن آدمیوں نے اُن کا کام نہیں روکا۔ مگر اُنہوں نے دارا کو اِس کی خبر بھیجی اور اِس حوالے سے اُس کے خط کا اِنتظار کرنے لگے۔‏

6 بڑے دریا کے پار کے علاقے کے ناظم تتنی اور شِتربوزنی اور اُس کے ساتھیوں نے جو بڑے دریا کے پار کے علاقے کے نائب ناظم تھے، بادشاہ دارا کو ایک خط بھیجا۔ 7 جو خط اُنہوں نے بھیجا، اُس میں لکھا تھا:‏

‏”‏بادشاہ دارا کے نام:‏

بادشاہ سلامت رہے!‏ 8 بادشاہ کے علم میں یہ بات لائی جاتی ہے کہ ہم یہوداہ کے صوبے*‏ میں عظیم خدا کے گھر گئے تھے۔ اُس گھر کو بڑے بڑے پتھر لگا کر بنایا جا رہا ہے اور دیواروں میں شہتیر لگائے جا رہے ہیں۔ لوگ جوش‌وخروش سے اِس کام میں لگے ہوئے ہیں اور اُن کی کوششوں سے کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ 9 پھر ہم نے اُن کے بزرگوں سے پوچھا:‏ ”‏تُم کس کے حکم سے اِس گھر کو بنا رہے ہو اور اِس کا ڈھانچا مکمل کر رہے ہو؟“‏ 10 ہم نے اُن سے اُن لوگوں کے نام بھی پوچھے تاکہ ہم آپ کو اِس کام کی پیشوائی کرنے والوں کے نام لکھ کر بھیج سکیں۔‏

11 اُنہوں نے ہمیں یہ جواب دیا:‏ ”‏ہم آسمان اور زمین کے خدا کے بندے ہیں اور ہم اُس گھر کو دوبارہ بنا رہے ہیں جسے اِسرائیل کے ایک عظیم بادشاہ نے بہت سال پہلے بنایا تھا۔ 12 لیکن ہمارے باپ‌دادا نے آسمان کے خدا کو غصہ دِلایا۔ اِس لیے اُس نے اُنہیں بابل کے بادشاہ نبوکدنضر کسدی کے حوالے کر دیا جس نے اِس گھر کو ڈھا دیا اور لوگوں کو قیدی بنا کر بابل لے گیا۔ 13 مگر بابل پر اپنی حکمرانی کے پہلے سال میں بادشاہ خورس نے خدا کے اِس گھر کو دوبارہ بنانے کا حکم جاری کِیا۔ 14 اِس کے علاوہ بادشاہ خورس نے بابل کے مندر سے خدا کے گھر کے سونے اور چاندی کے وہ برتن نکالے جنہیں نبوکدنضر یروشلم کی ہیکل سے نکال کر بابل کے مندر لے گیا تھا۔ یہ برتن شیس‌بضر*‏ نامی شخص کو دیے گئے جسے خورس نے ناظم بنایا تھا۔ 15 خورس نے شیس‌بضر سے کہا:‏ ”‏اِن برتنوں کو یروشلم لے جاؤ تاکہ اِنہیں ہیکل میں رکھا جا سکے اور خدا کے گھر کو اِس کی پُرانی جگہ پر دوبارہ بناؤ۔“‏ 16 پھر شیس‌بضر یروشلم آئے اور خدا کے گھر کی بنیادیں رکھیں۔ اِس گھر کی تعمیر کا کام تب سے جاری ہے لیکن یہ اب تک مکمل نہیں ہوا۔“‏

17 اگر بادشاہ سلامت کو مناسب لگے تو بابل کے شاہی خزانے میں رکھی دستاویزات میں چھان‌بین کرائی جائے تاکہ پتہ چل سکے کہ بادشاہ خورس نے یروشلم میں خدا کے گھر کو دوبارہ بنانے کا حکم جاری کِیا تھا یا نہیں اور اِس حوالے سے بادشاہ کا جو بھی فیصلہ ہو، وہ ہمیں بھیجا جائے۔“‏

6 تب بادشاہ دارا نے حکم دیا اور بابل کے خزانہ‌گھر میں رکھی دستاویزات میں چھان‌بین کی گئی۔ 2 اور مادی کے صوبے*‏ اِکبتانا کے قلعے میں ایک طُومار ملا جس میں یہ فرمان لکھا تھا:‏

3 ‏”‏بادشاہ خورس کی حکمرانی کے پہلے سال میں بادشاہ خورس نے یروشلم میں موجود خدا کے گھر کے حوالے سے یہ حکم جاری کِیا:‏ ”‏اِس گھر کو دوبارہ بنایا جائے تاکہ لوگ یہاں قربانیاں پیش کریں۔ اِس کی بنیادیں ڈالی جائیں اور اِس کی اُونچائی 60 ہاتھ*‏ اور چوڑائی 60 ہاتھ ہو۔ 4 اِس کی دیواریں تعمیر کرتے وقت بڑے پتھروں کے تین ردّے اور شہتیروں کا ایک ردّا لگایا جائے۔ اور یہ سارا خرچہ شاہی خزانے سے ادا کِیا جائے۔ 5 اِس کے علاوہ خدا کے گھر کے سونے اور چاندی کے وہ برتن جنہیں نبوکدنضر یروشلم کی ہیکل سے نکال کر بابل لے آیا تھا، واپس بھیجے جائیں تاکہ اِنہیں یروشلم میں خدا کے گھر میں اِن کی جگہ رکھا جائے۔“‏

6 اِس لیے بڑے دریا کے پار*‏ کے علاقے کے ناظم تتنی، شِتربوزنی اور اُس کے ساتھیو یعنی بڑے دریا کے پار کے علاقے کے نائب ناظمو!‏ اِس معاملے سے دُور رہو۔ 7 خدا کے اُس گھر کے کام میں مداخلت نہ کرو۔ یہودیوں کے ناظم اور یہودیوں کے بزرگ خدا کے اُس گھر کو دوبارہ اُسی جگہ بنائیں گے جہاں یہ پہلے تھا۔ 8 مَیں اِس حوالے سے بھی حکم جاری کر رہا ہوں کہ تمہیں خدا کے اُس گھر کو دوبارہ بنانے کے حوالے سے یہودیوں کے بزرگوں کی کس طرح مدد کرنی ہے۔ شاہی خزانے سے یعنی بڑے دریا کے پار کے علاقے سے ملنے والے ٹیکس سے فوراً اُن آدمیوں کو پیسے دیے جائیں تاکہ اُن کا کام بغیر کسی رُکاوٹ کے جاری رہ سکے۔ 9 یروشلم میں موجود کاہنوں کو ہر روز بِلاناغہ وہ چیزیں دی جاتی رہیں جو وہ مانگیں اور جن کی اُنہیں ضرورت ہو یعنی آسمان کے خدا کے حضور بھسم ہونے والی قربانیوں کے طور پر پیش کرنے کے لیے جوان بیل، مینڈھے اور میمنے۔ اور اِس کے ساتھ ساتھ گندم، نمک، مے اور تیل بھی 10 تاکہ وہ آسمان کے خدا کو خوش کرنے کے لیے باقاعدگی سے اُس کے حضور نذرانے پیش کریں اور بادشاہ اور اُس کے بیٹوں کی لمبی عمر کے لیے دُعا کریں۔ 11 مَیں یہ حکم بھی جاری کرتا ہوں کہ اگر کوئی اِس فرمان کی خلاف‌ورزی کرے تو اُس کے گھر سے ایک شہتیر نکالا جائے اور اُسے اُس پر لٹکا*‏ دیا جائے اور اِس جُرم کی سزا میں اُس کے گھر کو عوامی بیت‌الخلا*‏ بنا دیا جائے۔ 12 اور جو بھی شخص پھر چاہے وہ بادشاہ ہو یا عام اِنسان، اِس حکم کی خلاف‌ورزی کرنے اور یروشلم میں موجود خدا کے اُس گھر کو نقصان پہنچانے کی جُرأت کرے، خدا اُس کا نام‌ونشان مٹا دے، وہی خدا جس نے یہ فیصلہ کِیا ہے کہ اُس کا نام وہاں رہے۔ مَیں نے یعنی دارا نے یہ حکم جاری کِیا ہے۔ اِس پر فوراً عمل کِیا جائے۔“‏

13 تب بڑے دریا کے پار کے علاقے کے ناظم تتنی، شِتربوزنی اور اُن کے ساتھیوں نے فوراً وہ سب کچھ کِیا جس کا حکم بادشاہ دارا نے دیا تھا۔ 14 یہودیوں کے بزرگوں کو حجّی نبی اور اِدّو کے پوتے زکریاہ کی نبوّت سے حوصلہ ملا اور اُنہوں نے ہیکل کی تعمیر کا کام جاری رکھا اور یہ کام آگے بڑھتا رہا۔ اُنہوں نے اِسرائیل کے خدا کے حکم اور خورس، دارا اور فارس کے بادشاہ ارتخششتا کے حکم سے اِسے مکمل کر لیا۔ 15 اُنہوں نے بادشاہ دارا کی حکمرانی کے چھٹے سال میں ادار*‏ کے مہینے کے تیسرے دن اِس گھر کی تعمیر مکمل کر لی۔‏

16 پھر کاہنوں، لاویوں اور قید سے واپس آنے والے باقی اِسرائیلیوں نے خوشی سے خدا کے اِس گھر کا اِفتتاح*‏ کِیا۔ 17 خدا کے اِس گھر کے اِفتتاح کے موقعے پر اُنہوں نے 100 بیل، 200 مینڈھے اور 400 میمنے قربان کیے اور سب اِسرائیلیوں کے لیے اِسرائیل کے قبیلوں کی تعداد کے حساب سے 12 بکرے گُناہ کی قربانی کے طور پر قربان کیے۔ 18 اِس کے علاوہ اُنہوں نے موسیٰ کی کتاب میں لکھی ہدایت کے مطابق کاہنوں اور لاویوں کو یروشلم میں خدا کی خدمت کے لیے گروہوں میں تقسیم کِیا۔‏

19 قید سے واپس آنے والے لوگوں نے پہلے مہینے کے 14ویں دن عیدِفسح منائی۔ 20 سبھی کاہنوں اور لاویوں نے خود کو پاک کِیا۔ اُن میں سے ایک بھی ناپاک حالت میں نہیں تھا۔ اُنہوں نے قید سے واپس آنے والے سب لوگوں، اپنے ساتھی کاہنوں اور اپنے لیے عیدِفسح کے جانور قربان کیے۔ 21 پھر قید سے واپس آنے والے اِسرائیلیوں نے اُن جانوروں کا گوشت کھایا اور اُن سب لوگوں نے بھی جو اُن میں شامل ہو گئے تھے اور جنہوں نے ملک کی قوموں کے ناپاک کاموں کو چھوڑ دیا تھا تاکہ اِسرائیل کے خدا یہوواہ کی عبادت*‏ کریں۔ 22 اُنہوں نے خوشی خوشی سات دن تک بے‌خمیری روٹی کی عید بھی منائی کیونکہ یہوواہ نے اُنہیں خوشی بخشی تھی اور اسور کے بادشاہ کے دل کو اُن پر مہربانی کرنے کے لیے اُبھارا تھا تاکہ وہ سچے خدا یعنی اِسرائیل کے خدا کے گھر کو بنانے کے کام میں اُن کی مدد کرے۔‏*‏

7 اِس سب کے بعد فارس کے بادشاہ ارتخششتا کی حکمرانی کے دوران عزرا*‏ واپس آئے۔ وہ سِرایاہ کے بیٹے تھے جو عزریاہ کے بیٹے تھے جو خِلقیاہ کے بیٹے تھے 2 جو سلّوم کے بیٹے تھے جو صدوق کے بیٹے تھے جو اخی‌طُوب کے بیٹے تھے 3 جو امریاہ کے بیٹے تھے جو عزریاہ کے بیٹے تھے جو مِرایوت کے بیٹے تھے 4 جو زِراخیاہ کے بیٹے تھے جو عُزّی کے بیٹے تھے جو بُقّی کے بیٹے تھے 5 جو ابی‌سُوع کے بیٹے تھے جو فینحاس کے بیٹے تھے جو اِلیعزر کے بیٹے تھے جو کاہنِ‌اعظم ہارون کے بیٹے تھے۔ 6 عزرا بابل سے آئے تھے۔ وہ ایک نقل‌نویس تھے اور موسیٰ کی شریعت کا بڑا علم رکھتے تھے*‏ جو اِسرائیل کے خدا یہوواہ نے دی تھی۔ بادشاہ نے اُن کی ہر درخواست پوری کی کیونکہ اُن کے خدا یہوواہ کا ہاتھ اُن پر تھا۔‏

7 بادشاہ ارتخششتا کی حکمرانی کے ساتویں سال میں کچھ اِسرائیلی، کاہن، لاوی، گلوکار، دربان اور ہیکل کے خدمت‌گار*‏ یروشلم کے لیے روانہ ہوئے۔ 8 اور عزرا، بادشاہ ارتخششتا کی حکمرانی کے ساتویں سال کے پانچویں مہینے میں یروشلم پہنچے۔ 9 اُنہوں نے پہلے مہینے کے پہلے دن بابل سے سفر شروع کِیا اور وہ پانچویں مہینے کے پہلے دن یروشلم پہنچے۔ اِس پورے سفر کے دوران اُن کے خدا کا شفقت بھرا ہاتھ اُن پر تھا۔ 10 عزرا نے اپنے دل کو تیار کِیا ہوا تھا*‏ کہ وہ یہوواہ کی شریعت سے رہنمائی حاصل کریں گے، اِس پر عمل کریں گے اور اِسرائیلیوں کو اِس میں لکھے معیاروں اور فیصلوں کی تعلیم دیں گے۔‏

11 یہ اُس خط کی ایک نقل ہے جو بادشاہ ارتخششتا نے کاہن عزرا کو دیا جو نقل‌نویس تھے اور اُن حکموں اور معیاروں کی اچھی سمجھ رکھتے تھے*‏ جو یہوواہ نے اِسرائیل کو دیے تھے:‏

12 *‏ ”‏بادشاہوں کے بادشاہ ارتخششتا کی طرف سے کاہن عزرا کے نام جو آسمان کے خدا کی شریعت کا نقل‌نویس ہے:‏ تُم پر سلامتی ہو!‏ 13 مَیں یہ فرمان جاری کرتا ہوں کہ میری سلطنت میں رہنے والے جو اِسرائیلی اور اُن کے کاہن اور لاوی تمہارے ساتھ یروشلم جانا چاہتے ہیں، وہ جائیں۔ 14 تمہیں بادشاہ اور اُس کے سات مُشیروں کی طرف سے بھیجا جا رہا ہے تاکہ تُم جا کر پتہ لگاؤ کہ یہوداہ اور یروشلم میں تمہارے خدا کی اُس شریعت پر عمل کِیا جا رہا ہے یا نہیں جو تمہارے سپرد کی گئی ہے۔‏*‏ 15 وہ چاندی اور سونا لے کر جاؤ جو بادشاہ اور اُس کے مُشیروں نے اپنی خوشی سے اِسرائیل کے خدا کے لیے دیا ہے جس کی رہائش یروشلم میں ہے 16 اور وہ ساری چاندی اور سونا بھی جو تمہیں بابل کے پورے صوبے*‏ میں ملے اور وہ ہدیے بھی جو لوگ اور کاہن اپنی خوشی سے اپنے خدا کے گھر کے لیے دیں جو یروشلم میں ہے۔ 17 تُم اِن پیسوں سے فوراً بیل، مینڈھے، میمنے اور اِن کے ساتھ نذرانے کے طور پر پیش کِیا جانے والا اناج اور مے خریدنا اور اِنہیں یروشلم میں موجود اپنے خدا کے گھر کی قربان‌گاہ پر پیش کرنا۔‏

18 اور جو چاندی اور سونا باقی بچے گا، اُس کے حوالے سے جیسے تمہیں اور تمہارے بھائیوں کو مناسب لگے اور جیسے تمہارے خدا کی مرضی ہو ویسے ہی کرنا۔ 19 تمہیں تمہارے خدا کے گھر میں اِستعمال کرنے کے لیے جو برتن دیے جا رہے ہیں، اُن سب کو یروشلم میں اپنے خدا کے سامنے رکھ دینا۔ 20 اِس کے علاوہ اگر تمہیں تمہارے خدا کے گھر کے لیے کسی اَور چیز کی ضرورت ہو تو اُس کا خرچہ شاہی خزانے سے دے دینا۔‏

21 مَیں بادشاہ ارتخششتا بڑے دریا کے پار*‏ کے علاقے کے سب خزانچیوں کے لیے یہ فرمان جاری کرتا ہوں کہ کاہن عزرا جو آسمان کے خدا کی شریعت کا نقل‌نویس ہے، تُم سے جو بھی مانگے، وہ اُسے فوراً دیا جائے 22 یعنی 100 قِنطار*‏ تک چاندی، 100 کور*‏ تک گندم، 100 بت*‏ تک مے، 100 بت تک تیل اور بے‌حساب نمک۔ 23 آسمان کے خدا کے گھر کے لیے وہ سب کچھ جوش سے کِیا جائے جس کا حکم آسمان کے خدا نے دیا ہے تاکہ اُس کا قہر بادشاہ کی سلطنت اور اُس کے بیٹوں پر نہ بھڑکے۔ 24 اور تمہیں یہ ہدایت بھی کی جاتی ہے کہ کاہنوں، لاویوں، موسیقاروں، دربانوں، ہیکل کے خدمت‌گاروں*‏ اور خدا کے اِس گھر میں کام کرنے والوں میں سے کسی سے بھی ٹیکس، خراج یا راستے کا محصول نہ لیا جائے۔‏

25 اور عزرا!‏ تُم اُس دانش‌مندی کے مطابق جو تمہیں تمہارے خدا سے ملی ہے،‏*‏ بڑے دریا کے پار کے علاقے میں منصف اور قاضی مقرر کرو تاکہ وہ سب لوگوں کا اِنصاف کریں یعنی اُن سب لوگوں کا جو تمہارے خدا کے قوانین کو جانتے ہیں۔ اور اُن میں سے جو اِن قوانین کو نہیں جانتے، تُم اُنہیں یہ قوانین سکھاؤ۔ 26 جو کوئی تمہارے خدا کی شریعت یا بادشاہ کے قوانین پر عمل نہ کرے، اُسے فوراً سزا دی جائے۔ اُسے یا تو سزائے‌موت دی جائے یا جلاوطن کر دیا جائے یا قید میں ڈال دیا جائے یا اُس پر جُرمانہ عائد کِیا جائے۔“‏

27 ہمارے باپ‌دادا کے خدا یہوواہ کی بڑائی ہو جس نے بادشاہ کے دل میں یہ بات ڈالی کہ وہ یروشلم میں موجود یہوواہ کے گھر کی خوب‌صورتی بڑھائے!‏ 28 اُس نے بادشاہ، اُس کے مُشیروں اور اُس کی سلطنت کے سب طاقت‌ور حاکموں کے سامنے میرے لیے اٹوٹ محبت ظاہر کی ہے۔ میرے خدا یہوواہ کا ہاتھ مجھ پر تھا اِس لیے مَیں نے ہمت پکڑی*‏ اور اِسرائیلیوں میں سے پیشوائی کرنے والے کچھ آدمیوں کو اِکٹھا کِیا تاکہ وہ میرے ساتھ یروشلم جائیں۔‏

8 بادشاہ ارتخششتا کی حکمرانی کے دوران میرے ساتھ بابل سے جو لوگ آئے، اُن کے آبائی خاندانوں کے سربراہ اور نسب‌نامہ یہ ہے:‏ 2 فینحاس کے بیٹوں میں سے جیرسوم؛ اِتمر کے بیٹوں میں سے دانی‌ایل؛ داؤد کے بیٹوں میں سے حطّوش؛ 3 سِکنیاہ اور پَرعوس کے بیٹوں میں سے زکریاہ اور اُن کے ساتھ 150 آدمیوں کے نام فہرست میں لکھے تھے؛ 4 پخت‌موآب کے بیٹوں میں سے زِراخیاہ کے بیٹے اِلیہوعینی اور اُن کے ساتھ 200 آدمی؛ 5 زتُو کے بیٹوں میں سے یحزی‌ایل کے بیٹے سِکنیاہ اور اُن کے ساتھ 300 آدمی؛ 6 عدین کے بیٹوں میں سے یونتن کے بیٹے عبد اور اُن کے ساتھ 50 آدمی؛ 7 عِیلام کے بیٹوں میں سے عتلیاہ کے بیٹے یسعیاہ اور اُن کے ساتھ 70 آدمی؛ 8 سِفطیاہ کے بیٹوں میں سے میکائیل کے بیٹے زِبدیاہ اور اُن کے ساتھ 80 آدمی؛ 9 یوآب کے بیٹوں میں سے یحی‌ایل کے بیٹے عبدیاہ اور اُن کے ساتھ 218 آدمی؛ 10 بانی کے بیٹوں میں سے یوسفیاہ کے بیٹے سِلومیت اور اُن کے ساتھ 160 آدمی؛ 11 ببی کے بیٹوں میں سے ببی کے بیٹے زکریاہ اور اُن کے ساتھ 28 آدمی؛ 12 عزجاد کے بیٹوں میں سے ہقاطان کے بیٹے یوحنان اور اُن کے ساتھ 110 آدمی؛ 13 ادونِقام کے بیٹوں میں سے جو آخر میں آئے، اُن کے نام یہ ہیں:‏ اِلیفالط، یعی‌ایل اور سِمعیاہ اور اُن کے ساتھ 60 آدمی 14 اور بِگوَی کے بیٹوں میں سے عُوتی اور زبود اور اُن کے ساتھ 70 آدمی۔‏

15 مَیں نے اُنہیں اُس دریا کے کنارے اِکٹھا کِیا جو اہاوا کی طرف بہتا ہے اور ہم نے تین دن تک وہاں پڑاؤ ڈالا۔ لیکن جب مَیں نے خیمہ‌گاہ کا جائزہ لیا تو مجھے لوگوں اور کاہنوں میں ایک بھی لاوی نہیں ملا۔ 16 اِس لیے مَیں نے اِلیعزر، اَری‌ایل، سِمعیاہ، اِلناتن، یریب، اِلناتن، ناتن، زکریاہ اور مِسُلّام کو بُلایا جو پیشوائی کر رہے تھے اور یویریب اور اِلناتن کو بھی جو اُستاد تھے۔ 17 مَیں نے اُنہیں اِدّو کے پاس جانے کا حکم دیا جو کسیفیا نامی علاقے میں پیشوا تھے۔ مَیں نے اُن سے کہا کہ وہ اِدّو اور اُن کے بھائیوں یعنی کسیفیا میں رہنے والے ہیکل کے خدمت‌گاروں*‏ سے کہیں کہ وہ ہمارے خدا کے گھر میں خدمت کرنے کے لیے لوگ بھیجیں۔ 18 ہمارے خدا کا شفقت‌بھرا ہاتھ ہم پر تھا اِس لیے اُنہوں نے سرِبیاہ نامی ایک سمجھ‌دار آدمی کو اُس کے بیٹوں اور بھائیوں کے ساتھ یعنی کُل 18 آدمیوں کو ہمارے پاس بھیجا۔ سرِبیاہ محلی کے بیٹے تھے جو اِسرائیل کے بیٹے لاوی کے پوتے تھے۔ 19 اِس کے علاوہ حسَبیاہ اور یسعیاہ جو مِراریوں میں سے تھے اور یسعیاہ کے بھائی اور اُن کے بیٹے یعنی کُل 20 آدمی اَور آئے۔ 20 ہیکل کے خدمت‌گاروں*‏ میں سے 220 آدمی آئے جنہیں داؤد اور حاکموں نے لاویوں کی مدد کرنے کے لیے مقرر کِیا تھا۔ اِن سب کے نام فہرست میں لکھے تھے۔‏

21 پھر مَیں نے دریائے‌اہاوا پر روزہ رکھنے کا اِعلان کِیا تاکہ ہم خود کو اپنے خدا کے سامنے خاکسار بنائیں اور اُس سے دُعا کریں کہ وہ سفر میں ہماری رہنمائی کرے اور ہماری، ہمارے بچوں کی اور ہماری سب چیزوں کی حفاظت کرے۔ 22 مجھے بادشاہ سے یہ کہتے ہوئے شرم محسوس ہو رہی تھی کہ ہمیں فوجی اور گُھڑسوار دے تاکہ وہ راستے میں دُشمنوں سے ہماری حفاظت کریں کیونکہ ہم نے بادشاہ سے کہا تھا:‏ ”‏ہمارے خدا کا شفقت‌بھرا ہاتھ اُن سب پر ہوتا ہے جو اُس کی رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن وہ سب جو اُسے چھوڑ دیتے ہیں، اُن پر اُس کا غصہ بھڑکتا ہے اور وہ اُن کے خلاف اپنی طاقت اِستعمال کرتا ہے۔“‏ 23 اِس لیے ہم نے روزہ رکھا اور اِس معاملے کے بارے میں اپنے خدا سے درخواست کی اور اُس نے ہماری اِلتجا سنی۔‏

24 پھر مَیں نے کاہنوں کے 12 سربراہوں کو الگ کِیا یعنی سرِبیاہ، حسَبیاہ اور اُن کے دس بھائیوں کو۔ 25 مَیں نے اُنہیں چاندی، سونا اور چیزیں یعنی وہ ہدیہ تول کر دیا جو بادشاہ، اُس کے مُشیروں، اُس کی سلطنت کے حاکموں اور وہاں موجود سب اِسرائیلیوں نے ہمارے خدا کے گھر کے لیے دیا تھا۔ 26 مَیں نے یہ چیزیں تول کر اُن کے حوالے کیں:‏ 650 قِنطار*‏ چاندی، چاندی کی 100 چیزیں جن کا وزن 2 قِنطار تھا، 100 قِنطار سونا، 27 سونے کی 20 کٹوریاں جن کی قیمت 1000 درِیک*‏ کے برابر تھی اور لال رنگ کے خالص چمکتے تانبے کے 2 برتن جو سونے جتنے قیمتی تھے۔‏

28 تب مَیں نے اُن سے کہا:‏ ”‏آپ یہوواہ کے لیے مخصوص ہیں۔ یہ برتن پاک ہیں اور یہ چاندی اور سونا آپ کے باپ‌دادا کے خدا یہوواہ کے لیے خوشی سے پیش کِیا گیا ہے۔ 29 اِنہیں حفاظت سے یروشلم لے کر جائیں اور وہاں جا کر اِنہیں یہوواہ کے گھر کے کمروں*‏ میں کاہنوں کے سربراہوں، لاویوں اور اِسرائیل کے آبائی خاندانوں کے حاکموں کے سامنے تولیں۔“‏ 30 کاہنوں اور لاویوں نے وہ چاندی، سونا اور چیزیں لیں جو اُنہیں تول کر دی گئی تھیں تاکہ اِنہیں یروشلم میں ہمارے خدا کے گھر میں لائیں۔‏

31 آخرکار ہم پہلے مہینے کے 12ویں دن دریائے‌اہاوا سے روانہ ہوئے تاکہ یروشلم جائیں۔ ہمارے خدا کا ہاتھ ہم پر تھا اور اُس نے ہمیں ہمارے دُشمنوں اور راستے میں گھات لگانے والوں سے بچایا۔ 32 اِس طرح ہم یروشلم پہنچے اور تین دن وہاں رہے۔ 33 چوتھے دن ہم نے اپنے خدا کے گھر میں چاندی، سونا اور دوسری چیزیں تولیں اور اِنہیں اُوریاہ کے بیٹے کاہن مِریموت کے حوالے کِیا۔ اُن کے ساتھ فینحاس کے بیٹے اِلیعزر اور لاوی تھے یعنی یشوع کے بیٹے یوزباد اور بِنوی کے بیٹے نوعیدیاہ۔ 34 اِن سب چیزوں کو گنا اور تولا گیا اور سارا وزن لکھا گیا۔ 35 جو لوگ بابل کی قید سے واپس آئے تھے، اُنہوں نے اِسرائیل کے خدا کے حضور بھسم ہونے والی قربانیاں پیش کیں یعنی پورے اِسرائیل کی خاطر 12 بیل اور اِس کے علاوہ 96 مینڈھے، 77 میمنے اور گُناہ کی قربانی کے طور پر 12 بکرے۔ یہ سب جانور یہوواہ کے حضور بھسم ہونے والی قربانی کے طور پر پیش کیے گئے۔‏

36 پھر ہم نے بڑے دریا کے پار*‏ کے علاقے کے ناظموں اور بادشاہ کے وزیروں کو بادشاہ کا فرمان دیا۔ اُنہوں نے لوگوں کی مدد کی اور سچے خدا کے گھر کے لیے وہ چیزیں دیں جن کی ضرورت تھی۔‏

9 جیسے ہی یہ کام ختم ہوا تو حاکم میرے پاس آئے اور کہا:‏ ”‏اِسرائیل کے لوگوں، کاہنوں اور لاویوں نے آس‌پاس کی قوموں یعنی کنعانیوں، حِتّیوں، فِرِزّیوں، یبوسیوں، عمونیوں، موآبیوں، مصریوں اور اموریوں اور اُن کے گھناؤنے کاموں کو نہیں چھوڑا ہے۔ 2 اُنہوں نے اُن کی کچھ بیٹیوں سے خود شادیاں کی ہیں اور کچھ سے اپنے بیٹوں کی شادیاں کرائی ہیں۔ اب یہ پاک نسل آس‌پاس کی قوموں کے ساتھ گڈمڈ ہو گئی ہے۔ حاکم اور نائب حاکم اِس گُناہ*‏ میں سب سے آگے رہے ہیں۔“‏

3 جیسے ہی مَیں نے یہ سنا تو مَیں نے اپنے کپڑے اور بغیر بازوؤں والا چوغہ پھاڑ دیا اور اپنے سر اور داڑھی کے بال نوچے اور صدمے کے مارے بیٹھ گیا۔ 4 پھر وہ سب لوگ جو اِسرائیل کے خدا کی باتوں کا احترام کرتے تھے،‏*‏ میرے اِردگِرد جمع ہو گئے کیونکہ وہ قید سے واپس آئے ہوئے لوگوں کے گُناہ*‏ کی وجہ سے دُکھی تھے۔ مَیں شام کے اناج کے نذرانے کے وقت تک صدمے میں بیٹھا رہا۔‏

5 مَیں شام کے اناج کے نذرانے کے وقت ماتم*‏ کی حالت سے اُٹھا۔ میرے کپڑے اور بغیر بازوؤں والا چوغہ پھٹا ہوا تھا۔ مَیں گُھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اپنے خدا یہوواہ کے سامنے ہاتھ پھیلائے 6 اور کہا:‏ ”‏اَے میرے خدا!‏ مَیں بہت شرمندہ ہوں۔ مَیں شرمندگی کے مارے تیرے سامنے چہرہ نہیں اُٹھا پا رہا کیونکہ اَے میرے خدا!‏ ہمارے سر پر ہماری خطاؤں کا ڈھیر لگ گیا ہے اور ہمارے گُناہ بڑھتے بڑھتے آسمان تک پہنچ گئے ہیں۔ 7 اپنے باپ‌دادا کے زمانے سے لے کر آج تک ہم نے بہت سے بُرے کام کیے ہیں۔ ہمارے گُناہوں کی وجہ سے ہمیں، ہمارے بادشاہوں کو اور ہمارے کاہنوں کو دوسرے ملکوں کے بادشاہوں کے حوالے کِیا گیا۔ ہمیں تلوار سے مارا گیا، قید میں ڈالا گیا، لُوٹا گیا اور ذلیل کِیا گیا۔ اور آج بھی ہمارا یہی حال ہے۔ 8 لیکن ہمارے خدا یہوواہ!‏ اب کچھ عرصے سے تُو نے ہم پر مہربانی کی ہے اور ہمارے ایک بچے ہوئے حصے کو رِہائی دِلائی ہے۔ اَے ہمارے خدا!‏ تُو نے ہمیں اپنی مُقدس جگہ میں ایک محفوظ مقام دیا ہے۔‏*‏ تُو ہماری آنکھوں میں چمک لایا ہے اور ہمیں ہماری غلامی میں تھوڑی راحت دِلائی ہے۔ 9 ہم غلام تو ہیں لیکن ہمارے خدا!‏ تُو نے ہمیں اِس غلامی میں چھوڑا نہیں ہے۔ تُو نے فارس کے بادشاہوں کے سامنے ہمارے لیے اٹوٹ محبت ظاہر کی ہے۔ تُو نے ہم میں ایک نئی جان ڈالی ہے تاکہ ہم اپنے خدا کا گھر بنائیں اور اِس کے کھنڈرات کو بحال کریں۔ تُو نے یہوداہ اور یروشلم میں ہمارے گِرد ایک حفاظتی دیوار*‏ کھڑی کی ہے۔‏

10 لیکن اَے ہمارے خدا!‏ اِس سب کے بعد اب ہم کیا کہیں؟ کیونکہ ہم نے تیرے اُن حکموں کی خلاف‌ورزی کی 11 جو تُو نے ہمیں اپنے بندوں یعنی نبیوں کے ذریعے دیے اور کہا:‏ ”‏جس ملک پر تُم قبضہ کرنے جا رہے ہو، وہ ناپاک ہے کیونکہ وہاں کی قومیں ناپاک ہیں اور گھناؤنے کام کرتی ہیں۔ اُنہوں نے اپنے گھناؤنے کاموں کے ذریعے ملک کو ایک کونے سے دوسرے کونے تک ناپاکی سے بھر دیا ہے۔ 12 اِس لیے نہ تو اپنی بیٹیاں اُن کے بیٹوں کو دینا اور نہ اُن کی بیٹیاں اپنے بیٹوں کے لیے لینا۔ اُن کی سلامتی اور خوش‌حالی کے لیے کچھ مت کرنا تاکہ تُم مضبوط بن سکو اور اُس ملک کی اچھی چیزیں کھا سکو اور اُسے اپنے بیٹوں کو ہمیشہ کے لیے وراثت کے طور پر دے سکو۔“‏ 13 ہمارے ساتھ یہ سب کچھ ہمارے بُرے کاموں اور سنگین گُناہوں کی وجہ سے ہو رہا ہے حالانکہ اَے ہمارے خدا!‏ تُو نے ہمیں ہمارے گُناہوں کے حساب سے سزا نہیں دی اور ہم میں سے اُن لوگوں کو بچنے کا موقع دیا ہے جو یہاں موجود ہیں۔ اِس سب کے بعد 14 کیا ہمیں پھر سے تیرے حکم توڑنے چاہئیں اور اُن قوموں سے رشتے‌داری کرنی *‏ چاہیے جو ایسے گھناؤنے کام کرتی ہیں؟ اگر ہم ایسا کریں گے تو تجھے ہم پر اِتنا غصہ آئے گا کہ تُو ہمیں بالکل تباہ کر دے گا اور ہمارا کوئی حصہ باقی نہیں بچے گا۔ 15 اِسرائیل کے خدا یہوواہ!‏ تُو نیک ہے۔ اِس وجہ سے ہمارا کچھ حصہ آ ج تک بچا ہوا ہے۔ ہم تیرے قصوروار ہیں اور تیرے سامنے کھڑے ہیں حالانکہ ہم نے جو کچھ کِیا ہے، اُس کے بعد ہم تیرے سامنے کھڑے ہونے کے لائق نہیں ہیں۔“‏

10 جب عزرا سچے خدا کے گھر کے سامنے مُنہ کے بل زمین پر لیٹے ہوئے تھے، دُعا کر رہے تھے، گُناہوں کا اِقرار کر رہے تھے اور رو رہے تھے تو اِسرائیل کے مردوں، عورتوں اور بچوں کا ایک بڑا ہجوم اُن کے گِرد جمع ہو گیا اور لوگ پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔ 2 تب عِیلام کے بیٹوں میں سے یحی‌ایل کے بیٹے سِکنیاہ نے عزرا سے کہا:‏ ”‏ہم نے آس‌پاس کی قوموں کی عورتوں سے شادیاں کر کے*‏ اپنے خدا سے بے‌وفائی کی ہے۔ لیکن اب بھی اِسرائیل کے لیے اُمید باقی ہے۔ 3 اِس لیے آئیں یہوواہ کی اور اُن لوگوں کی ہدایت پر عمل کریں جو ہمارے خدا کے حکموں کا احترام کرتے ہیں*‏ اور اپنے خدا سے یہ عہد باندھیں کہ ہم اُن سب عورتوں کو اور اُن سے پیدا ہونے والے بچوں کو اُن کے لوگوں میں واپس بھیج دیں گے۔ آئیں ویسا ہی کریں جیسا شریعت میں کہا گیا ہے۔ 4 اُٹھیں کیونکہ اِس سب کو ٹھیک کرنا آپ کی ذمے‌داری ہے!‏ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ مضبوط بنیں اور قدم اُٹھائیں۔“‏

5 اِس پر عزرا اُٹھے اور کاہنوں کے سربراہوں، لاویوں اور سب اِسرائیلیوں کو قسم کھلائی کہ وہ ویسا ہی کریں گے جیسا کہا گیا ہے۔ اِس لیے اُن سب نے قسم کھائی۔ 6 پھر عزرا سچے خدا کے گھر کے سامنے سے اُٹھے اور اِلیاسب کے بیٹے یہوحنان کے کمرے*‏ میں گئے۔ وہ وہاں گئے تو سہی لیکن اُنہوں نے وہاں نہ تو کچھ کھایا اور نہ پیا کیونکہ وہ قید سے واپس آئے ہوئے لوگوں کی بے‌وفائی کی وجہ سے ماتم کر رہے تھے۔‏

7 اِس کے بعد اُنہوں نے پورے یہوداہ اور یروشلم میں یہ اِعلان کروایا کہ قید سے واپس آئے ہوئے سب لوگ یروشلم میں جمع ہوں 8 اور اگر کوئی حاکموں اور بزرگوں کے فیصلے کے مطابق تین دن کے اندر نہ آیا تو اُس کی ساری چیزیں ضبط کر لی جائیں گی اور اُسے قید سے واپس آئے ہوئے لوگوں کی جماعت سے بے‌دخل کر دیا جائے گا۔ 9 اِس لیے یہوداہ اور بِنیامین کے سارے آدمی تین دن کے اندر یعنی نویں مہینے کے 20ویں دن یروشلم میں اِکٹھے ہوئے۔ سب لوگ سچے خدا کے گھر کے صحن میں بیٹھے تھے اور معاملے کی سنگینی اور تیز بارش کی وجہ سے کانپ رہے تھے۔‏

10 تب کاہن عزرا اُٹھے اور اُن سے کہنے لگے:‏ ”‏آپ نے غیرقوم عورتوں سے شادیاں کر کے خدا سے بے‌وفائی کی ہے اور اِسرائیل کے گُناہوں میں اِضافہ کِیا ہے۔ 11 اب اپنے باپ‌دادا کے خدا یہوواہ کے سامنے اپنے گُناہوں کا اِقرار کریں اور اُس کی مرضی پر عمل کریں۔ آس‌پاس کی قوموں اور اپنی غیرقوم بیویوں سے تعلق توڑ دیں۔“‏ 12 اِس پر پوری جماعت نے اُونچی آواز میں جواب دیا:‏ ”‏ہمارا فرض ہے کہ ہم آپ کی بات پر ہوبہو عمل کریں۔ 13 لیکن بارش کے اِس موسم میں اِتنے زیادہ لوگوں کا باہر کھڑے رہنا ممکن نہیں ہے۔ اور یہ معاملہ ایسا نہیں ہے کہ ایک یا دو دن میں حل ہو جائے کیونکہ ہم نے بہت سنگین گُناہ کِیا ہے۔ 14 اِس لیے ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ پوری جماعت کی بجائے ہمارے حاکموں کو یہاں رُکنے دیں۔ پھر ہمارے شہروں میں جن لوگوں نے غیرقوم عورتوں سے شادیاں کی ہیں، وہ ایک طے‌شُدہ وقت پر اپنے شہر کے بزرگوں اور قاضیوں کے ساتھ یہاں آئیں۔ اِس طرح ہم اِس معاملے کے حوالے سے اپنے خدا کے غضب کو ٹھنڈا کر پائیں گے۔“‏

15 لیکن عساہیل کے بیٹے یونتن اور تِقوہ کے بیٹے یحزیاہ نے اِس بات پر اِعتراض کِیا اور مِسُلّام اور سبّتی نے جو کہ لاوی تھے، اُن کا ساتھ دیا۔ 16 لیکن قید سے واپس آنے والے لوگوں نے ویسا ہی کِیا جیسا تجویز کِیا گیا تھا۔ دسویں مہینے کے پہلے دن کاہن عزرا اور آبائی خاندانوں کے سربراہ جن کے نام لکھے ہوئے تھے، اِس معاملے پر غور کرنے کے لیے الگ سے جمع ہوئے۔ 17 پہلے مہینے کے پہلے دن تک اُنہوں نے اُن سبھی آدمیوں کے معاملات نمٹا لیے جنہوں نے غیرقوم عورتوں سے شادیاں کی ہوئی تھیں۔ 18 اِس دوران یہ پتہ چلا کہ کاہنوں کے کچھ بیٹوں نے غیرقوم عورتوں سے شادیاں کی ہوئی تھیں یعنی یہوصدق کے بیٹے یشوع کے بیٹوں اور بھائیوں میں سے معسیاہ، اِلیعزر، یریب اور جدلیاہ نے۔ 19 لیکن اُنہوں نے وعدہ کِیا*‏ کہ وہ اپنی بیویوں کو اُن کے لوگوں میں واپس بھیج دیں گے اور اپنے گُناہ کی وجہ سے اپنے اپنے گلّے میں سے ایک ایک مینڈھے کی قربانی پیش کریں گے۔‏

20 گُناہ کرنے والے دوسرے کاہن یہ تھے:‏ اِمّیر کے بیٹوں میں سے حنانی اور زِبدیاہ؛ 21 حارِم کے بیٹوں میں سے معسیاہ، ایلیاہ، سِمعیاہ، یحی‌ایل اور عُزّیاہ؛ 22 فشحور کے بیٹوں میں سے اِلیوعینی، معسیاہ، اِسماعیل، نِتنی‌ایل، یوزباد اور اِلعاسہ۔ 23 لاویوں میں سے یوزباد، سِمعی، قِلایاہ (‏یعنی قِلیتاہ)‏، فِتحیاہ، یہوداہ اور اِلیعزر نے گُناہ کِیا تھا 24 اور گلوکاروں میں سے اِلیاسب اور دربانوں میں سے سلّوم، طِلِم اور اُوری نے گُناہ کِیا تھا۔‏

25 گُناہ کرنے والے اِسرائیلی یہ تھے:‏ پَرعوس کے بیٹوں میں سے رَمیاہ، یِزیاہ، مَلکیاہ، میامین، اِلیعزر، مَلکیاہ اور بِنایاہ؛ 26 عِیلام کے بیٹوں میں سے متنیاہ، زکریاہ، یحی‌ایل، عبدی، یراموت اور ایلیاہ؛ 27 زتُو کے بیٹوں میں سے اِلیوعینی، اِلیاسب، متنیاہ، یراموت، زاباد اور عزیزا؛ 28 ببی کے بیٹوں میں سے یہوحنان، حنانیاہ، زبّی اور عطلی؛ 29 بانی کے بیٹوں میں سے مِسُلّام، مَلّوک، عدایاہ، یسوب، سیال اور یراموت؛ 30 پخت‌موآب کے بیٹوں میں سے عدنا، کلال، بِنایاہ، معسیاہ، متنیاہ ، بِضلی‌ایل، بِنوی اور منسّی؛ 31 حارِم کے بیٹوں میں سے اِلیعزر، یِشیاہ، مَلکیاہ، سِمعیاہ، شمعون، 32 بِنیامین، مَلّوک اور سِمریاہ؛ 33 حاشوم کے بیٹوں میں سے متّنی، متتّاہ، زاباد، اِلیفالط، یریمی، منسّی اور سِمعی؛ 34 بانی کے بیٹوں میں سے معدی، عمرام، اُوایل، 35 بِنایاہ، بِدیاہ، کلوہی، 36 وَنیاہ، مِریموت، اِلیاسب، 37 متنیاہ، متّنی اور یعسو؛ 38 بِنوی کے بیٹوں میں سے سِمعی، 39 سِلمیاہ، ناتن، عدایاہ، 40 مکندبی، شاشائی، شارائی، 41 عزرایل، سِلمیاہ، سِمریاہ، 42 سلّوم، امریاہ اور یوسف 43 اور نبو کے بیٹوں*‏ میں سے یعی‌ایل، متِتیاہ، زاباد، زِبینا، یدّی، یُوایل اور بِنایاہ۔ 44 اِن سب نے غیرقوم عورتوں سے شادیاں کی تھیں اور اُنہوں نے اپنی بیویوں کو اُن کے بچوں کے ساتھ واپس اُن کے لوگوں میں بھیج دیا۔‏

ایسا لگتا ہے کہ یہاں بابل پر خورس کی حکمرانی کے پہلے سال کی بات ہو رہی ہے۔‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏روح“‏

یا شاید ”‏جو یروشلم میں ہے۔“‏

یا ”‏اُن کے علاقے کے لوگ“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏روح“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُن کے ہاتھوں کو مضبوط کرنے“‏

شاید یہ وہی شخص تھا جسے عز 2:‏2؛‏ 3:‏8 میں زِرُبّابل کہا گیا ہے۔‏

یا ”‏ضلعے“‏

یا ”‏باشندے،“‏

یا ”‏باشندے،“‏

یا ”‏باشندے،“‏

یا ”‏باشندے،“‏

یا ”‏نتنیم۔“‏ لفظی ترجمہ:‏ ”‏دیے ہوئے لوگ“‏

یا ”‏نتنیم۔“‏ لفظی ترجمہ:‏ ”‏دیے ہوئے لوگوں“‏

یا ”‏ناپاک قرار دے کر کہانت سے ہٹا دیا گیا۔“‏

یا ”‏تِرشاتا۔“‏ یہ صوبے کے ناظم کو دیا گیا فارسی خطاب تھا۔‏

مانا جاتا ہے کہ دِرہم فارسی سونے کے سِکے درِیک کے برابر تھا جس کا وزن 4.‏8 گرام (‏27.‏0 اونس)‏ تھا۔ یہ وہ دِرہم نہیں تھا جس کا یونانی صحیفوں میں ذکر ہوا ہے۔ ”‏اِضافی مواد“‏میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

عبرانی صحیفوں میں ذکرکردہ ایک مینا 570 گرام (‏35.‏18 اونس)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

یا ”‏نتنیم۔“‏ لفظی ترجمہ:‏ ”‏دیے ہوئے لوگ“‏

یا ”‏عارضی پناہ‌گاہوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تلاش“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ہاتھوں کو کمزور کر رہے تھے“‏

یا شاید ”‏اُسے اَرامی زبان میں لکھا گیا اور پھر اُس کا ترجمہ کِیا گیا۔“‏

عز 4:‏8 سے 6:‏18 اِرامی زبان میں لکھی گئی تھی۔‏

یعنی دریائے‌فرات کے مغرب میں

یا ”‏ہماری تنخواہ محل سے آتی ہے“‏

یا ”‏ضلعوں“‏

یا ”‏کے علاقے میں آپ کا کوئی حصہ نہیں رہے گا۔“‏

یا شاید ”‏ترجمہ کر کے پڑھا گیا ہے۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُوپر“‏

یعنی دریائے‌فرات کے مغرب

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اُن کے خدا کی نظر یہودیوں کے بزرگوں پر تھی“‏

یا ”‏ضلعے“‏

شاید یہ وہی شخص تھا جسے عز 2:‏2؛‏ 3:‏8 میں زِرُبّابل کہا گیا ہے۔‏

یا ”‏ضلعے“‏

تقریباً 7.‏26 میٹر (‏6.‏87 فٹ‏)‏‏۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

یعنی دریائے‌فرات کے مغرب

یا ”‏ٹھونک“‏

یا شاید ”‏کچراکُنڈی؛ گوبر کا ڈھیر“‏

‏”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 15.‏2 کو دیکھیں۔‏

یا ”‏کو مخصوص“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏تلاش“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏کے ہاتھ مضبوط کرے۔“‏

معنی:‏ ”‏مدد“‏

یا ”‏وہ موسیٰ کی شریعت کے ماہر نقل‌نویس تھے“‏

یا ”‏نتنیم۔“‏ لفظی ترجمہ:‏ ”‏دیے ہوئے لوگ“‏

یا ”‏اپنے دل میں ٹھانا ہوا تھا“‏

یا ”‏جو اُن حکموں اور معیاروں کے نقل‌نویس تھے“‏

عز7:‏12 سے 7:‏26 اِرامی زبان میں لکھی گئی تھی۔‏

یا ”‏تمہارے پاس ہے۔“‏لفظی ترجمہ:‏ ”‏تمہارے ہاتھ میں ہے۔“‏

یا ”‏ضلعے“‏

یعنی دریائے‌فرات کے مغرب

ایک قِنطار 2.‏34 کلوگرام (‏1101 اونس)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

‏ 000‏٬‏16 کلو گرام؛ 000‏٬‏22 لیٹر۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

ایک بت 22 لیٹر (‏18.‏5 گیلن)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

یا ”‏نتنیم۔“‏ لفظی ترجمہ:‏ ”‏دیے ہوئے لوگوں“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اپنے خدا کی اُس دانش‌مندی کے مطابق جو تمہارے ہاتھ میں ہے،“‏

یا ”‏خود کو مضبوط کِیا“‏

یا ”‏نتنیم۔“‏ لفظی ترجمہ:‏ ”‏دیے ہوئے لوگوں“‏

یا ”‏نتنیم۔“‏ لفظی ترجمہ:‏ ”‏دیے ہوئے لوگوں“‏

ایک قِنطار 2.‏34 کلوگرام (‏1101 اونس)‏ کے برابر تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

درِیک سونے کا ایک فارسی سِکہ تھا۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

یا ”‏کھانے کے کمروں“‏

یعنی دریائے‌فرات کے مغرب

یا ”‏بے‌وفائی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏سے کانپتے تھے،“‏

یا ”‏کی بے‌وفائی“‏

یا ”‏شرمندگی“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏ایک کیل دی ہے۔“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏پتھر کی دیوار“‏

یا ”‏شادی‌بیاہ کر کے گٹھ‌جوڑ کرنا“‏

یا ”‏عورتوں کو اپنے گھر میں لا کر“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏سے کانپتے ہیں“‏

یا ”‏کھانے کے کمرے“‏

لفظی ترجمہ:‏ ”‏اپنا اپنا ہاتھ دیا“‏

یا شاید ”‏باشندوں“‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں