یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • 1-‏سموئیل 17
  • کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

1-‏سموئیل کے ابواب کا خاکہ

      • داؤد کے ہاتھوں جولیت کی شکست ‏(‏1-‏58‏)‏

        • جولیت بنی‌اِسرائیل کو للکارتا ہے ‏(‏8-‏10‏)‏

        • داؤد جولیت سے لڑنے کو تیار ‏(‏32-‏37‏)‏

        • داؤد یہوواہ کے نام سے مقابلہ کرتے ہیں ‏(‏45-‏47‏)‏

1-‏سموئیل 17:‏4

فٹ‌نوٹس

  • *

    یعنی تقریباً 9.‏2 میٹر (‏9 فٹ 75.‏5 اِنچ)‏۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

1-‏سموئیل 17:‏5

فٹ‌نوٹس

  • *

    یہ بکتر کپڑے یا چمڑے کا بنا ہوتا تھا اور اِس پر دھات کے ٹکڑے ایسے لگے ہوتے تھے جیسے مچھلی پر چھلکوں کی قطاریں ہوتی ہیں۔‏

  • *

    تقریباً 57 کلوگرام (‏125 پونڈ)‏۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

1-‏سموئیل 17:‏7

فٹ‌نوٹس

  • *

    تقریباً 84.‏6 کلوگرام (‏15 پونڈ)‏۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

1-‏سموئیل 17:‏10

فٹ‌نوٹس

  • *

    یا ”‏کو طنز کرتا ہوں۔“‏

1-‏سموئیل 17:‏17

فٹ‌نوٹس

  • *

    تقریباً 15 کلوگرام؛ 22 لیٹر۔ ”‏اِضافی مواد“‏ میں حصہ 14.‏2 کو دیکھیں۔‏

1-‏سموئیل 17:‏18

فٹ‌نوٹس

  • *

    لفظی ترجمہ:‏ ”‏دودھ“‏

  • *

    یا ”‏ہزار سپاہیوں“‏

1-‏سموئیل 17:‏25

فٹ‌نوٹس

  • *

    یا ”‏کو طنز کرنے آتا ہے۔“‏

1-‏سموئیل 17:‏26

فٹ‌نوٹس

  • *

    یا ”‏کو طنز کرے؟“‏

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    مینارِنگہبانی ‏(‏عوامی ایڈیشن)‏،‏

    نمبر 4 2016 ص.‏ 10

1-‏سموئیل 17:‏28

فٹ‌نوٹس

  • *

    یہاں جو عبرانی لفظ اِستعمال ہوا ہے، اُس میں اپنی حد پار کرنے اور من‌مانی کرنے کا خیال بھی پایا جاتا ہے۔‏

1-‏سموئیل 17:‏32

فٹ‌نوٹس

  • *

    یا ”‏کوئی ہمت نہ ہارے۔“‏

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    مینارِنگہبانی ‏(‏عوامی ایڈیشن)‏،‏

    نمبر 4 2016 ص.‏ 10

1-‏سموئیل 17:‏33

فٹ‌نوٹس

  • *

    یا ”‏جنگجو“‏

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    مینارِنگہبانی ‏(‏عوامی ایڈیشن)‏،‏

    نمبر 4 2016 ص.‏ 11

1-‏سموئیل 17:‏35

فٹ‌نوٹس

  • *

    یا ”‏جبڑوں۔“‏ لفظی ترجمہ:‏ ”‏داڑھی“‏

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    مینارِنگہبانی ‏(‏عوامی ایڈیشن)‏،‏

    نمبر 4 2016 ص.‏ 9-‏10

1-‏سموئیل 17:‏36

فٹ‌نوٹس

  • *

    یا ”‏کو طنز کِیا ہے۔“‏

1-‏سموئیل 17:‏37

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    مینارِنگہبانی ‏(‏عوامی ایڈیشن)‏،‏

    نمبر 4 2016 ص.‏ 11

1-‏سموئیل 17:‏38

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    مینارِنگہبانی ‏(‏عوامی ایڈیشن)‏،‏

    نمبر 4 2016 ص.‏ 11

1-‏سموئیل 17:‏39

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    مینارِنگہبانی ‏(‏عوامی ایڈیشن)‏،‏

    نمبر 4 2016 ص.‏ 11

1-‏سموئیل 17:‏40

فٹ‌نوٹس

  • *

    یا ”‏وادی سے“‏

  • *

    لفظی ترجمہ:‏ ”‏چرواہے والے تھیلے“‏

  • *

    ‏”‏الفاظ کی وضاحت“‏ کو دیکھیں۔‏

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    مینارِنگہبانی ‏(‏عوامی ایڈیشن)‏،‏

    نمبر 4 2016 ص.‏ 11

1-‏سموئیل 17:‏41

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    مینارِنگہبانی ‏(‏عوامی ایڈیشن)‏،‏

    نمبر 4 2016 ص.‏ 12

1-‏سموئیل 17:‏43

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    مینارِنگہبانی ‏(‏عوامی ایڈیشن)‏،‏

    نمبر 4 2016 ص.‏ 11

1-‏سموئیل 17:‏45

فٹ‌نوٹس

  • *

    یا ”‏طنز کِیا ہے۔“‏

1-‏سموئیل 17:‏47

فٹ‌نوٹس

  • *

    لفظی ترجمہ:‏ ”‏اور اِس ساری جماعت کو“‏

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    مینارِنگہبانی ‏(‏عوامی ایڈیشن)‏،‏

    نمبر 4 2016 ص.‏ 12

1-‏سموئیل 17:‏49

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    مینارِنگہبانی ‏(‏عوامی ایڈیشن)‏،‏

    نمبر 4 2016 ص.‏ 12

1-‏سموئیل 17:‏55

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    مینارِنگہبانی،‏

    15/‏3/‏2005، ص.‏ 24

دوسرے ترجموں میں

اِس واقعے کو کسی اَور کتاب میں کھولنے کے لیے آیت کے نمبر پر کلک کریں۔
  • کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5
  • 6
  • 7
  • 8
  • 9
  • 10
  • 11
  • 12
  • 13
  • 14
  • 15
  • 16
  • 17
  • 18
  • 19
  • 20
  • 21
  • 22
  • 23
  • 24
  • 25
  • 26
  • 27
  • 28
  • 29
  • 30
  • 31
  • 32
  • 33
  • 34
  • 35
  • 36
  • 37
  • 38
  • 39
  • 40
  • 41
  • 42
  • 43
  • 44
  • 45
  • 46
  • 47
  • 48
  • 49
  • 50
  • 51
  • 52
  • 53
  • 54
  • 55
  • 56
  • 57
  • 58
کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
1-‏سموئیل 17:‏1-‏58

سموئیل کی پہلی کتاب

17 فِلِستیوں نے اپنی فوجوں کو جنگ کے لیے اِکٹھا کِیا۔ وہ یہوداہ کے شہر شوکہ میں جمع ہوئے اور شوکہ اور عزیقہ کے بیچ اِفس‌دمّیم میں پڑاؤ ڈالا۔ 2 ساؤل اور اِسرائیل کے آدمی اِکٹھے ہوئے، وادیِ‌اِیلاہ میں پڑاؤ ڈالا اور فِلِستیوں سے جنگ کرنے کے لیے صفیں باندھیں۔ 3 ایک پہاڑ پر فِلِستی تھے اور دوسرے پہاڑ پر اِسرائیلی اور اُن کے درمیان وادی تھی۔‏

4 پھر فِلِستیوں کی خیمہ‌گاہوں سے ایک سُورما نکلا جس کا نام جولیت تھا۔ وہ شہر جات سے تھا اور اُس کا قد چھ ہاتھ اور ایک بالشت*‏ تھا۔ 5 اُس کے سر پر تانبے کا ہیلمٹ تھا اور اُس نے تانبے کا بکتر*‏ پہنا ہوا تھا جس کا وزن 5000 مِثقال*‏ تھا۔ 6 اُس نے اپنی پنڈلیوں پر تانبے کے حفاظتی بند باندھے ہوئے تھے اور اُس کے کندھوں کے بیچ میں تانبے کی برچھی لٹکی ہوئی تھی۔ 7 اُس کے نیزے کا لکڑی کا دستہ جُلا‌ہے کی کھڈی کے شہتیر جیسا تھا اور اُس نیزے کے لوہے کے پھل کا وزن 600 مِثقال*‏ تھا۔ اُس کا ڈھال اُٹھانے والا سپاہی اُس کے آگے آگے چل رہا تھا۔ 8 پھر جولیت کھڑا ہوا اور اِسرائیل کی صفوں کو للکار کر کہنے لگا:‏ ”‏تُم لوگ صفیں باندھ کر جنگ کرنے کیوں آئے ہو؟ مَیں فِلِستیوں کا سب سے زبردست جنگجو ہوں اور تُم ساؤل کے خادم ہو!‏ اپنا کوئی آدمی چُنو اور اُسے میرا مقابلہ کرنے کے لیے نیچے میرے پاس بھیجو۔ 9 اگر اُس نے مجھ سے لڑ کر مجھے مار گِرایا تو ہم تمہارے خادم بن جائیں گے لیکن اگر مَیں اُس پر غالب آ گیا اور اُسے مار گِرایا تو تُم ہمارے خادم بن جاؤ گے اور ہماری خدمت کرو گے۔“‏ 10 پھر اُس فِلِستی نے کہا:‏ ”‏مَیں آج اِسرائیل کی صفوں کو للکارتا ہوں۔‏*‏ کسی مرد کو بھیجو میرے پاس!‏ ہو جائے مقابلہ!‏“‏

11 جب ساؤل اور سب اِسرائیلیوں نے اُس فِلِستی کی یہ باتیں سنیں تو وہ دہشت‌زدہ ہو گئے اور اُن پر شدید خوف طاری ہو گیا۔‏

12 داؤد یہوداہ کے علاقے بیت‌لحم میں رہنے والے ایک اِفراتی کے بیٹے تھے جس کا نام یسی تھا۔ یسی کے آٹھ بیٹے تھے اور ساؤل کے زمانے میں یسی بوڑھے ہو چُکے تھے۔ 13 یسی کے تینوں بڑے بیٹے ساؤل کے ساتھ جنگ میں گئے ہوئے تھے۔ اُن کے پہلوٹھے بیٹے کا نام اِلیاب تھا، دوسرے بیٹے کا نام ابی‌نداب تھا اور تیسرے بیٹے کا نام سمّہ تھا۔ 14 داؤد اُن کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور اُن کے تینوں بڑے بیٹے ساؤل کے ساتھ تھے۔‏

15 داؤد اپنے والد کی بھیڑیں چرانے کے لیے ساؤل کے پاس سے بیت‌لحم آیا جایا کرتے تھے۔ 16 اِس دوران وہ فِلِستی آدمی صبح شام آ کر کھڑا ہو جاتا اور اِسرائیلیوں کو للکارتا تھا۔ وہ 40 دن تک ایسا کرتا رہا۔‏

17 ایک دن یسی نے اپنے بیٹے داؤد سے کہا:‏ ”‏بیٹا!‏ یہ ایک اِیفہ بُھنا ہوا اناج*‏ اور یہ دس روٹیاں جلدی سے اپنے بھائیوں کے پاس خیمہ‌گاہ میں لے جاؤ۔ 18 اور یہ پنیر*‏ کے دس ٹکڑے اُن کے دستے*‏ کے سربراہ کو دے دینا۔ اِس کے ساتھ ساتھ اپنے بھائیوں کا حال چال بھی پتہ کرنا اور اُن سے کوئی ایسی نشانی لے کر آنا جس سے مجھے پتہ چلے کہ وہ ٹھیک ہیں۔“‏ 19 داؤد کے بھائی ساؤل اور اِسرائیل کے باقی آدمیوں کے ساتھ وادیِ‌اِیلاہ میں فِلِستیوں سے جنگ لڑنے گئے ہوئے تھے۔‏

20 داؤد صبح سویرے اُٹھے اور کسی کو بھیڑوں کی ذمے‌داری سونپی۔ پھر اُنہوں نے سامان باندھا اور یسی کے حکم کے مطابق چل پڑے۔ جب وہ خیمہ‌گاہ پہنچے تو فوجی للکارتے ہوئے میدانِ‌جنگ میں جا رہے تھے۔ 21 اِسرائیلیوں اور فِلِستیوں نے ایک دوسرے کے آمنے سامنے صفیں باندھیں۔ 22 داؤد نے فوراً اپنا سامان سازوسامان کی رکھوالی کرنے والے شخص کے پاس چھوڑا اور میدانِ‌جنگ کی طرف بھاگے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو وہ اپنے بھائیوں کی خیریت پوچھنے لگے۔‏

23 جب داؤد اُن لوگوں سے بات کر رہے تھے تو جات کے علاقے کا فِلِستی سُورما جولیت فِلِستیوں کی صفوں سے باہر آیا۔ اُس نے پھر سے وہی باتیں کہیں جو اُس نے پہلے کہی تھیں اور داؤد نے اُس کی باتیں سنیں۔ 24 جب اِسرائیل کے آدمیوں نے اُس شخص کو دیکھا تو وہ سب خوف‌زدہ ہو کر اُس سے دُور بھاگ گئے۔ 25 اِسرائیل کے آدمی کہہ رہے تھے:‏ ”‏اِس آدمی کو دیکھو جو آ رہا ہے!‏ یہ اِسرائیل کو للکارنے آتا ہے۔‏*‏ جو شخص اِس آدمی کو مار گِرائے گا، بادشاہ اُسے مالامال کرے گا، اپنی بیٹی کی شادی اُس سے کرائے گا اور اُس کے والد کے گھرانے کو ٹیکس اور خدمات کے حوالے سے چُھوٹ دے گا۔“‏

26 داؤد اپنے پاس کھڑے آدمیوں سے پوچھنے لگے:‏ ”‏اُس آدمی کو کیا ملے گا جو اِس فِلِستی کو مار گِرائے گا اور اِسرائیل کی بدنامی دُور کرے گا؟ اِس غیرمختون فِلِستی کی یہ مجال کہ یہ زندہ خدا کی فوج کو للکارے؟“‏*‏ 27 تب لوگوں نے داؤد کو پہلے والی باتیں بتاتے ہوئے کہا کہ جو شخص اِس آدمی کو مار گِرائے گا، اُسے یہ یہ ملے گا۔ 28 جب داؤد کے سب سے بڑے بھائی اِلیاب نے اُنہیں لوگوں سے باتیں کرتے سنا تو وہ اُن پر غصہ ہوئے اور کہنے لگے:‏ ”‏تُم یہاں کیوں آئے ہو؟ اور تُم نے اُن تھوڑی سی بھیڑوں کو ویرانے میں کس کے پاس چھوڑا ہے؟ مَیں جانتا ہوں کہ تُم کتنے گستاخ*‏ ہو اور تمہاری نیت صاف نہیں ہے۔ تُم بس یہاں جنگ دیکھنے آئے ہو۔“‏ 29 اِس پر داؤد نے کہا:‏ ”‏اب مَیں نے کیا کِیا؟ مَیں بس ایک سوال ہی تو پوچھ رہا تھا!‏“‏ 30 پھر داؤد اُن کے پاس سے کسی اَور کے پاس چلے گئے اور اُس سے وہی بات پوچھی اور لوگوں نے داؤد کو پھر سے وہی جواب دیا۔‏

31 کچھ لوگوں نے داؤد کی باتیں سُن کر ساؤل کو بتائیں۔ اِس لیے ساؤل نے داؤد کو بُلوایا۔ 32 داؤد نے ساؤل سے کہا:‏ ”‏اُس فِلِستی کی وجہ سے کسی کا دل نہ گھبرائے۔‏*‏ آپ کا خادم جائے گا اور اُس سے لڑے گا۔“‏ 33 لیکن ساؤل نے داؤد سے کہا:‏ ”‏آپ اُس فِلِستی سے نہیں لڑ سکتے کیونکہ آپ بس ایک چھوٹے لڑکے ہو اور وہ چھوٹی عمر سے سپاہی*‏ ہے۔“‏ 34 اِس پر داؤد نے ساؤل سے کہا:‏ ”‏آپ کا خادم اپنے والد کی بھیڑوں کا چرواہا ہے۔ ایک بار ایک شیر آیا اور ایک بار ایک ریچھ اور وہ دونوں ہمارے گلّے سے ایک ایک بھیڑ اُٹھا کر لے گئے۔ 35 مَیں اُن کے پیچھے گیا اور اُنہیں پکڑ لیا اور اُن کے مُنہ سے اپنی بھیڑوں کو بچا لیا۔ جب اُنہوں نے مجھ پر حملہ کِیا تو مَیں نے اُنہیں بالوں*‏ سے پکڑ لیا اور گِرا کر مار ڈالا۔ 36 آپ کے خادم نے شیر اور ریچھ دونوں کو مار گِرایا اور اِس غیرمختون فِلِستی کا بھی وہی حال ہوگا کیونکہ اِس نے زندہ خدا کی فوج کو للکارا ہے۔“‏*‏ 37 پھر داؤد نے کہا:‏ ”‏یہوواہ نے مجھے شیر اور ریچھ کے پنجوں سے بچایا اور وہی مجھے اِس فِلِستی کے ہاتھ سے بھی بچائے گا۔“‏ اِس پر ساؤل نے داؤد سے کہا:‏ ”‏جاؤ، یہوواہ آپ کے ساتھ ہو۔“‏

38 پھر ساؤل نے داؤد کو اپنا جنگی لباس پہنایا۔ اُنہوں نے اُن کے سر پر تانبے کا ہیلمٹ رکھا اور پھر اُنہیں بکتر پہنایا۔ 39 اِس کے بعد داؤد نے اُس جنگی لباس پر تلوار باندھی اور چلنے کی کوشش کی لیکن چل نہیں سکے کیونکہ وہ اِس کے عادی نہیں تھے۔ داؤد نے ساؤل سے کہا:‏ ”‏مَیں یہ چیزیں پہن کر نہیں جا سکتا کیونکہ مَیں اِن کا عادی نہیں ہوں۔“‏ اِس لیے داؤد نے اُنہیں اُتار دیا۔ 40 پھر اُنہوں نے اپنے ہاتھ میں اپنی لاٹھی لی اور ندی کی تہہ سے*‏ پانچ چکنے پتھر اُٹھا کر اُنہیں اپنے تھیلے*‏ کی جیب میں رکھا۔ اُن کے ہاتھ میں اُن کی فلاخن*‏ تھی۔ اِس کے بعد وہ اُس فِلِستی کی طرف بڑھنے لگے۔‏

41 وہ فِلِستی داؤد کے قریب آتا گیا اور اُس کا ڈھال اُٹھانے والا سپاہی اُس کے آگے آگے تھا۔ 42 جب اُس فِلِستی نے داؤد کو دیکھا تو وہ حقارت‌بھری نظروں سے اُنہیں گھورنے لگا کیونکہ داؤد بس ایک سُرخ‌وسفید اور خوب‌صورت سے لڑکے تھے۔ 43 اُس نے داؤد سے کہا:‏ ”‏کیا مَیں کُتا ہوں جو تُم چھڑی لے کر میرا مقابلہ کرنے آئے ہو؟“‏ پھر وہ فِلِستی اپنے دیوتاؤں کے نام لے کر داؤد پر لعنت بھیجنے لگا۔ 44 اِس کے بعد اُس نے داؤد سے کہا:‏ ”‏میرے پاس آؤ تو سہی۔ مَیں تمہارا گوشت آسمان کے پرندوں اور میدان کے جنگلی جانوروں کو کھلاؤں گا۔“‏

45 داؤد نے اُس فِلِستی کو جواب دیا:‏ ”‏تُم تلوار اور نیزہ اور برچھی لے کر مجھ سے لڑنے آ رہے ہو۔ لیکن مَیں فوجوں کے خدا یہوواہ کے نام سے تمہارا مقابلہ کرنے آ رہا ہوں جو اِسرائیل کی فوج کا خدا ہے اور جسے تُم نے للکارا ہے۔‏*‏ 46 آج ہی یہوواہ تمہیں میرے ہاتھ میں کر دے گا اور مَیں تمہیں مار گِراؤں گا اور تمہارا سر کاٹ دوں گا۔ اور آج ہی کے دن مَیں فِلِستی سپاہیوں کی لاشیں آسمان کے پرندوں اور زمین کے جنگلی جانوروں کو کھلاؤں گا اور زمین کے سب لوگ جان جائیں گے کہ اِسرائیل میں ایک خدا ہے۔ 47 اور جتنے لوگ یہاں جمع ہیں، اُنہیں*‏ پتہ چل جائے گا کہ یہوواہ تلوار یا نیزے کے ذریعے نہیں بچاتا کیونکہ یہ جنگ یہوواہ کی ہے اور وہی تُم سب کو ہمارے حوالے کر دے گا۔“‏

48 تب وہ فِلِستی داؤد پر حملہ کرنے کے لیے اُن کی طرف بڑھا۔ اور داؤد اُس فِلِستی کا مقابلہ کرنے کے لیے دُشمن فوج کی طرف بھاگے۔ 49 داؤد نے اپنے تھیلے میں ہاتھ ڈالا اور ایک پتھر نکال کر اُسے فلاخن میں رکھا۔ اُنہوں نے اِسے گھما کر اُس فِلِستی کے ماتھے کی طرف پھینکا۔ پتھر سیدھا جا کر اُس فِلِستی کے ماتھے میں دھنس گیا اور وہ مُنہ کے بل زمین پر گِر گیا۔ 50 اِس طرح داؤد ایک فلاخن اور ایک پتھر کے ذریعے اُس فِلِستی پر غالب آئے۔ اُنہوں نے اُس فِلِستی کو مار گِرایا حالانکہ اُن کے ہاتھ میں کوئی تلوار نہیں تھی۔ 51 داؤد اُس کی طرف بھاگتے گئے اور جا کر اُس کے اُوپر کھڑے ہو گئے۔ پھر داؤد نے اُس کی تلوار پکڑ کر میان سے نکالی اور اُس کا سر قلم کر کے یہ پکا کِیا کہ وہ مر چُکا ہے۔ جب فِلِستیوں نے دیکھا کہ اُن کا سُورما مر گیا ہے تو وہ بھاگ گئے۔‏

52 یہ دیکھ کر اِسرائیل اور یہوداہ کے آدمی اُٹھے اور نعرے مارنے لگے۔ وہ وادی سے عِقرون کے دروازوں تک فِلِستیوں کے پیچھے گئے اور اُنہیں مارتے گئے۔ شعریم سے جات اور عِقرون تک پورے راستے میں فِلِستیوں کی لاشیں بچھی ہوئی تھیں۔ 53 پوری شدت سے فِلِستیوں کا پیچھا کرنے کے بعد جب اِسرائیلی واپس آئے تو اُنہوں نے اُن کے خیموں کو لُوٹ لیا۔‏

54 پھر داؤد اُس فِلِستی کے سر کو یروشلم لے آئے لیکن اُنہوں نے اُس کے ہتھیار اپنے خیمے میں رکھ لیے۔‏

55 جب ساؤل نے دیکھا کہ داؤد اُس فِلِستی کا مقابلہ کرنے جا رہے ہیں تو اُنہوں نے اپنی فوج کے سربراہ ابنیر سے پوچھا:‏ ”‏ابنیر!‏ یہ لڑکا کس کا بیٹا ہے؟“‏ ابنیر نے جواب دیا:‏ ”‏بادشاہ سلامت!‏ آپ کی جان کی قسم، مَیں نہیں جانتا۔“‏ 56 بادشاہ نے کہا:‏ ”‏پتہ لگاؤ کہ یہ نوجوان کس کا بیٹا ہے؟“‏ 57 جیسے ہی داؤد اُس فِلِستی کو مار کر واپس آئے، ابنیر اُنہیں ساؤل کے پاس لے گئے۔ داؤد نے اُس فِلِستی کا سر اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا۔ 58 ساؤل نے داؤد سے پوچھا:‏ ”‏آپ کس کے بیٹے ہو؟“‏ داؤد نے جواب دیا:‏ ”‏مَیں آپ کے خادم یسی کا بیٹا ہوں جو بیت‌لحم میں رہتے ہیں۔“‏

اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
لاگ آؤٹ
لاگ اِن
  • اُردو
  • شیئر کریں
  • ترجیحات
  • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
  • اِستعمال کی شرائط
  • رازداری کی پالیسی
  • رازداری کی سیٹنگز
  • JW.ORG
  • لاگ اِن
شیئر کریں