یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • 1-‏سموئیل 14
  • کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

1-‏سموئیل کے ابواب کا خاکہ

      • مِکماس میں یونتن کی جیت ‏(‏1-‏14‏)‏

      • اِسرائیل کے دُشمنوں کی ہار ‏(‏15-‏23‏)‏

      • جلدبازی میں کھائی ہوئی ساؤل کی قسم ‏(‏24-‏46‏)‏

        • لوگ خون سمیت گوشت کھانے لگتے ہیں ‏(‏32-‏34‏)‏

      • ساؤل کی جنگیں؛ اُن کا گھرانہ ‏(‏47-‏52‏)‏

1-‏سموئیل 14:‏12

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    اِن جیسا ایمان ظاہر کریں،‏ مضمون 2

1-‏سموئیل 14:‏13

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    اِن جیسا ایمان ظاہر کریں،‏ مضمون 2

1-‏سموئیل 14:‏14

فٹ‌نوٹس

  • *

    لفظی ترجمہ:‏ ”‏کھیت کی ایک بالشت“‏ یعنی زمین کا اُتنا حصہ جتنا بیلوں کی ایک جوڑی ایک دن میں جوت سکتی تھی

1-‏سموئیل 14:‏19

فٹ‌نوٹس

  • *

    لفظی ترجمہ:‏ ”‏اپنا ہاتھ پیچھے کر لیں۔“‏

1-‏سموئیل 14:‏24

فٹ‌نوٹس

  • *

    لفظی ترجمہ:‏ ”‏روٹی“‏

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    اِن جیسا ایمان ظاہر کریں،‏ مضمون 2

1-‏سموئیل 14:‏25

فٹ‌نوٹس

  • *

    لفظی ترجمہ:‏ ”‏سارا ملک“‏

1-‏سموئیل 14:‏26

فٹ‌نوٹس

  • *

    لفظی ترجمہ:‏ ”‏کسی نے بھی اپنا ہاتھ اپنے مُنہ میں نہیں ڈالا“‏

1-‏سموئیل 14:‏27

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    مینارِنگہبانی،‏

    15/‏3/‏2005، ص.‏ 22-‏23

1-‏سموئیل 14:‏41

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    اِجلاس کے قاعدے کے لیے حوالے،‏ 9/‏2020، ص.‏ 3

1-‏سموئیل 14:‏45

فٹ‌نوٹس

  • *

    یا ”‏نجات“‏

دوسرے ترجموں میں

اِس واقعے کو کسی اَور کتاب میں کھولنے کے لیے آیت کے نمبر پر کلک کریں۔
  • کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5
  • 6
  • 7
  • 8
  • 9
  • 10
  • 11
  • 12
  • 13
  • 14
  • 15
  • 16
  • 17
  • 18
  • 19
  • 20
  • 21
  • 22
  • 23
  • 24
  • 25
  • 26
  • 27
  • 28
  • 29
  • 30
  • 31
  • 32
  • 33
  • 34
  • 35
  • 36
  • 37
  • 38
  • 39
  • 40
  • 41
  • 42
  • 43
  • 44
  • 45
  • 46
  • 47
  • 48
  • 49
  • 50
  • 51
  • 52
کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
1-‏سموئیل 14:‏1-‏52

سموئیل کی پہلی کتاب

14 ایک دن ساؤل کے بیٹے یونتن نے اپنے اُس خادم سے جو اُن کے ہتھیار اُٹھایا کرتا تھا، کہا:‏ ”‏آؤ دوسری طرف فِلِستیوں کی چوکی کے پاس چلیں۔“‏ مگر اُنہوں نے اپنے والد کو اِس بارے میں نہیں بتایا۔ 2 ساؤل جِبعہ کے باہر مِجرون میں انار کے درخت کے نیچے رُکے ہوئے تھے اور اُن کے ساتھ تقریباً 600 آدمی تھے۔ 3 ‏(‏اخی‌طُوب کے بیٹے اخیاہ نے افود پہنا ہوا تھا۔ اخی‌طُوب یِکبود کے بھائی تھے جو فینحاس کے بیٹے تھے جو عیلی کے بیٹے تھے جو سیلا میں یہوواہ کے کاہن تھے۔)‏ لوگوں کو نہیں پتہ تھا کہ یونتن وہاں سے چلے گئے ہیں۔ 4 یونتن جس گھاٹی سے فِلِستیوں کی چوکی تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے، اُس کی دونوں طرف دانت‌نما چٹانیں تھیں۔ ایک چٹان کا نام بوصِیص تھا اور دوسری چٹان کا نام سِنہ تھا۔ 5 ایک چٹان شمال کی طرف ستون کی طرح کھڑی تھی اور اُس کے سامنے مِکماس تھا اور دوسری چٹان جنوب کی طرف تھی اور اُس کے سامنے جبع تھا۔‏

6 یونتن نے ہتھیار اُٹھانے والے اپنے خادم سے کہا:‏ ”‏آؤ اُس پار اِن غیرمختون آدمیوں کی چوکی کے پاس چلیں۔ شاید یہوواہ ہماری خاطر کارروائی کرے کیونکہ کوئی بھی چیز یہوواہ کو اپنے بندوں کو بچانے سے روک نہیں سکتی پھر چاہے وہ زیادہ لوگوں کے ذریعے بچائے یا تھوڑے لوگوں کے ذریعے۔“‏ 7 اُن کے خادم نے اُن سے کہا:‏ ”‏جو آپ کا دل کہتا ہے، کریں اور جہاں آپ جانا چاہتے ہیں، جائیں۔ آپ جہاں بھی جائیں گے، مَیں آپ کے ساتھ چلوں گا۔“‏ 8 یونتن نے کہا:‏ ”‏ہم اُس پار اُن آدمیوں کے پاس جائیں گے تاکہ وہ ہمیں دیکھ سکیں۔ 9 اگر وہ ہم سے کہیں گے:‏ ”‏ہمارے آنے تک وہیں کھڑے رہو“‏ تو ہم وہیں کھڑے رہیں گے اور اُوپر اُن کے پاس نہیں جائیں گے۔ 10 لیکن اگر وہ کہیں گے:‏ ”‏آؤ ہمارا سامنا کرو“‏ تو ہم اُوپر اُن کے پاس جائیں گے کیونکہ یہ اِس بات کی نشانی ہوگی کہ یہوواہ اُنہیں ہمارے حوالے کر دے گا۔“‏

11 پھر وہ دونوں ایسی جگہ جا کر کھڑے ہو گئے جہاں سے فِلِستی اپنی چوکی سے اُنہیں دیکھ سکیں۔ فِلِستیوں نے کہا:‏ ”‏دیکھو!‏ عبرانی اپنی بِلوں سے باہر آ رہے ہیں جن میں وہ چھپے ہوئے تھے۔“‏ 12 چوکی پر موجود آدمیوں نے یونتن اور اُن کے خادم سے کہا:‏ ”‏ہمارے پاس اُوپر آؤ!‏ ہم تمہیں سبق سکھائیں گے!‏“‏ یونتن نے فوراً اپنے خادم سے کہا:‏ ”‏میرے پیچھے پیچھے آؤ کیونکہ یہوواہ اِنہیں اِسرائیل کے حوالے کر دے گا۔“‏ 13 یونتن اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے بل اُوپر چڑھ گئے اور اُن کا خادم اُن کے پیچھے پیچھے تھا۔ فِلِستی یونتن کے سامنے ڈھیر ہوتے گئے اور اُن کا خادم اُن کے پیچھے پیچھے اُنہیں مارتا گیا۔ 14 یونتن اور اُن کے خادم نے جو پہلا حملہ کِیا، اُس میں اُنہوں نے ایک ایکڑ زمین پر بنی کیاری کے تقریباً آدھے حصے*‏ کے اندر اندر لگ بھگ 20 آدمی مار ڈالے۔‏

15 خیمہ‌گاہ اور چوکی کے سب آدمیوں پر دہشت چھا گئی، یہاں تک کہ لُوٹ‌مار کرنے والے دستے بھی دہشت‌زدہ ہو گئے۔ زمین لرزنے لگی اور خدا کی طرف سے اُن پر خوف طاری ہو گیا۔ 16 بِنیامین کے علاقے جِبعہ میں ساؤل کے پہرےداروں نے دیکھا کہ ہر طرف افراتفری پھیل رہی ہے۔‏

17 ساؤل نے اپنے آدمیوں سے کہا:‏ ”‏ذرا گنتی کرو اور دیکھو کہ کون یہاں نہیں ہے۔“‏ جب اُنہوں نے گنتی کی تو پتہ چلا کہ یونتن اور اُن کا ہتھیار اُٹھانے والا خادم وہاں نہیں تھے۔ 18 ساؤل نے اخیاہ سے کہا:‏ ”‏سچے خدا کے صندوق کو یہاں لائیں!‏“‏ (‏اُس وقت سچے خدا کا صندوق اِسرائیلیوں کے پاس تھا۔)‏ 19 جس دوران ساؤل کاہن سے بات کر رہے تھے، فِلِستیوں کی خیمہ‌گاہ میں افراتفری بڑھتی جا رہی تھی۔ ساؤل نے کاہن سے کہا:‏ ”‏آپ جو کر رہے ہیں، اُسے روک دیں۔“‏*‏ 20 پھر ساؤل اور اُن کے سب آدمی اِکٹھے ہوئے اور فِلِستیوں سے جنگ لڑنے کے لیے گئے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو اُنہوں نے دیکھا کہ فِلِستی ایک دوسرے پر ہی تلواریں چلا رہے ہیں اور بڑی کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ 21 اِس کے علاوہ جو عبرانی فِلِستیوں کے ساتھ مل گئے تھے اور اُن کے ساتھ اُن کی خیمہ‌گاہ میں چلے گئے تھے، وہ بھی اُن اِسرائیلیوں کی طرف آ گئے جو ساؤل اور یونتن کے ساتھ تھے۔ 22 جب اُن سب اِسرائیلی آدمیوں نے جو اِفرائیم کے پہاڑی علاقے میں چھپے ہوئے تھے، سنا کہ فِلِستی بھاگ گئے ہیں تو وہ بھی جنگ میں شامل ہو کر اُن کے پیچھے گئے۔ 23 اِس طرح یہوواہ نے اُس دن اِسرائیل کو بچایا اور جنگ بیت‌آوِن کے علاقے تک چلتی رہی۔‏

24 لیکن اُس دن اِسرائیلی آدمیوں کی بُری حالت ہو گئی تھی کیونکہ ساؤل نے لوگوں کو یہ قسم دی تھی:‏ ”‏جب تک شام نہیں ہو جاتی اور مَیں اپنے دُشمنوں سے بدلہ نہیں لے لیتا تب تک اگر کسی شخص نے کچھ*‏ کھایا تو اُس پر لعنت ہو گی!‏“‏ اِس لیے کسی بھی شخص نے کچھ نہیں کھایا تھا۔‏

25 سب لوگ*‏ جنگل میں آئے۔ وہاں زمین پر شہد پڑا ہوا تھا۔ 26 جب وہ لوگ جنگل میں آئے تو اُنہوں نے دیکھا کہ شہد ٹپک رہا ہے۔ لیکن کسی نے بھی شہد نہیں کھایا*‏ کیونکہ وہ لوگ قسم کی وجہ سے ڈرے ہوئے تھے۔ 27 مگر یونتن کو نہیں پتہ تھا کہ اُن کے والد نے لوگوں کو قسم دی ہوئی ہے۔ اِس لیے اُنہوں نے اپنے ہاتھ میں موجود لاٹھی بڑھائی اور اُس کا سِرا شہد کے چھتّے میں ڈبویا۔ پھر جب اُنہوں نے ہاتھ پیچھے کر کے شہد مُنہ میں ڈالا تو اُن کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ 28 اِس پر ایک آدمی نے یونتن سے کہا:‏ ”‏آپ کے والد نے لوگوں کو قسم دیتے ہوئے سختی سے کہا تھا کہ ”‏آج جو بھی آدمی کچھ کھائے گا، اُس پر لعنت ہوگی!‏“‏ اِسی لیے لوگ اِتنے نڈھال ہیں۔“‏ 29 تب یونتن نے کہا:‏ ”‏میرے والد کی وجہ سے لوگ مصیبت میں پڑ گئے ہیں۔ دیکھیں ذرا سا شہد چکھنے سے میری آنکھوں میں کتنی چمک آ گئی ہے۔ 30 کتنا اچھا ہوتا اگر لوگوں نے آج دُشمنوں سے لُوٹے ہوئے مال سے جی بھر کر کھایا ہوتا!‏ پھر ہم اَور بھی زیادہ فِلِستیوں کو مار پاتے۔“‏

31 اُس دن وہ مِکماس سے ایالون تک فِلِستیوں کو مارتے گئے اور وہ تھک کر چُور ہو گئے۔ 32 اِس لیے لوگ لُوٹ کے مال پر ٹوٹ پڑے۔ اُنہوں نے بھیڑوں، گائے‌بیلوں اور بچھڑوں کو لے کر زمین پر ذبح کِیا اور خون سمیت اُن کا گوشت کھانے لگے۔ 33 تب ساؤل کو یہ خبر دی گئی:‏ ”‏دیکھیں!‏ لوگ خون سمیت گوشت کھا کر یہوواہ کے خلاف گُناہ کر رہے ہیں۔“‏ اِس پر ساؤل نے کہا:‏ ”‏آپ لوگوں نے بے‌وفائی کی ہے۔ فوراً ایک بڑا پتھر لُڑھکا کر میرے پاس لاؤ۔“‏ 34 پھر ساؤل نے کہا:‏ ”‏لوگوں میں پھیل جاؤ اور اُن سے کہو:‏ ”‏ہر کوئی اپنے بیل یا بھیڑ کو یہاں لا کر ذبح کرے اور پھر اُس کا گوشت کھائے۔ خون سمیت گوشت کھا کر یہوواہ کے خلاف گُناہ نہ کرو۔“‏“‏ اِس لیے اُن میں سے ہر ایک نے اُس رات اپنا بیل وہاں لا کر ذبح کِیا۔ 35 اِس کے بعد ساؤل نے یہوواہ کے لیے ایک قربان‌گاہ بنائی۔ یہ پہلی قربان‌گاہ تھی جو اُنہوں نے یہوواہ کے لیے بنائی تھی۔‏

36 بعد میں ساؤل نے کہا:‏ ”‏آؤ رات میں فِلِستیوں کے پیچھے چلیں اور صبح روشنی ہونے تک اُنہیں لُوٹیں۔ ہم اُن میں سے ایک کو بھی زندہ نہیں چھوڑیں گے۔“‏ اِس پر سپاہیوں نے کہا:‏ ”‏جو آپ کو صحیح لگے، وہ کریں۔“‏ پھر کاہن نے کہا:‏ ”‏آئیں ہم یہاں سچے خدا سے پوچھتے ہیں۔“‏ 37 ساؤل نے خدا سے پوچھا:‏ ”‏کیا مجھے فِلِستیوں کے پیچھے جانا چاہیے؟ کیا تُو اُنہیں اِسرائیل کے حوالے کر دے گا؟“‏ لیکن خدا نے اُس دن ساؤل کو کوئی جواب نہیں دیا۔ 38 تب ساؤل نے کہا:‏ ”‏لوگوں کے سب سردارو!‏ یہاں آؤ اور پتہ لگاؤ کہ آج کون سا گُناہ کِیا گیا ہے؟ 39 اِسرائیل کو بچانے والے زندہ خدا یہوواہ کی قسم!‏ جس نے بھی گُناہ کِیا ہے، اُسے مرنا ہوگا پھر چاہے وہ میرا بیٹا یونتن ہی کیوں نہ ہو۔“‏ لیکن لوگوں نے ساؤل کو کچھ نہیں بتایا۔ 40 پھر ساؤل نے سارے اِسرائیل سے کہا:‏ ”‏آپ سب ایک طرف ہوں گے اور مَیں اور میرا بیٹا یونتن دوسری طرف ہوں گے۔“‏ اِس پر لوگوں نے ساؤل سے کہا:‏ ”‏جو آپ کو صحیح لگے، وہ کریں۔“‏

41 اِس کے بعد ساؤل نے یہوواہ سے کہا:‏ ”‏اَے اِسرائیل کے خدا!‏ تُمّیم کے ذریعے جواب دے۔“‏ تب یونتن اور ساؤل کا نام سامنے آیا اور لوگ بچ گئے۔ 42 پھر ساؤل نے کہا:‏ ”‏قُرعہ ڈال کر دیکھو کہ کس نے گُناہ کِیا ہے، مَیں نے یا میرے بیٹے یونتن نے۔“‏ اور یونتن کا نام نکلا۔ 43 تب ساؤل نے یونتن سے کہا:‏ ”‏مجھے بتاؤ آپ نے کیا کِیا ہے؟“‏ یونتن نے کہا:‏ ”‏مَیں نے بس اپنے ہاتھ میں موجود لاٹھی کے سِرے پر تھوڑا سا شہد لگا کر چکھا تھا۔ مَیں مرنے کے لیے تیار ہوں۔“‏

44 اِس پر ساؤل نے کہا:‏ ”‏یونتن!‏ اگر آپ کو موت کی سزا نہ ملی تو خدا مجھے کڑی سے کڑی سزا دے۔“‏ 45 لیکن لوگوں نے ساؤل سے کہا:‏ ”‏کیا یونتن کو مار ڈالا جائے گا جنہوں نے اِسرائیل کو اِتنی زبردست فتح*‏ دِلائی ہے؟ نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا!‏ زندہ خدا یہوواہ کی قسم!‏ اُن کا ایک بال بھی بیکا نہیں ہوگا کیونکہ اُنہوں نے آج خدا کے ساتھ مل کر کام کِیا ہے۔“‏ اِس طرح لوگوں نے یونتن کو بچا لیا اور اُنہیں مرنا نہیں پڑا۔‏

46 اِس کے بعد ساؤل نے فِلِستیوں کا پیچھا کرنا چھوڑ دیا اور فِلِستی اپنے علاقے میں چلے گئے۔‏

47 ساؤل نے اِسرائیل پر اپنی حکومت کو مضبوط کِیا اور اپنے آس‌پاس کے سبھی دُشمنوں سے جنگ کی یعنی موآبیوں، عمونیوں، ادومیوں، ضوباہ کے بادشاہوں اور فِلِستیوں سے۔ وہ جہاں بھی گئے، اُنہوں نے اپنے دُشمنوں کو شکست دی۔ 48 اُنہوں نے بڑی بہادری سے عمالیقیوں سے جنگ کی اور اُنہیں ہرایا اور اِسرائیل کو لُوٹ‌مار کرنے والوں کے ہاتھ سے بچایا۔‏

49 ساؤل کے بیٹوں کے نام یہ تھے:‏ یونتن، اِسوی اور مَلکی‌شُوع۔ اُن کی دو بیٹیاں بھی تھیں۔ بڑی بیٹی کا نام میرب تھا اور چھوٹی بیٹی کا نام میکل تھا۔ 50 اُن کی بیوی کا نام اخی‌نوعم تھا جو اخی‌معض کی بیٹی تھیں۔ ساؤل کی فوج کے سربراہ کا نام ابنیر تھا جو نِیر کے بیٹے اور ساؤل کے چچا تھے۔ 51 ساؤل قِیس کے بیٹے تھے اور ابنیر کے والد نِیر، ابی‌ایل کے بیٹے تھے۔‏

52 ساؤل کے زمانے میں اُن کے اور فِلِستیوں کے درمیان سخت جنگ ہوتی رہی۔ ساؤل جب بھی کسی طاقت‌ور یا بہادر آدمی کو دیکھتے، وہ اُسے اپنی فوج میں بھرتی کر لیتے۔‏

اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
لاگ آؤٹ
لاگ اِن
  • اُردو
  • شیئر کریں
  • ترجیحات
  • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
  • اِستعمال کی شرائط
  • رازداری کی پالیسی
  • رازداری کی سیٹنگز
  • JW.ORG
  • لاگ اِن
شیئر کریں