رُوت
2 نعومی کے شوہر کا ایک رشتےدار تھا جو بہت امیر تھا۔ اُس کا نام بوعز تھا اور وہ اِلیمَلِک کے خاندان سے تھا۔
2 موآبی عورت رُوت نے نعومی سے کہا: ”مجھے کھیتوں میں جانے کی اِجازت دیں تاکہ مَیں کٹائی کرنے والے اُن لوگوں کے پیچھے پیچھے بالیں جمع کر سکوں جو مجھ پر مہربانی کریں۔“ نعومی نے کہا: ”جاؤ میری بچی۔“ 3 اِس پر رُوت گئیں اور کھیت میں جا کر فصل کاٹنے والوں کے پیچھے پیچھے بچی ہوئی بالیں جمع کرنے لگیں۔ اِتفاق سے وہ بوعز کے کھیت میں پہنچ گئیں جو اِلیمَلِک کے خاندان سے تھے۔ 4 اِتنے میں بوعز شہر بیتلحم سے اپنے کھیتوں میں آئے اور کٹائی کرنے والوں سے کہا: ”یہوواہ آپ کے ساتھ ہو۔“ اور اُنہوں نے جواب دیا: ”یہوواہ آپ کو برکت دے۔“
5 پھر بوعز نے اُس جوان آدمی سے جو کٹائی کرنے والوں کا نگران تھا، پوچھا: ”یہ لڑکی کس خاندان سے ہے؟“ 6 اُس نے جواب دیا: ”یہ لڑکی موآبی ہے اور نعومی کے ساتھ موآب کے علاقے* سے یہاں آئی ہے۔ 7 اُس نے مجھ سے پوچھا تھا: ”مہربانی سے کیا مَیں کٹی ہوئی اُن بالوں میں سے* اناج چُن سکتی ہوں جو کٹائی کرنے والوں نے چھوڑ دی ہیں؟“ وہ صبح سے مسلسل کام میں لگی ہوئی ہے۔ بس ابھی ابھی ذرا سا آرام کرنے کے لیے چھپر* کے سائے میں بیٹھی ہے۔“
8 پھر بوعز نے رُوت سے کہا: ”سنو بیٹی! آپ کسی دوسرے کھیت میں بالیں جمع کرنے نہ جانا۔ کہیں اَور جانے کی بجائے میرے کھیت میں کام کرنے والی عورتوں کے ساتھ ہی رہنا۔ 9 دیکھتی رہنا کہ کھیت کے کس حصے میں کٹائی ہو رہی ہے اور پھر عورتوں کے ساتھ وہاں چلی جانا۔ مَیں نے اپنے آدمیوں کو تاکید کی ہے کہ وہ آپ کو پریشان نہ کریں۔* جب آپ کو پیاس لگے تو پانی کے اُن مٹکوں سے پانی پی لینا جو میرے آدمیوں نے بھر کر رکھے ہیں۔“
10 یہ سُن کر رُوت جھکیں اور مُنہ کے بل زمین پر گِر کر بوعز سے کہنے لگیں: ”مَیں تو ایک پردیسی ہوں تو پھر آپ کا دھیان مجھ پر کیسے چلا گیا اور آپ مجھ پر نظرِکرم کیوں کر رہے ہیں؟“ 11 بوعز نے اُنہیں جواب دیا: ”مجھے وہ سب کچھ بتایا گیا ہے جو آپ نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد اپنی ساس کے لیے کِیا ہے اور یہ بھی کہ آپ اپنے ماں باپ اور اپنے دیس کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کے بیچ رہنے آئی ہو جنہیں آپ پہلے نہیں جانتی تھی۔ 12 جو کچھ آپ نے کِیا ہے، یہوواہ آپ کو اُس کا صلہ دے اور اِسرائیل کے خدا یہوواہ کی طرف سے جس کے پَروں کے نیچے آپ پناہ لینے آئی ہو، آپ کو بڑا اجر ملے۔“ 13 تب رُوت نے کہا: ”مجھ پر آپ کی نظرِکرم رہے میرے مالک! آپ نے مجھے تسلی دی ہے اور اپنی باتوں سے اپنی خادمہ کا حوصلہ بڑھایا ہے حالانکہ مَیں تو آپ کے خادموں میں سے بھی نہیں ہوں۔“
14 جب کھانے کا وقت ہوا تو بوعز نے رُوت سے کہا: ”اِدھر آؤ، تھوڑی روٹی کھا لو؛ سِرکے میں ڈبو ڈبو کر کھاؤ۔“ اِس پر رُوت کٹائی کرنے والوں کے ساتھ بیٹھ گئیں۔ پھر بوعز نے اُنہیں بُھنا ہوا تھوڑا اناج دیا۔ رُوت نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور اُن کے پاس کچھ کھانا بچ بھی گیا۔ 15 جب وہ بالیں جمع کرنے کے لیے اُٹھیں تو بوعز نے اپنے آدمیوں کو تاکید کی: ”اُسے اناج کی کٹی ہوئی بالوں میں سے بھی* جمع کرنے دینا اور اُسے پریشان مت کرنا۔ 16 اناج کے گٹھوں میں سے بھی اُس کے لیے کچھ بالیں نکال دینا تاکہ وہ آپ کے پیچھے پیچھے اِنہیں جمع کر سکے اور اُسے منع مت کرنا۔“
17 رُوت شام تک کھیت میں بالیں جمع کرتی رہیں۔ جب اُنہوں نے اُن بالوں کو کُوٹا جو اُنہوں نے جمع کی تھیں تو یہ تقریباً ایک اِیفہ* جَو بنا۔ 18 اُنہوں نے اِسے اُٹھایا اور واپس شہر چلی گئیں۔ گھر پہنچ کر اُنہوں نے اپنی ساس کو وہ اناج دِکھایا جو وہ جمع کر کے لائی تھیں۔ رُوت نے اُنہیں وہ کھانا بھی دیا جو اُن کے پیٹ بھر کر کھانے کے بعد بچ گیا تھا۔
19 اُن کی ساس نے اُن سے پوچھا: ”آپ نے آج کہاں کام کِیا؛ کہاں بالیں جمع کیں؟ خدا اُس شخص کو برکت دے جس نے آپ پر مہربانی کی۔“ رُوت نے اپنی ساس کو بتایا کہ اُنہوں نے کس کے پاس کام کِیا تھا۔ اُنہوں نے کہا: ”مَیں نے آج جس شخص کے کھیت میں کام کِیا، اُس کا نام بوعز ہے۔“ 20 اِس پر نعومی نے اپنی بہو سے کہا: ”بےشک یہوواہ نے زندوں اور مُردوں کے لیے اٹوٹ محبت ظاہر کرنی نہیں چھوڑی۔ وہ بوعز کو برکت دے۔“ نعومی نے یہ بھی کہا: ”بوعز ہمارے رشتےدار ہیں۔ وہ اُن لوگوں میں سے ایک ہیں جو ہمیں چھڑا سکتے ہیں۔“* 21 پھر موآبی عورت رُوت نے کہا: ”اُنہوں نے مجھ سے یہ بھی کہا تھا کہ ”جب تک میری ساری فصل کی کٹائی ختم نہیں ہو جاتی، میرے خادموں کے ساتھ ہی رہنا۔““ 22 نعومی نے اپنی بہو رُوت سے کہا: ”ہاں بیٹی! بہتر ہے کہ آپ بوعز کے کھیت میں کام کرنے والی عورتوں کے ساتھ رہو بجائے اِس کے کہ آپ کسی اَور کھیت میں جاؤ اور وہاں لوگ آپ کو تنگ کریں۔“
23 اِس لیے رُوت بوعز کے کھیت میں کام کرنے والی عورتوں کے ساتھ ہی رہیں اور جَو اور گندم کی کٹائی ختم ہونے تک بالیں جمع کرتی رہیں۔ اور وہ اپنی ساس کے ساتھ رہتی تھیں۔