دانیایل
11 جہاں تک میری بات ہے تو مَیں دارا مادی کی حکمرانی کے پہلے سال میں اُس کی ہمت بڑھانے اور اُسے مضبوط کرنے* کے لیے کھڑا ہوا۔ 2 اب مَیں آپ کو جو بتانے لگا ہوں، وہ سچ ہے:
دیکھیں! فارس کے لیے تین اَور بادشاہ اُٹھیں گے اور چوتھا بادشاہ باقی سب سے زیادہ دولت اِکٹھی کرے گا۔ جب وہ اپنی دولت کے بلبوتے پر طاقتور ہو جائے گا تو وہ سب کچھ یونان کی بادشاہت کے خلاف اِستعمال کرے گا۔
3 ایک طاقتور بادشاہ کھڑا ہوگا اور پوری طاقت سے* حکمرانی کرے گا اور جو چاہے، کرے گا۔ 4 لیکن جب وہ کھڑا ہو جائے گا تو اُس کی بادشاہت ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گی اور آسمان کی چار ہواؤں میں تقسیم ہو جائے گی۔ لیکن یہ بادشاہت اُس کی اولاد کی نہیں ہوگی اور نہ ہی اِس کی طاقت اُتنی ہوگی جتنی طاقت سے وہ حکمرانی کرتا تھا کیونکہ اُس کی بادشاہت جڑ سے اُکھاڑ دی جائے گی اور دوسروں کی ہو جائے گی۔
5 جنوب کا بادشاہ یعنی اُس کے حاکموں میں سے ایک طاقتور ہو جائے گا۔ لیکن وہ* اُس پر حاوی ہو جائے گا اور بڑی طاقت سے حکمرانی کرے گا اور اُس کا اِختیار اُس سے زیادہ ہوگا۔
6 کچھ سال بعد وہ آپس میں گٹھجوڑ کر لیں گے اور جنوب کے بادشاہ کی بیٹی ایک معاہدہ کرنے کے لیے شمال کے بادشاہ کے پاس آئے گی۔ لیکن اُس کی بیٹی کے بازو میں طاقت نہیں رہے گی اور بادشاہ بھی کھڑا نہیں رہ پائے گا اور نہ ہی اُس کے بازو میں طاقت رہے گی۔ اُس کی بیٹی کو دوسروں کے حوالے کر دیا جائے گا، ہاں، اُس کی بیٹی اور اُسے لانے والوں کو، اُس کے باپ کو اور اُس کو جس نے اُن وقتوں میں اُسے مضبوط بنایا۔ 7 اُس کی بیٹی کی جڑوں کی شاخ سے آنے والا شخص اپنی جگہ پر کھڑا ہوگا۔ وہ فوج کے پاس آئے گا اور شمال کے بادشاہ کے قلعے کے خلاف آئے گا اور اُن کے خلاف کارروائی کرے گا اور جیتے گا۔ 8 اِس کے علاوہ وہ اُن کے خداؤں، اُن کے دھات کے بُتوں، سونے اور چاندی کی اُن کی دلپسند* چیزوں اور قیدیوں کے ساتھ مصر آئے گا۔ کچھ سال تک وہ شمال کے بادشاہ سے دُور رہے گا 9 جو جنوب کے بادشاہ کی بادشاہت کے خلاف آئے گا لیکن پھر اپنے ملک لوٹ جائے گا۔
10 اُس کے بیٹے جنگ کی تیاری کریں گے اور ایک بہت بڑی فوج اِکٹھی کریں گے۔ وہ ضرور آگے بڑھے گا اور سیلاب کی طرح تباہی مچائے گا۔ لیکن وہ واپس جائے گا اور اپنے قلعے تک جنگ لڑے گا۔
11 جنوب کا بادشاہ غصے سے بھر جائے گا اور جا کر اُس سے یعنی شمال کے بادشاہ سے لڑے گا اور وہ ایک بڑا ہجوم اِکٹھا کرے گا لیکن وہ ہجوم اُس بادشاہ کے حوالے کر دیا جائے گا۔ 12 اور اُس بڑے ہجوم کو لے جایا جائے گا۔ اُس کے دل میں غرور سما جائے گا اور وہ ہزاروں کو گِرا دے گا۔ لیکن وہ اپنی طاقت کا فائدہ نہیں اُٹھائے گا۔
13 شمال کا بادشاہ دوبارہ آئے گا اور پہلے سے بھی بڑا ہجوم اِکٹھا کرے گا۔ اور وقتوں کے آخر پر یعنی کچھ سال بعد وہ ضرور ایک بڑی فوج اور بہت سے سازوسامان کے ساتھ آئے گا۔ 14 اُن وقتوں میں بہت سے لوگ جنوب کے بادشاہ کے خلاف کھڑے ہوں گے۔
اور آپ کی قوم میں سے ظالم لوگ* دوسروں کے پیچھے لگ کر ایک رُویا کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے لیکن وہ گِر جائیں گے۔
15 شمال کا بادشاہ آئے گا اور ایک قلعہبند شہر تک پہنچنے کے لیے ڈھلان بنائے گا اور اُس پر قبضہ کر لے گا۔ جنوب کی فوجیں* اور اُس کے بہترین آدمی ٹک نہیں پائیں گے۔ اُن میں مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہوگی۔ 16 اُس کے خلاف آنے والا جو چاہے، کرے گا اور کوئی اُس کے سامنے ٹک نہیں پائے گا۔ وہ خوبصورت ملک* میں کھڑا ہوگا اور اُس کے پاس فنا کرنے کی طاقت ہوگی۔ 17 وہ اپنی بادشاہت کی پوری قوت کے ساتھ آنے کا اِرادہ کرے گا۔ اُس کے ساتھ معاہدہ کِیا جائے گا اور وہ کارروائی کرے گا۔ جہاں تک عورتوں کی بیٹی کی بات ہے تو اُس بادشاہ کو اُسے تباہ کرنے کی اِجازت دی جائے گی۔ وہ ٹک نہیں پائے گی اور اُس کی نہیں رہے گی۔ 18 وہ پھر سے ساحلی علاقوں کا رُخ کرے گا اور بہت سے علاقوں پر قبضہ کر لے گا۔ اور ایک حکمران اُس کی وہ رُسوائی دُور کر دے گا جو اُسے سہنی پڑی ہے تاکہ وہ اَور رُسوا نہ ہو۔ وہ رُسوائی کا رُخ رُسوا کرنے والے کی طرف پھیر دے گا۔ 19 اِس کے بعد وہ دوبارہ اپنے ملک کے قلعوں کا رُخ کرے گا اور وہ ٹھوکر کھائے گا اور گِر جائے گا اور وہ کہیں نہیں ملے گا۔
20 اُس کی جگہ ایک شخص کھڑا ہوگا جو عالیشان بادشاہت میں ایک ٹیکس وصول کرنے والے* کو بھیجے گا لیکن وہ کچھ دنوں میں تباہ ہو جائے گا مگر غصے اور جنگ کی وجہ سے نہیں۔
21 اُس کی جگہ ایک حقیر* شخص کھڑا ہوگا اور وہ اُسے بادشاہت کی شانوشوکت نہیں دیں گے۔ وہ سلامتی کے وقت کے دوران* آئے گا اور میٹھی میٹھی باتیں* کر کے بادشاہت لے لے گا۔ 22 وہ سیلاب جیسی فوجوں* کو مٹا دے گا اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گی اور عہد کے پیشوا کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔ 23 اُنہوں نے اُس کے ساتھ جو گٹھجوڑ کِیا ہوگا، اُس کی وجہ سے وہ دھوکا دیتا رہے گا۔ اور وہ اُٹھے گا اور ایک چھوٹی قوم کی مدد سے طاقتور ہو جائے گا۔ 24 وہ سلامتی کے وقت کے دوران* صوبے* کے بہترین حصوں* میں آئے گا اور وہ کام کرے گا جو اُس کے باپدادا نے نہیں کیے۔ وہ لُوٹ کا مال اور چیزیں اُن میں بانٹے گا اور قلعہبند جگہوں کے خلاف سازشیں گھڑے گا لیکن صرف ایک وقت کے لیے۔
25 وہ ایک بڑی فوج کے ساتھ جنوب کے بادشاہ کے خلاف اپنی طاقت اور ہمت جمع کرے گا اور جنوب کا بادشاہ ایک اِنتہائی بڑی اور طاقتور فوج کے ساتھ جنگ کی تیاری کرے گا۔ لیکن وہ ٹک نہیں پائے گا کیونکہ وہ اُس کے خلاف سازشیں گھڑیں گے۔ 26 اُس کے ساتھ شاہی کھانا کھانے والے اُسے گِرا دیں گے۔
جہاں تک اُس کی فوج کی بات ہے تو اُس کا صفایا کر دیا جائے گا* اور بہت سے لوگوں کو قتل کر دیا جائے گا۔
27 جہاں تک اِن دو بادشاہوں کی بات ہے تو اُن کے دل بُرائی کرنے پر مائل ہوں گے۔ وہ ایک میز پر بیٹھ کر ایک دوسرے سے جھوٹ بولتے رہیں گے۔ لیکن اُن کی سازشیں ناکام ہوں گی کیونکہ خاتمہ مقررہ وقت پر آئے گا۔
28 وہ* بہت ساری چیزوں کے ساتھ اپنے ملک لوٹ جائے گا اور اُس کا دل مُقدس عہد کے خلاف ہوگا۔ وہ کارروائی کرے گا اور اپنے ملک لوٹ جائے گا۔
29 وہ مقررہ وقت پر واپس آئے گا اور جنوب کے خلاف اُٹھے گا۔ لیکن یہ پہلے کی طرح نہیں ہوگا 30 کیونکہ کِتّیم کے جہاز اُس کے خلاف آئیں گے اور اُسے خاکسار بنایا جائے گا۔
وہ واپس جائے گا اور مُقدس عہد کے خلاف اپنا غصہ نکالے گا اور کارروائی کرے گا۔ وہ واپس جائے گا اور مُقدس عہد کو چھوڑنے والوں پر دھیان دے گا۔ 31 اُس کے فوجی* کھڑے ہوں گے۔ وہ مُقدس مقام اور قلعے کو ناپاک کریں گے اور باقاعدگی سے پیش کی جانے والی قربانی کو بند کر دیں گے۔
وہ تباہی مچانے والی گھناؤنی چیز کو کھڑا کریں گے۔
32 جو لوگ بُرے کام کر کے عہد کی خلافورزی کرتے ہیں، اُنہیں وہ میٹھی میٹھی باتیں کر کے* برگشتگی کی طرف لے جائے گا۔ لیکن جو لوگ اپنے خدا کو جانتے ہیں، وہ مضبوط رہیں گے اور کامیاب ہوں گے۔ 33 جو لوگ گہری سمجھ رکھتے ہیں، وہ بہت سے لوگوں کو سمجھ دیں گے۔ وہ کچھ دنوں کے لیے تلوار، شعلے، قید اور لُوٹ کے مال کی وجہ سے گِر جائیں گے۔ 34 لیکن جب اُنہیں گِرا دیا جائے گا تو اُنہیں تھوڑی مدد دی جائے گی۔ اور بہت سے لوگ میٹھی میٹھی باتیں کر کے* اُن کے ساتھ مل جائیں گے۔ 35 جو لوگ گہری سمجھ رکھتے ہیں، اُن میں سے کچھ کو گِرا دیا جائے گا تاکہ اُن کی وجہ سے خاتمے کے وقت تک خالص کرنے کا کام کِیا جا سکے اور صاف اور اُجلا کرنے کا کام ہو سکے کیونکہ یہ مقررہ وقت پر ہوگا۔
36 بادشاہ جو چاہے، کرے گا۔ وہ خود کو سب خداؤں سے بڑا بنائے گا اور اپنی بڑائی کرے گا۔ وہ خداؤں کے خدا کے خلاف چونکا دینے والی باتیں کہے گا۔ وہ تب تک کامیاب ہوگا جب تک غضب کا وقت ختم نہیں ہو جاتا کیونکہ جو طے کِیا گیا ہے، وہ ضرور ہوگا۔ 37 وہ اپنے باپدادا کے خدا کا احترام نہیں کرے گا اور نہ ہی عورتوں کی خواہش کا یا کسی دوسرے خدا کا احترام کرے گا بلکہ وہ خود کو سب سے بڑا بنائے گا۔ 38 اِس کی بجائے* وہ قلعوں کے خدا کی بڑائی کرے گا۔ وہ سونے، چاندی، قیمتی پتھروں اور دلپسند* چیزوں سے ایک ایسے خدا کی بڑائی کرے گا جسے اُس کے باپدادا نہیں جانتے تھے۔ 39 وہ ایک نئے خدا کے ساتھ مل کر* سب سے مضبوط قلعوں کے خلاف کامیاب کارروائی کرے گا۔ جو اُس کی قدر کرتے ہیں،* وہ اُنہیں بڑی عزت دے گا اور اُنہیں بہت سے لوگوں پر حکمران بنائے گا اور قیمت کے بدلے زمین بانٹے گا۔
40 خاتمے کے وقت میں جنوب کا بادشاہ اُس سے بِھڑے گا* اور شمال کا بادشاہ رتھوں، گُھڑسواروں اور بہت سے جہازوں کے ساتھ طوفان کی طرح اُس پر ٹوٹ پڑے گا اور وہ ملکوں میں داخل ہو جائے گا اور سیلاب کی طرح تباہی مچائے گا۔ 41 وہ خوبصورت ملک* میں بھی داخل ہو جائے گا اور بہت سے ملکوں کو گِرا دیا جائے گا۔ لیکن یہ اُس کے ہاتھ سے بچ جائیں گے: ادوم اور موآب اور عمونیوں کا سب سے خاص حصہ۔ 42 وہ ملکوں کے خلاف اپنا ہاتھ بڑھاتا رہے گا اور جہاں تک مصر کی بات ہے، وہ بچ نہیں پائے گا۔ 43 وہ مصر کے سونے اور چاندی کے پوشیدہ خزانوں اور اُس کی سب دلپسند* چیزوں کا مالک بن جائے گا۔ لیبیائی اور اِیتھیوپیائی اُس کے قدموں میں ہوں گے۔*
44 لیکن وہ مشرق اور شمال سے آنے والی خبروں کی وجہ سے پریشان ہو جائے گا اور شدید غصے میں بہتوں کو مٹانے اور تباہ کرنے نکلے گا۔ 45 وہ بڑے سمندر اور خوبصورت ملک* کے مُقدس پہاڑ کے بیچ اپنے شاہی خیمے لگائے گا۔ آخرکار اُس کا خاتمہ ہو جائے گا اور اُس کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔