دانیایل
1 یہوداہ کے بادشاہ یہویقیم کی حکمرانی کے تیسرے سال میں بابل کا بادشاہ نبوکدنضر یروشلم آیا اور اِسے گھیر لیا۔ 2 بعد میں یہوواہ نے یہوداہ کے بادشاہ یہویقیم کو اور سچے خدا کے گھر* کی کچھ چیزوں کو نبوکدنضر کے حوالے کر دیا۔ وہ اِن چیزوں کو ملک سِنعار* میں اپنے خدا کے مندر* میں لے آیا اور اِنہیں اپنے خدا کے خزانہگھر میں رکھ دیا۔
3 پھر بادشاہ نے درباریوں کے سربراہ اشپناز کو حکم دیا کہ وہ بنیاِسرائیل میں سے کچھ لوگوں کو لے کر آئے جن میں شاہی نسل اور نوابوں کی نسل کے لوگ بھی شامل ہوں۔ 4 اُسے ایسے نوجوان* لانے تھے جن میں کوئی نقص نہ ہو، جو دِکھنے میں اچھے ہوں، جنہیں دانشمندی، علم اور سُوجھبُوجھ سے نوازا گیا ہو اور جو بادشاہ کے محل میں خدمت کرنے کے قابل ہوں۔ اشپناز نے اُنہیں کسدیوں کی تحریر اور زبان کی تعلیم دینی تھی۔ 5 اِس کے علاوہ بادشاہ نے حکم دیا کہ اُنہیں ہر روز خاص شاہی کھانے اور اُس مے میں سے حصہ دیا جائے جو بادشاہ پیتا تھا۔ تین سال تک اُن کی تربیت* کی جانی تھی اور اِس کے بعد اُنہیں بادشاہ کی خدمت شروع کرنی تھی۔
6 اُن میں سے کچھ یہوداہ کے قبیلے* میں سے تھے یعنی دانیایل،* حنانیاہ،* میساایل* اور عزریاہ۔* 7 درباریوں کے سربراہ نے اُنہیں فرق نام* دیے۔ اُس نے دانیایل کو بیلطشضر، حنانیاہ کو سدرک، میساایل کو میسک اور عزریاہ کو عبدنجو کہا۔
8 لیکن دانیایل نے اپنے دل میں پکا اِرادہ کِیا کہ وہ خود کو خاص شاہی کھانے اور اُس مے سے ناپاک نہیں کریں گے جو بادشاہ پیتا تھا۔ اِس لیے اُنہوں نے درباریوں کے سربراہ سے یہ چیزیں نہ کھانے کی اِجازت مانگی تاکہ وہ ناپاک نہ ہو جائیں۔ 9 سچے خدا نے درباریوں کے سربراہ کے دل میں یہ بات ڈالی کہ وہ دانیایل کے لیے مہربانی اور رحم ظاہر کرے۔ 10 لیکن درباریوں کے سربراہ نے دانیایل سے کہا: ”مَیں اپنے مالک بادشاہ سلامت سے ڈرتا ہوں جنہوں نے طے کِیا ہے کہ تُم لوگ کیا کھاؤ پیو گے۔ اگر اُنہوں نے دیکھا کہ تمہاری حالت اپنی عمر کے باقی نوجوانوں* جتنی اچھی نہیں ہے تو جانتے ہو کہ کیا ہوگا؟ تمہاری وجہ سے مَیں* بادشاہ کی نظر میں قصوروار ٹھہروں گا۔“ 11 مگر دانیایل نے اُس شخص سے جسے درباریوں کے سربراہ نے دانیایل، حنانیاہ، میساایل اور عزریاہ کا نگران مقرر کِیا تھا، کہا: 12 ”مہربانی سے اپنے خادموں کو دس دن دیں اور اِس دوران ہمیں کھانے کے لیے کچھ سبزیاں اور پینے کے لیے پانی دے کر دیکھیں۔ 13 پھر ہماری حالت کا موازنہ اُن نوجوانوں* کی حالت سے کیجیے گا جو خاص شاہی کھانا کھا رہے ہیں اور جو کچھ آپ دیکھیں گے، اُس کے مطابق اپنے خادموں سے پیش آئیے گا۔“
14 اُس نے اُن کی بات مان لی اور دس دن تک اُن کا جائزہ لیا۔ 15 دس دن کے بعد وہ دِکھنے میں اُن سب نوجوانوں* سے زیادہ اچھے اور صحتمند لگ رہے تھے جو خاص شاہی کھانا کھا رہے تھے۔ 16 اِس لیے وہ نگران اُنہیں خاص شاہی کھانے اور مے کی جگہ سبزیاں دیتا رہا۔ 17 اور سچے خدا نے اُن چار نوجوانوں* کو ہر قسم کی تحریر کے بارے میں علم اور گہری سمجھ دی اور دانشمندی سے نوازا اور دانیایل کو ہر طرح کی رُویات اور خوابوں کی سمجھ عطا کی گئی۔
18 جب بادشاہ کی ٹھہرائی ہوئی وہ مُدت پوری ہو گئی جس کے بعد اُن نوجوانوں نے اُس کے سامنے پیش ہونا تھا تو درباریوں کا سربراہ اُنہیں نبوکدنضر کے سامنے لے گیا۔ 19 جب بادشاہ نے اُن سے بات کی تو اُس پورے گروہ میں دانیایل، حنانیاہ، میساایل اور عزریاہ جیسا کوئی بھی نہیں تھا اور وہ بادشاہ کے حضور خدمت کرتے رہے۔ 20 جب بھی بادشاہ نے اُن سے کسی ایسے معاملے کے بارے میں سوال پوچھے جس کے لیے دانشمندی اور سمجھ کی ضرورت تھی تو اُس نے دیکھا کہ وہ نوجوان اُس کی پوری سلطنت میں موجود جادوٹونا کرنے والے سب پجاریوں اور عاملوں سے دس گُنا بہتر تھے۔ 21 اور دانیایل، بادشاہ خورس کی حکمرانی کے پہلے سال تک وہاں رہے۔