نوحہ
א [آلف]
4 ہائے سونے کی چمک، ہاں، خالص سونے کی چمک کیسے پھیکی پڑ گئی ہے!
ہائے مُقدس پتھر ہر گلی کے سِرے پر کیسے بکھرے پڑے ہیں!
ב [بیتھ]
2 صِیّون کے بیشقیمت بیٹوں کو خالص سونے کے برابر تولا جاتا تھا۔*
ہائے اب اُنہیں مٹی کے مٹکوں کی طرح سمجھا جاتا ہے
جو کُمہار کے ہاتھوں سے بنے ہیں!
ג [گیمل]
3 گیدڑیاں تک اپنے تھنوں سے اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں
لیکن میری قوم کی بیٹی ویرانے کے شُترمُرغوں کی طرح ظالم بن گئی ہے۔
ד [دالتھ]
4 دودھ پیتے بچے کی زبان پیاس کی وجہ سے اُس کے تالُو سے چپک گئی ہے۔
بچے روٹی کی بھیک مانگتے ہیں لیکن کوئی اُنہیں روٹی نہیں دیتا۔
ה [ہے]
5 جو لوگ عمدہ عمدہ کھانے کھایا کرتے تھے، وہ گلیوں میں بھوکے* پڑے ہیں۔
جو لوگ بچپن سے گہرا سُرخ لباس پہنتے تھے، وہ راکھ کے ڈھیروں پر پڑے ہیں۔
ו [واو]
6 میری قوم کی بیٹی کی سزا* سدوم کے گُناہ کی سزا سے بھی زیادہ بڑی ہے
جسے پَل بھر میں تباہ کر دیا گیا تھا اور جس کی مدد کرنے والا کوئی نہیں تھا۔
ז [زین]
7 اُس کے نذیر برف سے زیادہ پاک اور دودھ سے زیادہ سفید تھے۔
وہ مرجان* سے زیادہ سُرخ تھے اور نیلم کی طرح چمکدار تھے۔
ח [خیتھ]
8 وہ کوئلے* سے بھی زیادہ کالے ہو گئے ہیں؛
اُنہیں گلیوں میں کوئی نہیں پہچانتا۔
اُن کی جِلد سکڑ کر اُن کی ہڈیوں سے چپک گئی ہے؛ وہ سُوکھی لکڑی کی طرح ہو گئی ہے۔
ט [طیتھ]
9 تلوار سے ہلاک ہونے والے قحط سے ہلاک ہونے والوں سے بہتر ہیں،
ہاں، اُن سے جو خوراک کی کمی کی وجہ سے کمزور ہوتے جاتے ہیں جیسے وہ چھلنی ہو گئے ہوں۔
י [یود]
10 ممتا سے بھری عورتوں نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے بچوں کو اُبالا ہے۔
وہ میری قوم کی بیٹی کی زخمی حالت کے دوران اُن کے لیے ماتم کا کھانا بن گئے ہیں۔
כ [کاف]
11 یہوواہ نے اپنا غضب نازل کِیا ہے؛
اُس نے اپنا بھڑکتا ہوا غصہ اُنڈیلا ہے۔
اُس نے صِیّون میں ایک آگ بھڑکائی ہے جو اُس کی بنیادوں کو بھسم کر رہی ہے۔
ל [لامد]
12 زمین کے بادشاہوں اور زرخیز زمین کے سب باشندوں نے اِس بات پر یقین نہیں کِیا
کہ مخالف اور دُشمن یروشلم کے دروازوں سے داخل ہوں گے۔
מ [میم]
13 ایسا اُس کے نبیوں کے گُناہوں اور اُس کے کاہنوں کی غلطیوں کی وجہ سے ہوا
جنہوں نے اُس کے بیچ نیک لوگوں کا خون بہایا۔
נ [نون]
14 وہ گلیوں میں اندھوں کی طرح بھٹکتے پھرتے ہیں۔
وہ خون سے آلودہ ہیں
اِس لیے کوئی اُن کے کپڑوں کو چُھو نہیں سکتا۔
ס [سامک]
15 وہ اُونچی آواز میں اُن سے کہتے ہیں: ”دُور رہو! ناپاک! دُور رہو! دُور رہو! ہمیں چُھونا مت!“
کیونکہ وہ بےگھر ہو گئے ہیں اور اِدھر اُدھر بھٹک رہے ہیں۔
قوموں کے لوگوں نے کہا ہے: ”وہ ہمارے ساتھ یہاں نہیں رہ سکتے۔*
פ [پے]
16 یہوواہ* نے اُنہیں تتربتر کر دیا ہے؛
اب وہ اُن پر نظرِکرم نہیں کرے گا۔
لوگ کاہنوں کا احترام نہیں کریں گے اور بزرگوں کا لحاظ نہیں کریں گے۔“
ע [عین]
17 ہماری آنکھیں فضول میں مدد کا اِنتظار کرتے کرتے اب بھی تھکی ہوئی ہیں۔
ہم مدد کے لیے ایک ایسی قوم کی راہ تکتے رہے جو ہمیں بچا نہیں سکتی تھی۔
צ [صادے]
18 اُنہوں نے قدم قدم پر ہمارا پیچھا کِیا ہے اِس لیے ہم اپنے چوکوں میں چل پھر نہیں سکتے۔
ہمارا خاتمہ قریب ہے؛ ہمارے دن پورے ہو گئے ہیں کیونکہ ہمارا خاتمہ آ گیا ہے۔
ק [قوف]
19 ہمارا پیچھا کرنے والے آسمان میں اُڑنے والے عقابوں سے زیادہ تیزرفتار تھے۔
اُنہوں نے پہاڑوں پر ہمارا پیچھا کِیا اور ویرانے میں ہم پر حملہ کرنے کے لیے گھات لگائی۔
ר [ریش]
20 ہمارے نتھنوں کی سانس کو یعنی یہوواہ کے مسحشُدہ* بندے کو اُن کے بڑے گڑھے میں پکڑ لیا گیا ہے،
ہاں، اُسے جس کے بارے میں ہم کہتے تھے کہ ”ہم اُس کے سائے میں قوموں کے بیچ رہیں گے۔“
ש [سین]
21 اَے ادوم کی بیٹی! تُو جو ملک عُوض میں رہتی ہے، خوشیاں اور جشن منا۔
لیکن یہ پیالہ تجھ تک بھی پہنچے گا اور تُو اِسے پی کر دُھت ہو جائے گی اور اپنا ننگاپن دِکھائے گی۔
ת [تاو]
22 اَے صِیّون کی بیٹی! تیرے گُناہ کی سزا ختم ہو گئی ہے۔
وہ دوبارہ تجھے قید میں نہیں لے جائے گا۔
لیکن اَے ادوم کی بیٹی! وہ تجھے تیرے گُناہ کی سزا دے گا۔
وہ تیرے گُناہوں کا پردہ فاش کر دے گا۔