یرمیاہ
25 یہوداہ کے بادشاہ اور یوسیاہ کے بیٹے یہویقیم کی حکمرانی کے چوتھے سال میں جو کہ بابل کے بادشاہ نبوکدنضر* کی حکمرانی کا پہلا سال تھا، یرمیاہ کو یہوداہ کے سب لوگوں کے بارے میں ایک پیغام ملا۔ 2 یرمیاہ نبی نے یہوداہ کے سب لوگوں اور یروشلم کے سب باشندوں کے بارے میں *یہ کہا:
3 ”یہوداہ کے بادشاہ اور امون کے بیٹے یوسیاہ کی حکمرانی کے 13ویں سال سے آج تک یعنی اِن 23 سالوں میں یہوواہ کا کلام مجھ تک پہنچتا رہا اور مَیں بار بار* آپ کو بتاتا رہا لیکن آپ نے میری نہیں سنی۔ 4 یہوواہ اپنے سب بندوں یعنی نبیوں کو بار بار* آپ کے پاس بھیجتا رہا لیکن آپ نے اُن کی نہیں سنی اور اُن کی بات پر کان نہیں لگایا۔ 5 وہ کہتے رہے: ”مہربانی سے تُم میں سے ہر ایک اپنی بُری راہوں اور اپنے بُرے کاموں کو چھوڑ دے۔ پھر تُم اُس ملک میں ایک لمبے عرصے تک بسے رہو گے جو یہوواہ نے بہت پہلے تمہیں اور تمہارے باپدادا کو دیا تھا۔ 6 دوسرے خداؤں کی پرستش اور خدمت نہ کرو اور اُن کے سامنے نہ جھکو اور اِس طرح اپنے ہاتھوں کے کام سے مجھے غصہ نہ دِلاؤ ورنہ مَیں تُم پر مصیبت نازل کروں گا۔“
7 یہوواہ فرماتا ہے: ”لیکن تُم نے میری نہیں سنی بلکہ تُم اپنے ہاتھوں کے کام سے مجھے غصہ دِلاتے رہے اور اِس طرح خود پر تباہی لائے۔“
8 فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے: ””تُم نے میری بات نہیں مانی 9 اِس لیے مَیں شمال کے سب خاندانوں کو بُلا رہا ہوں۔ مَیں اپنے خادم بابل کے بادشاہ نبوکدنضر* کو بُلا رہا ہوں۔ مَیں اُن لوگوں کو اِس ملک اور اِس کے سب باشندوں اور آسپاس کی سب قوموں پر حملہ کرنے کے لیے لاؤں گا۔ مَیں اُنہیں تباہ کر دوں گا اور دہشت کی علامت اور ایک ایسی چیز بنا دوں گا جسے دیکھ کر لوگ سیٹی بجائیں گے۔ مَیں اُنہیں ہمیشہ کے لیے اُجاڑ دوں گا۔“ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔ 10 ”مَیں اُن کے بیچ سے خوشی اور جشن کی آواز، دُلہے اور دُلہن کی آواز، چکی کی آواز اور چراغ کی روشنی ختم کر دوں گا۔ 11 یہ پورا ملک کھنڈر اور دہشت کی علامت بن جائے گا اور اِن قوموں کو 70 سال تک بابل کے بادشاہ کی خدمت کرنی پڑے گی۔““
12 یہوواہ فرماتا ہے: ”لیکن جب 70 سال پورے ہو جائیں گے تو مَیں بابل کے بادشاہ اور اُس قوم سے اُن کے گُناہ کا حساب لوں گا* اور مَیں کسدیوں کے ملک کو ہمیشہ کے لیے اُجاڑ دوں گا۔ 13 مَیں اُس ملک پر وہ سب کچھ نازل کروں گا جو مَیں نے اُس کے خلاف کہا ہے، ہاں، اِس کتاب میں لکھی سب باتیں جن کی یرمیاہ نے سب قوموں کے خلاف پیشگوئی کی ہے 14 کیونکہ بہت سی قومیں اور بڑے بڑے بادشاہ اُنہیں غلام بنائیں گے اور مَیں اُنہیں اُن کی حرکتوں اور اُن کے ہاتھوں کے کام کے مطابق بدلہ دوں گا۔““
15 اِسرائیل کے خدا یہوواہ نے مجھ سے کہا: ”میرے ہاتھ سے غضب کی مے کا یہ پیالہ لو اور اُن سب قوموں کو پلاؤ جن کے پاس مَیں تمہیں بھیجوں گا۔ 16 وہ اِسے پئیں گی اور لڑکھڑائیں گی اور پاگلوں جیسی حرکتیں کریں گی کیونکہ مَیں اُن کے بیچ تلوار بھیجوں گا۔“
17 اِس لیے مَیں نے یہوواہ کے ہاتھ سے پیالہ لیا اور اُن سب قوموں کو پلایا جن کے پاس یہوواہ نے مجھے بھیجا۔ 18 مَیں نے یروشلم اور یہوداہ کے شہروں سے، ہاں، اُس کے بادشاہوں اور حاکموں سے شروع کِیا تاکہ وہ کھنڈر، دہشت کی علامت، لعنت اور ایک ایسی چیز بن جائیں جسے دیکھ کر لوگ سیٹی بجائیں جیسا کہ آج کے دن نظر آ رہا ہے۔ 19 اِس کے بعد مصر کا بادشاہ فِرعون اور اُس کے خادم، حاکم اور اُس کے سب لوگ 20 اور اُن کی ساری ملیجُلی آبادیاں، ملک عُوض کے سب بادشاہ، فِلِستیوں کے ملک کے سب بادشاہ، اسقلون، غزہ اور عِقرون اور اشدود کے بچے ہوئے لوگ؛ 21 ادوم، موآب اور عمونی؛ 22 صُور کے سب بادشاہ، صیدا کے سب بادشاہ اور سمندر کے جزیروں کے بادشاہ؛ 23 دِدان، تیما، بُوز اور وہ سب جن کی قلموں* کے بال کٹے ہوئے ہیں؛ 24 عربیوں کے سب بادشاہ اور ویرانے میں بسنے والی ملیجُلی آبادیوں کے سب بادشاہ؛ 25 زِمری کے سب بادشاہ، عِیلام کے سب بادشاہ اور مادیوں کے سب بادشاہ 26 اور شمال کے دُور اور نزدیک کے سب بادشاہ ایک ایک کر کے اور زمین کی سطح پر موجود دوسری سب بادشاہتیں پئیں گی اور اُن کے بعد شیشک* کا بادشاہ پیے گا۔
27 ”تُم اُن سے کہنا: ”فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، یہ فرماتا ہے: ”پیو اور نشے میں دُھت ہو جاؤ اور اُلٹی کرو اور گِر جاؤ تاکہ تُم اُٹھ نہ سکو کیونکہ مَیں تمہارے بیچ تلوار بھیج رہا ہوں۔““ 28 اور اگر وہ تمہارے ہاتھ سے پیالہ لے کر پینے سے اِنکار کر دیں تو اُن سے کہنا: ”فوجوں کے خدا یہوواہ نے یہ فرمایا ہے: ”تمہیں اِسے پینا ہوگا! 29 کیونکہ دیکھو! اگر مَیں پہلے اُس شہر پر آفت لا رہا ہوں جو میرے نام سے کہلاتا ہے تو کیا تُم بےسزا رہو گے؟““
”تُم بےسزا نہیں رہو گے کیونکہ مَیں زمین کے سب باشندوں کے خلاف تلوار بھیج رہا ہوں۔“ یہ بات فوجوں کا خدا یہوواہ فرما رہا ہے۔
30 تُم اُن کے سامنے اِن سب باتوں کی پیشگوئی کرنا اور اُن سے کہنا:
”یہوواہ بلندی سے گرجے گا؛
وہ اپنی مُقدس رہائشگاہ سے اپنی آواز سنوائے گا۔
وہ اپنی زمینی رہائشگاہ کے خلاف زور سے گرجے گا۔
وہ انگور روندنے والوں کی طرح چلّاتے ہوئے
زمین کے سب باشندوں کے خلاف فتح کا گیت گائے گا۔“
31 یہوواہ فرماتا ہے: ”زمین کے کونے کونے تک ایک شور سنائی دے گا
کیونکہ یہوواہ کا قوموں کے ساتھ ایک مُقدمہ ہے۔
وہ خود سب اِنسانوں کی عدالت کرے گا
اور بُرے لوگوں کو تلوار کے حوالے کرے گا۔“
32 فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:
”دیکھو! ایک کے بعد ایک قوم پر تباہی آ رہی ہے۔
زمین کے دُوردراز علاقوں سے ایک تیز طوفان کو چھوڑا جائے گا۔
33 اُس دن یہوواہ کے ہاتھ سے ہلاک ہوئے لوگ زمین کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پڑے ہوں گے۔ نہ تو اُن پر ماتم کِیا جائے گا، نہ اُنہیں اِکٹھا کِیا جائے گا اور نہ دفنایا جائے گا۔ وہ زمین کی سطح پر کھاد کی طرح بن جائیں گے۔“
34 چرواہو! دھاڑیں مارمار کر رو اور چلّاؤ!
گلّے کی نمایاں بھیڑو! راکھ میں لیٹو
کیونکہ تمہیں ذبح کرنے اور تتربتر کرنے کا وقت آ گیا ہے
اور تُم قیمتی برتن کی طرح گِر کر چُور چُور جاؤ گے۔
35 چرواہوں کے پاس بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہے
اور گلّے کی نمایاں بھیڑوں کے پاس بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
36 چرواہوں کا رونا دھونا سنو
اور گلّے کی نمایاں بھیڑوں کا ماتم سنو
کیونکہ یہوواہ اُن کی چراگاہ کو تباہ کر رہا ہے۔
37 یہوواہ کے بھڑکتے ہوئے غصے کی وجہ سے
پُرسکون رہائشگاہیں ویران ہو گئی ہیں۔