یرمیاہ
12 اَے یہوواہ! جب مَیں تجھ سے شکایت کرتا ہوں
اور اِنصاف کے معاملوں پر تجھ سے بات کرتا ہوں تو تُو صحیح* ہوتا ہے۔
لیکن بُرے لوگ اپنے کاموں میں کامیاب کیوں ہیں
اور دھوکےباز بےفکر کیوں ہیں؟
2 تُو نے اُنہیں لگایا اور اُنہوں نے جڑ پکڑ لی۔
وہ بڑھ گئے ہیں اور پھل لائے ہیں۔
اُن کے ہونٹوں پر تیرا ذکر ہوتا ہے لیکن اُن کے گہرائیوں میں موجود خیالات* تجھ سے دُور ہیں۔
3 مگر اَے یہوواہ! تُو مجھے اچھی طرح جانتا ہے؛ تُو مجھے دیکھتا ہے؛
تُو نے میرے دل کو جانچا ہے اور دیکھا ہے کہ یہ تیرے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔
اُنہیں ایسی بھیڑوں کی طرح الگ کر دے جو ذبح کرنے کے لیے ہوں
اور اُنہیں قتل کے دن کے لیے مخصوص کر دے۔
4 کب تک زمین سُوکھی رہے گی
اور کب تک ہر میدان کے پودے مُرجھاتے رہیں گے؟
اِس ملک میں رہنے والے لوگوں کی بُرائی کی وجہ سے
جانور اور پرندے مٹ گئے ہیں
کیونکہ وہ لوگ کہتے ہیں: ”وہ نہیں دیکھ سکتا کہ ہمارے ساتھ کیا ہوگا۔“
5 اگر تُم پیدل چلنے والوں کے ساتھ دوڑتے ہوئے تھک جاتے ہو
تو تُم گھوڑوں کے مقابلے میں کیسے دوڑو گے؟
تُم اِس پُرامن ملک میں محفوظ محسوس کرتے ہو
لیکن تُم اُردن* کے کنارے گھنی جھاڑیوں کے بیچ کیا کرو گے؟
6 کیونکہ تمہارے اپنے بھائیوں نے،
ہاں، تمہارے باپ کے گھرانے نے تُم سے دغا کی ہے۔
اُنہوں نے تمہارے خلاف آواز بلند کی ہے۔
اگر وہ تُم سے اچھی باتیں بھی کریں
تو اُن پر بھروسا نہ کرو۔
7 ”مَیں نے اپنے گھر کو چھوڑ دیا ہے؛ مَیں نے اپنی وراثت کو ترک کر دیا ہے۔
مَیں نے اپنی* پیاری قوم کو اُس کے دُشمنوں کے حوالے کر دیا ہے۔
8 میری وراثت میرے لیے جنگل کے شیر کی طرح بن گئی ہے۔
وہ مجھ پر دھاڑتی ہے
اِس لیے مجھے اُس سے نفرت ہو گئی ہے۔
9 میری وراثت میرے لیے رنگبرنگے* شکاری پرندے کی طرح ہے؛
دوسرے شکاری پرندے اُسے گھیر لیتے ہیں اور اُس پر حملہ کرتے ہیں۔
میدان کے سب جنگلی جانورو! آؤ، جمع ہو؛
کھانے کے لیے آؤ۔
10 بہت سے چرواہوں نے میرے انگور کے باغ کو تباہ کر دیا ہے؛
اُنہوں نے زمین کے میرے حصے کو روند ڈالا ہے۔
اُنہوں نے میرے پسندیدہ حصے کو اُجاڑ کر ویرانہ بنا دیا ہے۔
11 وہ ویران ہو گیا ہے۔
وہ سُوکھ گیا ہے؛*
وہ میرے سامنے اُجاڑ پڑا ہے۔
ساری زمین اُجڑ گئی ہے
لیکن کوئی شخص اِس پر دھیان نہیں دیتا۔
12 ویرانے کے سب ٹوٹے پھوٹے راستوں سے تباہ کرنے والے آ رہے ہیں
کیونکہ یہوواہ کی تلوار ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک لوگوں کو نگل رہی ہے۔
کسی کے لیے کوئی امن نہیں ہے۔
13 اُنہوں نے گندم بوئی لیکن کانٹوں کی فصل کاٹی۔
وہ تھک کر چُور ہو گئے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
وہ یہوواہ کے بھڑکتے ہوئے غصے کی وجہ سے
اپنی پیداوار پر شرمندہ ہوں گے۔“
14 یہوواہ فرماتا ہے: ”مَیں اپنے اُن سب بُرے پڑوسیوں کو اُن کے ملک سے اُکھاڑنے والا ہوں جو اُس وراثت کو نقصان پہنچاتے ہیں جس کا مَیں نے اپنی قوم اِسرائیل کو مالک بنایا ہے۔ مَیں یہوداہ کے گھرانے کو اُن کے بیچ سے اُکھاڑ دوں گا۔ 15 لیکن اُنہیں اُکھاڑنے کے بعد مَیں پھر سے اُن پر رحم کروں گا اور اُن میں سے ہر ایک کو اُس کی وراثت اور اُس کے ملک میں واپس لاؤں گا۔“
16 ”اور اگر وہ میرے بندوں کے طورطریقے سیکھیں گے اور میرے نام سے یہ قسم کھائیں گے: ”زندہ خدا یہوواہ کی قسم!“ بالکل ویسے ہی جیسے اُنہوں نے میرے بندوں کو بعل کی قسم کھانا سکھایا تو وہ میرے بندوں کے بیچ قائم رہیں گے۔ 17 لیکن اگر اُن میں سے کوئی قوم میری بات ماننے سے اِنکار کرے گی تو مَیں اُسے بھی اُکھاڑ دوں گا، ہاں، مَیں اُسے اُکھاڑ دوں گا اور تباہ کر دوں گا۔“ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔