یسعیاہ
24 دیکھو! یہوواہ ملک* کو خالی کر رہا ہے اور اُسے ویران بنا رہا ہے۔
وہ اُسے اُلٹ رہا ہے* اور اُس کے لوگوں کو تتربتر کر رہا ہے۔
2 سب کا ایک جیسا حال ہوگا:
جیسا لوگوں کا ویسا کاہن کا؛
جیسا خادم کا ویسا مالک کا؛
جیسا خادمہ کا ویسا مالکن کا؛
جیسا خریدنے والے کا ویسا بیچنے والے کا؛
جیسا قرض دینے والا کا ویسا قرض لینے والے کا
اور جیسا اُدھار دینے والے کا ویسا اُدھار لینے والے کا۔
3 ملک بالکل خالی ہو جائے گا؛
اُسے پوری طرح لُوٹ لیا جائے گا
کیونکہ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔
4 ملک ماتم کر رہا* ہے؛ یہ ختم ہو رہا ہے۔
زرخیز زمین سُوکھ رہی ہے؛ یہ مٹ رہی ہے۔
ملک کے بااثر لوگ مُرجھا رہے ہیں۔
5 ملک کے لوگوں نے اُسے آلودہ کر دیا ہے
کیونکہ اُنہوں نے قوانین کو نظرانداز کر دیا ہے؛
معیاروں کو بدل دیا ہے
اور ابدی* عہد کو توڑ دیا ہے۔
6 اِس وجہ سے لعنت ملک کو کھا رہی ہے
اور اُس کے باشندے قصوروار ٹھہرے ہیں۔
اِس لیے ملک کے باشندوں کی تعداد کم ہو گئی ہے
اور بہت تھوڑے آدمی بچے ہیں۔
7 نئی مے ماتم کر رہی* ہے؛ انگور کی بیل مُرجھا رہی ہے
اور وہ سب آہیں بھر رہے ہیں جن کے دل خوش ہیں۔
8 دف کی خوشگوار دُھنیں بند ہو گئی ہیں؛
موج مستی کرنے والوں کا شور ختم ہو گیا ہے؛
بربط* کی خوشکُن آواز بند ہو گئی ہے۔
9 وہ گیتوں کے بغیر مے پیتے ہیں
اور شراب پینے والوں کو شراب کڑوی لگتی ہے۔
10 ویران قصبے کو ڈھا دیا گیا ہے؛
ہر گھر بند ہے تاکہ کوئی اُس میں داخل نہ ہو سکے۔
11 وہ گلیوں میں مے کے لیے دُہائی دے رہے ہیں؛
سارا جشن ختم ہو گیا ہے؛
ملک کی خوشی چلی گئی ہے۔
12 شہر کھنڈر بن چُکا ہے؛
دروازے کو توڑ کر ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔
13 قوموں کے بیچ ملک میں میرے بندوں کا حال ایسا ہوگا
جیسے زیتون کے درخت کو جھاڑنے پر ہوتا ہے؛
جیسے انگور کی کٹائی کے بعد جمع کرنے کے لیے بچاکھچا حصہ رہ جاتا ہے۔
14 وہ اپنی آواز بلند کریں گے؛
وہ خوشی سے للکاریں گے۔
وہ سمندر* سے یہوواہ کی عظمت کا اِعلان کریں گے۔
15 اِس لیے وہ روشنی کے علاقے میں* یہوواہ کی بڑائی کریں گے؛
وہ سمندر کے جزیروں میں اِسرائیل کے خدا یہوواہ کے نام کی بڑائی کریں گے۔
16 ہم زمین کے کونے کونے سے یہ گیت سنتے ہیں:
”نیک خدا کی بڑائی ہو!“
لیکن مَیں کہتا ہوں: ”مَیں ختم ہوتا جا رہا ہوں! مَیں ختم ہوتا جا رہا ہوں!
مجھ پر افسوس! دھوکےبازوں نے دھوکا دیا ہے،
ہاں، دھوکےبازوں نے دغابازی سے دھوکا دیا ہے۔“
17 ملک کے باشندے! دہشت، گڑھے اور پھندے تیرا اِنتظار کر رہے ہیں۔
18 جو بھی دہشت کی آواز سے بھاگے گا، وہ گڑھے میں گِر جائے گا
اور جو بھی گڑھے سے نکلے گا، وہ پھندے میں پھنس جائے گا
کیونکہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے
اور زمین کی بنیادیں ہل جائیں گی۔
19 زمین پھٹ گئی ہے؛
زمین کو ہلایا گیا ہے؛
زمین بُری طرح کانپ رہی ہے۔
20 زمین ایک شرابی آدمی کی طرح ڈگمگا رہی ہے؛
یہ آگے پیچھے جُھول رہی ہے جیسے ایک جھونپڑی ہوا میں جُھولتی ہے۔
یہ اپنے گُناہوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے؛
یہ گِر جائے گی اور دوبارہ نہیں اُٹھے گی۔
21 اُس دن یہوواہ اُوپر اُونچائیوں کی فوج
اور زمین پر زمین کے بادشاہوں کی طرف توجہ کرے گا۔
22 اُنہیں ایسے اِکٹھا کِیا جائے گا
جیسے قیدیوں کو گڑھے میں اِکٹھا کِیا جاتا ہے۔
اُنہیں کال کوٹھڑی میں بند کر دیا جائے گا
اور بہت دن بعد اُن پر توجہ کی جائے گی۔
23 پورا چاند شرمسار ہوگا
اور چمکتا سورج شرمندہ ہوگا
کیونکہ فوجوں کا خدا یہوواہ کوہِصِیّون پر اور یروشلم میں بادشاہ بن گیا ہے؛
وہ اپنی قوم کے بزرگوں* کے سامنے شان سے حکمرانی کرتا ہے۔