یسعیاہ
22 رُویا کی وادی* کے بارے میں ایک پیغام:
تجھے کیا ہوا ہے کہ تیرے سب لوگ چھتوں پر چڑھ گئے ہیں؟
2 تجھ میں افراتفری مچی ہوئی تھی؛
تُو ایک شورشرابے والا شہر اور خوشیاں منانے والا قصبہ تھی۔
تیرے جو لوگ مارے گئے، وہ تلوار سے نہیں مارے گئے
اور نہ وہ جنگ میں مرے۔
3 تیرے سب آمر اِکٹھے بھاگ گئے۔
اُنہیں بغیر کمان کے قیدی بنا لیا گیا۔
جو بھی لوگ ملے، اُنہیں قیدی بنا لیا گیا
حالانکہ وہ دُور بھاگ گئے تھے۔
4 اِس لیے مَیں نے کہا: ”اپنی نظریں مجھ سے ہٹا لو
اور مَیں پھوٹ پھوٹ کر روؤں گا۔
میری قوم کی بیٹی* کی تباہی پر مجھے تسلی دینے کی کوشش نہ کرو
5 کیونکہ رُویا کی وادی میں
حاکمِاعلیٰ یعنی فوجوں کے خدا یہوواہ کی طرف سے
یہ اُلجھن، شکست اور گھبراہٹ کا دن ہے۔
دیوار گِرائی جا رہی ہے
اور پکار پہاڑ تک سنائی دے رہی ہے۔
6 عِیلام نے ترکش* اُٹھا لیا ہے؛
اُس کے ساتھ رتھوں پر سوار آدمی اور گھوڑے* ہیں
اور قیر نے ڈھال تیار* کر لی ہے۔
7 تیری بہترین وادیاں جنگی رتھوں سے بھر جائیں گی
اور گھوڑے* دروازے پر اپنی اپنی جگہ سنبھال لیں گے
8 اور یہوداہ کا حفاظتی پردہ ہٹا دیا جائے گا۔
””اُس دن تُم جنگل کے گھر کے اسلحہخانے کی طرف دیکھو گے 9 اور تمہیں داؤد کے شہر میں بہت سے شگاف دِکھائی دیں گے اور تُم نیچے والے تالاب کا پانی جمع کرو گے۔ 10 تُم یروشلم کے گھروں کی گنتی کرو گے اور دیوار کو مضبوط کرنے کے لیے گھروں کو گِرا دو گے۔ 11 تُم پُرانے تالاب کے پانی کے لیے دو دیواروں کے بیچ ایک حوض بناؤ گے۔ لیکن تُم اُس عظیم خدا پر توجہ نہیں کرو گے جس نے اُسے بنایا اور نہ اُس ہستی کو دیکھو گے جس نے بہت پہلے اُس کا منصوبہ بنایا۔
12 اُس دن حاکمِاعلیٰ یعنی فوجوں کا خدا یہوواہ
رونے دھونے، ماتم کرنے،
سر کے بال اُتارنے اور ٹاٹ پہننے کو کہے گا۔
13 لیکن جشن اور خوشی منائی جا رہی ہے؛
گائے بیل اور بھیڑیں ذبح کی جا رہی ہیں؛
گوشت کھایا جا رہا ہے اور مے پی جا رہی ہے۔
تُم کہہ رہے ہو: ”آؤ کھائیں پئیں کیونکہ کل تو ہم مر ہی جائیں گے۔““
14 پھر فوجوں کے خدا یہوواہ نے میرے کان میں کہا: ””جب تک تُم لوگ مر نہیں جاتے، تمہارے اِس گُناہ کا کفارہ نہیں ہوگا۔“ یہ بات حاکمِاعلیٰ یعنی فوجوں کے خدا یہوواہ نے فرمائی ہے۔“
15 حاکمِاعلیٰ یعنی فوجوں کے خدا یہوواہ نے یہ کہا ہے: ”اُس مختار یعنی شِبناہ کے پاس جاؤ جو محل کا نگران ہے اور کہو: 16 ”تمہارا یہاں کیا کام ہے؟ تمہارا یہاں کون ہے جو تُم نے اپنے لیے یہاں ایک قبر تراشی ہے؟“ وہ اپنے لیے ایک اُونچی جگہ پر قبر تراش رہا ہے۔ وہ ایک چٹان میں اپنے لیے آرامگاہ* کھدوا رہا ہے۔ 17 ”دیکھو، اَے آدمی! یہوواہ تمہیں زور سے پٹخ دے گا اور مضبوطی سے پکڑ لے گا۔ 18 وہ تمہیں کَس کر لپیٹے گا اور ایک کُھلے میدان میں گیند کی طرح پھینک دے گا۔ وہاں تُم مر جاؤ گے اور وہاں تمہارے عالیشان رتھ بھی ہوں گے جس سے تمہارے مالک کے گھر کی رُسوائی ہوگی۔ 19 مَیں تمہیں تمہارے عہدے سے ہٹا دوں گا اور تمہارے مقام سے گِرا دوں گا۔
20 اُس دن مَیں اپنے بندے اِلیاقیم کو بُلاؤں گا جو خِلقیاہ کا بیٹا ہے۔ 21 مَیں تمہارا چوغہ اُسے پہناؤں گا اور تمہارا کمربند مضبوطی سے اُس کی کمر پر باندھوں گا اور تمہارا اِختیار اُس کے ہاتھ میں سونپ دوں گا۔ وہ یروشلم میں رہنے والوں اور یہوداہ کے گھرانے کا باپ بنے گا۔ 22 مَیں داؤد کے گھرانے کی چابی اُس کے کندھے پر رکھوں گا۔ جو وہ کھولے گا، اُسے کوئی بند نہیں کرے گا اور جو وہ بند کرے گا، اُسے کوئی نہیں کھولے گا۔ 23 مَیں اُسے کیل کی طرح ایک پائیدار جگہ میں ٹھونکوں گا اور وہ اپنے باپ کے گھرانے کے لیے شان کا تخت بنے گا۔ 24 وہ اُس کے باپ کے گھرانے کی ساری شان* کو اُس پر لٹکا دیں گے یعنی اولاد، نسل،* سارے چھوٹے برتنوں، کٹورانما برتنوں اور سارے بڑے مٹکوں کو۔
25 فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے: ”اُس دن وہ کیل نکال دی جائے گی جسے پائیدار جگہ میں ٹھونکا گیا تھا۔ اُسے توڑ کر گِرا دیا جائے گا اور اُس پر لٹکی سب چیزیں گِر کر تباہ ہو جائیں گی کیونکہ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔“““