واعظ
6 مَیں نے سورج تلے ایک اَور دُکھ کی بات دیکھی ہے جو اِنسانوں میں عام ہے: 2 سچا خدا اِنسان کو مالودولت اور عزت دیتا ہے تاکہ اُسے* کسی ایسی چیز کی کمی نہ ہو جس کی اُسے خواہش ہوتی ہے۔ لیکن سچا خدا اُسے اِن چیزوں سے لطف نہیں اُٹھانے دیتا بلکہ ایک اجنبی اِن سے لطف اُٹھاتا ہے۔ یہ فضول ہے اور بڑی تکلیفدہ بات ہے۔ 3 اگر ایک آدمی کے سو بچے ہوں اور وہ کافی سال جیے اور بڑھاپے تک پہنچ جائے لیکن وہ* قبر میں جانے سے پہلے اپنی چیزوں سے لطف نہ اُٹھائے* تو میرا ماننا ہے کہ اُس سے بہتر وہ بچہ ہے جو مرا ہوا پیدا ہو 4 کیونکہ اُس بچے کا دُنیا میں آنا بےکار تھا اور وہ تاریکی میں چلا گیا اور اُس کا نام تاریکی میں گُم رہا۔ 5 اُس بچے نے کبھی سورج کی روشنی نہیں دیکھی اور نہ ہی وہ کچھ جانتا تھا لیکن پھر بھی وہ اُس آدمی سے بہتر ہے۔* 6 اگر ایک شخص 2000 سال جیے مگر زندگی کا مزہ نہ لے سکے تو کیا فائدہ؟ کیا سب اِنسان ایک ہی جگہ نہیں جاتے؟
7 اِنسان جو بھی محنت کرتا ہے، اپنا پیٹ* بھرنے کے لیے کرتا ہے لیکن پھر بھی اُس کی بھوک کبھی نہیں مٹتی۔* 8 تو پھر دانشمند شخص احمق شخص سے بہتر کیسے ہوا؟ یا غریب شخص کو یہ جاننے کا کیا فائدہ ہوا کہ اُسے گزارہ کیسے کرنا ہے؟* 9 اُن چیزوں کا مزہ لینا بہتر ہے جو آنکھوں کے سامنے ہیں، بجائے اِس کے کہ اِنسان اپنی خواہشوں* کے پیچھے بھاگے۔ یہ بھی فضول اور ہوا کے پیچھے بھاگنے کی طرح ہے۔
10 جو کچھ وجود میں آ چُکا ہے، اُس کا نام رکھا جا چُکا ہے اور یہ پتہ چل چُکا ہے کہ اِنسان کیا ہے۔ اِنسان اپنے سے زیادہ طاقتور شخص سے جھگڑا نہیں کر سکتا۔* 11 باتیں* جتنی زیادہ ہوتی ہیں، وہ اُتنی ہی فضول ہوتی ہیں۔ اِنسان کو اُن سے کیا فائدہ ہوتا ہے؟ 12 اِنسان کی مختصر سی زندگی فضول ہے اور سائے کی طرح ڈھل جاتی ہے۔ کون جانتا ہے کہ اُس کے لیے زندگی میں کیا کرنا سب سے اچھا ہے؟ کون اُسے بتا سکتا ہے کہ اُس کے جانے کے بعد سورج تلے کیا ہوگا؟