زبور
آسَف کا مشکیل۔*
74 اَے خدا! تُو نے ہمیں ہمیشہ کے لیے کیوں ٹھکرا دیا ہے؟
تیرا غصہ اپنی چراگاہ کی بھیڑوں پر کیوں بھڑک رہا ہے؟
2 اُن لوگوں* کو یاد کر جنہیں تُو نے مُدتوں پہلے چُنا تھا،
ہاں، اُس قبیلے کو جسے تُو نے چھڑایا تھا تاکہ وہ تیری وراثت بنے۔
کوہِصِیّون کو یاد کر جہاں تُو رہتا تھا۔
3 اپنے قدم اُن جگہوں کی طرف بڑھا جو لمبے عرصے کے لیے تباہ ہو چُکی ہیں۔
دُشمن نے مُقدس جگہ کی ہر چیز کو تہسنہس کر دیا ہے۔
4 تیرے دُشمن تیری عبادت کی جگہ میں گرجے۔
اُنہوں نے اپنے جھنڈے نشانی کے طور پر گاڑ دیے۔
5 وہ ایسے آدمیوں کی طرح تھے جو گھنے جنگل میں کلہاڑوں سے درخت کاٹتے ہیں۔
6 اُنہوں نے کلہاڑوں اور لوہے کی سلاخوں سے اُن سب چیزوں کو توڑ دیا جن پر نقشکاری کی گئی تھی۔
7 اُنہوں نے تیرے مُقدس مقام کو آگ لگا دی۔
اُنہوں نے اُس مُقدس خیمے کو ناپاک کر دیا جو تیرے نام سے جانا جاتا تھا اور اُسے زمین پر گِرا دیا۔
8 اُنہوں نے اور اُن کی اولاد نے اپنے دل میں کہا:
”ملک میں خدا کی عبادت کی سب جگہوں کو جلا دیا جانا چاہیے۔“
9 ہمیں کوئی نشانیاں نظر نہیں آتیں؛
اب کوئی نبی بھی نہیں رہا
اور ہم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ یہ سب کتنا عرصہ چلے گا۔
10 اَے خدا! مخالف کب تک طعنے مارتے رہیں گے؟
کیا دُشمن ہمیشہ تیرے نام کی توہین کرتے رہیں گے؟
11 تُو نے اپنا ہاتھ، ہاں، اپنا دایاں ہاتھ کیوں روک رکھا ہے؟
اپنے لباس کی تہوں میں سے ہاتھ نکال* اور اُنہیں ختم کر دے۔
12 خدا مُدتوں سے میرا بادشاہ ہے،
وہ خدا جو زمین پر نجاتبخش کام کرتا ہے۔
13 تُو نے اپنی طاقت سے سمندر میں ہلچل مچا دی؛
تُو نے پانی میں بڑے بڑے سمندری جانوروں کے سر روند دیے۔
15 تُو نے زمین کو پھاڑ کر چشمے اور ندیاں بہائیں؛
تُو نے سدابہار بہتے دریاؤں کو سُکھا دیا۔
16 تُو دن کا بھی مالک ہے اور رات کا بھی۔
تُو نے روشنی* اور سورج کو بنایا۔
17 تُو نے زمین کی ساری حدیں مقرر کیں؛
تُو نے گرمی اور سردی کا موسم بنایا۔
18 اَے یہوواہ! دُشمن کے طعنوں کو یاد کر؛
دیکھ کہ احمق لوگ تیرے نام کی کتنی توہین کرتے ہیں!
19 اپنی فاختہ* کو وحشی درندوں کے حوالے نہ کر۔
اپنے مصیبتزدہ بندوں کو ہمیشہ کے لیے نہ بھول۔
20 اپنے عہد کو یاد فرما
کیونکہ زمین کی تاریک جگہیں ظلموتشدد کا گڑھ بن گئی ہیں۔
21 کچلے ہوئے لوگ مایوس ہو کر نہ لوٹیں؛
ادنیٰ اور غریب لوگ تیرے نام کی بڑائی کریں۔
22 اَے خدا! اُٹھ اور اپنا مُقدمہ لڑ۔
یاد کر کہ احمق لوگ سارا دن کیسے تجھے طعنے دیتے ہیں۔
23 اپنے دُشمنوں کی باتیں نہ بھول۔
تجھے للکارنے والوں کا شورشرابہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔