زبور
موسیقار کے لیے۔ قورح کے بیٹوں کا مشکیل۔*
44 اَے خدا! تُو نے ہمارے باپدادا کے زمانے میں،
ہاں، مُدتوں پہلے جو کام کیے،
ہم نے اپنے کانوں سے اُن کے بارے میں سنا ہے؛
ہمارے باپدادا نے ہمیں اُن کے بارے میں بتایا ہے۔
2 تُو نے اپنے ہاتھ سے قوموں کو بھگا دیا
اور ہمارے باپدادا کو اُن کی جگہ بسایا۔
تُو نے قوموں کو کچل دیا اور اُنہیں بھگا دیا۔
3 ہمارے باپدادا نے اپنی تلوار کے دم پر ملک پر قبضہ نہیں کِیا
اور اپنے بازو کے زور پر فتح حاصل نہیں کی۔
وہ یہ سب کچھ تیرے دائیں ہاتھ، تیرے بازو اور تیرے چہرے کی روشنی کی وجہ سے کر پائے
کیونکہ تُو اُن سے خوش تھا۔
4 اَے خدا! تُو میرا بادشاہ ہے؛
حکم دے کہ یعقوب کو مکمل فتح حاصل ہو۔*
5 تیری طاقت سے ہم اپنے مخالفوں کو واپس بھگا دیں گے؛
تیرے نام سے ہم اپنے خلاف اُٹھنے والوں کو روند دیں گے
6 کیونکہ مَیں اپنی کمان پر بھروسا نہیں کرتا
اور میری تلوار مجھے بچا نہیں سکتی۔
7 تُو نے ہی ہمیں ہمارے مخالفوں سے بچایا؛
تُو نے ہی اُنہیں شرمندہ کِیا جو ہم سے نفرت کرتے ہیں۔
8 ہم دن بھر تیری بڑائی کریں گے
اور ہمیشہ تیرے نام کی تعریف کریں گے۔ (سِلاہ)
9 لیکن اب تُو نے ہمیں چھوڑ دیا ہے اور ہمیں رُسوا کِیا ہے؛
اب تُو ہماری فوجوں کے ساتھ نہیں جاتا۔
10 تُو ہمیں ہمارے مخالفوں کے سامنے سے اُلٹے پاؤں بھاگنے پر مجبور کرتا رہتا ہے؛
ہم سے نفرت کرنے والے جو چاہے، لُوٹ کر لے جاتے ہیں۔
11 تُو ہمیں ہمارے مخالفوں کے حوالے کر دیتا ہے تاکہ وہ ہمیں بھیڑوں کی طرح چیر پھاڑ دیں؛
تُو نے ہمیں قوموں کے درمیان تتربتر کر دیا ہے۔
12 تُو اپنے بندوں کو کوڑیوں کے بھاؤ بیچ دیتا ہے؛
تُو اُنہیں بیچ کر* کوئی منافع نہیں کماتا۔
13 تُو ہمیں ہمارے پڑوسیوں کے ہاتھوں رُسوا ہونے دیتا ہے؛
ہمارے اِردگِرد رہنے والے سب لوگ ہمارا مذاق اُڑاتے ہیں اور ہم پر طعنے کَستے ہیں۔
14 تُو نے ہمیں قوموں کے بیچ مذاق* بنا دیا ہے؛
لوگ سر ہلا ہلا کر ہم پر ہنستے ہیں۔
15 مَیں سارا سارا دن شرمندگی کے احساس میں ڈوبا رہتا ہوں
اور مجھ سے اپنی رُسوائی برداشت نہیں ہوتی
16 کیونکہ مجھے دُشمنوں کے طعنے اور گالیاں سنائی دیتی ہیں؛
وہ مجھ سے بدلہ لیتے ہیں۔
17 یہ سب کچھ سہنے کے باوجود ہم تجھے نہیں بھولے
اور ہم نے تیرے عہد کی خلافورزی نہیں کی۔
18 ہمارا دل گمراہ نہیں ہوا؛
ہمارے قدم تیرے راستے سے نہیں بھٹکے۔
19 لیکن تُو نے ہمیں اُس جگہ کچل دیا جہاں گیدڑ رہتے ہیں؛
تُو نے ہمیں گہری تاریکی سے ڈھک دیا۔
20 اگر ہم اپنے خدا کا نام بھول جائیں
یا اگر ہم دوسرے خداؤں کے سامنے ہاتھ پھیلا کر دُعا کریں
21 تو کیا خدا کو پتہ نہیں چل جائے گا؟
وہ تو دلوں کے راز بھی جانتا ہے۔
22 ہمیں تیری خاطر دن بھر موت کے گھاٹ اُتارا جاتا ہے؛
ہمیں ایسی بھیڑیں سمجھا جاتا ہے جو ذبح کرنے کے لیے ہوں۔
23 اَے یہوواہ! اُٹھ! تُو کیوں سو رہا ہے؟
جاگ! ہمیں ہمیشہ کے لیے ترک نہ کر۔
24 تُو نے اپنا چہرہ کیوں چھپا لیا ہے؟
تُو ہماری تکلیف اور ہم پر ہونے والا ظلم کیوں بھول گیا ہے؟
25 ہمیں* خاک میں روندا گیا ہے؛
ہم زمین پر مُنہ کے بل پڑے ہیں۔
26 اُٹھ اور ہماری مدد کر!
اپنی اٹوٹ محبت کی وجہ سے ہمیں چھڑا۔